60.7K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

(ماضی)
تم بھی ان کے ساتھ کراچی جارہی ہو ۔۔۔۔۔؟
جی ! انہوں نے بڑے میرسائیں کے الیکشن جیتنے کی خوشی میں بہت بڑی پارٹی رکھی ہے ۔ وہ چاہتے ہیں میں بھی یہ پارٹی ضرور اٹینڈ کروں اس لئے مجھے بھی ساتھ لے جارہے ہیں ۔ زرتاج سادگی سے بولی ۔
تمھارے مزے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔میرسائیں تمھیں خوب گھماتے ہیں ۔جب دیکھو کہیں نا کہیں سیر و تفریح کرتی پھرتی ہو ۔ بہت خوش نصیب ہو ۔ عروش نے نینا کے کھلونے سمیٹتے ہوئے مصروف سے انداز میں اسے چھیڑا ۔
آپ بھی شاہ جی سے کہا کریں وہ آپ کو سیرو تفریح کروانے سے انکار تو نہیں کریں گے ۔ زرتاج کے یاقوت لبوں پر شرمیلی مسکان چھپ دکھلا کر غائب ہوگئی ۔ اس نے عروش کو مشورہ دیا ۔
تم میر سجاول کو کہتی ہو کیا ؟ وہ خود ہی تمھیں اپنے ساتھ رکھتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔جو بات کرنے میں ہے ، وہ کہنے میں نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کرنے والوں کو کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی ، وہ اور ہی ہوتے ہیں جیسے تمھارے میر سائیں ۔” عروش
دھیرے سے اس کا گال چھو کر مسکرائی ۔
شاہ جی آپ کو کہیں نہیں لے جاتے ۔۔۔۔۔۔۔؟ زرتاج نے حیرانگی سے پوچھا ۔ وہ رانیہ کے بیٹے کی عیادت کے لئے آئی تھی جو کافی دن سے بیمار تھا مگر اس وقت دونوں ماں بیٹے سوئے ہوئے تھے اس لئے وہ فرصت سے عروش کے پاس بیٹھی باتیں کررہی تھی ۔ میر سجاول اسے ڈراپ کرکے جاچکا تھا ۔
وہ ذیادہ تر اپنے جھمیلوں میں الجھے رہتے ہیں مگر ایسا بھی نہیں ہے کہ کہیں بھی نہیں لے جاتے شاپنگ وغیرہ پر لے جاتے ہیں اور پکنک پر بھی مگر ایسا کبھی کبھار ہوتا ہے ۔
اس میں ذیادہ قصور ان کی نیچر کا بھی ہے ۔ وہ میر سجاول کی طرح رومینٹک نہیں ہیں جو ساتھ لئے لئے پھریں ۔ عروش نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے بات کے اختتام پر اسے ٹہوکا دیا ۔ زرتاج بلش کرنے لگی ۔
میں بھی ان کی ضد کی وجہ سے مجبور ہوجاتی ہوں کہ وہ مجھے اپنے ساتھ رکھنے کا کوئی نا کوئی بہانہ ڈھونڈ ہی لیتے ہیں وگرنہ آپ جانتی ہیں ، میں تو عادی بھی نہیں ہوں ۔ شادی سے پہلے گاؤں سے باہر بھی نہیں گئی تھی۔ زرتاج اپنے محبوب شوہر کے ذکر پر کھلکھلا کر ہنس دی ۔
ہممم ۔۔۔۔۔۔تبھی تو وہ تمھارا دیوانہ بنا پھرتا ہے ۔ عروش نے چٹکی لی ۔ زرتاج نے مسکرانے پر اکتفا کیا پھر موضوع بدلنے کے لئے بولی ۔
رانیہ آپی تو شاید ہی پارٹی میں آئیں ، کیا آپ بھی نہیں آئیں گی ؟
