60.7K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 09

وہ میر زوار کے خاص بندے ساجد کی رہنمائی میں اس کے بنگلے تک پہنچی تھی ۔ ساجد اسے میرزوار کے بیڈروم تک لے گیا اور دروازے پر چھوڑ کر نیچے جانے کے لئے مڑامگر نینا دروازے کے باہر ساکت کھڑی رہی ۔
بی بی سرکار ! ناک کرکے اندر چلی جائیں ، سائیں بہت دیر سے آپ کا انتظار کررہے ہیں ۔ ساجد نے اسے تذبذب کا شکار دیکھا تو رک گیا ۔نینا نے آگے بڑھ کر دھیرے سے ناک کیا ۔
کم ان ۔میر زوار کی بارعب آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی اور جھرجھری لینے پر مجبور کر گئی ۔
اس نے دھیرے سے دروازہ کھولا اور وہیں کھڑے رہ کر کمرے کا جائزہ لینے لگی۔
یہ بیڈروم میر ہاؤس میں موجود میر زوار کے بیڈروم سے بھی ذیادہ کشادہ اور اپنی مثال آپ تھا ۔
سوہنا سائیں ! ویلکم ہوم !میر زوار دروازے تک پہنچ چکا تھا ۔وارفتگی سے بڑھ کر اس کا نازک ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اندر لے آیا ۔ نینا جھجکتے ہوئے اس کے ساتھ کھنچتی چلی گئی ۔
نین سائیں ! تم مجھ پر اعتبار کرکے یہاں آئی ہو ۔ میری خوشی کی کوئی انتہا نہیں ہے ۔ اس نے نینا کوصوفے پر بٹھا کر سائیڈ ٹیبل پر پڑی بیل کو پش کیا ۔
میں ذندگی میں بہت کم اتنا خوش ہوا ہوں ۔ اماں اور بابا سائیں کے دور میں یا پھر آج میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے ۔ وہ صوفے پر نینا کے برابر بیٹھا اور اس کے دونوں ہاتھ تھام کر آہستگی سے بولا ۔
وہ ڈارک گرے شلوار سوٹ میں ملبوس اپنی تما تر وجاہتوں سمیت نینا کو کررہا تھا۔ گیلے بال تازہ باتھ لینے کی نشاندہی کررہے تھے جو سلیقے سے جمائے ہوئے تھے ۔
نینا کو دیکھ کر ان روشن ساحر آنکھوں کی چمک دوگنی ہوگئی ۔نینا نے ایک پل کے لئے نظر اٹھا کر اس کے خوشی سے تمتماتے ہوئے چہرے کو دیکھا پھر اپنی نظریں سامنے پڑی ٹیبل پر جمادیں ۔
یہ سچ تھا کہ جب بھی کبھی میر زوار سے سامنا ہوا تھا اس کے چہرے پر سختی اور تناؤ ہی ہوتا۔ آج پہلی بار اس کےچہرے پر خوشی اور طمانینت کے بھرپوررنگ نظرآرہے تھے ۔نینا کو اس کی فیلنگز کے ساتھ کھیلنے کا احساس بڑی شدت سے ہوا ۔
سوہنا سائیں!کچھ بولوگی بھی یابس یونہی گم سم بیٹھی رہوگی۔تمھاری چلتی ہوئی زبان نے ہی تو میرے دل کو قابو کیا ہے۔اب چپ رہ کر ستم مت کرو ۔ اس نے نینا کی آنکھوں کے آگے چٹکی بچائی ۔
مجھے پیاس لگی ہے ۔ وہ اپنے گلے پر ہاتھ رکھ کر بولی ۔ میر نے پر شوق نگاہوں سے اسےدیکھا پھر اس کا ہاتھ چھوڑ کر بیڈروم فریج سے بوٹل نکالی اورگلاس بھر کر لے آیاتبھی دروازے پر دستک ہوئی ۔
یس ! میر زوار کی آواز پر ساجد نے زرا سا دروازہ کھولا اور باہر ہی کھڑا رہا ۔
