60.7K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 33

ایڈووکیٹ مائرہ انہماک سے فائل اسٹڈی کررہی تھیں جب وہ دونوں آگے پیچھے ان کے دفتر میں داخل ہوئے ۔ انہوں نے سر اٹھا کر آنے والوں کو دیکھا ۔ وہ لب بھیچے حیرانگی سے دیکھتی رہ گئیں ۔
سر ! آپ یہاں ۔۔۔۔ آپ نے آنے کی زحمت کیوں کی ۔ کوئی کام تو مجھے بلالیا ہوتا ۔ ایڈووکیٹ مائرہ انہیں دیکھ کر فق چہرہ لئے اپنی سیٹ سے اٹھ کر کھڑی ہوئیں ۔
حیرت سے ان کی آنکھیں پھیل گئیں تھیں ۔ وہ تقریباً پینتیس سال کی پرکشش ، بردبار اور طرحدار خاتون تھیں ۔ میرزوار کو اچانک اپنے روبرو پاکر ان کے چہرے کی رنگت متغیر ہوگئی ۔
آئیے بیٹھئے ۔۔۔۔۔۔مائرہ کی بات ابھی منہ میں ہی تھی کہ وہ
چئیر گھسیٹ کر آرام دہ انداز میں بیٹھ گیا پھر انتہائی سنجیدگی سے بولا ۔
کام بہت ضروری تھا ، یہاں آئے بغیر ہو نہیں سکتا تھااس لئے خود آنا پڑا ورنہ میں بہت ہی کم اس طرح کی زحمت کرتا ہوں ۔ میر جازب نے بھی اس کے ساتھ والی چئیر سنبھال لی جبکہ ان کے چار محافظ دائیں بائیں کھڑے تھے ۔
جی فرمائیے ! میں آپ کی کیا خدمت کر سکتی ہوں ۔۔۔؟ مائرہ نے دونوں ہاتھ باہم جوڑ کر ٹیبل پر رکھے پھر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگیں ۔
نینا شاہ کہاں ہے ۔۔۔۔؟ وہ بے ساختہ بول پڑا ۔
نینا۔۔۔۔آپ نینا شاہ شیرازی کی بات کررہے ہیں ۔۔۔۔؟ مائرہ ذہن پر زور ڈالتے ہوئے بولیں ۔
جی نینا شاہ شیرازی ۔۔۔۔۔۔کہاں ہے وہ ؟ میرزوار نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا ۔
کیا وہ مسنگ ہیں ؟ مائرہ کو اچھنبا ہوا ۔
جی ہاں ! وہ کل سے کسی بات پر ناراض ہوکر گھر سے چلی گئی ہیں اور اب آپ بتائیں گی کہ وہ کہاں ہیں ۔ میرجازب کا لہجہ ٹھوس تھا ۔
وہ میری بہت اچھی فرینڈ ہیں ، کبھی کبھی ہماری ملاقات ہوتی ہے مگر اس وقت میں نہیں جانتی کہ وہ کہاں ہیں ۔ میرا ان سے کونٹیکٹ نہیں ہوا ۔ مائرہ نے مکمل لاعلمی ظاہر کی ۔
تم ہی بتاؤگی وہ کہاں ہے کیونکہ صرف تم جانتی ہو ۔ میں اپنے طریقے سے اگلواؤں اس سے بہتر ہے تم خود مجھے اس کا پتا بتادو ۔ میرزوار اپنی چئیر سے اٹھ کر ان کے مقابل آگیا ۔
میں سچ کہہ رہی ہوں ، میری بات کا یقین کریں ۔ مجھ کچھ پتا نہیں ہے ۔ وہ گھبراکر بولیں ۔
تمھیں اپنی ذندگی پیاری ہو یا نا ہو مگر اپنے بچوں اور شوہر کی ضرورت ضرور ہوگی ۔ تمھارے تینوں بچے اکیڈمی میں ہیں اور شوہر صاحب اپنے دوست کے ساتھ ریسٹورنٹ میں بیٹھے چائے پی رہے ہیں اگر تم چاہتی ہو کہ وہ چاروں ذندہ سلامت گھر واپس پہنچ جائیں تو نین کا پتا بتاؤ ۔ میرزوارنے کوٹ کی اندرونی جیب سے پسٹل نکال کر اس کی کنپٹی پر رکھا اور دوسرے ہاتھ سے اس کا منہ دبوچے غضبناک لہجے میں دھمکایا ۔
وہ ہماری ایک فرینڈ منزہ کے گھر پر ہے ۔ منزہ کے بارے میں آپ سب ذیادہ نہیں جانتے اس لئے میں نے نینا کو اس کے پاس بھیج دیا تھا ۔ اس کے منہ سے شوہر اور بچوں کانام سن کر مائرہ طوطے کی طرح بولنے لگیں ۔
