Rate this Novel
Episode 35
میں نے قسمت کی لکیروں سے چرایا ہے تجھے
پیار کا بن کے نگہبان تھجے چاہوں گا
میں تو مر کے بھی میری جان تجھے چاہوں گا
وہ بے حد خوبصورت کٹ فلاور سے سجی سیج پر سکڑی سمٹی ہوئی بیٹھی تھی ۔ نیند سے بوجھل پلکیں جھکی جارہی تھیں تبھی وہ خوبصورت آواز میں گنگناتا ہوا اس کے پاس چلا آیا اس کے مخصوص پرفیوم کی مسحور کن خوشبو نینا کے نتھنوں سے ٹکرائی تو نیند بھک سے اڑ گئی ۔
میرزوار نے بے اختیار جھک کر اس کی پیشانی پر محبت سے بھرپور مہر ثبت کی پھر اس کے سامنے دونوں بازو دائیں بائیں پھیلا کر لیٹ گیا اور آنکھیں سختی سے بند کرکے بولا ۔
نین سائیں! مجھے یقین دلاؤ کے تم میری ہوچکی ہو اور اگر یہ خواب ہے تو مجھے ہمیشہ کی نیند سلادو ۔
اف ۔۔۔۔۔۔۔ اس کا دل پوری قوت سے دھڑکنے لگا۔ اس نے میر کی پیشانی پر بکھرے بالوں میں انگلیاں پھنسائیں ، پھرزور سے جھٹکا دے کر بولی ۔
مٹھا سائیں ! یقین کرلیں ۔
بہت ظالم ہو ۔ اس نے نینا کی کلائی تھام کر جھٹکے سے اپنے سینےپر گرالیا ۔
میرزوار کی منہ زور چاہتیں لمحہ بہ لمحہ شدت اختیار کرنے لگیں ۔
رات دھیرے دھیرے سرکتی جارہی تھی اور اس رات کا گزرتا ہر لمحہ حسین یاد بن کر ان کی یادداشت میں ذندگی بھر کے لئے محفوظ ہوتا جارہا تھا ۔
سورج کی تیز دھوپ گلاس وال سے چھن چھن کر اندر آنے لگی ، نینا کی آنکھ روشنی کے احساس سے فوراً کھل گئی ۔ اس نے میرزوار کی طرف دیکھا جو گہری نیند میں تھا ۔
نینا نے اس کی نیند کے خیال سے اس کے بازو کے حلقے سے نکلنے میں بہت احتیاط برتی مگر پھر بھی میرزوار نے نیند میں ہی گھیرا تنگ کرکے اس کی اٹھنے کی کوشش ناکام بنا دی ۔
وہ بالآخر دوبارہ اس کے سینے پر سر رکھ محویت سے اس پر نظریں جمائی لیٹ گئی ۔ وہ نیند میں ہمیشہ سے ذیادہ اچھا لگ رہا تھا ۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے ۔وہ ناجانے کب اٹھتا تھا ۔ کہیں نیند سے جگانے پر غصہ نا کرے ۔ اسی خیال سے وہ اسے جگاتے ہوئے جھجک رہی تھی ۔
وہ بھی پتا نہیں مردوں سے شرط باندھ کر سویا تھا تبھی اس نے کچھ سوچتے ہوئے اس کے بالوں سے بھرپور سینے کو ہلکا سا تھپتھپایا ۔
ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ میرزوار نے نیند میں ڈوبی آواز میں ہنکارہ بھرا پھر اس کے نرم و نازک ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا مگر آنکھیں نہیں کھولیں ۔
اس کے نیند میں مست پرجلال چہرے کو دیکھتے ہوئے نینا میں اسے دوبارہ چھیڑنے کی ہمت نہیں تھی یوں چپ چاپ اسے تکتی رہی ۔
