Rate this Novel
Episode 11
اس کی نظروں کے بلکل سامنے اروما صوفے پر دراز تھی اور ارحان دوزانے زمین پر بیٹھ کر اس پر جھکا ہوا تھا ۔ زعیم کو اروما کی ٹانگیں اور اس کے سر کا پچھلا حصہ نظر آرہا تھا پچھلے رخ سے اروم کا چہرہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
ارحان نےایک ہاتھ سے اس کے سر کو سہلایا ۔ زعیم شاہ کے لئے منظر ناقابلِ یقین ہونے کے ساتھ ناقابلِ برداشت بھی ہوگیا ۔ اروما کی ذات اس کے لئے معتبر تھی اور اس وقت وہی اس کی غیر موجودگی میں اس کی محبت اور اعتماد کا بت پاش پاش کر گئی تھی ۔
وہ خود کو بلندی سے گرتا ہوا محسوس کررہا تھا ۔ آنکھوں میں حد درجہ جلن اور سانسیں بے ترتیب ہورہی تھیں ۔
ارحان نے اروما کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا تو زعیم شاہ کو خود پر قابو رکھنا دشوار ہوگیا اور وہ یہاں کوئی تماشہ کھڑا کرنا نہیں چاہتا تھا اس لئے بے آواز قدموں سے واپس لوٹ گیا ۔
اسے جاتا ہوا دیکھ کر تحریم کے ہونٹوں پر فاتحانہ مسکراہٹ ابھری ۔ وہ زعیم شاہ کو چوٹ پہنچا کر اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئی تھی ۔
شاہ اپنے آپ کو گھسیٹتا ہوا گاڑی تک لے گیا ، وہ یہ بھی فراموش کر چکا تھا کہ تحریم کو پک کرنے آیا ہے یا پھر کسی کا بھی سامنا کرنے کی کنڈیشن میں نہیں تھا ۔
شیرازی ہاؤس پہنچنے کے بعد کتنی ہی دیر تک ماؤف ہوتے ذہن کے ساتھ اندر ہی بیٹھا رہا ۔ اس میں اتنی بھی ہمت نہیں تھی کہ گاڑی سے اتر کر اندر چلا جائے ۔
جب اس کے گارڈز نے دیکھا کے وہ اب تک باہر نہیں نکلا ہے تو ان میں سے ایک ڈرائیونگ سیٹ کی طرف آکر اس کے باہر نکلنے کے انتظار میں کھڑا ہوگیا ۔
شاہ کو گارڈ کی موجودگی کا احساس ہوا تو اس نے اپنی ساری توانائی مجتمع کی اوردروازہ کھول کر باہر نکلا پھر بنارکے برق رفتاری سے گھر کے اندر چلا گیا ۔
“”””””””””””””””””””””
تحریم ! تم نے کتنی دیر لگادی ، میں کب سے انتظار کر رہا ہوں ۔دیکھو ! یہ تو بے خبر سوگئی ہے یا پھر بے ہوش ہوگئی ہے ۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ میں کیا کروں ۔ ارحان پریشانی سے پیشانی مسلتے ہوئے بولا ۔
تم بلاوجہ پریشان ہورہے ہو ، اسے کچھ بھی نہیں ہوا ہے ۔ تم اسے سونے دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نیند کرلے گی تو بلکل ٹھیک ہوجائے گی اکثر نیند پوری نا ہو اور تھکان ذیادہ ہو تو اس طرح کی کیفیت ہوجاتی ہے اور پھر کچھ دیر میں میر جازب بھی آجائے گا اگر کوئی پرابلم ہوگی تو وہ خود دیکھ لے گا ۔ تحریم اسے مطمئین کرنے کی کوشش کررہی تھی ۔
ہمم ۔۔۔۔۔ سوچ رہا ہوں میر جازب کو بلا لوں ۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہارن کی آواز آئی تھی ۔ کیا میر جازب آیا تھا ۔۔۔۔۔؟ میر ارحان نے اس سے استفسار کیا ۔