اپنی فرینڈ کو کال کرو ۔ اسے بولو تم اپنے دفتر میں نیناسے اسی وقت ملنا چاہتی ہو ۔ اس نے ٹیبل سے مائرہ کا فون اٹھا کر ان کے ہاتھ میں تھمایا اور پسٹل سے ان کی کنپٹی پر دباؤ ڈالا ۔
مائرہ نے ایک ہاتھ سے اپنا چہرہ سہلاتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے موبائل کان سے لگایا ۔ وہ منزہ کو دھیرے دھیرے پیغام دے رہی تھیں ۔ خوف و دہشت سے ان کی آواز بمشکل ہی نکل رہی تھی ۔ پسٹل کے دباؤ سے ان کا خون خشک ہورہا تھا ۔
منزہ نے کہا ہے کہ وہ کچھ دیر میں اسے لے کر یہاں پہنچ رہی ہے ۔ مائرہ نے دہشت ذدہ آواز میں میرزوار کو مخاطب کیا ۔
ہوں ۔۔۔۔۔۔ وہ ہنکارہ بھر کر ان کے سر سے ہٹ گیا ۔
میں یہاں سے جارہا ہوں اس لئے کہ وہ سیکیورٹی دیکھ کر باہر سے ہی سمجھ جائے گی ، ہوسکتا ہے واپس چلی جائے اس لئے تمھاری گاڑی اور گارڈز آفس کے بیک سائیڈ پر کھڑے ہونگے ۔ وہ آجائے تو انہیں بلوا لینا ۔ اسے لے کر جلدی گھر پہنچو ۔ میں وہاں تم دونوں کا انتظار کررہا ہوں ۔پسٹل کو واپس کوٹ میں رکھ کر وہ میر جازب کو حکمیہ کہتا ہوا آفس کا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا ۔
“”””””””””””””””””””
ہمارے گھر کو کس دشمن کی نظر لگ گئی ہے ۔ پہلے سنان شاہ پھر نینا کے بابا اور اب وہ خود ناجانے کہاں چلی گئی ہے ۔ تحریم بھی کتنی بری حالت میں ہے ۔ یہ سب ہمارے ساتھ ہی کیوں ہورہا ہے ۔ ہم نے تو کبھی کسی کا برا نہیں چاہا پھر ہمارے ساتھ برا کیوں ہورہا ہے ۔ عروش بیڈ پر لیٹے ہوئے زاروقطار رورہی تھیں ۔
بھابھی ! کسی کی نظر نہیں لگی یہ ہماری آزمائش ہے ۔ اچھے دن نہیں رہے تو برے دن بھی نہیں رہیں گے ۔ انشاء اللہ نین جہاں بھی ہوگی خیریت سے ہوگی ۔ غصے میں چلی گئی ہے ۔ غصہ اتر جائے گا تو واپس آجائے گی ۔
میں اپنے دل کو کیسے سمجھاؤں جو اندر ہی اندر بیٹھا جارہا ہے ۔ اسے میرا بھی خیال نہیں آیا ۔ جانے سے پہلے ایک بار میرے بارے میں تو سوچ لیتی ۔ عروش کی حالت قابلِ رحم تھی ۔ کل سے بار بار ان کا بی پی لو ہورہا تھا ۔
آپ کو اس کے ساتھ زبردستی نہیں کرنا چاہئے تھی ۔ اگر وہ اس رشتے پر خوش نہیں تھی تو آپ اس کی بات مان لیتیں میں خود سبطین بھائی کو انکار کردیتی لیکن اسے مجبور نہیں کرنا چاہئے تھا ۔ آپ کے روئیے سے دلبرداشتہ ہوکر اس نے یہ قدم اٹھایا ۔ رانیہ ان کے سرہانے بیٹھی سر دبارہی تھیں ۔
میں نے سوچا تھا اسے تحریم کی وجہ سے ہیزیٹیشن ہے ۔ وہ میرزوار کی بیوی ہے اور اس کی بہن بھی ہے اس لئے اس رشتے کو قبول نہیں کرپارہی مگر ہمارے سمجھانے پر سمجھ جائے گی لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اس حد تک چلی جائے گی ۔
