Rate this Novel
Episode 21
وہ صرف تمھیں اذیت دینا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔تحریم آپی میں انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہوسکتی ۔ اروما وثوق سے بولی ۔
یہ اذیت دینے کا کیسا انداز ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔شادی رکوادی ، بے چارے سنان کو قتل کردیا ۔۔۔۔۔۔۔۔زبردستی نکاح کیا اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی انہیں سکون نہیں ملا ۔ یہ انتقام کی کونسی آگ ہے جو بجھ کر نہیں دے رہی ۔ وہ دکھ سے کہتے ہوئےسسکی پڑی ۔
تم میری بات غور سے سنو ۔انہیں تم ہی سمجھاسکتی ہو اور کسی کی بات تو وہ نہیں سنیں گے ۔
نین ! انہیں اس شادی سے روک دو ورنہ بہت برا ہوجائے گا ۔ جب تمھارے نکاح کا راز کھلے گا تو ممکن ہے پرانی دشمنی کا پھر سے آغاز ہوجائے اور تم جانتی ہو ماضی میں ہمارے خاندانوں کا کتنا نقصان ہو چکاہے ۔
مجھے تو انہوں نے کسی قابل ہی نہیں سمجھا ہے ۔ میری کوئی اہمیت ہوتی تو اتنا بڑا قدم کبھی نہیں اٹھاتے ۔ نینا رنجیدگی سے بولی ۔
تم صحیح کہہ رہی ہو ، یہ تو اللہ جانتا ہے ان کے دماغ میں کیا چل رہا ہے ۔ میں دعا کروں گی ۔ سب ٹھیک ہوجائے گا ۔ تم سوجاؤ ۔ ذیادہ فکرمند نا ہو ۔ اللہ بہتر کرے گا ۔ اروما نے اسے تسلی دینے کے بعد کال ڈسکنکٹ کردی ۔
اروما نینا سے بات کرنے کے بعد لیونگ روم میں ہی بیٹھی رہی ۔وہ موبائل گیلری میں قید پرانی تصاویر کو دیکھ کر اداسی سے مسکرائی ۔
ذندگی کی رنگین تصویر کے سارے رنگ اس کی نظروں کے سامنے دھندلا رہے تھے ۔ گزرنے والا وقت ان لوگوں کی ذندگی کی خوشیاں اور رنگ جاتے ہوئے اپنے ساتھ لے گیا تھا ۔
سب ہی مضطرب اور الجھے ہوئے تھے مگر سب سے ذیادہ متاثر نینا کی ذات ہوئی تھی ۔
اروما کو اس پل شدت سے زعیم شاہ کی کمی محسوس ہوئی ۔ وہ شاہ کی تصویر پر انگلیوں کی پور کو گھمارہی تھی تبھی میرزوار دبے قدموں سے چلتا ہوا آیا اور اس کے برابر بیٹھ گیا ۔
ابھی تک جاگ رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور یہاں بیٹھی کیا سوچ رہی ہو ۔۔۔۔۔۔؟ میرزوار نے گنبھیرتا سے استفسار کیا ۔
نیند نہیں آرہی تھی تو اس لئے نینا سے بات کررہی تھی ۔ اروما اس کی آمد پر بوکھلا گئی ۔ موبائل سائیڈ میں رکھ کر دھیرے سے جواب دیا ۔
نیند کیوں نہیں آرہی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ میرزوار ماتھے پر بل ڈال کر بولا ۔
آپ نینا پر اتنا بڑا ظلم کیوں کررہے ہیں ؟ اروما اس کی بارعب شخصیت کو فراموش کئے بے ساختہ پوچھ بیٹھی ۔ میرزوار کی آنکھوں میں غصے کی لہر اٹھی مگر وہ اس کے سوال کو یکسر نظر انداز کئے تحمل سے بولا ۔
تمھارے ساتھ پرابلم کیا ہے ؟ کیوں اتنی خاموش رہنے لگی ہو ؟ اگر کوئی بات ہے تو مجھ سے شئیر کرو ۔
نہیں بھائی ! ایسی تو کوئی بات نہیں ہے ۔ اروما گڑبڑا گئی ۔
میں ساری دنیا کی خبر رکھنے والا بندہ ۔ گھاٹ گھاٹ کا پانی پی کر بیٹھا ہوں ، اپنے گھر خصوصاً اکلوتی بہن سے بے خبر رہوں گا ؟ میر زوار ٹہرے ہوئے لہجے میں گویا تھا ۔
