Rate this Novel
Episode 32
میرے بابا سائیں کو کچھ نہیں ہوا ۔۔۔۔۔۔۔وہ سورہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ابھی اٹھیں گے اور مجھ سے باتیں کریں گے ۔
بابا سائیں اٹھ جائیں ، ایک بار تو آنکھیں کھول کر مجھے دیکھ لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔آپ تو میری آنکھوں میں ایک آنسو بھی برداشت نہیں کرسکتے تھے اور آج میں آپ کے سامنے بیٹھ کر مسلسل رورہی ہوں مگر آپ کو زرا سی بھی پرواہ نہیں ہے ۔
آپ میری بات کیوں نہیں سنتے پلیز! ایک بار مجھے جواب دیں ۔ آنکھیں کھولیں ۔ نینا جب جب ہوش میں آتی تو یہی جملے دہراتی ، معظم شاہ کے مردہ وجود کو جھنجوڑتی پھر واپس اس پر غشی طاری ہوجاتی ۔
پوری رات اسی طرح گزر گئی تھی مگر وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلی تھی ۔ کبھی ہذیانی انداز میں دہاڑے مار مار کر روتی اور کبھی معظم شاہ کے چہرے سے چادر ہٹا کر آس بھری نظروں سے ان کے چہرے کو تکتی رہتی ۔
رخسانہ بیگم کا حال بھی اس سے مختلف نہ تھا ۔ ان کے بین حولی کے درو دیوار ہلا رہے تھے ۔
عروش منہ پر دوپٹہ رکھے سسک سسک کر رورہی تھیں ۔ معظم شاہ کے اتنی جلدی ساتھ چھوڑ جانے پر انہیں شدید دھچکا لگا تھا ۔
دھیرے دھیرے دور دور سے لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری تھا ۔ زعیم شاہ ان کی باڈی کو حویلی پہنچانے کے بعد دوبارہ زنان خانے میں نہیں آیا تھا ۔
شدید رنج و غم کے باوجود بردباری سے وہ تنہا سب کچھ سنبھالے ہوئے تھا کیونکہ رانیہ اور مکتوم شاہ اسلام آباد میں تحریم کے پاس موجود تھے ۔
حادثے کے بعد معظم شاہ کے علاوہ تحریم اور ان کے ڈرائیور کی موت کی بریکنگ نیوز بھی چلی تھی مگر اس بھیانک حادثے میں تحریم معجزاتی طور پر بچ گئی تھی لیکن اس کی حالت بہت نازک تھی ۔ رانیہ ایک پل کے لئے بھی اس سے دور جانے کے لئے تیار نہیں تھیں ۔
جیسے ہی انہیں ایکسیڈینٹ کی اطلاع ملی وہ مکتوم شاہ کے منع کرنے کے باوجود زبردستی ان کے ساتھ آگئ تھیں ۔
پھپھو سائیں ! اب آپ انکل کے ساتھ گاؤں چلی جائیں ۔ آپ کا وہاں جانا بہت ضروری ہے ۔ تحریم کے فکر مت کریں ۔ اس کے پاس میں رہوں گا ۔ انشاء اللہ اسے کچھ نہیں ہوگا ۔ آپ بے فکر ہو کر جائیں ۔ تدفین کے بعد آپ دوبارہ آجائیے گا ۔ میرزوار نے ان کو سمجھایا تو وہ استہفامیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھ کر بولیں ۔
میرے جانے کے بعد وہ چلی گئی تو میں ذندگی بھر پچھتاؤں گی ۔ میں اسے اس حال میں چھوڑ کر نہیں جاسکتی ۔
مکتوم ! آپ چلے جائیں ۔ آپ کے خاندان والوں کو آپ کی بہت ضرورت ہے ۔ میری طرف سے معذرت کر لیجئے گا ۔ رانیہ نے بھیگے لہجے میں انہیں مخاطب کیا ۔
