60.7K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29

معافی کا لفظ استعمال نہیں کروں گا کیوں کہ یہ تلافی کے لئے بہت چھوٹا ہے ۔۔۔۔۔۔مگر درخواست ضرور کروں گا کہ جو کچھ بھی ہمارے درمیان ہوا اسے بھیانک خواب سمجھ کر بھلا دو ۔۔۔۔۔۔ذندگی بھر تمھارے اس احسان کو نہیں بھولوں گا ۔۔۔۔۔۔۔میں وعدہ کرتا ہوں ، تمھیں دوبارہ شکایت کا موقع نہیں ملے گا ۔
میں نے تمھارے ساتھ بہت برا سلوک کیا ہے مگر میں بدگمان تھا ، میری حماقت ہے کہ میں نے محبت تو کی مگر اس کا بھرم نہیں رکھ سکا ،محبت کے تقاضے پورے نا کرسکا ۔
تم صرف ایک بار مل کر مجھے جسٹیفائی کرنے دو پھر جو تمھارا فیصلہ ہوگا ، مجھے دل سے قبول ہوگا ۔
ملازمہ نے فلاور بکیٹ لاکر اسے تھمایا تو اس نے بکیٹ پر چسپاں کارڈ کھول کر جلدی سے پڑھ ڈالا ۔زعیم شاہ کے لکھے ہوئے الفاظ اروما کو چابک کی طرح محسوس ہورہے تھے ۔
ایک بار پھر واٹس ایپ الرٹ پر اس نے موبائل اٹھایا ۔زعیم شاہ کے ندامت سے پر میسیجز کی بھرمار تھی ۔
اس نے ٹاپ بار میں ٹائیپنگ کو نظر انداز کرتے ہوئے پہلی فرصت میں شاہ کے نمبر کو بلاک کردیا ۔
وہ غم و غصے سے نڈھال بیڈ پر گرنے کے سے انداز میں بیٹھ گئی ۔اس کا سانس دھو نکنی کی طرح چل رہا تھا ۔
زعیم شاہ کے اچانک بدلاؤ کے پسِ پردہ کہانی بلکل صاف تھی۔اس کی بدگمانی بلاوجہ ہی دور نہیں ہوگئی تھی بلکہ میرزوار نے کسی نا کسی طرح تحریم کو سچائی بیان کرنے پر راضی کیا ہے ۔تحریم کی گاؤں پہنچنے کی خبر بھی اس کے علم میں تھی ۔ وہ سر جھٹک کر اسکرین کی طرف متوجہ ہوگئی ۔
وہ زعیم شاہ سے دوبارہ تعلقات استوار کرنے کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی ۔
زعیم شاہ کی تیزی سے ٹائپ کرتی انگلیاں بلاک ہوجانے کی نشاندہی پر تھم گئیں لیکن اسے اروما کی طرف سے ایسے ہی سخت ردعمل کی امید تھی اس لئے ناگواری کا احساس چھو کر بھی نہیں گزرا ۔
وہ موبائل کو سائیڈ پاکٹ میں ڈال کر عروش کو تلاش کرنے نکلا کیونکہ اب اروما کو منانے کے لئے اس سے براہِ راست بات کرنا ضروری ہوگیا تھا ۔
“””””””””””””””””””
وہ برق رفتاری سے سیڑھیاں اتر کا نیچے آیا ۔عروش اسے کچن سے باہر نکل کر کوریڈور کے پچھلے حصے میں جاتی نظرآئیں ۔ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا ان تک پہنچا ، ان کا ہاتھ پکڑ کر حویلی کے پچھلے قدرے سنسان حصے میں لے آیا ۔
شاہ ! کیا ہوگیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔کہاں گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہو ؟ میں تمھاری رفتار سے نہیں چل سکتی ، کچھ تو خیال کرو ۔ عروش اس اچانک افتاد پر پریشان ہو اٹھیں ۔
