Rate this Novel
Episode 02
وہ شانِ بے نیازی سے چلتا ہوا آیا اور میر جازب کے برابر والی چئیر گھسیٹ کر بیٹھ گیا ۔ ڈائیننگ روم میں چمچ اور کانٹوں کی کھٹر پٹر گونج رہی تھی ،سب خاموشی سے کھانے میں مگن تھے ۔
زاری ! تم اٹھ گئے ، میں نے یہ سوچ کر تمھیں کھانے پر نہیں بلوایا کہیں تمھاری نیند خراب نا ہوجائے سونے کے لئے تمھیں تھوڑا بہت تو وقت ملتا ہے ۔نگین اسے دیکھتے ہی محبت سے بولیں ۔
ہوں ۔۔۔۔۔۔ ابھی اٹھا ہوں ، ڈنر ٹائم تھا اس لئے نیچے چلا آیا ۔ اس نے پلیٹ اپنے سامنے کی ۔
ہاں ہاں کھانا کھا لو ، پی کر تو تم آئے ہی ہوگے ۔دوسرا جملہ میر جازب نے سرگوشی کے انداز میں اس کے قریب جھکتے ہوئے کہا ۔ میر زوار کو میر سبطین کی موجودگی سے پھندا لگا دھیرے سے کھانستے ہوئے گھور کر میر جازب کو دیکھا ۔ میر جازب نے پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھایا ۔
ذیادہ بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، میں نیند سے اٹھتے ہی نیچے آگیا ہوں ۔ میر زوار نے پانی کا گھونٹ بھر کر اسے جھاڑا ۔
اچھا تو پی کر سوئے تھے ، اتر گئی تو اٹھ کر آگئے ۔ یہی بات ہے ناں ؟ میر جازب ترکی بہ ترکی بولا ۔
جی ! آپ کو کوئی اعتراض ہے ؟ میر زوار پلیٹ پر جھکا ۔
اعتراض تو بہت سی باتوں پر ہیں مگر دوستی کا لحاظ کرلیتا ہوں ۔
بلکل ۔اپنی اوقات میں ہی رہو ورنہ دو منٹ میں ٹھکانے لگوا دوں گا ۔ میر زوار نے تیوری پر ڈالے ۔
جانتا ہوں میرے ساتھ بھائی نہیں قصائی نما غنڈا بیٹھا ہے ۔ میر جازب نے بھی لگے ہاتھوں حساب برابر کردیا ۔
اچھا سنو ! میں نے شام بھی تمھارا پتہ کروایا مگر تم گھر میں ہی نہیں تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کہاں غائب تھے ؟
شیرازی ولا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میر جازب نے مختصراً کہا۔
کیوں ؟ تائی سائیں !اروما کہاں ہے ؟ اسے ڈنر نہیں کرنا۔میر زوار نے بیک وقت نگین اور جازب دونوں کو مخاطب کیا ۔
وہ شیرازی ولا گئی ہے ، پھپھو سے ملنے ۔ میر جازب ہی لے گیا تھا ۔ نگین بولیں ۔
میں زعیم شاہ کے ساتھ تھا پھر وہ مجھے اپنے ساتھ لے گیا ابھی واپس آیا ہوں ۔شاہ کو ایمرجنسی کال آگئی اوراسے جانا پڑگیا تو میں گھر چلا آیا ۔
اروما کو ساتھ کیوں نہیں لائے ؟ میر زوار ہاتھ روک کر اسے دیکھا ۔
اسے پھپھو نے ڈنر کے لئے روک لیا اس لئے وہ ساتھ نہیں آئی ۔ پھپھو مجھے روکتیں اس لئے میں واپس شیرازی ولا نہیں گیا ۔شاہ کو چھوڑ کر حویلی آگیا ۔ میر جازب کھانے کے ساتھ پوری روداد بھی سنارہا تھا ۔
ہوں ۔۔۔۔۔ میر ہنکارہ بھر کے رہ گیا ۔
زرای ! تم سے ایک کام کہا تھا ، اس کا کچھ بنا یا نہیں ؟ میر سبطین نے اسے مخاطب کیا ۔
پچھلے کچھ دنوں سے بہت بزی رہا ہوں ، اب فرصت ملی ہے تو کل تک آپ کا کام ہوجائے گا ۔