حالانکہ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ مکتوم شاہ واپس جائیں مگر معظم شاہ ان کے بھائی تھے ۔ رانیہ بیگم کو احساس تھا کہ ان کی تدفین میں شرکت لازمی ہے ۔
میں کہہ رہا ہوں ناں آپ بھی ان کے ساتھ چلی جائیں اور کل دوبارہ آجائیے گا ۔ میرزوار نے اس بار قدرے سختی سے کہا تو مکتوم شاہ نے تشکرانہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا ۔
“”””””””””””””””””
آہوں اور سسکیوں میں معظم شاہ کی تدفین کردی گئی ۔ رخسانہ بیگم ،عروش اور نینا کا غم ایک برابر تھا ۔ تینوں نے اپنا سب سے مضبوط اور گہرا رشتہ کھو دیا تھا ۔
گھر مہمانوں سے بھرا ہونے کے باوجود بھی ہر سو یاسیت سی چھائی ہوئی تھی ۔
بہت اسرار کرنے پر بھی نینا نے دو نوالے بھی نہیں کھائے تھے ۔ اروما اسے نیند کی ٹیبلیٹ کھلا کر اس کے نیند میں چلے جانے کا اطمینان کر کے کمرے سے نکل آئی ۔ وہ ستون سے ٹیک لگائے گہری سوچ میں کھڑی تھی تبھی اس نے زعیم شاہ کو اندر جاتے دیکھا ۔ وہ اپنے کمرے کی طرف جارہا تھا ۔
صبح سے وہ اس سے تعذیت کرنا چارہی تھی مگر وہ نظر ہی نہیں آیا اب اسے اوپر جاتے دیکھا تو تمام ذیادتیاں بھلائے اس کے پیچھے چلی آئی ۔
زعیم شاہ تھک کر بے حال سا صوفے پر بیٹھا گہری سوچ میں گم تھا ۔ آنکھیں شدتِ غم سے سرخ ہورہی تھیں ۔ وہ دھیرے سے دروازہ بند کر کے اندر آگئی اور اس کے سامنے رکھی ٹیبل پر خاموشی سے بیٹھ گئی ۔ زعیم شاہ نے نظروں کا ارتکاز بدل کر اسے دیکھا ۔ وہ سر جھکائے بیٹھی تھی ۔
رومی ! میں نے بہت مضبوط سہارا کھو دیا ۔ میں ان کے بغیر ادھورا محسوس کررہا ہوں ۔ابھی مجھے ان کی سخت ضرورت تھی ۔ ان سے بہت کچھ سیکھنا تھا ۔ بابا سائیں کی کمی مجھ سے برداشت نہیں ہورہی ۔ وہ ضبط و حوصلے سے پورا دن خود پر قابو رکھنے کے بعد اروما کی گود میں سر رکھ کر روپڑا ۔
جو ہمارے دل کے بے حد قریب ہوتے ہیں وہ اتنی جلدی دور کیوں چلے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔باباسائیں نے ہمارے درمیان بہت فاصلہ رکھا تھا مگر پھر بھی وہ میرے دل کے بہت قریب تھے کیونکہ وہ فاصلے پر رہنے کے باوجود بھی دنیا کے سب سے بہترین باپ تھے ۔ وہ رنجیدگی سے گویا تھا ۔
اللہ پاک نے موت ذندگی کا فیصلہ اپنے پاس رکھا ہے ، جس کو جتنا وقت دیا ہے وہ اتنی ہی ذندگی جئیے گا ۔ کسی کا وقت جلد اور کسی کا بدیر بحرحال آکر ہی رہتا ہے اور وہی رب ہمیں اپنے پیاروں سے بچھڑنے کے بعد صبر اور ان کے بغیر ذندگی جینے کا حوصلہ دیتا ہے ۔ اب آپ کو بھی صبر کرنا ہوگا ۔ ہمت اور حوصلے سے کام لینا ہوگا ۔
آپ کمزور پڑ جائیں گے تو نینا اور خالہ جان کو کون سنبھالے گا ۔ اس وقت ان دونوں کو آپ کے مضبوط سہارے کی ضرورت ہے ۔ انکل کے بعد ان کے سر کا سائیں آپ ہیں ۔ وہ اس کی پشت سہلاتے ہوئے نرمی سے سمجھانے لگی ۔