ساجد ! اندر آجاؤ ۔ ساجد اس کے حکم پر اندر آگیا ۔
آج میرےمرشد سائیں آئےہیں۔ زبردست کھانے کا انتظام کرو ۔سب کچھ اسپیشل ہونا چاہئے ۔ وہ نینا پر نظر جمائے بولا ۔
حاظر ! میر جازب سائیں بھی آگئے ہیں انہیں ڈرائینگ روم میں بٹھایا ہے ۔ ساجد اطلاع دے کر چلا گیا ۔نینا نے چونک کر سر اٹھایا ۔
ایساہوسکتا ہےبھلا تم کوئی خواہش کرواور میں اسےپورا نا کروں ۔میر زوار اس کی ناک کو انگلی سے چھیڑا۔
تو پھر ناراض ہوکر مجھے ہلکان کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔۔؟ وہ میر کا ہاتھ جھٹک کر بولی ۔
پہلی بار تو کسی سے ناراض ہونے کا موقع ملا تھا ، کیسے گنوا دیتا وگرنہ بس غصہ ہی آتا ہے ۔ وہ دلچسپی سےنظریں اس پر جمائے دلفریب لہجے میں بولا ۔
نینا وائیٹ پینٹ ، ڈارک براؤن سلیو لیس شرٹ میں ملبوس تھی ۔ ڈیپ راؤنڈ شولڈر کٹ زلفیں شانوں پر بے باکی سے بکھری ہوئی تھیں ۔ فرنٹ سے بالوں کو کنٹرول کرنے کے لئے ہئیر کلپ لگایا ہوا تھا ۔ میر زوار والہانہ نظروں سے اس کا جائزہ لیتے ہوئے آگے بڑھا اور کلپ نکال دیا ۔ اس کے ریشمی بالوں کے بینگز پیشانی پر بکھر کر اسے مزید دلکش بناگئے ۔ میر زوار بے خود ہوکر دو قدم آگے بڑھا ۔
نین ! مجھ سے شادی کروگی ۔۔۔۔۔۔۔؟ وہ جیب سے کچھ نکالتے ہوئے مخمور لہجے میں بولا ۔ نینا کو تو سانپ سونگھ گیا ۔
مجھے اب اس دنیا میں تم سے پیارا کوئی نہیں ہے ۔ میرا سب کچھ تمھارے نام اور تم صرف میری بن جاؤ ۔ تمھارے سر کی قسم بہت خوش رکھوں گا ۔ دنیا کی ہر شے تمھارے قدموں میں رکھ دوں گا ۔ میر زوار نے جذبوں سے بوجھل ہوتی آواز میں زرتاج کی گھڑی اسے پہنانے کے لئے کلائی تھامی ۔
میر زوار ! ایک منٹ ۔ پلیز ! نینا کو اس واچ پر زرتاج کی منہ دکھائی والی واچ کا گمان ہوا تو اس نے سرعت سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ۔ اس نے کبھی زرتاج کی واچ دیکھی نہیں تھی پر کئی بار سن چکی تھی کہ اس میں یاقوت جڑے ہوئے ہیں اور وہ کس قدر قیمتی گھڑی ہے ۔
یہ واچ زرتاج آنٹی کی ہے ناں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ اس نے اپنے شک کو یقین میں بدلنے کے لئے تصدیق چاہی ۔
ہاں ، اور اب اس پر تمھارا حق ہے ۔ اس نے گھڑی کو چوم کر دوبارہ اس کی کلائی تھامنی چاہی ۔
ابھی میں اس کی حقدار نہیں ہوں ، جب سہی وقت آئے گا تب لے لوں گی مگر ابھی نہیں لے سکتی۔وہ بری طرح گھبرا گئی تھی ۔
ہاتھ کو پشت پر لے جاکر خفیف لہجے میں بولی ۔
تم مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟میر زوار کے چہرے کا رنگ یکدم بدلنے لگا۔
مجھے سوچنے کے لئے کچھ وقت چاہئے ۔ نینا کا سر جھکا ہوا تھا ۔
