60.7K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

اتنا بڑا ہنگامہ ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم میں سے کسی نے مجھے جگانے تک کی کوشش نہیں کی ۔ میرارحان سارا ماجرا اروما کی زبانی سننے کے بعد حیرت سے بولا ۔
کیسے جگاتے ، وہ آندھی طوفان کی طرح آئے تھے ، اتنا ڈر لگ رہا تھا اور زاری بھائی نے مجھے بھی اوپر جانے کے لئے کہہ دیا پھر بھی میں سننے کے لئے کاریڈور میں چھپ گئی تھی ۔
اس سارے فساد کے پیچھے تحریم کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا۔زاری بھائی نے کہا ہے کہ ویڈیو دیکھ کر آیا ہوں اس کا مطلب تو یہی ہوا کہ جب وہ دونوں شرط والی بات کررہے تھے تب تحریم کے سوا تو گھر میں کوئی اور نہیں تھا ۔
تم اور تائی ماں ایسا کریں گی نہیں تو یقیناً یہ حرکت کرنے والی تحریم ہے ۔ میر ارحان وثوق سے بولا ۔
مجھے بھی انہی پر شک ہے اور اگر اس کی زمہ دار وہی ہیں تو میں ان سے بات ضرور کروں گی ۔ انہیں یہ سب کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔نینا نے شرارتاً شرط لگائی تھی مگر پھر وہ سیریس ہوگئی تھی ، وہ دونوں کتنے خوش تھے ۔ اروما کھولتے ہوئے بولی ۔
تمھیں صرف شک ہے اور میں پورے یقین سے کہہ رہا ہوں کہ یہ حرکت تحریم کی ہے ۔
اب تحریم آپی کی وجہ سے دراڑ آگئی ہے ، وہ دونوں کبھی پہلے کی طرح ایک ساتھ نہیں ہو سکیں گے ۔ زوار بھائی کو تم جانتے ہو ، وہ معاف کرنے والوں میں سے نہیں ہیں ۔ اروما بے حد رنجیدہ تھی ۔
تم رہنے دو ، میں نے دیکھا ہے ۔وہ لڑکی بہت حاسد ہے ۔ اس کی آنکھوں میں کسی کے لئے بھی رعایت نہیں ہے ۔میر ارحان خاموشی سے سنتا رہا پھر سوچتے ہوئے بولا۔
ارحان ! میں ایک بار انہیں احساس ضرور دلاؤں گی ۔ ان کی گھٹیا حرکت کی وجہ سے نینا اور میرے بھائی کا ناقابلِ تلافی نقصان ہوا ہے ۔ وہ تو چلے گئے مگر نینا کتنا رورہی تھی۔ تکلیف میں ہے ۔ اروما کو کال پر نینا کا رونا برداشت نہیں ہورہا تھا ۔
“”””””””””””””””””””
اس نے ائیر پورٹ سے نکلنے کے بعد ساجد کو کال کی تھی اس ڈر سے کہ اگر پہلے ہی اطلاع کردی تو ساجد میر زوار کے کہنے پر اسے وہاں آنے سے انکار نا کردے ۔ وہ میر زوار کو اپنی آمد سے لاعلم رکھنا چاہتی تھی ۔
اس نے ویزا اور ٹکٹ کے لئے بھی اپنے فیملی ٹریول ایجنٹ کی مدد نہیں لی تھی بلکہ سارا کام رازداری سے کیا تھا ۔
ساجد اس کی آمد کا سن کر پہلے تو گڑبڑا گیا مگر پھر سمجھداری سے کام لیتے ہوئے اسے پک کرنے ائیر پورٹ پہنچ گیا تھا جو بھی تھا لیکن وہ میر زوار کے خاندان کا حصہ اور معظم شاہ کی بیٹی تھی ۔ اسے پردیس میں تنہا بھٹکنے کے لئے نہیں چھوڑ سکتا تھا ۔