میرزوار کو اپنے چہرے پر اس کی نظروں کی تپش کا احساس ہوا تو اس نے زرا سی آنکھیں کھول کر اسے دیکھا ۔ نینا کو اپنی جانب دیکھتا پاکر مبہم سا مسکرایا ۔
گڈمورننگ سوہنا سائیں ! آئی لو یو سو مچ ۔ اسے نرمی سے خود میں سموکر بھاری آواز میں وش کیا ۔
آئی لو یو ٹو ۔۔۔۔مور دین یو ۔ وہ منمائی ۔
رئیلی ؟ میرزوار نے بھنویں سکیڑ کر اس کی نازک ناک کو ہولے سے دبایا۔
آئم ناٹ شیور ۔ نینا نے بھی اسی کے انداز میں جوابی کاروائی کی ۔ میرزوار کا قہقہہ برجستہ تھا ۔
بٹ آئم شیور ۔ وہ اس کا رخسار چھو کربیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا پھر سائیڈ ٹیبل سے سگریٹ کیس اٹھا کر ایک سگریٹ نکالا اور ہونٹوں میں دبا کر لائیٹر سے سلگانے لگا ۔
زار ! ایک بات کہوں ؟ وہ یک ٹک اس پر نگاہیں جمائے ہوئی تھی ۔
کہو میری شہزادی،تمھیں اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے اب تو ساری ذندگی صرف تمھیں سننا چاہتا ہوں ۔ اس نے دلفریب لہجے میں کہتے ہوئے گہرا کش لے کر دھواں اس کے چہرے پر بکھیر دیا ۔ نینا نے ناگواری سے ہاتھ ہلا کر دھواں منتشر کیا ۔
تحریم آپی کو ہوش آگیا اور انہوں نے ہماری شادی پر اعتراض کیا تو آپ کیا کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔؟
اول تو تمھاری تحریم آپی کو ہوش آئے گا نہیں اور اگر غلطی سے آبھی گیا تو میں نے اسے اتنا حق نہیں دیا کہ وہ اعتراض کرے ۔
ویسے میں نے سوچا ہے کہ خدانخواستہ وہ ہوش میں آگئی تو وہیں اس کا کام تمام کروادوں گا ۔ وہ ایک آنکھ دبا کر شرارت سے اس پر جھکا ۔ اس کی سفاکی پر نینا کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔
زار ! آپ میری سوچ سے بھی ذیادہ بڑے غنڈے ، بدمعاش ہیں ۔ وہ اس کے سینے پر زوردار ہاتھ مار کر چیخ پڑی تھی ۔
مجھے لگتا ہے آپ کبھی نہیں سدھریں گے ، ہر بات کا الٹا جواب دیتے ہیں ۔ ذندگی بھر یونہی دہلاتے رہیں گے ۔ وہ خفگی سے منہ پھلا کر بولی ۔
تم نے جو پوری رات مجھے سوالوں کی مار ماری ہے ، میں نے کوئی شکایت کی ؟ صبح ہوتے ہی دوبارہ شروع ہوگئی ہو۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کچھ پیاری پیاری باتیں کرتیں ، میرے پیارے پیارے ڈھیر سارے بچوں کے پیارے پیارے نام سوچ کر مجھے بتاتی مگر پھر وہی سوال لے کر بیٹھ گئیں ۔ اس نے نینا کا چوڑیوں سے سجا نازک ہاتھ لبوں سے لگا کر محفوظ ہوتے ہوئے کہا ۔