ان دونوں نے کھانا کھالیا ۔۔۔۔؟ زعیم نے یکدم سر اٹھایا ۔
خالہ جان نے بمشکل تھوڑا سا کھایا ۔ نینا نے تو دو لقمے بھی ڈھنگ سے نہیں لئے ۔ اس کے سر میں بہت درد تھا میں نے ٹیبلیٹ دے کر سلادیا ۔ اروما نے تفصیلاً جواب دیا ۔
اس کے لئے بھی بابا سائیں کی جدائی بہت تکلیف دہ ہے ۔ مجھے سے ذیادہ وہ ان کے قریب رہی ہے ۔ اسے سنبھلنے میں بہت لگے گا ۔ زعیم شاہ نے دکھتی پیشانی کو مسلتے ہوئے کہا ۔
آپ نے کھانا کھالیا ۔۔۔۔؟ اروما نے اس کا ذہن بٹا نے کے لئے سوال کیا ۔
دل نہیں تھا مگر دنیا داری کے لئے مہمانوں کے ساتھ تھوڑا سا کھایا ہے ۔ زعیم شاہ نے آہستگی سے جواب دیا ۔
تم بھی جاؤ اب آرام کرو ۔ رات سے یہاں ہو ، تھک گئی ہوگی ۔ زعیم شاہ نے اس کی نیند اور تھکن سے بوجھل آنکھوں سے اندازہ لگاتے ہوئے کہا ۔ وہ شاہ کا ہاتھ تھپک کر اٹھ گئی ۔
“””””””””””””””””
معظم شاہ کے گزرنے کے بعد پوری حویلی پر گہرا جمود طاری ہوگیا تھا جو مہینوں گزرنے کے باوجود بھی قائم تھا ۔
عروش کی عدت کی مدت بھی پوری ہوچکی تھی مگر ان کی ذندگی بے رنگ اور آنکھوں کا سونا پن دن بہ دن بڑھتا چلا جارہا تھا ۔
تحریم کے چار آپریشن کئے جا چکے تھے مگر اس کے بے جان وجود میں ذندگی کی رمک پیدا نہیں ہوسکی ۔
ایکسیڈینٹ میں اس کی ریڑھ کی ہڈی بری طرح متاثر ہوئی تھی اور سر میں شدید چوٹیں لگنے کی وجہ سے پچھلے پانچ ماہ سے کومہ میں تھی ۔
ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ وہ اب کبھی ذندگی کی طرف نہیں لوٹ سکتی ۔ وہ سب کچھ دیکھ سکتی ہے سن رہی ہے مگر حرکت نہیں کرسکتی ۔
آج بھی میرزوار نے ڈاکٹرز کی ایک ٹیم کو امریکہ سے بلوایا تھا ۔انہوں نے بھی مکمل معائنے کے بعد مایوسی ظاہر کی تھی ۔
پھپھو سائیں ! آپ بھی گھر چلیں ۔ آج رات نسیمہ تحریم کے پاس رہے گی ۔ آپ گھر پر آرام کر لیجئے گا ۔ کافی دن سے آپ گھر نہیں گئی ہیں ۔ میرزوار نے ان کا ہاتھ تھام کر فکرمندی سے کہا ۔
میں یہیں ٹھیک ہوں ،تم جاؤ ۔ تمھیں آفس بھی دیکھنا ہوتا ہے ۔ صبح شام یہاں کے بھی چکر لگاتے ہو تھک جاتے ہوگے ۔ وہ نفی میں گردن ہلاتے ہوئے فکرمندی سے بولیں ۔
میں نہیں تھکتا ۔ آپ میری فکر مت کیا کریں ۔ اپنی صحت کا خیال کریں ۔ پہلے بھی مسلسل ہاسپٹل میں رہنے کی وجہ سے بیمار پڑ گئی تھیں ۔ اب بھی خود سے لاپرواہی برتیں گی تو وہی حال ہوگا ۔
میری ذندگی میں تو اب ہاسپٹل کے چکر ہی لکھیں ہیں ۔ جب تھک جاؤں گی تو بیمار پڑجاؤں گی ۔ گھر بیٹھ جاؤں گی بہتر ہوتے ہی پھر ہاسپٹل میں ہی پہنچنا ہے مگر تم کب تک ایسی ان چاہی ذندگی جیوگے ؟ آج میں تم سے کچھ بات کرنا چاہتی ہوں ۔ رانیہ رنجیدگی سے کہتے ہوئے خاموش ہو کر اسے دیکھے گئیں ۔
جی بولئے !