وہ میر زوار پیلس دبئی پہنچ چکے تھے ۔ لینڈ کروزر پورچ میں رکتے ہی ساجد اپنی گاڑی سے نکل کر آیا پھر نینا کے لئے دروازہ کھول دیا ۔ نینا گاڑی سے اتر کر اعتماد سے اندرونی دروازے کی طرف بڑھ گئی چونکہ وہ پہلے یہاں آچکی تھی اس لئے کسی کی رہنمائی کے بغیر میر زوار کے ماسٹر بیڈروم کی طرف قدم بڑھاتی گئی ۔
ساجد قدرے فاصلے پر سست روی سے چل رہا تھا ۔ نینا نے بیڈروم کے باہر رک کر پھولتی سانسوں کو کنٹرول کیا پھر ساجد کو وہیں کھڑے رہنا کا اشارہ کرکے لاک پر ہاتھ رکھا ۔ ہینڈل گھماتے ہوئے اس کا نازک ہاتھ ایک لمحے کے لئے کانپا مگر اس نے ہمت کرتے ہوئے ہینڈل گھما کر دروازہ کھول دیا ۔
انتہائی نفیس بیش قیمتی فرنیچر سے سجا ماسٹر بیڈروم جس کی درو دیوار سے لے کر فرشی قالین ، پینٹنگز غرض کے چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتی مگر اس وقت اپنی بے قدری پر ماتم کناں تھی ۔ ہر شے بکھری پڑی تھی اور کمرے کی حالت اعلان کررہی تھی کہ کسی کو بھی کمرے تک رسائی حاصل نہیں ہے ۔ ایسا انہی دنوں میں ہوتا جب میر زوار خود سے بھی خفا ہوکر گوشہ نشین ہوجاتا تھا ۔
سگریٹ ،شراب نوشی کے باکثرت استعمال سے کمرے کی فضا بوجھل ہو رہی تھی ۔ اس نے چاروں طرف نگاہ دوڑائی مگر میر زوار کہیں بھی نہیں تھا ۔ وہ ساجد کو بتانے کے لئے پلٹنے لگی تبھی واش روم میں کسی کی موجودگی کا گمان ہوا ۔
میر زوار کی کمرے میں موجودگی کا اطمینان ہونے کے بعد صوفے سے لگ کر دیوار گیر بئیر بار میں سجی بوتلوں کے لیبلز پڑھنے لگی پھر جلد ہی اکتا کر گھڑی پر نظر ڈالی ۔ گھڑی کی سوئیاں چار بجارہی تھیں اور اسے رات گیارہ بجے گھر پہنچنا تھا ۔
چار سے چھ بجے کے درمیان اس کی ذندگی کونسا موڑ لینے والی تھی اسی سوچ میں اس کی نظر ڈریسنگ روم کے قد آدم آئینوں میں نمودار ہونے والے میر زوار کے عکس پر پڑی ۔
سفید شکن ذدہ شلوار سوٹ ، بکھرے حلیے ، بے ترتیب بالوں میں کھڑا وہ پرنس چارمنگ تو نہیں تھا جسے دیکھنے پر لاکھوں دلوں کی دھڑکنیں تھم جایا کرتی تھیں ۔ خود نینا بھی اس کی سحر انگیز شخصیت سے نظریں نہیں چراسکی تھی ۔
آج وہ قابلِ رحم لگ رہا تھا ۔ نینا کو اپنے کئے پر بے اختیار رونا آیا ۔ میر زوار اب ڈریسنگ روم سے نکل کر کمرے کی طرف آرہا تھا ، بے تحاشہ ڈرنک کی وجہ سے اس کی چال میں ہلکی سی لڑکھڑاہٹ تھی ۔ نیناکے قدم خود بہ خود اس کی جانب بڑھنے لگے ۔
وہ میر زوار کے عین سامنے کھڑی تھی ۔میرنے اسے دیکھا تو نینا کا سراپا اسے نشے کی ذیادتی کا سبب لگا ۔کمرہ نیم تاریک ہونے کی وجہ سے اس کے نقوش واضح نہیں ہورہے تھے ۔ میر زوار نظروں میں حیرانگی لئے آگے بڑھا اور اپنا دایاں ہاتھ اٹھا کر نینا کے رخسار کو چھوا ۔ چھونے پر اس کی حیرانگی رخصت ہوگئی ۔ وہ بے تاثر دھیمی گنبھیر آواز میں بولا ۔
