Rate this Novel
Episode 20
وہ سارے دن کی مصروفیات سے فراغت کے بعد شاور لے کر آتش دان کے سامنے بیٹھا ایک عرصے بعد اروما کو فرصت سے سوچ رہاتھا ۔ بدگمانیاں اب بھی اپنی جگہ موجود تھیں مگر اس دن اروما چونکا دینے والا روئیہ حیران کن تھا ۔
اسے اروما کا تھپڑ یاد آیا ، اس شدت کو محسوس کرنے کے لئے بے اختیار اس کا دایاں ہاتھ اٹھا اور انگلیاں گال پر اس حدت کو محسوس کرنے لگیں ۔
اروما نے جس طرح کا ردعمل ظاہر کیا اس سے تو یہی لگتا ہے کہ اس رات جو میں نے دیکھا شاید وہ سچ نا ہو مگر یہ بھی تو ہوسکتا ہے اروما اپنے شدید غصے کی آڑ میں مجھے پھر سے بے وقوف بنانا چاہتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھ پر اس کی اصلیت کھل چکی ہے یہ بات اسے بھی کہاں برداشت ہورہی ہوگی ۔
وہ قصوروار ہو یانہ ہو مگر میرے دل سے تو نکل چکی ہے ۔ میں کیوں اس کے بارے میں سوچ رہا ہوں ۔ اس کا کردار میری نظروں میں مشکوک ہوچکا ہے اور اب میں اسے دوبارہ اپنی ذندگی میں شامل کرنے کا سوچوں گا بھی نہیں ۔ زعیم شاہ نے سوچتے ہوئے بیزاری سے سر جھٹکا اور معظم شاہ کی کال پک کرلی ۔
جی بابا سائیں ! اس وقت کیسے یاد کیا ؟
میر سبطین نے اطلاع دی ہے کہ کل وہ کسی خاص مقصد سے شیرازی ولا آرہے ہیں ۔ میرا جہاں تک خیال ہے ضرور کسی نا کسی کے رشتے کے سلسلے میں آئیں گے ۔ معظم شاہ پرسوچ انداز میں بولے ۔
آپ کو ان سے پوچھ لینا چاہئے تھا کس کے رشتے کی بات کرنا چاہ رہے ہیں ۔ شاہ ناگواری سے بولا ۔
یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات تھی ؟ ہر بات صحیح وقت پر موقع دیکھ کر کی جاتی ہے ، منہ اٹھا کر کیسے پوچھ لیتا ۔ معظم شاہ چڑ کر بولے ۔
میں چا ہتاہوں تم بھی کل یہاں موجود رہو ۔ اس لئے تم صبح ہی اپنے کام نمٹا لینا اور اسلام آباد سے روانہ ہوجانا ۔ معظم شاہ نے تحکمانہ کہہ کر لائین کاٹ دی ۔
میر سبطین اگر میرے اور اروما کی رشتے کی بات کرنے آرہے ہیں تو میں بھی ان کے سامنے ہی انکار کروں گا ۔ اس کے بعد دوستی قائم رہے یا نہیں رہے مگر میں اروما سے شادی ہر گز نہیں کروں گا ۔ وہ فیصلہ کن انداز میں سوچتے ہوئے روم کے اندر آگیا ۔
وہ اپنی سوچ پر قائم رہنے کے باوجود بھی بے چین اور مضطرب سا پوری رات سگریٹ کے ساتھ خود بھی سلگتا رہا ۔ ذندگی اتنا اذیت ناک موڑ لے گی اس نے سوچا بھی نہیں تھا اور اب ان ساعتوں سے گزرنا خاصا مشکل ثابت ہو رہا تھا ۔
“””””””””””””””””””””
نینا آنکھوں پر بازو رکھے سونے کی کوشش کررہی تھی لیکن بڑی کوششوں کے باوجود بھی ناکام رہی ۔
سنان کی موت کے بعد کافی عرصہ شہر میں گزار کر شیرازی فیملی واپس گاؤں چلی گئی تھی ۔