اچھا ! لیکن میں نے تو کوئی آواز نہیں سنی ۔ تحریم انجان بن کر معصومیت سے بولی ۔
شاید میرا وہم ہوگا ۔ میر ارحان غائب دماغی سے بولا ۔
ہوسکتا ہے ۔ تحریم مختصراً بولی ۔ اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا ۔ بس چلتا تو ناچنے لگتی ۔ اب اسے جلد سے جلد گھر پہنچنا تھا ۔ اس کا دل زعیم شاہ کے چہرے پر رقم اذیت کو دیکھنے کے بعد خوشی سے جھوم اٹھا تھا ۔
“”””””””””””””””””
یہ ایک خوبصورت اتفاق ہےکہ ہماری ڈیٹ آف برتھ ایک ہے۔
میں قدرت کی اس مہربانی کو بے وقعت نہیں ہونے دوں گا۔
نین سائیں ! تم میری بات سمجھ رہی ہو ناں ، مجھے ہماری برتھ ڈے سیلیبریٹ کرنی ہے اور تمھیں یہاں آنا ہی ہوگا ۔ میں یہاں پھنسا ہوا ہوں ، میں نہیں آسکتا مگر تم تو یہاں آ سکتی ہو ۔ پلیز ! آجاؤ ۔ میر زوار موبائل کان سے لگائے التجا کررہا تھا ۔
زار ! کچھ تو خیال کریں ، میں اپنی برتھ ڈے پر وہاں کیسے آسکتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اماں بھی سیلیبریٹ کریں گی ۔ میں گھر والوں کو کیا جواب دوں گی ۔ میرا آنا بہت مشکل ہے ۔وہ بے بسی سے بولی ۔
بہت آسان ہے ۔ وہ رات میں سیلیبریٹ کرلیں گے اور ہم دن میں کریں گے ۔ تم مجھے اپنے پاسپورٹ کی پکچر بھیجو ۔میں صبح گیارہ بجے تمھاری سیٹ کنفرم کروارہا ہوں ۔ تم شام سات بجے کی فلائیٹ سے گیارہ بجے تک واپس پاکستان پہنچ چکی ہوگی ۔ میرزوار پروگرام بھی ترتیب دے چکا تھا ۔
آپ نے تو کہا تھا کہ کل شام تک واپس آجاؤں گا اور ابھی تک وہاں بیٹھے ہیں ۔ ہمارےبرتھ ڈے کی اتنی فکر تھی تو واپس کیوں نہیں آئے ۔۔۔۔۔۔۔؟ نینا شکوہ کناں ہوئی ۔
جس کام سے آیا تھا وہ ابھی تک نہیں ہوسکا ، ابھی کچھ دن مزید یہاں ٹھرنا ہوگا مگر میں ہمارا برتھ ڈے ہر گز مس نہیں کرنا چاہتا ۔
سوہنا سائیں ! مجھے اتنا مت تڑپاؤ ۔ میں تم سے ہاتھ جوڑ کر ریکوئیسٹ کر رہا ہوں ۔میرے پاس آجاؤ ۔ وہ لہجے میں زمانے بھر کا پیار سموئے عاجزی سے بولا۔
میں گھر جا کر پکچر سینڈ کرتی ہوں ۔ نینا اس کی پیار بھری منت پر
پر ہارمان کر فی الفور راضی ہوگئی ۔ وہ میر زوار کے سحر میں جکڑ چکی تھی۔اب اس کی کسی بھی بات سے انکار کرنا نینا کے لئے ناممکن ہوتا جارہا تھا ۔
“”””””””””””””””””””
وہ چار دن ارحان کے نذدیک گزار کر میری اتنے سالوں کی محبت فراموش کرگئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھ سے بے وفائی کرتے ہوئے ایک بار بھی اسے میرا خیال نہیں آیا ۔
میں مرد ہوکر بھی تحریم کے بے باک اظہارِ محبت پر نہیں بہکا اور وہ لڑکی ہو کر بھی بھٹک گئی ۔ شاہ نے کرب سے سوچتے ہوئے کروٹ بدلی ۔