اروما چور بنی سر جھکائے اضطرابی انداز میں ہاتھوں کی انگلیاں مروڑ رہی تھی ۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کیا جواب دے ۔
اس خاموشی کو میں کیا سمجھوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ تمھاری اداسی اور خاموشی کی اصل وجہ یہی تصویر ہے ؟ میرزوار اسے جانچتی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔ اروما نے گھبرا کر اس کی طرف دیکھا ۔
کیا زعیم شاہ تم سے وعدہ کرکے مکر گیا ہے یا وہ سرے سے بے خبر ہے ؟ میرزوار کے براہِ راست اس سوال پر اروما کا چہرہ شرم سے تپ گیا ۔ آنکھوں میں نمکین پانی جھلملانے لگا ۔
گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ میں تمھارا بڑا بھائی ہوں ۔
بھائیوں کا کام صرف بہنوں پر بے جا پابندی عائد کرنا ہی نہیں ہوتا ۔ وہ اچھے دوست بھی ثابت ہوتے ہیں ۔ تم مجھ پر اعتماد کرکے پوری سچائی سے مسئلہ بتاؤ ۔ میں وعدہ کرتا ہوں ،اسے حل کروں گا ۔ میرزوار اس کا ہاتھ تھام کر محبت سے بولا ۔
اروما اس کے مضبوط ہاتھ کی پیار بھری حدت سے پگھلنے لگی ۔ اس نے دھیرے دھیرے بے ہوشی والی رات سے اب تک کی ساری کہانی میرزوار کو سنادی ۔
تحریم کی حرکت پر اس کا خون کھول اٹھا تھا مگر کمال مہارت سے ضبط کرگیا ۔ اس نے تمام حساب کتاب آنے والے وقت کے لئے اٹھا رکھے تھے سوخاموشی سے سنتا رہا ۔
تم اب بلکل پریشان نہیں ہونا ۔ میں ساری بات سمجھ چکا ہوں اور بہت جلد زعیم شاہ بھی سمجھ جائے گا ۔
یہ معاملہ مجھ پر چھوڑ دو ۔ میں اسے اپنے طریقے سے حل کروں گا ۔ اب اپنے روم میں جاکر سوجاؤ۔ رات بہت ہوچکی ہے ۔ میرزوار نے اٹھتے ہوئے اسے تاکید کی ۔
اروما نے تشکر سے مسکراتے ہوئے سر ہلایا ۔ وہ شدید خواہش کے باوجود نینا کا ذکر دوبارہ نہیں چھیڑ سکی تھی ۔
“””””””””””””””””””
آپ یہاں کے کاموں میں الجھی رہیں گی تو کراچی کب چلیں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اتنی ساری شاپنگ کرنی ہے اور ٹائم بھی کم ہے ۔ میں آپ کو بتا رہی ہوں دل کھول کر شاپنگ کروں گی ۔
تحریم اپنے چہرے پر کلینزنگ کرتے ہوئے باآوازِ بلند رانیہ سے مخاطب تھی ۔
تحریم ! صبر کرنا سیکھ لو ۔ تمھیں کس نے شاپنگ کرنے سے منع کیا ہے ۔ہم سب چلیں گے لیکن پہلے یہاں کے کام تو نپٹا لیں ۔
ابھی تک برادری میں مٹھائی تقسیم کرنے کا کام ختم نہیں ہوا ۔
حویلی کی رینوویشن کا کام ختم ہوجائے پھر چلتے ہیں ۔
اف ! اس میں تو بہت ٹائم لگ جائے گا ۔ حویلی کو رینوویشن کی ضرورت ہی کیا تھی بلاوجہ کررہے ہیں ۔ تحریم منہ بگاڑ کر بولی ۔
بے وقوف لڑکی ! حویلی میں ہماری شادی کے بعد اب شادی کا موقع آیا ہے ۔ معظم بھائی کا تو بس نہیں چل رہا کیا کچھ کر ڈالیں ۔ تمھارے لئے ہی سب کچھ ہورہا ہے اور تم ہی چڑ رہی ہو ۔ رانیہ نے اسے گھورا ۔
ایسا کرتے ہیں ، میں کل ہی کراچی چلی جاتی ہوں ۔ آپ یہاں سے فری ہوجائیں تو آجائیے گا ۔ تحریم نے استہفامیہ نظروں سے رانیہ کو دیکھا ۔
