60.7K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 01

آج اس کے والدین کی چوبیسویں برسی تھی ۔ان کی موت ایک کار ایکسیڈنٹ میں ایک ساتھ ہوئی تھی ۔
وہ اس وقت صرف چھ برس کا تھا، کانوینٹ میں زیرِ تعلیم ہونے کی وجہ سے وہ ماں باپ کے ساتھ اس سفر میں شامل نہیں تھا ۔اس سفرمیں اسکا شامل ناہونااس کےلئے خوش قسمتی کی علامت تھا مگر اس نےقدرت کی اس مہربانی کو ہمیشہ اپنی بدقسمتی گردانا۔
وہ وائیٹ شلوار سوٹ میں ملبوس،گھنی نفاست سے ترشی ہوئی مونچھیں ، بڑھی ہوئی شیو ،خوبصورت براؤن آنکھوں کے سرخ ہوتے کنارے ، شہابی رنگت والے چہرے پر ڈھیروں ملال سجائےحویلی کے اندرونی دروازے پر ہاتھ جوڑے کھڑا سب کو رخصت کررہا تھا۔مہمانوں کے چلےجانے کےبعد پلٹ کر مضبوط مگرشکستہ قدموں سے لاؤنج میں آگیا ۔
میر سجاول بھائی اور زرتاج بھابھی دونوں ہی مجھے بہت عزیز تھے ،آج بھی ان کے جانے کا غم روزِ اول کی طرح نڈھال کردیتا ہے مگر قدرت کے فیصلوں کے آگے کسی کی نہیں چلتی ۔
ان دونوں کی ایک دوسرے کے لئے محبت بھی اس قدر روحانی تھی کہ موت بھی انہیں جدا نہیں کرسکی ۔ ایک ساتھ ہی اس دنیا سے لے گئی ۔ رانیہ اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں تھام کر غمگین لہجے میں گویا تھیں ۔
پھپھو سائیں ! یہ آپ کی محبت ہی ہے جو وہ مجھ سے اس قدر دور ہونے کے باوجود بھی ہر پل میرے ساتھ ہیں وگرنہ میں نے تو ناسمجھی کی عمر میں ہی انہیں کھودیا ۔آپ کے منہ سے ان کا ذکر سن کر ہی میں ان کی شخصیت کے ہر پہلو سے واقف ہوں ۔
آپ ہی کی وجہ سے ان کے چلے جانے کو باوجود بھی مجھے ہر طرف ان کی موجودگی کااحساس ہوتا ہے اگر آپ جیسی محبت کرنے والی پھپھو میرے پاس نا ہوتیں تو میں اپنے پیرینٹس کی کمی کو اور بھی شدت سے محسوس کرتامگر آپ نےکبھی بھی مجھے اس محرومی کا احساس نہیں ہونے دیا ۔
میر زوار نےان کے ہاتھ تھام کر قریبی صوفے پر بٹھایا اور خود بھی ان کے نذدیک بیٹھ گیا ۔
آپ جانتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب آپ اپنے سسرال سے مجھے ملنے کے لئے مری آتی تھیں تو مجھے ایسا لگتا تھا کہ میری سگی ماں مجھ سے ملنے کے لئے آئی ہیں ۔ وہ ہوتی تو وہ بھی مجھے ایسے ہی بے غرض چاہتیں ۔
آپ کا پیار میرے لئے قدرت کا وہ انمول تحفہ ہے جو میں اپنی تمام دولت سےبھی نہیں خرید سکتا ۔ ایسی پر خلوص محبت صرف نصیب سے ہی ملتی ہے ۔میر زوار انتہائی دھیمی آواز میں بول رہا تھا ۔ رانیہ کی آنکھیں بھر آئیں ، انہوں نے اس کا سر اپنے سینے سے لگا لیا ۔
