60.7K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

میر زوار کے اشارے سے منع کردینے پر اروما خاموش ہوگئی۔تحریم نےاروماکی نظروں کے ارتکاز پر مڑکر دیکھا ۔ میرزوار کی شعلہ بار نگاہیں اسی پر جمی تھیں ۔
رومی رخصت ہو کر چلی بھی جائے گی تب بھی اس گھر پر اس کا حق تم سے ذیادہ ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔کھڑی ہو اور معافی مانگو ۔میرزوار نے ٹہرے ہوئے لہجے میں کہتے ہوئے اس کے سر پر پہنچ کر اس کی کلائی پکڑ کر اٹھایا ۔
آپ نے سنا نہیں ، کیسے یہ لڑکی نوکروں کے سامنے میری انسلٹ کررہی تھی ۔ کیا اسی لئے مجھ سے شادی کی تھی کہ ہر
وقت مجھے نیچا دکھایا جائے ۔ تحریم بھڑک کر بولی مگر اس کی قینچی کی طرح چلتی زبان کو میر زوار کی وارننگ دیتی ہوئی آنکھوں نے بریک لگائے ۔
میں نے کہا معافی مانگو ۔ میں اپنی بات رپیٹ کرنے کا عادی نہیں ہوں ۔ صرف فیصلہ کروں گا جو تمھارے حق میں بہتر نہیں ہوگا ۔ اس کے سرد لہجے میں دی گئی دھمکی پر تحریم کو طوہاً کرہاً معافی مانگنا ہی پڑی ۔
“سوری “ وہ نظریں چراتے ہوئے مختصراً بولی ۔ اروما نے دھیرے سے سر ہلانے پر اکتفا کیا ۔
میر زوار اگلے ہی پل اسےجھٹکے سے تقریباً کھینچتا ہوا ڈائیننگ روم سے لے جارہا تھا ۔
زاری ! چھوڑو !معمولی سی بات پر جھگڑا کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ تحریم نے بھی جو کہا غصے میں کہہ دیا ، اس کے کپڑے خراب ہوگئے تھے ۔ اروما کو دخل اندازی نہیں کرنی چاہئے تھا ۔
نگین کی گھبرائی ہوئی آواز نے دور تک اس کا پیچھا کیا مگر میرزوار نے بیڈروم میں پہنچ کر ہی دم لیا ۔
میری بہن سے اس لہجے میں بات کرنے کی تمھاری ہمت کیسے ہوئی ؟ ۔
وہ مجھ سے بدتمیزی کررہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے الفاظ سنے ہیں تو اس کی بکواس بھی سنی ہوگی ۔ تحریم بگڑ کر بولی ۔ ذندگی میں پہلی بار اسے ذلت آمیز شکست کا سامنا ہوا تھا ۔
وہ تمھاری طرح بددماغ نہیں ہے ۔ اس نے بدتمیزی میں پہل نہیں کی ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔شروعات تمھاری طرف سے ہوئی ہوگی ۔ میں اسے بھی جانتا ہوں اور تمھیں بھی ۔۔۔۔ میرزوار غصے سے بولا ۔
آپ کو تو میں ہی غلط نظر آؤں گی کیونکہ آپ کے دل و دماغ پر تو کوئی اور چھائی ہوئی ہے ۔ تحریم نے طنز کا تیر چلایا ۔
بات کو گھمانے کی کوشش مت کرو ، میرے گھر کے ہر چھوٹے بڑے فرد حتیٰ کے ملازموں کے ساتھ بھی تمیز سے رہنا سیکھو ۔
میری بہن کو غلطی سے بھی تکلیف دینے کی کوشش کی یا اس کی دل آزاری کی تو میں بھول جاؤں گا تم رانیہ پھپھو کی بیٹی ہو ۔ تمھیں رعایت صرف انہیں کی وجہ سے دی ہوئی ہے ۔ اس نے سخت لہجے میں تنبیہہ کی ۔
مجھے بیوی کا درجہ دئیے بغیر اتنی امید یں وابسطہ مت کریں ۔ تحریم کا لہجہ یکایک کمزور پڑ گیا ۔
