Rate this Novel
Episode 10
نینا یکسوئی سے ٹیبل پر جھکی اپنے کام میں مگن تھی تبھی اس کے فون پر واٹس ایپ الرٹ ہوا۔ اس نے مصروف سے اندازمیں ایک نظر فون کی روشن اسکرین پر ڈالی پھر سر جھٹک کر دوبارہ فائل کی طرف متوجہ ہوگئی مگر اب اس کا ذہن فون پر ریسیوڈ ہونے والے میسج میں اٹکا ہوا تھا ۔
وہ تھوڑی دیر تو لاتعلق بنی رہی پھر بالآخر اس نے واٹس ایپ اوپن کیا۔
سوہنا سائیں ! آپ کہاں ہیں ۔۔۔۔۔؟میر زوار کے مخصوص شیریں لب و لہجے پر اس کے پیازی لب کھل گئے اور انگلیاں خودبخود موبائل کی اسکرین پر تیزی سے چلنے لگیں ۔
آن ڈیوٹی ۔ اس نے مختصر جواب دیا ۔
ائیر پورٹ پہنچ سکتی ہو ۔۔۔۔۔۔؟ دوسری جانب وہ دل وجان سے منتظر بیٹھا تھا ۔منٹ بدلنے سے پہلے جواب آیا ۔
اس وقت ائیر پورٹ کیوں ؟ صبح کے چار بج رہے ہیں ۔۔۔۔ویسے بھی میں ڈیوٹی پر ہوں ۔ نکل نہیں سکتی ۔نینا نے جان چھڑانے والے انداز میں کہا ۔
سوہنا سائیں ! کچھ بھی کرو ، وہاں سے نکلو ۔ مجھے ایمرجنسی میں جانا پڑرہا ہے ۔ تمھارا دیدار کئے بنا نہیں جاؤں گا ۔فوراً ائیرپورٹ پہنچو ۔۔۔۔۔۔۔۔آدھے گھنٹے میں فلائیٹ ہے ۔ہری اپ ۔پلیز! میر زوار نے التجا کی ۔
ائیرپورٹ پر سب کے سامنے مجھ سے ملیں گے تو ہم سب کی نظروں میں آجائیں گے ، اسکینڈل بن گیا تو۔۔۔۔۔۔۔؟
یار ! آپ کو یہاں پہنچ کر مجھ سے ملنا نہیں ہے ، بس میرے سامنے بیٹھ جانا ۔ ہم فون کے تھرو بات کریں گے ۔ میں تمھیں دیکھنا چاہتا ہوں ۔ نینا نے اسکرین پر نظر جمائے گہری سانس کھینچ کر خارج کی ۔
کیا مجھے جانا چاہئے ۔۔۔۔۔۔۔اس طرح تو میر زوار کے حوصلے بڑھ جائینگے ۔ اف کیا کروں ؟ نینا بالوں میں انگلیاں پھنسائے خاموش نظروں سے میر زوار کے جذبوں سے گندھے لفظوں کو دیکھ رہی تھی ۔
ہر گز نہیں نینا۔۔۔۔۔۔ تم میر زوار کے جذبات کو مزید بھڑکانے کی کوشش نہیں کروگی ۔ تم ہرگز نہیں جاؤگی ورنہ واپسی کے راستے تم پر بند ہوجائیں گے ۔اسے جانے دو ۔تمھیں اس سے محبت نہیں ہے جو تم اس کے لئے اتنا سوچ رہی ہو ۔ اس کے اندر سے آواز آئی ۔نینا نے مضطرب ہوکراپنی کنپٹیوں کو مسلا ۔
ڈاکٹر نینا ! ایوری تھنگ از آل رائیٹ ۔۔۔۔۔۔۔؟ مجھے تم کچھ
پریشان لگ رہی ہو ۔ نینا کے کولیگ نے اس کے پاس آکر کہا۔
آں ہاں ۔ڈاکٹر رضا ! کیا میں کچھ دیر کے لئے آپ کی کار لے جاسکتی ہوں ۔۔۔۔۔۔؟ نینا نے ایک پل میں نتیجے پر پہنچتے ہوئے اس کی بات کو یکسر نظرانداز کرکے اجازت طلب کی ۔
بلکل لے جا سکتی ہو مگر اتنی رات کو جانا کہاں ہے ۔۔۔۔۔؟ ڈاکٹر رضا نے حیرت سے استفسار کیا ۔
ایمرجنسی ہے ، واپسی پر بتاؤں گی ۔ وہ اس کے ہاتھ سے کی چین جھپٹتے ہوئے باہر کی جانب لپکی ۔
وہ ریش ڈرائیونگ کرتے ہوئے ہاسپٹل سے ائیر پورٹ کا تقریباً آدھا فاصلہ منٹوں میں سمیٹ چکی تھی ۔ نینا نے فون رنگ پر کال اٹینڈ کرتے ہی اسپیکر آن کیا ۔
