Rate this Novel
Episode 18
(
جس دن کا انتظار لاشعوری طور پر ہر لڑکی کو شدت سے ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی ذندگی کے اس خوبصورت دن کے لئے ہر لڑکی کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی شادی کا دن یادگار بن جائے ۔
نینا کے لئے بھی یادگار تو بن گیا تھا مگر بدقسمتی سے ایک خوشگوار یاد نہیں بن سکا ۔ یادگار بنا بھی تو ایک پچھتاوے کی صورت جس کی چبھن آخری سانس تک محسوس ہونے والی تھی ۔
وہ ڈوبتے دل کے ساتھ ذندگی کے سب سے اہم دن پر چند نامحرم مردوں کے سامنے ایجاب و قبول کررہی تھی ۔ نکاح کی تیاری کے نام پر آنکھوں میں کاجل بھی نہیں تھا ۔ اس نے سونی کلائیوں اور بے رنگ لرزتے ہاتھوں سے نکاح کے کاغذات پر دستخط کرتے ہوئے اس نکاح کو اپنے بھونڈے مذاق کی سزا سمجھ کر تسلیم کیا تھا ۔
نکاح کے بعد مرد حضرات خاموشی سے اٹھ کر چلے گئے ۔ اس خاص موقع پر کمرے میں پھیلی خاموشی اور اپنے اندر اٹھنے والے شور سے نینا کو اس قدر گھبراہٹ ہوئی کہ اس نے زرتار دوپٹہ سر سے کھینچ کر اتار پھینکا ۔ صوفے کی ہتھی پر سر ٹکائے ناجانے کتنا وقت گزر گیا مگر اسے احساس تب ہوا جب میرزوار کے قدموں پر اس کی نظر پڑی ۔
اس نے بے اختیار سر اٹھا کر دیکھا ، وہ دلفریب مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے پرشوق نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔
مجھے گھر جانا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہت دیر ہوگئی ہے ۔ گھر پر سب میرا انتظار کررہے ہونگے ۔وہ اس کی شوخ نظروں کی تاب نا لاسکی اور گھبرا کر بولی ۔
شادی کے بعد لڑکیوں کو صرف اپنے گھر کی فکر کرنی چاہئے ، اپنے شوہر کی ضروریات کا خیال رکھنا چاہئے ۔ میر زوار اس کے برابر بیٹھتا ہوا معنی خیزی سے گویا ہوا پھر اپنا آہنی بازو اس کے کاندھے پر رک کر اپنی طرف کھینچا ۔
یہ کیا بدتمیزی ہے میر زوار ۔۔۔۔۔۔۔چھوڑیں مجھے ورنہ بہت شور مچاؤں گی ۔نیناشاہ اس کی گستاخیوں پر مچل مچل گئ ۔ میرزوار دل کھول کر ہنسا اور نیناکی کمر کے گرد گھیرا مزید تنگ کردیا۔اس کے پرفیوم کی مخصوص مسحورکن مہک نینا کے حواس معطل کرنے لگی ۔
اپنی جائز ، شرعی ،قانونی بیوی پر استحقاق جتانا بدتمیزی کے زمرے میں آتا ہے تو پھر میں بہت بدتمیز ہوں ۔جتنا شور مچا سکتی ہو مچاؤ مگر تمھاری مدد کے لئے کوئی نہیں آئے گا ۔
یہ میرزوار علی کا “کنگڈم “ہے ، یہاں جتنی بھی سماعتیں موجود ہیں صرف میری آواز پر لبیک کہتی ہیں ۔ وہ تفاخر سے کہتے ہوئے اس کے ملیح چہرے پر سجے حسین نین نقش کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے چھو رہا تھا۔
بیوی نہیں منکوحہ بولیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ بھی زبردستی کی جس نکاح میں لڑکی کی مرضی شامل نا ہو وہ نکاح جائز نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ دو نمبر نکاح ہے بلکل آپ کی طرح دو نمبر۔ نینا پیچ وتاب کھاتی اس کی سینے پر زور سے ہاتھ مار کر زہرخند لہجے میں بولی ۔