اتنی بھی کیا تباہی ہے ، کہا ناں کچھ دنوں کی بات ہے پھر عروش بھابھی اور میں ساتھ ہی جائیں گے ۔ رانیہ زچ ہوئیں ۔
مام ! آپ سمجھ نہیں رہی ۔ ڈیزائینر اتنا لیٹ کردیتے ہیں اگر ہم بھی لیٹ جائیں گے تو شادی سر پر آجائے گی مگر میرے ڈریسز تیار نہیں ہوسکیں گے ۔ تحریم فکرمندی سے بولی ۔
سب ہوجائے گا ، تم فکر مت کرو بس اپنی صحت کا خیال رکھو ۔ کمزور ہورہی ہو ۔شادی تک ایسی رہوگی تو کیا خاک روپ آئے گا ۔ خود کو فکرات میں مت الجھاؤ ۔ رانیہ اس کے پیچھے کھڑی ہوئیں اور بالوں میں ہاتھ پھیر کر پیار سے سمجھایا ۔
تحریم منہ بنا کر رہ گئی ۔ اسے تو کراچی پہنچ کر نینا کے تاثرات دیکھنے کی شدید خواہش تھی ۔ شادی کی تیاریوں کے لئے اس کا جوش بڑھتا جا رہا تھا ۔
“””””””””””””””””””
آپ مجھ پر اتنا بڑا ظلم نہیں کرسکتے ۔۔۔۔۔۔۔۔میرا گناہ اتنا بڑا نہیں تھا جتنی بڑی سزا دے رہے ہیں ۔
میں آپ کو کیسے سمجھاؤں کہ میں آپ کے ساتھ کوئی دھوکہ نہیں کرنے والی تھی ۔ میں نے پورے دل سے آپ کو چاہا ہے ۔ نینا دونوں ہاتھوں سے اس کا چہرہ تھامے شدتِ جذبات سے لبریز آواز میں کہا ۔
نین سائیں ! دھوکہ اور کیسا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔آپ نے تو مجھے بے وقوف بنانے کے بعد سنان سے شادی کا پروگرام بنا لیا تھا اگر میں با خبر نہیں ہوتا تو تم نے تو اس سے نکاح پڑھوالینا تھا ۔
آپ نے کیا سوچا تھا میرے ساتھ کھیلنے کے بعد مجھ سے بچ کر نکل جاتی ؟ دھوکے بازوں کو تو قبر تک پہنچا کر آتا ہوں ۔ زبردست قہقہہ لگا کر تلخ ہوا ۔ اس نے سگریٹ کا بھرپور کش لے کر دھواں بڑی مشتاقی سے ناک کے نتھنوں سے باہر نکالا ۔
میں نے سنان سے رشتہ طے ہونے پر آپ سے رابطہ کرنے کی پوری کوشش کی تھی مگر آپ لاتعلق بنے رہے ۔ اس میں میرا تو کوئی قصور نہیں ہے ۔
آپ تحریم آپی سے شادی صرف مجھے دکھ دینے کے لئے کررہے ہیں مگر جب پورے خاندان کو ہمارے نکاح کے بارے میں پتا چلے گا تو کیا ہوگا ، یہ سوچا ہے ؟ نینا نے اپنی دانست میں اسے دھمکایا ۔ مسلسل رونے کے سبب آنکھوں کے ڈورے سرخ ہورہے تھے ۔
سب کو کون بتائے گا ؟ تم ۔۔۔۔۔۔؟ میرزوار تمسخرانہ بولا ۔
جی ! میں بتاؤں گی ۔ اگر آپ نے میری بات نہیں مانی تو میں سب کو بتادوں گی ۔ نینا ہزیانی انداز میں چیخی ۔
جاؤ بصد شوق بتاؤ ۔ یہ شوق بھی پورا کرلو ۔ تمھاری بات پر یقین کون کرے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمھارے پاس نکاح کا کوئی ثبوت ہے ؟ میرزوار کے ہونٹوں پر شاطر مسکراہٹ ابھری ۔
نینا کو اس کی بات پر شدید جھٹکا لگا تھا ۔ وہ بدحواسی سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
تم بتادو لیکن یاد رکھنا میں اس نکاح سے مکر جاؤں گا ۔ اس کے بعد جو تمھارے ساتھ ہوگا اس کی زمہ دار تم خود ہوگی ۔ رسوائی اور بدنامی تمھارا مقدر ٹہرے گی ۔
مجھے تحریم نا ملی تو کوئی بات نہیں ، میرے لئے لڑکیوں کی کوئی کمی نہیں ہے مگر تمھیں میرے سوا کوئی اور قبول نہیں کرے گا اس لئے بچپنا چھوڑو اور خاموشی سے میری شادی انجوائے کرنے کی تیاری کرو ۔