بہت دیر ہوگئی ہے ناشتے پر سب ہمارا انتظار کررہے ہونگے ۔اروما کی بارات کی تیاریاں بھی کرنی ہے ۔ اس نے جھینپتے ہوئے کہنیوں کے بل اٹھنے کی کوشش کی ۔
سرکار ! عاشقوں کی صبح اتنی جلدی نہیں ہوتی ، ابھی تو رات کے بہت سارے حساب باقی ہیں ۔ میرزوار نے گنبھیرتا سے کہتے ہوئے کمفرٹر اوپر تک کھینچ لیا ۔
نینا نے گھبرا کر اس کی طرف دیکھا مگر میر نے اس کی فرار کے سارے راستے مفقود کردئیے تھے ۔
“”””””””””””””””””
نین ! دیکھو ! پلیز ! مجھے بتاؤ ، میک اوور بہت ڈارک لگ رہا ہے ناں ؟ اروما نے خود کو آئینے میں دیکھ کر فکرمندی سے اسے مخاطب کیا ۔
بیوٹیشن نے پلم اینڈ بلش کلر کے کنٹراسٹ شرارے پر اسی کی مناسبت سے نفیس میک اپ کیا تھا۔نیوڈ آئی شیڈوز کے ساتھ لپ اسٹک کلر نیچرل یوز کیا گیا تھا مگرپہلی بار ہیوی میک اوور میں بلاشبہ حسین دکھنے کے باوجود بھی وہ بہت کنفیوژ ہورہی تھی ۔
آج شادی ہے تمھاری ، پاگلوں جیسی حرکتیں مت کرو ۔ بہت پیاری لگ رہی ہو ۔ بھائی تو تمھیں دیکھتے ہی بے ہوش ہوجائیں گے ۔ نینا جو تیار ہونے کے بعد خود کو ہر زاوئیے سے آئینے میں دیکھ رہی تھی اسے آنکھیں دکھاتی ڈپٹ کر بولی ۔
اس کا مطلب ہے کل زاری بھائی بھی تمھیں دیکھ کر بے ہوش ہوگئے ہونگے ۔ اروما نے معنی خیزی سے کہا ۔
نہیں ، بلکہ وہ جناب تو پوری طرح ہوش میں آگئے تھے ، جس کی وجہ سے میری جان مشکل میں تھی۔ نینا اس کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر بے تکلفی سے بولی ۔ خوشی اس کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی ۔
ماشاء اللہ ! وہ تو نظر آرہا ہے ۔ اروما نے اس کے رخسار پر اور دوسرا اس سے زرا نیچے اور تیسرا ۔۔۔۔۔۔۔ بیس کی دبیز تہہ کے باوجود واضح دہکتے نشانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شرارتاً کہا ۔ نینا اس کی نظروں کا مفہوم سمجھتے ہی شرما کر رخ پھیر گئی ۔
تم ٹہرو میں باہر دیکھتی ہوں خالہ جان تیار ہوگئی ہیں تو ہم پنڈال پہنچتے ہیں ، میرے خیال سے بارات بھی آنے والی ہوگی ۔ وہ مبہم سا کہہ کر باہر نکل گئی ۔
وہ رانیہ کے روم سے نکل کر اب نگین کی تلاش میں ان کے روم کی طرف جارہی تھی تبھی میرزوارکے روم کا دروازہ اور وہ باہر نکلا ہی تھا کہ اس کی نظر سامنے سے گزرتی نینا پر پڑی ۔ وہ خالی پڑے کاریڈور پر ادھر ادھرطائرانہ نظر ڈال کر سرعت سے آگے بڑھا اور نینا کی کمر میں بازو حمائل کر کے روم میں لے آیا ۔
اف ۔ یہ کیا بدتمیزی ہے ۔۔۔۔۔اگر کوئی دیکھ لیتا تو ؟ نینا نے لڑکھڑاکر اپنے جھومتے ہوئے جھومر پر ہاتھ رکھ کر سیٹ کرنے کی کوشش کی ۔