نکاح کے لئے لڑکی کا پورے ہوش و حواس میں ایجاب و قبول کرنا ضروری ہوتا ہے جو آپ نے پورے دل اور رضامندی سے کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ثبوت کے طور پر ویڈیوز اینڈ اسنیپس ہونی چاہئے تھیں وہ بھی اب میرے پاس محفوظ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب آپ تو کیا کسی کا باپ بھی اس نکاح کو دو نمبر قرار نہیں دے سکتا ۔ میر زوار اس کا گال تھپ تھپا کر جیت کے نشے میں چور مخمور لہجے میں بولا ۔
میں نے نکاح مجبوری میں کیا ہے ۔۔۔۔۔۔آپ نے مجھے ڈرا دھمکا کر اپنی ضد منوائی ہے ۔۔۔۔۔۔یہ نکاح کسی بھی طرح جائز نہیں ہوسکتا ۔ وہ زخمی لہجے میں رخ پھیر کر بولی ۔
ڈاکٹر صاحبہ ! اپنی فلاسفی اپنے پاس رکھو ۔تم جائز ناجائز کی بحث مت کرو ، مجھے میری جیت کا جشن منا لینے دو۔
یہی ہم دونوں کے حق میں بہتر ہے ۔ ذیادہ اکڑو گی تو توڑدوں گا مگر چھوڑوں گا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو کھیل تم میرے ساتھ کھیل چکی ہو شکر کرو اس کے لئے تمھیں ذندہ چھوڑدیا ہے کیونکہ میں نے دنیا بھر کی لڑکیوں کو چھوڑ کر صرف تمھیں چاہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمھیں اپنے دل میں جگہ دی اور تم نے میری پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ تم آستین کا سانپ نکلیں پھر بھی میری غیرت کو یہ گوارہ نہیں ہوا کہ میں تمھیں کسی دوسرے مرد کے لئے چھوڑ دوں ورنہ تم تو واجب القتل ہوچکی تھیں ۔اس کا لہجہ یکدم دہشت ناک ہوگیا ۔میر کی انگلیاں نینا کے بازو میں گڑرہی تھیں ۔
نینا کے منہ سے سسکاری نکلی خوف کی ایک لہر اس کے پورے جسم میں سرائیت کر گئی ۔
جب میں اپنی غلطی مان کراتنی دور پچھتاوے کے ساتھ معافی مانگنے آئی تھی تب تو مجھے بے عزت کر کے گھر سے نکال دیا تھا ۔مجھے اپنی غلطی تسلیم کرنے کا موقع بھی نہیں دیا تھا۔جب سب کچھ ختم ہوگیا تو میرا تماشا بنانے پر تلے ہوئے ہیں ۔ اس سے اچھا ہوتا آپ مجھے مارڈالتے مگر یہ سب نا کرتے ۔
تم اسے غلطی کہتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ غلطی نہیں گناہ تھا۔میر زوار علی کے جذباتوں سے کھیل گئیں اور تم اسے غلطی کہہ رہی ہو۔
خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں ، نین ! اگر تمھاری جگہ کسی اور نے یہ جرأت کی ہوتی تو میں اسے ایسی عبرتناک سزا دیتا کہ زمانہ دیکھتا ۔
وہ اندر تک سلگ اٹھا ۔
ایک ہفتے بعد میری شادی ہے ۔۔۔۔۔۔اب میں سب کو کیا منہ دکھاؤں گی ۔ باباسائیں کو کیسے بتاؤں گی کہ میں یہ شادی نہیں کر سکتی ۔
وہ مجھے مار دیں گے یا پھر خود مرجائیں گے ۔
اف میرے اللہ ! مجھے کس عذاب میں مبتلا کر دیا ہے ۔ وہ میر زوار کے سینے پر سر رکھ کر بلک بلک کر رونے لگی ۔
میری غلطی کی سزا میرے پورے خاندان کیوں دی ۔
تم جیسی اوور کانفیڈینٹ ،اوور وائیز لڑکیوں کے کئے کی سزا اکثر ان کے پورے خاندان کو بھگتنی پڑتی ہے ۔
اب چپ ہوجاؤ ، جو ہونا تھا ہوچکا ۔
