Rate this Novel
Episode 30
ائیر پورٹ سے باہر نکل کر آنے پر اسلام آباد کی یخ بستہ سرد ہواؤں نے ان کا استقبال کیا ۔
ان کی لینڈ کروزر بمعہ گارڈ اور ڈرائیور منتظر تھی ۔ گارڈ نے آگے بڑھ کر تحریم کے ہاتھ سے سفری بیگ لیا ۔
پہلے میر زوار پیلس چلنا ہے ۔ معظم شاہ نے قیمتی گھڑی کے ڈائل پر نظر دوڑاتے ہوئے ڈرائیور کو حکم دیا ۔
جی سر ! ان دونوں کے بیک سیٹ پر بیٹھ جانے کا اطمینان کرنے کے بعد ڈرائیور نے گاڑی آگے بڑھادی ۔ فرنٹ سیٹ پر گارڈ براجمان تھا ۔
تحریم ونڈو کے پار خاموشی سے نظارے دیکھنے میں مگن تھی جبکہ معظم شاہ کسی وفاقی وزیر سے فون پر محو گفتگو تھے ۔
تم نے فلائیٹ میں بھی کچھ نہیں لیا تھا اگر کہو تو پہلے ڈنر کر لیتے ہیں پھر تمھیں گھر ڈراپ کردیتا ہوں ۔ معظم شاہ نے کال منقطع کرنے کے بعد اسے مخاطب کیا ۔
ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ نہیں میرا کچھ بھی کھانے کو دل نہیں چاہ رہا ۔ لنچ بھی لیٹ کیا تھا اس لئے بھوک نہیں ہے ۔ تحریم نے چونک کر سہولت سے انکار کردیا ۔
تمھیں میر زوار سے ڈرنے یا اس کے رعب میں آنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ تم کسی گرے پڑے خاندان یا اس کی ماں کی طرح اٹھائی گیری نہیں ہو ۔ اس کا روئیہ تمھارے ساتھ ٹھیک نا ہو اگر کسی بھی طرح تنگ یا پریشان کرے تو تم سب سے پہلے مجھے خبر کرنا ۔ میں اسے اچھی طرح دیکھ لوں گا ۔ معظم شاہ رعونت سے بھرپور لہجے میں بولے ۔
ایسی کوئی بات نہیں ہے ، وہ میرے ساتھ بلکل ٹھیک ہیں ۔مجھے ان سے کوئی شکایت نہیں ہے ۔ اس دن زرا سی بات پر مجھے غصہ آگیا اور میں نے کال کر کے آپ کو پریشان کردیا ۔تحریم نے اپنی بے وقوفی پر ماتم کرتے ہوئے ان کو مطمئین کرنا چاہا ۔
چلو اگر ایسا ہے تو بہت اچھی بات ہے مگر پھر بھی اس کے سامنے خود کو کمزور مت سمجھنا ۔ میں نے دیکھا ہے اس کے سامنے تم مرعوب نظر آتی ہو ۔ تم ایسا روئیہ اختیار کروگی تو وہ تم پر اپنی من مانی کرے گا ۔ اسے موقع مت دو ۔ معظم شاہ کو تحریم کی باتوں پر زرہ برابر یقین نہیں تھا ۔ زمانہ شناس آدمی تھے اور میر زوار کی فطرت سے بھی واقف تھے اس لئے تحریم کا ذہن بنانے کی پوری کوشش کررہے تھے ۔
اس نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا گویا ان کی باتیں پلے سے باندھ لی ہوں مگر وہ چند دنوں میں ہی سمجھ گئی تھی کہ میرزوار کو زیر کرنا اس کے لئے ناممکن ہے ۔
معظم شاہ نے باتوں کے درمیان غور کیا گاڑی مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی شہر کی حدود سے نکل کر انجان راستوں پر دوڑ رہی تھی ۔
میں نے تمھیں کہا تھا میرزوار پیلس جانا ہے پھر تم یہ کہاں نکل آئے ہو ؟ کیا راستہ بھول گئے ہو ؟ معظم شاہ نے زور سے ڈرائیونگ سیٹ کی پشت پر غصے سے ہاتھ مارا ۔