دراصل اس بندے سے میری تو کوئی پہچان نہیں مگر میرے بہت اچھے دوست کی واقفیت ہے ۔ اسی کے کہنے پر میں نے تم سے کہا ۔ حمدانی کو تو تم جانتے ہوگے ۔۔۔۔۔؟ میر سبطین نے استہفامیہ نظروں سے اسے دیکھا ۔
جی میں جانتا ہوں اور ڈنر سے فارغ ہوتے ہی ان کا کام کراوادیتا ہوں ۔ جس کمپنی کا آپ نے نام بتایا ہے ، وہ میرے پراجیکٹس کے دم پر کھڑی ہے اگر میں آج اپنے کانٹریکٹس اسے دینا بند کروں تو کل وہاں تالے لگے ہونگے ۔ میر زوار بے نیازی سے بولا۔
یار ! ایسا ظلم مت کرنا ، ایک تو تم زرا سی دیر میں لوگوں کو برباد کرنے پر اتر آتے ہو ضروری نہیں ہے کہ انہیں اتنی سخت سزا دی جائے بس ہمدانی کے دوست کا کام نکلوا دو ۔ میر سبطین نے گڑبڑا کر خوشامدانہ انداز اپنایا ۔ میرزوارنے ان کی گھبراہٹ پر محفوظ ہوتے ہوئے ہلکا سا قہقہہ لگایا ۔
ایسے بے ایمانوں کے ساتھ انہی کے انداز میں پیش آنا چاہئے تبھی ان کی عقل ٹھکانے آتی ہے ۔ وہ تلخی سے بولا ۔
کسی کا بھی نقصان کئے بغیر یہ کام کروادو ۔ ان کا مسئلہ حل ہوجائے اور تمھارا نام بھی خراب نا ہو ۔ میر سبطین نے اسے اپنے طریقے سے سمجھانے کی ناکام سی کوشش کی ۔
آپ میری فکر مت کیا کریں ، مجھ تک کسی کی پہنچ نہیں ہے ۔ اسمبلی میں ٹریژر ی بینچز پر بیٹھتا ہوں ۔ دلفریب مسکراہٹ نے اس کے لبوں کا احاطہ کیا ۔
خیر آپ کا کام ہے ، آپ کے ہی انداز میں کرنا ہوگا ۔وہ ڈائیریکٹر میرے سیکیورٹی انچارج کی ایک کال پر سر کے بل چل کر آئے گا۔ ابھی کال کروادیتا ہوں ۔ صبح تک آپ کا کام ہوجائے گا ۔
تم ڈنر سے فری ہو کر ڈرائینگ روم میں آجانا ۔ اس نے نیپکن سے ہاتھ پونچھ کر میر جازب سے کہا ۔
میرا ہوگیا ہے ۔ چلو ساتھ ہی چلتے ہیں ۔ تمھارے مہمان بہت دیر سے تمھارے انتظار میں بیٹھے ہیں ۔ میر جازب بھی اس کے ساتھ ڈائیننگ روم سے نکل گیا ۔
کیا ہوگا اس لڑکے کا ، درجنوں کیسز اس کے سر لگے ہوئے ہیں پھر بھی نئی مصیبتیں مول لینے کے لئے تیار بیٹھا رہتا ہے ۔سمجھانے کی کوشش کرو تو بگڑتا ہے ۔ میر سجاول بھی مجھ پر کتنی
بھاری زمہ داری ڈال کر چلا گیا ہے ۔ میر سبطین اونچی آواز میں بڑبڑائے ۔
آپ کسی طرح اسے شادی کے لئے راضی کیوں نہیں کرلیتے ۔ بیوی بچوں کی زمہ داری سر پر پڑے گی تو خود بخود ہی سیدھی راہ پر آجائے گا ۔ نگین نے میر سبطین کو مشورہ دیا جس پر میر سبطین نے انہیں گھورا ۔
مائے لولی وائف! آپ کو کیا لگتا ہے کہ میں نے کبھی اس موضوع پر بات نہیں کی ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔دس بار کہہ چکا ہوں شادی کرلو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہر طرح سمجھانے کی کوشش کی ہے مگر اس کے کان پر جوں نہیں رینگتی ۔
ایک ہی جواب دیتا ہے ، کوئی لڑکی میرے دل کو نہیں لگتی ۔لڑکیوں میں اسے دلچسپی ہی نہیں ہے کیسے راضی کروں ۔
میر سبطین خاصے جھنجلا ئے ہوئے تھے ۔
