60.7K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

تم نے کیا سوچ کر تحریم کے ساتھ اتنا برا سلوک روا رکھا ؟ وہ زرتاج نہیں تحریم شاہ ہے جس کے سر پر ہاتھ رکھنے والا پورا خاندان ہے ۔ معظم شاہ ساجد کی کال پر دوڑے چلے آئے تھے ۔ میرزوار کے ڈرائینگ روم میں قدم رکھتے ہی برس پڑے ۔
تحریم شاہ اب میری بیوی ہے اور میں اپنے ذاتی معا ملات میں دخل اندازی کی اجازت کسی کو نہیں دیتااس لئے میں کسی کو جواب دہ نہیں ہوں ۔
آپ نے میری ماں کا نام اپنی زبان سے لے کر بہت بڑی غلطی کردی ہے ۔ میرے جواب کے منتظر رہئے گا ۔ میرزوار غصہ ضبط کرتے ہوئے آہستگی سے بولا ۔
چڑ تو ایسے رہے ہو جیسے میں نے کوئی غلط بات کہہ دی ہے ۔ جو سچ تھا وہی کہا اور سچ کڑوا ہی ہوتا ہے ۔ معظم شاہ نے تمسخرانہ کہا ۔
ان کے انداز پر میرزوار کے سر سے لگی تلوؤں پر بجھی ۔وہ
خون کا گھونٹ پی کر رہ گیا ۔ وہ انہیں کھڑا چھوڑ کر الٹے قدموں لوٹ گیا ۔
تایا سائیں ! ہماری چھوٹی سی لڑائی ہوگئی تھی اس لئے میں غصے میں آگئی اور ناجانے کیا الٹا سیدھا کہہ گئی ۔ انہوں نے تو یہاں میرا بہت خیال رکھا ہے ۔ تحریم اس کے نذدیک ہی کھڑی تھی اس کا بازو تھام لیا اور گھبرا کر بولی ۔
میں جانتا ہوں تم اس کے دباؤ میں ایسا کہہ رہی ہو مگر میری موجودگی میں تمھیں اس شخص سےڈرنے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔تم سچ بتاؤ اس نے تمھیں یہ سب کہنے کے لئے مجبور کیا ہے ؟ معظم شاہ مشکوک ہوئے ۔
میں سچ کہہ رہی ہوں ۔ آپ کو تو میرا پتا ہے ، غصے میں آؤٹ آف کنٹرول ہوجاتی ہوں ۔ یہ تھکن کی وجہ سے مجھے ڈنر کے لئے باہر نہیں لے جارہے تھے اور میں ناراض ہوگئی ۔ وہ بات بناتے ہوئے بار بار میر زوار کی پشت کو دیکھتی ۔ میر نے اپنا بازو چھڑایا اور سرعت سے باہر نکل گیا ۔
تم کہتی ہو تو مان لیتا ہوں ۔۔۔۔۔خیر ، تم تیار ہوجاؤ۔ہمیں ابھی واپس کراچی کے لئے نکلنا ہے ۔ معظم شاہ کو تحریم کا انداز سراسر مصنوئی لگا مگر وہ مصلحتاً خاموش ہوگئے ۔
“””””””””””””””””””
تم تو شادی کے بعد بلکل ہی پرائی ہوگئی ہو ۔ کیا ایک بار بھی گھر کی یاد نہیں آئی ؟ یا پھر میرزوار کے ساتھ کسی کو یاد کرنے کی فرصت ہی نہیں ملی ؟عروش نے اسے رائس سرو کرتے ہوئے چھیڑا ۔
مجھے تو بہت یاد آتی تھی مگر وہ یہاں آنے کی اجازت ہی نہیں دے رہے تھے ۔ تحریم نے نظر چراتے ہوئے بات بنائی ۔
ویری گڈ ! ایک مہینے میں اچھی خاصی انڈر اسٹینڈنگ ہوگئی ہے ۔
اچھی بات ہے ۔ میاں بیوی جتنا جلدی ایک دوسرے کو سمجھ لیں اتنا ہی اچھا ہوتا ہے ۔ عروش مسکراتے ہوئے بولیں ۔
اتنے دنوں میں آئی ہو ، کچھ دن میرے پاس ہی رہنا ۔ میں میرسائیں سے خود کہہ دوں گی کہ تمھیں میرے پاس رہنے دیں ۔
رانیہ محبت سے بولیں ۔
