60.7K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

حویلی کے صدر دروازے پر تازہ گلابوں کی پتیاں نچھاور کر کے میر فیملی کا پرتپاک استقبال کیا جارہا تھا ۔
مکتوم شاہ نے گرمجوشی سے میر سبطین کو گلے لگایا ۔ میر جازب بھی رسمی سی مسکراہٹ کے ساتھ سب سے مل رہا تھا ۔
رانیہ جلدی سے آگے بڑھ کر نگین اور ارونا کو اندر لے آئیں ۔اسٹیج پر پہنچنے کے بعد نگین کے چہرے پر مصنوئی مسکراہٹ سجی تھی مگر اروما کا چہرہ بلکل سپاٹ تھا ۔ نگین نے رسم شروع کردی ۔
نینا جھلمل آنکھوں سے دلخراش منظر دیکھتی رہی پھر بوجھل قدموں سے بیڈ پر چلی آئی ۔
وہ سرتاپا کمفرٹر میں چھپی سسک رہی تھی تبھی عروش دروازہ کھولے اندر چلی آئیں ۔
نین ! کیسی طبیعت ہے ؟ دکھاؤ مجھے ابھی بھی بخار ہے ۔ عروش کی آواز پر نینا نے جلدی سے اپنی آنکھیں خشک کیں اور منہ باہر نکالا ۔
بخار تو اب نہیں ہے اگر بہتر فیل کررہی ہو تو لان میں چلو ۔ تمھارے بغیر مجھے کچھ اچھا نہیں لگ رہا ۔ عروش اس کی پیشانی کو چھوتے ہوئے محبت سے بولیں ۔
اماں ! مجھ میں ہمت نہیں ہے ۔بخار اتر گیا ہے مگر کمزوری بہت ہے ۔تھوڑی سی بھی طبیعت سنبھلے گی تو میں خود آجاؤنگی ۔ اس نے نظر چراتے ہوئے کہا ۔
کمرے میں بند پڑی رہوگی تو اور کمزوری فیل کروگی ۔ نیچے چلو ہنسو بولو گی تو اس کیفیت سے باہر نکلو گی ۔ سب تمھارا پوچھ رہے ہیں تحریم تو کئی بار کہہ چکی ہے کہ میں خود نینا کو لے آتی ہوں ۔
میں وہاں جاؤں گی تو میری طبیعت مذید بگڑ جائے گی اس لئے مجھے یہیں رہنے دیں ۔ نینا نے پلکیں چھپک کر نمی کو اندر اتارا ۔
اچھا ٹھیک ہے ۔ تم آرام کرو ۔ میں تھوڑی دیر بعد پھر چکر لگاؤں گی ۔ عروش اس کا گال تھپک کر چلی گئیں ۔
اذیت ناک سوچوں کے درمیان زرا دیر کے لئےاس کی آنکھ لگ گئی ۔اسے سکون کی یہ گھڑیاں بڑی مشکل سے نصیب ہوئی تھیں کیونکہ کئی راتوں کے رتجگے ، شدید ذہنی دباؤ اور میر زوار کے بے رحمانہ شادی کے فیصلے نے نیند کو اس کی شربتی آنکھوں سے کوسوں دور کردیا تھا ۔
“””””””””””””””””””
خدا خدا کر کے رسم کا سلسلہ ختم ہوا اور کھانے کا دور شروع ہوا ۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد اروما ڈھونڈتی ہوئی عروش کے پاس چلی آئی ۔
خالہ جان ! نینا اپنے کمرے میں جاگ رہی ہوگی ؟ کیا میں اس کے پاس چلی جاؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ وہ میوزک کے شور کے سبب قدرت اونچی آواز میں بولی ۔
ضرور جاؤ اور کوشش کرنا کہ اسے بھی تیار کروا کر یہاں لے آؤ۔