میر زوار نے ڈرنک بناتے ہوئےاچھنبے سے اس کی طرف دیکھا ۔ وہ ہاتھوں کی انگلیاں اضطراری انداز میں مروڑتے ہوئے کافی بدلی ہوئی لگی ۔
مجھے پورا یقین ہے تم تب بھی نہیں سدھروگی ۔ میرزوار نے زبردست لگایا ۔ تحریم سلگ کر رہ گئی ۔
میں اسلام آباد جارہا ہوں ، کچھ دن وہیں رہوں گا اس لئے تم بھی میرے ساتھ جاؤگی ۔ دس منٹ میں پیکنگ کرلو ۔ اس نے سنجیدہ ہوکر حکمیہ کہا ۔
رئیلی ! مجھے بھی لے جارہے ہیں ؟ اس کا مرجھایا ہوا چہرہ کھل اٹھا ۔
ہوں ۔۔۔۔۔۔ وہ ہنکارہ بھر کر رہ گیا ۔
میں ابھی پیکنگ کرلیتی ہوں ۔ آپ مجھے پہلے انفارم کردیتے ۔ میں ریڈی رہتی ۔ وہ لشتم پشتم ڈریسنگ روم میں گھسی ، انتہائی خوشگوار احساس کے ساتھ سفری بیگ تلاش کر رہی تھی ۔
“””””””””””””””””””
تم نے نینا کے بارے میں کیا سوچا ہے ؟ آخر کب تک اس بے چاری کو سزا دوگے ؟ مجھے اس سے نظر ملاتے ہوئےشرمندگی ہوتی ہے،کئی کئی دن گزر جاتے ہیں اس سے بات تک نہیں کرپاتا۔میرجازب نے ڈرائیونگ کرتے ہوئے اسے مخاطب کیا ۔
سوچ رہا ہوں ، جلد از جلد اسے گھر لے آؤں مگر اس لئے خاموش ہوں کہ اس کو گھر لانے والا راستہ کافی خاردار ہے ۔ اس راستے کو صاف کرنے کے لئے خاص موقع کا انتظار تھا مگر لگتا ہے اب وہ وقت آگیا ہے ۔
فی الحال ایک مسئلے میں الجھا ہوا ہوں ۔ اس سے نمٹ لوں پھرپھپھو سائیں کو اعتماد میں لے کر سچائی بتادوں گا ۔ اس کی آنکھوں میں سفاک چمک ابھری نظروں کو ونڈ اسکرین پر جمائے آہستگی سے بولا ۔
اب کیا کرنے والے ہو ؟ کچھ بھی کرنے سے پہلےکم از کم مجھے تو بتادیا کرو ۔ ایسا نہ ہو جذبات میں پھر کوئی غلطی کر بیٹھو ۔ وہ متفکر ہوا ۔
وقت آنے پر تمھیں بھی پتہ لگ جائے گا ۔ آج تک تم سے کوئی بات چھپائی ہے ؟ میر زوار نے اس کی طرف چہرہ موڑ کر استہفامیہ نظروں سے دیکھا ۔
نہیں ۔ وہ مختصراً بولا ۔
پھپھو کو تمھارے پہلے سے شادی شدہ ہونے کا سن کر بہت دکھ پہنچے گا ۔ میرجازب افسردہ ہوا ۔
کیا کرسکتا ہوں ، مجبوری ہے ۔ سچ بتائے بغیر گزارا بھی نہیں ہے ۔ وہ میری پہلی بیوی ہے ۔ میرے دل کو اس کے بغیر قرار نہیں ملتا ۔ دل پر پتھررکھ کر اسے دور رکھا ہے وگرنہ وہ دل کی طرح میرے گھر میں بھی موجود ہوتی ۔
وہ جب روتی ہے ، اس کے آنسو میرے دل پر گرتے ہیں ۔ اسے دکھ میں دیکھ کر میرا دل خون کے آنسو روتا ہے ۔
میں بہت حیران ہوں کہ میرے جیسے کمینے کی کونسی ادا اللہ سائیں کو بھاگئی جو اسے میرے نصیب میں لکھ دیا ۔ وہ اتنی معصوم ہے کہ اپنی محبت کی سچائی ثابت کرنے کے لئے میری دوسری شادی کو بھی قبول کرگئی ۔ میری ہر ذیادتی پر صبر کرگئی ۔ میر زوار کی آواز میں دکھ بول رہا تھا ۔ آنکھوں کے گوشے تیزی سے بھیگنے لگے ۔
