Ye Bandhan Pyaar Ka Season 02 By Umme Mariyam Shaikh readelle50045 Last updated: 2 July 2025
Rate this Novel
Ye Bandhan Pyaar Ka Season 02 By Umme Mariyam Shaikh
مجھے تباہ کرنے میں کوئی کسر باقی رہ گئی تھی جو یہاں بھی چلی آئی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ نینا نے اس کا ہاتھ تھام کر آنکھوں سے لگالیا پھر بلک بلک کر رونے لگی ۔ زار ! مجھے معاف کردیں ، مجھ سے غلطی ہوگئی ۔ میں مانتی ہوں میں نے آپ کے ساتھ بہت برا کیا ہے مگر مجھے جلد ہی اپنی غلطی کا احساس ہوگیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں آپ کو بتانا بھی چاہتی تھی مگر آپ کو کھونے سے ڈرنے لگی اور میر جازب نے بھی مجھے روک دیا ۔ اس نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ یہ راز کسی کو نہیں بتائے گا پھر میں نے سوچا کے ہماری شادی ہوجائے گی تو شرط والی بات کی کوئی اہمیت بھی نہیں رہے گی ۔ وہ میر زوار کا ہاتھ تھامے لب کاٹتے ہوئے ندامت سے کہے جارہی تھی ۔ تمھیں میری ذات ، میرے جذبات پر شرط لگانے کا حق کس نے دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ تم مجھے پھنسا کر کیا ثابت کرنا چاہتی تھی کہ تم اپسرا ہو جس کے سامنے میر زوار اپنا سب کچھ ہار گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر تم نے یہی سب کچھ سوچا تھا تو تم بہت خوش نصیب ہو نینا شاہ ! تم جیت چکی ہو ۔ میں واقعی تم پر مرمٹا ، تم سے ہار گیا۔ میر زوار اسی دھیمے لہجے میں بے بسی سے بولا ۔ زار ! ایسا مت بولیں ، مجھے معاف کردیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمیز سے نام لو ۔ میر زوار ! میرا نام میرزوار علی ہے ۔ آج کے بعد مجھے کسی اور نام سے پکارہ تو نتیجہ بہت برا ہوگا ۔ تم شرط جیت چکی ہو مگر مجھے اس نام سے پکارنے کا حق اب تمھارے پاس نہیں رہا ۔میر زوار درشتی سے بولا ۔ پلیز ! اتنی بڑی سزا مت دیں ، میں اپنی غلطی تسلیم کر تو رہی ہوں ۔ میں نے آپ کا دل دکھایا ہے مگر خوش میں بھی نہیں ہوں ۔ احساس نہیں ہوتا تو یہاں تک کیوں آتی ۔ اس نے تڑپ کرمیر زوار کے لبوں پر ہاتھ رکھ دیا ۔ ساجد سائیں ! اندر آؤ ۔ میر زوار اس کا ہاتھ جھٹک کر بلند آواز میں دہاڑا ۔ مجھے دوبارہ چھونے کی غلطی مت کرنا ورنہ بہت پچھتاؤگی ۔ تم اپنا اعتبار کھو چکی ہو ۔ میں تمھیں اپنے ساتھ کھڑے رہنے کے قابل بھی نہیں سمجھتا ۔ اب چپ چاپ یہاں سے چلی جاؤ ورنہ بدنامی اور رسوائی تمھارا مقدر بن جائے گی ۔ میں اپنے ساتھ تمھیں بھی ختم کردوں گا اور یہ داغ میرے خاندان سے ذیادہ تمھارے خاندان کے لئے بدنما ثابت ہوگا ، جب تمھاری لاش پاکستان پہنچے گی ۔میری برداشت کا امتحان مت لو ، چلی جاؤ۔ میر زوار دہشت ناک لہجے میں کہتا ہوا دور ہوگیا ۔ ساجد اندر آچکا تھا ۔ اسے لے جاؤ اور جہاں بولے ڈراپ کردینا ۔ اسے ابھی اسی وقت یہاں سے لے جاؤ ۔ میں ایک پل بھی اس کا وجود یہاں برداشت نہیں کرسکتا۔میر زوار پشت پر ہاتھ باندھے رخ پھیرے کھڑا تھا ۔ نینا کی سسکیوں سے اس کے کان کے پردے پھٹے جارہے تھے ۔ نینا کو اپنے لئے میرزوار کے لہجے میں زرا سے بھی گنجائش نظر نہیں آرہی تھی ۔ اس کی نفرت آمیز دھتکار نے نینا کو خاموشی سے واپسی کا احساس دلادیا ۔
