60.7K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 03

نینا ! میری گڑیا آگئی ،کتنی کمزور لگ رہی ہو ۔ عروش اسے خود سے لگا کر فکرمندی سے بولیں۔ وہ پورے دوسال بعد اسے دیکھ رہی تھیں ، جذباتی ہونا فطری تھا ۔
اماں ! مجھے تو لگ رہا ہے میں بہت موٹی ہوگئی ہوں ۔ نینا خوشی سے چیخ مار کر عروش سے الگ ہوئی پھر معظم شاہ کے سینے سے لگ گئی ۔
میری نین کیوٹ لگ رہی ہے تم بلاوجہ اسے پریشان مت کرو ۔ معظم شاہ نے اس کی پیشانی پر بوسا دے کر عروش کو سرزنش کی ۔
بابا سائیں ! آپ تو بھائی سے بھی ذیادہ ہینڈسم لگ رہے ہیں ۔ نینا نے زعیم شاہ کو دیکھ کر شرارتاً آنکھ دبائی ۔
زعیم شاہ نے بڑھ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا پھر اس کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر لبوں سے لگایا ۔
کچھ سیکھ کر بھی آئی ہو یابے چارے مریضوں کی خیر نہیں ہے۔
تمھاری حرکتوں سے تو اندازہ لگانا مشکل ہے کہ تم ایک بھی کامیاب آپریٹ کر سکوگی ۔ زعیم شاہ اسے تنگ کرنے کی غرض سے انتہائی سنجیدگی سے بولا ۔
اماں ! آپ بھائی کو دیکھ رہی ہیں کیسے کھڑے کھڑے میری انسلٹ کر رہے ہیں ۔ اس نے منہ بنایا ۔
شاہ ! پلیز ! آتے کے ساتھ ہی میری بیٹی کو تنگ مت کرو ۔وہ سفر سے آئی ہے تھکی ہوئی ہے ۔ عروش اسے پچکارتے ہوئے بولی ۔
زعیم ! یہ دونوں میرے ساتھ جائیں گی ، تم اپنی گاڑی میں آجاؤ ۔ ڈرائیور نے گاڑی ان کے سامنے روکی تو معظم شاہ نے زعیم شاہ کو مخاطب کیا ۔
جی ! آپ لوگ گھر جائیں ۔ مجھے گھر پہنچنے میں ٹائم لگے گا ، کچھ دیر بعد جوائن کرتا ہوں ۔ اس نے نینا کا گال تھپ تھپایا ۔
اماں ! دادی کیسی ہیں ۔۔۔۔۔؟ رانیہ چاچی اور تحریم آپی کیوں نہیں آئے ؟
دادی کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی اس لئے رانیہ ان کے پاس رک گئی اور تحریم کو تم جانتی ہو ، وہ کس قدر موڈی ہے ۔کہہ رہی تھی پارٹی میں آؤنگی تو مل لونگی ۔
میں بھی کافی دنوں سے کراچی میں ہوں ۔ پارٹی کی تیاریوں میں مصروف تھی ۔ عروش تفصیلاً گویا ہوئیں ۔
واؤ ۔۔۔آپ نے پارٹی بھی ارینج کر لی ؟ وہ خوشی سے کھنکتی آواز میں بولی ۔
آپ کی ماں کو جس دن سے آپ کی آمد کی خبر ملی ہے تب سے تیاریوں میں مصروف ہیں ، ہم نے ڈیٹ ڈیسائیڈ نہیں کی ہے ۔اب آپ بتائیں گی پارٹی کب رکھنی ہے ۔ معظم شاہ نے فرنٹ سیٹ سے رخ موڑ کر اسے دیکھا ۔
اوکے ۔ میں کل آپ کو بتادوں گی ۔ اس نے عروش کے شانے پر سر ٹکا کر آنکھیں موند لیں ۔


آپ دونوں یہاں ہیں ،میں پورے گھر کا چکر لگا کر آئی ہوں ۔ اروما دروازہ دھکیل کر اندر آئی ۔
تم بے وقوف ہو جو پورے گھر میں چکر لگا رہی تھیں ۔ تمھیں سیدھا یہاں آنا چاہئے تھا ۔ میر جازب کیواسٹک سے نشانہ لگاتے ہوئے اسنوکر ٹیبل پر جھکا ہوا تھا ۔