یہ بچے اپنی مرضی کیوں کرنے لگے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ماں باپ کی پریشانیاں انہیں نظر کیوں نہیں آتی ۔ اسے اتنا بھی احساس نہیں کہ میں تنہا ہوگئی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔کس مشکل وقت سے گزر رہی ہوں ۔ عروش انتہائی رنجیدہ تھیں ۔
ہمارے بچے خود کو ہم سے ذیادہ عقلمند سمجھنے لگے ہیں ۔ انہیں ہمارے فیصلے غلط نظر آنے لگے ہیں ۔ ہمارے بیٹے نے تو ہمیں اس قابل ہی نہیں سمجھا کہ مشورہ ہی کرلیتا ۔ اپنی مرضی سے شادی کرلی اور اب پرسکون بیٹھا ہے ۔ عروش کی باتیں سن کر رانیہ کے دل میں بھی کسک اٹھی ۔
ہماری ہی قسمت خراب ہے جو ہمارے بچے ہمیں اتنا ستارہے ہیں وگرنہ آپ میرزوار ، جازب ، اروما اور حفصہ کو دیکھیں کتنے فرمانبردار اور تابعدار بچے ہیں ۔ والدین نے جو فیصلہ کیا سر جھکا کر مان لیا ۔
تم نے میرزوار سے تحریم کے لئے بات کی تو وہ سعادت مندی سے راضی ہوگیا ۔ میرجازب اور حفصہ کی عمر میں زمین آسمان کا فرق ہے مگر اس نے کوئی اختلاف نہیں کیا ۔ شاید ہماری طبیعت میں ہی کوئی کمی رہ گئی ہے ۔ عروش کے انداز میں یاسیت تھی ۔
آپ اتنا مت سوچیں پھر سے آپ کا بی پی لو ہوجائے گا ۔ اللہ پاک سب ٹھیک کردیں گے ۔ زعیم شاہ اسے ڈھونڈرہا ہے ۔ وہ مل جائے تو کوئی بازپرس مت کیجئے گا ۔ اسے اپنی مرضی کرنے دیں ۔ وہ نہیں چاہتی تو زور زبردستی سے کام مت لیں ۔
میں میرزوار کے لئے کوئی اور لڑکی تلاش کرلوں گی مگر نین کو مجبور مت کریں ۔
ندامت کے احساس سے عروش کی آنکھیں ایک بار پھر بھرآئیں ۔ انہیں شدت سے معظم شاہ کی کمی کا احساس ہوا ۔
“”””””””””””””””””
وہ دھیرے سے ناک کرنے کے بعد اندر داخل ہوئی مگر مائرہ کے سامنے چئیر پر بیٹھے شخص کی پشت دیکھ کر زرا سا جھجک کر پیچھے ہی رک گئی ۔
ایڈووکیٹ مائرہ دم سادھے بیٹھی تھیں ۔ اسے دیکھتے ہی بیٹھنے کے لئے سر کے خم سے اشارہ کیا ۔ وہ چند قدم آگے آگئی ۔
میر جازب نے گردن گھما کر اس کی طرف دیکھا ، نینا حیرت ذدہ رہ گئی ۔
تم یہاں تک پہنچ گئے ۔ نینا کے منہ سے بے اختیار آواز نکلی اور وہ فوراً ہی پلٹ کر جانے لگی ۔
رکو ! تم کہیں نہیں جاسکتی ۔ میں تمھیں لینے آیا ہوں ۔تم نے ہمیں بہت ستا لیا ۔ اب میرے ساتھ چلنا ہوگا ۔ میرجازب نے اٹھ کر اس کا بازو تھام لیا ۔
تم کون ہوتے ہو مجھ پر حکم چلانے والے ، میں کہیں نہیں جاؤں گی ۔ سنا تم نے ۔ وہ چٹخ کر بولی ۔
نین ! بے وقوفوں جیسی باتیں مت کرو ۔ ایک تو تم کل سے گھر سے غائب ہو سارا خاندان پریشان ہے اور اوپر سے الٹی باتیں کررہی ہو ۔ میر جازب نے ٹہرے ہوئے لہجے میں اسے جھڑکا ۔
میں الٹی باتیں اس لئے کررہی ہوں کیونکہ آپ سب نے مجھے کٹھ پتلی سمجھ لیا ہے ، جسے دیکھو وہ مجھ پر اپنی مرضی تھوپ دیتا ہے ۔ کیا میری اپنی کوئی مرضی نہیں ہو سکتی ؟مگر اب میں کسی کی ایک نہیں سنوں گی جو میرے دل میں آئے گا وہی کروں گی ۔ وہ اس کا ہاتھ جھٹک کر غصے سے بولی ۔
یہ جگہ ان سب باتوں کے لئے موزوں نہیں ہے ۔ پرسنل ایشوز یوں سرعام ڈسکس نہیں کئے جاتے۔ گھر چلو وہاں آرام سے بیٹھ کر بات کریں گے ۔
