60.7K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 07

مجھے خود پر افسوس ہوتا ہے کہ میں نےتم جیسے نکمے پالے ہوئے ہیں ۔چار دن کے لئے ملک سے باہرجاتا ہوں ، سارا کام بگاڑ کر رکھ دیتے ہو ۔
لاکھوں روپے سیلری لیتےہو کام دو کوڑی کابھی نہیں کرتے۔
میر زواراس کا گریبان پکڑے بری طرح گرج رہا تھا ۔
سر ! کنسائینمٹ پہنچادیا ہے ۔مینیجر سر جھکائے منمنایا۔ دل سوکھے پتے کی طرح کانپ رہا تھا ۔
الو کے پٹھے ! خاک پہنچادیا ہے ، جب کمپلین مجھ تک پہنچ گئی پھر پہنچانے کا کیا فائدہ ہے ۔ اس سے پہلے کہاں مرے ہوئے
تھے ؟ وہ غضبناک ہوا ۔
سر ! فرید کی وجہ سے لیٹ ہوگیا ۔ مینیجر نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیر کر بمشکل بتایا ۔
کام کو ایک دوسرے پر ڈالتے ہو ، نقصان مجھے ہوتا ہے ۔ (گالی)
اب اپنی شکل گم کرو ورنہ ٹانگیں توڑدوں گا ۔ لاسٹ ٹائم چھوڑ رہا ہوں ، اس کے بعد غلطی کرنے کے قابل نہیں چھوڑوں گا ۔ اس نے وارنگ دیتے ہوئے اسے دھکا دیا ۔
مینیجر دیوار سے جا لگا پھرجان بخشی پر شکرمناتا باہر نکل گیا ۔
میر زواربا آواز بلند گالیاں نکالتا ہوا صوفے پر بیٹھ کر ڈرنک بنانے لگا پھر گلاس لبوں سے لگا کر ایک ہی سانس میں خالی کردیا اور گلاس دوبارہ بھرنے کے بعد موبائل اٹھا کر اپ ڈیٹس لینا چاہیں تو واٹس ایپ فیملی گروپ نوٹیفیکیشنز میں سب سے اوپر نینا کا نام تھا ۔ میر زوار نے فوراً سے پیشتر اوپن کیا ۔
پلیز ! آج سے میرے خاطر ایپل کھانا چھوڑدیں ۔۔۔۔۔۔۔وہ آپ سب نے سنا نہیں کہ (این ایپل آڈے کیپس دا ڈاکٹر اوے ) میرزوار شدید غصے کی حالت میں بھی بے ساختہ ہنس پڑا ۔کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نے میسیج لکھا اور نینا کو سینٹ کردیا ۔
کیا آپ کو نہیں لگتا کہ یہ آپ کے قریب رہنے کی بہت چھوٹی سی مانگ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں تو بڑی سے بڑی قیمت ادا کرنے کے لئے تیار ہوں ۔ نینا کا دل زور سے دھڑکا وہ کافی دن سے اس کی طرف سے پیش قدمی کی منتظر تھی ۔
میرے قریب رہنے کے لئے ناصرف ایپل ، ایپل جوس بلکہ ایپل سے بنے والے دوسرے کئی پسندیدہ ڈرنکس چھوڑنے کی قربانی بھی دینی ہوگی ۔ نینا نے جوابی کاروائی ۔
نینا کے جواب پر میر زوار کو حیرانگی ہوئی ۔ وہ میر زوار کے کسی بھی کمنٹ یا ذومعنی جملے پر خاموشی اختیار کرلیتی ، جھینپ جاتی مگر آج اتنی بے تکلفی پر میر کی حیرت فطری تھی ۔اس نے بھنویں اچکائیں پھر کچھ سوچتے ہوئے کال ملائی ۔
سائیں ! آپ حکم کریں ۔ہم تو دنیا چھوڑ دینے کے لئے تیار ہیں فیورٹ ڈرنک تو معمولی سی شرط ہے ۔
میر زوارکو دوسری بار حیرت کا جھٹکا پہلی بیل پر کال اٹینڈ کرلینے پر لگا ۔اسے امید نہیں تھی کہ نینا کال اٹینڈ کرلے گی ۔
