60.7K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 37

نیناگھٹنوں کے گرد بازو لپیٹے غیر مرئی نقطے پر نظریں جمائے ساکت بیٹھی تھی ۔ میرزوار کی گرفتاری کو ایک ماہ گزر چکا تھا مگر اس کی رہائی کے آثار تاحال نظر نہیں آرہے تھے ۔
میرسبطین اور میر جاذب سے بڑھ کر زعیم شاہ اس کے لئے بھاگ دوڑ کررہا تھا ۔ نینا کی دن بہ دن ابتر حالت پر اس کا دل پھٹا جاتا ۔ وہ اسے میرزوار سے ملوانے کے لاکھ جتن کرچکا تھا مگر انویسٹیگیشن پوری ہونے تک اعلیٰ حکام انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دے رہے تھے ۔
اس ایک ماہ میں وہ تو جیسے جینا ہی بھول گئی تھی ۔ سارا سارا دن منہ لپیٹے پڑی رہتی یا پھر خلاؤں میں گھورتی رہتی۔ کیس سے متعلق جو خبریں گردش کررہی تھیں ان کا خیال ہی سوہانِ روح تھا ۔
عروش اور اروما مستقل اس کے پاس ٹہری ہوئی تھیں ۔ اس کی اجاڑ حالت پر عروش کا دل خون کے آنسو روتا ۔
نین ! تمھیں ہماری اپنی ، اپنے شوہر کی کسی کی بھی پرواہ نہیں مگر کم از کم اپنی ہونے والی اولاد کے بارے میں تو سوچو تم اس کے ساتھ کتنا برا کررہی ہو ۔ تمھاری لاپرواہی اس کی جان پر بھی بن سکتی ہے وہ تو ان حالات سے بے خبر ہے اسے کس بات کی سزا دے رہی ہو ؟ عروش اسے بہت دیر سے کھانا کھانے کے لئے منتیں کررہی تھیں ۔ وہ پچھلے چو بیس گھنٹوں سے بھوکی تھی ۔
تمھارے بھوکے رہنے سے وہ واپس آسکتا تو میں کبھی تمھیں کھانے کے لئے نہیں کہتی ۔ تم سمجھدار ہو حالات کو سمجھنے کی کوشش کرو اور رحم کرو اپنے بے بی پر اور ہم سب پر بھی ۔ وہ اس کی بے حسی سے زچ ہوگئی تھیں۔
مجھے ان سے ملنا ہے اماں اب میں اور برداشت نہیں کرسکتی مرجاؤں گی ۔ آپ مجھے یہاں سے نکلنے تو دیں ۔ میں خود ان سے ملنے کا کوئی نہ کوئی راستہ نکال لوں گی ۔ وہ چونک کر یوں بولی جیسے گہری نیند سے جاگی ہو ۔
تم پاگل ہوئی ہو مگر میرے ہوش سلامت ہیں ۔ ایسے کیسے تمھیں خوار ہونے کے لئے جانے دوں ۔ تمھیں نہیں پتا ان چکروں میں کتنے دھکے کھانے پڑتے ہیں اور پھر سبھی کوشش کررہے ہیں ۔ شاہ نے تو دن رات ایک کردئیے ہیں ۔
وہ سب کچھ نہیں کرپارہے تو ایک بار مجھے کوشش کرنے دیں ۔آپ لوگ میرے صبر کو کیوں آزما رہے ہیں ؟ وہ چیخ پڑی ۔
عروش کے جواب دینے سے پہلے ہی زعیم شاہ دھیرے سے ناک کرکے اندر آگیا ۔
اس نے ایک نظر صوفے پر خاموش بیٹھی اروما پر ڈالی اور نینا کے پاس چلا آیا ۔
بھائی آپ ایک بار مجھے کوشش کرلینے دیں ۔ شاید انہیں مجھ پر رحم آجائے اور ملنے دیں ۔
اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے درخواست اپروو ہوگئی ہے ، کل تم اس سے مل سکتی ہو ۔ وہ اس کا گال تھپ تھپا کر سنجیدگی سے بولا ۔
آپ سچ کہہ رہے ہیں ؟ میں ان سے مل سکتی ہوں ؟ لیکن کل کیوں ، ابھی کیوں نہیں ؟ وہ بے صبری سے بولی ۔ شاہ نے اسے ذندگی کی نوید سنائی تھی ۔ نینا آن کی آن میں جانبر ہوگئی ۔