میری شدید خواہش تھی کہ تمھاری جلد شادی ہوجائے اور تم اپنے بیوی بچوں کے ساتھ خوش رہو پھر میں نے تحریم سے تمھاری شادی کروانے کے بارے میں سوچا تاکہ تم کبھی مجھ سے دور نا رہو مگر بعض اوقات ہم جو سوچتے ہیں وہ ہوتا نہیں ۔ قسمت کے کھیل نرالے ہی ہوتے ہیں ۔
تحریم سے شادی تمھاری ذندگی کو مزید ویران کر گئی ۔ میری بیٹی اب شاید ہی ذندگی کی طرف لوٹ سکے ۔ میں تمھیں اس کا پابند نہیں کرنا چاہتی ۔
میر سائیں ! تم دوسری شادی کرلو ۔ اپنی ذندگی کو آگے کو بڑھنے دو ۔رانیہ نے گاڑی میں بیٹھتے ہی اس کی خوشی کے خاطر دل مضبوط کرکے مشورہ دیا ۔
میرزوار نے حیرانگی سے ان کی طرف دیکھا ۔
میں تمھیں یوں تنہا نہیں دیکھ سکتی ، تم اپنا گھر بسالو ۔ حویلی کی رونقیں دوبارہ لوٹ آئیں گی اگر اللہ نے چاہا اور تحریم ہوش میں آگئی تب بھی میں اسے سمجھالوں گی ۔ تم اس کی طرف سے فکر مند مت ہونا ۔
وہ دھیمے انداز میں اسے سمجھارہی تھیں ۔ میرزوار خاموشی سے ڈرائیونگ کرتے ہوئے بغور انہیں سن رہا تھا ۔
تحریم کے ذندہ بچ جانے کی اسے اتنی پرواہ نہیں تھی ، جتنا فکرمند وہ نینا کے لئے تھا ۔ تحریم کے زندہ بچ جانے کی صورت میں نینا کو گھر لانے والا راستہ اسے سجھائی نہیں دے رہا تھا مگر رانیہ نے ایسے وقت میں مشورہ دیا تھا کہ اس کی مشکل آسان کردی تھی ۔
وہ کئی دنوں کے ذہنی خلفشار کے بعد یکدم خود کو ہلکاپھلکا محسوس کرنے لگا ۔ اسے یکدم اپنے قسمت کے دھنی ہونے پر فخر محسوس ہوا پھر اس کے دل نے خود پر اللہ کی خاص مہربانی کا شکرادا کیا ۔
اس کے راستوں میں آنے والی رکاوٹیں خود بخود ہی دور ہوتی چلی جاتی تھیں ۔ یہ قدرت کی ہی عنایت تھی کہ وہ جس منزل کو پانا چاہتا ، اس کے لئے راستے خود بخود بنتے چلے جاتے تھے ۔
“”””””””””””””””””
عروش زعیم شاہ کی ایماء پر اروما کے لئے پرپوزل لئے میر ہاؤس کے ڈرائینگ میں بیٹھی ہوئی تھیں ۔
عروش ! مجھے تمھاری آمد کا خاص مقصد جان کر بہت خوشی ہوئی ہے ۔
نگین نے مجھے بتایا کہ تم رومی کے رشتے کے سلسلے میں آئی ہو ۔ میر سبطین ابھی آفس سے گھر پہنچے تھے اور نگین کے آگاہ کرنے پر فوراً ہی کپڑے چینج کئے اور ڈرائینگ روم میں چلے آئے ۔
اروما میری بہو بنے یہ خواہش تو اس کے بچپن سے ہی میرے دل میں تھی مگر زعیم شاہ نے خود مجھے اس رشتے کے لئے یہاں بھیجا ہے ۔ اس کی بھی یہی خواہش ہے ۔ عروش نے واضح کرنا ضروری سمجھا ۔