مام ! میں ذیادہ دن نہیں رک سکتی ۔ دوچار دن میں واپس جانا ہوگا پھر جلد ہی دوبارہ چکر لگالوں گی ۔ تحریم نے سہولت سے انکار کردیا ۔ وہ میر زوار کو ذیادہ عرصے تک تنہا نہیں رہنے دینا چاہتی تھی ۔ وہ جلد از میر کی ذندگی میں پورے استحقاق سے شامل ہوکر نینا کو اس کے دل و دماغ سے کھرچنا چاہتی تھی اور ایسا دور رہ کر ممکن نہیں تھا ۔
چلی جانا اتنی بھی کیا جلدی ہے اور یہ تمھارا فون کیوں آف تھا ؟کم از کم ماں کو کال پر ہی یاد کر لیتیں مگر تم نے فون بھی آف کردیا ۔ رانیہ کو یکدم خیال آیا ۔
فون میں نے آف نہیں کیا تھا ۔ ایک دن میرے ہاتھ سے گر گیا تھا پھر آن ہی نہیں ہوا ۔ میر سائیں سے نیو فون کے لئے کہا بھی تھا مگر ان کے پاس ٹائم ہی کہاں ہوتا ہے بھول گئے ہونگے منگوا کر بھی نہیں دیا ۔ میں نے بھی ذیادہ زور دینا ضروری نہیں سمجھا ۔ جھوٹ پر جھوٹ بول کر اس کی زبان اکڑی جارہی تھی۔
ہائے تحریم تم تو بڑی فرمانبردار بن گئیں ، رانیہ کی جنم جنم کی محنت بے سود اور زاری کی چار دنوں کی سنگت رنگ لے آئی ۔عروش نے اس کا ہاتھ دبا کر ہنستے ہوئے کہا ۔ نوالہ نگلتے ہوئے تحریم کو پھندا لگ گیا ۔
بھابھی ! میری بیٹی کو تنگ مت کریں ۔ میں نا کہتی تھی سارا لابالی پن یہاں تک ہے سسرال جا کر سمجھدار ہوجائے گی ۔ میری بیٹی نے مجھے بھتیجے کے سامنے شرمندہ ہونے سے بچالیا ۔ رانیہ مسرور سی گویا ہوئیں ۔
واقعی یہ تو ہم سب نے دیکھ لیا۔اللہ اسے خوش اورآباد رکھے۔میری نین بھی شادی کے بعد ایسے ہی سمجھداری سے گھرداری کرے ۔ اللہ جانے کب میں اسے اپنے گھر میں ہنستا بستا دیکھوں گی ۔عروش یاسیت سے بولیں ۔
انشاءاللہ بہت جلد دیکھیں گی ۔ نین کے نصیب میں بھی بہت اچھا گھر اور شوہر ہوگا ۔ جس دن اس کے نصیب میں لکھا ہوگا اس دن سب کچھ خود بخود طے پا جائے گا ۔ رانیہ نے انہیں تسلی دی جبکہ نینا کے ذکر پر تحریم کے منہ کے زاویہ بگڑنے لگے ۔ وہ بے دلی سے پلیٹ میں پڑے رائس چمچ سے ادھر ادھر
کررہی تھی ۔
حویلی میں دوپہر کے کھانے پر خواتین کے علاوہ کوئی بھی موجود نہیں تھا ۔ معظم شاہ بھی ناشتے کے بعد کسی کام سے چلے گئے تھے جبکہ اس نے عروش کو کہتے سنا تھا کہ زعیم شاہ گاؤں میں ہی ہے مگر دو دن سے گھر نہیں آیا ۔
وہ شدت سے اس کی واپسی کی منتظر تھی تاکہ جلد از جلد اس سے بات کرنے کے بعد واپسی کی تیاری کرے ۔ میر زوار کی زوجیت میں رہنے کے خاطر اسے ہر صورت میر کے کہے پر عمل کرنا تھا اور شاہ کو حقیقت سے آگاہ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا مگر رات سے اب تک زعیم شاہ کا کچھ اتا پتا نہیں تھا ۔
“””””””””””””””””””””
اسے نینا سے اس قدر بے اعتنائی کی امید نہیں تھی اس لئے دماغ غصے سے پھٹا جارہا تھا۔ صبح سے رات ہونے کو آئی تھی مگر نا تو نینا کو آنا تھا اور نا وہ آئی ۔ اس نے آج کے خاص دن کے لئے سبھی ضروری کام کل پر اٹھا رکھے تھے ۔ وہسکی کا گلاس ہاتھ میں تھامے یہاں سے وہاں ٹہلتے ہوئے رات کا ایک بج گیا مگر اس کا انتظار اب بھی ختم نہیں ہوا تھا ۔