اب کیا سوچنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تمھیں چاہتا ہوں ، تم مجھ سے محبت کرتی ہو ۔ میرے لئے یہاں تک آئی ہو ۔اب بھی سوچنے کی گنجائش رہتی ہے ۔۔۔۔۔؟ میر زوار نے اس کی تھوڑی کو دو انگلیوں سے اٹھا کر اس کی آنکھوں میں جھانکا ۔
مم۔۔۔میں ابھی شادی نہیں کر سکتی ، میرا کرئیر تباہ ہوجائے گا ۔ میں چند سال سکون سے جاب کرنا چاہتی ہوں ۔ اس نے اٹکتے ہوئے بمشکل بات بنائی ۔میر زوار نے زبردست قہقہہ لگایا ۔
یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے ، مجھے شادی کے بعد بھی تمھاری جاب پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا بلکہ میں تمھارے لئے ہاسپٹل بنوادوں گا ۔۔۔۔۔۔۔کل ہی اپنی زمین پر تمھارے ہاسپٹل کے لئے کام شروع کروادیتا ہوں اگر تمھیں کوئی جگہ پسند ہے تو بتادو وہ خرید لوں گا مگر شادی سے انکار کرنے کا مت سوچنا ۔ وہ یکدم ہلکا پھلکا ہوگیا۔
میر زوارنے سختی سے نینا کی نازک کلائی تھامی اور واچ پہنا کر اسے خود سے قریب کرلیا ۔ نینا اس کے سینے سے لگی اپنی نادانی میں کی گئی غلطی پر ماتم کر رہی تھی مگر اب پچھتانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا ۔
میر زوار اپنے من پسند محبوب کےخوشبوؤں میں بسے نازک وجود کوخود میں سموئے اپنے آپ کو دنیا کا خوش قسمت انسان سمجھ کر مسرور ہورہا تھا ۔
“””””””””””””””””””
شاپنگ پر جارہے تھے تو تم مجھے سے بھی پوچھ لیتی ، میں بھی تم دونوں کے ساتھ چلتی تھوڑی سی آؤٹنگ ہوجاتی ۔ سارا دن گھر میں بور ہوتی رہتی ہوں ۔ تحریم اروما کے ڈریسز کو الٹ پلٹ کر دیکھتے ہوئے بیزاری سے بولی ۔
ہمیں تو معلوم ہی نہیں تھا کہ آپ کراچی آئی ہوئی ہیں ورنہ میں آپ سے ضرور پوچھتی ۔ ارحان نے اچانک کہا کے مجھے ضروری سامان لینا ہے تو ہم دونوں چلے گئے ۔ اروما ادھر ادھر دیکھتے ہوئے تفصیلاً بولی ۔ اس کی نظریں زعیم کو تلاش رہی تھیں ۔
آپ کال نہیں کرتیں تو ہمیں پتا بھی نہیں چلتا اور ہم واپس گھر چلے جاتے ۔ ارحان نے بھی لقمہ دیا ۔
نینا نے نہیں بتایا کہ میں آئی ہوئی ہوں ۔۔۔۔؟ تحریم نے اروما سے کہا ۔
نینا سے تو کافی دن ہوئے بات بھی نہیں ہوئی ہے ، گھر بھی چکر نہیں لگا رہی ۔ جاب میں بزی ہوگئی ہے ۔ اروما ادسی سے گویا تھی ۔ نینا کے بغیر اس کا گزارا نہیں ہوتا تھا ۔
ہوں۔۔۔۔۔آجکل وہ کچھ ذیادہ ہی مصروف رہنے لگی ہے ۔تحریم معنی خیزی سے بولی ۔
کیا مطلب ۔۔۔؟ ارحان بے ساختہ بولا ۔اروما اور روحان اس کے انداز پر چونک پڑے ۔
جاب کی وجہ سے اتنی تھک جاتی ہے کہ گھر آنے کے بعد فوراً ہی روم میں بند ہوجاتی ہے ۔ہمارے ساتھ کھانا بھی نہیں کھاتی۔تحریم نے بات بنائی ۔