میرے ہوتےہوئےتمھیں کچھ سوچنے کی ضرورت نہیں ہے ، میں سب سنبھال لوں گا ۔ شادی کیسے رکوانی ہے ، یہ میرے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ میر زوار نے اس کی پشت سہلا کر تسلی دی۔
نینا کا دل کٹ کر رہ گیا ۔ وہ میر سے الگ ہوتے ہوئے اپنی آنکھیں مسل رہی تھی ۔
میرا مقصد صرف تمھیں اپنا بنانا تھا ، جس میں کامیاب ہوچکا ہوں ۔ تمھاری قربت کی فی الحال مجھے کوئی طلب نہیں اس لئے اب تم جاسکتی ہو۔ ڈرائیور تمھیں گھر ڈراپ کر دے گا ۔ وہ ایک جھٹکے سے اسے چھوڑ کر دو قدم پیچھے ہٹ کر سنجیدگی سے بولا پھر پوری شان سے صوفے پر براجمان ہو گیا ۔شرارتی دلکش ڈارک براؤن آنکھیں اب بھی نیناپر ہی جمی تھیں ۔
نینا نے اس کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھا ۔اس کے بوجھل قدم دروازے کی سمت بڑھ رہے تھے جب میر زوار کی آواز اس کے کانوں میں پڑی ۔وہ ٹھٹک کر رک گئی۔
بات سنو ! آج کے بعد مجھے اس حلیے میں نظر مت آنا ورنہ اپنے ہاتھوں سے تم پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگادوں گا ۔
وہ صوفے پر بیٹھا دونوں ہاتھ صوفے کی پشت پر پھیلائے اسے سر تاپاناگوارنظروں سے دیکھ رہا تھا۔اس نے سگریٹ سلگا کر اپنےازلی سرد لہجےمیں وارننگ دی۔
نینا ٹخنوں سے اونچی بلیک جینز ، شارٹ رسٹ کلر ٹاپ میں ملبوس تھی ۔ اس کا قیامت خیز سراپا میر کو سرور تو بخش رہا تھا مگر بیڈروم کی حد تک ،بیڈروم سے باہر نینا کا عریاں لباس میں گھومنا اس کے لئےناقابلِ برداشت تھا ۔ نینا نے پلٹ کر خونخوار نظروں سے اسے دیکھا پھر جارحانہ تیور لئے لب کشائی کی ۔
میر زوار ! اپنی دھونس مجھ پر جمانے کی کوشش مت کرنا ۔ میں اپنے باپ کے گھر میں رہتی ہوں اور ان کی پرمیشن ہے کہ میں جیسی چاہوں ڈریسنگ کروں ۔۔۔۔۔۔۔تم جیسے سوکالڈ ہزبینڈ کی اتنی اوقات نہیں کہ وہ مجھ پر زبردستی اپنا حکم چلائے ۔وہ بلند آواز میں تڑخ کر بولی ۔
اس کے انگلی اٹھا کر تنبیہہ کرنے پر میر زوار کا خوبصورت بھرپور قہقہہ کمرے کی خاموش فضا میں گونج اٹھا ۔نینا غصے سے سر جھٹک کر پیر پٹختی ہوئی چلی گئی ۔
یہاں سے تمھاری سزا کا سلسلہ شروع ہوتا ہے ۔ میرزوار نے گہرا کش لے کر دل میں سوچا ۔ اس کےپر جلال چہرے پر سفاک مسکراہٹ پھیل گئی ۔
“”””””””””””””””””””
تم دونوں ایسی کونسی شاپنگ کرنے گئیں تھیں جو اب واپس آئی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔دس فون کئے تمھیں کال اٹینڈ کیوں نہیں کررہی تھیں ۔ عروش نینا کو سامنے پاکر برس پڑیں ۔
شاپنگ ؟ نینا غائب دماغی سے بولی ۔
اروما نے بتایا تھا فون پر کہ تم اس کے ساتھ شاپنگ کے لئے آئی ہو ۔ عروش خاصی جھنجلائی ہوئی تھیں ۔
اوہ ، ہاں۔ہم شاپنگ پر گئے تھے پھر ڈنر بھی کیا تو لیٹ ہوگئے۔ وہی مجھے گھر ڈراپ کرنے آئی تھی ۔ نینا نے سنبھل کر بات بنائی ۔
تمھیں کچھ خبر بھی ہے ہم سب کتنے پریشان ہیں ؟ عروش بے چینی سے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے بولیں ۔
کک کیوں ؟ کیوں پریشان ہیں ۔ (کہیں سب کو پتا تو نہیں چل گیا ) نینا خفیف سا بولی ۔