ایسا نہیں ہوسکتا میری جان ، ملاقات صرف مقررہ وقت پر ہی ہوسکتی ہے ۔ یہ بھی کیسے پاسیبل ہوا ہے میں ہی جانتا ہوں ، کہاں کہاں نہیں اپروچ کرنا پڑا ہے ۔ نینا کے چہرے پر دوڑتی ذندگی کو دیکھ کر وہ قدرے پرسکون ہوگیا ۔ نینا نے اثبات میں سر ہلایا ۔
آپ کا مجھ پر بہت بڑا احسان ہے ، ذندگی نے موقع دیا تو ضرور قرض اتار دوں گی ۔ وہ نم آنکھوں سے اس کا ہاتھ تھام کر ممنون ہوگئی ۔
ایک زوردار تھپڑ لگاؤں گا تو سارے قرض اتر جائیں گے ۔ تمھارا صرف لینے کا حق ہے دینے کی بات بھی کبھی مت کرنا ۔ شا نے اسے آنکھیں دکھائیں پھر اروما کو مخاطب کیا ۔
اب یونہی بیٹھی رہو گی یا میرے کھانے پینے کا بھی کچھ انتظام کروگی ۔۔۔۔۔۔ شوہر دن بھر مارا مارا پھر کر لوٹا ہے مگراس لڑکی کو کوئی پرواہ ہی نہیں ہے ۔ مزے سے بیٹھی ہے ۔
وہ ۔۔وہ آپ نین سے بات کررہے تھے اس لئے میں خاموش تھی آپ کے فارغ ہونے کا انتظار کررہی تھی ۔ آپ چلیں فریش ہوجائیں میں کھانا لگوا دیتی ہوں ۔ اروما نے گڑبڑا کر وضاحت پیش کی ۔
تم سے بھی حد ہے شاہ وہ بے چاری تو شام سے اب تک دس بار تمھارا ذکر کر چکی ہے تمھارے انتظار میں اس نے بھی ڈنر نہیں کیا اور تم الٹا اسے باتیں سنا رہے ہو ۔ عروش برہمی سے گویا ہوئیں ۔
یہ نیند والی گرل ہے اماں اس سے اسی ٹون میں بات کرنا پڑتی ہے ورنہ یہ ہر وقت بس سلیپنگ کوئن بنی رہے ۔ وہ اسے مسکراتی نگاہوں سے دیکھ کر شرارت سے بولا رومی چپ چاپ وہاں سے روانہ ہوگئی ۔
“”””””””””””””
ناراض ہو ۔۔۔۔۔؟ یا پھر کوئی اور بات ہے ؟ اروما کو کھانا لگانے سے لے کر ٹیبل پر بیٹھنے تک خاموش دیکھ کر وہ پوچھے بنا نہیں رہ سکا ۔
ایسی تو کوئی بات نہیں ہے ۔ وہ مبہم سا بولی ۔
سوری یار تمھیں ٹائم نہیں دے پارہا ، اتنی مصروفیات ہیں کے تمھارے لئے تھوڑا سا بھی ٹائم نہیں ملتا ۔ رات بھی گھر آنے میں لیٹ ہوگیا ۔ جب پہنچا تم سوچکی تھی ۔ صبح ایک بندے سے ملنا تھا اس لئے تمھارے جاگنے سے پہلے ہی نکل گیا ۔
پلیز ! آپ ایسا مت سوچیں ، مجھے آپ کی مصروفیت کا احساس ہے ۔ آپ کو صفائی دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔
پھر کھانے پر توجہ کیوں نہیں دے رہی اور منہ کیوں لٹکا ہوا ہے ؟
میں نین کے لئے بہت پریشان ہوں ، اس کی یہ حالت مجھ سے دیکھی نہیں جاتی ۔۔۔۔۔۔پتا نہیں ہمیں خوشیاں راس کیوں نہیں آرہیں ۔ وہ یکدم آبدیدہ ہوگئی ۔
پریشانیاں بھی اللہ کی طرف سے آتی ہیں ۔ ہمیں ان کو بھی خوشیوں کی طرح دل سے قبول کرنا چاہئے ۔ رہی بات نینا کی تو اس پر آزمائش کا وقت ہے ٹل جائے گا ۔ تم پریشان مت ہو ۔
آپ اس کے لئے کچھ کرتے کیوں نہیں ؟ اب تک زاری بھائی کی بیل نہیں ہوسکی ۔ آپ ان کو واپس گھر لے آئیں وہ ٹھیک ہوجائیگی ۔