میری تو سنتی ہی نہیں ہے ۔ کچھ دنوں سے بخار کیا ہوا ہے کمرے کی ہو کر رہ گئی ہے ، باہر نکلتی ہی نہیں ہے ۔
تم ہی کچھ سمجھاؤ ! بہن کی شادی ہے مجبوراً ہی سہی شرکت تو کرے ۔ عروش فکرمندی سے گویا ہوئیں ۔
میں اس سے بات کرتی ہوں ۔ میری بات ضرور مانے گی ۔ اروما انہیں تسلی دے کر حویلی کے اندرونی حصے کی طرف چل پڑی ۔
وہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آئی تھی ۔ نینا کے کمرے کی طرف جاتے ہوئے اس کی نظر چھت پر جانے والی سیڑھیوں پر گئی ۔ اسے زعیم شاہ کے اوپر جانے کا گمان ہوا ۔ یکدم اس کا دل شاہ کے پیچھے جانے کے لئے تڑپا ۔
اس نے لاکھ سرزنش کی مگر دل کے اندر بڑھتے ہوئے شور نے ایک بار پھر سب کچھ بھلا کر روٹھے محبوب کے سامنے ناراضگی اور انا کا سر کچلنے پر مجبور کردیا ۔وہ چھت پر جانے والی سیڑھیوں کی جانب کسی مقناطیسی اثر کے باعث کھنچی جارہی تھی ۔
وہ تیز تیز قدموں سے چلتی ہوئی چھت پر پہنچی ۔ شاہ ایک ہاتھ ریلنگ پر جمائے دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں سگریٹ دبائے کھڑا تھا ۔ اس نے آہٹ پر مڑ کر دیکھا پھر خفگی سے دوبارہ رخ موڑ لیا ۔
اروما دھیرے دھیرے چلتی ہوئی آئی اور اس کے برابر میں کھڑی ہوگئی ۔ شاہ فوراً سے پیشتر پلٹ کر جانے لگا تبھی نینا آہستگی سے بولی ۔
پلیز ! رک جائیں ۔
شاہ کے بڑھتے قدم ٹہر گئے مگر اس نے مڑ کر نہیں دیکھا ۔
کب تک مجھ سے ناراض رہیں گے ۔۔۔۔۔؟ اروما نے ہمت کرتے ہوئے مخاطب کیا ۔
ذندگی بھر ۔ اسے ناراضگی نہیں نفرت کہو اور تمھارے لئے میری نفرت دن بہ دن بڑھتی رہے گی ۔ شاہ زہرخند لہجے میں بولا ۔
آپ نے مجھ سے اتنی تو محبت بھی نہیں کی تھی جتنی نفرت کرنے لگے ہیں ۔ اس نے دکھ سے کہا ۔
کاش اتنی سی بھی محبت نہیں کی ہوتی تو آج خود سے شرمندہ نہیں ہوتا کہ میں نے کبھی تم جیسی دھوکے باز سے محبت کی تھی ۔ وہ شاہ کے کاٹ دار لہجے پر ششدر رہ گئی ۔
صرف ایک غلط فہمی کی بنا پر آپ میری اس قدر تذلیل کررہے ہیں؟ اروما نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ پکڑ کر رخ اپنی جانب موڑ دیا ۔
کانوں سنا غلط ہوسکتا ہے مگر آنکھوں دیکھا جھٹلایا نہیں جا سکتا ۔ شاہ یکدم پلٹ کر دہاڑا ۔
کبھی کبھی آنکھوں دیکھا بھی نظر کا دھوکا ثابت ہوجاتا ہے ۔ وہ اب بھی پر امید تھی ۔ بے ساختہ بولی ۔
میں جانتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔اپنے منہ پر لگا کالک مٹانے کے لئے تم یہی راگ الاپو گی مگر میں بھی زعیم شاہ شیرازی ہوں ۔ تمھاری مکاری کو خوب سمجھتا ہوں اگر تم یہ سمجھتی ہوکہ میں تمھاری معصوم باتوں میں بہک کر وہ نظارہ بھول جاؤں گا تو یہ خیال بھی اپنے دماغ سے نکال دو ۔ اس نے درشتی سے کہتے ہوئے اتنی زور سے اروما کا ہاتھ جھٹکا کہ اسے لگا اس کا بازو شانے سے الگ ہوگیا ہے ۔