آپ سے بہت ضروری بات کرنی تھی اس لئے یہاں لایا ہوں ۔ اب غور سے میری بات سنیں اور پلیز ! میری ہیلپ کریں ۔ وہ ایک کمرے کا دروازہ وا کرتے ہوئے انہیں اندر لے آیا اور صوفے پر بٹھا کر خود ان کے برابر بیٹھ گیا ۔
ایسی بھی کونسی اہم بات ہے جو اتنی رازداری برت رہے ہو ۔ بات تو ہم میرے یا تمھارے روم میں بھی کرسکتے تھے ۔ خیر ، بتاؤ کیا بات ہے ۔ عروش نے استہفامیہ نظریں اس پر جمائیں ۔
راز کی ہی بات ہے اس لئے احتیاط برتنا ضروری تھی ۔ آپ کو میرا ایک کام کرنا ہے ۔ آپ میرے ساتھ کراچی چلیں گی ، نگین خالہ کی فیملی کو کھانے پر انوائیٹ کریں گی ۔ اینی ہاؤ ! آپ کو اروما کو لازمی بلوانا ہے ۔ زعیم شاہ کی انوکھی فرمائش پر عروش کا ماتھا ٹھنکا مگر وہ نظرانداز کرتے ہوئے حیرانگی سے بولیں ۔
مگر کیوں ؟ ایسا کرنے سے کیا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔تمھیں بے وقت دعوت کی کیوں سوجھی ہے ؟
کیونکہ ۔۔۔۔۔۔ مجھے اروما سے بات کرنی ہے ۔ وہ ہچکچاتے ہوئے گویا ہوا ۔
اس میں کونسی بڑی بات ہے ، اس کے گھر چلے جاؤ ۔ وہ تو گھر پر ہی ہوتی ہے ، آرام سے بات ہوجائے گی ۔ انہوں نے مشورہ دیا ۔
میں اس کے گھر نہیں جا سکتا۔میں نے جو آپ سے کہا ہے ،ویسا کریں ۔ آپ کو دعوت کا انتظام کرنا ہے ۔ وہ جھنجلا گیا ۔
مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ اروما سے تمھیں ایسی کونسی ضروری بات کرنی ہے جس کے لئے تم اتاؤلے ہوئے جارہے ہو ۔ وہ مشکوک ہوئیں ۔
اماں ! وہ کسی بات پر مجھ سے خفا ہوگئی ہے ۔ میں نے اسے فون پر منانے کی بہت کوشش کی ہے مگر وہ کچھ سننے کے لئے تیار نہیں اس لئے میں روبرو بات کرنا چاہتاہوں ۔ وہ نظریں چراتے ہوئے پشیمانی سے بولا ۔ عروش لمحے بھر میں معا ملے کی تہہ تک پہنچ گئیں اور سر ہلا کر اٹھتے ہوئے بولیں ۔
تم بے فکر ہوجاؤ ۔ میں کچھ کرتی ہوں ۔ کراچی کب چلنا ہے ؟ انہوں نے رک کر استفسار کیا ۔
کل ۔۔۔۔۔۔اس نے مختصراً جواب دیا۔
“””””””””””””””””””
تایا سائیں ! آپ کا اسلام آباد جانے کا قریبی ہے پروگرام ہے تو مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلئے گا ۔ تحریم دھیرے سے ناک کرنے کے بعد دروازے کو دھکیلتے ہوئے اندر چلی آئی اور معظم شاہ کو مخاطب کیا ۔
معظم شاہ صوفے پر بیٹھے ہوئے ایک فائل میں مگن تھے اس کی آمد پر چونک پڑے جبکہ عروش ڈریسنگ کے سامنے کھڑی اپنے ہاتھوں پر مساج کررہی تھیں اسے آئینے میں دیکھ کر مسکراتے ہوئے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔
ہاں ضرور تم میرے ساتھ ہی چلنا،میرا جلد ہی جانے کا پروگرام ہے ۔تمھیں کب تک جانا ہے ؟ انہوں نے فائل ٹیبل پر رکھ کر سوال کیا ۔
مجھے بھی جلد ہی جانا ہے مگر میں آپ کے لئے کچھ دن رک سکتی ہوں ۔ ایکچوئیلی میرزوار نے کہا ہے کہ یہاں سے جس کا بھی آنا ہو میں اسی کے ساتھ واپس آجاؤں کیونکہ وہ بہت بزی ہیں ۔ان کا آنا ممکن نہیں ہوگا ۔