آپ اس سے اس طرح بات کریں کہ نگین میر جازب کے لئے لڑکی تلاش کر رہی ہے، وہ تمھارے لئے بھی پیاری سی لڑکی ڈھونڈ لے گی ۔ تم بھی ارینج میرج کے لئے تیار ہوجاؤ ۔ ہماری بھی ارینج میرج ہے اور دیکھو کتنی کامیاب ہے ۔
وہ میر سجاول کا بیٹا ہے ، اسی کی طرح اپنے من کی کرتا ہے ۔میرے کچھ بھی کہنے سے اس کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
اللہ سے دعا ہے ، کسی بڑی مشکل میں نا پھنس جائے ۔ اس کے الٹے سیدھےدھندوں سے ڈرتا ہوں کہ اگر کوئی اونچ نیچ ہوگئی تو مرنے کے بعد میں میر سجاول اور زرتاج کو کیا منہ دکھاؤں گا ۔
اللہ سے اچھے کی امید رکھی ہے تو اچھا ہی ہوگا ۔ آپ فکرمند نا ہوں ۔
ڈیڈی کی کال آئی تھی ، پوچھ رہے تھے ہم لوگ واپس کب آئیں گے ۔ میں نے انہیں بتا دیا کہ آپ کسی ضروری کام کے سلسے میں رکے ہوئے ہیں ۔
ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ تم چائے بنا کرروم میں بھجوادو ۔ میر سبطین سوچ میں گم تھے نگین کی بات پر ہنکارہ بھر کے رہ گئے پھرچائے کا کہہ کر اپنے روم میں چلے گئے ۔
جازب بھائی کہاں ہیں ؟ آپ نے انہیں بتایا نہیں تھا کہ مجھے پک کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ اروما جیسے ہی ڈنر سے فارغ ہوئی ملازمہ نے پیغام دیا کہ چھوٹے شاہ جی باہر گاڑی میں آپ کا انتظار کررہے ہیں ۔ وہ سب سے مل کر باہر آگئی ۔
نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اروما نے چونک کر اس کی طرف دیکھا ۔
زعیم شاہ گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا تھا ، اس نے مختصراً کہہ کر فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول دیا ۔
اروما کے اندر بیٹھنے پر اس نے دروازہ بند کیا پھر گھوم کر آیا اور ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی ۔
میرے گھر کیوں آئی تھیں ۔۔۔۔۔۔؟
کیا میں یہاں نہیں آسکتی ۔۔۔۔؟اروما نے حیرت سے کہا ۔
کسی کو تمھارے یہاں آنے پر شک ہو گیا ، کسی نے تمھارے بارے میں غلط سوچ لیا تو پھر تم کیا کروگی ۔۔۔۔۔؟زعیم شاہ نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے موڑ کاٹا ، اس کی نظریں ونڈ اسکرین پر جمی تھیں لہجے میں بلا کی ناراضگی تھی ۔
کیا مطلب ۔۔۔؟ میں کچھ سمجی نہیں ۔ یہاں آنے پر کسی کو شک کیوں ہوگا ۔اروما گڑبڑا گئ ۔
تمھاری یہی بات اچھی ہے کہ تم کچھ سمجھتی نہیں ہو اور ہماری راتیں عذاب کاٹتے گزر جاتی ہیں ۔ شاہ نے طنز کیا ۔
اس دن میں کنفیوز ہوگئی تھی ۔ ڈر بھی لگ رہا تھا اس لئے پتا نہیں کیا کہہ گئی مگر میں آپ کو ہرٹ نہیں کرنا چاہتی تھی پھر بھی آپ ناراض ہوگئے ہیں ۔ اروما مبہم گویا ہوئی ۔
میرے پاس ناراض ہونے کا جواز ہے ۔ تم نے میری انسلٹ کی ہے ۔ مجھے رشتہ لانے سے انکار کیا ہے ۔ میں تمھیں سمجھ نہیں پارہا کہ آخر تم چاہتی کیا ہو ۔شاہ نے بھڑاس نکالی ۔
میں ڈر گئی تھی ۔ اروما منمنائی ۔