نین سائیں ! کہاں پہنچی ہو ۔۔۔۔۔؟ فلائیٹ آدھا گھنٹا لیٹ کرواچکا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ذیادہ لیٹ کروایا تو پیسینجر شور کریں گے ۔سین بن جائے گا ۔ اسپیکر میں میر زوار کی گنمبھیر آواز گونجی ۔
دس منٹ میں پہنچ رہی ہوں ۔ نینا نے دھیرے سے کہا ۔ وہ اپنی کیفیت خود بھی نہیں سمجھ پا رہی تھی ۔
ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈیپارچیور گیٹ پر بندہ کھڑا ہے ۔ اندر آجانا تمھیں کوئی نہیں روکے گا ۔میر نے ہنکارہ بھرنے کے بعد اسے ہدایت دے کر کال ڈسکنکٹ کردی ۔
وہ گاڑی پارک کرنے کے بعد تقریباً بھاگتی دوڑتی ہوئی ڈیپارچیور گیٹ تک پہنچی۔گیٹ سے اندر داخل ہونے پر تیز قدموں سے وہاں کی طویل راہ داریاں عبور کرتی ہوئی ویٹنگ ایریا میں داخل ہوئی ۔
اس کی متلاشی نظریں ادھر ادھر میر زوار کو ڈھونڈ رہی تھیں پھر وہ جلد ہی نظر دوڑانے پر میر زوار کو دیکھنے میں کامیاب ہوگئی ۔
میر زوار کافی فاصلے پر اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ صوفے پر براجمان تھا ۔
نینا چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی میر زوار کے سامنے ہی مگر اس کی نشستوں سے دور ترچھے رخ کی نشست کے سامنے جاکر رکی ۔
میر زوار نے طائرانہ نظر ہال پر ڈالی تبھی نینا پر اس کی نظر پڑی مگر لوگوں کی موجودگی کے خیال سے اس نے فوراً ہی نظروں کا زاویہ بدل دیا پھر چند لمحے بعد دل کی آواز پر ایک بھرپور نظرمیں اس کا مکمل جائزہ لیا ۔
نینا نے بلیو نیرو جینز پر وہائیٹ شرٹ زیب تن کی ہوئی تھی ۔ شرٹ کا نچلا حصہ جینز کے اندر بیلٹ سے دبا ہوا تھا ، مخملی پیروں کو لانگ شوز میں قیدکئے جو ٹخنوں سے زرا اوپر تھے،صوفے پر بیٹھ کر ایک ٹانگ گھٹنے پر رکھے جھلانے لگی ۔
وہ کسی بہترین برانڈدڈ کمپنی کی ماڈل سے کم نہیں لگ رہی تھی ۔
پورے ہال کی ستائشی نظریں اس کے ہوش ربا سراپے کا طواف کر رہی تھیں ۔ میر زوار نے نظروں کے تصادم پر زرا سی آئی برو اچکا کراسے نظروں ہی نظروں میں سراہا ۔
سوہنا سائیں ! پیاری لگ رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔دل کرتا ہے اپنے ساتھ ہی لے جاؤں ۔ میر زوار کی طرف سے ٹیکسٹ موصول ہوا ۔ نینا کی مسکراہٹ کےساتھ ہی ان دونوں کےڈمپل بھی گہرےہوگئے ۔
اپنے دل کو زرا سنبھال کر رکھیں ۔۔۔۔۔۔۔بہت منہ زور ہوتا جارہا ہے۔ نینا نے فٹافٹ ریپلائے دیا ۔
تم نے ہی بنایا ہے ورنہ لڑکیوں کے معاملے تو یہ ہمیشہ سے بے زبان رہا ہے ۔ اب یہ حال ہے کہ بغاوت پر اترآیا ہے ۔
باقاعدہ مقدمے لڑتا ہے ۔میرزوار نے ایک ہاتھ اپنے سینے پر دل کی جگہ رکھا ۔
ہم سب کو پتہ ہے کہ لفظوں کے ہیر پھیر سے ہی آپ لوگوں کے دل و دماغ پر قبضہ جما لیتے ہیں اپنی جادوگری مجھ پر چلانے کی کوشش مت کریں ۔ یہ بتائیں کچھ دیر پہلے تو کوئی پروگرام نہیں تھا ، آپ نے کال پر بھی نہیں بتایا پھر اچانک کیوں جارہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟
صبح ضروری میٹنگ ہے ۔۔۔۔۔۔۔شام تک واپس آجاؤں گا۔
جب تم سے بات ہوئی تب تک کوئی ارادہ نہیں تھا جانے کا اس لئے نہیں بتایا تھا ۔میرزوار نے ایک ہاتھ کی انگلیاں اپنی گھنی دلکش مونچھوں میں سرسرائیں پھر پورا ہاتھ داڑھی پر پھیرا ۔
آپ کی آئیز ریڈ ہورہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔بہت تھکے ہوئے لگ رہے ہیں پھر کیا ضرورت ہے جانے کی ؟
کام بہت ضروری ہے اس لئے جانا پڑ رہا ہے ۔یو ڈونٹ وری مائے کوئین ! فلائیٹ میں نیند پوری ہوجائے گی ۔
یہ برے دھندے چھوڑ کیوں نہیں دیتے ۔۔۔۔۔۔۔۔جتنا کمایا ہے کافی نہیں ہے کیا ۔۔۔۔۔۔۔؟
اب تک اپنے لئے کما رہا تھا ، اب صرف تمھارے لئے ۔ یہ سب میں تمھارے لئے ہی تو کررہا ہوں ۔
مجھے بدنام مت کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔میں اتنے میں بھی بہت خوش ہوں ۔ میرے لئے خود کو مزید گناہ گار مت کریں ۔
مگر میں تو چاہتا ہوں دنیا بھر کی دولت تمھارے قدموں میں ڈھیر کردوں ۔ میر زوار کا جذباتی پن چہرے سے جھلکنے لگا ۔ نینا کی گردن فخر سے تن گئی ۔
زار! آپ روٹین سے ذیادہ ہینڈسم لگ رہے ہیں ۔ کوئی خاص بات ہے یا پھرخاص ملاقات ۔۔۔۔۔۔؟ نینا نے شرارت سے ہوا میں تیر چلایا ۔
حد ہے یار ! لڑکیاں کتنی بھی لبرل کیوں نا ہوجائیں لیکن ان میں سے شک کے جراثیم کبھی ختم نہیں ہونے والے ۔ بندہ ملک سے باہر جارہا ہے تو کیا تیار بھی نہیں ہوسکتا ۔ تعریف ہی کرنی تھی تو زرا دل خوش کرنے والے انداز میں کر دیتی ۔میر زوار نے منہ بگاڑ کر تاسف سے سرہلایا۔
وہ آف وائیٹ بوسکی کے شلوار سوٹ پر بلیک لیدر کی جیکٹ میں ملبوس تھا ۔ اس کی دلکشی رات کے اس پہر بھی تھکن اور نیند کے باوجود عروج پر تھی ۔ڈارک براؤن آنکھیں ہمیشہ کی طرح رتجگوں کی ہلکی سی سرخی سے سجی غضب ڈھا رہی تھیں ۔
اتنا برا کیوں لگ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔یہ تو چور کی داڑھی میں تنکے والی بات ہوئی ۔ نینا نے بھی جواب داغا ۔
ہمیں کیوں برا لگے گا ۔آپ ہماری سرکار ہیں ۔ آپ کا حق ہے ، آپ کچھ بھی کہہ سکتی ہیں ۔ آپ تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آفیسر نے میر زوار کے پاس جھک کر کچھ کہا تو اس کی بات ادھوری رہ گئی ۔
نین سائیں ! اب میں جانے والا ہوں۔تم ہاسپٹل چلی جانا اور ڈرائیونگ احتیاط سے کرنا ۔میرے گارڈز تمھیں ہاسپٹل تک فولو کریں گے۔
فولو کیوں کریں گے ؟ میں آئی بھی اکیلی تھی تو اکیلی جا بھی سکتی ہوں ۔ نینا نے جھٹ ریپلائے کیا ۔
یہ آپ کی بھول ہے کہ آپ اکیلی آئی تھیں ، آپ کو بتاتا چلوں کے میں آپ کو اکیلے کہیں بھی نہیں جانے دیتا ۔ میر زوار نے اسے اشارہ دیا تھا مگر یہ سن کر نینا دنگ رہ گئی ۔
آپ مجھ پر نظر رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔؟ نینا نے ٹیکسٹ کرنے کے بعد میر زوار کی طرف دیکھا ۔