دونوں خاندانوں کے تقریباً سبھی افراد وہاں موجود تھے اور سب ہی اس کے مزاج سے واقف تھے کہ وہ ذیادہ بولنے کا عادی نہں تھا ۔ لوگوں میں با آسانی گھل مل جانا اس کی فطرت میں شامل نہیں تھا ۔
اس نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنا بزنس اور جاگیرسب کچھ بڑی مہارت سے سنبھال لیا تھا ۔میر سجاول کی موت کے بعد اب تک میر سبطین اور میر جاذب سنبھالتے آئے تھے مگر میرزوار نے وطن واپس لوٹنے کے بعد تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لئے پھر جب کبھی وہ بیرون ملک ہوتا یا جیل یاترا کے لئے جاتا تو وہی دونوں لک آفٹر کرتے ۔
اب وہ بزنس ٹائیکون ہونے کے ساتھ مشہور و معروف سیاستدان بھی بن چکا تھا ۔اس نے دادا کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے سیاست کو بھی نظرانداز نہیں کیا تھا بلکہ سیاست میں قدم رکھتے ہی اپنا سکہ بھی منوالیا ۔ وہ ملک کے جانے مانے کامیاب سیاستدانوں میں سے ایک تھا ۔
اس شہرت کے پیچھے وجہ صرف سیاست ہی نہیں وہ اسکینڈلز بھی تھے جن کی وجہ سے وہ ہمیشہ شہہ سرخیوں میں رہتا تھا مگر ہر بار اپنی شاطر دماغی اور ہائی پرفائل اپروچ کی وجہ سے بچ نکلتا ۔
اس نے اپنی ذندگی کا بس ایک ہی مقصد بنا لیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ پیسہ۔۔۔۔۔۔۔ پیسہ اور بس پیسہ ۔ پیسہ کمانے کے لئے اس نے ہر وہ راستہ اختیار کیا تھا جس سے اس کی دولت میں اضافہ ہو ۔وہ راستہ جائز ہے یا ناجائز اس بات سے اسے کوئی غرض نہیں تھی ۔
اس کی ذندگی میں کسی کے لئے بھی جگہ نہیں تھی ،وہ عورت ذات کو ایک نگاہِ غلط کے قابل بھی نہیں سمجھتا تھا ۔ اس کی ذندگی میں عورت کاعمل دخل میٹنگ رومزاور چئمبر تک محدود تھا۔
ذندگی میں شامل ہونے کی اجازت کسی کو بھی نہیں تھی ۔
میر زوار پارٹی میں موجود بے شمار لڑکیوں کے دلوں کی دھڑکن تھا ۔ وہ سب کارنر میٹنگز ،اسمبلی ، سکریٹریٹ اس کی ایک نظرکرم کے لئے نت نئے انداز سے سج سنور کر پہنچتی تھیں مگر وہ میر زوار ہی کیا جو کسی کو ایک نظر سے بھی نواز جاتا ۔
ضرورت کے وقت بھی دو جملوں میں بات سمیٹنے والا میر زوار علی آج سب کی موجودگی میں اس قدر بول گیا تھا ، یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ اپنے والدین کو بہت شدت سے یاد کررہا ہے ۔
زوار بھائی ! پھپھو کی ذندگی کی سب سے بڑی خواہش پوری کردیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ بس اب جلدی سے شادی کرلیں ۔ حویلی کا سونا پن بھی ختم ہو جائیگا اماں کی خواہش بھی پوری ہوجائے گی اور آپ کی ذندگی میں بھی خوشگوار موڑ آجائیگا ۔ اروما نے ماحول کے غمگین اثر کو زائل کرنے کے لئے ہلکے پھلکے لہجے میں کہا۔