آج وہ بنگلے میں بلکل تنہا تھی شاید اس لئے نیند کرنے میں دشواری ہورہی تھی ۔
اس دن کی قربت سے دل میں مرجھائی ہوئی محبت کی کلی پھر سے کھل اٹھی تھی مگر میرزوار نے اس کے بعد کوئی رابطہ نہیں کیا تھا ۔
(ویسے تو بڑا عاشق بنا پھرتا ہے ۔ اتنے دنوں میں ایک بار بھی میرا خیال نہیں آیا ۔ )اس نے کلس کر سوچا پھر کروٹ بدل گئی ۔ تصور میں میرزوار کا چہرہ جھلملایا تو پیازی لب متبسم ہوگئے ۔
وہ کروٹ لئے لیٹی ہوئی تھی تبھی کوئی دروازہ کھولے اندر آگیا ۔
بھاری قدموں کی دھمک نذدیک ہوتی جارہی تھی ۔
کون ہے ؟ نینانے خفیف آواز میں پوچھا۔وہ سائیڈ ٹیبل کی طرف ہاتھ بڑھا کر لیمپ جلانے کی کوشش کررہی تھی تبھی اس کا ہاتھ نرم ملائم بھاری ہاتھ کی گرفت میں آگیا ۔
سگریٹ اور پرفیوم کی ملی جلی مخصوص خوشبو نتھنوں سے ٹکرا کر اسے ساکت کرگئی ۔وہ دم سادھے لیٹی ہوئی تھی ۔
میر زوار نے لیمپ آن کیا ۔ لیمپ کی مدہم روشنی میں اس کا خوبصورت چہرہ واضح ہوگیا ۔وہ بیڈ پر نینا کے بے حد قریب براجمان ہوچکا تھا ۔
زار ! نینا خوشگوار حیرت سے بولی ۔
جی سوہنا سائیں ! غلام حاضر ہے ۔ وہ سر کو خم دے کر دلفریب لہجے میں گویا ہوا ۔ نینا مبہوت سی اسے دیکھے گئی پھر یکدم چونکی ۔
آپ یہاں کیوں آئے ہیں ؟ گھر پر میرے سوا کوئی اور موجود نہیں ہے ۔ آپ کو یہاں نہیں آنا چاہئے تھا ۔ نینا کی سہمی ہوئی مدہم آواز ابھری ۔
مجھے اور کسی سے ملنا بھی نہیں تھا ۔ تم سے ملنا تھا تمھارے لئے ہی آیا ہوں ۔ وہ ذومعنی لہجے میں کہتے ہوئے جھکا ۔
میں آپ سے نہیں ملنا چاہتی ، مجھے آپ سے نفرت ہوگئی ہے ۔ آپ نے سنان کو قتل کرنے کا گناہ کیا ہے ۔ میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی ۔ نینا یکدم پھٹ پڑی ۔
وہ ہمارے بیچ میں آرہا تھا ، اسے تو مرنا ہی تھا ۔ اب تم نے دوبارہ اس کا ذکرکیا توکوئی اور میرےغضب کا نشانہ بنے گا ۔
اس نے نرمی سے نینا کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئےدھمکایا ۔
اب آپ کسی کو نقصان نہیں پہنچائیں گے ورنہ میں اپنی جان دے دوں گی ۔ نینا بے ساختہ بولی ۔
میری موجودگی میں تو مجھ پر ہی جان دوگی اور میں تو چاہتا ہوں کہ تم مجھ پراپنی جان دو۔خیراب میں تمھارے سواکسی کوکوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا ۔ وہ شرارتاً بولا ۔ اس کی نازک گردن اور اس سے نیچے نائیٹی کا گہرا کھلا گلا میرزوار کے ہوش اڑائے دے رہا تھا۔
کیا مطلب ! نینا نے خوفذدہ ہوکر اس کی طرف دیکھا ۔
مطلب بہت جلد سمجھ جاؤگی جب اپنا نقصان ہوتا دیکھو گی ۔ میر زوار نے اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے مصنوئی سنجیدگی سے کہا ۔