بس خبر رکھتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تم سے غافل نہیں رہ سکتا ۔مجھے دنیا والوں پر بھروسا نہیں ہے ۔تم بھی تو لیڈی ڈیانا بن کر گھومتی ہو ۔ میر نے جواب دے کر کندھے اچکائے ۔مبہم سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر کھیل رہی تھی ۔
میر کا میسج ملتے ہی نینا نے کھاجانے والی نظروں سے اسے دیکھا پھر اپنی جگہ سے کھڑی ہوگئی ۔ وہ باہر جانے کے لئے قدم بڑھا رہی تھی تبھی کوئی جان بوجھ کر اس سے بری طرح ٹکرایا ۔
نینا نے تکلیف سے بلبلا کر اس چالیس پینتالیس سال کے آدمی کو دیکھا جو ڈھٹائی سے اس کے سامنے کھڑا دانتوں کی نما ئش کررہا تھا ۔ وہ اپنا بازو سہلاتے ہوئے آگے بڑھ گئی مگر پیچھے سے زوردار تھپڑ کی آواز نے نینا کے قدم روک لئے ۔
اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو میر زوار اس آدمی کا گریبان پکڑے اس کی مرمت میں مصروف تھا ۔ میر نے پے در پے کئی تھپڑوں
سے اس کا جبڑا ہلا دیا ۔ ارد گرد لوگوں کا مجمع لگنے لگا ۔ سب گھیرے کی صورت ان دونوں کے گرد جمع تھے مگر کسی میں بھی میر زوار کا ہاتھ روکنے کی جرأت نہیں تھی۔ میر زوار کے ساتھی اور سیکیورٹی اہلکار اس آدمی کو میر کی گرفت سے چھڑانے کے لئے آگے بڑھے لیکن وہ بپھرتا جارہا تھا ۔
میر سائیں ! اسے چھوڑدیں ، آپ کے لئے بہت بڑا مسئلہ بن جائے گا ۔ ایک ساتھی منسٹر نے اسے قابو کرتے ہوئے دھیرے سے کہا ۔
میر زوار نے اس آدمی کو مار مار کر تقریباً ادھ موا کردیا تھا پھر بھی اس کا غصہ کم نہیں ہوا تو اس نے سیکیورٹی اہلکار سے گن جھپٹ کر اس آدمی پر تان دی ۔
نینا منہ پر ہاتھ رکھےدھڑکتے دل کےساتھ یہ منظر دیکھ رہی تھی۔
میر کے وحشیانہ سلوک پر اس کا دل پسلیاں توڑ کر باہر نکلنے کو تھا۔وہ پہلی بار میر کی ایسی دہشت اس قدر جنونیت دیکھ کر حقدق کھڑی رہ گئی ۔اس کا سانس لینا بھی دشوار ہورہا تھا ،وہ پلٹ کر بوجھل ہوتے دل کے ساتھ وہاں سے چلی گئی ۔
سر پلیز ! آپ قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتے اگر اس نے کوئی حرکت کی ہے تو ہم اسے اریسٹ کرلیتے ہیں ۔لاء اینڈ آرڈر قائم کرنے والے ہی جب اس پر قائم نہیں رہیں گے تو پبلک بھی کیوں کر پاسداری کرے گی ۔ آفیسر نے بمشکل اسے فائر کرنے سے باز رکھا ۔یکدم ہی میر زوار کی گرفت گن پر ڈھیلی پڑ گئی اس نے بڑی مشکل سے خود کو سنبھالا پھرشعلہ بار نظریں زمین پر پڑے اس بندے سے ہٹائیں اورگن آفیسر کی طرف اچھال کر پیچھے ہٹ گیا ۔
میر سائیں ! آپ کو بے قابو نہیں ہونا چاہئے تھا ، اب یہ خبر آپ کے لئے کتنی مشکلات پیدا کر دے گی ۔ آپ کے مخالفین اور چینلز والے تو ویسے بھی ہاتھ دھو کر آپ کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اب تو سنہری موقع ان کے ہاتھ آگیا ۔ منسٹر نے اس کے ساتھ چلتے ہوئے فکرمندی سے کہا باقی سب نے بھی اس کی تائید کی ۔