کیا ؟آپ نے مجھے بے وقوف کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔اب میں وہ بات نہیں بتاؤں گی جو بتانے کےلئے میں آپ دونوں کو ڈھونڈرہی تھی ۔ اروما منہ پھلا کر صوفے پر بیٹھ گئی ۔
تم بھی کس بے وقوف کی بات کا برا مان رہی ہو ۔ وہ خود دنیا کا سب سے بڑا بے وقوف انسان ہے جو مجھ سے شرط لگا کر گیم کھیل رہا ہے ، جبکہ وہ جانتا ہے مجھ سے کبھی نہیں جیت سکتا۔میر زوار نے مسکراتے ہوئے میر جازب پر چوٹ کی ۔
وہ کبھی میر زوار سے جیت نہیں سکا تھا ، اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میر جازب کی اس کے جتنی پریکٹس نہیں تھی ۔
اس لئے نہیں جیت پاتا کیونکہ تمھاری طرح خبطی نہیں ہوں ۔ میر جازب بھنا کر بولا ۔
اب بتاؤ ، کونسی خبر سنانے والی تھیں ۔ میر جازب نے اروما کو مخاطب کیا ۔
نینا یو ۔ ایس سے واپس آگئی ہے ۔ میں حنین انکل اور تانیہ آنٹی سے ویڈیو کال کر رہی تھی تبھی انہوں نے بتایا ۔ ارومانے پرجوش لہجے میں انہیں خبر دی ۔
وہ مجھے پہلے ہی بتا چکی ہے لیکن میں اسے ائیر پورٹ ریسیو کرنے نہیں جا سکا ۔ اب پتا نہیں کتنا لڑے گی ۔ میر جازب تاسف سے بولا جبکہ میر زوار خاموشی سے گیم میں مصروف رہا ۔
میں کل اس سے ملنے جاؤں گی ، آپ چلیں گے ؟ اس نے میر جازب سے استفسار کیا ۔
اگر ٹائم ملا تو چلوں گا ورنہ تم چلی جانا ۔ میں پارٹی میں مل لوں گا۔
زعیم بتا رہا تھا کہ نینا کی واپسی کی خوشی میں انہوں نے پارٹی رکھی ہے ۔
زوار بھائی ! آپ پارٹی میں چلیں گے ؟ ارومانے میر زوار کو مخاطب کیا ۔
اگرکراچی میں ہوا تو چلوں گا۔نینااس بار کافی عرصے بعد آئی ہے۔
میر زوار اسٹک رکھ کر اروما کے پاس آکر بیٹھ گیا ۔
وہ لاسٹ ائیر چھٹیوں میں یورپ ٹؤر پر چلی گئی تھی ۔ میر جازب بولا ۔
جازب بھائی ! اب تو آپ کی بیسٹ فرینڈ آرہی ہے ، اس کا مطلب پہلے کی طرح بہت مزہ آنے والا ہے ۔ اروما کا ایکسائیٹمنٹ سے برا حال تھا ۔
نہ بابا ! پہلے کی بات اور تھی ۔ تب اتنی مصروفیات نہیں تھیں۔اب بزنس کو بھی دیکھنا ہوتا ہے اس پر جاب کوبھی ٹائم دینا ہوتا ہے ۔وہ لڑکی تو خدا خوار ہے ، اپنے ساتھ ہمیں بھی خوار کردیتی ہے ۔ میر جازب مصنوئی سنجیدگی سے کہہ رہا تھا ۔ اروما کھلکھلا کر ہنس دی ۔
اس بار وہ اتنا تنگ نہیں کرے گی کیونکہ اس کی بھی جاب ہوگی ۔
پہلے تو وہ بھی یہاں آکر فارغ ہوتی تھی ۔اروما نے اسے تسلی دی پھر دیر تک وہ دونوں اسی کے متعلق باتیں کرتے رہے ۔میر زوار مکمل لاتعلقی اختیار کئے اپنے موبائل میں مصروف ہوگیا ۔
اس کا نینا شاہ سے اتنا واسطہ بھی نہیں پڑا تھا ۔اس کی اپنی مصروفیات اتنی ذیادہ تھیں کہ جب بھی وہ چھٹیوں میں پاکستان آتی میر زوار سے اسکی ایک آدھ رسمی ملاقات ہوتی تھی اور کبھی کبھی وہ بھی نہیں ہوتی ۔
میر جازب اور اروما سے نینا کی دوستی بے حد گہری تھی ۔اس میں ذیادہ عمل دخل نینا کی شوخ و چنچل طبیعت کا تھا وگرنہ وہ دونوں بہن بھائی تو فطرتاً سنجیدہ تھے ۔