جوک آف دا ڈے ۔ شاہ نے طنزیہ قہقہہ لگایا ۔ اندر سے وہ بری طرح سلگ رہا تھا ۔
رومی ! اپنی فیملی سےبات کئےبغیر تو میں تمھیں اپنا نہیں بناسکتا اگر میرے ساتھ بھاگ چلنے کا ارادہ ہے تو وہ بتاؤ پھر میں اسی حساب سے بندوبست کرتا ہوں۔ آخری جملہ شاہ نے مسکراہٹ دبا کر ادا کیا ۔
اف توبہ ! آپ کتنی گندی باتیں کرتے ہیں ۔ اروما نے کانوں پر ہاتھ رکھ لئے ۔شاہ بے ساختہ ہنس پڑا ۔
آپ مجھےکہاں لے جارہے ہیں ؟یہ راستہ تو شہرکی طرف جاتا ہے۔
تم نے آئسکریم نہیں کھانی ؟
نہیں کھانی ۔ پلیز ! آپ مجھے گھر ڈراپ کردیں اگر کسی کو پتا چل گیا کہ میں رات کے اس پہر آپ کے ساتھ گھوم رہی ہوں تو کتنی بری بات ہوگی ۔میر زوار بھائی بھی گاؤں میں ہیں۔اروما کی پیشانی عرق آلود ہوگئی ۔
تم جتنا ڈروگی میں اتنا ڈراؤں گا ۔ خاموشی سے بیٹھی رہو ، آئسکریم کھانے کے بعد گھر ہی ڈراپ کروں گا ۔ میرے ساتھ جانے سے تو تم انکار کر چکی ہو ۔ شاہ نے گاڑی آئسکریم پارلر کے سامنے روکی ۔ وہ مسلسل اسے کچوک رہا تھا ۔
میں نے ایسا تو کچھ نہیں کہا تھا ، آپ نے بلاوجہ سر پر سوار کر لیا ہے ۔اروما دھیرے سے سر جھکا کر بولی ۔
تو پھر میں اماں سے بات کر لوں ۔۔۔۔۔؟ وہ اروما کی طرف جھک کر گنبھیر آواز میں بولا ۔
اب جلدی سے آئسکریم منگوالیں ، دیر ہورہی ہے ۔ اروما نے بے ساختہ امڈ آنے والی مسکراہٹ کو چھپانے کے لئے رخ موڑ کر اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے چھڑانے کی کوشش کی ۔
اس کا مطلب ہے منہ میٹھا کرنا چاہتی ہو ۔ شاہ نے زبردست قہقہہ لگا کر ہارن پر ہاتھ رکھ دیا ۔
شاہ آپ بہت بدتمیز ہیں ۔ اروما نے اس کے بازو پر ہاتھ مارا ۔
جیسا بھی ہوں صرف تمھارا ہوں ۔ ایسے ہی گزارا کرنا پڑے گا ۔سامنے سے ویٹر کو آتا دیکھ کر شاہ نے زرا سا جھک کر اس کے ہاتھ پر محبت کی مہر ثبت کی پھر ویٹر کی طرف متوجہ ہوگیا ۔
شاہ ! یہ ڈریس کیسا لگ رہا ہے ؟ عروش ایک اسٹائیلش ڈریس اٹھا کر خود سے لگاتے ہوئے بیڈ پر دراز معظم شاہ کے سامنے آکر کھڑی ہوگئیں ۔
نائس ڈریس ! اس ڈریس میں تم تیس پینتیس سال پرانی عروش لگوگی ۔ کیوٹ ڈمپل گرل ۔ معظم شاہ نے دونوں ہاتھوں کا تکیہ بنا کر سر کے نیچے رکھے پھرسنجیدگی سے بولے۔
آپ بھی ناں کیسی باتیں کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا اب میں اس طرح کی ڈریسنگ کروں گی ۔یہ میں نے نینا کے لئے لیا ہے ، وہ پارٹی کے دن پہنے گی ۔ عروش نے اپنا سر پیٹ لیا ۔
یار ! پہلے بتانا چاہئے تھا کہ نین کے لئے لیا ہے ، مجھے تو تمھارے سوا کچھ بھی یاد نہیں رہتا ۔معظم شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
یہ ڈریس اس پر کتنا سوٹ کرے گا ۔عروش بے حد پرجوش تھیں ۔
عروش میری بات سنو ! شاہ نے اچٹتی نظر ڈریس پر ڈالی پھر عروش کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس بٹھایا ۔
جی بولیں ۔ عروش ابھی بھی ڈریس میں مگن اس پر انگلیان پھیر رہی تھیں ۔
