Rate this Novel
Episode 17
زعیم آفس سے گھر پہنچنے کے کچھ دیر بعد تیار ہوکر روم سےنکلا۔وہ عجلت میں باہرجانے کے لئے لاؤنج سے گزررہا تھا تبھی تحریم کی پکار پر ٹہرگیا ۔
شاہ ! مجھے ایک فرینڈ کی طرف جانا ہے ،مجھے وہاں ڈراپ کردو گے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ پلیز ! تحریم معصوم سی صورت بنائے اس کے سامنے آکر کھڑی ہوگئی ۔
ہوں ۔۔۔۔۔۔چلو ۔زعیم بادلِ نخواستہ اسے لے جانے پر راضی ہوگیا کیونکہ جانتا تھا اگر نہیں لے گیا تو وہ ڈرائیور کے ساتھ چلی جائے گی ۔
تحریم کو زعیم شاہ کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ کر ہواؤں میں اڑ رہی تھی ۔ زعیم کے بلا چوں چرا راضی ہوجانے پراسے پالینے کا سو فیصد یقین ہوچلا تھا ۔ تحریم کا پرکشش چہرہ جیت کے احساس سے گلنار ہوگیا ۔ گاڑی ایک شاپنگ سینٹر کے سامنے سے گزری تو تحریم نے اسے رکنے کے لئے کہا ۔
شاہ ! مجھے یاد آیا ، کچھ ضروری سامان لینا ہے ۔ پلیز ! اندر چلو ۔ آئے پرامس ذیادہ ٹائم نہیں لگاؤں گی ۔ وہ التجائیہ بولی ۔
تم اماں کے ساتھ روز شاپنگ سینٹر کے چکر لگارہی ہو پھر بھی ضروری سامان نہیں لیا ۔شاہ نے جتاتے ہوئے سر جھٹک کر یوٹرن لیا اور گاڑی کو مال کی انڈر گراؤنڈ پارکنگ میں لے آیا ۔
تحریم ایک شاپ سے نکل کر دوسری شاپ کا رخ کرتی اور شاہ خاموشی سے چلتا رہا ۔ وہ جان بوجھ کر تحریم کو من مانی کرنے دے رہا تھا وگرنہ تحریم میں اتنا بھی دم خم نہیں تھا کہ زعیم شاہ کو اپنے اچاروں پر نچاتی ۔
شاپنگ کے بعد تحریم کی خواہش پر شاہ اسے فوڈ کورٹ میں لے آیا پھر تحریم نے ڈٹ کر فاسٹ فوڈ سے انصاف کیا جبکہ شاہ نے مجبوراً اس کا ساتھ دینے کے لئے سوپ پی لیا ۔
آج کا دن تو میرے لئے یادگار بن گیا ہے ۔ میں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ میں تمھارے ساتھ اتنا خوبصورت ٹائم اسپینڈ کروں گی ۔ تحریم نے گاڑی میں بیٹھتے ہی اپنی خوشی کا برملا اظہار کیا ۔
تمھارا ٹائم یقیناً بہت خوبصورت گزرا ہوگا کیونکہ میرا کافی ٹائم تم برباد کرچکی ہو ۔ شاہ ناگواری سے بولا ۔
شاہ ! مجھے اس دن کی حرکت کے لئے معاف کردو ۔ میں پاگل ہوگئی تھی ۔ تمھاری بے رخی نے مجھے وہ شرمناک حرکت کرنے پر مجبور کیا تھا ۔
اب تم اسے میر ی ناسمجھی سمجھ کر بھول جاؤ اور میری نا سہی گھروالوں کی بات کا بھرم رکھ لو ۔ شادی کے لئے ہاں کردو ۔ وہ شاہ کے گئیر پر رکھے ہاتھ پر اپنا گلابی ہاتھ رکھے منت کرتے ہوئے بولی ۔
یہ میرے جڑے ہاتھ دیکھو تحریم ! میں تم سے تو کیا کسی سے بھی شادی نہیں کرنا چاہتا ۔ تم اللہ کے واسطے شادی کا خیال دل سے نکال دو ۔
تم بہت اچھی ہو ، مجھ سے کئی گنا ذیادہ اچھا لائف پارٹنر ڈیزرو کرتی ہو ۔ مجھ سے شادی کے بعد تمھیں سوائے محرومی کے کچھ نہیں ملے گا ۔ زعیم شاہ غصہ دبائے اسے رسان سے سمجھانے کی کوشش کرنے لگا ۔