گھرمیں نوکر موجود ہیں اور گارڈز بابا سائیں کو بتادیں گے کہ آپ آئے تھے پھر میں انہیں کیا جواب دوں گی ۔ پلیز ! اب جائیں ۔ نینااسے دھکیلتے ہوئے پریشانی سے بولی ۔ میرزوار کی قربت سے اٹھتی ناگوار مشروب کی مہک نے اسے مذید بوکھلا دیا تھا ۔
میری بیوی بہت سمجھدار ہے ، سنبھال لے گی ۔ اب آگیا ہوں ، خالی ہاتھ تو واپس نہیں جاسکتا ۔ نینا کی سانسوں کے زیرو بم پر میر زوار کا دل بے قابو ہوا جارہا تھا ۔
آپ سمجھتے کیوں نہیں ؟ رات کے اس پہر میرے کمرے میں آپ کی موجودگی میرے لئے عذاب بن جائے گی ۔ میں کس کس کو صفائیاں دیتی پھروں گی ۔ نینا بے بسی سے رو دینے کو تھی ۔
صفائیاں دینے میں تو ماہر ہو اور یہ مگرمچھ کے آنسو تو کسی کو بھی گمراہ کرسکتے ہیں ۔ وہ اس کی آنکھوں میں جھانک کرشوخی سے گویا ہوا۔ رسٹ واچ اتار ی پھر قیمتی کفلنکس نکال کر سائیڈ ٹیبل پر رکھے اور لیمپ آف کردیا ۔
اب وہ مکمل اس کے رحم و کرم تھی ۔ میرزوار کی دیدہ دلیری پر نینا کے سینے میں موجود ننھا سا دل خوف کے مارے دگنی رفتار سے دھڑکنے لگا ۔
اس کی نرم ہتھیلیوں سےنکلتی سکون آور گرمی میر زوار کی ہتھیلیوں میں اتر کر اسے دیوانہ کررہی تھیں ۔ میرزوار کی شوخ سرگوشیوں سے نینا کے رخسار دہک اٹھے ۔
اس کے والہانہ اظہارِ محبت نے جلد ہی نینا کے دل دماغ سے ہر طرح کے خوف کا اثر زائل کردیا ۔ میر زوار کی دیوانگی نینا کے ہر خیال پر حاوی ہونے لگی ۔
“”””””””””””””””””””
زار ! آپ مجھے چھوڑ کر جارہے ہیں ۔۔۔۔؟ وہ شیشے کے سامنے کھڑا بال بنا رہا تھا ۔ نیند سے جگر جگر کرتیں ساحرآنکھیں بوجھل ہورہی تھیں ۔
نینا نے اس کی پشت سے سر نکال کر شیشے میں دیکھتے ہوئے اداسی سے کہا ۔
کہو تو ساتھ لے چلتا ہوں ، مجھے تو کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ وہ مسکراتے ہوئے بولا تو دونوں کے ڈمپل گہرے ہوگئے ۔
میرا مطلب ہے ہمیں اس طرح نہیں ملنا چاہئے ۔ آپ بابا سائیں سے بات کریں ۔ نینا جھجکتے ہوئے سر جھکا کر بولی ۔
کل بابا سائیں کو رشتہ لے کر گاؤں بھیج رہا ہوں ۔اس نے پلٹ کر نرمی سے نینا کا رخسار چھوا ۔
آپ سچ کہہ رہے ہیں ؟ وہ خوشی سے کھل اٹھی ۔
سوہنا سائیں ! بلکل سچ ۔ اب مجھے جانے دو ۔ وہ نرمی سے اسے خود سے الگ کرتے ہوئے بولا ۔ نینا سر ہلا کر پیچھے ہٹ گئی ۔
وہ مسکراتی نگاہوں سے جاتے ہوئے اس کی پشت کو دیکھ رہی تھی ۔
میر زوار نے کوریڈور کے سرے پر پہنچ کر پلٹ کر اسے دیکھا ۔
( تم ہمیشہ میرے دل میں دھڑکن بن کر رہوگی ۔ تمھاری اس مسکراہٹ پر میرا سب کچھ قربان ہے ۔معاف کرنا میری فطرت میں نہیں وگرنہ تمھاری مسکراتی آنکھوں کو آنسؤوں کی سوغات کبھی نہیں دیتا ۔) اس نے دکھ سے سوچا پھر اسے اندر جانے کا اشارہ کرتے ہوئے برق رفتاری سے سیڑھیاں اتر گیا ۔