تمھیں ہر وقت صرف زعیم شاہ اور نینا ہی یاد رہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ معظم شاہ بھی تمھاری ذندگی میں موجود ہے ،کبھی بھول کر اس کا خیال بھی آتا ہے ؟ معظم شاہ مسکراہٹ دبائے بظاہر سنجیدگی سے گویا تھے ۔
رومینٹک ہونے کی ضرورت نہیں ہے ، میں آپ کی چالاکیاں خوب سمجھتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب اٹھ جائیں پلیز! فریش ہوجائیں ۔ نینا کی فلائیٹ کا ٹائم ہورہا ہے ۔
تین گھنٹے باقی ہیں اور ہمیں ائیر پورٹ پہنچنے میں بیس منٹ لگیں گے ،تب تک تم میرے پاس سے ہلوگی بھی نہیں ۔ آج تمھاری بیٹی آجائے گی پھر میں تمھیں نظر بھی نہیں آؤں گا ۔ معظم شاہ نے لہجے کو سخت بنایا ۔
شاہ کے سامنے اس کی ایک نہیں چلنی تھی ۔وہ بے بسی سے وال کلاک کی طرف دیکھ کر رہ گئی۔
میر سجاول آہستگی سے روم کا دروازہ کھول کر دبے پاؤں بیڈ تک آیا ۔ زرتاج میر زوار کا سر اپنے بازو پر رکھے کروٹ کے بل لیٹی ہوئی تھی ۔ وہ دونوں تقریباً سوچکے تھے ۔
دلبرسائیں ! وہ سوچکا ہے ۔ اب آپ بھی اپنے روم میں چلئے ۔میر سجاول نے زرتاج کے پاس بیٹھتے ہوئے اس کا بازو ہلا کر سرگوشی کی ۔
میر سائیں ! آپ شہر سے واپس آگئے ۔ کیا میں اتنی دیر سے سورہی تھی ۔۔۔۔۔۔؟ زرتاج نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھولیں پھر میر زوار کی طرف دیکھا ۔
جی سائیں ! آپ زار کو سلاتے ہوئے سوچکی تھیں ۔ اب اپنے روم میں چلیں اور مجھے بھی اسی طرح سلادیں ۔ بہت نیند آرہی ہے ۔ وہ زرتاج پرجھک کر معنی خیزی سے بولا ۔
آپ چلیں میں کھانا لگوادیتی ہوں پھر میں واپس آکر اپنے بیٹے کے پاس سوؤں گی ۔ایک تو اسے مجھ سے اتنا دور کردیا ہے ، کبھی کبھی تو آتا ہے ۔زرتاج خفگی سے بولی ۔
مجھ سے دور رہنے کی بات کی تو تمھیں ابھی مارڈالوں گا ۔ہزار بار سمجھا چکا ہوں ایک بات تمھاری سمجھ میں کیوں نہیں آتی ۔ میر سجاول نے حسبِ عادت اس کی نازک گردن کواپنے مضبوط ہاتھ میں جکڑ لیا۔
میر سائیں ! پلیز ! چھوڑیں ۔میرا دم گھٹ رہا ہے ۔زرتاج کے گلے سے گھٹی گھٹی آواز نکلی ۔
جب تک زار یہاں ہے ، مجھے اپنی بات دہرانی نہیں پڑے ۔میرسجاول نےہاتھ ہٹاتے ہوئے تنبیہہ کی۔زرتاج کی سرخ آنکھوں سے پانی بہہ نکلا ۔
سوری دلبر سائیں ! مجھ سے ایک پل بھی دور رہنے کی بات زبان پر مت لایا کرو۔ پاگل ہوجاتا ہوں ۔میر سجاول نے مسکراتے ہوئے اپنی انگلیوں کے پور سے اس کےآنسو صاف کئےپھراس کی سرخ پڑتی گردن کو لبوں سے چھوا ۔
باباسائیں ! میری اماں کہیں نہیں جائیں گی ۔وہ میرے پاس سوئینگی ۔آپ اپنے روم میں جا کر سوجائیں ۔ میرزوار نے پٹ سے آنکھیں کھول کر حکمیہ کہا ۔
اوہ ! زار صاحب جاگ رہے ہیں ،ہمیں تو لگا ہمارے ولی عہد سو چکے ہیں۔ویسے یہ آپ کی اماں بعد میں پہلے میری دلبر ہیں ۔ میر سجاول فوراً سےپیشتر سیدھا ہوکر بیٹھ گیا ۔خجالت مٹانے کے لئےاس کے بال بگاڑ کر پیار سے بولا ۔