اس کی صبیح پیشانی پر شکنوں کا جال اس کے بے حد آف موڈ کی نشان دہی کررہا تھا ۔ وقت جیسے جیسے گزرتا جاتا اس کی اندرونی کھولن میں اضافہ ہوتا ۔ بالآخر اس نے گلاس کو ایک ہی سانس میں ختم کیا اور نینا کو کال ملانے کے لئے موبائل کی تلاش میں نظریں دوڑائیں ۔ دوچار بوتلیں غٹاغٹ پی کر بھی نا بہکنے والے میرزوار کی نظر چند گلاس میں ہی دھندلا رہی تھی ۔
خاصی دقت کے بعد موبائل سائیڈ ٹیبل پر پڑا نظر آگیا ۔ موبائل ہاتھ میں تھامتے ہوئے اس کے چہرے پر ایسا جلال تھا جیسے ہاتھ میں موبائل نہیں نینا کی گردن آگئی ہو ۔
“”””””””””””””””””””
تحریم کو ملازمہ سے زعیم شاہ کی رات گئے روم میں موجودگی کی خبر ملی تو اس نے چپل پاؤں میں اڑستے ہوئے سر پٹ اس کے روم کی طرف دوڑ لگادی ۔ اس نے ادھ کھلے دروازے کے باہر کھڑے رہ کر کان لگائے ، اندر موجود زعیم شاہ غصیلی آواز میں
فون پر کسی سے محو گفتگو تھا ۔
ہم نے کمپنی سے اس کی پارٹنر شپ ختم نہیں کی ہے ، اس نے خود ایگزٹ کیا ہے ۔ ہم اپنی سہولت سے اس کی رقم واپس دیں گے ۔ اسے کہہ دو کمپنی لوس میں ہے فی الحال کچھ نہیں ہوسکتا ، انتظار کرے ۔ دوسری طرف سے نجانے کیا کہا گیا کہ شاہ بھڑک اٹھا ۔
اس نے کیا سمجھا تھا ۔۔۔۔۔۔پارٹنر شپ ختم کرے گا اور میں پچاس کروڑ اسے پلیٹ میں سجا کر پیش کردوں گا ۔ ابھی اسے خوار ہونے دو ۔ تمھیں بھی اس کو ذیادہ منہ لگانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ تم ٹال مٹول سے کام لیتے رہو۔تحریم چند لمحے باہر کھڑی سنتی رہی پھر دروازہ دھکیل کے اندر چلی آئی اور دیوار سے ٹیک لگا کر اس کی بات ختم ہونے کا انتظار کرنے لگی ۔
میں تم سے بعد میں بات کرتا ہوں ۔ زعیم شاہ نے اچٹتی نظر اس پر ڈال کر فوراًہی فون بند کردیا ۔
کیسی ہو ؟ بہت دنوں بعد آئی ہو گھر میں سب خیریت ہے ؟ زعیم شاہ نے لہجے کو نارمل کرتے ہوئے نرمی سے دریافت کیا ۔
خیریت نہیں ہے ، اسی لئے تم سے ملنے آئی ہوں ۔ وہ یک ٹک کارپیٹ کو گھورتے ہوئے بولی ۔
کیوں ؟ ایسا کیا ہوگیا ؟ شاہ نے حیرانگی سے استفسار کیا ۔
شاہ ! مجھے معاف کردو ، میں نے تمھارے اور اروما کے ساتھ بہت برا کیا ۔ اس کی سزا اب مجھے میر زوار کی صورت میں مل رہی ہے ۔ وہ یکدم ہی دونوں ہاتھ باہم جوڑے سسک پڑی ۔
پلیز ! رو مت اور کھل کر بتاؤ ، بات کیا ہے ؟ شاہ کو اس کی باتوں نے الجھا دیا ۔
اس رات جب تم میر ہاؤس آئے تھے ، اروما صوفے پر سوئی ہوئی تھی اور میر ارحان اس کے پاس بیٹھا تھا ۔ وہ سب میری پلاننگ تھی ۔ میں نے اروما کی چائے میں سلیپنگ پلز مکس کی تھیں جس کی وجہ سے وہ سوگئی تھی اور میر ارحان کو لگا وہ بے ہوش ہوگئی ہے تو وہ اسکے پاس بیٹھ گئی ہے ۔