ہمارے یہاں بھی آج کل یہی ذکر چل رہا ہے ۔ ہم نے میر جازب اور حفصہ کی منگنی کا ارادہ کیا تھا مگر حالات ہی کچھ ایسے ہوگئے کہ ممکن نہیں ہوسکا ۔ میر حنین بھی ململاتے ہوئے واپس چلے گئے مگر اب حفصہ کے ایگزامز کے بعد آنے کا کہہ رہے ہیں ۔ نگین بولیں ۔
حفصہ تو ابھی بہت چھوٹی ہے ۔ میر حنین کو اس کی شادی کی اتنی جلدی کیا فکر پڑگئی ۔ عروش خاصی حیران ہوئیں ۔
ہم نے بھی اسے بہت سمجھایا ہے مگر اس کے سر پر تو دھن سوار ہوگئی ہے ۔ اسی سال شادی کرنا چاہتا ہے ۔ معظم کی وجہ سے منگنی نہیں ہوسکی تو کہہ کر گیا ہے اب آؤں گا تو شادی کرکے ہی واپس جاؤں گا ۔
چلیں اچھی بات ہے پھر آپ مجھے بھی مشورہ کرکے جلد ہی شادی کی تاریخ دیں تاکہ میں تیاریاں شروع کر سکوں ۔ عروش نے سنجیدگی سے کہا ۔
تاریخ تو ہم طے کر کے تمھیں انفارم کردیں گے مگر اس سے پہلے مجھے تم سے بھی کچھ مانگنا ہے ۔ نگین کا انداز پراسراریت لئے ہوئے تھا ۔ عروش سمیت میر سبطین بھی چونک گئے ۔
ہاں ، ضرور ۔ بولو کیا مانگنا چاہتی ہو ۔ انشاء اللہ مایوسی نہیں ہوگی ۔ عروش ٹھٹک سی گئیں مگر خوشدلی سے بولیں ۔
ہم چاہتے ہیں نینا بھی اس گھر کی بہو بنے ۔ ہم میرزوار کی دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں ۔ اس سلسلے میں رانیہ اور مکتوم سے ہماری بات ہوگئی ہے ۔ نگین نے جھجکتے ہوئے بات شروع کی ۔
رانیہ نے مجھے تو کچھ نہیں بتایا خیر اس کا جواب میں زعیم شاہ سے مشورہ کئے بغیر نہیں دے سکتی ۔ آپ کو تھوڑا انتظار کرنا ہوگا ۔ وہ تحریم کی حالت سے واقف تھیں اس لئے صاف جواب تو نا دے سکیں مگر ٹال گئیں ۔
تم گھر میں بات کرلو پھر ہمیں بتا دینا ۔ ایسی کوئی جلدی بھی نہیں ہے ۔ اگر تحریم کے سنبھلنے کے چانسز ہوتے تو ہم ایسا سوچتے بھی نہیں مگر آثار نظر نہیں آرہے اس لئے ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میرزوار کی شادی کردی جائے ۔اس کے گھر اور ذندگی کو بھی توجہ کی ضرورت ہے ۔
نینا کے لئے اس وجہ سے سوچا ہے کہ وہ گھر کی بچی ہے اور اصولاً تو اس کا ہی حق بنتا ہے کہ اپنی بہن کی جگہ سنبھالے۔ میر سبطین مدبرانہ بولے ۔
جی میں سمجھتی ہوں ۔ شاہ اور اس کی دادی سے بات کرتی ہوں پھر دیکھیں وہ کیا جواب دیتے ہیں اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرسکوں گی ۔ عروش کی دھیمی آواز گہری سوچ کی غماز تھی ۔
“”””””””””””””””””
یار ! کل سے اب تک سارا شہر چھان مارا ہے لیکن وہ کہیں نہیں ملی ۔ میرجازب نے شکستہ لہجے میں اطلاع دی ۔
نہیں مل رہی مطلب ۔۔۔۔۔۔۔؟اسے آسمان کھا گیا یا زمین نگل گئی ۔ میرزوار بھڑک اٹھا ۔