اب یہ صرف میری اماں ہیں ۔ میر زوار کے لہجے میں وہی ضد تھی جو میر سجاول کی شخصیت کا خاصہ تھی ۔
میرے شہزادے ! میں نے کب کہا کہ یہ میری بھی اماں ہیں ۔میں تو یہ کہہ رہا ہوں کہ یہ میری دلبر سائیں ہیں ۔ میر زوار نے زبردست قہقہ لگایا ۔
میں اور اماں کب سے آپ کا ویٹ کررہے تھے ، ہم نے ڈنر بھی کر لیا پھربھی آپ نہیں آئے ۔ آپ نے پرامس کیا تھا ہمیں فارم ہاؤس لے کر جائیں گے ۔ میر زوار کا موڈ بے حد آف تھا ۔
زار سائیں ! اپنے بابا سے اس طرح بات نہیں کرتے ۔بابا کام سے گئے ہوئے تھے ۔ وہ ہمیں کل لے جائیں گے ۔ اب آپ بابا کو سوری کریں ۔ زرتاج نے فوراً اس کی سرزنش کی ۔
دلبر سائیں ! میرا بیٹا کبھی کسی کو سوری نہیں کرے گا ۔ اس کا باپ دن رات اپنی بیوی کو سوری کرتا ہے ، وہی کافی ہے ۔
میر سجاول نے اسے ٹوکتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ کر لبوں سے لگایا ۔
زرتاج بیٹے کی موجودگی میں میر سجاول کی شرارت پر دم سادھ گئی۔
میر زوار سائیں ! آپ کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکیں گے بلکہ دنیا کو اپنے سامنے جھکنے پر مجبور کر دیں گے ۔ آپ جھکیں گے بھی نہیں اور آپ کو ٹوٹنا بھی نہیں ہے ۔ آپ ہر مشکل کے سامنے ڈٹ کر کھڑے رہیں گے اور بلا خوف و خطر حالات کا مقابلہ کریں گے ۔ میر سجاول اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سنجیدگی سے بولا ۔
یو آر دا بیسٹ بابا آف دز ہول ورلڈ ۔ میر زوار نے اٹھ کر جوش سے کہتے ہوئے دونوں بانہیں میر سجاول کے گلے میں ڈال کر شدت سے باپ کا گال چوما ۔ میر سجاول نے بھرپور قہقہہ لگا کر اسے بھینچ لیا ۔
دونوں باپ بیٹے کا لاڈ دیکھ کر زرتاج نے نظروں سے ان کی بلائیں لیں۔وہ نثار ہونے والی نظروں سے انہیں دیکھ رہی تھی ۔
عالیشان وصیع و عریض کمرے میں مدہم سی روشنی پھیلی ہوئی تھی ۔ سرد رات کے تیسرے پہر جتنا سناٹا اسلام آباد کی سنسان فضائوں میں تھا ، اس سے کئی گنا ذیادہ سناٹے اس کی ذات میں پھیلے ہوئے تھے ۔ وہ صوفے کی پشت سے سر ٹکائے ٹانگ پر ٹانگ رکھے سگریٹ کے گہرے کش بھرتے ہوئے نجانے کب سے دھندلی یادوں کے دریچوں میں بھٹک رہا تھا ۔
ماں کا دمکتا ہوا چہرہ ، باپ کی وجاہت سے بھرپور صورت اس کی بند آنکھوں کی اسکرین پر پوری آب وتاب سے چمک رہی تھیں ۔اس نے بے کل و بے قرار ہوکر آنکھیں کھول دیں ۔ انگلی اور انگوٹھے کی مدد سے آنکھیں مسل کر ان میں آئی نمی کو دبایا ۔
وحشت اس قدر بڑھنے لگی کہ اس نے ٹیبل سے بلیو لیبل اٹھا کر گلاس میں انڈیلی پھرگلاس منہ سے لگا کر اپنے اندر انڈیلا۔گلاس پر گلاس انڈیلنے کے بعد اس کی بے قراری سرد پڑی تو دوبارہ سگریٹ سلگا کر ٹیرس پر آگیا ۔ سخت سردی کی لہر بھی اس کے اندر موجود نارسائی کے دہکتے الاؤ کو کم کرنے میں ناکام تھی ۔
جاری ہے