مجھے کسی سے کوئی بات کرنی ہی نہیں ہے ۔ میں نے سب رشتوں کو پہچان لیا ہے ۔ کوئی کسی کا نہیں ہے سب اپنا فائدہ چاہتا ہیں ۔ میری پرواہ کسی کو نہیں ہے ۔
تم کیوں اس قدر بدگمان ہورہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔ہم سب کو تمھاری فکر ہے ، اگر تم سمجھو تو جو کچھ ہورہا ہے وہ تمھارے حق میں ہی ہورہا ہے ۔ میرجازب رسان سے بولا ۔
پہلے کسی کو میرا حق یاد کیوں نہیں آیا ؟ وہ تیوری چڑھا کر بولی ۔
میں تم سے یہاں بحث نہیں کرنا چاہتا ۔ تمھیں سارے سوالوں کے جواب مل جائیں گے مگر اس کے لئے تمھیں میرے ساتھ چلنا ہوگا ۔ تم میرا یقین کرو سچائی سننے کے بعد تمھیں اپنے کئے پر شرمندگی ہوگی ۔ وہ اتنے پر اعتماد لہجے میں بولا کہ نینا ٹھٹک پڑی ۔
اس نے مائرہ کی طرف دیکھا ۔وہ انہی کی طرف متوجہ تھی اس نے نینا کو اس کے ساتھ جانے کا اشارہ کیا ۔
“”””””””””””””””””
تم مجھے یہاں کیوں لائے ہو ۔۔۔۔۔۔؟ مجھے اس شخص سے کوئی بات نہیں کرنی ۔ وہ گاڑی کو میرزوار پیلس کے سامنے روکنے پر ناگواری سے بولی ۔
تم ایک بار اس سے ملو ، اس کی بات سن لو پھر شاید تم پرسکون ہوجاؤگی ۔ میں تمھیں تمھارے گھر لے جاتا یا زعیم شاہ کو تمھارے متعلق خبر دیتا بات وہیں کی وہیں رہ جاتی لیکن میں تمھیں یہاں اس لئے لایا ہوں تاکہ تم اس سے ملو اور یہ مسئلہ ہوسکے ۔
اب کوئی گنجائش باقی ہی نہیں رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے نفرت ہوگئی ہے اس مفاد پرست بے رحم انسان سے جو ذندگی صرف اپنے لئے جیتا ہے ۔ رشتوں کو بھی اپنا مقصد پورا کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے ۔ میرے ساتھ بھی اس نے یہی کیا اور آئندہ بھی یہی کرے گا ۔
مجھ سے انتقام لینے کے لئے تحریم آپی کو استعمال کیا۔ اب وہ ناقابلِ استعمال ہوگئیں تو میرے پیچھے پڑا ہے ۔ مجھ سے شادی وہ میری محبت میں نہیں کرنا چاہتا بلکہ اس کے پیچھے بھی اس کی کوئی پلاننگ ہوگی ۔ وہ تنفر سے بولی ۔
اس لئے تمھیں یہاں لایا ہوں ، تمھارے دل میں جو اس کے خلاف زہر بھرا ہے اسے نکالنا ضروری ہے ۔ میں تمھارا دوست ہوں نین ! تمھارا برا کبھی نہیں چاہوں گا ۔ اس کی نیت میں کھوٹ ہوتا تو میں کبھی اس کا ساتھ نہیں دیتا بلکہ میں خود تمھیں اس سے چھٹکارہ دلواتا مگر میں جانتا ہوں میرا بھائی غلط نہیں ہے ۔ میرجازب نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر مضبوط لہجے میں کہا ۔ وہ گہری سوچ میں گم اسے دیکھے ہی گئی ۔
جتنا سوچوگی اتنا ہی الجھتی جاؤگی ۔ مجھ پر ٹرسٹ کرو ۔
چلو ! وہ انتظار کررہا ہے ۔ ذیادہ انتظار کروایا تو کسی نا کسی کی شامت آجائے گی ۔ وہ شامت میری بھی ہوسکتی ہے اور اس وقت میں جھاڑ سننے کے موڈ میں نہیں ہوں ۔ وہ ہلکے پھلکے انداز میں کہتے ہوئے اسے اپنے ساتھ اندر لے آیا ۔