مجھے تباہ کرنے میں کوئی کسر باقی رہ گئی تھی جو یہاں بھی چلی آئی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ نینا نے اس کا ہاتھ تھام کر آنکھوں سے لگالیا پھر بلک بلک کر رونے لگی ۔
زار ! مجھے معاف کردیں ، مجھ سے غلطی ہوگئی ۔ میں مانتی ہوں میں نے آپ کے ساتھ بہت برا کیا ہے مگر مجھے جلد ہی اپنی غلطی کا احساس ہوگیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں آپ کو بتانا بھی چاہتی تھی مگر آپ کو کھونے سے ڈرنے لگی اور میر جازب نے بھی مجھے روک دیا ۔ اس نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ یہ راز کسی کو نہیں بتائے گا پھر میں نے سوچا کے ہماری شادی ہوجائے گی تو شرط والی بات کی کوئی اہمیت بھی نہیں رہے گی ۔ وہ میر زوار کا ہاتھ تھامے لب کاٹتے ہوئے ندامت سے کہے جارہی تھی ۔
تمھیں میری ذات ، میرے جذبات پر شرط لگانے کا حق کس نے دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ تم مجھے پھنسا کر کیا ثابت کرنا چاہتی تھی کہ تم اپسرا ہو جس کے سامنے میر زوار اپنا سب کچھ ہار گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر تم نے یہی سب کچھ سوچا تھا تو تم بہت خوش نصیب ہو نینا شاہ ! تم جیت چکی ہو ۔ میں واقعی تم پر مرمٹا ، تم سے ہار گیا۔ میر زوار اسی دھیمے لہجے میں بے بسی سے بولا ۔
زار ! ایسا مت بولیں ، مجھے معاف کردیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمیز سے نام لو ۔ میر زوار ! میرا نام میرزوار علی ہے ۔ آج کے بعد مجھے کسی اور نام سے پکارہ تو نتیجہ بہت برا ہوگا ۔ تم شرط جیت چکی ہو مگر مجھے اس نام سے پکارنے کا حق اب تمھارے پاس نہیں رہا ۔میر زوار درشتی سے بولا ۔
پلیز ! اتنی بڑی سزا مت دیں ، میں اپنی غلطی تسلیم کر تو رہی ہوں ۔ میں نے آپ کا دل دکھایا ہے مگر خوش میں بھی نہیں ہوں ۔ احساس نہیں ہوتا تو یہاں تک کیوں آتی ۔ اس نے تڑپ کرمیر زوار کے لبوں پر ہاتھ رکھ دیا ۔
ساجد سائیں ! اندر آؤ ۔ میر زوار اس کا ہاتھ جھٹک کر بلند آواز میں دہاڑا ۔
مجھے دوبارہ چھونے کی غلطی مت کرنا ورنہ بہت پچھتاؤگی ۔ تم اپنا اعتبار کھو چکی ہو ۔ میں تمھیں اپنے ساتھ کھڑے رہنے کے قابل بھی نہیں سمجھتا ۔ اب چپ چاپ یہاں سے چلی جاؤ ورنہ بدنامی اور رسوائی تمھارا مقدر بن جائے گی ۔ میں اپنے ساتھ تمھیں بھی ختم کردوں گا اور یہ داغ میرے خاندان سے ذیادہ تمھارے خاندان کے لئے بدنما ثابت ہوگا ، جب تمھاری لاش پاکستان پہنچے گی ۔میری برداشت کا امتحان مت لو ، چلی جاؤ۔ میر زوار دہشت ناک لہجے میں کہتا ہوا دور ہوگیا ۔ ساجد اندر آچکا تھا ۔
اسے لے جاؤ اور جہاں بولے ڈراپ کردینا ۔ اسے ابھی اسی وقت یہاں سے لے جاؤ ۔ میں ایک پل بھی اس کا وجود یہاں برداشت نہیں کرسکتا۔میر زوار پشت پر ہاتھ باندھے رخ پھیرے کھڑا تھا ۔ نینا کی سسکیوں سے اس کے کان کے پردے پھٹے جارہے تھے ۔
