60.7K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 08

سوہنا سائیں ! خیال رہے میں کل صرف آپ کے لئے کوئی بھی مصروفیات نہیں رکھوں گا اس لئے آپ بھی مہربانی کریں اورکل شام کے لئے خود کو بھی فری رکھنا ۔میں کوئی ایکسکیوز نہیں سنوں گا ۔وہ دوٹوک بولا ۔
زار !اس سے پہلے میری ایک شرط ہے ۔۔۔۔۔۔ کسی خیال کے تحت نینا کی شربتی آنکھوں میں بجلی کوندی ۔
حکم کریں ! آپ کی ہر شرط منظور ہے ۔ اس کا لہجہ مضبوط تھا۔
کل ہمارے ساتھ میر جازب بھی وہاں موجود رہے گا ۔ نینا مسکراتے ہوئے بولی ۔ اسی دن کا تو اسے انتظار تھا ۔
وہ یہ موقع مس نہیں کرنا چاہتی تھی ۔
تمھیں مجھ پر ٹرسٹ نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔؟ میر زوار کا لہجہ یکدم سرد ہوگیا ۔
ٹرسٹ کیوں نہیں ہے ، آپ میرے لئے کوئی اجنبی یا غیر تو نہیں ہیں ۔ وہ سٹپٹا گئی ۔
پھر ہم دونوں کی ملاقات میں میر جازب کی موجودگی ککا خیال کیوں کر آیا ۔۔۔۔۔؟ میر کا انداز ہنوز سرد اور ٹہرا ہوا تھا ۔
آپ اس قدر سیریس کیوں ہورہے ہیں ۔ میں نے تو بس ایسے ہی کہہ دیا ۔ وہ بھی ہوگا تو وقت اچھا گزرے گا ۔اس نے وضاحت کی ۔
تمھیں لگتا ہے کہ میرے ساتھ بور ہو جاؤگی ۔۔۔۔۔۔؟ وہ سپاٹ لہجے میں بولا ۔
میں نے ایسا تو کچھ نہیں کہا ۔ آپ بلاوجہ بات کو طول دے رہے ہیں ۔ وہ خفگی سے بولی ۔
میری بات غور سے سنو نین ! کبھی بھی میرے اور تمھارے درمیان کسی تیسرے کو لانے کی غلطی مت کرنا ۔ میں ہمارے درمیان کسی تیسرے کی مداخلت ہرگز برداشت نہیں کروں گا ۔میر جازب تو کیا میرا سگا بھائی کیوں نہیں ہوتا ، اسے بھی ہماری پہلی ملاقات میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دیتا ۔
کل ہونے والی ملاقات سراسر ہمارا ذاتی معاملہ تھی ، تم نے میر جازب کو درمیان میں لاکر اس پہلی ملاقات کا چارم ہی ختم کردیا۔
اب بہتر ہوگا ہم یہ پروگرام کسی اور دن پر رکھ لیں ۔ میر زوار بمشکل ضبط کرتے ہوئے تحمل سے فیصلہ کن انداز میں کہہ کر کال ڈسکنکٹ کرگیا ۔
کیا میں نے کچھ ذیادہ ہی جلدبازی سے کام لےلیا ۔۔۔۔۔۔؟تم بھی کتنی بے عقل ہو ، بنتا ہوا کام بگاڑ دیا۔۔۔۔۔۔اف اب اس بندے کو منانا پڑے گا ۔ نینا نے پیشانی پر ہاتھ مار کے خود کوبے اختیار کوسا ۔
باہر سے ارحان اور اروما کی باتوں کی آواز کانوں میں پڑی تو وہ موبائل کو گھورتے ہوئے کمرے سے نکل آئی ۔
“”””””””””””””””””
تمھیں اچانک دیکھ کر بہت اچھا لگا ۔کتنے دن یہاں اسٹے کرنے کا ارادہ ہے ۔۔۔۔۔۔؟ زعیم نے چائے کا سپ لے کر ارحان سے دریافت کیا ۔
ابھی تو واپسی کا کوئی موڈ نہیں ہے ، اسٹڈیز سے بھی جان چھوٹ گئی ہے آرام سے رہ کر جاؤں گا ۔ ارحان آرام دہ حالت میں صوفے پر براجمان تھا ۔ ٹانگیں پھیلاتے ہوئے بے فکری سے بولا ۔
گڈ ! گھر پر چکر ضرورلگانا بلکہ تم آرام کرلو پھر تمھاری دعوت رکھ دیتے ہیں ۔ زعیم شاہ خوشدلی سے کہہ کر کھڑا ہوگیا ۔
تم لوگ باتیں کرو ۔ میں زرا بڑے میر سائیں سے مل لوں کافی دن ہوگئے ان سے ملاقات نہیں ہوئی ۔ زعیم شاہ نے آنکھوں سے اروما کو پیچھے آنے کا اشارہ کیا پھر رہائشی حصے کی طرف بڑھ گیا ۔