زاری !اروما صحیح کہہ رہی ہے ، تم شادی کر لوگے تو میں بھی تمھاری طرف سے بے فکر ہوجاؤں گی ۔ میرا دل دماغ تمھاری ہی فکر میں الجھا رہتا ہے ۔ تمھاری دلہن آجائے گی تو میں بھی ریلیکس فیل کروں گی ۔
رانیہ کی ایک بیٹی تھی تحریم اور ایک ہی بیٹا تھا سفیان جو تحریم سے بڑا تھا لیکن رانیہ کی ذندگی میں ان دونوں سے ذیادہ اہمیت میر زوار کو حاصل تھی ۔اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ میر سجاول اسے بے حد عزیز تھا اور میر زوار رانیہ کے عزیز از جان بھائی کی آخری نشانی تھا ۔دوسری اور خاص وجہ یہ تھی کہ وہ بہت کم عمری میں ماں اور باپ دونوں سے محروم ہوگیا تھا۔
میر جعفر نے میرسجاول اور زرتاج کے گزر جانے کے بعد میر زوار کو اپنے سینے سے لگا کر رکھا مگر وہ بھی ذیادہ عرصے تک میر سجاول کی جدائی کا غم برداشت نہیں کرسکے ۔ان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد رانیہ نے میر زوار کو خود سے بے انتہا قریب کرلیا ۔
نہیں پھپھو ! ابھی میں شادی کے موڈ میں نہیں ہوں ۔ شادی کے علاوہ بھی بہت غم ہیں زمانے میں ۔ وہ لطیف سے لہجے میں گویا ہوا۔
ابھی نہیں تو پھر کب ۔۔۔۔۔۔۔؟یہی عمر ہے شادی کی اب بھی نہیں کروگے تو کیا بڑھاپے میں کروگے ۔رانیہ خفگی سے بولیں ۔
جب ضرورت محسوس کروں گا تو کرلوں گا ۔ فی الحال میں کوئی جھنجھٹ پالنا نہیں چاہتا ۔ وہ بیزاری سے بولا ۔
میر سائیں ! شادی جھنجھٹ نہیں ہوتی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سنت ہے ۔تمھاری ذندگی خوشگوار ہوجائے گی ، آنے والی اپنے ساتھ خوشیاں لے کر آئے گی اور تم اسے جھنجھٹ کہہ رہے ہو ۔ رانیہ برامان گئیں ۔
ارے میری پیاری پھپھو سائیں ! یار ! ناراض تو نا ہوں ناں ۔ میں کرلوں گا شادی ۔بس ابھی مائینڈ نہیں بن رہا ہے لیکن جلد ہی اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کروں گا ۔
آپ لوگ ابھی واپس تو نہیں جا رہے ، میرے کچھ گیسٹ بیٹھے ہیں ان سے فارغ ہوکر آتا ہوں ۔ میر زوار رانیہ کا ہاتھ چوم کر اٹھ گیا ۔ رانیہ سر ہلا کر رہ گئیں ۔وہ ہمیشہ شادی کے ذکر کو یونہی ٹال جاتا تھا ۔


میر زوار کی شادی کی بڑی فکر ہے ، کبھی ہم غریبوں کے بارے میں بھی سوچ لیاکریں لگتا ہے انتظار میں ہی عمر بیت جائے گی ۔
زعیم شاہ نے دبے پاؤں آکر سرگوشی کی ۔ ارومابدک کر پیچھے ہٹی ۔
وہ رات کے کھانے کے لئے انتظامات دیکھنے کے لئے کچن کی طرف آئی تھی ۔ زعیم شاہ نے اسے جاتے ہوئے دیکھا تو سب کی موجودگی میں سے غیر محسوس طریقے سے اٹھ کراس کے پیچھے چلا آیا۔
بھلا آپ کی شادی کی فکر میں کیوں کروں ؟ اروما سرجھکا کرآہستگی سے بولی ۔