سنان شاہ صبح آفس جانے کے لئے گھر سے نکلا تھا مگر آفس نہیں پہنچا ۔ اب تک اس کی کوئی خبر نہیں ہے ، اس کا فون بھی بند ہے۔عروش کی اطلاع پر نینا کا سانس جہاں کا تہاں رہ گیا ۔ اسے سو فیصد یقین ہوگیا کہ یہ حرکت میر سوار نے کی ہے ۔ سنان کی گمشدگی کے پیچھے اس کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا ۔
پولیس میں رپورٹ کی ہے ؟ نینا کی پژمردہ آواز ابھری ۔
ہاں کردی ہے ۔ تمھارے بابا سائیں اور بھائی نے بھی بہت کوشش کی ہے لیکن اس کا کچھ پتا نہیں چل رہا ۔ نین ! میرا تو دل بیٹھا جارہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ جانے کیا ہونے والا ہے ۔ عروش گلوگیر لہجے میں بولیں ۔
وہ مل جائے گا ۔ آپ پریشان مت ہوں ۔ آپ کی آنٹی سے بات ہوئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟
انہوں نے ہی مجھے سنان شاہ کے گمشدہ ہونے کی خبر دی تھی ۔بے چاری بہت رورہی تھیں ۔ مجھے تو یہ فکر کھائے جارہی ہے کہ کہیں ان کے دل میں یہ خیال نا آجائے کہ تم سے رشتہ جوڑنے کے بعد ان کے بیٹے پر مصیبت آئی ہے ۔ عروش نے خدشہ ظاہر کیا ۔
اماں ! وہ ایسا کیوں سوچیں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی میری اس سے شادی نہیں ہوئی ہے ۔ آپ اتنا کچھ کیوں سوچ لیتیں ہیں ۔ نینا جھنجلا کر بولی ۔
لوگوں کو تم نہیں جانتی ، یہ سب سے پہلے وہم کرتے ہیں ۔مائیں تو اپنے بیٹوں کے لئے ایسے وہم پالنے میں لمحہ نہیں لگاتیں ۔ مسز حمید کی ایک دو باتوں سے ہی مجھے اندازہ ہوا ہے ۔
لوگوں کی اتنی پرواہ نہیں کرنی چاہئے ۔ ان کا تو کام ہی بولنا ہوتا ہے ۔ انہیں پرواہ نہیں ہوتی کسی کے دل پر کیا گزرے گی اس لئے ہمیں بھی کسی کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے ۔ ( سچ تو ہے میری وجہ سے سنان مشکل میں پھنسا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔اگر موردِ الزام مجھے ٹہرایا جائے تو کچھ غلط نہیں ہوگا ۔) نینا نے آذردگی سے دل میں سوچا ۔
اسے سنان کے لئے دکھ ہورہا تھا ، اس کی سنان سے وابستگی نا سہی مگر وہ بے قصور تھا اور نینا کو میرزوار سے انسانیت یا زرہ برابر رعایت کی امید نہیں تھی ۔
“””””””””””””””””””
آخرتم اتنی کوششوں کے باوجود بھی ایک بندے کا پتا نہیں لگا سکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کرسی پر کیا جھک مارنے کے لئے بیٹھے ہو ؟ زعیم شاہ برہمی سے بولا ۔
شاہ صاحب ! ایسی بات نہیں ہے ، اغوا کاروں نے احتیاط برتنے میں حد کردی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم بلکل بے بس ہوگئے ہیں ۔ پولیس کے اعلیٰ عہدے پر فائز آفیسر اس وقت شیرازی ہاؤس کے ڈرائینگ روم میں بیٹھا شرمندگی سے بولا ۔
ہم کسی بھی طرح ان تک نہیں پہنچ پارہے لیکن ایک بات تو کلئیرہوچکی ہے یہ اغوا برائے تاوان کا کیس نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس اغوا کے پیچھے وجہ دشمنی ہو سکتی ہے ۔ جائے وقوعہ سے گاڑی اور گاڑی میں موجود نقدی ، موبائل فون دیگر قیمتی اشیاء کو ہاتھ بھی نہیں لگایا گیا ہے ۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا مقصد صرف سنان شاہ کا اغوا تھا ۔