تمھارا دماغ خراب ہوگیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔رمضان اسے دو ہاتھ لگاؤ ۔۔۔۔۔۔۔اس کی عقل ٹھکانے آئے ۔ مجھے جواب بھی نہیں دے رہا بد بخت ۔ ڈرائیور کی خاموشی نے انہیں مشتعل کردیا ۔
تم دونوں کا دماغ تو درست ہے ، نمک حراموں بولتے کیوں نہیں ۔ دونوں کی خاموشی پر معظم شاہ کو غصے کے ساتھ تشویش لاحق ہوئی ۔ اب تحریم بھی متفکر نظر آنے لگی ۔
میرزوار سائیں کا حکم ہے ، آپ کو پیلس نہیں لے جانا بلکہ وہ اپنے فارم ہاؤس پر آپ سے ملنا چاہتے ہیں ۔ بالآخر ان کے گارڈ نے لب کشائی کی ۔
حرام خوروں ! تم میرے ملازم ہو یا اس کے ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے بتائے بغیر اس کے حکم پر دم ہلانے کی تمھاری جرأت کیسے ہوئی ۔ وہ تلملا کر دہاڑے ۔ تحریم نے مارے گھبراہٹ کے معظم شاہ کا بازو تھام لیا ۔
“””””””””””””””””
صاحب ! مزاج بخیر ہیں ؟ چار گھنٹوں کی مختصر سی ملاقات اتنی بھاری پڑ گئی کہ دو دن سے غائب ہو ،کال رسیو بھی نہیں کررہی ۔ اس کی ذومعنی بات پر نینا کے کان کی لو سلگ گئیں ۔
اس ملاقات کی میرے نذدیک کوئی اہمیت نہیں ہے ، میں اس بارے میں سوچنا بھی پسند نہیں کرتی ۔ آپ کی بخشی ہوئی ملاقاتیں ریت پر لکھی عبارت کی طرح ہوتی ہیں ،جس طرح ایک لہر آتی ہے اور عبارت کو مٹاکر چلی جاتی ہے ۔ آپ کی مجھ سے ہونے والی ملاقاتیں بھی اسی عبارت سے مشابہت رکھتی ہیں ۔ وہ سنبھل کر جلے کٹے انداز میں جتاتے ہوئے بولی ۔ میرزوار کا قہقہہ برجستہ تھا ۔
بقول تمھارے ہماری ریت پرلکھی گئی عبارت جیسی ملاقات میں تمھارے چہرے پر رقم عبارت کو عشق کی کونسی کہانی سے تشبیہہ دوگی ؟جس میں تمھارے دل کا حال لفظ بہ لفظ لکھا تھا اور با آسانی پڑھ لیا گیا۔ اس مختصر ملاقات میں تمھاری آنکھوں میں تحریر تھا کہ من کی مراد بر آئی ہے ۔ وہ اسے چھیڑتے ہوئے شوخی سے بولا ۔
میں بہت بزی ہوں ، میرے پاس ان باتوں کے لئے وقت نہیں ہے ۔ وہ چوری پکڑے جانے پر بری طرح سٹپٹا گئی ۔ اسے محسوس ہوا جیسے وہ سامنے بیٹھا اس کی حالت پر محفوظ ہورہا ہے ۔
نہ ، نہ ، نہ میری جان فون بند کرنے کی غلطی مت کرنا ورنہ ابھی اسی وقت تمھارے پاس چلا آؤں گا پھرصبح جب تمھارے کمرے سے فریش ہوکر آفس جانے کے لئے نکلوں گا اور تم اپنے کومل ہاتھوں سے مجھے ناشتہ کرواؤگی تو اس کے بعداپنے رشتے داروں کو ہمارے مابین گہرے تعلق کی وضاحتیں خود ہی دینا ہوں گی کیونکہ تمھارا ساتھ دینے کے لئے میرے پاس بھی وقت نہیں ہوگا ۔ اس کی دھمکی نما آواز میں مسکراہٹ کا تاثر نمایاں تھا ۔
آپ کیوں مجھے تنگ کررہے ہیں ، اس دن مجھے سولی پر لٹکا کر آپ کو سکون نہیں ملا جو اب پھر شروع ہوگئے ہیں ۔