تم نہیں کروگی تو اور کون کرے گا یا پھر میں اماں سے کہوں کہ وہ سبطین انکل سے رشتے کی بات کر لیں ۔ زعیم شاہ دیوار سے ٹیک لگا کر سینے پر ہاتھ لپیٹے کھڑا تھا ۔ سنجیدگی سے بولا ۔
پلیز ! آپ ان سے بات نہیں کریں گے۔ وہ میرے بارے میں کیا سوچیں گی۔ اروما جو سر جھکا کر ٹیبل کی سطح پر انگلی پھیر رہی تھی گھبرا کر بولی ۔
یہی سوچیں گی کہ تم بھی اس رشتے کے لئے دل و جان سے رضامند ہو ۔ زعیم شاہ اس کی گھبراہٹ سے محفوظ ہوکر مذید تنگ کرنے کے لئے بولا ۔
آپ مجھے بدنام کروانا چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے مگر مجھ سے کوئی امید مت رکھئیے گا ۔ وہ خفگی سے کہتے ہوئے ڈائیننگ روم سے نکلنے کے لئے مڑی تو زعیم شاہ نے اس کا راستہ روک لیا ۔
میں تمھیں اچھی خاصی سمجھدار لڑکی سمجھتا تھا لیکن تم تو بلکل بے وقوف ہو ۔ میں تمھیں پسند کرتا ہوں ، رشتے کی بات اپنی ماں سے نہیں کروں تو اور کس سے کروں گا ۔ تمھیں اپنا بنانے کے لئے کسی سے تو بات کرنی ہوگی یا ہمارے گھروالوں کو ہماری محبت کا الہام ہوگا اور وہ ہماری شادی کروا دیں گے ۔ زعیم شاہ نے اس کی عقل پر ماتم کرتے ہوئے رسان سے اسے سمجھانے کی کوشش کی ۔
یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں لیکن پھر بھی پتا نہیں کیوں مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ۔
اس میں ڈرنے کی تو کوئی بات ہی نہیں ہے ۔ہاں اگر تم دل سے رضامند نہیں ہو تو وہ الگ بات ہے ۔ زعیم شاہ کا موڈ ایک پل میں بدلا اورسخت نظر وں سے اروما کو گھورتا ہوا پلٹ کر ڈائیننگ روم سے نکلتا چلا گیا ۔
یا اللہ ! میں اس شخص کے سامنے اتنی کنفیوزکیوں ہوجاتی ہوں۔
وہ کچھ غلط تو نہیں کہہ رہے تھے پھر کیوں میں نے فضول سی بات کہہ دی ۔اروما نے سینے میں رکا سانس خارج کیا ۔ اسے زعیم شاہ کی ناراضگی پر افسوس بھی تھا اوراپنی بے وقوفی پر غصہ بھی آرہا تھا۔


اس بار تم لوگوں کا گاؤں میں اسٹے کچھ ذیادہ ہی ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اچھی بات ہے ویسے بھی کبھی کبھی تو آتے ہو ۔ تحریم نے نزاکت سے بال شولڈر سے اٹھا کر پشت پر جھٹکے ۔
یونی کے بعد اب میں بھی گاؤں میں بور ہوجاتی ہوں ۔ یونی کے چار سال کراچی میں بہت مزے کے گزرے ۔ اس کی نظر بولتے ہوئے دروازے کی جانب بڑھی تو زعیم علی شاہ پر ٹہر سی گئی ۔
اماں کا تو آج ہی واپس جانے کا ارادہ تھا مگر بابا کسی کام کے سلسلے میں رکے ہوئے ہیں ۔اروما زعیم کی موجودگی سے بے خبر دھیمے سے لہجے میں بولی ۔