بابا سائیں نے ایک دو جگہ تمھارے رشتے کی بات چلائی ہے ۔ دونوں ہی رشتے بہترین ہیں ۔ ان میں سے جو تمھیں صحیح لگے گا انہیں ہی یس کریں گے ۔ تم بہت خوش رہو گی ۔ میں تمھیں کچھ نہیں دے سکوں گا لیکن تم ضد چھوڑ دوگی تو مجھے یقین ہے تم بہت خوش رہوگی ۔
زعیم شاہ اسے پوری طرح مایوس کردینا چاہتا تھا تاکہ وہ سنبھل جائے اور اپنے لئے درست فیصلہ کرسکے اسی لئے وہ خاموشی سے تحریم کے ایک بار کہنے پر اسے شاپنگ پر لے آیا کہ کسی بہانے ذکر چلے اور تحریم کو سمجھاسکے ۔
مجھے امید ہے تم میری بات سمجھ گئی ہوگی اور سب کچھ بھول کر اپنے لئے کچھ بہتر سوچ سکو گی ۔ اس نے گاڑی گھر کےگیٹ سے اندر لے جا کر بریک لگایا اور نرم سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا ۔
ہم نے بچپن ایک ساتھ گزارا ہے ۔ ساتھ پڑھے ، ساتھ کھیلے کودے ہیں پھر اب تمھیں مجھ میں کونسی کمی نظر آگئی ہے جو ٹھکرارہے ہو ۔ تحریم بے بسی سے گویا تھی ۔
تم میں کوئی کمی نہیں ہے بلاشبہ تم مکمل ہو مگر میں خود کو تمھارے قابل نہیں سمجھتا ۔ تم میرا یقین کرو میرے پاس تمھیں دینے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے ۔ شاہ تحمل سے بولا ۔
تحریم خاموشی اختیار کئے ڈبڈبائی آنکھوں سے اسے دیکھتی رہی پھر دروازہ کھول کر نیچے اتر گئی ۔
شاہ گاری ریورس کرتے ہوئے گیٹ سے باہر نکل گیا مگر وہ وہیں کھڑی اسے دیکھتی رہی ۔
شاہ کے دوٹوک الفاظوں نے اس کی محنت پر پانی پھیر دیا تھا ۔امید کا آخری چراغ بھی ٹمٹماتے ہوئے بجھ گیا ۔وہ دل مسوس کر اندر چلی آئی اور کمرے میں پہنچتے ہی دروازے بند کرکے زمین پر بیٹھتی چلی گئی ۔
نینا دھڑکتے دل اور لرزتی ٹانگوں پر چل کر زرینہ کے ساتھ داخلی دروازے سے اندر آئی تھی ۔ محل نما بنگلے کے کاریڈور کا اختتام طویل اور عریض سیڑھیوں پر ہوا جو ہلکے سے خم کے ساتھ پہلی منزل پر جاکر ختم ہورہی تھیں ۔
وہ دھیرے دھیرے سیڑھیاں چڑھنے لگی ، عنابی کارپیٹ سے سجی سیڑھیوں کے خم دار بل پر ایک دروازہ ایستادہ تھا ۔
میر سائیں یہاں ہیں ۔ زرینہ بولی ۔اس نے دروازے کی طرف اشارہ کیا اور آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا پھر خود سائیڈ پر کھڑی ہو گئی ۔
(یہ میر زوار پیلس تو نہیں ہے ۔میر نے کبھی اس جگہ کا ذکر بھی نہیں کیا ۔ اف اللہ ! اندر جاؤں یا نا جاؤں ۔)نینا چند لمحے اپنی جگہ جمی کھڑی سوچتی رہی پھر تھوک نگل کر حلق تر کیا اور ہمت جٹاتی کھلے دروازے سے اندر داخل ہوگئی ۔
میرزوار بلیک شلوار سوٹ پر فان کلر کا کوٹ زیب تن کئے صوفے پر شانِ بے نیازی سے براجمان دیوار میں نصب اسکرین پر نظر جمائے بیٹھا تھا ۔ ٹیبل پر سامانِ شوق سجا تھا ۔