زار ! میں قسم کھا کر کہہ رہی ہوں اب آپ نے میرے پاس بھٹکنے کی بھی غلطی کی تو میں کہیں چلی جاؤں گی ۔ آ پ ذندگی بھر ڈھونڈتے رہیں گے مگر مجھ تک نہیں پہنچ سکیں گے ۔ وہ غصے سے جھنجھلا کر بولی ۔
سوہنا سائیں ! ایسا کچھ مت کرنا ، میرا کیا ہوگا ۔ میں کہاں جاؤں گا ، تمھیں کہاں ڈھونڈوں گا ۔ وہ بے کل و بے قرار ہوگیا ۔اس کی دوری کے احساس سے دل میں خالی پن محسوس ہونے لگا۔ انگلیوں میں دبا سگریٹ ایش ٹرے میں مسل کر سنجیدگی سے بولا ۔
تمھیں میری ملاقاتوں کی تو ہین کرتے ہوئے کتنا سکون ملتا ہے ؟ جبکہ میں شرعی حق کے ساتھ تم سے ملنے آتا ہوں پھر بھی اب میں تمھارے پاس نہیں آؤں گا لیکن تم ایسی کوئی حرکت نہیں کروگی ۔ وہ مضبوط لہجے میں اسے یقین دلا رہا تھا ۔
جن ملاقاتوں کا کسی کو علم ہوجائے اور نظریں چراکر وضاحتیں دینی پڑجائیں وہ خفیہ ملاقاتیں شرعی ہونے کےباوجود دنیا کی نظروں میں ناجائز ہی رہتی ہیں ۔ وہ ترکی بہ ترکی بولی ۔
تم کھل کر کیوں نہیں کہتیں کہ رخصتی کروانا چاہتی ہو ۔ میں کافی دنوں سے نوٹ کررہا ہوں مگر تمھارے منہ سے سننے کی خواہش ہے پھر شاید اس کا کوئی انتظام کرنے کے بارے میں سوچوں ۔ وہ مسکراہٹ دبائے نا چاہتے ہوئے بھی اسے مذید سیخ پا کرگیا ۔
آپ کی یہ خواہش حسرت ہی رہے گی میں مر کر بھی نہیں بولوں گی کیونکہ آپ بہت پہلے مجھے اپنانے سے انکار کر چکے ہیں ۔ میری ذات اتنی ارزاں نہیں کہ آپ جب چاہیں ٹھکرادیں اور جب چاہیں اپنا لیں ۔ وہ تڑخ کر بولی ۔
یہ تو حقیقت ہے ، میں جب چاہوں گا تمھیں اپنا لوں گا اور تم چاہ کر بھی مجھے روک نہیں سکو گی کیونکہ یہی تمھاری دلی خواہش ہے اور میں اپنی جانِ جاں کی کوئی خواہش رد نہیں کرسکتا ۔وہ آج دل کھول کر اسے تپانے کا ارادہ رکھتا ہے ۔
اب آپ ناک بھی رگڑ لیں گے تو ایسا ممکن نہیں ہے ۔ میری ڈیوٹی ٹائمنگ شروع ہوگئی ہے مجھے جانا ہوگا ۔ آپ کی بیگم پہنچنے ہی والی ہونگی باقی کا عشق ان کے ساتھ بھگارئیے گا ۔ اللہ حافظ ۔ وہ کاٹ دار لہجے میں کہہ کر کال ڈسکنیکٹ کرگئی ۔
میرزوار نے مسکراتی نگاہوں سے موبائل کی اسکرین پر اس کی گہرے ڈمپل والی تصویر کو دیکھتے ہوئے یکلخت چوم لیا ۔ وہ اسے مذید زچ کرنے کا ارادہ ترک گیا کیونکہ درحقیقت اس کے غصے سے خائف ہوگیا تھا مبادہ نینا غصے یا جذبات میں کوئی الٹا سیدھا قدم اٹھالیتی تو وہ یقیناً اس کو تلاشنے تک پاگل ہوجاتا ۔
ساجد نے مہمانوں کی آمد سے مطلع کیا تو وہ گھنی مونچھوں پر انگلیاں چلاتا ہوا کلب سے نکل کر بیس مینٹ کی طرف چل پڑا ۔
اس کے صبیح چہرے پر چٹانوں کی سی سختی در آئی تھی ۔
“””””””””””””””””””
وہ بہت دیر سے پول سائیڈ پر بیٹھا فون کالز پر مصروف تھا ، کچھ ضروری کالز اور دوستوں سے گپ شپ نمٹانے کے بعد نیند کا غلبہ طاری ہوا تو وہاں سے اٹھ گیا ۔ وہ پول سائیڈ سے لاؤنج میں کھلنے والے اندرونی دروازے سے اندر داخل ہوا ۔