کیا تم بھول گئی ہو میں تمھارا شوہر ہوں ۔ میرا ہر حکم ماننا تم پر فرض ہے اگر نہیں مانوگی تو مجھے منوانا آتا ہے ۔میرزوار نے سرد لہجے میں کہتے ہوئے سگریٹ ایش ٹرے میں مسلا پھر اس کا ہاتھ تھام کر اپنے سینے پر دل کی جگہ کی رکھا اور آنکھیں موند لیں ۔
میرزوار ! میں آپ سے نفرت کرتی ہوں اور مرتے دم تک نفرت کرتی رہوں گی ۔ آپ نے میری ذندگی کو جہنم بنادیا ہے ۔ وہ تڑپ تڑپ کر رونے لگی ۔
مجھے منظور ہے ۔ تمھاری شرط سے بہتر تمھاری نفرت ہے ۔ نفرت کرنے والوں کی میں قدر کرتا ہوں مگر جیتے جاگتے انسان کے جذباتوں پر شرط لگانے والوں کے لئے معافی کی گنجائش نہیں ہے ۔وہ اسی پر سکون انداز میں آنکھیں بند کئے قطعیت سے بولا ۔
مجھے جانا ہے ۔ اب میرا آپ سے کوئی واسطہ نہیں ہے ۔ آپ بھی مجھ سے معافی کی کوئی امید مت رکھئیے گا ۔ نینا ایک جھٹکے سے اس سے دور ہوئی تھی ۔
تم تو میرے دل میں رہتی ہو ۔ میرے دل سے نکل کر جاؤگی بھی تو کہاں جاؤگی ۔ وہ دل کھول کر ہنسا پھر اس کے بے حد نذدیک آگیا ۔
مٹھا سائیں !مجھے محبت کرنے کی سزا مت دیں ۔ میں تصور میں بھی آپ کو کسی اور کا ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی ۔ اپنی نا سہی میری محبت کا بھرم رکھ لیں اگر یہ بھرم ٹوٹ گیا تو محبت مرجاے گی ۔ وہ اپنے نازک ہاتھوں میں اس کا بالوں سے بھرپور خوبصورت ہاتھ تھام کر منتوں پر اتر آئی ۔
سائیں ! محبت میں سودے بازی کرنا چاہتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔میں نبھاوؤں گا تو تمھاری محبت قائم رہے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں بے وفائی کروں گا تو تم بھی میری برابری کروگی ؟ محبت سے مکر جاؤگی ۔۔۔۔۔۔یہ محبت تو نا ہوئی کاروبار ہوگیا ۔ میرزوار کے ہونٹوں پر دلکش شاطرانہ مسکراہٹ کھیل رہی تھی ۔
تمھیں مجھ سے محبت ہے تو میرے ہر فیصلے کو دل سے قبول کرو ۔ میری بے وفائی کا بھی احترام کرو ۔ تب شاید مجھے یقین آجائے کہ نینا شاہ نے بھی میرزوارسے محبت کی تھی وگرنہ میرے بھروسے کو تو ٹھیس پہنچا چکی ہو ۔ میرزوار منجھے ہوئے کھلاڑی کی طرح اس کے جذباتوں سے کھیل رہا تھا ۔
محبت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کھلے عام بے وفائی کریں اور میں وفا کی دیوی بن جاؤں ۔ نینا اس کا ہاتھ جھٹک کر تند لہجے میں بولی ۔
ٹھیک ہے تو پھر نکاح نامہ تمھیں دیتا ہوں ۔ کورٹ جاؤ ، کیس فائل کرواؤ ۔ مجھ سے خلع کا مطالبہ کرو اور طلاق لے لو ۔تمھارے سر کی قسم اسی وقت طلاق دوں گا ۔وہ مخصوص شیریں لہجے میں اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر دکھتی رگ دبا گیا ۔ نینا نے تڑپ رحم طلب نظروں سے اسے دیکھا ۔
بولو ! اپنے شوہر کے خلاف جاسکتی ہو؟ مجھ سے طلاق مانگو گی ۔۔۔۔۔؟ وہ شرارت سے کہتے ہوئے درمیانی فاصلہ مٹا گیا پھر اس کی کلائی جھپٹ کر خود پر گرا لیا ۔