اچھی لگ رہی ہے نا تم سب کی یہاں موجودگی ورنہ بڑی حویلی تو سونی پڑی رہتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میر زوار مہینے میں ایک دو بار ہی آتا ہے اور وہ بھی بس ایک آدھ دن کے لئے پھر واپس لوٹ جاتا ہے ۔ میر جازب ہی چکر لگاتا رہتا ہے ،اس کی وجہ سے وہاں چلی بھی جاتی ہوں ورنہ خالی حویلی تو کاٹنے کو دوڑتی ہے ۔ رانیہ بولیں ۔
زوار بھائی بزی بھی تو بہت رہتے ہیں اور جب سےمنسٹر بنے ہیں کراچی بھی کم ہی آنا ہوتا ہے ذیادہ تر اسلام آباد ہی ہوتے ہیں ۔زعیم شاہ کے کھنکارنے پر اروما نے چونک کر دروازے کی جانب دیکھا ۔
تم وہاں کیوں کھڑے ہو ، اندر آجاؤ۔اروما کوئی غیر نہیں ہے گھر کی بچی ہے ،اس سے کیا پردہ ۔اروما اور جاذب کب سے آئے ہوئے ہیں ۔ جاذب تو تمھارے انتظار میں بیٹھا ہوا ہے ۔ رانیہ نے زعیم کو دیکھ کر فوراً اندر بلایا۔
ہوں ۔۔۔۔۔چاچی ! میں اس سے ملا ہوں کافی دیر سے مردانے میں اس کے ساتھ ہی بیٹھا تھا ۔وہ ہنکارہ بھر کر بولا ۔
آپ کو انفارم کرنے آیا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔میں اور جاذب باہر جارہے ہیں ۔ آپ ہماری واپسی تک یہیں رکیں گی یا آپ کو گھرجانا ہے ۔۔۔۔۔۔؟زعیم شاہ بھاری قدم اٹھاتا ہوا اندر آگیا ۔اس نے رانیہ کو جواب دے کر براہِ راست اروما کو مخاطب کیا ۔ اس کی لو دیتی نگاہوں سے گھبرا کراروما نے سٹپٹا کر رانیہ کی طرف دیکھا ۔
میں پھپھو کے پاس رکوں گی ۔آپ جاذب بھائی سے کہہ دیں وہ مجھے رات کو پک کرلیں ۔ اروماجواب زعیم شاہ کو دے رہی تھی مگر نظریں رانیہ پر تھیں۔ زعیم شاہ کی مسکراتی نگاہیں اروماکے شفاف دمکتے چہرے پر ٹکیں تھیں ۔ وہ پشت پر ہاتھ باندھے اسے دلچسپی سے دیکھ رہا تھا اور زعیم شاہ کا اروما کو یوں دیکھنا تحریم کو سر سے پاؤں تک سلگا گیا۔
جو حکم ! وہ سر کو خم دے کر دلکشی سے مسکرایا ۔ گرے کلر کے شلوار سوٹ میں ملبوس گھنے خوبصورت بال کسی مصنوئی اشیاء یا جیل کے استعمال کے بغیر نفاست سے سیٹ کئے ہوئے تھے ۔ کلائی پر قیمتی ریسٹ واچ باندھے اپنی سوبر شاندار پرسنالٹی کے ساتھ وہ سیدھا دل میں اتر رہا تھا ۔
زعیم شاہ کے اس طرح کہنے پر اروما کی ہتھیلیاں پسیج گئیں ۔اس نے لبوں پر ابھرنے والی شرمیلی سی مسکان کو ارومابمشکل لب بھینچ کر دبانے کی کوشش کی پھر اسے چھپانے کے لئے سر جھکا گئی ۔
رانیہ کے سامنے شرمندگی کے احساس پر اس کا من موہنا چہرہ سرخ پڑ گیا تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ رانیہ بھی ان کے مابین تعلق کو جان گئیں ہیں جبکہ یہ فقط اس کے دل کا چور تھا وگرنہ رانیہ تو یکسرانجان تھیں کہ ان دونوں کے دلوں میں کونسے احساسات ہیں ۔