میر جازب نے ناب گھماکر دروازہ کھولا وہ سر جھکائے اندر چلی آئی ۔ سامنے ہی وہ پشت پر ہاتھ باندھےبے چینی سے ٹہلتا ہوا نظر آگیا ۔
نین ! میری جان ! مجھے چھوڑ کر کہاں چلی گئ تھیں ۔۔۔۔۔۔میں نے پوری رات انگاروں پر گزاری ہے ۔ وہ دیوانہ وار اس کی طرف بڑھا اور اس کا چہرہ دونوں ہاتھ میں تھام کر بے قراری سے بولا ۔
ایکسکیوزمی ! میرجازب نے شرارت سے گلا کھنکارہ ۔
اب تم جاؤ ۔ تمھاری ضرورت پڑی تو بلوالوں گا ۔ میرزوار نے نینا کو تکتے ہوئے حکم صادر کیا ۔
گڈلک ! میرجازب ایک آنکھ دبا کر مسکراتا ہوا ہاتھ ہلاتا چلاگیا ۔
میں نے تم سے کہا تھا ناں تمھاری اجازت کے بغیر تم سے نہیں ملوں گا ، وعدہ خلافی بھی نہیں کی پھر کیوں تم نے یہ حرکت کی ؟
وہ آہستگی سے بولا ۔
آپ کی وجہ سے ۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ آپ نے مجھے مجبور کردیا ۔کیوں میرے پیچھے پڑے ہیں ؟ میری جان کیوں نہیں چھوڑدیتے ۔ وہ غصے سے چلائی ۔
بہت غصے میں ہو ۔بیٹھو پانی پیو پھر تحمل سے میری بات سنو ۔ اس نے نذدیک پڑ ے صوفے پر اسے بٹھایا پھرروم فریج سے بوٹل نکال کر گلاس میں پانی بھر کر لے آیا ۔
آپ کو پھر سے شادی کا شوق چرایا ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ آپ تیسری شادی کرلیں ، چوتھی شادی کریں مگر مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں کیونکہ میرا آپ کے ساتھ گزارا ممکن نہیں ہے ۔ وہ اس کے ہاتھ میں پکڑے گلاس کو نظر انداز کرتے ہوئے بیزاری سے بولی ۔ میرزوار دل کھول کر ہنسا ۔
شادیاں تو میں کرلوں مگر اپنے پاگل دل کو کیسے سمجھاؤں جوتمھارا دم بھرتا ہے ۔ صرف تمھارے ساتھ کا خواہ ہاں ہے ۔ وہ گلاس ٹیبل پر رکھ اس کے ساتھ ہی بیٹھ گیا ۔
ہونہہ ۔۔۔۔۔ ان چکنی چپڑی باتوں میں سچائی ہوتی تو تحریم آپی کے ساتھ اسلام آباد میں ہنی مون منانے نہیں پہنچتے ۔ وہ تلخی سے ہنسی ۔ وہ تکلیف دہ شب وروز سوچ کر ہی آنکھیں بھیگتی چلی گئیں ۔
سوہنا سائیں ! میری آنکھوں نے پسند کا رشتہ تم سے بنایا تھا ۔دل نے محبت کا رشتہ بھی تم سے بنایا ۔ روح نے عقیدت کا رشتہ بنایا تو وہ بھی تم سے بنایا اور اس کے بعد جتنے بھی رشتے بنائے صرف تم سے بنائے ۔ میں تمھارے سر پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہوں تحریم سے نکاح کے باوجود بھی اس سے تعلق نہیں بنایا ۔ تمھاری جگہ کسی کو نہیں دی اور نہ کوئی لے سکتا ہے ۔ وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر جذب کے عالم میں بولا ۔
معاف کیجئے میرزوار صاحب ! اب میں آپ کی باتوں میں تاثیر نہیں رہی ۔ آپ مجھے بے وقوف نہیں بنا سکتے ۔ میں نے آپ کا ہر رنگ دیکھ لیا ہے ۔ مجھے آپ کی کسی بات پر اعتبار نہیں ہے ۔
آپ نے مجھے تکلیف پہنچانے کے لئے ان سے شادی تو کی تھی ۔ وہ آج اس کنڈیشن میں نہیں ہوتیں تو آپ کبھی میرے حق کو تسلیم نہیں کرتے ۔ پوری ذندگی ہمارے رشتے کو گناہ کی طرح چھپائے رکھتے ۔ اب آپ کو موقع مل گیا ہے تو محبت جتارہے ہیں ۔