زعیم بھائی تو یقیناً آفس میں ہونگے ۔۔۔۔۔؟ارحان نے قیاس آرائی کی ۔
وہ صبح سے اپنے روم میں ہیں ۔ آفس نہیں گئے شاید طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔ تحریم نے سرسری بتایا مگر اروما کی رنگت متغیر ہوگئی ۔ اس نے بے چینی سے پہلو بدلا ۔
میں ان سے روم میں ہی مل کر آتا ہوں پھر ہم گھر چلتے ہیں ۔ ارحان اروما سےکہتے ہوئے اٹھ کر چلا گیا ۔
ارحان کے ساتھ تم بھی چلی جاتی بیمار کا حال پوچھ لیتی ۔تحریم اس کی کیفیت سے محفوظ ہورہی تھی ۔
مجھے غیر مرد کے روم میں جانا اچھا نہیں لگ رہا تھا ، اس لئے نہیں گئی ۔ ویسے انہیں ہوا کیا ہے ۔۔۔۔۔۔؟ نینا نے صاف گوئی سے کہتے ہوئے دریافت کیا ۔
تم تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے کبھی میر زوار یا ارحان کے روم میں بھی نہیں جاتی ہوگی ۔ وہ بھی تو تمھارے کزنز ہیں ۔ تحریم بھڑک کر بولی ۔
اسے محسوس ہوا تھا کہ اروما نے اس پر طنز کیا ہے ۔ شاہ اروما کو اس رات والا واقع بتا چکا ہے ۔
آپی ! وہ دونوں تو میرے بھائی ہیں ، ہم ایک ساتھ ایک ہی گھر میں رہتے ہیں وہاں جھجک محسوس نہیں ہوتی مگر شاہ میرے کزن ہیں پھر بھی میرے لئے غیر ہی ہیں ۔ اروما اس کے بدلے ہوئے تیوروں سے خائف ہوگئی ۔
تحریم نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا مگر گلاس وال سے ارحان کو آتا دیکھ کر خاموش ہوگئی ۔
ملاقات ہوگئی ۔۔۔۔۔؟ تحریم بولی ۔
جی ہوگئی ملاقات مگر صاحب کی طبیعت نہیں شاید موڈ خراب ہے ۔ ارحان مسکراتے ہوئے بولا ۔
یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ،نواب صاحب کا موڈ تو چوبیس گھنٹے ہی خراب رہتا ہے ۔ تحریم تلخی سے بولی ۔
اروما ! اٹھو بھئی ، تم تو جم کر بیٹھ جاتی ہو ۔ گھر نہیں چلنا ؟ ارحان نے اروما کا بازو پکڑ کر ہلایا اور شاہ نے یہ منظر دیکھ کر سختی سے آنکھیں بندکرلیں ۔ وہ اروما کی آمد کا سن کر روم سے باہر نکل آیا تھا ۔
اس رات ڈنر کے بعد ارحان کا اروما کے شانے پر ہاتھ رکھنا اسے ناگوار گزرا تھا ، وہ اسی رات سے اروما سے کھنچا ہوا تھا ۔ کتنے ہی دن اس کی خاموش ناراضگی میں گزر گئے تھے لیکن آج وہ خود ساختہ ناراضگی بھلا کر آیا تھا اور اس منظر نے جلتی پر تیل کا کام کیا تھا ۔
وہ کاریڈور میں ہی رک کر انہیں جاتے ہوئے دیکھتا رہا مگر اروما کے سامنے نہیں آیا ۔
“”””””””””””””””
میرزوار اور نینا ڈرائینگ روم میں داخل ہوئے تو انہیں دیکھ کر میر جازب اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا۔ وہ متحیرآنکھوں سے میر زوار کے ہاتھ میں دبا اس کا ہاتھ دیکھ رہا تھا ۔