“””””””””””””””””””
رومی ! میں خاص طور پر تم سے بات کرنے کے لئے یہاں آیا ہوں ورنہ میرا اندر آنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا ۔ زعیم شاہ کی آواز دبی ہوئی تھی ۔ وہ کاریڈور میں رک کر اروما کا انتظار کر رہا تھا ۔اروما کے پہنچنے پر اس کا ہاتھ تھام کر ٹیرس پر لے آیا ۔
پلیز ! جلدی بات کریں ۔ اماں نے بلایا تو مصیبت ہوجائے گی ۔
وہ بار بار دروازے کی طرف دیکھ کر خوفذدہ ہورہی تھی ۔
تمھیں میرے سوا ساری دنیا کی فکر رہتی ہے ۔ کبھی تو ریلیکس ہوکر مجھے دوگھڑی کا وقت دے دیا کرو ۔ زعیم شاہ بھنا گیا۔
اچھا بولیں !سن رہی ہوں ناں۔کیا بات کرنی تھی ۔۔۔۔۔۔۔؟
وہ زعیم کے آف موڈ کو دیکھ کر دھیرے سے بولی ۔
تم نے ہمارے بارےمیں نینا سے تو شئیر نہیں کیا ہے ۔۔۔۔؟ میرا مطلب ہی کہ تم دونوں کی اچھی انڈراسٹینڈنگ ہے شاید تم نے اسے کچھ بتایا ہو ۔۔۔۔؟ شاہ نے جانچتی نظریں اس پر مرکوز کیں ۔
کیسی باتیں کررہے ہیں ، میں بھلا اسے یہ بات کیسے بتا سکتی ہوں۔
وہ خفگی سے بولی ۔
اس لئے کہ تم لڑکیاں انتہائی بے وقوف ہوتی ہو ۔ خیر ، تم نے اچھا کیا جو اسے نہیں بتایا اور بتانا بھی مت جب تک میں نا کہوں ۔
کیوں ؟
فی الحال میں اماں سے بھی بات نہیں کررہا اس لئے کہیں اور سے انہیں یا کسی اور کو ہمارے بارے میں پتا نہیں چلنا چاہئے۔
وہ اپنی پیشانی مسلتے ہوئے بے حد آف موڈ میں بات کر رہا تھا ۔
شاہ ! آپ مجھے کافی دن سے پریشان لگ رہے ہیں ، کوئی بات ہے تو پلیز ! مجھے بتائیں ۔ اروما نے اس کے ہاتھ پر اپنی گرفت مضبوط کرکے بے چینی سے کہا ۔
گرل ! پریشان ہونے والی کوئی بات نہیں ہے ۔ تمھیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ میں اس معاملے میں کسی وجہ سے تھوڑی احتیاط برت رہا ہوں ۔ اس نے پیار سے اروما کا رخسار چھوا ۔
مجھ سے کیوں چھپا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔؟ وہ خفا ہوئی ۔
ارے یار ! پاگل ہو ۔ ایسی کوئی بات ہی نہیں ہے بس نینا کی وجہ سے تھوڑی احتیاط کی ضرورت ہے ۔ اس کی شادی سے پہلے میں شادی نہیں کرنا چاہتا ۔ تم غلط مت سوچو ۔ شاہ اس کی پریشانی کے خیال سے بے چین ہوگیا ۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر ہاتھ بڑھا کر اروما کے شانے پر بکھرے ریشمی بالوں کو چھوا ۔
وہ کسی صورت بھی اروما کو تحریم کواس رات والی حرکت کے بارے میں بتانا نہیں چاہتا تھا تبھی اس کی تسلی کے لئے دانستہ جھوٹ بول رہا تھا ۔
مجھےکیوں لگ رہا ہے،آپ مجھ سےجھوٹ بول رہے ہیں ۔۔۔۔
بات کچھ اور ہے مگر آپ مجھے بتانا نہیں چاہتے ۔ اروما وثوق سے بولی ۔
رومی ! مجھے تم سے جھوٹ بول کر کیا ملے گا ، پہلے کبھی تم سے جھوٹ بولا ہے جو تم مجھ پر شک کررہی ہو ۔ شاہ کو اس کے بے یقینی پر ٹوٹ کر پیار آیا مگر وہ اسے حقیقت بتا کر پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
“””””””””””””””””””