بہت مشکل ہے ۔ شاہ نے چلنے کے لئے کہا تو ضرور آؤں گی ۔سفیان کی طبیعت بہتر ہوتی اور رانیہ بھی آرہی ہوتی تو بھی آنا ممکن تھا مگر اب کچھ کہہ نہیں سکتی ۔ تمھاری واپسی کب تک ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔؟ عروش نے تفصیلاً جواب دینے کے بعد استفسار کیا ۔
پارٹی کے بعد میر سائیں کچھ دن وہاں مصروف رہیں گے پھر ہم چھوٹے میر (میرزوار)سے ملنے جائینگے ۔ بہت دن ہوگئے انہیں دیکھا نہیں ہے ۔ یاد آرہی ہے ۔ زرتاج نے افسردگی سے کہا ۔
تم نے بھی تو اپنے اکلوتے بیٹے کو ابھی سے اتنی دور بھیج دیا ہے ۔ تھوڑا سمجھدار ہوجاتا پھر بورڈنگ میں ڈالنا چاہئے تھا ۔عروش کو اس کے افسردگی سے کہنے پر ترس آیا ۔
میں نے تو بہت منع کیا تھا مگر وہ میری تھوڑی نا سنتے ہیں ، جو کام انہیں اپنی مرضی سے کرنا ہوتا ہے وہاں میری بھی نہیں چلاتے ۔ زرتاج منہ بنا کر بولی ۔
میں سمجھ سکتی ہوں ۔ عروش اس کے معصوم سےانداز پر بے اختیار ہنس پڑی ۔
“””””””””””””””””””””
معظم شاہ کسی کام سے اپنے روم کی طرف آیا تھا زرتاج کی آواز پر ٹھٹک گیا ۔لاک پر ہاتھ جمائے کچھ دیر سنتا رہا پھر تنفر سے سوچتا ہوا واپس پلٹ گیا ۔
اسے مردانے میں بیٹھ کر سگریٹ پر سگریٹ پھونکتے ہوئے آدھی رات گزر چکی تھی مگر سوچ ناجانے کہاں سے کہاں بھٹک رہی تھیں ۔
میر سجاول کی زبردست کیمپئین کی وجہ سے میر جعفر نے ووٹس کی بڑی تعداد سے لیڈ کیا تھا اور پہلی بار صفدر شاہ اور معظم شاہ کو شکست کا سامنا ہوا ۔
میر سجاول کی ہر قدم پر کامیابی نے معظم شاہ کی نیندیں حرام کردیں تھیں ۔ وہ ہر لحاظ سے ان سے آگے نکلے جارہا تھا اور یہ سب برداشت کرنا کم از کم معظم شاہ کے لئے اتنا آسان بھی نہیں تھا ۔
دونوں خاندانوں کی دشمنی ختم ہونے پر اس نے بھی کسی حد تک اپنا دل صاف کرلیا تھا مگر دل میں بال برابر میل رہ گیا تھا جو اب گہرے شگاف میں تبدیل ہوتا جارہا تھا ۔
میر سجاول کی کامیابی و کامرانی سے اس کے اوپر بہت اوپر جانے کے آثار صاف نظر آرہے تھے ۔
میر خاندان کے سیاسی کرئیر کو چمکانے والا میر سجاول ہی تھا اور اگر وہ ہی نا رہے تو باقی کون بچے گا ، میر جعفر اس کے بعد سب کچھ اس کی طرح کبھی نہیں سنبھال سکتے تھے۔
میر غضنفر اور ان کے بیٹوں کا لائف اسٹائیل یکسر مختلف تھے ۔ وہ ہر گز بھی سیاست میں آگے آنے کی کوشش نہیں کریں گے ۔راستہ خود بخود صاف ہوتا چلا جائے گا ۔
انہیں سفاک سوچوں میں صبح کاذب کے پر بھیگنے لگے اور معظم شاہ نے اس نہج پر سوچتے ہوئے خود غرض فیصلہ کرلیا ۔
“”””””””””””””””””
دلبر سائیں ! آپ تیار ہوگئیں یا ابھی اور وقت لیں گی ؟ جلدی کریں یار ! ہمیں وہاں پہنچ کر تھوڑی شاپنگ بھی کرنی ہے ۔
میں نے تمھارے لئے ڈریس ڈیزائن کروایا ہے جو تم پارٹی میں پہنوگی۔ وہ تو ریڈی ہوگا مگر میچنگ جیولری اور پارٹی وئیر بھی لینا ہیں ۔