میں ایسا کبھی نہیں کرسکتی۔۔۔۔۔۔ نینا بے بسی سے نظریں چراتے ہوئے مبہم سا بولی ۔ میرزوار کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔
زار ! میں مرجاؤں گی ۔ پلیز ! یہ شادی مت کریں ۔ نینا نےاس کے سینے میں چہرہ چھپائے بے تحاشہ روتے ہوئے دہائی دی ۔
کوئی کسی کے لئے نہیں مرتا ۔ جب تمھارے دھوکے کی خبر ملی تب مجھے بھی یہی لگا تھا کہ میں مر جاؤں گا مگر دیکھو ذندہ ہوں ۔ٹوٹ کر بکھرا پھر مشکل سے ہی سہی سنبھل گیا ۔تمھیں بھی کچھ نہیں ہوگا ۔ میرزوار پر اس کی التجا کا مطلق اثر نا ہوا ۔
وہ اپنے بے درد انداز میں اسے سمجھاتے ہوئے نینا کے ہوشربا سراپے کی رعنائیوں میں ڈوبتا جارہا تھا ۔ اس کی بے رحم سرگوشی نے نینا کے دل پر کاری ضرب لگائی ۔
نینا کی بھرپور مزاحمت میرزوار کے آہنی وجود سے مقابلہ کرنے کے لئے ناکافی ثابت ہونے لگی ۔
تم ہمیشہ میرے نکاح میں رہوگی ۔ تمھیں کبھی نہیں چھوڑوں گا ۔ میں نے تم سے محبت کی ہے آخری سانس تک بنھاؤں گا ۔ تمھیں اپنا نہیں سکتا کیونکہ تم اپنا اعتبار کھو چکی ہو مگر میرے دل میں ہمیشہ رہو گی ۔اس کی بے رحمانہ سرگوشیوں پر نینا کی سسکیوں میں شدت آ گئی۔
آج اس کے نرم بے قرارلبوں کی سرسراہٹ زہریلے بچھو کے ڈنک کی مانند محسوس ہورہی تھی ۔ اس کے بازوؤں کی سختی اور ان سختیوں کی سرور بخشتی نرمی دل کی راحت کا سبب بنے کی بجائے اسے مضطرب کررہی تھی ۔
اس کے سسکنے پرمیرزوار کا دل کٹتا رہا مگر ضدِ جنون نے اسے اندھا کردیا تھا ۔ مردانہ انا کے سامنے پیار کی کونپل مرجھا کر رہ گئی ۔ میر زوار نے اسے اپنے قدموں تلے بے دردی سے روند ڈالا ۔
“””””””””””””””””””
میرزوار ! تم پاگل ہوگئے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔تم نے نینا سے نکاح کیا ہے پھر تحریم سے شادی کی کونسی تک ہے ؟ میر جازب شدید طیش کے عالم میں اس کے سامنے کھڑا تھا ۔
نینا سے صرف نکاح کیا ہے ۔ تحریم سے شادی کررہا ہوں ۔مجھے گھر سنبھالنے کے لئے بیوی کی ضرورت ہے ۔ مرد ہوں دو کیا چار شادیاں کر سکتا ہوں ۔ میر زوار کا اطمینان دیدنی تھا ۔
اس معصوم کو برباد کرکے تمھیں کیاملے گا ۔ یار ! اس سے غلطی ہوگئی مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم اسے اتنی بڑی سزا دو ۔
سنان شاہ کا قتل کروانے کے بعد بھی تمھارے دل کو قرار نہیں آیا۔میر جازب دانت بھینچے غصے سے بولا ۔
غلطی کی ہے تو سزا بھی ضرور ملے گی ۔ میں محبت اور نفرت دونوں کو پورے دل سے نبھانے کا قائل ہوں ۔ نینا سے محبت کی ہے اس لئے وہ اب تک ذندہ ہے اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ میں اسے کوئی سزا بھی نہیں دیتا ۔ میر زوار کے چہرے پر بلا کا اطمینان تھا ۔
جو سزا تم اسے دے رہے ہو وہ موت سے بھی بدتر ہے ۔ ایک لڑکی کے لئے اس سے بڑی سزا کوئی اور نہیں ہوسکتی کہ اس کا شوہر اس کی موجودگی میں دوسری شادی کرے ۔ میر جازب نے اپنا سر پیٹا ۔
وہ ایسی ہی بھیانک سزا کی مستحق ہے ۔بہت سوچ سمجھ کر اس کے لئے سزا کا انتخاب کیا ہے ۔ ایک پل میں ہزار موت مرے گی جب مجھے کسی اور کے ساتھ دیکھے گی ۔