میر ارحان تو آتا جاتا رہتا ہے ۔وہ ناجانے کب سے میری آنکھوں میں دھول جھونک رہی ہوگی اور میں بے وقوف اس پر اندھا اعتماد کرتا گیا ۔ ناجانے کتنی بار اس نے میرے اعتماد کو توڑا ہوگا ۔ ناجانے کب سے میرے پیٹھ پیچھے یہ چکر چل رہا ہوگا ۔
جو چار قدم میرے ساتھ ایمانداری سے نہیں چل سکی وہ پوری ذندگی کیا ساتھ نبھاتی ۔ مجھے بہت پہلے سمجھ جانا چاہئے تھا ۔ میر ارحان کی اس کی ساتھ بے تکلفی بے وجہ تو نہیں تھی ۔
وہ کتنی بار میر ارحان کے لمس کو محسوس کر چکی ہوگی ۔ ایسی بے وفا دھوکے باز لڑکی پر میں لعنت بھیجتا ہوں ۔میں کیوں اس کی بے وفائی کا سوگ منا رہا ہوں ۔ جس نے میری محبت کی لاج نہیں رکھی ، مجھے پر بھی اس کی بے وفائی کا سوگ لازم نہیں ہے ۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اور دونوں ہاتھوں کی انگلیاں بالوں میں پھنسا کر بیٹھ گیا۔ بے رحم سوچوں نے اس کے اعصاب شل کردئیے تھے ۔آنکھ سے ایک آنسو گرا اور گریبان میں جذب ہوگیا ۔
وہ رات سے کمرے میں مقید ایسی بے رحمانہ سوچوں میں الجھا ہوا اپنی محبت کے لٹنے کا ماتم منا رہا تھا ۔ ایسے بے شمار آنسو پلکوں سے ٹوٹ کر بار بار کبھی تکیے میں تو کبھی اس کے گریبان میں جذب ہوجاتے ۔ کمرے کو سگریٹ کے دھوئیں نے گھٹن
ذدہ کردیا تھا مگر وہ ہر بات سے بیگانہ مسلسل اروما کی بے وفائی پر اپنا خون جلا رہا تھا ۔
ایک بار پھر اس نے سگریٹ سلگا کر ہونٹوں میں دبایا ۔ دل میں بارہا خیال آتا کہ جائے اور اروما کو جھنجوڑ ڈالے ، اس سے پوچھے کہ اس نے کیا سوچ کر بے وفائی کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں اس کے جذباتوں سے کھیلتی رہی مگر ہربار وہ خود کو وہاں جانے سے باز رکھنے کی کوشش میں کامیاب ہوجاتا ۔ وہ اروما کا سامنا ہی نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ سامنا ہونے پر وہ خود کو قابو میں نہیں رکھ سکتاتھا ۔
“””””””””””””””””””””
بارہ بجنے میں کچھ دیر باقی ہیں ۔نینا ! تم تو یہاں آجاؤ ۔۔۔۔۔۔وہاں کیوں کھڑی ہو ۔۔۔۔۔۔؟ عروش نے دور کھڑی نینا کو آواز دی ۔
زعیم بھائی پتا نہیں کہاں رہ گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔میں ان کو کال کررہی ہوں ، اٹینڈ بھی نہیں کررہے ۔۔۔۔۔۔۔جب تک وہ نہیں پہنچیں گے میں کیک نہیں کاٹوں گی ۔نینا اداسی سے کہتے ہوئے ٹیبل کے پاس آگئی ۔
عروش نے نینا کے لئے برتھ ڈے پارٹی ارینج کی تھی ۔ ذیادہ لوگوں کو مدعو نہیں کیا گیا تھا ، میر فیملی اور معظم شاہ کے چند دوستوں کی فیملیز تھیں جن سے ان کے فیملی ٹرمز تھے ۔ اس تقریب کا ارینجمنٹ لان میں ہی کیا گیا تھا ۔
تم اداس مت ہو ، وہ آرہا ہوگا ۔ ایسا ہوسکتا ہے کہ زعیم تمھاری برتھ ڈے پارٹی مس کردے ۔۔۔۔۔۔۔۔ضرور کہیں بہت بزی ہوگا ۔ عروش محبت سے بولیں ۔