مٹھا سائیں ! اب تو غصہ چھوڑ دیں ۔ میں نے بس ایسے ہی کہہ دیا تھا کہ جازب کو بھی وہاں ہونا چاہئے تھا ۔ آپ کو اعتراض تھا تو منع کردیتے اس میں ناراض ہونے والی کیا بات ہے ۔ آپ نے تو مجھے پریشان کر کے رکھ دیا ہے ۔
نینا نے اس طرح کے پچاسیوں ٹیکسٹ اور کالز کی تھیں مگر میر زوار کی طرف سے ایک بھی جواب نہیں آیا تھا اور نا ہی کال اٹینڈ کی گئی تھی ۔
نینا کو اپنی ساری محنت بے کار نظر آرہی تھی ۔ اس نے کچھ دیر انتظار کے بعد بے دلی سے موبائل ٹیبل پر پٹخا تبھی اسکرین پر میر زوار کا نام جگمگایا ۔
ہیلو ! یہ ناراضگی جتانے کا کونسا طریقہ ہے ، انسان لڑتا جھگڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شکوے شکایت کرتا ہے مگر آپ نے تو چپ کا روزہ رکھ لیا ۔ نینا نے کال اٹینڈ کرتے ہی بے نقط سنائیں ۔ میر زوار دیر تک ہنستا رہا ۔
بس یا اور کچھ کہنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ وہ ہنسی روک کر گنبھیر آواز میں بولا ۔
بس ۔۔۔۔۔۔۔ نینا نے منہ بگاڑ کر کہا ۔
میں لڑنے جھگڑنے کا قائل نہیں اور شکوے شکایتیں تو میں اپنے رب سے بھی نہیں کرتا ۔ میرے پاس ناراضگی ظاہر کرنے کا ایک ہی انداز ہے خاموشی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ صاف گوئی سے بولا ۔
لیکن مجھے خاموشی برداشت نہیں ہے ۔ میں خود خاموش نہیں رہ سکتی اور مجھے کسی اور کی خاموشی بھی برداشت نہیں ہوتی ۔دو دنوں میں پاگل ہوگئی ہوں ۔ وہ بولتے ہوئے روہانسی ہوگئی ۔
سوہنا سائیں ! معافی ! اب تو ہنس دو ۔ میری توبہ اب ناراض ہوا بھی تو خاموش نہیں رہوں گا ۔ میر زوار اس کے انداز پر فدا ہوگیا ۔
ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ نینا ہنکارہ بھر کر رہ گئی ۔
ہوں سے کام نہیں چلے گا ۔ میری التجا اپنی جگہ موجود ہے ۔ میری دوا کا انتظام کرو ۔ میر زوار دوا پر زور دے کر بولا ۔
ابھی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ نینا کا سانس اٹکنے لگا ۔ میر زوار سے تنہا ملاقات کے نام پر ہی اس کے ہاتھوں میں نمی پھوٹ پڑتی تھی ۔
ڈیوٹی آف ہونے والی ہے،کل ملتے ہیں ۔وہ سوچتے ہوئے بولی ۔
ابھی کا مطلب ہے ابھی اور میں ابھی اسی وقت تم سے ملنا چاہتا ہوں ۔ اس نے حکمیہ کہا ۔
زار ! مجھ سے ضد مت کریں ، میں نے کہہ دیا نا میں ابھی نہیں آسکتی ۔ نینا کا لہجہ بھی سخت ہوگیا ۔
تم اگر نہیں آؤگی تو میں ہاسپٹل آجاؤں گا ، اس کے بعد جو ہوگا اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا مگر تمھارے لئے مشکلات پیدا ہوجائیں گی جو میں نہیں چاہتا ۔
تمھارا نام ہر خاص وعام کی زبان پر آئے ، مجھے یہ گوارہ نہیں ہے اس لئے اگلے ایک گھنٹے میں مجھ سے ملو ۔ میر زوار کا ٹہرا ہوا لہجہ نینا کو بہت کچھ سمجھاگیا ۔
اوکے ۔ میں کچھ دیر تک بتاتی ہوں ۔ نینا نے پیشانی پر آئی نمی کو ٹشو پیپر سے صاف کیا پھر کال ڈسکنکٹ کر کے اضطراری انداز میں اپنی انگلیاں مروڑنے لگی ۔
“””””””””””””””””””””