لان کی سجاوٹ دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی ۔ ایونٹ پلینر نے اس شاندار پارٹی کو چار چاند لگادئیے تھے ۔
اس پارٹی میں سارے شہر کی کریم موجود تھی ۔ بزنس مین ، بیروکریٹس ، پولیٹیشنز اور ان کی بیگمات بھی شامل تھیں مگر لان کو روایت کے مطابق دو پارٹیشن میں سجایا گیا تھا ۔لیڈیز اینڈ جینٹس کے لئے علیحدہ انتظامات تھے ۔
پارٹی اپنے عروج پر تھی جب میر فیملی وہاں پہنچی۔ ارومااور نگین لیڈیز کی طرف آگئیں ۔ نینا ان کے انتظار میں انٹرینس کے آس پاس ہی منڈلا رہی تھی ۔
نین ! تمھاری واپسی پر دل خوش ہوگیا ہے ۔ اللہ سائیں آگے بھی تمھیں ڈھیروں ڈھیر کامیابیوں سے نوازیں ۔
رومی ! دیکھو ! چھوٹی سی ڈاکٹر تو بہت پیاری لگ رہی ہے ۔نگین اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر خوش دلی سے بولیں ۔
تھینکس خالہ جان ! مگر میں بہت ناراض ہو ں ۔ آپ لوگ لیٹ کیوں ہوئے ؟
زوار کی وجہ سے لیٹ ہوگئے ، رومی بھی کہہ رہی تھی کہ نینا ناراض ہوجائے گی ۔ تم دونوں باتیں کرو ، میں عروش سے مل لوں ۔ نگین مسکراتی ہوئی آگے بڑھ گئیں ۔
رومی ! تم کتنی بری ہو ۔ تم نے مہمانوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ۔تم میری پارٹی میں سب سے لیٹ آئی ہو ۔ نینا نے اس کے رخسار سے اپنا رخسار مس کرتے ہوئے خفگی سے کہا ۔
ہم زوار بھائی کا ویٹ کر رہے تھے ، میں توکب سے تیار تھی ان کی وجہ سے لیٹ ہوا ۔ ان کی میٹنگ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔ بڑی مشکل سے نکلے ہیں ۔ اروما نے صفائی پیش کی ۔
ان کے لئے اتنی دیر کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔سڑو سا بندہ ہے اگر نہیں بھی آتا تو چل جاتا ۔ نینا اپنی ہی بات پر کھل کھلا کر ہنسی ۔
یو آر امپاسیبل ۔ویل بہت اچھی لگ رہی ہو ، ڈریس ساتھ لے کر آئی ہو یا پھر یہاں پہنچتے ہی شاپنگ بھی کرلی ۔۔۔۔۔۔۔؟نینا کا میر زوار کو لے کر مذاق کرنا اروما کو ناگوار گزرا تھا مگر وہ نظرانداز کرگئی کیونکہ نینا اس کے بچپن کی بے تکلف دوست تھی ۔
وہ نینا کی عادت سے بھی واقف تھی کہ وہ بہت کم سیریس ہوتی ہے ۔ اس کی حسِ مزاح تیز تھی اور اس کی یہی خصوصیت تھی جس نے اسے پورے خاندان میں سب سے منفرد بنایا تھا ۔
اماں لے کر آئی ہیں ۔ انہوں نے کال پر مجھ سے پوچھا تھا تو میں نے کہہ دیا جو آپ کی پسند وہ میری پسند۔آپ جو بھی لائیں گی میں پہن لوں گی ۔ان کی چوائس پر آنکھ بند کر کے بھروسہ کیا جاسکتا ہے ۔نینا نے کندھے اچکاکر سادگی سے بتادیا ۔
بلیک لانگ اسکرٹ پر فان کلر کا فل سلیو ٹاپ تھا ، جس پر ننھے ننھے جھلملاتے وائیٹ گولڈ ستاروں سے امبرائیڈری کی گئی تھی ۔
وہ سمپل سے ویسٹرن ڈریس میں بے حد پرکشش لگ رہی تھی ۔