آئے ہوپ سو ۔۔۔۔۔۔۔نینا مبہم سا بولی ۔
نین ! ہم رات یہاں پہنچے ہیں مگر وہ صبح ہم سے ملے بغیر ہی چلا گیا ۔ تحریم بتا رہی تھی کہ آج کل بہت اکھڑا اکھڑا سا ہے ۔ عروش آہستگی سے گویا ہوئیں ۔
یہ تو میں بھی نوٹ کررہی ہوں کہ وہ بہت ذیادہ ریوڈ ہورہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ذیادہ تر روم میں ہی بند رہتے ہیں اور جب باہر جاتے ہیں تو پوری پوری رات گھر نہیں آتے ۔ نینا بھی کچھ دن سے زعیم کے بدلے ہوئے روئیے پر حیران تھی ۔
آجائے تو پوچھتی ہوں اس سے کیا مسئلہ ہے ۔ تحریم سے شادی کے لئے بھی انکار کردیا ۔ پتا نہیں کیا چاہتا ہے ۔ عروش فکر مند ہوگئیں ۔
نینا ! بارہ بج چکے ہیں ، کیک کب کاٹو گی ۔۔۔۔۔۔۔؟ اروما اس کے نذدیک آکر بولی ۔
بھائی آجائیں ۔ نینا نے مختصراً جواب دیا ۔
ویسے وہ ہیں کہاں ؟ انہیں تو یہاں ہونا چاہئے تھا ۔ اروما نے عام سے لہجے میں پوچھا جبکہ دل میں خواہش ہمک رہی تھی کہ جلدی سے اس کی خبر ملے یا وہ خود آجائے ۔ وہ خاص طور پر شاہ کے لئے پارٹی میں آئی تھی کیونکہ شاہ اس سے مکمل لاتعلق ہوچکا تھا ۔ وہ شاہ کو کالز اور میسجز کرکے عاجز آچکی تھی مگر اس سے کوئی رابطہ نہیں ہورہا تھا ۔
پتا نہیں کہاں ہیں ، اب تو غصہ بھی آرہا ہے ۔میرے برتھ ڈے کا بھی انہیں احساس نہیں ہے ۔ نینا ادھر ادھر نظر دوڑاتے ہوئے خاصی جھنجلائی ہوئی تھی ۔
تم پھر سے ٹرائے کرو شاید اب رابطہ ہوجائے ۔
مجھے نہیں کرنا اب ٹرائے ۔۔۔۔۔۔۔زعیم بھائی لاپرواہ نہیں ہیں ۔ وہ جان بوجھ کر ایسا کررہے ہیں ، کچھ دنوں سے ان کا موڈ آف ہے ۔ نینا کے کہنے پر اروما کی الجھن کسی حد تک سلجھ گئی ۔ وہ یہ سمجھ رہی تھی کہ شاہ صرف اسے اگنور کررہا ہے ۔
رومی ! وہ دیکھو بھائی آگئے ۔ نینا خوشی سے اچھل پڑی ۔
اروما نے ڈرائیو وے پر اس کی گاڑی کو اندر آتے دیکھا ۔
زعیم شاہ گاڑی کو ڈرائیو وے پر چھوڑ کر متانت سے چلتا ہوا آرہا تھا ۔
وہائیٹ کلر کے شلوار سوٹ میں ملبوس ہلکی بڑھی ہوئی شیو اور بے تاثر آنکھوں کے ساتھ اپنی جانب بڑھتا ہوا شاہ اروما کو کوئی اور ہی زعیم شاہ لگا ۔ یہ وہ شاہ تو نہیں تھا جس کی آنکھیں دور سے اسے دیکھ کر آنچ دینے لگتی تھیں ۔
جب وہ اروما کو نظرانداز کرتا ہوا اس کے سامنے سے گزرکر نینا اور عروش کی طرف بڑھ گیا تو اروما اس کی اجنبیت پر ششدر رہ گئی ۔
شاہ ! تم صبح بھی ہم سے ملے بغیر چلے گئے اور اب لوٹے ہو ، تمھیں معلوم بھی ہوگا کہ گھر میں بہن کے برتھ ڈے کے لئے پارٹی رکھی ہوئی ہے ۔ وہ تمھارے بغیر کیک نہیں کاٹے گی پھر تمھیں لیٹ نہیں ہونا چاہئے تھا ۔ عروش خفگی سے بولیں ۔
لیٹ ہونا نہیں چاہتا پر مجبوراً ہونا پڑا ۔ نین ! میں واقعی بزی تھا چلو اب جلدی سے کیک کاٹ لو غصہ بعد میں کرلینا ۔شاہ سنجیدگی سے کہتا ہوا اس کا ہاتھ پکڑ کر ٹیبل تک لے آیا ۔ نینا نے اسے کوئی جواب نہیں دیا تھا ۔