تمام فیملی ممبران رات کے اس پہر اپنے اپنے کمروں میں مقید ہوچکے تھے اس لئے ہر طرف سناٹے کا راج تھا ۔
وہ ایک نظر لیونگ روم پر ڈال کر ٹراؤزر کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے ڈھیلے ڈھالے انداز میں کمرے کی طرف جانے کے لئے بڑھ گیا ۔ زور سے دروازہ بند ہونے کی آواز پر اس نے مڑ کر دیکھا ۔
وہ تین دن بعد آج نظر آئی تھی ۔ میر حنین اور تانیہ کے کمرے سے نکل کر تیر کی طرح سیڑھیوں کی طرف دوڑ لگاتی نظر آئی ۔ میر جازب نے اپنے قدموں کی رفتار اس کے قدموں کی رفتار سے دوگنی کردی اور سیڑھیوں کے پہلے اسٹیپ پر ہی اسے روک لیا ۔
دلہن ! اس نے ترنگ میں حفصہ کو پکارہ ۔
دلہن ۔۔۔۔۔۔حفصہ پتھرائی ہوئی کیفیت میں دہراتے ہوئے پلٹی ۔ میرجازب آنکھوں میں نئے نویلے ان گنت رنگ لئے سینے پر ہاتھ لپیٹے کھڑا تھا ۔
کہاں منہ چھپا کر بیٹھی ہو ؟ ویسے تو ہر وقت آگے پیچھے گھومتی رہتی رہتی ہو اور اب عید کا چاند بن گئی ہو ۔ نظر ہی نہیں آتی ۔ وہ دوستانہ انداز میں کہتے ہوئے دو قدم آگے آیا ۔
وہ دو گھڑی خاموش نظروں سے اسے دیکھتی رہی پھر خاموشی سے گھوم کر سیڑھی کے دوسرے اسٹیپ پر قدم رکھا ۔
سنو ! کیا تم خوش نہیں ہو؟اس نے بھاری آواز میں اسے مخاطب کیا اور اس کا بازو تھام کر رخ اپنی جانب موڑ دیا ۔
جیزی بھائی ! اس میں خوش ہونے والی بھی تو کوئی بات نہیں ہے ۔ میں ہمیشہ آپ کو اپنا بھائی سمجھتی تھی ۔ وہ بولتے ہوئے روہانسی ہوگئی ۔ میر جازب نے بھرپور قہقہہ لگایا ۔
جب میر حنین اور تانیہ نے اسے میر جازب کے ساتھ منسوب ہونے کے بارے میں بتایا تو اس نے واویلا مچا دیا تھا ۔
زارو قطار روتے ہوئے منگنی سے انکار کیا مگر دو تین دن میں میر حنین اسے منانے میں کامیاب ہوگئے تھے کیونکہ انہیں واپس جانے سے پہلے ہر صورت منگنی کی رسم ادا کرنی تھی ۔
وہ اسی دن سے اپنا منہ چھپائے چھپائے پھر رہی تھی ۔ میر جازب کے نام پر ہی اس کے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ۔
بے وقوف لڑکی !خدا کو مانو ۔ اب یہ بھائی کا لفظ استعمال کرنے سے گریز کرنا ۔ تم یوں کرو مجھے جان ، جانو یا پھر جانی کہنے کی پریکٹس کرو ۔ وہ اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر شرارت سے بولا ۔
کیا ؟ آپ بہت برے ہیں ۔ مجھے آپ سے بات ہی نہیں کرنی ۔ وہ پہلے صدمے سے چلائی پھرشرم سے گلال پڑگئی ۔ اس کا ہاتھ جھٹک کر اوپر کی طرف بھاگتی چلی گئی ۔ میر جازب دیر تک وہاں کھڑا ہنستا رہا ۔
اسے بھی جب یہ انہونی خبر سنائی گئی تو اس کی بھی یہی کیفیت تھی ۔ کئی دنوں تک وہ اس رشتے کو سراسر بے جوڑ سمجھتا رہا مگر صرف ایک بارحفصہ کو بہن یا کزن کے علاوہ ہمسفر کے روپ میں سوچا تو وہ اس لحاظ سے بھلی لگی ۔