زعیم شاہ کا اروماکے لئے بے حد خاص طرزِ تخاطب تحریم کے دل و دماغ میں خطرے کی گھنٹیاں بجا رہا تھا ۔ پورے زمانے میں کون ایسا نہیں تھا جو زعیم شاہ شیرازی کی اکھڑ مزاجی سے واقف نہیں تھا ۔
اس کا مزاج آسمانوں سے باتیں کرتا تھا ۔اس کے سامنے خواہ معظم علی شاہ ہی کیوں نا ہوں تیوری سے بل جدا نہیں ہوتے تھے مگر یہاں اروماکے لئے اس کے منہ سے پھول جھڑ رہے تھے اور جس طرح وہ دروازے میں ایستادہ اسے بنا پلکیں جھپکے دیکھ رہا تھا،یہ انوکھا انداز تحریم کے مستقبل کے لئے خطرے کی علامت تھا ۔
رات کو ڈنر پر ملتے ہیں ۔ اللہ حافظ ۔ وہ مبہم انداز میں کہہ کر واپس پلٹ گیا ۔
اس کے پتھر دل کی ہر دھڑکن اروما کا نام پردھڑک رہی تھی ۔ زعیم شاہ کے لئے یہ احساس ہی انتہائی خوش کن تھا کہ اس وقت ارومااس کے گھر میں موجود ہے ، جس کو جاگتی آنکھوں سے وہ اس گھر کا مستقل مقین بنانے کے خواب دیکھ رہا تھا ۔
یہ کلر ہمیشہ سے میرا فیورٹ رہا ہے مگر تھارے وجود پر سجنے کے بعد اس رنگ کی خوبصورتی دوگنا ہوگئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔کاش تم اس پل خود کو میری نظروں سے دیکھ سکتی تو خود پر مر مٹتی ۔
اروما کو واٹس ایپ کرتے ہوئے اس کا چہرہ محبت کے دلکش رنگوں سے جگمگا رہا تھا۔
ماما ! میں ابھی آتی ہوں ۔ تحریم عجلت میں کہہ کر زعیم شاہ کے پیچھے بھاگی ۔
شاہ ! کہاں جارہے ہو ۔۔۔۔۔۔ واپس کب آؤگے ؟ وہ تقریباً بھاگتی ہوئی دالان عبور کر کے اس تک پہنچی تھی اگر زرا بھی دیر ہوجاتی تو وہ مردانے میں چلا جاتا پھر تحریم کے ہاتھ نہیں آنا تھا ۔
کیوں ؟ تمھیں مجھ سے کوئی کام ہے ۔۔۔۔؟ وہ بھنویں سکیڑ کر ناگواری سے بولا ۔پیشانی پر لاتعداد شکونوں کا جال بن گیا تھا۔
شاہ ! تم مجھ سے سیدھے منہ بات نہیں کر سکتے،ابھی اندر تو بڑی خوش اخلاقی سے پیش آرہے تھے ۔وہ بگڑ کر بولی ۔
تم لمٹ میں رہاکرو،سمجھی ۔وہ انگلی اٹھا کر غصے سے بولا۔
میں کیا بات کروں تم سے بولو ۔۔۔۔۔۔تمھاری بے تکی باتوں کا کوئی جواب نہیں ہوتا میرے پاس ۔
میں کہاں جاتا ہوں ، کہاں سے آتا ہوں ۔یہ تو میں اپنے باپ کو بھی نہیں بتاتا تم بھی جانتی ہو پھر کیوں بار بار پوچھ کر میرا دماغ خراب کرتی رہتی ہو ۔ وہ آنکھیں نکال کر غرایا ۔
میں تمھاری اپنے لئے اس بیزاری کی وجہ اچھی طرح سمجھ رہی ہوں ۔
تمھیں مجھ سے تو الرجی محسوس ہو تی ہے اور اروماکے سامنے تم چہکنے لگتے ہو۔وہ بھی اپنے نام کی ایک تھی ،جس نے چپ رہنا سیکھا ہی نہیں تھا ۔