ایسی کی تیسی دیکھنے والوں کی ، کوئی دیکھتا ہے تو دیکھتا رہے ۔ ڈونٹ کئیر ۔ تم یہ بتاؤ جتنی پیاری لگ رہی ہو اتنا ہی دور کیوں بھاگ رہی ہو ؟ میں ڈریسنگ سے باہر نکلاتو تم فرار ہو چکی تھی ۔ وہ اس کی ٹھوڑی اونچی کئے خفگی سے شکوہ کناں تھا ۔
دو منٹ کے لئے موقع ملا تھا تو آپ سے جان چھڑا کر بھاگی تھی ۔ اب میں ہر وقت تو آپ کے گھٹنے سے لگ کر نہیں بیٹھ سکتی ۔پلیز ! چلیں ۔ ہم لیٹ ہورہے ہیں ، بارات آنے والی ہوگی ۔ نینا نے میر کے حصار کو توڑنے کی بھرپور کی کوشش کی ۔
بارات کا ویلکم کرنے کے لئے وہاں بہت لوگ ہیں ۔ تم ان کی ٹینشن مت لو ، بس میری فکر کرو ۔ وہ ہنوز بہکے ہوئے لہجے میں بولا ۔
اگر آپ کو یاد نہیں ہے تو میں آپ کو بتا دیتی ہوں آج ہمارا بھی ولیمہ ہے اور بارات پہنچنے سے پہلے ہماری وہاں موجودگی ضروری ہے اور میں آپ کی کتنی فکر کروں ؟ کل سے اب تک آپ کی فکر میں ہلکان ہوگئی ہوں ۔ وہ تیز تیز بولتے ہوئے آخر میں پلکیں جھکا گئی ۔ میرزوار نے زبردست قہقہ لگایا ۔
بس ایک ہی دن میں ہار مان گئی ۔ سِنو وہائیٹ ! ابھی تو شروعات ہوئی ہے ۔ میں تو تمھاری ہڈیاں ہلانے کا ارادہ رکھتا ہوں ۔ وہ ہر گز بھی سنجیدہ نہیں تھا ۔ حد درجہ شوخ ہوا ۔
زار ! اگر آپ نے مجھے ڈرایا تو میں آج ہی اپنی اماں اور بھائی کے ساتھ گھر چلی جاؤں گی ۔ وہ ہراساں ہوگئی ۔
شٹ اپ ! اگر ایسا سوچا بھی تو تمھیں تمھارے اماں اور بھائی کو سوچنے کی بھی اجازت نہیں دوں گا ، ملنا تو بہت دور کی بات ہے ۔ میرزوار یکدم برہم ہوا اوراس کے نازک بازؤں کو دبوچ کر غرایا ۔
نین ! میں نے تمھاری جدائی جگر کو پتھر کرکے کاٹی ہے ۔ تمھیں اپنا بنانے کے لئے بہت جتن کئے ہیں ۔ دوبارہ مجھ سے دور جانے کی بات کرنے سے پہلے ہزار بار سوچ لینا اگر نہیں سوچوگی تو اپنے پیاروں کو مفت میں کھو دوگی ۔ میں تمھیں خود سے قریب رکھنے کے لئے ہمارے درمیان آنے والے ہر رشتے کو مٹا ڈالوں گا ۔ تمھارے دل اور جسم پر ہی نہیں سوچوں پر بھی صرف میرا نام ہونا چاہئے ۔ وہ سرد ٹہرے ہوئے لہجے میں دانت بھینچے سختی سے بول رہا تھا ۔
زار ! مجھے تکلیف ہورہی ہے ۔ وہ خوفذدہ ہرنی کی طرح اسے تک رہی تھی ۔ بمشکل منمائی ۔ وہ اس کے دہشتناک انداز پر کانپ کر رہ گئی تھی ۔ آنکھیں کے کنارے نمکین پانیوں سے رسنے لگے ۔
وہ شعلہ بار نگاہ تنبیہہ نگاہ اس پر ڈال کر سامنے سے ہٹ گیا اور ڈریسنگ ٹیبل سے “جو میلون لندن “کی بوٹل اٹھا کر اسپرے کیا ۔
اس کی نظریں شیشے میں نظرآتے نینا کے عکس پر جمی تھیں ۔