میر جازب میں تمھاری حیرت ختم کردیتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔میں اور نینابہت جلد شادی کرنے والے ہیں ۔ میر زوار چلتا ہوا اس کے نزدیک آیا اور اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر متانت سے بولا ۔
اوہو نوبت یہاں تک پہنچ گئی مگریہ سب کب اور کیسے ہوا ۔۔۔۔۔؟ میر جازب خود کو کمپوز کرتے ہوئے شرارت سے بولا ۔ نینا نے گھبرا کر اسے دیکھا ۔ کہیں میر جازب نے اسے بتادیا تو کیا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔؟ یہی سوچ اس کی پیشانی عرق آلود کر گئی ۔
نصیب میں تھا اس لئے سب کچھ خود بخود ہی ہوتا چلا گیا ، خبر ہی نہیں ہوئی کب یہ آنکھوں سے دل میں اتریں اور دل سے روح تک سماگئیں ۔ اب میرے اندر ہر طرف ایک ہی نام کی بازگشت ہے ۔ محترمہ میرے دل پر قابض ہوگئی ہیں ۔ میر زوار جذب کے عالم میں بولے جارہا تھا اور نینا کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں ۔
تم نے شورٹ نوٹس پر یہاں بلایا تو میں پریشان ہی ہوگیا ناجانے کیا بات ہوگی ۔ تمھاری طرف سے بھی تو ہر دم دھڑکے ہی لگے رہتے ہیں مگر یہاں تو معاملہ ہی کچھ اور نکلا ۔ میر جازب چائے کا سپ لیتے ہوئے معنی خیزی سے بولا ۔نینا کی پلکیں جھک گئیں ۔
اے لڑکی ! ہر پل چہکتی رہتی ہو پھر آج کیوں منہ لٹکائے بیٹھی ہو ۔ تم بھی کچھ بولو ، تم دونوں کی پریم کہانی تمھارے منہ سے سننے میں ذیادہ مزہ آئے گا ۔ میر جازب نے اسے گم سم دیکھ کر ٹوکا ۔
میں سوچ رہی ہوں کتاب چھپوالوں پھر تمھیں گفٹ کر دوں گی ۔تم پڑھ کے بتانا کیسی لگی ۔ نینا نے اپنی سوچوں کو مصنوئی مسکراہٹ میں چھپاکر دھیرے سے جواب دیا ۔
مجھے یقین ہے سپر ہٹ لو اسٹوری ہوگی ۔ میر جازب ترکی بہ ترکی بولا ۔میر زوار علی کا قہقہہ برجستہ تھا ۔
میر جازب اب مجھے نکلنا ہوگا ۔تم جا رہے ہو تو نینا کو بھی گھر ڈراپ کردینا ۔ میر زوار اٹھتے ہوئے بولا ۔
تم بے فکر رہو ۔اب تو یہ ہماری خاص زمہ داری بن گئی ہیں ۔
میر جازب معنی خیزی سے بولا ۔نینا اسے دیکھ کر رہ گئی جبکہ میر زوار کھل کر مسسکرایا ۔
نین ! تم اس کے ساتھ جاؤ ، میں رات کو فری ہو کر تم سے بات کروں گا ۔ نینا نے اثبات میں سر ہلایا ۔
اس نے نینا کا گال تھپکا پھر اسے لئے کار پورچ تک آیا ۔ وہ ان دونوں کے روانہ ہونے تک پورچ میں ہی کھڑا رہا پھر اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا ۔
“”””””””””””””””””””
نیناڈئیر ! مان گیا، تم بھی اپنے نام کی ایک نکلی ۔ ایک مہینہ پورا ہونے سے پہلے ہی جن قابو کر لیا ۔ میر جازب نے گیٹ پار کرتے ہی اسے داد دی ۔
تمھیں کیا بتاؤں یار ! کتنی اس کے چکر میں پڑیں اور خوار ہو کر چلی گئیں ۔آخر تم نے کونسی گیدڑ سنگھی سنگھائی ہے ۔۔۔۔۔؟