اس کا معصوم حسن نظر انداز کئے جانے کے قابل نہیں تھا ۔ اس کا رہن سہن ، بول چال سبھی کچھ اٹریکٹ کرتا تھا ۔ اسے غور سے دیکھنے پر جو پہلا خیال دل میں آیا ، وہ یہی تھا ۔ ان چھوئی کلی ۔ وہ دل میں اترنے کا فن رکھتی تھی ۔
وہ اپنے والدین کو فیصلے کا مکمل اختیار پہلے ہی دے چکا تھا اس لئے بغیر پس و پیش کے راضی ہوگیا ۔
“””””””””””””””””””””
یہ کیا ڈرامہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمیں یہاں کیوں بلوایا ہے ؟ اور میرے ملازموں کو حکم دینے والے تم کون ہوتے ہو ؟ معظم شاہ باوجود ضبط کے اسے دیکھتے ہی پھٹ پڑے تھے ۔ ڈرائیو وے سے بیس مینٹ تک انہیں جس انداز میں لایا گیا تھا ان کی ہمت جواب دے گئی تھی ۔ انہیں اندازہ ہوچکا تھا کہ میرزوار کی یہ حرکت بلا جواز نہیں ہے ۔
شاہ صاحب ! ایسی بھی کیا بے صبری ہے ، زرا سانس تو لیں پھر یہ بھی بتادیں گے کہ آپ کو یہاں کیوں بلوایا ہے اور آپ کو واپس کب اور کس حال میں پہنچانا ہے ۔ وہ ان کے مقابل تن کے کھڑا چبھتے ہوے لہجے میں بولا ۔
کیا مطلب ہے ؟ کیا کرنا چاہتے ہو ؟ ہم سے بیسمینٹ میں ملنے کا کیا تک بنتا ہے ؟ معظم شاہ اندر سے خاصے گھبرا گئے تھے مگر بظاہر اکڑ کر بولے ۔ ان کے ساتھ کھڑی تحریم کے چہرے پر بھی ہوائیاں اڑ رہی تھیں ۔
آپ جیسے انسانیت سے گرے ہوئے ، آستین کے سانپوں سے ملنے کے لئے میں ایسی ہی جگہوں کا انتخاب کرتا ہوں ۔ وہ پل بھر میں غضبناک ہوا ۔
منہ سنبھال کر بات کرو ، مجھ سے اس لہجے میں بات کرنے کی تمھاری جرأ ت کیسے ہوئی ۔ معظم شاہ نے بھڑک کر اس کا گریبان دبوچ لیا ۔
جیسے تم نے میرے ماں باپ کو بے موت مارنے کی جرأت کی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جیسے تم نے بچپن میں مجھے یتیم کرنے کی جرأت کی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جیسے تم نے میرے ہنستے بنستے گھرانے کو لمحوں میں اجاڑنے کی جرأت کی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جیسے تم نے میر ے باپ کی پیٹھ پر وار کرنے کی جرأت کی تھی ۔ اس نے اپنا گریبان ایک جھٹکے سے معظم شاہ کے ہاتھ سے چھڑایا اور انہیں صوفے پر دھکیل دیا ۔ اسلحہ بردار گارڈز نے اپنی گنز لوڈ کرکے معظم شاہ پر تان دیں ۔
تحریم کے منہ سے بلند و بانگ چیخ برآمد ہوئی ۔ وہ دور کھڑی تھر تھر کانپ رہی تھی ۔
معظم شاہ کے سر پر دیواریں آرہی تھیں ۔ انتہائی شفاف طریقے سے کام کرنے کے باوجود بھی میرزوار کے منہ سے اپنا کارنامہ سن کر ان کے حواس کام کرنا چھوڑ کر گئے ۔ زبان تالو سے چپک کر رہ گئی ۔
انہوں نے بدقت خود کو سنبھالا پھر تمام ہمتیں مجتمع کرتے ہوئے پراعتماد لہجے میں بولے ۔
تم مجھ پر سراسر الزام لگا رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمھیں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں بھلا اسے کیوں قتل کروں گا جبکہ ہمارے درمیان کوئی رنجش باقی نہیں رہی تھی ۔