نینا کو اپنے لئے میرزوار کے لہجے میں زرا سے بھی گنجائش نظر نہیں آرہی تھی ۔ اس کی نفرت آمیز دھتکار نے نینا کو خاموشی سے واپسی کا احساس دلادیا ۔
دبئی پہنچنے تک کا سفر جتنا مشکل اور صبر آزما تھا واپسی کا سفر اس سے بھی ذیادہ کٹھن اور تکلیف دہ ثابت ہوا ۔ وہ پلین میں مسلسل اپنی بے وقوفیوں پر آنسو بہاتی رہی ۔
ایک طرف میر زوار نے اسے بری طرح دھتکار دیا تھا تو دوسری طرف سنان شاہ سے طے پاجانے والا رشتہ سر پر تلوار بن کر لٹکا ہوا تھا ۔
میر زوار سے جدا ہونے کا تصور بھی سوہانِ روح تھا ۔ وہ ذندگی کے مشکل ترین حالات کا سامنا تنہا کرتے ہوئے ہار رہی تھی ۔
“”””””””””””””””””””
اروما شاہ کے ہاتھوں ہوئی اپنی تذلیل بھلائے میرزوار اور نینا کے خاطر برتھ ڈے پارٹی کے بعد پہلی بار شیرازی ہاؤس آئی تھی ۔ اسے یقین تھا کہ شاہ اس وقت آفس میں ہوگا ۔ نینا دبئی گئی ہے اور گھر میں تحریم کے سوا کوئی نہیں ہوگا اس لئے بے جھجک سیدھا تحریم کے کمرے میں چلی آئی ۔
یس ! ناک کرنے پر تحریم کی نزاکت سے بھرپور آواز آئی ۔
اروما ! تم ! آج کیسے ہماری یاد آگئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم تو گم ہی ہوگئی ہو ۔ تحریم نیل فائیلر سائیڈ پر رکھ کر اٹھتے ہوئے بولی ۔
آپ سے ہی ملنے آئی ہوں ۔ مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے ۔ اروما اس سے گلے مل کر سرد مہری سے بولی ۔
کہو ، کیا بات کرنی ہے ۔ تحریم عام سے لہجے میں بولی جبکہ اسے اندازہ تھا کہ اروما کیا بات کرنے والی ہے ۔ نینا اس کی پیاری دوست ہے اور اس کے لئے اروما ضرور بازپرس کرے گی ۔
آپ نے جیزی بھائی اور نینا والی وڈیو زاری بھائی کیوں دکھائی ؟اروما بغیر تہمید باندھے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بولی ۔
کونسی وڈیو ؟ مجھے کسی وڈیو کا علم نہیں ہے ۔ تحریم اس کی حالت سے حظ اٹھاتے ہوئے انجان بن گئی ۔
آپ کو علم ہے اور اس دن آپ ہی وہاں موجود تھیں ۔ آپ کے علاوہ اور کوئی وڈیو بنانے کی جرأت نہیں کرسکتا ۔
کیوں کیا ایسا آپی ! آپ کی وجہ سے کتنا بڑا مسئلہ کھڑا ہوگیا ۔ میرے دونوں بھائی آپس میں جھگڑ پڑے۔
زاری بھائی ایک ہفتے سے گھر نہیں آئے ۔ وہ ہم سے دورچلے گئے ، کسی سے بھی بات نہیں کر رہے حتی کہ میری کال بھی اٹینڈ نہیں کررہے ۔ اروما کی بولتے ہوئے آواز بھرائی۔
تم مجھ پر بلاوجہ الزام لگا رہی ہو ، میں کیوں وڈیو بناؤں گی ۔ میرا اس سب سے کیا لینا دینا ۔ تحریم ڈھٹائی سے بولی ۔
آپ کے ماننے سے حقیقت بدل نہیں جائے گی ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ آپ نے ہی ویڈیو بنا کر انہیں دکھائی ہے ۔ میں صرف اتنا پوچھنے آئی ہوں کیا بگاڑا تھا ان دونوں نے ، نینا کے ساتھ پر زاری بھائی کتنے خوش تھے ۔ نینا جیسی لڑکی ان کی ذندگی میں شامل ہوجاتی تو ان کی بے رونق ویران ذندگی آباد ہوجاتی ۔