سب کی موجودگی میں نینا نے کیک کاٹا پھر اس نے باری باری سب کو کیک کھلانے کے بعد اروما کی طرف بھی کیک ہیس بڑھایا۔
اروما نے بے دلی سے چھوٹا سا بائیٹ لیا ۔
شاہ تھوڑی دیر بعد گھر کے اندرونی حصے کی طرف چلا گیا ۔ اروما کی نگاہیں گا ہے بگاہے اسی پر بھٹک رہی تھیں مگر ایک بار بھی شاہ نے اس کی طرف نہیں دیکھا تھا ۔ جہاں اس قدر نظراندازی پر اروما کا دل بیٹھا جارہا تھا ، وہیں تحریم پر شاہ کا رویہ ٹھنڈی پھوار برسا رہا تھا ۔
اروما کچھ دیر گزر جانے کے بعد غیر محسوس طریقے سے نظر بچا کر لان سے نکل آئی ۔ لاؤنج تقریباً خالی پڑا تھا ، وہ برق رفتاری سے سیڑھیاں چڑھ گئی ۔ کاریڈور سے گزرتے ہوئے اس کا ننھا سا دل دھک دھک کر رہا تھا ۔
اس نے لاک پر دباؤ ڈالا تو وہ لاکڈ نہیں تھا ۔اروما نے پورا لاک گھما کر دروازہ کھول دیا ۔
کمرہ نیم تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا ۔شاہ صوفے پر سر جھکائے بیٹھا سوچوں میں گم تھا ، انگلیوں میں دبا سگریٹ سلگ سلگ کر اختتام پزیر ہونے والا تھا ۔ کھٹکے کی آواز پر اس نے سر اٹھا کر دیکھا اور دل دماغ جھنجنا اٹھے ۔
اروما ہمت کر کے اندر آگئی مگر شاہ سگریٹ کو ایش ٹرے میں مسل کر تیر کی رفتار سے اس تک پہنچا اور ایک بھر پور تھپڑ اروما کے گال پر انگلیوں کے نشان چھوڑ گیا ۔
میرے روم میں آنے کی تمھاری جرأت کیسے ہوئی ۔ میں تم جیسی بدکردارلڑکی کو ایک منٹ بھی یہاں برداشت نہیں کرسکتا ۔ دفع ہوجاؤ ۔ شاہ نے تنفر سے کہتے ہوئے انگلی سے اسے باہر جانے کا اشارہ کیا ۔
اروما کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گر نے لگے ۔ آج اسے شاہ کے دہشت ناک لہجے سے خوف محسوس نہیں ہورہا تھا مگر اس کے الفاظ چھلنی کرگئے تھے ۔ شاہ کا یہ روپ اس کے لئے بلکل نیا تھا ۔وہ حواس باختہ ہوئی شاہ کو دیکھتی رہی پھراس نے باہرجانے کے لئے قدم بڑھائے مگر پھر رک کر بولی ۔
کیا مجھے اتنا بتاسکتے ہیں کہ میرے ساتھ یہ سلوک کیوں کیا ہے ۔میں نے ایساکونسا گناہ کردیا ہے ؟ اس نے سسکیوں کے درمیان لرزتی آواز میں پوچھا۔
میرے سامنے اپنی معصومیت کا ڈرامہ بند کردو ۔۔۔۔۔۔۔۔تمھارے اس معصوم چہرے کا نقاب اتر چکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اداکاری میرے سامنے نہیں چل سکتی ۔تمھارا اصل رنگ اس دن تمھارے گھر میں اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آیا ہوں ۔ شاہ کی آنکھوں میں خون اتر رہا تھا ۔
آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں ، مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔ ایسا بھی کیا دیکھ لیا ہے جو میری اوقات دو کوڑی کی کر کے رکھ دی ہے ۔اروما سسکتے ہوئے حیران پریشان سی پوچھ رہی تھی ۔شاہ چند لمحے قہر برساتی نظروں سے اسے گھورتا رہا پھر زہرخند لہجے میں بولا۔