اللہ ہی بہتر جانتا ہے ۔ اب وہ بچی تو ہے نہیں جو گم ہوگئی ہے ۔ وہ جان بوجھ کر کہیں چلی گئی ہے اس لئے ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل رہی ۔ ہاسپٹل تو گئی ہی نہیں ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس کا فون ٹریس نہیں ہوپارہا ،لوکیشن بھی شیرازی ہاؤس کی بتارہا ہے اس کا مطلب ہے کہ وہ فون تک گھر چھوڑ گئی ہے ۔ میر جازب اسے تفصیل سے سمجھانے کی کوشش کررہا تھا ۔
اگلے ایک گھنٹے میں اسے میرے سامنے ہونا چاہئے جازب اگر وہ مجھے نہیں ملی تو میں ہر طرف آگ لگا دوں گا ۔ میں نے کل کی رات بھی انگاروں پر گزاری ہے ، اب میرے برداشت کی حد ختم ہونے والی ہے ۔وہ دہشتناک لہجے میں بولا ۔
ہتھیلی پر سرسوں جمانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔ ڈھونڈرہے ہیں ناں ، زعیم شاہ بھی کوشش کررہا ہے ۔تھوڑا وقت لگے گامگر مل جائے گی ۔ بلکہ کب تک بھٹکے گی خود ہی آجائے گی ۔ میر جازب نے اسے تسلی دی ۔
ڈیمن اٹ !
مجھے اس کی فکر ہورہی ہے ،وہ ناجانے کہاں ہوگی ۔مجھ سے برداشت نہیں ہورہا ، صبح ہونے تک میں پاگل ہوجاؤں گا ۔
وہ بس ایک بار مجھے مل جائے میں اس کا ایسا حشر کروں گا ، ایسی ماردوں گا کہ وہ ذندگی بھر گھر سے باہر قدم رکھنے کا سوچے گی بھی نہیں ۔ بیڑیاں پہنا کر کم از کم دس سال بیس مینٹ میں بند نا رکھا تو میرا نام بھی میر زوار نہیں ۔ وہ غصے اور بے بسی کے احساس سے دانت بھینچے غرارہا تھا ۔
کام ڈاؤن ! کرتے ہیں کچھ نا کچھ آج رات ہی اس کا پتا چل جائے گا ۔ میر جازب نے پرسوچ انداز میں اسے دیکھتے ہوئے کہا ۔
میرزوار بھوکے شیر کی مانند کمرے میں یہاں سے وہاں ٹہلنے لگا۔ اس کا اضطراب حد سے سوا تھا ۔ایک ہی جھٹکے میں سارا نشہ ہرن ہو چکا تھا، دل میں عجیب طرح کے وسوے آرہے تھے ، جن کی وجہ سے اسے سانس لینے میں بھی دشواری ہورہی تھی ۔اس وقت وہ خود کو بے بسی کی انتہاؤں پر محسوس کررہا تھا ۔
طاقت ،دولت ، جاگیریں رسوخات سب کچھ بے معنی لگ رہے تھے جو ایک ساتھ مل کر بھی اس کی پریشانی دور نہیں کر سکتے تھے ۔
اسی طرح بے چینی سے چکر کاٹتے ہوئے ایک نام اس کے دماغ میں بجلی کے طرح کوندا ، اس نے چند لمحے سوچنے کے بعد مشکوک لہجے میں میر جازب کو مخاطب کیا ۔
میر ! ایک وکیل ، اس کی دوست ہے ۔ جس پر نین جان دیتی ہے ۔ اس کی بہت پرانی دوست ہے ۔ نین نے یقیناً اس سے رابطہ کیا ہوگا ۔ ایڈووکیٹ مائرہ کو ضرور معلوم ہوگا کہ نین کہاں گئی ہے ۔میر زوار کے شاطر دماغ میں اس کا خیال آتے ہی آنکھوں کی چمک بحال ہوگئی ۔ میر جازب نے بھی اس کی تائید میں سر ہلایا ۔ وہ بھی نینا کی دوست کو اچھی طرح جانتا تھا ۔