وہ کمرے کے وسط میں کھڑی خاموشی سے آنسو بہاتے ہوئے اپنے بازو سہلا رہی تھی ۔
میر زوار دلکشی سے مسکراتے ہوئے پرفیوم کی بوٹل سمیت اس کے پاس آیا پھر جا بجا اس پر بھرپور اسپرے کیا ۔ نینا نے خوفذدہ نظروں سے اسے دیکھا اور چند قدم دور ہوگئی ۔
ارے۔۔رے۔۔۔سنو وہائیٹ ڈرگئی لیکن میں آپ کو ڈرانا نہیں چاہتا تھا میں تو بس اظہارِ محبت کررہا تھاتاکہ تم مجھ سے دوریاں بڑھانے والی سوچ کو بھی اپنے نذدیک بھٹکنے نہ دو ۔ اس نے بڑھ کر نینا کو کمر سے پکڑ کر اوپر اٹھا لیا اور سر اٹھا کر محبت پاش نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے شرارت سے بولا ۔
اظہارِ محبت اتنا شدید ؟ نینا نے ایک ہاتھ اس کے شانے پر جما کر دوسرے ہاتھ سے اس کے بالوں کو مٹھی میں جکڑ کر جھٹکا دیا ۔
تم سے عشق بھی تو اتنا شدید ہے ۔ وہ ترکی بہ ترکی بولا ۔ نینا کی کھنکتی ہنسی پر میرزوار کی دھڑکنیں بے قابو ہونے لگی ۔
“”””””””””””””””
قاضی صاحب ایجاب و قبول کروارہے تھے اور اروما نے جی جان سے قبول کرنے کے بعد نکاح کے پیپرز پر سائین کئے ۔اسٹیج سے مہمانوں کا ہجوم قدرے کم ہوگیا کیونکہ میرزوار اور نینا کی انٹری ہورہی تھی ۔
فوکس لائیٹس کی روشنی میں وہ دونوں چلتے ہوئے اتنے شاندار لگ رہے تھے کہ عروش کو انہیں بری نظر لگ جانے کی فکر لاحق ہوگئی ۔
نینا سفید اور سلور پرل اور اسٹونز کے کام سے مزین بلیک لانگ ٹیل میکسی میں پریوں جیسا حسن لئے میرزوار کے بازو میں نزاکت سے ہاتھ ڈالے پلکیں جھکائے دھیمی رفتار سے چل رہی تھی ۔
میرزوار بلیک شلوار سوٹ پر بلیک ویسٹ کوٹ میں ملبوس شاندار سراپے میں غضب ڈھارہا تھا ۔ ایک ساتھ چلتے ہوئے ان کی جوڑی پر چاند سورج کی مصداق صادق آرہی تھی ۔
ان کے لئے علیحدہ اسٹیج سجایا گیا تھا ۔ میرزوار نے احتیاط سے اس کا ہاتھ تھام کر اسٹیج کے اسٹیپس چڑھنے میں مدد کی ۔
مہمانوں کی طرف سے گفٹ وصول کرنے اور فوٹو سیشن کے طویل مرحلے سے گزرنے کے بعد وہ اسے لئے اروما کے پاس آگیا ۔
اروما گھبرائی گھبرائی سی جھکی پلکوں سے بیٹھی ہوئی بہت معصوم اور خوبصورت لگ رہی تھی ۔
بیوٹی فل برائیڈ ! چئیر اپ ! اتنا گھبرانے کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔۔۔۔۔اسے دیکھو ۔کل سے دانت ہی اندر نہیں جارہے اور ایک تم ہو رونی سی صورت بنا کر بیٹھی ہو ۔ میرزوار نے اروما کے ساتھ بیٹھتے ہوئے اس کے گرد بازو حمائل کیا پھر نینا کے کھلتے چہرے کی طرف اشارہ کر کے شوخی سے بولا ۔ نینا کھلکھلا کر ہنس پڑی اور اروما کے ساتھ بیٹھ کر رازداری سے بولنے لگی ۔