کوئی بات نہیں میں تمھیں لے چلوں گا ، شاید کل رات تک ہی مجھے جانا پڑجائے ۔
آپ لوگ کل تو اسلام آباد نہیں جاسکتے ۔ میں شاہ کے ساتھ کراچی جارہی ہوں اور پرسوں نگین اور اس کی فیملی کو ڈنر پر انوائیٹ کررہی ہوں ۔ بہت دنوں سے سب اکھٹے نہیں ہوئے ہیں ۔ تحریم تم بھی کل ہمارے ساتھ چلنا ۔ عروش نے جھٹ دخل اندازی کی ۔
یہ بھی ٹھیک رہے گا ۔ میں بھی صبح کراچی جانے والا تھا ۔ بیٹا ! تم ان کے ساتھ چلی جانا پھر جیسے ہی میری میٹنگ فکس ہوگئی ہم وہاں سے اسلام آباد چلے جائیں گے ۔ معظم شاہ نے عروش کی تائید کرتے ہوئے کہا ۔
جی ! میں آج رات ہی تیاری کرلیتی ہوں ۔ تحریم آہستگی سے کہہ کر اٹھ گئی ۔
تم میرزوار کو بھی انوائیٹ کردو ، وہ بھی ڈنر پر شامل ہوگا تو مجھے ذیادہ اچھے لگے گا ۔ وہ ہمیشہ ہی فیملی گیٹ ٹو گیدر میں غائب ہوتا ہے ۔ اب تو اسے ہماری فیملی میں اور بھی خاص اہمیت حاصل ہے ،گھر کا بڑا داماد ہے ۔ اس کا شریک ہونا لازمی ہے ۔
عروش نے خوشدلی سے کہا ۔
میں کہہ دوں گی مگر مجھے یقین ہیں وہ نہیں آپائیں گے کیونکہ مجھے پہلے ہی انکار کر چکے ہیں ۔ تحریم کے ہونٹوں کو تلخ مسکراہٹ چھو گئی ۔ اسے میرزوار نے اتنا مان نہیں دیا تھا کہ اس کے بلانے پر وہ کھنچا چلا آتا ۔
چلو میری طرف سے ایک بار کہہ کر دیکھ لینا ۔ آنا نہ آنا اس کی مرضی ہے ۔ عروش کے کہنے پر وہ جی اچھا کہہ کر باہر نکل آئی ۔
“””””””””””””””””””
وہ نائیٹ ڈیوٹی آف کر نے کے بعد گھر پہنچتے ہی لمبی تان کر سو گئی تھی ۔ دوپہر کے بارہ بجے اس کی آنکھ کھلی تو وہ جلدی نیند ٹوٹ جانے پر جھنجلا کر رہ گئی ۔
عروش اسے صبح ہی کال پر آگاہ کرچکی تھیں کہ وہ لوگ شام تک پہنچنے والے ہیں یوں وہ بے فکری سے نیند پوری کرنا چاہتی تھی ۔ ان کے پہنچنے تک اس کا کمرے سے باہر نکلنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا ۔
چائے کی شدید طلب ہورہی تھی پلکوں کی باڑ میں قید دو روشن آنکھیں اور محبوب چہرے نے اسے تخیل میں بھی اپنا پابند کیا ہوا تھا ۔ اس کے تصور سے نکلنے پر دل ہزار بہانے گھڑ لیتا اس پرسرد موسم کے باعث گرم بستر چھوڑنے کے لئے دل آمادہ نہیں ہورہا تھا ۔
کسلمندی سے سر تک لحاف اوڑھے جب بھوک نے ستایا تو ناچار اس نے لحاف سے سر باہر نکال کر سائیڈ ٹیبل پر رکھی بیل کو پش کرنے کے لئے ہاتھ بڑھایا تبھی اس کی نظر صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے ٹانگ پر ٹانگ جمائے دونوں ہاتھ سر کے پیچھے تکیے کی غرض سے باندھے بوسکی کے شلوار سوٹ پر بلیک قیمتی کوٹ میں ملبوس اس دشمنِ جاں کی مسکراتی آنکھوں والے دلکش چہرے پر پڑی تو پلٹنا بھول گئی ۔
اس کا ہاتھ جہاں کا تہاں رہ گیا ۔ کمرے میں پہلی نیم تاریکی میں اس کی موجودگی نینا کو اپنی بصارتوں کا دھوکا لگی ۔