میرے پیچھے آنا چھوڑ دو ، خاک کے سوا تمھیں کچھ نہں ملے گا ۔زعیم شاہ تنفر سے کہتا ہوا چلا گیا ۔
اروما کو شاہ کے سامنے اپنی صفائی دینے پر افسوس ہوا ۔اس سنبھلنے میں بہت وقت لگا مگر پھرآنکھوں میں آئی نمی کو انگلیوں کی پور میں سمیٹ کر نیچے آگئی ۔
“”””””””””””””””””
تم نے اپنی کیا حالت بنا لی ہے ۔۔۔؟ جب زاری بھائی کو تمھاری کوئی پرواہ نہیں تو تم کس بات کا سوگ منا رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔؟ اروما اس کی حالت دیکھ کر شاکڈ رہ گئی ۔
رومی ! میں مرجاؤں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔مجھ سے یہ تماشا نہیں دیکھا جارہا ۔ وہ اروما سے لپٹ کر بلک اٹھی ۔الجھے بکھرے بال ، آنکھوں کے گرد حلقے ، چہرے کی رنگت میں زردیاں کھنڈی تھی ۔
میں تمھارا دکھ سمجھ سکتی ہوں مگر وہ اس قدر سنگدل ہورہے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کے تم خود کو روگ لگا لو ۔ نین ! خود کو سنبھالو ۔ تمھیں کمزور نہیں پڑنا چاہئے ۔ اروما نفی میں سر ہلاتے ہوئے سختی سے بولی ۔
میرے لئے کچھ نہیں بچا ہے ۔ وہ شادی کررہے ہیں ۔انہوں نے مجھ سے کہا ہے مجھے کبھی نہیں اپنائیں گے ۔ تمھارے بھائی نے مجھے پوری طرح برباد کردیا ہے ۔ اس کے لہجے میں ہارجانے کی کسک تھی ۔
وہ تمھیں نہیں اپنا سکتے تو تم ان سے کہو کہ وہ تمھیں طلاق دیں ۔ اروما کسی نتیجے پر پہنچ کر دوٹوک لہجے میں بولی ۔
تم پاگل ہوگئی ہو ؟ جانتی بھی ہو کیا کہہ رہی ہو ۔۔۔۔۔۔؟ نینا بے ساختہ بولی ۔
میں کچھ غلط تو نہیں کہہ رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔سیدھی سی بات ہے وہ تمھیں اپنا نہیں سکتے تو چھوڑ دیں ۔ جب تک تم خود اپنے حق کے لئے نہیں لڑوگی وہ تمھیں کیونکر اپنائیں گے ۔ اروما نے اسے ڈپٹا ۔
میں ان سے نہیں لڑ سکتی ۔ نینا سر جھکائے دھیرے سے بولی ۔
کیوں ؟
ان کو میری محبت پر تبھی یقین آئے گا جب میں ان کی دوسری شادی کا دکھ خاموشی سے سہہ جاؤں گی ۔ نینا کے آہستگی سے کہنے پر رومی کو کرنٹ لگا تھا ۔
زاری بھائی تو پاگل ہوگئے ہیں مگر تم اس پاگل پن میں ان کا ساتھ دے کر اپنا نقصان کرلوگی ۔ چار دنوں میں اپنی حالت دیکھو صدیوں کی بیمار لگتی ہو ۔ رومی شدید تپی ہوئی تھی ۔
جو میرے نصیب میں لکھا ہے وہ تو ہوکر رہے گا ، سچ یہ ہے کہ میں اپنے کئے کی سزا بھگت رہی ہوں ۔ نینا کی آنکھیں ایک بار پھر بھر آئیں ۔