روشنی کے نام پر ایک بھی لائیٹ یا لیمپ آن نہیں تھا ۔ کمرے کے فرش پر ہر تھوڑے فاصلے کے بعد شیشے کا بڑا سا ٹکڑا پیوست تھا جس کی بدولت کمرے کے نیچے موجود سوئمنگ پول کے پانی کا جھلملاتا عکس اس کے گنبھیر سنجیدگی لئے چہرے کے ایک ایک نقش کو واضح کررہا تھا اور کمرے میں مدہم روشنی پیدا کررہا تھا ۔ نینا کی آمد پر میر زوار کی آنکھوں کی پتلیاں متحرک ہوئیں ۔
میر زوار نے ہاتھ میں پکڑا گلاس ٹیبل پر رکھ دیا۔ایل ای ڈی آف کی اور ریموٹ صوفے پر اچھال کر کھڑا ہوگیا ۔ وہ مضبوط قدم اٹھاتا ہوا نینا کے پاس آیا ۔
آپ کو تو میری صورت دیکھنا بھی گوارا نہیں تھا پھر مجھے دھوکے سے یہاں کیوں بلایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ نینا نے انگارے چباتے ہوئے میں لب کشائی کی ۔
دھوکے بازوں کے ساتھ انہیں کے انداز میں بات ہوتی ہے ۔ میر زوار نے اسے شانوں سے تھام کر مسکراتے ہوئے کہا ۔
طعنے دینے کے لئے بلایا ہے تو میں واپس جارہی ہوں کیونکہ اب میں بھی کچھ سننے کے موڈ میں نہیں ہوں ۔ میں نے بہت منتیں کرلیں مگر اب اپنی صفائی میں ایک لفظ نہیں کہوں گی ۔ نینا نے اس کے ہاتھ جھٹکنے چاہے مگر اس کی گرفت میں مذید سختی در آئی ۔
میری جان ! طعنے دینے کے لئے نہیں بلایا ہے ۔ باقی رہی بات صفائیاں دینے کی تو اتنا وقت ہی نہیں میرے پاس کے ان فضولیات میں گنواؤں ۔
میں تو چٹکیوں میں حساب بے باق کرنے والا بندہ ہوں ۔ میرزوار دل موہ لینے والی مسکراہٹ کے ساتھ کاٹ دار لہجے میں گویا ہوا ۔ اس کی مسکراہٹ لفظوں کا ساتھ نہیں دے پائی اور پل میں چھب دکھلا کر غائب ہوگئی ۔
مجھے دھکے دے کر اپنے گھر سے نکلوا چکے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اب کونسا حساب باقی رہتا ہے ؟ نینا خفگی سے بولی ۔ میر زوار نے آئے برو اچکاکر اسے دیکھا پھر پلٹتے ہوئے بولا ۔
ایک منٹ ! میرے ہرجائی کی معصوم ادائیں اس اندھیرے میں گم ہورہیں ہیں ۔ لائٹ آن کرلوں ۔ اس نے کہتے ہوئے سوئچ بورڈ کی طرف قدم بڑھائے اور بٹن آن کیا ۔ پورا کمرہ روشنی میں نہا گیا ۔ میر زوار نے سر تا پا اس کے سراپے پر گہری نظر ڈالی ۔
بس بہت ہو گیا ، آپ بہت باتیں سنا چکے ہیں۔ ہزار بار کہہ چکی ہوں مذاق میں بیٹ لگائی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وقت آنے پرمیں خود ہی سچائی بتادیتی ۔۔۔۔۔۔۔۔میں تو سیریس بھی ہوگئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شادی کے لئے بھی راضی تھی کیونکہ میرے دل میں بدی نہیں تھی لیکن اب میں سمجھ چکی ہوں آپ کو میری سچائی پر کبھی یقین نہیں آئے گا اس لئے میں یہاں سے جارہی ہوں ۔ نینا ایک ہی سانس میں بے بقط سنا کر مڑی تو میر زوار نے ایک ہی جست میں اس تک پہنچ کر دروازے کا بولٹ چڑھادیا ۔