سمجھ گئی ہو تو یہ بہت اچھی بات ہے ، میرے لئے بھی اور تمھارے لئے بھی اور اب اپنا منہ بند رکھو ۔میں تمھاری بکواس سننے کے موڈ میں نہیں ہوں ۔ جتنا ہو سکتا ہے اتنا مجھ سے دور رہو ورنہ نقصان اٹھاؤگی ۔وہ تحریم کوجھڑک کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا تیزی سے مردانے میں داخل ہوگیا ۔
تحریم قہر آلود نظروں سے مردانے کے سلائیڈنگ ڈور کو گھور رہی تھی ۔
اروما کا چہرہ زعیم شاہ کا میسیج پڑھنے کے بعد گلال ہوگیا تھا ۔
وہ سر جھکائے ایک بار پھر لفظوں کو پڑھ کر دل میں اتار رہی تھی تبھی تحریم کی واپسی ہوئی ۔ اس کی نظر سیدھی اروما کے کھلتے ہوئے چہرے پر گئی تو اس نے غصے سے مٹھیاں بھینچ لیں ۔ اس کے لئے اروما کی مسکراہٹ ناقابلِ برداشت ہورہی تھی ۔
تحریم کہاں جارہی ہو ؟ یہاں اروما کے پاس بیٹھو نا ، مجھے نماز پڑھنی ہے ۔ رانیہ اسے پکارتی رہ گئیں مگر وہ ان لوگوں کے سامنے سے گزر کر کھٹ کھٹ کرتی اپنے روم میں چلی گئی ۔
کریزی گرل۔اس کے موڈ کا بھی کچھ پتا نہیں ہوتا پل میں بدل جاتا ہے ۔رانیہ شرمندہ سی ہوگئیں ۔
کوئی بات نہیں پھپھو ، ہوسکتا ہے ان کا موڈ نا ہو ۔ویسے بھی کافی دیر سے میرے پاس بیٹھی تھیں ۔ رانیہ نے جھینپ مٹائی ۔
پھپھو ! نینا واپس آرہی ہے ، جازب بھائی بتا رہے تھے ۔
ہاں ، بس کچھ دنوں میں اس کی واپسی ہے ۔ عروش بھابھی اس کی واپسی کی تیاروں میں بزی ہیں ۔ اسی سلسے میں کراچی کے ذیادہ چکر لگ رہے ہیں ۔ برسی کی وجہ سے یہاں آئی ہوئی تھیں ۔رانیہ نے عروش کی غیر موجودگی کی تفصیل بیان کی ۔
نینا کے واپس آجانے سے تو رونق ہوجائے گی ۔ وہ باتیں بھی تو کتنی پیاری کرتی ہے ۔ اروما نے خوش ہوکر کہا ۔
یہ تو ہے ۔ چھٹیوں میں آتی ہے تو گھر میں میلہ سا لگ جاتا ہے ورنہ تحریم اور زعیم شاہ کا تو تمھیں پتا ہی ہے دونوں کتنے موڈی ہیں ، من میں ہو تو بات کی ورنہ تحریم تو ہر وقت روم میں ہی رہتی ہے اور زعیم شاہ گھرمیں شازونادر ہی قدم رکھتا ہے ۔
وہ گھر میں ہوتا ہے تب بھی یا تو مردانے میں یا پھر اپنے کمرے تک ہی محدود رہتا ہے ۔اس گھر کی اصل رونق تو نینا اور سفیان ہیں ۔ رانیہ بولے جارہی تھیں اور اروما کے دل میں زعیم شاہ کے ذکر پر ہلچل سی ہونے لگی ۔
پھپھو ! نینا تو جاب کی وجہ سے کراچی میں ہی رہے گی ؟اروما نے بات بدلی ۔
مکتوم شاہ کہہ رہے تھے کچھ عرصے تک وہ کراچی میں گورنمنٹ جاب کرے گی آتے جاتے ہوئے اپنے ہاسپٹل کو بھی دیکھ لیا کرے گی ۔
ابھی تووہ خود ہاسپٹل کے معاملات دیکھ رہے ہیں بعد میں نینا اور سفیان کو ہی سنبھالنا ہے کم از کم نینا کی شادی ہونے تک ۔رانیہ اسے کمپنی دینے کی غرض سے ڈھیر ساری باتیں کر رہی تھیں تاکہ اسے بوریت محسوس نا ہو ۔ ان کی بیٹی تو انہیں ہر جگہ ذلیل کروانے پر تلی رہتی تھی ۔
جاری ہے