میں نے ایسے بہت سے دعوے دار دیکھے ہیں جن کے دعوے محظ لفاظی تک محدود رہتے ہیں ۔ نینا نے کھنکتی آواز میں جال پھینکا ۔ میر زوار نے ایک نظر ہاتھ میں پکڑے گلاس کو دیکھا پھر ٹیبل پر رکھ دیا ۔
آزمائش شرط ہے ، لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔میر نے برجستہ کہہ کر دانستہ جملا ادھورا چھوڑدیا ۔
لیکن ۔۔۔۔۔۔۔؟
لیکن آزمائش پر کھرے اترے تو انعام میں ڈاکٹر ملے گا بھی یا بس لفاظی سے کام چلانا ہوگا ؟مقابل بھی میرزوار تھا جو بڑے بڑے سورماؤں کو چت کرجاتا تھا ۔ میرزوارکے سوال پر نینا چند ثانیے کے لئے خاموش رہ گئی ۔
انعام میں ڈاکٹر ہی کیوں چاہئے ۔۔۔۔۔۔؟ کچھ اور ملے تو چلے گا ۔۔۔۔؟
ڈاکٹر ہی چاہئے ۔ وہ بھاری گنبھیر آواز میں ڈاکٹر پر زور دے کر بولا ۔
کیوں ۔۔۔۔۔۔؟
کیونکہ اب ڈاکٹر کے بغیر گزارا نا ممکن لگنے لگاہے ۔ میر زوار کی جذباتیت پر نینا کی مسکراہٹ گہری ہوگئی ۔
اگر نا ملے پھر ۔۔۔۔۔۔۔؟
ملنا پڑے گا ۔ میر کے لہجے میں ازلی ضد عود کر آئی ۔ ایک پل کے لئے نینا کے ہاتھ میں فون کانپ گیا مگر پھر وہ جلد ہی نارمل ہوگئی ۔ اسے پہلے ہی قدم پر جیت یقینی لگی ۔
نینا کے فریب اور میر زوار کے عشق کا آغاز ہوگیاتھا ۔ نینا شاہ شرط کو جیتنے کے لئے ہر وہ ہربہ آزمانے لگی جس سے میر زوار پوری طرح اس کے قابو میں آجائے اور میر زوار اس کے فریب سے بے خبر پور پور اس کے عشق میں ڈوبتا جارہا تھا ۔
وہ پوری طرح سے میر زوار کے حواسوں پر چھاگئی تھی ۔ اس کی صبح نینا کے نام سے شروع ہوتی تو رات کے آخری پہر تک ان کی باتوں کا نا ختم ہونے والا سلسلہ چلتا رہتا ۔
“””””””””””””””””””
میں نےآپ سے کچھ کہا تھامگرشاید آپ نے میری بات کو سیریس نہیں لیا ۔ زعیم شاہ اور معظم شاہ میٹنگ کے بعد گھر جارہے تھے ۔ اس نے موقع دیکھ کر دوبارہ تحریم کی شادی کا ذکر چھیڑا کیوں کہ جب تک تحریم کی شادی نہیں ہوجاتی تب تک وہ کسی سے بھی اپنی اور اروماکے رشتے کی بات نہیں کرسکتا تھا۔
جس رات تحریم اس کے کمرے میں آئی تھی ، اسی رات اس نے فیصلہ کرلیا تھا کہ تحریم کی شادی سے پہلے کسی کو بھی اپنے اور نینا کے متعلق نہیں بتائے گا ورنہ تحریم بپھر کر کچھ غلط بھی کر سکتی تھی ۔
شاہ ! تمھیں تحریم کی شادی کی اتنی بھی کیا جلدی ہے جو تم نے ہتھیلی پر سرسوں جمالی ہے ۔۔۔۔۔؟
مکتوم شاہ نے کتنےمان سےتم دونوں کی شادی کی بات کی ہے ، میں کس منہ سے اسے صاف انکار کردوں ۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے یہ سمجھ میں نہیں آرہا کے تمھیں اس بچی سے پرابلم کیوں ہے ؟معظم شاہ برہم ہوئے۔