اس کے یوں یک ٹک خاموشی سے گھورنے پر میرزوار نے بھرپور قہقہہ لگاتے ہوئے شرارت سے ایک آنکھ دبا کر اس کے وہم کو حقیقت میں بدل دیا ۔
اس کے قہقہے نے نینا کو اپنے سحر میں جکڑ کر اس کا دل چرا لیا تھا ۔وہ اس کے قہقہے پر سانس لینا بھول گئی تھی اور نظریں دیوانہ وار اس کے دمکتے چہرے کا طواف کرنے لگیں ۔ وہ اسے دیکھتی ہی رہ گئی ۔وہ اسی صورت پر تو قربان تھی آخر کیوں نہ دیکھتی ۔دیکھتی رہی اور بس دیکھتی ہی گئی ۔دیکھے بغیر خود کیسے جی لیتی ۔
مجبور تھی اسے دیکھتے رہنے پر اسے چاہنے پر اور مجبور کرنے والا اس کا پاگل دل تھا جو اس دشمنِ جاں کا ہر ستم سہہ جاتا تھا مگر اف تک نہیں کرپاتا ۔ نظروں کا طلسم ٹوٹا اور وہ بیڈ پر اچھل کر بیٹھ گئی ۔
آپ ۔۔۔۔۔۔اس وقت ۔۔۔۔۔۔یہاں کیسے ؟ دونوں ہاتھ سینے پر رکھے وہ سراسیمگی سے اسے دیکھ رہی تھی ۔
تیرے در پر صنم چلے آئے
تو نا آیا تو ہم چلے آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ دلفریب لہجے میں شرارتاً گنگناتے ہوئے اٹھ کر بیڈ کے پاس چلا آیا ۔
آپ کو یہاں نہیں آنا چاہئے تھا ۔ گاؤں سے پوری فیملی یہاں آرہی ہے ۔ ان کے ساتھ تحریم آپی بھی ہیں ۔ وہ فکرمندی سے بولی ۔
تمھیں کیا لگتا ہے میں تمھاری تحریم آپی سے ڈرتا ہوں ۔۔۔۔؟
اس نے نینا کے الجھی لٹ کو انگلی پر لپیٹتے ہوئے کہا ۔
پرپل کلر کی سلیو لیس انتہائی ڈیپ گلے کی نائیٹی میں اس کا ہوشربا حسن قیامت خیز لگ رہا تھا ۔ اس کے دعوت دیتے سراپے کے دیدار پر میرزوار کا دل خوبصورت لے پر دھڑکنے لگا ۔
غصہ بھاپ بن کر اڑگیا جو یہاں آنے سے پہلے اس کی سر پر سوار تھا ۔ وہ سوچ کر نکلا تھا کہ آج ایسی خبر لے گا نینا شاہ کے چودہ تبق روشن ہوجائیں گے مگر باریک نائیٹی میں اس کے حسن کی رعنائیاں دیکھنے کے بعد اسے اپنے نام کے معنی بھی بھولنے لگے ۔
آپ ان سے کیا ڈریں گے آپ تو ۔۔۔۔۔اس نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑدی ۔
آپ تو ؟ میرزوار کی بھنویں سکڑ گئیں ۔
کچھ نہیں ۔۔۔۔۔۔آپ کو یہاں آنے سے پہلے کم از کم ایک بار تو سوچنا چاہئے ۔ میں گھر پر اکیلی ہوتی ہوں گارڈز کیا سوچیں گے۔ بابا سائیں کو انفارم بھی کر سکتے ہیں ۔ وہ دل کڑا کر کے خفگی سے بولی ۔حقیقتاً اس کی آمد پر رگ و جاں میں سکون در آیا تھا ۔
یہ سچ ہے تم گھر پراکیلی ہو مگر یہ بھی سچ ہے کہ تم ایک ڈاکٹر ہو اور میں تمھارا مریض ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے گارڈز انہیں بتا چکے ہونگے کہ صاحب سخت بیمار ہیں دوا دارو کروانے آئے ہیں ۔اب دوا تم دوگی ، دارو کا انتظام میرے گھر پر زبردست ہے۔وہ اس کے سامنے نیم دراز ہوتے ہوئے شرارت سے گویا تھا ۔