شادی کے لئے راضی تھی کیا مطلب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمھیں اب بھی راضی ہونا چاہئے ۔ تم جو کرچکی سو کرچکی مگر اب اپنی زبان سے نہیں پھر سکتی ۔ میر زوار ٹہرے ہوئے لہجے میں کہا۔
آپ ہوش میں تو ہیں ؟ جب آپ کا دل چاہے گا مجھ سے لاتعلق ہوجائیں گے اور جب دل کرے گا منہ اٹھا کر شادی کا تقاضا کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک ہفتے بعد سنان شاہ کے ساتھ میری شادی ہے ۔ آپ بے خبر ہیں تو میں آپ کو مطلع کررہی ہوں ۔ نیناتمسخرانہ بولی ۔
تمھاری شادی صرف میر زوار سے ہوسکتی ہے اور وہ بھی آج ہوگی اور اسی وقت ہوگی ۔ میر زوار سر پھرے انداز میں دوٹوک بولا ۔
آپ کی بھول ہے کہ اب میں آپ سے شادی کروں گی اور کیوں کروں گی جبکہ میں جانتی ہوں آپ مجھ سے نفرت کرتے ہیں ، انتقام کی آگ میں جل رہے ہیں ۔ نینا کو اس کی بات پر پتنگے لگ گئے ۔ وہ تنک کر بولی ۔
انتقاماً ہی سہی مگر شادی ضرور ہوگی ۔ تمھاری مرضی سے نا سہی تو زبردستی ہی سہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہتر ہوگا یہ نیک کام راضی خوشی ہوجائے ورنہ مجھے کوئی اور طریقہ اختیار کرنا ہوگا ۔ میر زوار کے دھمکی آمیز لہجے پر نینا ٹھٹک گئی ۔
اگرچہ یہ مذاق ہے تو بہت بے ہودہ ہے اور اگر آپ سنجیدہ ہیں تو اپنا وقت ضائع کررہے ہیں کیونکہ میں آپ کی کسی دھمکی سے نہیں ڈرنے والی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں شادی سنان شاہ سے ہی کروں گی ، یہ میرے ماں باپ کی عزت کا سوال ہے ۔ نینااعتماد سے بولی ۔
عزت ہی نا رہے پھر ۔۔۔۔۔۔۔بولو ! پھر کیا کروگی ؟ تب بھی تو شادی کے لئے میری منتیں کروگی التجائیں کروگی ۔ میر زوار کے ہونٹوں پر خطرناک مسکراہٹ ابھری ۔
میر زوار ! اپنی حد میں رہیں ۔ جیسا باپ ویسا بیٹا مگر میں زرتاج نہیں ہوں جسے میر سجاول نے روند ڈالا اور اس کے بے بس ماں باپ اپنی عزت بچانے کے خاطر بڑی حویلی والوں کے پیروں میں گر پڑے ۔ ایسا سوچنا بھی مت ورنہ میرا باپ آپ کے خاندان کی اینٹ سے اینٹ بجادے گا ۔ نینا اس کے ارادوں کوبھانپ چکی تھی پھر بھی ہمت سے کام لیتے ہوئے بے خوفی سے گویا ہوئی ۔
شٹ اپ ! میرے ماں باپ کے بارے میں ایک لفظ مت کہنا ورنہ گدی سے زبان کھینچ لوں گا ۔ ان دونوں کی رسوائی کا زمہ دار بھی تمھارا کمینہ باپ تھا ۔ میر زوار کا ہاتھ اٹھا اور نینا فرش پردور جاگری ۔
میرے پاس تمھاری فضول بکواس سننے کا وقت نہیں ہے ۔ میں نیچے جارہا ہوں کچھ دیر میں قاضی کو بھیجوں گا عزت سے نکاح کے لئے تیار ہوجانا ۔ میر زوار کے لہجے میں اس کے لئے کوئی گنجائش نہیں تھی ۔