مجھے تمھاری سوچ پر حیرت کی بجائے غصہ آرہا ہے ، تم پڑھی لکھی لڑکی ہوتے ہوئے بھی جاہلانہ سوچ رکھتی ہو ۔
ہوش کے ناخن لو اور زاری بھائی کے ظلم و ذیادتی کا ڈٹ کر مقابلہ کرو ۔اروما نے اس کے اندر سوئی پرجوش نینا کو جگانے کی حتی الامکان کوشش کی ۔
کیا پڑھ لکھ جانے سے جذبات بھی بدل جاتے ہیں ؟ محبت کے معنی بدل جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دعا کا مطلب بدل کر بددعا ہوجاتا ہے ؟
میں ان سے بہت محبت کرتی ہوں ۔ میں دعا کر سکتی ہوں ، لڑ نہیں سکتی ۔
میں دعا کروں گی کہ میر زوار کو اپنی ذیادتی کا احساس ہوجائے ۔۔۔۔۔۔۔۔بددعا نہیں دوں گی کہ وہ پچھتاوے کے آنسو لئے میرے سامنے آئیں پھر یہ محبت نہیں حقیقتاً کھیل کہلائے گی ۔
اب مجھے کوئی کھیل نہیں کھیلنا ، میں نے اس کھیل ہی کھیل میں اپنی محبت ہار دی ہے اب مجھ میں اپنی شادی ہارنے کی ہمت نہیں ہے ۔
انہوں نے مجھ سے محبت کی میں نے بھی کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب وہ مجھے میری غلطی کی سزا دے رہے ہیں تو مجھ پر واجب ہے کہ میں دل و جان سے ان کی دی ہوئی سزا بھگتوں ۔
وہ اب میرے پاس لوٹ کر نہیں آئیں گے مگر مجھے یقین ہے وہ صرف میرے ہیں ۔ میری باقی ماندہ ذندگی کے لئے یہی یقین بہت ہے ۔ نینا کی دھیمی آواز میں تفصیلی جواب پر اروما دنگ رہ گئی ۔
نینا اسے حیرت ذدہ چھوڑ کر نظریں چراتے ہوئے وہاں سے اٹھ گئی ۔
“”””””””””””””””””””
رات کا نجانے کونسا پہر تھا جب اس کی آنکھ کھلی ۔ پانی کی طلب پر اس نے اٹھ کر سائیڈ ٹیبل سے جگ اٹھایا اور گلاس میں پانی انڈیلنے لگی تبھی اس کی نظر سائیڈ ٹیبل پر پڑے موبائل پر پڑی ۔
اس نے موبائل اٹھا کر دیکھا میر زوار کی بیسیوں کالز اور میسیجز کے نوٹیفکیشن شو ہورہے تھے ۔
اس نے گلاس لبوں سے لگایا تبھی موبائل اسکرین پھرسے روشن ہوگئی ۔ میرزوار کا پرکشش چہرہ پوری آب و تاب سے اسکرین پر چمکنے لگا ۔ اس نے ایک ہی سانس میں پانی کے چند گھونٹ بھرے اور کال رسیو کرلی ۔
جانم سائیں ! بہت یاد آرہی ہو ۔ حکم کرو تو دیدار کے لئے حاضر ہوجاؤں وگرنہ یہ رات کیسے کٹے گی ۔ وہ مسکراہٹ دبائے شرارتاً گویا تھا ۔
پلیز ! آپ ایسا کچھ نہیں کریں گے ، آپ کو میری قسم ! وہ گھبرا کر بے اختیار بولی ۔ میر زوار کا قہقہہ بھرپور تھا ۔
سوہنا سائیں ! میں آپ سے ناراض ہوں ۔ اس کی بھاری گنبھیر آواز میں شکوے پر نینا کا سانس اٹک گیا ۔
کیوں ؟ اب میں نے کیا کیا ہے ؟ وہ بمشکل بولی ۔