وہ ان کے دکھ اور کم مائیگی کے ملال کو ختم کردیتی مگر آپ نے سب کچھ ختم کردیا ۔ ان کو ملنے سے پہلے ہی جدا کردیا ۔ اروما رندھی ہوئی آواز میں تحریم کو آئینہ دکھا رہی تھی ۔
ہاں میں نے سب کچھ ختم کردیا ، میں نے میر زوار کو نینا کی اصلیت دکھائی ۔ وہ لڑکی خود کو سمجھتی کیا ہے ، وہ مجھے طعنے دے رہی تھی ۔ وہ دونوں بہن بھائی کچھ بھی کرتے پھریں کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں ۔ تم جانتی کیا ہو اس کے بارے میں جو حمایت لینے آگئی ہو ۔
اس کے بھائی نے مجھے بے عزت کیا ۔ مجھ پر ہاتھ اٹھایا ۔ قصور کیا تھا میرا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہی کہ میں بچپن سے اسے چاہتی تھی ۔
میری چاہت کے بدلے اس نے ہمیشہ مجھے نظر انداز کیا ۔ اظہار کرنے پر میری بے عزتی کی ،مجھے دھکے مار کر اپنے کمرے سے نکال دیا ۔ تمھارے پیچھے بھاگ رہا تھا ۔ میرے سامنے تمھیں پریفئیر دیتا ۔ کبھی سوچا ہے تم نے مجھ پر کیا گزرتی تھی جب میں اس کی آنکھوں میں تمھارے لئے وہ سب کچھ دیکھتی تھی جو میرے لئے کبھی نہیں تھا ۔
ان دونوں کی یہی سزا ہے کہ وہ اپنی محبت کے لئے بھی ایسے ہی ترسیں جیسے میں ترس رہی ہوں ۔ تحریم پھٹ پڑی تھی ۔ تیز تیز بولنے سے اس کا سانس پھول رہا تھا ۔
اروما پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔ اسے اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آرہا تھا ۔ اپنے ساتھ ہونے والا ماجرا بھی اسی سلسلے کی کڑی لگا ۔
“””””””””””””””””””””
وہ چکراتے سر کے ساتھ سیڑھیاں اترکر انٹرینس ڈور کی طرف جانے والے کاریڈور سے گزر رہی تھی ۔ تحریم کے منہ سے انکشافات سننے کے بعد اس کا اپنی ٹانگوں پر کھڑے رہنا محال ہوگیا تھا ۔ وہ تحریم کو چیختا چلاتا چھوڑ کر باہر آگئی ۔
کراچی میں شدید سردی میں بھی دن کے وقت ٹھنڈ برائے نام ہوتی تھی اور اس وقت تو نا ہونے کے برابر تھی ۔ اروما نے پیشانی سے پسینے کی بوندیں ٹشو پیپر سے صاف کیں تبھی زعیم شاہ دروازہ کھولے اندر چلا آیا ۔ زعیم شاہ کو دیکھ کر اروما کے قدم زمین نے جکڑ لئے ۔
زعیم شاہ کی پیشانی پر ناگواری کا تاثر لئے لاتعداد شکنیں ابھر آئیں ۔ وہ دھیرے دھیرے قدم بڑھاتا ہوا آرہا تھا ۔ اروما نے سر جھکا ئے کنی کترا کر اس کے برابر سے گزر انا چاہا مگر یکایک شاہ نے اس کی کلائی پکڑ کر اپنے سامنے لے آیا ۔ وہ چند ثانیے اروما کے چہرے پر نظریں گاڑے کھڑا رہا پھر ایک جھٹکے سے اسے کھینچتا ہوا پاس ہی موجود ڈرائینگ روم کے اندرونی دروازے کو کھول کر اندر لے آیا ۔