چینلز اور مخالفین مائی فٹ ۔ مجھے کسی کی پرواہ نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا اب میں ان چینلز والوں سے ڈروں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا،جسے جو کہنا ہے کہتا رہے ۔ میر زوار کا موڈ حد درجہ بگڑ چکا تھا ۔وہ سگریٹ لبوں میں دبا کر اپنے ازلی سر پھرے انداز میں بولا ۔
یہ شخص مجھے لے کر اتنا پوزیسو ہورہا ہے ، زرا سی بات پر اس بے چارے آدمی کی درگت بنادی جب اسے حقیقت پتا چلے گی تو میرا کیا حشر کرے گا ۔ نینا ڈرائیونگ کرتے ہوئے اپنی ہی سوچوں سے خوفذدہ ہو رہی تھی ۔
“”””””””””””””””””
مام ! آپ بس کوئی گڑ بڑ مت کرئیے گا ۔ جیسے میں نے سمجھایا ہے ، ویسے ہی کرئیے گا ۔ جب میں آپ کو میسیج کروں اسی وقت آپ کو کسی بھی طرح زعیم کو مجھے پک کرنے کے لئے بھیجنا ہے ۔اول تو وہ انکار کرے گا نہیں اگر کرے گا بھی تو آپ کسی بھی طریقے سے اسے راضی کر کے بھیجئے گا ۔
اب میں نکلتی ہوں ۔ ڈیڈ گاڑی میں میرا ویٹ کررہے ہونگے ۔ تحریم نے رانیہ کے گال سے گال مس کیا ۔
تحریم ! مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا کے آخر تم کیا کرنا چاہ رہی ہو ۔
تمھارے ڈیڈ اکیلے کراچی آرہے تھے مگر میں ان کے ساتھ آگئی
کتنے دن سے تم یہاں ہو ، مجھے تمھاری یاد آرہی تھی اور تم ہو کہ میر ہاؤس جارہی ہو ۔ ٹاہم تو دیکھو ، دس بج رہے ہیں ۔ اتنی رات کو جاؤگی تو واپس کب آؤ گی ۔ رانیہ تفکر سے بولیں ۔
مام ! یہ کراچی ہے گاؤں نہیں ہے ۔ یہاں دس بجے دن شروع ہوتا ہے اور میں واپس آکر آپ کے ساتھ ہی رہوں گی ۔
آپ بس دیکھتی جائیں میں کیا کرتی ہوں ، اب میرے سارے مسئلے خود بخود حل ہوتے جائیں گے ۔ تحریم کے خوبصورت چہرے پر شیطانی مسکراہٹ ابھری ۔
بیٹا ! وہ تم سے شادی کے لئے صاف انکار کر چکا ہے ۔ تم اس کے لئے خود کوکیوں پریشان کر رہی ہو ۔ جو رشتے زبردستی کی بنیاد پر قائم کئے جائیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتے ۔رانیہ نے اسے سمجھانے کی کوشش کی ۔
سب کچھ” اس “کی رضامندی سے ہوگا ۔ وہ خود میرے پاس آئے گا ۔ جو تقدیر سے نہ مل رہا ہو،اسے تدبیر سے حاصل کر لینا چاہئے۔ تحریم نے بے لچک لہجے میں کہا اور پرس سنبھالتی ہوئی چلی گئی ۔
“”””””””””””””””
ارحان ! کیوں نا ہم سب مل کر پکنک پر چلیں ۔ بہت بوریت ہورہی ہے ، اس بہانے کچھ ہلا گلا ہوجائے گا ۔
نینا اور تحریم کو بھی ساتھ لے چلیں گے ۔ نینا بھی جاب کی ہو کر رہ گئی ہے اور آج کل تحریم آپی بھی نہیں آرہیں ۔ اس بہانے سب اکھٹے ہوجائیں گے ۔ اروما کو بیٹھے بیٹھے خیال آیا تو اس نے ارحان کو بھی ہم خیال کرنا چاہا ۔
ذیادہ باتیں مت بناؤ ، میں سب جانتا ہوں تمھیں بے موسم پکنک کیوں سوجھی ہے ۔ ہم پروگرام بنا بھی لیں تب بھی وہ تو نہیں آئے گا جس کے لئے تم سارا بکھیڑا کھڑا کرنی چاہتی ہو ۔ ارحان مسکراہٹ دبائے شرارت سے بولا ۔
ارحان ! تم بہت بد تمیز ہو اور زور سے بولو تاکہ سب سن لیں ۔