حکم عدولی کی ہے ۔ آپ نے مہندی کی رسم میں شرکت نہیں کی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ میری شادی سے خوش نہیں ہیں ۔
چلو مان لیتے ہیں کہ آپ واقعی خوش نہیں ہیں مگر مجبوراً ہی سہی میری خوشی میں شریک تو ہونا چاہئے تھا ۔ میر زوار نے دل جلانے والے انداز میں کہتے ہوئے ٹانگیں دور تک بیڈ پرپھیلائیں ۔
میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔ وہ پرنم آواز میں مختصراً بولی ۔
یار ! روایتی بیویوں والے عزر پیش مت کرو ۔ اب میری بات دیھان سے سنو اگر بارات میں تم مجھے نظر نہیں آئیں تو حویلی سے بارات واپس لوٹ جائے گی ۔
میری پرواہ تو تم کبھی نہیں کروگی مگر اپنے خاندان کی عزت کے بارے میں ایک بار ضرور سوچ لینا ۔ اس کے دھمکی آمیز لہجے پر نینا کے ہاتھ میں فون کپکپا گیا ۔
میری سزا میں اتنی سی نرمی کردیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسی شرط مت رکھیں ۔ میں برداشت نہیں کرسکوں گی ۔ اس نے دہائی دی ۔
میری جان ! تم تو ایسے گھبرا رہی ہو جیسے کبھی کسی سے شرط نہیں لگائی ۔ تم تو اس کھیل کی پرانی کھلاڑی ہو ۔ یہ کھیل میں نے تم سے ہی تو سیکھا ہے ۔ وہ زبردست قہقہ لگا کر کاٹ دار لہجے میں بولا ۔
میری بات یاد رکھنا منہ دکھائی کے بغیر نکاح نہیں ہوگا ۔
اس کی آواز میں چٹانوں کی سختی در آئی ۔
تمھارا ڈریس خرید چکا ہوں ، جیولری اور ڈریس کل تک تمھارے پاس پہنچ جائے گا اور تم وہی پہنوگی۔
میری دلبر کے حسن کومیک اوور کی ضرورت نہیں ہے پھر بھی میں چاہوں گا تم میرے لئے مکمل سنگھار کرو ۔ کوئی کمی نہیں رہنی چاہئے ۔ اس کی فرمائش پر نینا کے دل سے آہ نکلی ۔
جی ! ٹھیک ہے ۔وہ مختصراً بولی ۔
ہمیشہ اسی طرح میری تابعدار بیوی بن کر رہوگی ؟ وہ نینا کی جی حضوری پر محفوظ ہوتے ہوئے مصنوئی سنجیدگی سے بولا ۔ ہونٹوں کے ساتھ آنکھیں بھی مسکرارہی تھیں ۔
جی ! وہ آنسو پیتے ہوئے گھٹی گھٹی آواز میں بمشکل بولی ۔
اس لئے تو میں تمھیں حد سے ذیادہ چاہتا ہوں ۔ آئے لو یو ۔ وہ گنبھیر لہجے میں بولا ۔
آئے لو یو ٹو ۔ اس نے مبہم سا بولا ۔
میرزوار کے خدا حافظ کہنے تک وہ سولی پر لٹکی رہی ۔ فون بند کرنے کے بعد بے بسی سے لب کاٹتے ہوئے بیڈ پر دراز ہوگئی ۔ کروٹیں بدل بدل کر جسم کراہنے لگا تو اٹھ کر واش روم گئی اور وضو بنانے کے بعد جائے نماز بچھا کر بیٹھ گئی ۔
اس نے تہجد کی نماز ادا کرنے کے بعد دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو آنسو تواتر سے بہنے لگے ۔ فجرکی اذان ہونے تک اس کے بوجھل دل کو قرار آچکا تھا ۔