اتنا تو آپ خود بھی سمجھ سکتے ہیں کہ اگر میں جلدی شادی پر بضد ہوں تو اس کے پیچھے کوئی تو وجہ ہوگی ۔ کوئی نا کوئی پرابلم تو ہوگی جس کی وجہ سے میں اس سے شادی سے انکار کر رہا ہوں ۔وہ خفگی سے بولا ۔
میں نہیں سمجھ پارہا ، کیا ہی اچھا ہو اگر تم خود وجہ بتادو ۔
وجہ میں آپ کو نہیں بتا سکتا مگر آپ اتنا سمجھ لیں کہ اگر میں تحریم کی شادی کو لے کر سیریس ہوں تو اس کے پیچھے ضرور کوئی ٹھوس جواز ہوگا ۔ زعیم شاہ کس صورت بھی انہیں تحریم کی حرکتوں کے بارے میں نہیں بتانا چاہتا تھا کیوں کہ ایسا کرنے سے تحریم کا امیج ان کی نظروں میں خراب ہوجاتا ۔
ہوں ۔۔۔۔۔۔ معظم شاہ ہنکارہ بھر کر رہ گئے ۔ ان کی پیشانی پر تفکر کی لکیریں گہری ہوگئی تھیں ۔
زعیم شاہ کو وہ جانت تھے کہ وہ کسی بھی معاملے میں حد سے بڑھ کر مداخلت تبھی کرتا تھا جب معاملہ بے حد گنبھیر ہو مگر شاہ انہیں کچھ بتانے پر تیار نہیں تھا اور وہ خود معاملے کی تہہ تک پہنچ نہیں پارہے تھے ۔
“”””””””””””””””””
نین ! میں تمھیں پھر کہہ رہی ہوں دیکھویہ حرکت اچھی نہیں ہے۔
تم زاری بھائی کے ساتھ مذاق کر کے اچھا نہیں کررہی ہو ۔ جب انہیں حقیقت کا پتا چلے گا تو بہت نقصان ہوگا ۔ ارومانے اس کی باتیں سننے کے بعد اسے سمجھانے کی کوشش کی ۔
کچھ بھی نہیں ہوگا بس کچھ دنوں کی تو بات ہے پھر میں خود زوار کو سب کچھ بتادوں گی اور مجھے یقین ہے وہ کچھ نہیں کریں گے ۔تم تو بہت ہی ڈرپوک ہو بلاوجہ ہی ڈرتی رہتی ہو اور مجھے بھی ڈرانے کی کوشش کر رہی ہو ۔ نینا منہ بگاڑ کر بولی ۔
میں تمھیں ڈرا نہیں رہی ہوں بلکہ سمجھا رہی ہوں ، جس بات کو تم اتنا ہلکا لے رہی ہو حقیقتاً ایسا نہیں ہے ۔ میں تمھیں وارن کررہی ہوں زوار بھائی بہت بری طرح ری ایکٹ کریں گے کہیں ایسا نا ہو تمھیں پچھتانا پڑے ۔
ڈونٹ وری ! میں سب سنبھال لوں گی ۔ نینا لاپرواہی سے بولی ۔
دو بیوٹی کوئینز ایک ساتھ ماحول کو بھی چار چاند لگا رہی ہیں ۔ میرارحان دروازے میں ایستادہ بلند آواز سے بولا ۔ وہ دونوں ہی اپنی جگہ اچھل پڑیں ۔
ارحان ! تم یہاں کیسے ۔۔۔۔۔؟ تم نے اپنے آنے کی اطلاع بھی نہیں دی ۔اروما صوفے سے اتر کر خوشگوار حیرت سے کہتی ہوئی ارحان سے لپٹ گئی ۔
کیسا لگا سرپرائز ۔۔۔؟ اطلاع دیتا تو کیا تم ایسے اچھل کر ملتیں ۔
ارحان تم نے تو مجھے بھی نہیں بتایا ، میرے ساتھ ہی آجاتے ، اتنی لمبی فلائیٹ پر میں نے اکیلے سفر کیا ۔ نینا بھی بڑھ کر اس سے ملی ۔
کزنز ! بس اچانک ہی اٹھ کر آگیا ہوں ۔ مام ڈیڈ بھی آنا چاہ رہے تھے مگر میں ان کے لئے بھی نہیں رکا ۔
تما سناؤ نین ! تمھارا تو دل لگ گیا ہوگا ۔ہر وقت پاکستان آنے کے لئے تڑپتی رہتی تھیں ۔ ارحان نے نینا کے سر پر چپت لگائی۔