ساجد سائیں ! پتہ کرو ۔ وکیل صاحبہ گھر پر ہیں یا دفتر میں بیٹھی ہیں ۔ ہمیں ابھی اس سے ملنا ہے ۔ بس اس وکیل کو ہمارے پہنچنے کی خبر نہ ہو ۔ میرزوار کے حکم پر ساجد فوراً سے پیشتر حکم بجالانے کے لئے الرٹ ہوگیا ۔
“”””””””””””””””””
وہ ساحلِ سمندر پر گھٹنوں پر ٹھوڑی ٹکائے مسلسل آنسو بھائے جارہی تھی ۔ سرد موسم کے باعث سورج غروب ہونے کے بعد وہاں کی چہل پہل میں بھی کمی واقع ہوئی تھی ۔
جب عروش نےاسے میر زوار کے پرپوزل اور زعیم شاہ اور ان کی رضامندی کے بارے میں بتایا تو وہ ہتھے سے اکھڑ گئی تھی ۔
نین ! تم سمجھنے کی کوشش کرو ، اس رشتے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔ دنیا کے جانے مانے ڈاکٹرز نے بھی تحریم کی طبعی موت کو تسلیم کرلیا ہے اور یہ تم بھی جانتی ہو ۔ کوئی معجزہ ہی ہوگا اگر وہ دوبارہ اٹھ سکے گی ۔
تم میرزوار کے ساتھ بہت خوش رہوگی ۔ اس نے تمھیں منتخب کیا ہے رہی بات اس کے پہلے سے شادی ہونے کی تو اس کی پہلی شادی نام کی ہی شادی رہ گئی ہے ۔ عروش نے رسانیت سے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی ۔
میں ذندگی بھر اس گھر میں بیٹھ کر گزار دوں گی ، مر جاؤں گی مگر میرزوار سے شادی نہیں کروں گی ۔ نینا غصے سے چیخ پڑی ۔
صرف اس لئے کہ وہ تحریم کا شوہر ہے ۔۔۔۔۔؟ اگر تم اس بات کو جواز بنا رہی ہو تو سراسر بے وقوفی کر رہی ہو ۔ میرزوار ہر لحاظ سے تمھارے لئے بہترین شوہر ثابت ہوگا ۔
مجھے شادی ہی نہیں کرنی ہے ۔میرزوار سے بھی نہیں ، کسی اور سے بھی نہیں کرنی اور یہ میرا آخری فیصلہ ہے ۔ نینا حتمی انداز میں بولی ۔
اپنے فیصلے کو اپنے پاس اٹھا کر رکھو ۔ ہم سب اور شاہ فیصلہ کرچکا ہے ۔ ہمیں تمھارے لئے میر زوار سے بہتر رشتہ دوبارہ نہیں ملے گا ۔ تم بھی ضد چھوڑو اور بھائی کے فیصلے کا احترام کرو ۔ کل کو شاہ کی بھی شادی ہوجائے گی اور اس نے تمھاری ذمہ داری سے نظریں چرالیں تو پھر کیا ہوگا ۔
تمھارے سر پر باپ کا سایہ نہیں رہا ہے جو تم اتنا اکڑ رہی ہو ۔ پلیز ! حالات کو سمجھنے کی کوشش کرو ۔ عروش کا لہجہ پر نم ہوگیا ۔
آپ کچھ بھی کہہ لیں مگر مجھ پر اثر نہیں ہوگا ۔ پہلے بھی آپ نے مجھ سے پوچھے بغیر سنان شاہ سے میرا رشتہ طے کردیا اور اب پھر آپ سب مجھ پر زبردستی اپنی مرضی مسلط کررہے ہیں مگر اب میں مجبور نہیں ہونے والی ۔ مجھے میرزوار سے شادی نہیں کرنی تو بس نہیں کرنی ۔ وہ ہٹ دھرمی سے بولی ۔