“””””””””””””””””””
بارات کے لئے سجائے گئے پنڈال کی سجاوٹ شیرازیوں کی شایانِ شان تھی ۔ پیسے کے بے دریغ استعمال نے تقریب کو انوکھی رونق بخش دی تھی ۔
باراتیوں کے شاندار استقبال کے بعد مکتوم شاہ دولہااور باقی فیملی ممبران کو لئےاسٹیج پر پہنچ گئے ۔
وہ نکاح کے لئے اجازت طلب کررہے تھے تبھی معظم شاہ بھی وہاں چلے آئے ۔
میر سبطین ! نکاح سے پہلے حق مہر طے کرلیں ۔ کیوں کیا خیال ہے ؟ معظم شاہ اپنے مخصوص بارعب لہجے میں گویا ہوئے ۔
جی ضرور ! میر سبطین چونک کر بے ساختہ بولے ۔
حق مہر میں میرزوار کی خاندانی حویلی تحریم کے نام لکھی جائے گی ۔ پچاس کروڑ کی رقم بھی حق مہر کا حصہ ہوگی ۔ معظم شاہ کہتے ہوئے نہایت ہی پرسکون دکھائی دے رہے تھے ۔ ان کے برابر میں براجمان مکتوم شاہ نے ان کا ہاتھ دباتے ہوئے تنبیہہ نظروں سے بھائی کو دیکھا مگر معظم شاہ انجان بن گئے ۔
پچاس کروڑ کی رقم تو لکھ دی جاہے گی مگر بڑی حویلی ۔۔۔۔۔؟ ایک پل کے لئے میر سبطین بھی بوکھلا گئے ۔ انہوں نے میر زوار کی طرف دیکھا جو شعلہ بار نگاہوں سے معظم شاہ کو گھور رہا تھا ۔
( معظم شاہ ابھی تو تمھاری بیٹی ایک شرط کی قیمت نہیں چکاسکی ہے اور تم نئی شرط کے ساتھ نیا قرض چڑھانے آگئے ۔۔۔۔۔۔تمھاری ذندگی کے دن میری دی ہوئی مہلت سے بھی کم ہوتے جارہے ہیں ) اس نے تلملاتے ہوئے دل میں سوچا پھر ضبط کرتے ہوئے آنکھوں کے اشارے سے میر سبطین کو رضامندی کا عندیہ دیا ۔
حق مہر میں حویلی تحریم کے نام لکھ دی جائے گی ۔ میرا خیال ہے اب نکاح ہوجانا چاہئے ۔ میر سبطین نے بادلِ نا خواستہ ہامی بھرتے ہوئے کہا ۔
جی بلکل ! میں قاضی صاحب کو بلواتا ہوں ۔ معظم شاہ کے چہرے پر فاتحانہ چمک در آئی ۔
“”””””””””””””””””””
جہاں تحریم اور میر زوار کے نکاح ہوجانے پر ایک طرف رانیہ سمیت پورا گھرانہ مسرور تھا وہیں زعیم کے سر سے بھی بھاری بوجھ اترا گیا تھا ۔وہ انتہائی خوش دکھائی دے رہا تھا ۔
تحریم پیچ کلر کے بھاری نفیس کامدار شرارے میں ملبوس ، ڈھیروں قیمتی دیدہ زیب زیورات میں لدی پھندی بے حد خوبصورت لگ رہی تھی ۔ اسٹیج پر سلامی کے لئے میرزوار کی آمد کا شور اٹھا تو اس نے گھبراہٹ میں سر کو جھکا لیا ۔
میرزوار شہزادوں کی آن بان لئے آف وہائیٹ بوسکی کے روایتی شلوار سوٹ میں ملبوس سر پر بوسکی سے بنی دستار سجائے شانِ بے نیازی سے چلا آرہا تھا ۔ ساحر آنکھیں معمول سے بڑھ کر گلابی تھیں ۔اس کے اسٹیج کی طرف بڑھتے ہوئے قدم نینا کے دل پر پڑ رہے تھے ۔