یہی تو میں جاننا چاہتا ہوں ، جب دشمنی ختم کردی گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دلوں کو صاف کرلیا تھا ۔۔۔۔۔۔قدورتیں مٹ چکی تھیں پھر تم نے کونسی آگ کو میرے باپ کے خون سے بجھایا تھا ؟ اس نے معظم شاہ پر جھکتے ہوئے ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بپھرتے ہوئے پوچھا ۔
تمھارے پاس کیا ثبوت ہے کہ ان کو میں نے قتل کیا ہے۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ ان دونوں کا ایکسیڈینٹ ہوا تھا ۔ انہوں نے بے خوفی سے جھوٹ بولا ۔ میر زوار نفی میں سر ہلاتا ہوا پیچھے ہٹا پھر ساجد کی جیب سے تصویر نکال کر معظم شاہ کی نظروں کے سامنے لہرائی ۔
اسے تو پہچانتے ہوگے ۔۔۔۔۔۔۔ یہ وہی ہے جسے تم نے میرے باپ کو موت کے گھاٹ اتارنے کے لئے پورے پانچ کروڑ روپے کیش، بوٹ بیسن پر ایک فلیٹ دیا تھا ۔ وہ زہر خند سا مسکرایا ۔ چہرے پر کرب اور آنکھوں میں وحشت ناچ رہی تھی ۔
تصویر کو بغور دیکھنے کے بعد ان کا رنگ لٹھے کی مانند سفید پڑ گیا ۔تصویر کو جھٹلاتے ہوئےشاید وہ کوئی کہانی گھڑ ڈالتے مگر میرزوار کے منہ سے نکلنے والے الفاظوں نے ان کی قوتِ گویائی سلب کردی تھی ۔
تم اب مجھ سے کیا چاہتے ہو ؟ ساجد کو قہر آلود نظروں سے گھورنے کے بعد وہ ٹہرے ہوئے لہجے میں بولے ۔
تم سے تمھاری سانسیں چھین لینا چاہتا ہوں ۔ تمھیں اتنی اذیت ناک موت دینا چاہتا ہوں کہ میرے باپ کی بے چین روح کو سکون مل جائے ۔ وہ غضبناکی سے گویا ہوا ۔
مجھے معاف کردو ، میں اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں ۔میں حسد کی آگ میں جل رہا تھا ، اللہ کے انصاف اور اس کے جلال کو بھول گیا تھا ۔ طاقت کے زعم میں خود کو خدا سمجھ بیٹھا تھا مگر تم یہ غلطی مت کرو ۔ میرا فیصلہ اللہ پر چھوڑ دو ۔ وہ آن کی آن میں غرور و تکبر سے دور اس کی منتوں پر اتر آئے ۔
تمھیں معاف کردوں تو اپنے باپ کے پاس کس منہ سے جاؤں گا ۔ تمھیں سزا دئیے بغیر تو میں ان کا سامنا نہیں کرسکتا ۔اس کے لہجے میں بلا کا کرب تھا ۔
میں تمھیں اللہ کے نام پر ذندہ چھوڑبھی دوں تو مجھے یقین ہے کہ تم مجھے ایک نہ ایک دن ضرور ڈسوگے کیونکہ تمھاری فطرت سانپ سے زرا مختلف نہیں ہے ۔ وہ تلخی سے ہنسا ۔
میں وعدہ کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی بیٹی نینا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تمھیں کبھی نقصان نہیں پہنچاؤں گا ۔ میرسجاول کو قتل کروانے کے فوراً بعد ہی مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوگیا تھا میں بہت پچھتایا مگر یہ غلطی سدھاری نہیں جا سکتی تھی ۔ تم میرا یقین کرو میں بہت شرمندہ ہوں ۔ وہ پرنم لہجے میں رنجیدگی سے بولے ۔