بھائی تو ڈیسینٹ اینڈ لوونگ پرسنالٹی ہیں پھر بھی تم اتنا گھبرارہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میری شادی تو ملک کے جانے مانے ٹیریرسٹ سے ہوئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔شیر کی کچھار میں پھنسی ہوں پھر بھی دیکھو کتنی خوش ہوں ۔ اس نے بلند آواز میں سرگوشی کی ۔
میرزوار نے مسکراتی نگاہوں سے اس کے دلہناپے والے دلکش سراپے کو سراہا پھر وہ زعیم شاہ کو میر جازب وغیرہ کے ساتھ اسٹیج کی طرف آتا دیکھ کر نینا سے نظریں ہٹا کربمشکل اپنے دل کو سنبھال کر کھڑا ہوگیا ۔
زعیم شاہ بوسکی کے روایتی سوٹ اور دستار میں اونچے پورے قد کے ساتھ بے حد شاندار لگ رہا تھا ۔ وہ مضبوط قدم اٹھاتا ہوا اسٹیج تک پہنچا ۔ میرزوار نے اس کا ہاتھ تھام کر اسٹیج پر ویلکم کیا ۔
شاہ کی نظریں میرزوار سے مصافحہ کرتے ہوئے بے اختیار اروما کی لرزتی پلکوں میں الجھ گئیں ۔ اس نے فدویانہ نظروں سے اس کے سجے سنورے روپ کو دیکھا ۔ میر زوار نے اسے اروما کے ساتھ بٹھادیا اور خود نینا کے ساتھ ایک صوفے پر بیٹھ گیا۔
نینا کو اس کے ساتھ خوش باش دیکھ کر شاہ کے رگ و جاں میں طمانیت کا احساس اترتا محسوس ہوا ۔ ایک خلش سی تھی جو میر زوار کی سرگوشی پر نینا کے گلال چہرے کو دیکھ کر مٹ گئی ۔
اب اس کی تمام تر توجہ اپنے پہلو میں بیٹھے نازک وجود پر مبذول ہوچکی تھی ۔
ہم بھی پڑے ہیں راہوں میں ۔۔۔۔۔۔۔اپنی انار کلی سے فرصت مل جائے تو ایک نظر ہم پر بھی کرلیں سرکار ! کل سے دیکھ رہا ہوں ، انار کلی کی انٹری کے بعد ہم تو کسی گنتی میں ہی نہیں رہے ۔میر جازب نے ان کے ساتھ بیٹھتے ہوئے ٹھنڈی آہ بھری ۔
تم دو پریمیوں کے بیچ کیوں اکبر بادشاہ بننے کی کوشش کررہے ۔
دیکھتے نہیں صاحب اس وقت اپنی مسز کے ساتھ مصروف ہیں اور بات سنو ! اب میری مسز کا نام تمیز سے لینا اگر ایسے ویسے نام سے دوبارہ پکارہ تو منہ توڑ دوں گا ۔ میزوار نے اس کی شکایت کو خاطر میں نا لاتے ہوئے اس کی طبیعت صاف کی ۔
اوئے ! یہ تمھاری مسز بعد میں بنی ہے ، میری دوست پہلے ہے ۔ خبردار ! جو ہماری دوستی کے بیچ آنے کی کوشش کی ، میں بھی تمھاری ٹانگ توڑنے کا پورا حق محفوظ رکھتا ہوں ۔ میرجازب نے نینا کے شانے پر ہاتھ رکھ کر اس کی دھمکی کو چٹکیوں میں اڑا دیا ۔
تم یہ ڈرامے بازی اپنی چوہیا کے ساتھ جاکر کرو ۔ ویسے بھی تمھیں شادی سے پہلے اسے پال پوس کر بڑا کرنا ہے ۔ جاؤ دیکھو !کہاں ہے ۔۔۔۔۔۔۔بچوں کے ساتھ گوٹیاں کھیل رہی ہوگی ۔