نینا نے بغور اس کا جائزہ لیا ۔ شہابی رنگت اور سحر انگیز آنکھوں کا گلابی پن زکام کی شدت سے غیر معمولی گہرا تھا ، کناروں میں ہلکی سی نمی تھی جو زکام کے باعث تھی۔ چھونے پر بھی حرارت معمول سے ذیادہ تھی وہ تقریباً بخار میں مبتلا تھا ۔ اس کے بغور جائزہ لینے پر اس کی رگِ ظرافت پھڑکی ۔
ایسے کیا دیکھ رہی ہو ؟ دو دن سے سخت بیمار ہوں ، جلدی سے اچھا سا علاج کردو۔ وہ ہاتھ میں دبے ٹشو سے بڑے انداز کے ساتھ ناک رگڑتے ہوئے مسکراہٹ دبائے سنجیدگی سے بولا ۔
میں میل پیشنٹس کو اٹینڈ نہیں کرتی ۔ وہ پرے سرکتی ہوئی ناک چڑھا کر بولی ۔
اس نے گھٹنوں سے زرا نیچے آتی نائیٹی میں سے نظر آتی دودھیا ریشمی پنڈھلیوں کو گہری نظروں میں مقید کرتے ہوئے خوبصورتی سے شعر پڑھا ۔
خوبصورت تو پہلے ہی بہت تھا وہ شخص
ہم نے چاہا تو عجب ڈھنگ سے نکھرا ہے
اس کی پیغام دیتی بے باک نظروں اور شعر کا مفہوم سمجھ کر نینا کے پورے جسم کا خون سمٹ کر چہرے پر آگیا ۔ اس نے نائیٹی کے سرے کو کھینچ کر ٹخنے تک لے جانے کی شعوری کوشش کی مگر تیر کمان سے نکل چکا تھا ۔
سوہنا سائیں ! اس میل پیشنٹ کی بیوی تو ہو ناں ،بیمار شوہر کی خدمت ہی کردو ۔ اس نے معنی خیزی سے کہتے ہوئے یکدم اس کے مخملی پاؤں کو پکڑ کر اپنی جانب کھینچا ۔
زار ! پلیز ! میرا دل اب اس سب کے لئے آمادہ نہیں ہے ۔ آپ مجھے بخش دیں ۔ اس نے دونوں ہاتھ جوڑ کر پیشانی سے لگائے ۔ وہ اس کے حوصلوں کو بلند نہیں کرنا چاہتی تھی ۔دل پر پتھر رکھ کر ایک بار پھر اس کی پیش رفت پر مکمل بیزاری ظاہر کی ۔
مگر میں تمھیں بخشنے کے موڈ میں نہیں ہوں اور کان کھول کر سن لو میں تمھاری فلسفیانہ گفتگو سننے نہیں آیا ۔ میری طبیعت خراب ہے ریلیکس ہونا چاہتا ہوں اس لئے میرا دل بہلانے کے لئے میٹھی میٹھی باتیں کرو ، کچھ اپنی کہو کچھ میری سنو ۔ اس نے دونوں ہاتھ تھام کر اسے بانہوں کے گھیرے میں سمیٹتے ہوئے مخمور لہجے میں کہا ۔
چپ ! ایک لفظ نہیں ۔ نینا نے کچھ کہنے کے لئے لب کھولے مگر اس نے اپنی انگشتِ شہادت اس کے لبوں پر رکھ کر بے خوف میں کہا ۔
نینا کی آہ و بکا منت سماجت کو خاطر میں نا لاتے ہوئے وہ اپنے خود ساختہ علاج میں مگن ہوگیا ۔وہ اپنے گنبھیر لہجے کی چاشنی سرگوشیوں کی صورت اس کے کانوں میں انڈھیلتا جارہا تھا اور وہ صدا کی اس کے عشق میں دیوانی آنکھیں بند کئے لفظ لفظ کو دل میں اتارتی چلی جاری تھی ۔
“””””””””””””””””””
اروما لان میں بیٹھی تانیہ ، عروش اور نگین کی باتوں سے اکتا کر اندر چلی آئی ۔ تحریم بھی ان کے درمیان اپنی ہی سوچوں میں گم ہوں ہاں سے کام چلا رہی تھی ۔ حفصہ اپنے موبائل پر گیم کھیلنے میں مصروف تھی ۔نینا کی اب تک ہاسپٹل سے واپسی نہیں ہوئی تھی ۔
عروش کے بلاوے پر وہ لوگ شام سے ہی ان کے گھر آگئیں تھیں ۔ میر سبطین نے صاف معذرت کرلی تھی جبکہ میرجازب نے آفس سے واپسی پر انہیں جوائن کرنے کی یقین دیانی کروائی تھی ۔