خالہ کی چوائس تو ہٹ کر ہوتی ہے ، تم پو سوٹ بھی بہت کررہا ہے ۔ اروما نے کھلے دل سے تعریف کی تو نینا جھینپ گئی ۔
رومی ! ہماری فیملی کی آنٹیز وہاں اس والے کارنر پر ہیں ۔ ہم بھی وہاں چلتے ہیں ۔ مجھے تو بہت بھوک لگ رہی ہے ۔ تمھارے انتظار میں اب تک ڈنر نہیں کیا ۔ وہ اروما کا ہاتھ تھام کر چل پڑی ۔


پارٹی میں موجود حاظرین ڈنر کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھے ۔ان دونوں نے بھی نگین ، عروش اور رانیہ کے ساتھ والے صوفے سنبھال لیے ۔
لکنگ سو پریٹی ۔مجھے نہیں لگتا کہ اس پوری محفل میں کوئی بھی لڑکی نینا کا مقابلہ کر سکتی ہے ۔ تحریم نے نینا کے شولڈر پر جھولتے خوبصورت سلکی بالوں کی لٹوں کو سنوارتے ہوئے کہا ۔
اس کی تعریف میں چھپے طنز کو رانیہ کے سوا کوئی بھی نہیں سمجھ پایا ۔ نینا اور اروما کے تو سر سے ہی گزر گئی ۔
سب ہی بچیاں اپنی جگہ بہت پیاری لگ رہی ہیں ۔ تم بھی اور اروما بھی اپنی سادگی کے ساتھ پہلی نظر میں ہی اٹریکٹ کرتی ہے ۔ رانیہ نے تحریم کو جتانے کے لئے اروما کا نام لیا ۔تحریم پہلو بدل کر رہ گئی ۔
ایکس کیوز می ! میں ابھی آتی ہوں ۔ عروش نے معزرت کی۔ مہمان دھیرے دھیرے جانے لگے تھے ۔وہ ان کو الوداع کہنے کی نیت سے اٹھ گئیں ۔
تحریم ! بیٹا ! ضروری تو نہیں کہ بغیر طنز کئے کوئی بات مکمل ہی نا کریں ۔ آپ خود پر تھوڑا سا کنٹرول بھی کر سکتی ہیں ۔ رانیہ نے موقع دیکھ دھیرے سے تحریم کو لتاڑا ۔
ماما! یہ بھی تو ضروری نہیں کہ آپ میری ہر بات کو نیگیٹو لیں اور مجھے ٹوکنے کا فرض لازمی پورا کریں ۔ تحریم دانت بھینچ کر برجستہ بولی ۔
زعیم اسی طرف آرہا ہے ، اب آپ پلیز ! مجھے مت ٹوکئیے گا ۔
زعیم شاہ بلیو ڈنر سوٹ میں ملبوس پینٹ کی جیب میں ہاتھ پھنسائے ان لوگوں کے پاس نینا کے صوفے کی پشت پر آکر کھڑا ہوا۔ اروما نے اسے دیکھتے ہی خود پر بے نیازی طاری کرلی جبکہ زعیم شاہ کی شوخ نگاہوں نے اس کے کومل مکھڑے کو نظروں کے حصار میں لیا ۔
نینا ! اپنی فرینڈز کو ڈنر نہیں کروایا ، دیکھو ان کے منہ کیسے لٹکے ہوئے ہیں ۔ زعیم شاہ نے دونوں ہاتھ صوفے کی پشت پر جما کر نینا کو مخاطب کر کے انتہائی سنجیدگی سے کہا ۔
بھائی ! میں کیا کروں ، ان کے منہ ہی ایسے ہیں ، لٹکے رہتے ہیں ۔نینا نے بھی برجستہ جواب دیا ۔ زعیم شاہ سمیت وہ سب بے ساختہ ہنس پڑیں۔
میرے منہ کا مجھے پتا ہے ، فریش ہے اوروں کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ تحریم اترا کر طنزیہ بولی ۔
اوروں کا مجھے پتا ہے ۔ وہ کسی کی یاد میں مرجھائے ہوئے تھے مگر اب کھل گئے ہیں ۔ زعیم اسے نظر انداز کر کے اروما اور نینا کے بیچ والے صوفے پر بیٹھ کر مبہم سا بولا جسے اروما بمشکل سن پائی اور بلش کر گئی ۔