یہ سب میں نے جان بوجھ کر کیا تھا کیونکہ تم مجھے پک کرنے آنے والے تھے ۔ میں اروما کو تمھاری نظروں میں گرا کر تمھارے دل میں اپنی جگہ بنانا چاہتی تھی مگر سب الٹ ہوتا چلا گیا ۔
تم تو ناجانے کس مٹی کے بنے ہو اروما سے دور ہونے کے بعد بھی اسی کے رہے ۔ میں نے تم دونوں کی خوشیوں کو آگ لگادی پھر بھی مجھے کچھ حاصل نہیں ہوا ۔ وہ دیوار سے ٹیک لگائے بے تحاشہ رورہی تھی ۔ زعیم شاہ کی زبان صدمے سے گنگ ہوگئی تھی وہ پوری آنکھیں کھولے اسے سن رہا تھا ۔
تمھاری طرف سے ناامید ہونے کے بعدمیں نے میرزوار کے رشتے پرہامی بھرلی اور وہ میری ذندگی میں آگئے مگر میں نے درد بانٹے تھے خوشیاں میرا نصیب کیسے بن جاتیں ۔
اروما نے میرزوار کو شادی سے پہلے ہی سب کچھ بتادیا تھا ۔ انہوں نے میری خوشیوں کو اروما کی خوشیوں سے مشروط کردیا ہے ۔ وہ بولتے ہوئے سرجھکا گئی ۔ زعیم شاہ کا سکتہ ٹوٹا تو اس کی خاموشی میں چھپا طوفان بپھر اٹھا ۔
میں نے سمجھا تھا میری محبت میں تم جذباتی ہوگئی ہو ۔ میرے مسلسل انکار نے تمھیں ٹھیس پہنچائی ہے اس لئے تمھاری فضول حرکتوں کو بچپنا سمجھ کر بھلا دیا تھا مگر تم نے تو میری اس سوچ کو غلط ثابت کردیا ۔ تم واقعی عورت ذات کے نام پر ایک بدنما داغ ہو ۔
تم نے لڑکی ہونے کے باوجود ایک دوسری لڑکی کے کردار کو میری نظروں میں داغ دار کردیا ۔ تمھیں ایک بار بھی اس پر ترس نہیں آیا اور آج بھی تم میرے یا اس کے لئے نہیں آئی ہو ۔
اب بھی اس انکشاف کے پیچھے تمھاری غرض چھپی ہے ۔ میرزوار تمھاری عقل ٹھکانے نہیں لگاتا تو شاید تم ذندگی بھر یہ سچ چھپائے رکھتی ۔ میری اور اروما کی بے بسی سے حظ اٹھاتی ۔ شاہ نے اسے شانوں سے پکڑ کر جھنجھوڑ ڈالا ۔ اسی وقت میرے کمرے سے دفع ہوجاؤ ورنہ میں تمھیں شوٹ کر ڈالوں گا ۔ وہ انتہائی طیش کے عالم میں بولا ۔
تم جی بھر کر غصہ کرو ، مجھے مارو ۔ اپنے دل کی بھڑاس نکالو ۔ ذندگی بھر میری شکل مت دیکھنا ۔ آخری دم تک مجھ سے نفرت کرنا مگر خدا کے لئے اروما سے معافی مانگ لو ۔ اس سے شادی کرلو ۔ تحریم اس کے آگے گڑگڑارہی تھی ۔
میری ذندگی داؤ پر لگی ہے اگر تم نے اروما سے شادی نہیں کی تو میرسائیں مجھے بھی اپنی ذندگی سے نکال باہر کریں گے ۔ میری خوشیوں کا دارومدار تمھارے فیصلے پر ہے ۔
تم نے مجھے اس قابل چھوڑا ہی کہاں ہے کہ میں اس کا سامنا کرسکوں ۔ میں اس شریف النفس پر تہمتیں لگاتا رہا ، اسے دھتکارتا رہا ۔ وہ مجھے صفائیاں دیتی رہی اور میں نے اس کی ایک نہیں سنی ۔کس منہ سے اپنی کم عقلی ، کم ظرفی کا اعتراف کروں ؟ شاہ کی پیشانی عرق آلود ہوگئی ۔ وہ تھکے تھکے انداز میں گویا ہوا ۔ لہجے کا طمطراق کہیں دور جا سویا تھا ۔