میرزوار نے جی بھر کر اس کا مذاق اڑایا ۔
ارے یار ! اچھا یاد دلایا ۔ بڑی دیر سے نظر نہیں آئی ، کچھ کمی سی محسوس ہورہی تھی ۔ میرجازب نے زبردست قہقہہ لگا کر حفصہ کی تلاش میں ادھر ادھر نظریں دوڑائیں ۔
وہ بے چاری تو جیزی سے چھپتی پھرتی ہے ۔ ابھی بھی کسی نا کسی کونے میں دبکی بیٹھی ہوگی ۔ نینا مسکراتے ہوئے بولی ۔ وہ صبح سے حفصہ کو نوٹ کررہی تھی جو میر جازب کی شوخ نگاہوں سے شرمندہ ہوکر بغلیں جھانکتی رہتی تھی ۔
سوہنا سائیں ! لانگ ڈرائیو پر چلیں ۔۔۔۔۔۔؟ میرجازب وہاں سے ٹل گیا تو میرزوار نے اسے پیشکش کی ۔
پاگل ہوگئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ہم رسیپشن چھوڑ کر لانگ ڈرائیو پر کیسے جاسکتے ہیں ؟ نینا یکدم بوکھلا گئی ۔
سلی گرل ! ابھی نہیں یار ! رخصتی کے بعد ہم گھر نہیں جائینگے ۔ لانگ ڈرائیو پر چلیں گے۔ آج میں پوری آزادی کے ساتھ تمھیں پورے شہر کی سیر کرواؤں گا ۔ تمھیں پتا ہے نین اس دن کا انتظار میں نے بہت شدت سے کیا ہے ۔ وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بے خودی کے عالم میں بے حد نذدیک آگیا ۔
پلیز ! خود پر قابو رکھیں ۔ سب متوجہ ہورہے ہیں ۔ آپ بھری محفل میں ایسی حرکتیں کریں گے تو میں اماں کے پاس جاکر بیٹھ جاؤں گی ۔ نینا نے گھبرا کر اسے دھمکی دی ۔ میرزوار نے دل موہ لینے والی مسکراہٹ اس کی طرف اچھالی پھر اسٹیج سےاتر کر کچھ خاص مہمانوں کی طرف بڑھ گیا ۔
“””””””””””””””””
عروش اور رانیہ اسے روم میں بٹھا کر چلی گئی تھیں پھر ناجانے کب اس کی آنکھ لگ گئی ۔
اس کی آنکھ کھلی تو روم میں کینڈل لائیٹس کی باعث ملگجا سا اجالا پھیلا ہوا تھا ۔ اس نے بے اختیار پوری آنکھیں کھول کر ادھر ادھر دیکھا تو کمرے کے وسط میں زعیم شاہ ٹانگ پر ٹانگ جمائے صوفے پر بیٹھا فرصت سے اسے دیکھ رہا تھا ۔ اس کی نظر پڑتے ہی دلکشی سے مسکرا کر اس کے پاس آگیا ۔
آئم ایکسٹریملی سوری ! مجھے پتا ہی نہیں چلا اور میں سوگئی مگر میں جان بوجھ کر نہیں سوئی تھی ۔ تھکن کی وجہ سے لیٹتے ہی نیند آگئی ۔ اروما نے جھجکتے ہوئے اٹھنے کی کوشش کی مگر شاہ نے اس کے سرہانے بیٹھتے ہوئے اشارے سے روک دیا ۔
نیند والی گرل ! میں نے کوئی وضاحت تو نہیں مانگی ، مجھے احساس تھا کہ تم بہت تھک گئی ہوگی اس لئے نیند خراب نہیں کی ۔ میں تمھارے بیدار ہونے کا انتظار کررہا تھا ۔ شاہ نے اس کی ٹھوڑی کو دھیرے سے چھوا ۔ اروما کی ہتھیلیاں پسیجنے لگیں ۔