اس نے پاس پڑا میگزین اٹھا کر ارحان کے سر پر مارا ۔
گھر میں کوئی بھی نہیں ہے ، اسی لئے کہا ہے ورنہ اتنا بے وقوف تو میں بھی نہیں ہوں ۔ ارحان سنجیدگی سے بولا ۔
دادا سائیں تو ہیں ناں اور کسی بھی وقت جازب بھائی بھی آسکتے ہیں ۔ اروما نے اسے جتایا۔
ویسے تمھارے شاہ صاحب کچھ ذیادہ ہی بدمزاج نہیں ہیں ، پہلے تو پھر بھی ہنس بول لیتے تھے مگر اب تو ہر دم اکھڑے الھڑے سے رہتے ہیں ۔ارحان ورق گردانی کرتے ہوئے منہ بنا کر بولا جبکہ آنکھوں میں شرارت بھری تھی ۔
بکواس مت کرو ، وہ ہمیشہ سے ہی کم بولتے ہیں اور انہیں ذیادہ بولنے والے لوگ بھی پسند نہیں ہیں اس لئے تمھیں لفٹ نہیں کرواتے ۔ اروما نے اسے منہ چڑایا ۔
وہ مجھے کیا لفٹ نہیں کروائیں گے ، میں خود ایسے کڑوے کریلوں کی کمپنی سے دور بھاگتا ہوں ۔ خود تو بے زار رہتے ہیں دوسروں کو بھی بیزار کردیتے ہیں ۔ میرارحان نے جوبی کاروائی کی ۔
اچھا تم ان پر تبصرہ کرنا بند کرو ۔کمنگ سنڈے کا پروگرام رکھیں ۔ سنڈے کو نینا کا بھی آف ہوگا مگر پہلے اس سے پوچھنا ہوگا کیا پتا اس کی ڈیوٹی ہو اور جب تک اماں اور بابا بھی گاؤں سے واپس آجائیں گے ۔ وہ دونوں پورچ میں گاڑی رکنے کی آواز پر خاموش ہوگئے ۔
مجھے لگتا ہے جازب یا زاری بھائی آئے ہیں ۔ اروما اندازہ لگاتے ہوئے بولی تبھی تحریم چھوٹا سا پرس جھلاتی اندر آگئی ۔
“”””””””””””””””””””
تم نے زبردست پلان بنایا ہے ، میں بھی بہت بور ہوگئی ہوں اور نینا بھی جاب کے چکر میں بزی ہوکر رہ گئی ہے ۔ یوں کرتے ہیں میر زوار کےریزورٹ پر چلتے ہیں ۔
تحریم آپی ! کمال کا آئیڈیا دیا ہے ، ابھی میں سوچ رہی تھی کہ پکنک پر کہاں جائیں گے ریزورٹ کا تو خیال ہی نہیں آیا ۔اروما بولی ۔
خیال بھی انہیں آتے ہیں جو دماغ کا استعمال کرتے ہیں ۔تمھارے پاس دماغ ہی کہاں ہے ۔ تحریم آپی کے صدقے ہی کچھ کھلا پلا دو ۔ مجھے تو تم پوچھوگی نہیں ، انہیں بھی سوکھا بٹھایا ہوا ہے ۔ ارحان معصومیت سے بولا جبکہ کچھ ہی دیر میں ڈرائے فروٹس کی پلیٹ پر ہاتھ صاف کر کے بیٹھا تھا ۔
تحریم آپی ! آپ کے لئے کھانا لگواؤں ،ہم دونوں تو کھا چکے ہیں ۔ اروما نے میر ارحان کو گھورتے ہوئے تحریم سے پوچھا ۔
ارے نہیں ! کھانے کا بلکل موڈ نہیں ہے،تم بس چائے پلوادو ۔
تحریم موبائل سے نظر ہٹا کر بولی ۔
ٹھیک ہے ،میں نصیر سے چائے کے لئے کہہ کر آتی ہوں ۔اروما نے ملازمہ کی تلاش میں ادھر ادھر نگاہ دوڑائی پھر اٹھتے ہوئے بولی ۔
بھئی میں تو صرف تمھارے ہاتھ کی چائے پیوں گی ۔ یہ جو تمھارا نیا بٹلر ہے بلکل بے کار چائے بناتا ہے ۔ تحریم منہ بگاڑ کر بولی ۔
اچھا میں ابھی بنا کر لاتی ہوں ۔ اروما مسکراتے ہوئے بولی ۔
میں بھی چلتی ہوں ، ساتھ بنائیں گے ۔ تحریم فوراً اس کے ہاتھ ہوگئی ۔وہ دونوں ایک ساتھ چلتی ہوئیں کچن میں پہنچی تھیں ۔