ارحان ! بہت خوشی ہورہی ہے تمھیں دیکھ کر حنین اور تانیہ کوبھی لے آتے کافی عرصے سےوہ لوگ بھی پاکستان نہیں آئے۔
رانیہ ارحان سے مل کر بے حد خوش تھیں ۔
پھپھو ! اگلے مہینے تک ان سے بھی مل لیجئے گا ، بابا ماہین کے ایگزامز ختم ہوتے ہی چکر لگائیں گے ۔ آپ فی الحال بھتیجے کی محبت سے فیض یاب ہوجائیں ۔ ارحان شرارتاًبولا ۔
کیوں نہیں ، میرے لاڈلے بھائی کے بیٹے ہو ، تمھارے لئے تو میری محبت بھی خصوصی ہوتی ہے ۔ رانیہ دوبدو بولیں ۔
رہنے دیں پھپھو ! پورا خاندان جانتا ہے کہ آپ کی خصوصی محبت صرف زاری بھائی کے لئے ہے ۔ ارحان مصنوئی خفگی سے بولا ۔
اس کے لئے خصوصی یوں ہے کہ وہ بچپن سے ماں باپ کی محبت سے محروم رہا ہے اور اس کے اندر مجھے اپنے مرحوم بھائی کی جھلک نظر آتی ہے ۔ رانیہ میرسجاول کے ذکر پر آبدیدہ ہوگئیں۔
ارحان ! تم نے میری ماما کو رلادیا ۔ تمھیں پتا بھی ہے سجاول ماموں کے ذکر پر ایسے ہی روپڑتی ہیں پھر بھی تمھیں احساس نہیں ہوتا ۔ تحریم کا لہجہ تلخ تھا ۔
پھپھو ! پلیز ! مت روئیں ، میرا مقصد آپ کو رلانا نہیں تھا ۔ میں نے تو مذاق کیا تھا ۔ آپ ہم سب سے ہی پیار کرتی ہیں اور سبھی جانتے ہیں کہ ہم سب میں آپ کی جان بستی ہے ۔ ارحان اٹھ کر ان کے قریب جاکر بیٹھ گیا اور ان کے ہاتھ محبت سے تھام لئے ۔وہ شرمندہ ہوگیا تھا ۔
ارحان بیٹا ! تحریم کی تو عادت ہے سخت بولنے کی اور آپ کی پھپو میر سجاول کے ذکر پر اپنے آنسوؤں کو روک نہیں پاتی ۔ آپ گلٹی مت کریں ۔ مکتوم شاہ کو بھی تحریم کا لہجہ ناگوار گزرا مگر وہ اس کے مزاج سے واقف تھے ۔زعیم شاہ نے اس کے انداز پر غصہ دبائے خاموش ہی رہا ۔
انکل ! مجھے آپی کی بات بلکل بری نہیں لگی ، وہ پھپھو کی وجہ سے پریشان ہوگئیں تھیں اس لئے جذباتی ہوگئیں ۔ ارحان بولا ۔
ارحان ! اب ہم چلتے ہیں ، رات کافی ہوگئی ہے ۔ گھر پر سب انتظار کررہے ہونگے ۔ یوں بھی گاؤں پہنچ کر اماں بھی جلدی سوجاتی ہیں ۔ اروما نے اجازت طلب نظروں سے رانیہ کو دیکھا۔
پھپھو ! اب ہم چلتے ہیں ، گاؤں میں ہوں تو آتا جاتا رہوں گا ۔آپ سب بھی بڑی حویلی آئیے گا ۔ اس نے اٹھتے ہوئے کہا ۔
ہاں ، بیٹا ! میرا بھی دل چاہ رہا تھا بڑی حویلی جاؤں گی ، انتظار میں تھی کوئی کراچی سے آجائے تو پھر جاؤں ۔ وہ سب باتیں کرتے ہوئے باہر تک آگئے ۔
بس پھر آپ لوگ کل ہی آجائیں ۔ کل کا لنچ سب ساتھ کریں گے ۔ کیوں رومی ! ارحان نے انہیں دعوت دیتے ہوئے اروما کے شانے پر ہاتھ رکھ کر کہا ۔
جی ، جی ! آپ سب آئیے گا ۔ نینا تو یہاں نہیں ہے لیکن تحریم آپی آپ کو ضرور آنا ہے ۔ اروما نے بمشکل اس کی ہاں میں ہاں ملائی کیونکہ زعیم شاہ اس کے شانے پر دھرے ارحان کے ہاتھ کو ناگواری سے دیکھ رہا تھا ۔ اس کے تاثرات خطرناک ہورہے تھے ۔
اروما نے خفیف سی نظر اس پر ڈالی مگر زعیم شاہ نے بگڑے تاثرات کے ساتھ رخ پھیر لیا ۔جبکہ تحریم کو ارحان کی بے تکلفی مزہ دے گئی ۔اس کے دماغ میں جھماکہ ہوا اور وہ مطمئین سی ہوکر مسکرادی ۔ اسےزعیم شاہ سے ہونے والی بے عزتی کا بدلہ چکانے کا راستہ مل گیا تھا ۔
جاری ہے