یار ! ہم سارے کام چھوڑ کر کوششوں میں تو لگے ہیں ۔ اب تمھیں کیا بتاؤں اس کے لئے کیا کررہا ہوں اور میرزوار کے کیسز کوئی معمولی کیسز بھی تو نہیں ہیں جن پر بیل ہوجائے ۔ صاحب نے بھی اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی انتہا کردی ۔تم سب جانتی ہو پھر بھی نادانی کی باتیں کر رہی ہو ۔ تمھیں کیا لگتا ہے میں کچھ بھی نہیں کررہا ؟ وہ ہاتھ روک غصے سے بولا ۔
میں نے یہ تو نہیں کہا کہ آپ کچھ بھی نہیں کررہے ۔بس یہ چاہتی ہوں جلدی سے زاری بھائی باہر آجائیں اور نینا یا اس کے بے بی کو کوئی نقصان نہ ہو ۔ وہ آف موڈ میں بولی۔
پوری کوشش ہے اسی منتھ اس کی بیل ہوجائے ۔ جیک لگایا ہے اللہ کرے کام ہوجائے ۔ تم دعا کرو ۔ وہ اس بار نرمی سے بولا ۔
انشاء اللہ ہوجائے گا ۔ اس نے دھیرے سے کہا ۔
یہ بلکل تمھارے جیسا ہے ۔ شاہ نے فرائیڈ فنگر فش کا پیس منہ میں رکھا اور سنجیدگی سے بولا ۔
کیا مطلب ۔۔۔۔۔؟ اروما حیران ہوئی ۔
میرا مطلب ہے کہ تمھاری طرح بہت ٹیسٹی ہے ، تم نے بنایا ہے ؟ شاہ نے ایک آنکھ دبائی ۔
کک نے بنایا ہے ۔ اروما اس کی ذومعنی بات پر بلش کر نے لگی ۔
“”””””””””””””””
نینا لائیٹ پنک لان کے سادے سے سوٹ پر بڑی سی شیشوں کے کام سے مزین بلیک چادر اوڑھے اڈیالہ جیل کے اندر موجود لان میں رکھی بینچ پر بیٹھ کر بے صبری سے میرجاذب کا انتظار کررہی تھی ۔ وہ ضروری فارملیٹیز پوری ہونے تک اسے یہاں بٹھا کر گیا تھا ۔
راول پنڈی کا موسم بے حد خوشگوار اور آسمان پر منڈلاتی گھٹائیں
گھر گھر آرہی تھیں مگر اس کے اندر کے موسم پر اثر انداز ہونے سے قاصر تھیں ۔ اس کی بے چینی عروج پر تھی ۔ سہانہ موسم بھی اس کی توجہ اپنی جانب کھینچنے میں ناکام تھا ۔
میر جاذب دور سے آتا دکھائی دیا تو وہ فوراً سے پیشتر کھڑی ہوگئی اور اس نذدیک پہنچنے کا انتظار کئے بغیر چل پڑی ۔
کہاں رہ گئے تھے ؟ میں کب سے انتظار میں بیٹھی ہوں ۔ وہ بے تابی سے بولی ۔
دید کا انتظار بہت صبر آزما ہوتا ہے مگر محترمہ سرکاری چکروں میں ایسے ہی خواریاں کرنی پڑتیں ہیں ۔ اب جلدی چلو سرکار سے ملاقات کے انتظامات مکمل ہوچکے ہیں ۔ وہ شوخی سے گویا ہوا پھر اس کو اپنے ساتھ لئے جیل کے اندرونی حصے کی طرف بڑھا ۔
وہ اسے لے کر ایک کمرے میں داخل ہوا جہاں کرخت تاثرات لئے موٹی موٹی مونچھوں والے جیل سپریٹینڈنٹ ٹیبل کے پیچھے چئیر پر بیٹھے فائل کی ورق گردانی میں مصروف تھے ۔
میر جاذب کے ساتھ نینا کو دیکھ کر اس کا سراتاپا تفصیلی جائزہ لیا ۔ نینا کو ان کی نظریں اپنے اندر تک گڑتی ہوئی محسوس ہورہی تھیں ۔
زرا جلدی کریں گے ، پہلے ہی بہت دیر ہوگئی ہے ۔ میر جاذب بری طرح گھورا پھر ناگواری سے بولا ۔
صاحب جہاں اتنی دیر ہوگئی ہے وہاں تھوڑی اور سہی شکر کریں آپ کو پرمیشن مل گئی ورنہ حالات کا تو آپ کو معلوم ہی ہے ۔ بحرحال ابھی ملاقات کروادیتے ہیں ۔
تنویر ! شہناز کو بھیجو ۔ انہوں نے نینا کے چہرے پر نگاہیں جمائے آفیسر کو حکم دیا ۔ چند لمحے بعد دو خوبصورت ستواں ناک اور بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی لیڈی کانسٹیبل اندر داخل ہوئیں ۔