بابا ! آپ اب آرام کریں کیونکہ اب کوئی بھی ڈنر نہیں کرے گا۔جیزی بھائی اور زوار بھائی ڈنر باہر ہی کریں گے اور چائے میں خود بنانے لگی ہوں ۔ اروما نے کیبنیٹ سے پین نکالتے ہوئے بٹلر کی چھٹی کی ۔ وہ سرہلاتے ہوئے چلا گیا ۔
اروما چائے کا پانی رکھ رہی تھی اور تحریم کا دماغ مسلسل سازش بننے میں مصروف تھا ۔ وہ ناجانے کب سے اس سنہرے موقعے کا انتظار کررہی تھی جو اب جاکر اسے میسر ہوا تھا اور تحریم اسے ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی ۔
نینا کے ذریعے اسے معلوم ہوگیا تھا کہ نگین اور میر سبطین کچھ دنوں کے لئے گاؤں گئے ہوئے ہیں ۔
وہ ایسے ہی کسی موقع کے انتظار میں تھی کہ کب اروما اور ارحان گھر میں تنہا ہوں اور وہ موقع کا فائدہ اٹھا سکے اس لئے وہ رانیہ کو میسج کر نے کے بعد کچن میں آئی تھی ۔
آپی ! کیا سوچ رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔؟ تحریم گہری سوچ میں گم تھی اروما کی آواز پر چونک گئی ۔
ہوں ۔۔۔۔۔کچھ نہیں ۔ میں سوچ رہی تھی کہ نینا کو بھی یہاں بلالیا جائے مگر میرا فون لیونگ روم میں ہی رہ گیا ہے ۔ تحریم نے مکاری سے کہا ۔
کوئی بات نہیں آپی میں آپ کا فون لے کر آتی ہوں یا پھر میں خود ہی اسے کال کر دیتی ہوں ۔ اروما بولی ۔
یہ ٹھیک رہے گا،تم اسے کال کرو میں چائے لے کر آرہی ہوں ۔
تحریم کو اب اپنی سازش کامیاب ہوتی نظر آرہی تھی ، وہ خوشدلی سے بولی ۔
اس نے اروما کے جاتے ہی گریبان سے نیند کی ٹیبلیٹس نکال لیں ۔ کپوں میں چائے انڈیل قرینے سے ٹرے میں سجائے پھر اروما کے کپ پر نشانی لگائی اور تین ٹیبلیٹس اس کے کپ میں ڈال کر مکس کردیں ۔ یہ کاروائی کرنے کے بعد اعتماد سے ٹرے اٹھائے لیونگ روم میں آگئی ۔
نینا سے بات ہوگئی ۔۔۔۔۔۔۔؟ اس نے اروما سے پوچھا ۔
جی ہوگئی ہے مگر وہ کہہ رہی تھی کہ بہت بزی ہے اور تھکی ہوئی ہے ۔ یہاں نہیں آسکتی ۔ ڈیوٹی آف ہونے کے بعد گھر ہی جائے گی ۔
ہمم ، میرا تو یہاں دیر تک بیٹھنے کا ارادہ تھا تو سوچا کیوں نا اسے بھی بلوالوں پھر دونوں ساتھ میں گھر چلے جائیں گے ۔ تحریم نینا کے نا آنے کی خبر سے پر سکون ہوگئی کیونکہ اس نے اروما کو کچن سے ہٹانے کے لئے نینا کو بلانے کا بہانہ تو کردیا تھا مگر نینا یہاں آجاتی تو اس کا پلان چوپٹ بھی ہوسکتا تھا لیکن اس وقت قسمت تحریم کا بھرپور ساتھ دے رہی تھی ۔
ارحان ! چائے لو نا ، ٹھنڈی ہوجائے گی ۔ تحریم نے سرعت سے اٹھ کر کپ ارحان کی طرف بڑھایا مبادا ارحان غلط کپ نا اٹھا لے پھر اپنا کپ ہاتھ میں لے کر بیٹھ گئی ۔
ارحان اور اروما چائے کے سپ لیتے ہوئے اسکرین پر چلنے والے میچ کی طرف متوجہ تھے ۔
تحریم دل ہی دل میں خود کو سراہ رہی تھی ۔ اب اسے شدت سے زعیم شاہ کی آمد کا انتظار تھا ۔
“””””””””””””””””””
اروما ! کیا بات ہے ،تمھاری طبیعت تو ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟
تحریم نے بلند آواز میں اسے پکارہ ۔ ارحان نے بھی اسکرین سے نظر ہٹا کر اروما کی طرف دیکھا جو بیٹھے بیٹھے اونگھ رہی تھی ۔
وہ دونوں لپک کر اس کی طرف بڑھے ۔
مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے میرا سر بری طرح چکرارہا ہے ۔ اروما خمار آلود لہجے میں بولی ۔ اس نے دونوں ہاتگوں میں اپنا سر تھام رکھا تھا ۔
ابھی تو یہ بلکل ٹھیک تھی ، اچانک اسے کیا ہوگیا ۔ تحریم اس کا
مارتھے پر ہاتھ رکھ کر انجان بنی فکرمندی سے کہہ رہی تھی ۔
ارحان ! میری آنکھیں بند ہورہی ہیں ، مجھے چکر آرہا ہے ۔ اروما کی حالت غیر ہونے لگی تھی ۔
مجھے لگتا ہے اس کا بی پی لو ہورہا ہے ، میں ڈاکٹر کو بلاتا ہوں ۔ ارحان تحریم کی طرف دیکھ کر بولا ۔
ہاں ہوجاتا ہے کبھی کبھی مگر اس میں ڈاکٹر کو بلانے کی کیاضرورت ہے ۔ تم اس کے پاس بیٹھو میں جوس لے کر آتی ہوں ، پیتے ہی اس کی طبیعت سنبھل جائے گی ۔ تحریم نے گھبرا کر کہا ۔
اوکے ، پلیز ! جلدی لے آؤ ۔ ارحان التجائیہ نظروں سے اسے دیکھا ۔ تحریم فوراً ہی جوس لینے کے بہانے سے چلی گئی مگر اوپر جانے والی سیڑھیوں کی اوٹ میں کھڑی ہوکر زعیم شاہ کا انتظار کرنے لگی ۔ اس کاروائی میں تقریباً آدھا گھنٹا گزر چکا تھا ۔وہ رانیہ کو میسیج چائے بنانے سے پہلے ہی کر چکی تھی اس لئے اسے ذیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا اور اسے گاڑی کے ہارن کی آواز آئی ۔
تھوڑی دیر بعد زعیم شاہ اندرونی دروازہ کھول داخل ہوا ۔ وہ بڑے سے گلاس ڈور کے سامنے رک کر نگاہ دوڑا رہا تھا پھر کچھ سوچ کر لیونگ روم کی طرف قدم بڑھائے مگر اندر داخل ہونے سے پہلے ہی اس کے قدم زمین نے جکڑ لئے ۔
اس کی نظروں کے بلکل سامنے اروما صوفے پر دراز تھی اور ارحان دوزانے زمین پر بیٹھ کر اس پر جھکا ہوا تھا ۔ زعیم کو اروما کی ٹانگیں اور اس کے سر کا پچھلا حصہ نظر آرہا تھا پچھلے رخ سے اروم کا چہرہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
ارحان نےایک ہاتھ سے اس کے سر کو سہلایا ۔ زعیم شاہ کے لئے منظر ناقابلِ یقین ہونے کے ساتھ ناقابلِ برداشت بھی ہوگیا ۔ اروما کی ذات اس کے لئے معتبر تھی اور اس وقت وہی اس کی غیر موجودگی میں اس کی محبت اور اعتماد کا بت پاش پاش کر گئی تھی ۔
وہ خود کو بلندی سے گرتا ہوا محسوس کررہا تھا ۔ آنکھوں میں حد درجہ جلن اور سانسیں بے ترتیب ہورہی تھیں ۔
ارحان نے اروما کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا تو زعیم شاہ کو خود پر قابو رکھنا دشوار ہوگیا اور وہ یہاں کوئی تماشہ کھڑا کرنا نہیں چاہتا تھا اس لئے بے آواز قدموں سے واپس لوٹ گیا ۔
وہ اپنے آپ کو گھسیٹتا ہوا گاڑی تک لایا تھا اور یہ بھی فراموش کر کرگیا کہ تحریم کو پک کرنے آیا ہے یا پھر کسی کا بھی سامنا کرنے کی کنڈیشن میں نہیں تھا اس لئے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہی کھلے گیٹ سے تیزی کے ساتھ نکال لے گیا ۔
جاری ہے