میر جازب اپنی دھن میں نینا کی خاموشی محسوس ہی نہیں کرسکا ۔
میں نے تمھیں بتایا تھا کہ میں نے ان کی نظر میں اپنے لئے پسندیدگی محسوس کی ہے مگر تم نے میری بات کا یقین ہی نہیں کیا ۔ نینا مبہم سا بولی ۔اس کے گلے میں آنسوؤں کا گولا سا اٹک رہا تھا ۔
مجھے کیا خبر تھی کہ تم شیور ہو وگرنہ شرط کیوں لگاتا خیر اس بہانےسہی اس سرکش گھوڑے نے شادی کا نام تو لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔اب میری لائن بھی کلئیر ہوجائے گی ۔میر جازب شوخ ہوا ۔
جیزی ! میں نے مذاق میں شرط لگا لی اور جیت بھی گئی مگر مجھے احساس ہورہا ہے کہ میں نے بہت بڑی غلطی کردی ہے ۔
وہ حد سے ذیادہ سیریس ہوگئے ہیں ۔ میں ان کا پا گل پن مذید نہیں سہہ سکتی ۔ انہوں نے زرتاج آنٹی کی قیمتی واچ بھی مجھے پہنادی ۔نینا نے اپنا ہاتھ آگے کیا ۔میر جازب نے اس کی کلائی میں بندھی واچ کو حیرانگی سے دیکھا ۔
پلیز ! جیزی ! مجھے بچالو ۔میں ان سے شادی نہیں کرنا چاہتی ۔ نینابولتے ہوئے سسک اٹھی ۔
اس بات کو لے کر میں بھی حیران ہوا تھا پھر یہ سوچ کر خاموش رہا کہ شاید تم بھی اس میں دلچسپی لے رہی ہو اور خوش ہو ۔میر جازب دل کی بات زبان پر لے آیا ۔
جیزی ! کسی طرح انہیں سمجھاؤ ۔ مجھے میر زوار میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔مجھ سے اب برداشت نہیں ہو رہا ۔ مجھ سے غلطی ہوگئی ہے مگر میں اس غلطی کو اپنی ذندگی کا روگ نہیں بنانا چاہتی ۔ وہ بے حد خوفذدہ تھی ۔
دیکھو ! میرا مشورہ یہی ہے کہ تم اب خاموش رہو اور اپنا مائینڈ میک اپ کرلو ۔ اب ہوگا وہی جو میر زوار چاہے گا ۔ میرے اور تمھارے چاہنے نا چاہنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا الٹا تم مشکل میں آجاؤگی ۔میر جازب مدبرانہ بول رہا تھا ۔
تم سمجھتے کیوں نہیں ، میں اس انسان سے شادی کیسے کرسکتی ہوں جس کا لائف اسٹائیل مجھے پسند نہیں ہے ۔ وہ بہت مشکل انسان ہے ، میرا اس کے ساتھ گزارا نہیں ہوسکتا ۔ نینا کی بے بسی انتہا پر تھی ۔
یہ کھیل تم نے شروع کیا تھا اور اب ختم بھی تم نے ہی کرنا ہوگا۔اگر تمھیں اس سے شادی نہیں کرنی ہے اور اپنی جان عزیز نہیں ہے تو تم خود جا کر اسے سب کچھ سچ سچ بتادو ۔
میرا نہیں خیال کہ وہ سچ سننے کے بعد تمھیں ذندہ چھوڑے گا ۔
دوسری صورت میں خاموشی سے سمجھوتا کرلو ۔ شرط والی بات ہمیشہ میرے اور تمھارے درمیان راز رہے گی ۔ یہ میرا تم سے وعدہ ہے ۔ وہ نرمی سے اسے سمجھارہا تھا مگر نینا کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے ۔
وہ دونوں ہاتھوں میں سر تھام کر بیٹھی تھی ۔ میر جازب نے اسے ترحم آمیز نظروں سے دیکھا ۔
جاری ہے