لیڈی کانسٹیبل نے ٹیبل پر رکھی اسٹیمپ اٹھائی اور اسے انک پیڈ پر پریس کیا پھر نینا کو ہاتھ آگے کرنے کے لئے کہا ۔
اس نے نینا کے ہاتھ کی پشت پر مہر لگادی ۔بلکل ایسی ہی مہر میر جاذب کے ہاتھ پر بھی لگائی گئی تھی ۔
آئیے ۔ ان میں سے ایک نے ان دونوں کو اپنے ساتھ چلنے کے لئے کہا ۔
وہ دونوں کانسٹیبل کی مدعیت میں روم سے باہر نکل کر اس کے پیچھے چل رہے تھے ۔ ایک چھوٹے سے روم کے سامنے پہنچ کر کانسٹیبل نے میر جاذب کو وہاں رکنے کے لئے کہا اور نینا کو لے کر روم میں داخل ہوگئی ۔
نینا کی تلاشی کے دوران ہی میر جاذب کی بھی تلاشی لی جا چکی تھی ۔ اب وہ ان دونوں کو لے کر اسی روم کے ساتھ بنے دوسرے روم میں لے آئی ۔
نین ! تم پہلے آرام سے مل لو پھر میں آجاؤں گا ۔ وہ ان دونوں کو پرائیوسی دینے کے خیال سے باہر چلاگیا ۔
نینا نے اس کے جانے کے بعد چاروں طرف نظر دوڑائی ، یہ درمیانے سائز کا کمرہ تھا ، جس دروازے سے وہ اندر آئی تھی اس کے علاوہ بھی وہاں دو دروازے موجود تھے ۔ دیواروں کے ساتھ بینچز لگی تھیں ۔ اس کے دائیں جانب والا دروازہ کھلا اور میرزوار نے ذندگی سے بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ کمرے میں قدم رکھا ۔
گرے کاٹن کے سوٹ ، قدرے بڑی ہوئی شیو اور گھنی مونچھوں میں وہ بلا کا ہینڈسم اور اسمارٹ لگ رہا تھا ۔ آنکھوں کے سرخ ڈوروں کی سرخی بے خوابی کی چغلی کھارہی تھی ۔
اسے ایک ماہ بعد اپنے روبرو ہنستا مسکراتا دیکھ کر نینا کے ارد گرد وقت ٹہر گیا ۔ سماعتوں سے ٹکراتا بھنبھناتا شور سکوت میں تبدیل ہوگیا ۔ وہ پتھر کا بت بنی کھڑی تھی تبھی میرزوار نے اس کے پاس پہنچتے ہی اسے گلے سے لگا کر پوری شدت سے بھینچ لیا ۔
آج میرا دل گواہی دے رہا تھا تم ضرور آؤگی۔ تم ہر بندش توڑ کر آؤگی ، تم سے ملے بغیر تو میری روح بھی جسم سے جدا ہونے سے انکار کردیتی ۔ وہ اسی طرح اسے بھینچے ہوئے تھا نینا کے تڑپ کر رونے پر بھی الگ نہیں کیا ۔ وہ اسے جی بھر کر رودینے چاہتا تھا ۔
شاید تم نے چیکنگ کرلی ہے ۔۔۔۔۔پھر یہاں کیا کررہی ہو ؟ گیٹ لاسٹ ! باہر کھڑی رہ کر ملاقات ختم ہونے کا انتظار کرو ۔
میرزوار نے کانسٹیبل کو زبردست جھاڑ پلائی ۔ وہ خجالت سے سرخ چہرہ لئے چلی گئی ۔
یہی تھی وہ جس نے تمھاری تلاشی لی ہوگی ۔۔۔۔۔؟ اس نے تمھیں ٹچ کیا ہے ، آج رات ہی اس کے ہاتھ کٹوا دوں گا ۔ وہ شعلہ بار نگاہوں سے بند دروازے کو گھورتے ہوئے سفاکی سے بولا ۔
آپ کو میری قسم ، اللہ کا واسطہ ہے ایسا کچھ مت کرنا ۔ آپ کی انہی جائز ناجائز کاموں ، انسانوں کا بے دریغ خون بہانے کی وجہ سے ہم پر برا وقت آیا ہے ۔ اب تو مان جائیں ۔
میں ہر پل میں ہزاروں موت مرتی ہوں زار ہر گزرتا دن مجھے دھیرے دھیرے ذندگی سے دور لے جارہا ہے ۔ آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ آپ تو مجھ سے محبت کرتے تھے پھر کیوں گناہوں کے دلدل میں دھنستے چلے گئے ۔۔۔۔۔۔آپ کو ایک بار بھی میرا خیال نہیں آیا کہ میں آپ سے دور رہ کر کیسے جیوں گی ؟ وہ اس کا گریبان تھامے کھڑی تھی ۔