“””””””””””””””””””””””
تحریم میرے زوار کی دلہن بن کر بڑی حویلی جائے گی ۔ میرے لئے اس سے ذیادہ خوشی کی بات کیا ہو سکتی ہے ۔ میر زوار نے تحریم کو چن کر میرا خون ہونے کا حق ادا کردیا ۔ رانیہ کی آواز پر خوشی کے آنسو غالب آگئے ۔
مجھے بھی میر زوار کے فیصلے سے بہت خوشی ہوئی ہے ۔ خاندان میں بچیاں موجود ہوں تو پہلا حق انہی کا ہوتا ہے ۔ معظم شاہ نے زعیم شاہ کو دیکھتے ہوئے چوٹ کی ۔ زعیم نے کوفت سے پہلو بدلا ۔
میرے خیال سے سوچنے کا وقت ، کسی قسم حیل و حجت والی بات تو سرے سے ہی نہیں ہے ۔ ہم سب کو ہی رشتہ قبول ہے تو پھر تم دونوں بتاؤ شادی کی تاریخ طے کریں یا پہلے منگنی کی رسم کرنا چاہتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔؟ معظم شاہ نے مکتوم اور رانیہ کو مخاطب کیا ۔ وہ دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے ۔
میرا مشورہ تو یہ ہے کہ جلد از جلد شادی کی تاریخ طے کردی جائے ۔ میر زوار کی بھی یہی خواہش ہے بلکہ اس نے اسرار کیا ہے ۔ وہ شادی میں تاخیرنہیں چاہتا۔ نگین نے اس کی زبانی بات دہرائی ۔
وہ بھی صحیح کہہ رہا ہے پھر الیکشنز کا دور شروع ہوجائے گا تو وہ بھی مصروف ہوجائے گا اور ہماری مصروفیات بھی بڑھ جائیں گی ۔
سنان کا معاملہ ابھی تازہ ہے پھر بھی ہم آپ کے مشورے سے جلد ہی کوئی تاریخ طے کرلیں گے ۔ مکتوم شاہ نے تسلی بخش جواب دیا ۔
واقعی سنان کے لئے ہمیں بھی بہت دکھ ہے ۔ اس کے ساتھ اچانک انہونی ہوگئی۔ سارے معاملات الٹ ہوگئے ۔ نگین تاسف سے بولیں ۔
ہونی کو کون ٹال سکتا ہے ۔ سنان بے چارہ اپنی جان سے گیا اور ہماری بچی کا گھر بستے بستے رہ گیا ۔ رانیہ اس ذکر پر رنجیدہ ہوگئیں ۔
اس کی قسمت میں یہی لکھا تھا ۔ اب نینا کے بارے میں کیا سوچا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ میر سبطین گویا ہوئے ۔
ابھی تو بہت اپ سیٹ ہے لیکن انشاءاللہ بہت جلد نارمل ہوجائے گی پھر کچھ سوچیں گے ۔ معظم شاہ اور زعیم اس ذکر پر خاموش رہے رانیہ نے ہی جواب دیا ۔
“””””””””””””””””””
تحریم حیرت اور اچھنبے سے سوچ رہی تھی کہ میرزوار نے رشتہ بھیجا بھی تو اس کے لئے کیوں بھیجا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرزوار کے پاس نینا کو سبق سکھانے کے اور بھی بہت سے طریقے ہونگے پھراس نے مجھے ہی کیوں چنا ؟ وہ جتنا سوچ رہی تھی اتنی ہی پرسکون ہوتی جارہی تھی ۔
میر زوار کا اسٹیٹس ، اس کی شاندار پرسنیلٹی بے شمار دولت جائیداد اور سب سے بڑھ کر میر کا نینا پر اسے ترجیح دینا ۔ اسے سب کچھ بہت دلچسپ لگ رہا تھا ۔