ہمم ۔۔۔۔۔۔۔دل کی تو پوچھیں ہی مت ، اب سکون میں آگیا ہے ۔ نینا اروما کو ٹھوکا دے کر معنی خیزی سے بولی ۔
اماں ! دیکھیں نا کون آیا ہے ۔ اروما سامنے سے آتی نگین کو دیکھ کر باآوازِ بلند بولی ۔اس کی آواز سے خوشی چھلک رہی تھی ۔ارحان کی پشت نگین کی طرف تھی ۔
کون آیا ہے ۔۔۔۔۔۔؟ نگین نے عام سے لہجے میں پوچھا ۔
اسلام و علیکم تائی اماں ! ارحان پلٹ کر ان کے سامنے آیا اور سر جھکا دیا ۔
ارحان بیٹا ! تم اچانک کیسے آگئے ، خبر بھی نہیں کی ۔ حنین اور تانیہ بھی آئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ نگین نے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر ادھر ادھر نظریں دوڑائیں ۔
وہ نہیں آئے ، مجھے بھی روک رہے تھے کہ حفصہ کے ایگزامز بعد سب ساتھ چلیں گے مگر میرا موڈ بن چکا تھا اس لئے میں پہلے ہی آگیا ۔ارحان نے تفصیلاً جواب دیا ۔
بہت اچھا کیا آگئے ، لیکن آنے سے پہلے اطلاع دیتے تو کوئی تمھیں ائیرپورٹ لینے پہنچ جاتا ۔ اب تم فریش ہو جاؤ پھر کھانا لگوا دیتی ہوں ۔
جی تائی اماں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اروما میرا روم تو بند ہوگا ؟
جی ! وہ بند ہے ۔ میں اس کی صفائی کروا دیتی ہوں ، اتنے آپ گیسٹ روم یا جازب بھائی کا روم استعمال کرلیں ۔ اروما نے جواب دیتے ہی ملازمہ کو آواز لگائی ۔
نینا ! تم بھی کھانا کھا کر جانا ۔ نگین نے اسے مخاطب کیا ۔
خالہ جان! مجھے بلکل بھوک نہیں ہے اور میری ڈیوٹی کا بھی ٹاہم ہورہا ہے ۔ زعیم بھائی بس مجھے لینے آتے ہی ہونگے ۔ نینا گھڑی دیکھتے ہوئے بولی ۔
تم نے اسے کیوں بلایا ہے ، ڈرائیور چھوڑ دیتا ۔
آنٹی ! بابا کو ہمارا تنہا ڈرائیور کے ساتھ آنا جانا پسند نہیں ہے ، اس لئے زعیم بھائی کو بلایا ہے ۔
اچھا پھر ٹھیک ہے ۔ تم بیٹھو ، باتیں کرو ۔ میں زرا کچن کا چکر لگا کر آتی ہوں ۔ نگین اس کا ہاتھ تھپک کر اٹھ گئیں ۔
“”””””””””””””””””
زار ! آپ کے نذدیک محبت کے معنی کیا ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟نینا اس کے شیریں لہجے کو دل میں اترتا محسوس کررہی تھی ۔اس نے کھوئے کھوئے لہجے میں سوال کیا ۔
نین ! تم مجھ سے محبت کے معنی پوچھ رہی ہو ، تم سے پہلے تو عورت ذات ہی میرے لئے بے معنی شے تھی اتنی بے معنی کے میں اسے وقت گزاری یا دل بہلانے کے قابل بھی نہیں سمجھتا تھا ۔ اس سے ذیادہ لطف تو شراب سے دل لگانے میں ہے مگر تم نے میری سوچ ہی بدل کر رکھ دی ۔
عورت اگر نین سائیں کے روپ میں ہو توروح کا مکین بن جاتی ہے۔تم میرے لئے دنیا کی سب سے خوبصورت ، دلچسپ کتاب کی مانند ہو جتنا پڑھتا اورسمجھتا ہوں اتنا ہی پر سکون ہوجاتا ہوں۔