اتنا ٹائم یہاں لوگی تو آج ہی آج میں اتنے سارے کام کیسے ہونگے ۔ وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑی زرتاج کی کمر کے گرد بازو حمائل کرتے ہوئے بولا ۔
میرے پاس ہر کلر کے اسٹونز کی ڈھیروں میچنگ جیولری ہے اور بے حساب پارٹی وئیرز بھی موجود ہیں ۔ ایک چیز بھی خریدنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ میں آپ کو ابھی بتارہی ہوں ہم تھوڑی سی بھی شاپنگ نہیں کریں گے ۔ زرتاج اسے آئینے میں گھورتے ہوئے فوراً سے پیشتر بولی ۔
اوکے دلبر ! شاپنگ کا پروگرام کینسل کررہی تو پھر تھوڑا سا رومینس کر لیتے ہیں شہر ہی تو پہنچنا ہے ، لیٹ پہنچ جائیں گے ۔
وہ دلکشی سے مسکراتے ہوئے شرارت سے اس کے رخسار پر جھکا ۔ زرتاج کی لرزتی پلکیں اس کی سانسوں کی حدت پر بوجھل ہوکر بند ہونے لگیں ۔
میر سجاول کی قربت کے پر کیف لمحات اسے شادی کے نو دس برس گزر جانے کے باوجود بھی یوں ہی بے خود کردیتے تھے ۔
میر کی دیوانگی حسبِ معمول حد سے گزرنے لگی تب زرتاج نے ہی ہوش کی دنیا میں قدم رکھنے کی جسارت کی اور دونوں ہاتھوں سے اسے پرے دھکیلا ۔
یار ! سارا موڈ خراب کردیتی ہو ۔ اتنی ظالم تو نا بنو ۔ اس کی مسکراتی نگاہوں میں چاہت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجزن تھا ۔
ہمیں آج ہی کراچی پہنچنا ہے ورنہ بابا سائیں آپ سے ناراض ہوجائیں گے ۔ کچھ تو خیال کریں انہوں نے بہت سے کام آپ کے ذمے لگائے ہیں ۔ وہ نرمی سے کہتی ہوئی اس کا ہاتھ تھام کر کھینچتی ہوئی باہر لے آئی ۔
وہ میرے بابا سائیں ہیں ۔ مجھ سے کبھی ناراض نہیں ہوتے ۔ ہم شام کی جگہ رات کو پہنچ جاتے تو کونسی قیامت آجاتی ۔ وہ بڑبڑاتے ہوئے گاڑی اسٹارٹ کر چکاتھا ۔
آپ کو وقت بے وقت رومینس کے دورے پڑتے ہیں اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اپنے ضروری کام ادھورے چھوڑ دیں ۔ بابا سائیں وہاں ہمارا انتظار کررہے ہوں گے ۔ کتنا برا لگے گا اگر ہم وقت پر نہیں پہنچیں گے ۔ وہ اس کے پیشانی پر بکھرے سلکی بالوں کو سمیٹ کر اوپر کرتے ہوئے سنجیدگی سے بولی ۔
زری ! تمھیں پتا ہے ، تم بہت بری ہو ۔ اس نے منہ بگاڑ کر اسے گھورتے ہوئے سگریٹ لبوں میں دبا کر سلگائی ۔
جی مجھے پتا ہے ، بہت بری ہوں مگر آپ سے زرا کم ۔ زرتاج شرارت سے کہہ کر ہنس پڑی ۔
تم بہت بگڑتی جارہی ہو ، بدتمیزی کرنے لگی ہو ۔ شادی سے پہلے میرے سامنے حلق سے آواز بھی نہیں نکلتی تھی ، اب پٹر پٹر جو جی میں آتا ہے بولتی ہو ۔ میرسجاول کی پیشانی پر لاتعداد بل پڑگئے ۔اس نے زرتاج کی کلائی پکڑ کر زور سے جھٹکا دیا پھر اسٹئرنگ چھوڑ کر جلتا ہوا سگریٹ اس کے مرمریں ہاتھ کے بے حد نذدیک کرتے ہوئے سرد لہجے میں بولا ۔
جلا دوں ۔۔۔۔۔۔۔؟ زرتاج کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں ۔