وہ صوفے پر بیٹھ کر بیزاری سے چینل سرچنگ کرنے لگی ۔ اس کا یہاں آنے کا ارادہ نہیں تھا مگر عروش کی ناراضگی کے خیال سے نگین اسے زبردستی لے آئیں تھیں ۔ یہ بھی صد شکر تھا کہ زعیم شاہ گھر پر موجود نہیں تھا ۔
وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھے ایک ہاتھ ٹھوڑی کے نیچے ٹکائے پروگرام دیکھنے میں مگن ہوگئی تبھی کچھ دیر گزرنے کے بعد اسے لیونگ روم میں مخصوس مہک محسوس ہوئی تو اس نے گردن گھما کر دیکھا ۔ زعیم شاہ دھیمے قدم اٹھاتا اسی طرف آرہا تھا ۔ وہ فوراً سیدھی ہوکر بیٹھ گئی ۔ نظریں بدستور اسکرین پر جمی تھیں ۔
کیسی ہو ؟ شاہ نے اس سے زرا فاصلے پر رکھے صوفے پر بیٹھ کر بھاری آواز میں دریافت کیا ۔
اروما مکمل لاتعلقی اختیار کئے خاموش بیٹھی رہی جیسے کچھ سنا ہی نا ہو ۔
میرے خیال سے تمھاری سماعتیں درست کام کررہی ہیں پھر جواب کیوں نہیں دے رہی ۔ وہ دھیرے سے ہنسا ۔ اروما کی خاموشی ہنوز قائم رہی ۔
تمھاری ناراضگی جائز ہے مگر اتنی بیگانگی بھی صحیح نہیں ہے ۔ بندہ سلام دعا تو کرسکتا ہے ۔ شاہ کو اپنے ہی الفاظ اجنبی لگے مگر اسے بات کرنے کے لئے اکسانہ بھی ضروری تھا ۔
وہ ہاتھ میں پکڑا ریموٹ ٹیبل پر رکھ کر اٹھ گئی ۔ شاہ نے اس کا ارادہ بھانپ کر لپک کر اس کی کلائی تھام لی ۔
رومی ! پلیز ! مجھے ایک موقع دو ۔ ایک بار میری بات سن لو پھر میں کبھی تمھارے راستے میں نہیں آؤں گا ۔ وہ التجائیہ بولا ۔
آپ نے مجھے ایک موقع دیا تھا ؟ مجھ میں بھی اتنا ظرف نہیں کہ میں آپ کو ایک بھی موقع دوں ۔ وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اعتماد سے بولی ۔
جو میری آنکھوں کو دکھا گیا وہ ہر گز ایسا نہیں تھا کہ برداشت کیا جاتا ۔ میری جگہ کوئی بھی مرد ہوتا وہ اسی طرح پاگل ہوجاتا ۔ رومی ! تم بھی ہوتی تو یہی کرتی ۔ اگر تم سمجھو تو میرا قصور نہیں ہے ۔ کوئی بھی غیرت مند مرد یہ بات برداشت نہیں کرسکتا کہ جسے وہ اپنے دل میں بسائے ہوئے ہو وہ رات کی تنہائی میں کسی اور کے اس حد تک نذدیک ہو ۔ زعیم شاہ نے رسان سے اسے سمجھانے کی کوشش کی ۔
کوئی بھی غیرت مند مرد جسے دل میں بسائے ہو اس پر اعتبار تو کر سکتا ہے ۔ اتنا تو سوچ ہی سکتا ہے کہ وہ اس حد تک نہیں گرسکتی ۔ یہ میری نظر کا دھوکہ بھی تو ہوسکتا ہے ۔ وہ چبھتے ہوئے لہجے میں چبا چبا کر بولی ۔
یہی تو میری خطا ہے کہ میں غصے میں اندھا ہوگیا ۔ میری عقل و فہم بھی ناکام ہوگئی مگر اب میں نے ریلائز کیا ہے کہ محبت میں اعتبار بہت اہم ہے ۔ اس کے بغیر محبت کا کوئی وجود نہیں ہے ۔ وہ دوبدو بولا ۔
مگر اب میرا محبت پر سے اعتبار اٹھ چکا ہے ۔ میرے خیال سے ایسی محبت کا کوئی گائدہ نہیں ہے جو ایک نظر کے دھوکے سے قائم نا رہ سکے ۔ وہ سختی سے اپنا ہاتھ چھڑا کر تند ہی سے بولی ۔