اس سے بہتر ہوتا اگر تم پہلے ہی انہیں سچائی سے آگاہ کردیتے تو نوبت یہاں تک پہنچتی ہی نہیں ۔ وہ بھی ایک عذابِ مسلسل میں مبتلا ہے اور تمھیں کونسا سکون حاصل ہے ۔ میرجازب نےخفگی سے کہا ۔
سچائی سے آگاہ کرنا میرے لئے اتنا آسان ہوتا تو کردیتا مگر نہیں کرسکتا تھا ۔ وہ پہلی بار مجھ سے کچھ مانگ رہی تھیں ، انکار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔ پہلی شادی کا سن کر باالخصوص نینا اور میرے نکاح کے بارے میں جان کر کبھی راضی نہیں ہوتیں ۔ میں کسی بھی صورت انہیں خالی ہاتھ نہیں لوٹانا چاہتا تھا اس لئے حقیقت پوشیدہ رکھنا پڑا ۔ وہ دکھتی ہوئی پیشانی کو مسلتے ہوئے بولا ۔
میر جازب نے ایک پر تاسف نظر اس کے گنبھیر سجیدہ چہرے پر ڈالی ۔ اسے میرزوار پر انتہائی غصہ تھا مگر اب ہمدردی محسوس ہورہی تھی ۔
“””””””””””””””””””””
میری ذندگی کے ساتھ کھلواڑ کرکے تم نے اپنا گھر بسالیا ۔ میرا صبر تم پر قرض رہے گا ۔ تم نے میری محبت کو رسوا کرکے اپنا دل ٹھنڈا کرلیا مگر میرے اندر جو آگ دہکادی ہے وہ کبھی سرد نہیں پڑے گی ۔ تمھیں بھی جلا کر راکھ کر دے گی ۔
میرے حصے کی خوشیاں تحریم آپی کی جھولی میں ڈال کر تمھیں بھی خوشیاں نصیب نہیں ہونگی ۔
وہ ٹیبل پر سر ڈالے تخیل میں میر زوار سے مخاطب تھی ۔ جس دن اسے میرزوار اور تحریم کے اسلام آباد جانے کی خبر ملی تھی اس کے اندر کچھ ٹوٹ کر بکھرا تھا ۔ اسے ایک بے نام سی چپلگ گئی تھی ۔اس کی راتیں انگاروں پر کروٹیں بدلتے گزر رہی تھیں ۔
تحریم اور اپنے مزاجی خدا کی قربت کے خیال سے اسے اپنے جسم پر چیونٹیا ں رینگتی ہوئی محسوس ہوتیں ۔
اس نے پچھلے کچھ دنوں سے میر زوار کو اگنور کرنا شروع کردیا تھا ۔ اس کی بے حساب کالز کے جواب میں چپ سادھ لی تھی مگر آج اس کی کال سے پہلے میسیج نے خاموشی توڑنے پر مجبور کردیا ۔
جانِ جاں ! آپ کا مریض تو یہاں بے یارو مددگار پڑا ہے اور آپ سرکاری اسپتالوں کی ڈیوٹی بھگتا رہی ہیں ۔ اپنے شوہر کی خدمت کریں گی تو ڈبل ثواب ملے گا ۔ کال اٹینڈکرتے ہی میر زوار کی شوخی سے بھرپور آواز سماعتوں سے ٹکرائی ۔
ایسا ثواب کمانے کا مجھے کوئی شوق نہیں جسے دنیا کی نظر میں کریہہ گناہ سمجھا جائے ۔ میں خدمتِ خلق میں ہی بہت خوش ہوں ۔ ویسے بھی آپ اپنی خدمت گار کا بندوبست کرکے لے گئے ہیں ۔
نینا نے صاف گوئی سے کہتے ہوئے طنز کیا ۔
تیر اندازی کا کوئی موقع ہاتھ سے مت جانے دینا ۔ جہاں موقع ملتا ہے شروع ہوجاتی ہو ۔ وہ بے اختیار ہنستے ہوئے بولا ۔
شرمندہ ہونے والی باتوں پر ہنسا نہیں کرتے ۔ وہ جل کر بولی ۔
مگر مجھے تو بہت ہنسی آرہی ہے ۔ اب تم مجھے بے شرم کہوگی ۔ میرزوار اپنی ہی بات پر محفوظ ہوا ۔ نینا کلس کر رہ گئی ۔
اچھا سنو ! کل میں تم سے ملنے آرہا ہوں ۔ کل آف کر لو ، ممکن ہوتو پورا دن میرے ساتھ گزارنا ۔