رانیہ اور نگین کسی طرف اشارہ کرکے باتوں میں مگن تھیں۔تحریم اس کا جملہ سن نہیں پائی تھی مگر زعیم کے خاص طور پر اروما کے ساتھ بیٹھنے پر بل کھا کر رہ گئی تھی ۔
میر جازب کے بارے میں تو پوچھنا ہی بھول گئی ، کیا آج بھی آیا ہے یا نہیں ؟ نینا نے یاد آنے پر فون سے نظر ہٹا کر اروما کو مخاطب کیا ۔
ہاں وہ آیا ہے ؟ ابھی یہی بات کر رہا تھا کہ تم سے مل نہیں سکا اب پتا نہیں تم اس کا کیا حشر کروگی ۔ زعیم شاہ بول اٹھا ۔
وہ میسیج بھی کررہے ہیں کہ اب ہمیں چلنا چاہئے ۔ صبح زوار بھائی کو اسلام آباد جانا ہے اور انہیں آفس ۔ اروما نے میسج پڑھ کر مطلع کیا ۔
اماں ! اب ہمیں بھی چلنا چاہئے ۔ اس نے نگین کو متوجہ کیا ۔
عروش کہاں ہے ، میں اس سے مل لوں پھر چلتے ہیں ۔ نگین ساڑھی سنبھالتی ہوئی کھڑی ہوگئیں ۔
رانیہ اور تحریم بھی ان کے ساتھ ہی کھڑی ہوگئیں ۔ وہ لوگ آگے پیچھے چلتے ہوئے گیٹ تک جارہے تھے تبھی زعیم نے اروما کے برابر چلتے ہوئے چپکے سے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔
اروما نے بدحواس ہوکر ادھر ادھر دیکھا ۔ زعیم کی طرف دیکھنی کی تو اس میں ہمت ہی نہیں تھی ۔ اس نے اپنا دوپٹہ پھیلا کر زعیم کے ہاتھ میں دبے اپنے ہاتھ کو چھپانے کی کوشش کی ۔
اس کی نظر سامنے سے آتے ہوئے میر زوار اور میر جازب پر پڑی تو ٹھنڈ میں بھی کانوں کی لو تک سلگ اٹھیں ۔ اسے لگا وہ چکرا کر گرجائے گی ۔ اپنے ہاتھ کو زعیم شاہ کی گرفت سے چھڑانے کی سعی میں اس کی حالت غیر ہوتی جارہی تھی ۔
پلیز ! میرا ہاتھ چھوڑ دیں کوئی دیکھ لے گا ۔ ارومامنمنائی ۔
لیٹ آنے کی کیا وجہ تھی ؟ تمھیں اندازہ نہیں تھا کہ کوئی شدت سے تمھارا انتظار کر رہا ہوگا ۔ شاہ نے اس کے ہاتھ کو دباکر دھیمی مگر بھاری آواز میں غصے کا اظہار کیا ۔
زوار بھائی کی وجہ سے دیر ہوگئی ۔ اس نے صفائی دی ۔
تم نینا کے بہانے پہلے بھی نکل سکتی تھی ۔ تمھاری وجہ سے میں اپنے سارے ضروری کام چھوڑ کر وقت سے پہلے ہی گھر آگیا تھا۔ شاہ نے بمشکل آواز کو دبایا ہوا تھا ۔


اسلام و علیکم ! پھپھو ! میر زوار نے رانیہ کو سلام کرنے کے بعد سر آگے کی طرف جھکایا ۔
جیتے رہو ۔ میں تم سے ہی ملنے کے لئے آرہی تھی ورنہ تم تو باہر سے نکل جاتے ۔ رانیہ نے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر شکوہ کیا۔
آپ سے ملنے کی خاطر ہی پارٹی اٹینڈ کی ہے ورنہ آج کا دن بے حد مصروف گزرا ہے ۔ اس نے آہستگی سے کہتے ہوئے برابر میں کھڑے نینا اور میر جازب پر نظر ڈالی ۔نینا مسلسل جازب کو لعن طعن کر رہی تھی پھر بھی میرزوار کی آہستگی سے کی گئی بات پر چونک کر اس کی طرف دیکھا ۔ وہ میر زوار کا جملہ سن چکی تھی ۔
جیزی ! تم اے ۔ سی بننے پر اتنے مغرور ہوگئے ہو ،خدانخواستہ پی۔ ایم ، سی ۔ ایم بن جاتے تو تمھیں اپنی غریب سی دوست نظر بھی نہیں آتی ۔ اس نے چہرے پر مظلومیت سجا کر میر جازب کی آڑ میں میر زوار کو نشانہ بنایا ۔