جب تحریم آپی کے لئے پرپوزل بھیجا تھا ، پوری شان و شوکت سے بارات لے کر آئے تھے تب یہ جذبات کہاں دفن ہوگئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ وہ اس کے گریبان پر جھپٹ کر نفرت سے پھنکاری ۔
یہ میرا پیار ہے جو تمھارے اتنے حوصلے ہیں سیدھا گریبان پر ہاتھ ڈالتی ہو ورنہ کسی کو نظر ملا کر بات کرنے کی بھی جرأت نہیں ہے ۔ وہ اس کے ہاتھ تھام کر دلکشی سے مسکرایا ۔
باتوں کو مت گھمائیں ۔ کس منہ سے مجھے محبت نامہ سنارہے ہیں دوسری شادی کرتے ہوئے میرا خیال کیوں نہیں آیا تھا ؟ تحریم آپی کے بستر سے لگتے ہی گرگٹ کی طرح رنگ بدل لیا ۔
توبہ کرو ، کوئی اپنے شوہر کو ایسے ناموں سے پکارتا ہے کیا ؟ وہ کانوں کو ہاتھ لگا کر شرارت سے بولا ۔ نینا نے اسے کھاجانے والی نگاہوں سے گھورا ۔
سارے حساب کتاب آج ہی کرلوگی ؟ کچھ شادی کے بعد کے لئے بھی باقی رہنے دو ۔ وہ گہری سانس بھر کر بولا ۔
میں شادی کے لئے مان جاؤں گی ، اس خوش فہمی میں رہنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ وہ تمسخرانہ بولی ۔
نہیں مانوگی تو پھر کیا کروگی ؟ یونہی بیٹھی رہوگی یا طلاق کا مطالبہ کروگی ؟ وہ اس بار تیوری پر بل ڈال کر تیکھے لہجے میں گویا ہوا ۔
کچھ بھی کرسکتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔اب تو طلاق کے بارے میں بھی سوچ رہی ہوں ۔۔۔۔۔مشورہ کرلوں پھر آپ کو نوٹس بھیجوادوں گی ۔ وہ نخوت سے کہہ کر اٹھ گئی ۔
میرے سامنے بکواس مت کرو ورنہ زبان کھینچ لوں گا ۔ کچھ نہیں کہہ رہا تو سر پر چڑھتی جارہی ہو ۔ طلاق کے نام پر اس کا دماغ گھومنے میں بس ایک پل لگا تھا ۔
شادی تو ہوکر رہے گی ، میں چاہ رہا تھا کسی کے علم میں آئے بغیر یہ کام عزت سے ہوجائے مگر تمھارے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے ۔ تم چاہتی ہوکہ تماشا ہو تو پھر ٹھیک ہے ،آج رات میں تمھارے گھر سے سب کے سامنے تمھیں اپنے ساتھ لے کر آؤں گا ۔ وہ سر پھرے انداز میں بولا ۔
جو آپ کا دل کرے آپ وہی کریں ، جو میں کروں گی اس کے لئے بھی تیار رہنا ۔ وہ دوبدو بولی ۔
تمھارے ساتھ مسئلہ کیا ہے ؟ کیوں اتنا اکڑ رہی ہو ؟ جو دشمنی سالوں پہلے ختم ہوچکی ہے تم کیوں اس کی نئی شروعات کروانا چاہتی ہو ؟
میرے اور تمھارے رشتے کےمتعلق جان کر تمھارا بھائی برداشت نہیں کرسکے گا اور میں اگر شیرازی ہاؤس پہنچ گیا تو تمھیں اپنے ساتھ لئے بغیر میری لاش ہی واپس آئے گی ۔ میری ذندگی کی صورت میں تم میرے ساتھ آؤگی ۔
میرے وہاں پہنچ کر سچائی بتانے کے بعد ہم میں سے کوئی ایک ہی ذندہ رہ پائے گا ۔ اب فیصلہ تمھارے ہاتھ میں ہے ، تمھیں اپنے بھائی کی عزت اور جان پیاری ہے یا پھر اپنے شوہر کی سلامتی ؟
وہ گیند اس کے کورٹ میں اچھالنے کے بعد اطمینان سے سگریٹ سلگا کر اس کے جواب کا منتظر تھا ۔
جاری ہے