شاہ پلیز ! مجھے چھوڑیں ، تحریم آپی گھر میں موجود ہیں ۔وہ آجائیں گی ۔ اروما اپنی کلائی اس کی گرفت سے چھڑانے کی کوشش کررہی تھی ۔
بے وفا لڑکی ! تم میں تھوڑی سی بھی شرم و حیا باقی ہوتی تو تم یہاں کبھی نہیں آتی مگر تم اتنی ڈھیٹ ہو کہ تمھیں اپنے کئے پر پچھتانا تو درکنار شرمندگی بھی نہیں ہے ۔ شاہ اسے صوفے پر دھکیل کر دونوں ہاتھ دائیں بائیں جمائے جھکا ہوا تھا ۔
میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا ہے جو مجھے شرمندگی ہو ۔ شرمندہ وہ ہوتے ہیں جو گناہگار ہوتے ہیں ۔ اروما بمشکل بولی ۔
چور بھی کبھی نہیں مانتا کہ میں نے چوری کی ہے ۔ وہ بھی تمھاری طرح ڈھٹائی سے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ تم بھی وہی کررہی ہو ۔ شاہ ترکی بہ ترکی بولا پھر پوری طرح اروما پر جھک گیا ۔
اس کے ہاتھ اروما کی پشت پر سرسرائے اور دہکتے لب اروما کو ساکن کرگئے ۔ اروما نے تڑپ کر خود کو چھڑانے کی کوشش کی مگر شاہ نے اسے بے بس کردیا تھا ۔ شاہ پر اروما کی شدید مزاحمت کا مطلق اثر نہیں ہوا ۔ اس کی بڑھتی ہوئی جسارتیں درندگی میں تبدیل ہوتی ہوئی اروما کے نازک جسم سمیت روح کو بھی گھائل کرگئیں ۔
کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ برا لگا ؟ مگر جب ارحان کے ساتھ ہوتی ہو تب تو بلکل برا نہیں لگتا ۔ تب تو بڑے سکون سے لیٹی ہوئی تھی پھر دوہرا روپ مجھے کیوں دکھارہی ہو ۔ میرے ساتھ بھی کمفرٹبل فیل کرو ۔ شاہ غصے اور نفرت کے سبب منہ زور جذبوں کو بمشکل کنٹرل کئے زرا سا پیچھے ہٹتے ہوئے طنزیہ بولا ۔
اروما کے ہاتھ بدحواسی میں اپنے کپڑے اور دوپٹہ درست کرتے ہوئے چونکی ۔
بولو ! تم نے کیوں مجھے دھوکا دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے پیار میں کونسی کمی تھی جو میر ارحان نے پوری کردی۔۔۔۔۔۔۔۔؟ شاہ بے رحمی سے غرایا ۔
شٹ اپ ! اپنی بکواس بند کریں ۔ وہ میرا بھائی ہے ۔ میں نے کبھی اسے میر جازب سے کم نہیں سمجھا ۔ ایسی گری ہوئی بات سوچتے ہوئے آپ کو شرم نہیں آتی ۔ اروما پتھرائی ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔ شاہ کی بات کا مفہوم سمجھنے کے بعد بے اختیار اس نے شاہ کو زناٹے دار تھپڑ رسید کیا ۔
میں اب آپ کو کوئی صفائی نہیں دوں گی ۔ آپ نے مجھ پر اتنا گھٹیا الزام لگا کر میری نظروں میں مجھے گرادیا ہے اور گر تو آپ بھی گئے ہیں ۔ مجھے اب آپ جیسے شکی القلب انسان کی ضرورت بھی نہیں ہے ۔ آپ کا نام نہاد پیار آپ کو مبارک ہو ،میرے دل میں بھی آپ کے لئے گنجائش باقی نہیں رہی ۔وہ زعیم شاہ کو پرے ہٹاکر اٹھی اور بھاگتی ہوئی دروازہ کھول کر نکل گئی ۔
شاہ اس کے جانے کے بعد کتنی ہی دیر تک صوفے پر بے دم سا بیٹھا رہ گیا ۔ اروما کا شدید ردعمل اسے احساس دلا رہا تھا کہ کہیں نا کہیں ایسا کچھ ضرور ہے جو غلط ہے ۔
جاری ہے