نہیں ! میں مرجاؤں گی ۔ اس کے منہ سے ہلکی سی چیخ برآمد ہوئی ۔
دلبر سائیں ! بہت چالاک ہو ، جلانے سے پہلے ہی چلانے لگی ہو جبکہ جانتی ہو یہ مر کر بھی نہیں جلا سکتا ۔ اس نے ہاتھ کو پاکیزہ شے کی مانند ہونٹوں سے لگایا ۔ میرسجاول کے گنبھیرتا سے کہنے پر اس کی مسکراہٹ گہری ہوتی چلی گئی ۔
آپ مجھے چھوٹے میر کے پاس کب لے چلیں گے ۔۔۔۔۔۔؟ آپ نے وعدہ کیا تھا جلد لے جائیں گے ۔ وہ خیال آنے پر پوچھ بیٹھی ۔
جب آپ حکم کریں گی اسی وقت لے چلیں گے ، کہو تو ابھی چلیں ۔ وہ شوخی سے اس کی پشت پر ہاتھ پھیلاتے ہوئے بولا ۔
پلیز ! مذاق مت کریں ۔ ناجانے کیوں پچھلے کچھ دنوں سے زاری سائیں بہت یاد آرہے ہیں ۔ دل بیٹھا جارہا ہے ۔ وہ سینے پر ہاتھ رکھ کر بے چینی سے بولی ۔
ارے میری جان ! اتنا سینٹی ہونے کی کیا ضرورت ہے ۔ تم مجھے پہلے بتادیتی کہ اتنی شدت سے اسے یاد کررہی ہو تو میں پارٹی پوسٹپون کردیتا ۔خیر ہے ۔ ہم پارٹی والی رات کو ہی مری کے لئے نکل جائیں گے ۔بس تم اداس مت ہو ۔وہ اس کا سر سہلاتے ہوئے انتہائی جذباتی ہونے لگا ۔
گاڑی ہائی وے پر سبک رفتاری سے رواں دواں تھی ۔تبھی اس کی نظر سائیڈ مرر پر پڑی ایک ٹرک اچانک ہی جھاڑیوں سے نکل کر روڈ کی طرف بڑھنے لگا ۔ میر سجاول اس پر دیھان دیتے ہوئے چوک گیا اور رونگ وے سے آنے والے دوسرے ٹرک نے اس کی گاڑی کو بری طرح ہٹ کیا ۔
میر سائیں ! یہ کیا ہورہا ہے ؟ زرتاج بلند آواز سے چیختے ہوئے اس کے بازو سے لپٹ گئی ۔
میر سجاول زرتاج کی موجودگی کے احساس سے بے بس سا اسٹئیرنگ کو مضبوطی سے سنبھالے ایکسیڈینٹ سے محفوظ رہنے کی بھرپور کوشش کرتا رہا مگر گاڑی ان بیلنس ہوگئی اور دونوں سڑکوں کے درمیان لگے سائین بورڈ سے دھماکے کے ساتھ ٹکرانے کے بعد پلٹ گئی ۔
یہ ایکسیڈینٹ اس ہائی وے کا بدترین ایکسیڈینٹ ثابت ہوا ۔
زرتاج کا بے جان ہاتھ میر سجاول کے خون آلود ہاتھ میں اسی طرح دبا تھا جس طرح انہوں نے پہلی بار ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے عشق کی شاہراہ پر پہلا قدم رکھا تھا ۔
“”””””””””””””””””
میر سجاول کے ساتھ دوسری گاڑی میں سوار اس کے کئی گارڈ اور ساجد کی گاڑی کا بھی کم و بیش یہی حال ہوا تھا مگر شومئی قسمت ساجد اس حادثے میں ذندگی کی بازی جیت گیا تھا مگر اسے سنبھالا لینے میں کئی برس گزر گئے ۔
جب وہ مکمل ہوش و ہواس میں گاؤں واپس لوٹا تب میر جعفر بھی بیٹے کی جدائی کے غم میں ڈھے چکے تھے ۔
ساجد کو میر سجاول کی موت بھلائے نہیں بھولتی ۔ وہ دن رات پاگلوں کی طرح اس کے قاتلوں کی تلاش میں سرگرداں رہا ، کئی ایجنسیوں سے مدد حاصل کی ۔ میر سجاول کے جن خفیہ اداروں اور زیرِ زمین حلقوں میں تعلقات تھے ان سب کے تعاون سے وہ کافی تگ و دو کے بعد ان دونوں ٹرکوں میں سے ایک ٹرک ڈرائیور تک رسائی حاصل کر گیا ۔