بھئی میر زوار مان گیا،آپ کمال کی ڈاکٹر ہیں ۔مجھ جیسے لاعلاج کا علاج کر دیا۔اب مکمل صحتیابی کے لئے میری دوائی کا وقت ہوا چاہتا ہے ۔میر زوار اپنی خوبصورت آواز میں لفظوں کا جادو بکھیر رہا تھا ۔
کونسی دوائی ۔۔۔۔۔۔؟ نینا سانس روکے اس کے دلفریب لہجے میں کھوئی ہوئی تھی یکدم چونک پڑی ۔
دل کی دوائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ مسکراہٹ دبا کربرجستہ بولا ۔
یار ! شراب سے مجھے جنون کی حد تک عشق تھا، تم نے بے وفائی کرنے پر مجبور کردیا ۔ اب میری طلب پوری کرنا تمھارا فرض ہے ۔
کیسی ڈاکٹر ہو یار ! تمھارا مریض تڑپ رہا ہے اور تمھیں پرواہ ہی نہیں ہے ۔
کیسی طلب ۔۔۔۔۔۔؟ ایک تو کبھی کبھی آپ کی باتیں مجھے سمجھ نہیں آتیں ۔ نینا بے تحاشہ دھڑکتے دل پر ہاتھ رکھ کر تجسس سے بولی ۔میر زوار قہقہہ بھرپور تھا ۔
سوہنا سائیں ! فون پر ہی باتیں بناتی رہوگی یا دیدار بھی کرواؤ گی ۔ کب سے عرض کررہا ہوں ، مجھے تم سے ملنا ہے ۔ میر زوار بلو ٹوتھ کان میں لگائے گنبھیر آواز میں بولا ۔
میں کل ہی تو میر ہاؤس آئی تھی ۔ ہم نے ڈنر بھی ساتھ میں کیا تھا ۔ آپ اتنی جلدی بھول گئے ۔۔۔۔۔۔نینا کی رکی سانس بحال ہوئی تو انجان بن کر بولی ۔
شاید آپ نے ٹھیک سے نہیں سنا ، میں تم سے ملنا چاہتا ہوں ۔جہاں صرف میں اور تم ہو ۔ تیسرا کوئی نہیں چاہئے ۔ سب کے سامنے تو میں تمھیں جی بھر کے دیکھ بھی نہیں پاتا ۔ میر زوار لفظ سے ایک ایک لفظ سے اس کی دیوانگی چھلک رہی تھی۔
ٹھیک ہے پھر آپ ہی بتادیں کب ملنا ہے ۔ نینا بظاہر
نارمل سے انداز میں بولی مگر اندر سے میر زوار کی فرمائش پر بے حد مضطرب ہوچکی تھی ۔
کل شام میں کسی بھی وقت ، جب تم فری ہو ۔مجھے کال کردینا۔
کہاں ملوگی ۔۔۔۔۔۔؟ میر زوار نے سگریٹ سلگا کر ہونٹوں میں دبائی ۔
میرا نہیں خیال کے آپ کسی ہوٹل ، ریسٹورینٹ یا پارک میں ملیں گے اس لئے جگہ بھی خود ہی ڈیسائیڈ کرلیں ۔
صحیح کہہ رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ جگہیں عاشقوں کے ملنے کے لئے نہیں ہیں ۔ ہمیں تو ساحلِ سمندر پر یا بلند و بالا پہاڑوں کی چوٹیوں پر ملنا چاہئے مگر شادی ہونے تک ممکن نہیں ہے اس لئے میرے خیابانِ شہباز والے بنگلو پر ملیں گے ۔میر زوار شریر لہجے میں کہتے ہوئے سنجیدہ ہوگیا ۔
سوہنا سائیں ! خیال رہے میں کل صرف آپ کے لئے کوئی بھی مصروفیات نہیں رکھوں گا اس لئے آپ بھی مہربانی کریں اورکل شام بلکل فری رہنا ۔میں کوئی ایکسکیوز نہیں سنوں گا ۔وہ دوٹوک بولا ۔
زار !اس سے پہلے میری ایک شرط ہے ۔۔۔۔۔۔وہ مان لیں تو آپ کی دوا کا انتظام بھی ہوجائے گا ۔ کسی خیال کے تحت نینا کی شربتی آنکھوں میں شرارت کوندی ۔
حکم کریں آپ کی ہر شرط منظور ہے ۔ میر زوارمضبوط لہجے میں بولا ۔
جاری ہے