میں ہر گز آپ سے نہیں ملوں گی ۔ آپ وقت ضائع مت کیجئے ۔ وہ دانت پیس کر بولی ۔
میں کل وہاں پہنچ جاؤں پھر دیکھتا ہوں کیسے نہیں ملوگی ۔ وہ مسکراتے ہوئے گویا ہوا ۔
اس بار آزما لینا ، اگر آپ نے غلطی سے بھی زور زبردستی کی کوشش کی تو میں خود کشی کرلوں گی مگر آپ کی خواہش پوری نہیں کروں گی ۔ اس کا لہجہ پراعتماد تھا ۔
تم نے ایسی کوئی بھی حرکت کی تو میں تمھارے پورے خاندان پر خوشیاں حرام کردوں گا اگر مجھے میری خوشی نہیں ملی تو تمھاری آنے والی نصلوں میں بھی کوئی خوشی نہیں منا سکے گا ۔ وہ بھڑک اٹھا ۔
مجھے ذندہ سلامت دیکھنا چاہتے ہیں تو تقاضاکرنے سے پہلے ایک بار ضرور سوچ لینا ۔ نینا نے دوبارہ دھمکانہ ضروری سمجھا ۔
میں بہت جلد تمھارا بھی بندوبست کرتا ہوں ۔ تمھارا دماغ بہت ذیادہ خراب ہوتا جارہا ہے ۔ میرزوار نے بھناتے ہوئے کہا ۔
کیا کریں گے ؟ مجھے اپنا تو سکتے نہیں ہیں پھر کیا طلاق دیں گے ؟ شوق سے دیں ۔ آپ کی زوجیت میں رہنے سے ذیادہ بہتر ہے کہ طلاق یافتہ ہوجاؤں ۔ وہ تمسخرانہ بولی ۔
طلاقِ کے بارے میں تو خواب میں بھی مت سوچنا ۔ تمھیں اپنے ہاتھوں سے قتل تو کرسکتا ہوں مگر جیتے جی طلاق نہیں دوں گا ۔ اس نے شدید غصے کے عالم میں کہا ۔
اپنا بھی نہیں سکتے اور طلاق بھی نہیں دے سکتے تو پھر مجھ پر حق جتانا بھی چھوڑ دیں ۔ آپ نے نکاح کو تماشا بنا کر رکھ دیا ہے ۔
میں آپ سے اپنے حقوق کا مطالبہ نہیں کررہی ، آپ بھی اپنے حقوق کے نام پر مجھے بلیک میل مت کریں ۔
آپ کو نکاح ڈکلئیر کرنے کے لئے فورس نہیں کررہی تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ طلاق کا مطالبہ بھی نہیں کروں گی ۔ آپ نے مجھے تعلق بنانے کے لئے مجبور کیا تو میں بھی پیار ، محبت بالائے طاق اٹھا کر رکھ دوں گی اور آپ کو سب کے سامنے ایکسپوز کروں گی ۔ اس نے ایک ہی سانس میں روانی سے کہتے ہوئے میر زوار کے متوقع اشتعال انگیز
جوابی کاروائی سے خوفذدہ ہو کر لائن ڈسکنیکٹ کردی ۔
“”””””””””””””””””
وہ بے خوابی کے سبب سینے تک کمفرٹر اوڑھے چت لیٹی ہوئی چھت کو گھور رہی تھی ۔ کمرے میں نائیٹ بلب کی مدہم سی روشنی پھیلی ہوئی تھی ۔ اسلام آباد کی ٹھنڈ کو ہیٹر کی گرمی نے کسی حد تک کنٹرول کیا ہوا تھا ۔
ایک بجے کے بعد میرزوار نے کمرے میں قدم رکھا ۔ اس کی سیدھی نظر بیڈ پر موجود تحریم پر گئی ۔ تحریم فوراً سے پیشتر اٹھ کر بیٹھ گئی ۔
سوئیٹ ہارٹ ! تم ابھی تک سوئی نہیں ؟ میرزوار دل موہ لینے والی مسکراہٹ سجائے دھیرے دھیرے چلتا ہوا بیڈ کے سرہانے پہنچا پھر کمفرٹر سائیڈ پر کیا اور اس کے نذدیک ہی بیٹھ گیا ۔
یقیناً تم میرے انتظار میں جاگتی رہی ہوگی مگر موسم انتہائی سرد ہے،میرا انتظار مت کیا کرو ۔ تم آرام سے سو جایا کرو ۔ وہ بیڈ پر اس کے نذدیک بیٹھ گیا پھر دھیرے سے اس کا گال چھو کر بولا ۔
جاری ہے