شاہ میں ایسی بھی کوئی خاصیت نہیں کہ اس کے لئے میں میر زوار جیسے بندے کا رشتہ ٹھکرا دوں ۔ وہ چڑھتا ہوا سورج ہے، اس کا رشتہ کسی نعمت سے کم نہیں ہے ۔ شاہ نے جس طرح میری تذلیل کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے ٹھکرایا ہے ، میرزوار سے شادی کرکے میں اسے منہ توڑ جواب دوں گی ۔میر سے شادی کے بعد پورے خاندان میں کوئی میری برابری پر نہیں ہوگا ۔نینا کی بھی عقل ٹھکانے آجائے گی ۔ تحریم کی بے پایاں خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا تبھی وہ رانیہ کے استفسار پر مطمئین سی بولی ۔
تحریم ! تمھیں میرزوار کے رشتے پر کوئی اعتراض تو نہیں ہے ؟ اگر تم نے کوئی نقطہ اٹھایا بھی تو میں تمھاری ایک نہیں چلنے دونگی ۔تمھارے بابا سبطین بھائی کو زبان دے چکے ہیں ۔ رانیہ نے اسے دوٹوک انداز میں کہتے ہوئے آگاہ کیا ۔
مام ! آپ کے لائق فائق بھتیجے سے شادی کے لئے کون کافر انکار کرے گی ۔ان فیکٹ میں تو دل و جان سے راضی ہوں ۔ وہ کھلکھلاتے ہوئے شرارتاً بولی ۔
اللہ کا شکر ہے ۔ تمھیں عقل تو آئی ورنہ میری تو سوچ سوچ کر جان ہلکان ہورہی تھی کہیں تم اس رشتے سے بھی انکار نہ کردو ۔ رانیہ نے سکون کا سانس بھرتے ہوئے اسے گھور کر دیکھا ۔
آپ تو بلاوجہ مجھ سے ناراض رہتی ہیں ۔ وہ پرپوزل اس قابل ہی کہاں ہوتے تھے کہ ان کے بارے میں سوچتی ، میرزوار جیسا ایک بھی پرپوزل اب تک نہیں آیا تھا ۔ جب مجھ میں کوئی کمی نہیں تو میں ایسے ہی کسی بھی ایرے غیرے کے پرپوزل پر کمپرومائز میں کیوں کرلیتی ۔۔۔۔ تحریم تفاخر سے بولی ۔
میری بیٹی میں اللہ نے کوئی خامی کوئی کمی نہیں چھوڑی اسی لئے تو میرسائیں کی نظر تم پر ٹہری ہے ۔ اللہ تم دونوں کو بری نظرسے محفوظ رکھے ۔ رانیہ نے اس کے ماتھے کو چوم کر دعا دی ۔
“””””””””””””””””
یہ نہیں ہوسکتا ۔ تمھیں ضرور سننے میں غلط فہمی ہوئی ہوگی ۔ انہوں نے میرا نام لیا ہوگا ۔ نینا لب کاٹتے ہوئے بولی ۔
کوئی غلط فہمی نہیں ہے ۔ انہوں نے کل رات خود باباسائیں سے بات کی تھی ۔ ان کی ایما پر آج بابا سائیں اور اماں تحریم آپی کا پرپوزل لے کر گاؤں گئے ہیں ۔ اروما کی آواز پر نینا کا دل رک کر پوری قوت سے دھڑکا ۔
وہ میرے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ نہیں کرسکتے ۔ رومی ! انہوں نے مجھ سے نکاح کیا ہے پھر تحریم آپی سے شادی کیسے کرسکتے ہیں ؟نینا تڑپ کر بولی ۔اس کے دل پر برچھی سے وار ہوا تھا ۔آنکھوں میں میر زوار کے سنگ گزارے حسین لمحات ، اس کا مسکراتا چہرہ چکرانے لگا ۔
اروما مسلسل بول رہی تھی مگر نینا کے کانوں میں میرزوار کی آواز میں رس گھولتے ہوئے وعدوں اور قسموں کی بازگشت گونج رہی تھی ۔
جاری ہے