اتنا بڑا ظلم مت کرو ۔ وہ مرجائے گی ۔ میر جازب بے اختیار بولا ۔
بے فکر رہو ۔ مرنے نہیں دوں گا ۔ میرزوار مدہم سا مسکرایا۔
مجھے تمھاری سوچ پر افسوس ہورہا ہے ۔ تمھارے دل پر مہر لگی ہوئی ہے ورنہ تم دیکھتے اس کی کیا حالت ہے ۔ وہ کس جان لیوا کرب سے گزر رہی ہے ۔ میر جازب نے اسے ملامت کی ۔
تم نے ٹھیک ٹھاک ناراضگی دکھائی ۔ اس نے تمھیں منانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ تم نے اس کی شادی رکوادی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔زبردستی نکاح کیا ۔ بات یہیں پر ختم ہوجانی چاہئے تھی مگر تم تو حیوانیت پر اتر آئے ہو ۔ میر جازب کا غصہ کسی طور کم نہیں ہورہا تھا ۔
اس نے میرا پیار دیکھا تھا اب حیوانیت بھی دیکھنے دو ۔میں بھی ایسے ہی حالات سے گزرا ہوں ۔ وہ گزرے گی تبھی تو میرے درد کوسمجھے گی ۔ میر زوار کی آنکھوں میں درد ہلکورے لینے لگا ۔
یہ دل صرف اس کے نام پر دھڑکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔اس کا ہے اور ہمیشہ اسی کا رہے گا ۔ اپنی ذندگی سے بڑھ کر اسے چاہتا ہوں ۔ میرے دل میں اس کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا ۔
اس نے میرے دل میں گھر کیا ہے اور جو دل میں گھر کر جائیں انہیں گھر میں بسایا جائے یا نہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ ان کے مقام میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی ۔
یہ بے وقوفی اور پاگل پن کی انتہا ہے ۔ تم اپنے ہاتھوں سے اپنی اور اس کی خوشیاں برباد کررہے ہو ۔ میر جازب نے آخری کوشش کے طور پر لب کشائی کی ۔
وہ پہلے ہی سب برباد کر چکی ہے ۔ میں تو آخری کیل ٹھوک رہا ہوں ۔ میرزوار نے پرسوچ نگاہیں دیوار پر جمائے گلاس میں موجود زہر ایک ہی سانس میں حلق سے نیچے اتارا ۔
“”””””””””””””””””””
تحریم سجی سنوری ہلکے سے گھونگھٹ میں اسٹیج پر بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کی ددھیا رنگت زرد اور سنہری نفیس زرق برق دوپٹے میں دمک رہی تھی ۔
آج اس کی سج دھج ہی نرالی تھی ۔ اردگرد رشتے دار خواتین کا ہجوم لگا تھا مگر وہ عادت کے بر خلاف بڑے سکون سے ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے شوخ جملوں اور لڑکیوں کی ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ انجوائے کررہی تھی ۔
شیرازی ولا کے لان میں مہندی کی رسم دھوم دھام سے جاری تھی ۔ ہر طرف گہما گہمی ، ہنسی قہقہوں کی چہکار نے شادی والے گھر میں سما باندھ دیا تھا ۔ رانیہ خوشی سے تمتما تےہوئےچہرے سے بڑھ بڑھ کر مہمانوں کو ویلکم کررہی تھیں ۔ ایک ایک ٹیبل پر جاکر علیک سلیک کرتیں ۔ ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا ۔
نینا اپنے روم کی ونڈو میں کھڑی برستی آنکھوں سے اپنی بربادی کا منظر دیکھ رہی تھی ۔یوں لگ رہا تھا جیسے اس کی ویران آنکھوں میں اداسی نے مستقل اپنا ڈیرہ جمالیا ہے ۔
جاری ہے