وہ پنجوں کے بل اس کے سامنےبیٹھا کہہ رہا تھاجو موٹے موٹے آنسو آنکھوں میں لئے بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی ۔
میں ہر گز بھی آپ سے زبردستی کا نکاح نہیں کروں گی ۔ نینا نے نفی میں گردن ہلائی ۔
اوکے !!مت کرو ۔ میرا دعوی ہے تھوڑی دیر بعد تم خود نکاح کے لئے کہوگی مگر کان کھول کر سن لو پھر میر زوار مرتے دم تک تم سے نکاح نہیں کرے گا ۔ اس نے بے رحمی سے کہا اور اٹھ کر کمرے کی لائیٹ آف کردی ۔
نینا نے اسے اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر بدحواسی سے سائیڈ میں پڑاکرسٹل واز اٹھایا اور سائیڈ ٹیبل پر زور سے دے مارا ۔ اب واز کا پچھلا ٹوٹا ہوا حصہ اس کے ہاتھ میں تھا ۔
میرے پاس مت آنا ورنہ میں خود کو ختم کرلوں گی مگر آپ کو اپنے گندے ارادوں میں کامیاب نہیں ہونے دوں گی ۔ نینا کانپتی ہوئی آواز میں بولی ۔
میر زوار نے لپک کر اس کی کلائی دبوچی اور واز چھین کر دور پھینک دیا ۔ نینا نے بے بسی سے اپنی آنکھیں میچ لیں ۔
خود کو بہت بہادر سمجھتی ہو ، آج پتا پڑے گا تم میں کتنا دم ہے ۔ میر نے بے دردی سے اس کی نازک کلائی مروڑ دی۔ نینا کے منہ سے دلخراش چیخ برآمد ہوئی ۔
آپ نے مجھ سے محبت کی ہے ، اس محبت کا کچھ تو بھرم رکھ لیں ۔نینا نےاس کی گرفت میں پھڑپھڑاتے ہوئے دہائی دی ۔میرزوار اسے دھکیلتا ہوا بیڈ کی طرف لے جارہا تھا ۔
کیسی محبت ؟ کونسی محبت ؟ بقول تمھارے میں تو انتقام کی آگ میں جل رہا ہوں اور میرے علم کے مطابق محبت اور جنگ میں سب جائز ہے ۔
میں نے تمھیں پیش کش کی تھی کہ میرے انتقام کی آگ کو بجھانے کے لئے نکاح کرلو مگر تم اسے ٹھکرا چکی ہو پھر کیسا شکوہ شکایتیں ۔ میر زوار اس کے چہرے پر جھکا غضبناک ہوا ۔
اس نے نینا کے بالوں سے کیچر نکال کر دور پھینکا پھر اس کے ریشمی بال مٹھی میں جکڑ کر جھٹکا دیا ۔ اس کی بے باک نظروں سے نینا کو وحشت ہورہی تھی ۔ اس سے پہلے کے میر زوار اپنی ضد پوری کرنے کے لئے حد سے گزر جاتا نینا نے دل پر پتھر رکھ کر لمحوں میں فیصلہ کرلیا ۔
میں ۔۔۔۔میں نکاح کے لئے تیار ہوں مگر مجھے بے آبرو مت کریں ۔ نینا نے اس کے ارادے کی سختی کو بھانپنے کے بعد برستی آنکھوں سے کمزور آواز میں مجبوراً ہامی بھری ۔
میر زوار کا قہقہہ برجستہ تھا ۔
گڈ گرل ! اس کی خوبصورت آنکھوں میں فاتحانہ چمک ابھری اس نے نینا کے رخسار پر شرارتاً بھرپور گستاخی کی ۔
نینا کرنٹ کھا کر پیچھے ہوئی تھی ۔
جلدی سے حلیہ درست کرو ، میں مولوی کو پکڑ کر اوپر بھیجتا ہوں ۔ کوئی بھی چالاکی مت کرنا ورنہ مجھے واپس اوپر آنے میں ایک منٹ نہیں لگے گا ۔ وہ اسے تنبیہہ کرتا ہوا کمرے سے نکل گیا مگر پانچ منٹ بعد ہاتھ میں زرتاج کے نکاح کا دوپٹہ لئے واپس لوٹا ۔