آپ کو تو پوری ذندگی وضاحتیں دینا پڑیں گی اس لئے پریکٹس کررہی ہوں ۔ ناجانے کب آپ وضاحت مانگ لیں ۔ ویسے ایک بات یہ بھی ہے کہ میری کوشش بے کار ہے کیونکہ آپ کسی کی وضاحت پر یقین کب کرتے ہیں بس فیصلہ سنا دیتے ہیں ۔ اسے شاہ کی اتنی اپنائیت پر اسی کمرے میں ہونے والی عزت افزائی یاد آگئی تو نہ چاہتے ہوئے بھی لہجہ تلخ ہوگیا ۔
شش ۔۔۔۔شاہ نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خاموش کروادیا ۔ اروما نے آنکھوں میں اترنے والی نمی کو حلق سے اتارا ۔
نئی ذندگی کی شروعات کرنے سے پہلے ایک بات اچھی طرح سمجھ لو ، جو کچھ ہمارے درمیان گزر چکاہے تم اس کا ذکر بھی ہماری آنے والی ذندگی میں نہیں کرو گی تبھی ہم خوشگوار ذندگی کا آغاز کرسکیں گے ۔
تم بھی جانتی ہو جو کچھ ہوا غلط فہمی کی بنا پر ہوا پھر بھی میں مانتا ہوں کہ غلطی میری بھی تھی ، مجھے بے اعتبار نہیں ہونا چاہئے تھا مگر میری جان اب تمھیں بھی بھولنا ہوگا ۔ یہ ایک غلطی بھول جاؤ اور مجھے معاف کردو ۔ میں ساری عمر تمھارے ناز سر آنکھوں پر اٹھا ؤں گا ۔ شاہ نے اس کے پہلو سے اٹھ کر مہندی سے رچے مخملی پاؤں کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا ۔
یہ کیا کررہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ پلیز ! وہاں سے اٹھیں ۔ کیوں مجھے گناہ گار کررہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں آپ کو دل سے معاف کر چکی ہوں ۔ میرے دل میں بھی کچھ نہیں ہے بس کچھ یاد آگیا تھا تو جذباتی ہوگئی تھی ۔ وہ شاہ کے پاؤں پکڑنے پر انتہائی شرمندہ ہورہی تھی ۔ خفت سےچہرہ سرخ پڑ گیا ۔
میں جانتا ہوں تمھارا دل صاف ہے ۔ تم پاکیزہ ہو مگر اب تم کوئی پرانی بات یاد کرکے خود کو دکھ نہیں پہنچاؤگی بلکہ اب تم میرے پیار کے سوا کچھ یاد رکھ نہیں پاؤگی ۔ شاہ نے اپنی جیب سے پلیٹنیم گولڈ کی جگمگاتی پازیب نکال کر اس کے پاؤں میں پہناتے ہوئے شوخی سے کہا پھر اس کے پاؤں پر اپنے گہرے پیار کی انمول نشانی ثبت کی ۔ اروما نے لجا کر دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپالیا ۔
بہت پیاری لگ رہی ہو ، اتنی پیاری لگ رہی ہو کہ اگرمیں شاعر ہوتا تو اسی لمحے تمھاری اس ادا پر پوری غزل کہہ دیتا ۔
شاہ نے بڑھ کر اس کے چہرے سے ہاتھوں کو ہٹا کر اپنے ہاتھوں میں لیے اور اس کے خوشبوؤں میں بسے وجود کو بانہوں کے سخت گھیرے میں سمیٹ لیا۔ اروما کا ہوشربا حسن اس کے ہوش و حواس پر سوار ہونے لگا ۔
طویل بدگمانیوں اور ہجر کی عذاب راتوں کا خاتمہ سنہری اجلی صبح کے طلوعِ آفتاب پر ہونے والا تھا ۔
جاری ہے