میں تمھاری طرف سے اس کا دل صاف کروں گی ۔ میں اسے بتاؤں گی کہ تمھارا کوئی قصور نہیں ہے ، اصل قصور وار میں ہوں ۔ وہ اتنی اچھی ہے کہ فوراً اپنا دل صاف کرلے گی ۔ وہ ہماری طرح کٹھور نہیں ہے ۔ تحریم کا لہجہ پر امید تھا ۔
وہ بہت اچھی ہے مگر تم بہت بری ہو ۔ تم برائی کی انتہا پر ہو ۔ تم نے وہ کام کردیا جو کوئی اچھی لڑکی خواب میں بھی کرنے کا نہیں سوچے گی ۔ اب تم چلی جاؤ ، مجھے تمھاری خدمات کی ضرورت نہیں ہے ۔ مجھے جو کرنا ہے ، میں خود اپنی سمجھ سے کرلوں گا ۔ شاہ نے بیزاری سے دونوں ہاتھ جوڑ کر پیشانی سے لگائے ۔
تحریم نے کچھ کہنے کے لئے بولنا چاہا مگر شاہ کی حالت کے پیش نظر ندامت کے آنسو آنکھوں میں لئے کمرے سے نکل آئی ۔
شاہ اس سے کتنا ہی بدگمان کیوں نا سہی مگر اسے پورا یقین تھا کہ اس کے ٹوٹتے گھر بچانے کے لئے اروما کو منانے کی کوشش ضرور کرے گا ۔
“”””””””””””””””
دس بار ٹرائے کرنے پر بالآخر دوسری طرف کال اٹینڈ کرلی گئی۔وہ شاید منتظر ہی بیٹھی تھی ۔
تم پورا دن مجھے انتظار کرواکر ، میری بات نہ مان کر کیا ثابت کرنا چاہتی ہو ؟ وہ الھڑ لہجے میں بولا ۔
میں کچھ ثابت نہیں کرنا چاہتی ۔ وہ دھیرے سے بولی ۔
پھر میرے پاس کیوں نہیں آئی ؟ میں نے کہا بھی تھا کہ اگر نہیں آئی تو میں مڑ کر کبھی نہیں آؤں گا ۔ اس کے دہاڑنے پر نینا کی آنکھوں سے برسات شروع ہوگئی ۔
اسی لئے نہیں آئی تاکہ آپ کبھی مڑ کر نا آئیں ۔ میں آپ سے دور نہیں جاسکتی مگر آپ مجھ سے دور چلے جائیں ۔ وہ پرنم آواز میں آہستگی سے بول رہی تھی ۔
تمھارے کہنے سے میں دور چلا جاؤں گا ؟ تم مجھ سے نہیں ملو گی دور بھاگو گی اور میں تمھیں جانے دوں گا ؟ وہ جلے بھنے انداز میں تمسخرانہ بولا ۔
نکاح کے پاک رشتے میں جڑنے کے باوجود گناہ کی طرح میل ملاقاتیں کرنا ۔۔۔۔۔۔۔مجھے میری ہی نظروں میں گرادیتا ہے ۔
کب تک یہ کھیل دنیا والوں کی نظروں سے چھپا رہے گا ۔۔۔۔۔۔۔کبھی نا کبھی تو میرے گھر والوں کو خبر ہوجائے گی تب میں انہیں کیا جواب دوں گی ؟ میرا حال ایسا ہے تو مستقبل کیا ہوگا ؟ میرے لئے تو شوہر کا گھر بھی میرا نہیں ہے مگر اب لگتا ہے کہ میرے باپ کے گھر کی پناہ گاہ بھی مجھ سے چھن جائے گی۔ وہ دبےدبے لہجے میں اسے احساس دلانے کی کوشش کررہی تھی ۔
میرے سامنے اپنا دماغ چلانے کی کوشش مت کرو ۔ تم نے صرف دنیا دیکھی اور میں اس دنیا کو اپنی انگلیوں پر گھماتا ہوں ۔ مجھے مت سمجھاؤ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ۔ تمھارا حال میں نے لکھا ہے اور مستقبل بھی میں ہی لکھوں گا ۔
تمھیں آج کی غلطی بہت مہنگی پڑے گی ۔ تمھیں احساس ہی نہیں کہ تم نے کیا کردیا ہے ۔ میں نے اپنے تمام ضروری کام چھوڑ کر دن بھر تمھارا انتظار کیا پر تم نے اپنی انا کے غرور میں میرے انتظار کو خاک میں ملادیا اور اب اپنے رونے رو رہی ہو ۔ تم نے ایک رتی کے برابر بھی میری پرواہ کی ؟ تم کیسی بد قسمت بیوی ہو جسے اپنے شوہر کی خواہش کا احترام نہیں ہے ۔