اس حساب سے تو تمھارے بابا بھی ایم ۔ این ۔ اے ہیں ،وہ بھی اپنے غریب دوستوں اور رشتے داروں کو تقریباً بھول چکے ہونگے؟
میر جازب ترکی بہ ترکی بولا ۔
میرے بابا سائیں دنیا کے میچ لیس انسان ہیں ۔ان کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا ۔ تم صرف اپنی بات کرو ۔ دو سال بعد آئی ہوں ایک بار بھی تمھیں خیال نہیں آیا کہ آکر مجھ سے مل لو ۔ نینا نے اس کے بازو پر چٹکی لی۔
جاب کی وجہ سے اسلام آباد گیا ہوا تھا ، دو دن پہلے ہی ہم دونوں واپس آئے ہیں ۔ پارٹی کے بارے میں پتا چلا تو سوچا کہ وہیں ملاقات کرلیں گے ۔ تم خفا مت ہو ۔ اب میں بلکل فری ہوں کل پورا دن تمھارے ساتھ گزاروں گا پھر تمھاری ساری شکایتیں دور ہوجائیں گی۔
جہاں کہو گی ، وہیں لے جاؤں گا ۔ میر جازب نے اس کو منانے کے لئے آفر دی ۔ نینا نے خوشی سے سر ہلایا ۔
خیال رکھنا ہمارا گیٹ ٹو گیدر فارمل نا ہو ۔ اس نے چور نظر سے میر زوار کو دیکھا جو پشت پر ہاتھ باندھے گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔وہ نظروں کے تصادم پر نظر چرا گئی ۔ یہ اس کی طرف سے واضح اشارہ تھا کہ میر زوار ان کی محفل میں شامل نا ہو ۔
جازب سائیں ! چلیں ؟ دیر ہورہی ہے ۔ میر زوار نے اسے نظرانداز کرتے ہوئے میر جازب کو مخاطب کیا۔
ہاں چلو ۔ میر جازب نے اس کی آنکھوں میں بغور دیکھا۔
میر زوار اس سے ذیادہ ڈرنک کرنے کے باوجود بھی پوری رات بنا پلک چھپکے ڈرائیونگ بھی کرلیتا اور پارٹیز بھی اٹینڈ کرلیتا تھا۔
وہ مضبوط اعصاب کا مالک تھا ۔بے تحاشہ ڈرنک کے باوجود بھی اس کی آواز یا قدموں میں لڑکھڑاہٹ نہیں ہوتی تھی مگر آج اس کی آنکھوں میں وہ چمک نہیں تھی جو دیکھنے والوں کی نظر میں اپنا اثر چھوڑ جاتی تھی ۔ اس کی طبیعت کا بوجھل پن آنکھوں سے ہویدا تھا ۔ آج اس کی آنکھوں کی دلکش لالی میں انجانہ سا درد ہلکورے لے رہا تھا ۔ میر جازب کو فکر نے آلیا ۔
پھپھو ! اجازت دیں اور گاؤں واپس جانے سے پہلے گھر ضرورہو کر جائیے گا ۔ میر زوار نے رانیہ سے اجازت لیتے ہوئے تنبیہہ کی۔
کل جازب بھائی نینا کو پک کرنے آئیں گے تو ان کے ساتھ آپ بھی آجائیے گا ۔ اروما نے آگے بڑھ کر رانیہ کو شانوں سے تھام لیا ۔
تم ہمارے لئے کوئی اسپیشل ڈش بناؤگی ؟نینا نے مصنوئی سنجیدگی سے مداخلت کی ۔
وائے ناٹ ۔ ضرور بناؤں گی ۔ اروما بے ساختہ ہنس پڑی ۔
“یار ! بہت بولتی ہے مگر پیارا بولتی ہے ۔ “میرزوار نے گہری سانس بھر کر خودکلامی کی پھر گھڑی پر نظر ڈالی اور پلٹ کر مضبوط قدم اٹھاتا نظروں سے دور ہونے لگا ۔
نینا رانیہ کےشانے سے جھولتی ہوئی اس کی بے نیازی سے لطف اندوز ہورہی تھی ۔ اس کی نظر یں دور تک میر زوار کے وجاہت سے بھرپور شاندار سراپے میں الجھی رہیں ۔
جاری ہے