وہ بہت دور کھڑی ان صبر آزما لمحات کو آنسو پیتے ہوئے خاموش نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔ خالص سونے کے تار سے کی گئی نفیس امبرائیڈری کے انتہائی سوبر وہائیٹ سوٹ میں اس کا سوگوار حسن ماند پڑنے کے باوجود بھی بے مثال تھا ۔
میرزوار کے اسٹیج پر پہنچتے ہی رانیہ نے اس کے سر کی بلائیں لیں پھر اس کی پیشانی چوم کر تحریم کے ساتھ بٹھا دیا ۔
میر زوار نے ایک اچٹتی نظر تحریم پر ڈالی جس کے ہونٹوں پر شرمیلی مسکان رقصاں تھی مگر میر کی نظروں کو جس کی تلاش تھی وہ کہیں نظر نہیں آرہی تھی ۔
رانیہ ضروری رسمیں ادا کرنے لگیں ۔ اسٹیج پر سبھی موجود تھے اس کے سوا ۔ میر زوار وہاں ہوکر بھی وہاں موجود نہیں تھا ۔اس کا دل تو صرف ایک کے لئے ہی دھڑکتا تھا ۔وہ تحریم کے پہلو میں بیٹھ کر بھی اس کا نہیں تھا ۔
وہ اس بات سے با خبر تھا کہ نینا پنڈال میں موجود ہے مگر نظروں سے دور تھی ۔ عورتوں کے ہجوم میں بڑی دقت کے بعد اس کی موہنی صورت کی جھلک نظر آنے پر میرزوار کے لبوں کو زخمی مسکراہٹ نے چھوا ۔
وہ اسی کو دیکھ رہی تھی ۔ چند ساعتوں کے لئے وقت ٹہر گیا ۔نینا نے بمشکل نظروں کا زاویہ بدل کر رخ پھیر ا۔اس ایک نظر میں کیا کچھ نہیں تھا ۔
تیرا ہاتھ کل تک میرے ہاتھ میں تھا ۔۔۔
تیرا دل دھڑکتا تھا دل میں ہمارے۔۔۔۔
یہ مخمور آنکھیں جو بدلی ہوئی ہیں۔۔۔
کبھی ہم نے ان کے ہیں صدقے اتارے ۔۔۔
کہیں اب ملاقات ہوجائے ہم سے ۔۔۔
بچا کر نظر کو گزر جائیے گا ۔۔۔
جینا ہے اب مجھ کو تیرے بنا ۔۔۔۔
میرزوار کے دل پر زبردست چوٹ لگی تھی۔ اندر ایک طوفان برپا ہوگیا ۔اس پورے تماشے میں پہلی بار اس کی مخمور آنکھوں میں گہرے ملال کی سلگتی آگ دہکی تھی ۔
نینا نے دوبارہ اس سے نظر نہیں ملائی مگر پورے دورانیے میں وہ ایک پل کے لیے بھی اس کے پژمردہ چہرے سے نگاہ نہیں ہٹا سکا ۔
میر کا ضدی کٹھور دل سینے میں سرپٹخ کر احتجاج کرنے لگا ۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ سب کچھ تہس نہس کر ڈالے اور نینا کا ہاتھ تھام لے پھر اسے کہیں دور بہت دور لے جائے ۔ جہاں سب کچھ ہو مگر کم ازکم اس کی انا کا نام و نشاں بھی نا ہو لیکن اب تیر کمان سے نکل چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ شدید چاہ کے باوجود بھی میرزوار اپنی سوچ پر عمل پیرا نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ یہاں سے ان کے راستے ہمیشہ کے لئے جدا ہوگئے تھے ۔
وہ دوںوں منزل پر پہنچنے کے باوجود بھی نامراد رہے ۔ ایک کھیل نینا شاہ نے کھیلا تھا اور ایک کھیل میرزوار نے کھیلا مگر مات دونوں کا مقدر ٹہری ۔
جاری ہے