اس بے ہودہ حلیے پر یہ دوپٹہ ڈھنگ سے اوڑھ لینا اور زرا سنبھال کر کیونکہ میری اماں پیاری کا دوپٹہ ہے ۔ اس کی ڈریسنگ پرمیر زوار کا تبصرہ نینا کو سر سے پیر تک سلگا گیا ۔
نینا نے کوئی سخت جملہ کہنے کے لئے لب کھولے مگر وہ شوخی سے فلائینگ کس دیتا ہوا الوداعائیہ انداز میں ہاتھ ہلاتا باہر نکل گیا ۔
مجھے تو ہول اٹھ رہے ہیں ۔ اللہ جانے سنان کہاں چلاگیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کرے جہاں بھی ہو خیریت سے ہو ۔
ساتھ خیریت کے گھر واپس آجائے ۔ عروش پریشانی سے ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہوئے بولیں ۔
تائی مام ! آپ پریشان کیوں ہورہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سنان چھوٹا بچہ تو نہیں ہے جو کھو جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہیں گیا ہو گا ، آجائے گا ۔ تحریم لاپرواہی سے بولی ۔
وہ صبح سے نکلا ہے ، رات ہوگئی اب تک نہیں لوٹا ہے پریشانی کی بات ہے تبھی تو مسز حمید نے کال کرکے اطلاع دی ہے ۔سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ اگر خدانخواستہ اس کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آگیا ہے تو میری نین پر داغ لگ جائے گا ۔ ابھی تو اس کا نام سنان کے ساتھ جڑا ہے ۔ عروش کی فکرمندی بجا تھی ۔
زعیم کا بھی کچھ پتا نہیں ہے کہاں ہے اور یہ نینا بھی غائب ہے ۔ اروما کا فون آیا تھا کہ وہ دونوں شاپنگ پر گئی ہیں مگر اب تو بہت دیر ہوچکی ہے اب تک وہ بھی نہیں آئی ہے ۔ عروش کو ایک ایک کا خیال آرہا تھا ۔
زعیم شاہ معمول کے مطابق اپنے ٹائم پر گھر لوٹا تو عروش کو تحریم کے ساتھ لاؤنج میں بیٹھا دیکھا کر ٹہر گیا ۔
شاہ ! تم کہاں تھے ؟میں کب سے پریشان بیٹھی ہوں ۔ مسز حمید کا فون آیا تھا ۔ عروش حواس باختہ اس کے پاس پہنچیں ۔ چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں ۔
جی مجھے معلوم ہے سنان صبح سے مسنگ ہے ۔ اسے ڈھونڈا جارہا ہے ۔ انشاءاللہ جلد مل جائے گا ۔ آپ ٹینس نہ ہوں ۔ وہ عروش کے شانے تھام کر نرمی سے بولا ۔
ٹینشن کیسے نہ لوں ۔ کراچی کے حالات اور یہاں رونما ہونے والے واقعات سے بے خبر تھوڑی نہ ہوں ۔ میری تو جان نکلی جارہی ہے ۔ بچہ کسی مصیبت میں نا پھنس گیا ہو ۔
کچھ نہیں ہوگا۔ میں اپنے تمام سورسز استعمال کررہا ہوں ۔ ہم تھوڑی دیر میں اس کو ٹریس کر لیں گے ۔ زعیم شاہ نے پر اعتماد لہجے میں انہیں تسلی دی ۔ عروش مطمئین تو نہیں ہوئیں مگر سر ہلا کر رہ گئیں ۔
شاہ سرعت سے سیڑھیوں کے جانب بڑھ گیا ۔ اس کی پیشانی پر لاتعداد شکنیں پڑی ہوئی تھیں کیونکہ انہیں سنان شاہ کی گاڑی مل چکی تھی مگر سنان شاہ اس وقت کہاں اور کس حالت میں ہے اس کی خبر تاحال سر توڑ کوششوں کے باوجود بھی کسی کو نہیں تھی ۔
جاری ہے