آپ نے میرے بھائی جیسے کزن کے ساتھ میرا نام جوڑ کر مجھے میری ہی نظروں میں گرایا تھا ۔ میں آپ کو اس کے لئے کبھی معاف نہیں کرسکتی ۔ وہ مقام نہیں دے سکتی جو میرے دل میں آپ کے لئے تھا ۔ وہ حتمی انداز میں کہہ کر دوپٹہ درست کرتی آگے بڑھ گئی ۔
تحریم کی ذلالت کی سزا مجھے مت دو رومی ! وہ کمینگی کی انتہا پر پہنچ کر بھی اپنے مقصد میں کامیاب نہی ہوسکی ۔ میں تمھیں اپنے دل سے نہیں نکال سکا ۔ تمھاری جگہ اسے نہیں دی ۔ تم بھی سمجھ چکی ہوگی اس نے ایسا کیوں کیا ۔ باہر کھڑی تحریم نے ان کے مابین ہونے والی گفتگو میں اپنے ذکر پر تنفر سے سر جھٹکا اور کھولتی ہوئی اپنے کمرے میں جانے کے لئے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی ۔
ان کی ذلالت سے آپ کا ایمان تو ڈانوا ڈول ہوگیا تھا ۔میری نظر میں ان سے ذیادہ قصوروارآپ ہیں ۔ وہ کہہ کر رکی نہیں منہ پھیر کر سرعت سے باہر چلی گئی ۔
شاہ کے چہرے پر ملال کی سرخی چھا گئی ۔ وہ تھکے تھکے انداز میں صوفے پر بیٹھ گیا ۔ جو کچھ وہ اسے کہہ چکا تھا ان لفظوں کو سوچ کر اسے خود بھی شرمندگی محسوس ہوتی رہی تھی ، انہیں مٹانا اس کے لئے آسان نہیں تھا ۔
“”””””””””””””””””
اسلام آباد پہنچ کر مجھے فون ضرور کرنا اور دیکھو پہلے کی طرح لاتعلق مت ہوجانا ۔ خیر خبر دیتی رہنا ۔ مجھے تمھاری بہت فکر لگی رہتی ہے ۔ رانیہ اس کے ساتھ چلتی ہوئی پورچ تک آئیں جہاں ائیرپورٹ جانے کے لئے معظم شاہ کی گاڑی تیار کھڑی تھی ۔
اب ایسا نہیں ہوگا ۔ میں کال وغیرہ کرتی رہوں گی ۔ آپ بھی اپنا خیال رکھئے گا ۔ تحریم نے انہیں تسلی دیتے ہوئے گلے لگایا ۔
جیتی رہو ، خوش رہو ۔ رانیہ نے اسے صدقِ دل سے دعا دی ۔
میرزوار کو بھی میرا پیار دینا اور اس کی غصے میں کہی کسی بات کو دل سے لگانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس کا غصہ وقتی ہوتا ہے بلکہ کو شش کیا کرو جب اس کا موڈ ٹھیک نہ ہو تو کم بات کرو ۔ اسے بلاوجہ پریشان بھی مت کرنا ،اسے اپنے سو مسئلے مسائل ہوتے ہیں ۔ رانیہ ساتھ چلتے ہوئے نصحیتوں اور مشوروں سے نواز رہی تھیں ۔
آپ لوگوں کا ملنا ملانا کب ختم ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔تحریم !گاڑی میں بیٹھو دیر ہورہی ہے ۔ عقب سے معظم شاہ کی آواز آئی ۔
شوفر دروازہ کھولے کھڑا تھا ۔ معظم شاہ کے بیٹھنے کے بعد تحریم بھی ان کے برابر میں بیٹھ گئی ۔
خدا حافظ ! رانیہ نے ہاتھ ہلا کر اسے الوداع کیا ۔
تحریم گاڑی کے گیٹ سے باہر نکلنے تک ماں کو دیکھتی رہی ۔
رانیہ گیٹ بند ہونے تک وہیں کھڑی رہیں پھر آنکھوں کے گوشے دوپٹے کے پلو سے صاف کرتی ہوئی گھر کے اندرونی حصے کی جانب چلی گئیں ۔
جاری ہے