خبردار میری نین کا نام بھی اپنی زبان سے مت لینا ، وہ میری بیوی ہے ۔ دوبارہ اس کے سر کی جھوٹی قدم کھائی تو یہیں ذندہ زمین میں گاڑ دوں گا ۔ ایک بار سانپ پر اعتبار کرلوں گا پر تم پر نہیں کروں گا ۔ وہ بلند آواز میں دہاڑا اور اس کے انکشاف پر معظم شاہ سمیت تحریم کے قدموں تلے زمین نکل گئی ۔
یہ کیا بکواس کررہے ہو ؟ نینا تمھاری بیوی ۔۔۔۔۔۔۔۔معظم شاہ کی آواز کپکپاکر رہ گئی ۔
ہاں وہ میری بیوی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میری پہلی بیوی اور ہمیشہ میری پہلی اور آخری بیوی رہے گی کیونکہ یہ عورت میری بیوی بننے کے قابل نہیں ہے ۔ اس کی فطرت بھی تمھاری طرح زہریلی ہے ۔ اس نے نفرت سے تحریم کی طرف اشارہ کیا جو بت بنی دیوار کے ساتھ لگی پتھرائی ہوئی آنکھوں سے میر زوار کو دیکھ رہی تھی ۔
تم ، تم ۔۔۔۔۔۔ تم جھوٹ بول رہے ۔ اس کا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ تم صرف مجھے ذہنی اذیت سے دوچار کرنے کے لئے اس کا نام لے رہے ہو ۔ معظم شاہ نے اٹھ کر اس کا گریبان دبوچ لیا ۔ وہ ہزیانی کیفیت میں چلائے ۔
پچھلے چھ ماہ سے وہ میری بیوی ہے ۔ میری ذندگی میں شامل ہے اور اگر تمھارا وقت اتنی جلدی نہیں آجاتا تو بہت جلد تمھیں اپنے بیٹے سے بھی ملوادیتا مگر دور سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ تم تو اپنے نواسے کا خون بہانے سے بھی باز نہیں آؤگے ۔ اس نے موبائل کی اسکرین ان کے چہرے کے عین سامنے کی جس میں ان دونوں کے نکاح کی ویڈیو چل رہی تھی ۔
نکاح کی ویڈیو نے معظم شاہ کو بہت بلندی سے منہ کے بل زمین پر گرادیا تھا ۔
تمھیں مجھ سے بدلا لینا ہے ، میری جان لے کر تمھارا بدلہ پورا ہوجائے گا مگر خدارا اس کھیل میں میری بیٹی کو مت گھسیٹو ۔ وہ بے قصور ہے ۔ معظم شاہ نے بالآخر ہاتھ جوڑ دئیے ۔
تمھیں یاد ہے تم نے اپنے ذاتی معاملات میں کتنی بے قصور لڑکیوں کو گھسیٹتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ یاد ہے ، یا میں یاد دلاؤں ؟ اس نے سگریٹ سلگا کر گہرا کش لیا ۔
معظم شاہ کی نظروں میں کئی منظر ایک ساتھ گھوم گئے ۔ انہوں نے بے بسی سے اپنی پیشانی کو مسلا ۔
میں تمھاری طرح گھٹیا اور گرا ہو نہیں ہوں ۔ مرد ہوں اور میری مردانہ انا کو یہ گوارہ نہیں کہ تم سے بدلہ لینے کے لئے عورت ذات کو استعمال کروں ۔
میں نے نینا سے خفیہ نکاح اس فتنہ انگیز عورت کی وجہ سے کیا، اس نے میری نین کو ، میری محبت کو مجھ سے دور کرنے کے لئے اپنا گندہ دماغ استعمال کیا اگر یہ ہمارے بیچ نہیں آتی تو آج دنیا کی نظر میں وہ میری بیوی ہوتی مگر میری بیوی تو اب بھی وہی رہے گی کیونکہ اسے تو میں تمھارے ساتھ ہی اوپر روانہ کرنے والا ہوں ۔ اس نے دہشت ناک لہجے میں تحریم کی طرف اشارہ کیا ۔
جاری ہے