تم صرف اپنے لئے جینا جانتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کیسے بھول گیا کہ تم وہی ہو جس نے میرے دل کو کھلونا سمجھ کر کھیلا تھا ۔ تم میرے پیار اور توجہ کے لائق ہی نہیں ہو ۔ وہ دانت بھینچے غرارہا تھا ۔
آپ کی ہر بات کے جواب میں میرا ایک ہی جواب ہوگا ، مجھے آپ کے ساتھ کی تمنا نہیں رہی ۔ میں اس کھوکھلی محبت کو بدنامی کا داغ بنا کر اپنے ماتھے پر نہیں سجانا چاہتی ۔ ہمارے راستے جدا ہوچکے ہیں ۔ ہمیں بھی جدا ہوجانا چاہئے ۔ نینا کی آواز میں درد تھا ، بے بسی تھی ، التجا تھی مگر رعایت نہیں تھی ۔
تمھارا ہر راستہ مجھ پر ہی پہنچ کر ختم ہوگا ۔ ابھی تم نے مجھے سمجھا ہی کہاں ہے ، سمجھ جاتی تو راستے الگ کرنے کا خیال بھی دل میں نہیں آتا مگر وقت رہتے تم سب کچھ سمجھ جاؤگی ۔ اس نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے بات سمیٹ دی پھر سائیڈ ٹیبل پرپڑی بیل پر پے درپے ہاتھ مارے ۔ ساجد بوتل کے جن کی طرح پلک جھپکتے ہی حاضر ہوگیا ۔
ساجد ! تمھارے سائیں کے قاتل کو اس کے انجام تک پہچانا وقت آگیاہے ۔ اس کے ساتھ کیا کرنا ہے یہ مجھ سے بہتر تم جانتے ہو ، مجھ سے ذیادہ اس وقت کا تم نے انتظار کیا ہے اس لئے جیسے چاہو اس کا بندوبست کردو مگر اتنا خیال رکھنا موت بھی چاہے تو اسے مہلت نا دے سکے ۔ میر زوار کے لہجے میں حد درجہ سفاکی تھی ۔
آپ کو شکایت کا موقع نہیں ملے گا ، میں ایسا انتظام کردوں گا مگر ایک گزارش ہے اگر آپ غصہ نا کریں تو عرض کروں ؟ ساجد اس کی طرف جھک کر رازداری سے بولا ۔ میر زوار نے تکیے پر سر رکھ کر خاموشی سے آنکھیں موند لیں جس کا مطلب تھا کہ وہ اسے بولنے کی اجازت دے چکا ہے ۔
آپ کچھ عرصے کے لئے ملک سے باہر چلے جائیں ۔ میں یہاں اپنے طریقے سے معاملہ نمٹا لوں گا پھر آپ آجائیے گا ۔ آپ پر کسی کا شک جائے ایسا تو ممکن ہی نہیں ہے ۔ میں پیچھے کوئی ثبوت نہیں رہنے دوں گا مگر احتیاط ضروری ہے ۔ وہ خوشامدی انداز میں میر زوار کے پائینتی بیٹھ کر اس کے پاؤں دبانے لگا ۔
یار ! میں کہیں نہیں جارہا ۔ تمھیں جو کرنا ہے کرو ۔ میں اب “اس “ کے بغیر کہیں نہیں جاؤں گا ۔ وہ راستے الگ کرنا چاہتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں یہاں رہ کر مخالف سمت جانے والی ہر راہ مٹادوں گا ۔ وہ آنکھوں پر بازو رکھے بڑبڑایا ۔ اس کی آواز غنودگی میں ڈوبتی جارہی تھی ۔
ساجد نے مایوسی سے اس کی طرف دیکھا ۔ وہ میرزوار پر ہلکی سی آنچ بھی نہیں آنے دینا چاہتا تھا مگر یہ بھی جانتا تھے کہ اس کے منہ سے نکلی نہ کو ہاں میں نہیں بدل سکتا اس لئے سر جھٹک کر تندہی سے اس کی ٹانگوں پر اپنے ہاتھوں کی حرکت تیز کردی اور لائحہ عمل سوچنے لگا ۔
جاری ہے