تمھارےحسن کے قصیدے پڑھنے کے لئے ایک مرد کافی نہیں پڑ رہا تھا ؟ شاہ نے ہتک آمیز لہجے میں بے دردی سے کہا ۔
آپ کو مجھ پر اتنا گھٹیا الزام لگاتے ہوئے شرم نہیں آتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میں آپ کے سوا کسی اور کے بارے میں سوچوں گی ۔ اروما باوجود ضبط کہ چیخ پڑی ۔
تم غیروں کی بانہوں میں جھول سکتی ہو تو کیا میں سوچ بھی نہیں سکتا ؟ شاہ کے الفاظ زہر میں بجھے ہوئے تھے ۔
آپ کیوں مجھے میری ہی نظروں میں گرارہے ہیں ؟ جو آپ کہہ رہے ہیں میں ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی ۔
یہ ڈرامے کسی اور کے سامنے کرنا ، مجھ پر تمھاری حقیقت کھل چکی ہے ۔ میرے پیٹھ پیچھے ناجانے کیا کیا گل کھلاتی رہی ہو ۔ میری لاعلمی میں میری آنکھوں میں جتنی دھول جھونک سکتی تھی ، جھونک چکی ہو مگر اب تمھیں اپنی عزت اور جذبات سے نہیں کھیلنے دوں گا ۔ شاہ نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کھینچتا ہوا دروازے تک لے گیا ۔
آئندہ مجھے اپنی شکل مت دکھانا ، مجھے تمھاری شکل سے ہی نہیں نام سے بھی نفرت ہوگئی ہے ۔ وہ اروما کو باہر نکال کر سرد مہری سے کہتے ہوئے دروازہ بند کر چکا تھا ۔
اروما صدمے اور بے یقینی سے کھڑی دروازے کو تک رہی تھی ۔ اس کا دماغ سائیں سائیں کررہاتھا ۔ اس قدر یقین سے اس کے کردار کی دھجیاں اڑائیں گئی تھیں کہ اس کا اپنی ذات پر سے اعتماد اٹھ گیا تھا ۔ آنکھوں سے آنسؤوں کا سیلاب رواں تھا ۔
زعیم شاہ آخر کار میں نے ایسے حالات پیدا کر ہی دئیے کہ آج تم نے میری طرح اپنی محبت کو بھی کمرے اور دل سے نکال باہر کیا ۔ کل اس طرح میں کمرے میں سب سے منہ چھپائے پڑی تھی ، آج میری جگہ تم ہو ۔
ویل ڈن تحریم ! دیوار کے ساتھ لگی تحریم نے فاتحانہ انداز میں خود کو سراہا پھر ہاتھ جھاڑتے ہوئے دبے قدموں سیڑھیاں اتر گئی ۔
“””””””””””””””””””
نینا نے ائیر پورٹ سے باہر نکل کر ادھر ادھر نظر دوڑائی تو کچھ فاصلے پر ہی اسے مطلوبہ نمبر کی لینڈ کروزر نظر آگئی ۔ وہ گھبرائی ہوئی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی گاڑی تک پہنچی ۔
گاڑی کا بیک ڈور زرا سا کھلا ہوا تھا ، اسے پورا کھولنے پر میر زوار ترو تازہ چہرہ لئے اپنی دلکش بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ بے صبری سے منتظر ملا ۔
وہ میرزوار کو دیکھنے کے بعد مطمئین سی اندر بیٹھ گئی ۔ اس نے گفٹ والا بیگ میرزوار کی طرف بڑھایا ۔
مجھے یقین تھا میری نین میری خواہش پوری کرنے ضرور آئے گی ۔ وہ بیگ سائیڈ پر رکھ کرخوشی سے بھرپور آواز میں بولا ۔