صرف تمھارے لئے ، یہ سب میں نے تمھارے لئے تو کیا ہے ۔ میں تمھیں دنیا کی ہر آسائش دینا چاہتا ہوں ۔ میرے بچے جس چیز پر ہاتھ رکھیں وہ ان کی دسترس میں ہو ۔۔۔۔۔۔ ان کی کوئی خواہش ادھوری نہ رہ جائے اور آج میں اس پوزیشن میں ہوں کہ میری آنے والی نسلوں کو بھی کمی نہیں ہوگی ، مجھے یاد کریں گی ۔بس افسوس اس بات کا ہے کہ میرا برا وقت زرا جلدی آگیا ۔
آپ نے جو چاہا پا لیا مگر میرا تو سب کچھ لٹ رہا ہے ۔۔۔۔کسی بھی سزا کی صورت میں ہم بچھڑ گئے تو میں کہیں کی نہیں رہوں گی ۔ وہ دکھ سے بولی ۔
تم پر دل ہے ، تم ہمیشہ دل میں رہوگی چاہے میں زمین کے نیچے رہوں یا اس زمین کے اوپر کیا فرق پڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ہم دونوں قبر میں بھی اتر جائیں گے تب بھی جدا نہیں ہوسکتے ۔تمھیں مجھ پر بھروسہ ہے ناں ؟ اس نے زرا سا جھک کر نینا کی آنکھوں میں جھانکا پھر بھاری دلفریب آواز میں پوچھا ۔
ہمم ۔۔۔۔۔نینا نے اثبات میں سر ہلایا ۔ وہ اس سے نظریں ملائیں کھڑی تھی شدت ضبط سے لب کپکپارہے تھے ۔ میر زوار ہولے سے ہنسا ۔
پھر کیوں گھبرارہی ہو ۔۔۔۔۔۔عشق والوں کے درمیان جدائی نہیں ہوتی ۔ اب دیکھوں زرا تم نے اپنا کیا حال بنایا ہے ۔ وہ اس سے دو قدم پیچھے ہٹا اور پشت پر ہاتھ باندھ کر گہری نظروں سے اس کا جائزہ لیا ۔
وزن پہلے بھی نا ہونے کے برابر تھا اس پر بھی گھٹانا بہت ضروری تھا کیا ؟ اور یہ زرد رنگت ، ڈارک سرکلز ۔ نین سائیں میں نے اس لئے تو تمھیں اپنا نہیں بنایا تھا کہ تم وقت سے پہلے ہی کمزور پڑجاؤ ۔ مجھے تو لگا تھا تم میرے لئے دنیا سے لڑ لوگی مگر تم تو میرے اندازے غلط ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہو ۔ اس نے تاسف سے نفی میں سر ہلایا ۔
اکیلے نہیں لڑ سکتی ۔ آپ کا ساتھ چاہئے ۔ آپ کے بغیر میں کچھ بھی نہیں کرسکتی ۔ وہ روتے ہوئے بے اختیار اس سے لپٹ گئی ۔
تم محسوس تو کرو یار ، میں ہر وقت تمھارے ساتھ ہوں ۔ تم میری طرح سوچ کر تو دیکھو پھر کبھی خود کو مجھ سے الگ نہیں سمجھوگی ۔ میں یہاں بیٹھ کر بھی اداس کیوں نہیں ہوں کیونکہ تم ہر پل میرے دل میں ، میرے خیالوں میں ہو ۔ تمھاری یاد میرے ساتھ ہے اور یادوں کے ساتھ مشکل ترین وقت بھی آسانی سے کٹ جاتا ہے ۔
وہ ملاقات کا وقت ختم ہونے تک اسے نرمی سے سمجھاتا رہا مگر پھر بھی جب خارجی دروازے پر پہنچ کر نینا نے اسے مڑکر حسرت بھری نظروں سے دیکھا تو اس کی آنکھوں میں مچلتی بے بسی میرزوار کے پتھر دل کو چھلنی کرگئی ۔
روم سے باہر نکلنے کے بعد ایک بار پھر اسے تلاشی کے عمل سے گزارا گیا لیکن اب وہ کسی کوفت میں مبتلا نہیں تھی بلکہ اس کے احساسات پر مردہ جذبات کی سرد تہہ جم گئی تھی ۔
جاری ہے