اس نے راتوں رات ٹرک ڈرائیور کو اغوا کیا اور ذود و کوب کرنے پر معظم شاہ کا نام اگلوا کر ہی دم لیا ۔
ٹرک ڈرائیور کے منہ سے معظم شاہ کے محافظ کا نام اسے اپنی سماعتوں کا دھوکا لگا مگر پھر اس کی کمینی فطرت سے واقف ہونے کے باعث معظم شاہ کے لئے اس کے دل میں لاوا پکنے لگا ۔
میر جعفر کی لاغر حالت نے اسے لب کشائی کرنے سے روک دیا اور وہ بے صبری سے میرزوار کے توانا و جواں مرد بننے کا انتظار کرنے لگا ۔
وہ میرزوار کو کم عمری میں ہی حقیقت سے آگاہ کرنے کے بعد اس کے مستقبل کو تباہ نہیں کرنا چاہتا تھا ۔اگر وہ وقت سے پہلے راز افشا کردیتا تو میر زوار سنبھالے نہیں سنبھلتا ۔ اس کی ضدی اور غصیل طبیعت نے ساجد کو بھی خائف کیا ہوا تھا ۔ اس کے منسٹر بننے تک وہ اس راز کو دبائے رکھنے پر مجبور رہا ۔
میر زوار سے نینا کی ملاقاتیں اسے بدلے کی ایک کڑی لگی مگر جلد ہی اسے احساس ہوگیا کہ وہ اس کی ذندگی میں خاص اہمیت کی حامل ہے کیونکہ وہ جب میرزوار کی نینا شاہ پر اٹھتی نظر پر غور کرتا تو اسے میر کی آنکھوں میں وہی دھنک رنگ اترتے نظر آتے جو میر سجاول کی نظروں میں ہمہ وقت زرتاج کے لئے چٹکتے رہتے ۔
ساجد نے برسوں معظم شاہ سے انتقام لینے کے لئے خود پر جبر کیا تھا مگر آج میرزوار نے اس کے انتظار کو فیصلے کا اختیار سونپ کر اس کی محنت کا صلہ عطا کردیا۔
وہ آنکھوں میں آئی نمی صاف کرتے ہوئے کمفرٹر میر زوار کے سینے تک کھینچتا کمرے کی مدہم لائیٹس کو بجھا کر دبے پاؤں باہر نکل آیا ۔
“””””””””””””””””””””
اروما ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد کمرے میں چلی آئی ۔ ایل ای ڈی آن کرنے کے بعد صوفے پر اطمینان سے بیٹھ کر مارننگ شو دیکھنے والی تھی تبھی موبائل پر واٹس ایپ الرٹ ہوا ۔ وہ چونک کر اٹھی موبائل بیڈ پر پڑا تھا ۔
اس نے جھک کر موبائل اٹھایا اور اسکرین پر موجود نمبر دیکھ کر دنگ رہ گئی ۔
زعیم شاہ کی طرف سے مارننگ وش کے ساتھ پیغام نے اس کی حیرت کو اشتعال میں بدل دیا ۔
“حیران بعد میں ہولینا پہلے میرے بھیجے ہوئے فلاورز گیٹ سے رسیو کرلو ۔ اس میں موجود کارڈ پر نین کا نام درج ہے مگر اس پر لکھے الفاظ میرے دل کی آواز ہیں ۔ “ پیغام پڑھتے ہوئے اس کا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا ۔ وہ موبائل پھینک کر ونڈو کی جانب لپکی ۔
اس نے کرٹنز سمیٹ کر شیشے کے پار دیکھا جہاں زعیم شاہ کا ڈرائیور گارڈ کو بڑا سا خوبصورت کٹ فلاور بکیٹ تھمانے کے بعد واپس پشت پر کھڑی گاڑی کی طرف جارہا تھا ۔
اروما کی موہنی صورت غصے کی شدت سے لال بھبوکا ہوگئی ۔ اس نے نفرت سے پلٹ کر بیڈ پر پڑے موبائل کی جانب دیکھا ۔
جاری ہے