اتنے دنوں بعد مل رہے ہیں ، مجھ سے ہاتھ نہیں ملائوگی ؟ میر زوار نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تو نینا نے اپنا نازک ہاتھ جھجکتے ہوئے اس کے خوبصورت بھاری ہاتھ میں دیا جسے میرزوار نے بے تابی سے تھام کر لبوں سے چھولیا ۔
نینا کا پورا جسم لرز اٹھا تھا اس نے سرعت سے اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا۔
سرکار ! سفر میں کوئی پریشانی تو نہیں ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔؟ میر زوار نے ڈارک گلاسزاتار کر جیب میں اٹکاتے ہوئے محبت پاش نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا پھر ڈرائیور کو چلنے کا اشارہ کیا ۔
پریشانی تو کوئی نہیں ہوئی مگر میں بہت پریشان تھی ۔ نینا دھیرے سے بولی ۔
کیوں ۔۔۔۔۔؟ میر زوار نے بے ساختہ کہا ۔
زار ! میں ٹائم پر واپس پاکستان پہنچ جاؤں گی ناں ۔۔۔۔۔؟ نینا نے بچوں کی سی معصومیت سے پوچھا ۔ میرزوار نے زبردست قہقہہ لگایا ۔
میں نے تمھیں واپس بھیجنے کے لئے نہیں بلایا ہے ۔ تم آئی اپنی مرضی سے ہو مگر واپس میری مرضی سے جاؤگی ۔ میر زوار نے مصنوئی سنجیدگی طاری کرتے ہوئے اسے مخصوص رعب دار لہجے میں ڈرایا ۔
زار ! آپ میرے ساتھ دھوکا نہیں کرسکتے ، میں آپ پر بھروسہ کر کے آئی ہوں ۔ وہ یکدم بدحواس ہوگئی ۔ آنکھوں کے سامنے میرزوار کا چہرہ دھندلایا گیا ۔
سوہنا سائیں ! مذاق کررہا ہوں ، میں بھلا وعدہ خلافی کر سکتا ہوں ۔ میں تو اپنے دشمنوں سے بھی وعدہ نبھانے کا قائل ہوں پھراپنی جان کودھوکا کیسے دے سکتا ہوں۔وہ نیناکے آنسوؤں پر نادم ہوکر بولا ۔ نینا نے خفگی سے اس کا ہاتھ جھٹک دیا ۔
تمھیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ، واپسی کی سیٹ کنفرم ہے ٹکٹ تمھارے پاس ہے ۔ تم انشااللہ رات اپنے گھر ہی گزاروگی ۔ اس نے نینا کا ہاتھ ایک بار پھر تھام کر اسے تسلی دی ۔
مجھے ڈرانے کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔۔۔؟ وہ منہ پھلا کر بولی ۔
مجھے تو لگا تھا شیرنی ہو ۔ بدلے میں مجھ پر جھپٹوگی ، کاٹ کھاؤگی ، چیر پھاڑ ڈالوگی مگر تمھاری بذدلی نے تو مجھے حیران کردیا ۔ میں نے تمھیں خونخوار شیرنی سمجھ کر پیار کیا تھا ۔ تمھارا دل تو چڑیا سے بھی ذیادہ نازک اور کمزور ہے ۔ وہ ڈرائیور کی موجودگی کے خیال سے دبی آواز میں بول رہا تھا ۔
میں بذدل نہیں ہوں ۔جھپٹ بھی سکتی ہوں اور کاٹ بھی سکتی ہوں ۔ وہ تو بس پردیس میں ہونے کے خیال سے تھوڑا سا گھبراگئی تھی ۔ نینا اپنی کچھ دیر پہلے والی حالت پر شرمندہ ہوئے بغیر تفاخر سے بولی ۔
بس تھوڑا سا ۔۔۔۔۔۔۔؟میرزوار بغور اسے سن رہا تھا محفوظ ہوتے ہوئے بھنویں اچکاکر بولا ۔ نینا کھلکھلا کر ہنس پڑی ۔
جاری ہے