ٹھیک ہے ۔ میں شاہ کو بتادیتی ہوں پھر وہ خود ہی تم سے بات کرے گا میری بات تو تمھیں سمجھ نہیں آرہی ۔ عروش اسے غصے سے گھورتے ہوئے اٹھ کر چلی گئیں ۔
زعیم شاہ کے لاکھ سمجھانے اور منانے کے باوجود بھی اس کی ناں ہاں میں نہیں بدلی تھی ۔ تین دن تک بحث و تکرار کے بعد وہ صبح ہوتے ہی خاموشی سے گھر چھوڑ کر چلی آئی ۔
تم کب تک یونہی روتی رہوگی ۔۔۔۔۔؟ یہ مسئلے کا حل نہیں ہے ۔ تم گھر جاؤ اور اپنے گھر والوں کو سمجھاؤ کہ وہ تمھاری مرضی کے خلاف تمھاری ذندگی کا فیصلہ نہیں کریں ۔ تم پیار سے سمجھاؤگی تو وہ سمجھ جائیں گے ۔
تم یہ مت سمجھو کہ تم میرے گھر پر ہو اس لئے میں تمھیں جلد از جلد واپس بھیجنا چاہتی ہوں تو ایسا بلکل نہیں ہے ۔ میں چاہتی ہوں کہ تم اس مسئلے کا حل ڈھونڈو ناکہ گھر چھوڑ کر خود کو اور اپنی فیملی کو پریشان کرو ۔
منزہ اس کی بچپن کی سہیلی تھی ۔ وہ خلوصِ دل سے مشورہ دے رہی تھی ۔ نینا کل سے اسی کے پاس تھی ۔
وہ میری بات سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہے اور مجھے میرزوار سے شادی نہیں کرنی ہے ۔اگر میں سخت قدم نہیں اٹھاتی تو اماں اور بھائی اپنی من مانی کرکے ہی دم لیتے ، وہ زبردستی میرا رشتہ ان کے ساتھ طے کردیتے۔وہ آنسو بہاتے ہوئے زخمی لہجے میں بولی ۔
سنو ! وہ تمھارا شوہر ہے ۔ تم اس سے طلاق نہیں لینا چاہتی وہ خود تمھیں کبھی نہیں چھوڑیں گے تو پھر کیوں ضد لگا کر بیٹھی ہو ۔ شکر کرو کہ یہ پرپوزل میرزوار کا ہے اگر کسی اور کا ہوتا تو تم کیا کرتی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ اگر ابھی آنٹی تمھاری بات مان بھی لیں انہیں انکار کردیں مگر پھر کبھی نا کبھی تو تمھارے گھر والے شادی کے لئے اسرار کریں گے پھر کیا کروگی ؟
میں خودکشی کرلوں گی مگر اب انہیں من مانی نہیں کرنے دونگی ۔ اگر تحریم آپی کا ایکسیڈینٹ نا ہوا ہوتا تو انہیں کبھی مجھ سے شادی کا خیال نہیں آتا ۔
اب مطلب پڑا ہے ، راستہ صاف مل گیا ہے تو میں یاد آگئی۔پچھلے ایک سال سے مجھے اپنی اشاروں پر نچاتے رہے تب انہیں میری فکر تھی ، ؟
تحریم آپی کے ساتھ یہ حادثہ نہیں ہوا ہوتا اور وہ میری محبت میں مجھے اپنانے کے لئے اقدام کرتے تو شاید میں راضی ہوجاتی مگر اس خود غرض فیصلے میں ان کا ساتھ ہر گز نہیں دوں گی ۔
اس کے لئے مجھے اپنی جان بھی دینی پڑی تو دوں گی مگر اس بار انہیں جیتنے نہیں دوں گی ۔ وہ نفرت آمیز مضبوط لہجے میں کہتے ہوئے اٹھ گئی ۔
جاری ہے