آفیسر تفصیلاً بولا ۔
اس کا مطلب ہے آپ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہیں گے ؟ اس بار معظم شاہ نے رعب دار آواز میں کہا ۔
ایسا نہیں ہے ، ہم ابھی بھی مایوس نہیں ہیں ۔ حمید صاحب کے گھر کی نگرانی کی جارہی ہے اگر کوئی مشکوک آدمی پایا گیا یا کوئی چھوٹا سا بھی کلیو ملا تو ہم سنان شاہ کو بازیاب کروانے میں دیر نہیں کریں گے ۔ وقت ضائع کئیے بغیر کاروائی کی جائے گی ۔ آفیسر کا پراعتماد لہجہ بھی معظم شاہ کو مطمئین نہیں کرسکا ۔
شاہ ! تم ذاتی طور پر بھی کوشش جاری رکھو ۔ مجھے ان لوگوں کی طریقہ کار پر کوئی بھروسہ نہیں ہے ۔ شادی کی ڈیٹ سے پہلے ہر حال میں سنان کو یہاں ہونا چاہئے ۔ معظم نے شاہ آفیسر کو نظر انداز کرتے ہوئے حکمیہ کہا ۔
“”””””””””””””””””
سنان کرسی پر بندھا، بھوک اور پیاس سے نڈھال نیم بے ہوشی کی حالت میں تھا ۔ میر زوار نے بھاری ہاتھ سے اس کا گال تھپ تھپایا ۔
سنان نے زرا سی آنکھیں کھول کر اسے دیکھا مگر پھر نقاہت سے اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں ۔ ساجد نے میر کے اشارے پر ٹھنڈے پانی کی بوٹل اس پر انڈھیل دی ۔
وہ ہڑبڑا کر آنکھیں کھولے پلکیں جھپک جھپک کر میر زوار کو پہچاننے کی کوشش کرنے لگا ۔
شہزادے ! مجھے پہچاننے کی کوشش کررہے ہو ؟ یار ! اب ایسی بھی کیا ناراضگی کہ تم نے اپنی یہ حالت بنا لی ہے ۔۔۔۔۔۔ تمھیں اس حالت میں دیکھ کر میرا دل دکھ سے پھٹا جارہا ہے ۔ میرزوار نے مصنوئی تاسف سے سر ہلایا حالانکہ اسی کی ایما پر دو دن سے سنان کو بھوکا رکھا گیا تھا ۔
مجھ سے تمھاری کیا دشمنی ہے ۔ مجھے کیوں اٹھوایا ہے ۔ میرا تمھارا تو کوئی واسطہ نہیں ہے ۔ سنان کی آواز کمزور مگر لہجہ کھردرا تھا ۔
ارے یار ! بہت گہرا تعلق ہے اسی لئے تو تمھیں اٹھوانے کی زحمت کی ہے ۔ تم سمجھنے کی کوشش تو کرو ۔ میرزوار بے حد خوشگوار موڈ میں بولا ۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے یاد نہیں کہ میری تم سے باقاعدہ ملاقات بھی ہوئی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پہلیاں مت بجھاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صاف صاف بتاؤ مجھ سے کیا چاہتے ہو ۔ سنان کا انداز سرد مہری لئے ہوئے تھا ۔
صاف صاف سننا چاہتے ہو تو سنو ۔تم نے میری معشوقہ ، میری منکوحہ سے رشتہ جوڑنے کی نا معقول حرکت کی ہے ۔ اب تم ہی بتاؤ میں اپنی منکوحہ سے تمھاری شادی کیسےہونے دیتا ؟ تمھیں منظر سے غائب کرنا تو لازمی تھا ۔ میر زوار نے سگریٹ سلگاتے ہوئے اس کے سر پر دھماکہ کیا ۔
یہ کیا بکواس ہے ۔ تم جھوٹ بول رہے ہو اگر وہ تمھاری منکوحہ ہوتی تو مجھ سے شادی کے لئے رضامند کیوں ہوتی ؟ سنان شاہ اس کے انکشاف پر چکرا گیا تھا ۔
ان سوالوں کے جواب تو تمھیں وہی دے سکتی ہے مگر افسوس اب تم کبھی اس سے نہیں مل سکوگے ۔
وہ صرف میری ہے اس لئے تم پر اپنا قیمتی وقت ضائع کررہا ہوں ۔ تمھیں ذندہ نہیں چھوڑ سکتا اسے میری مجبوری سمجھ کر مجھے معاف کردینا کیونکہ تمھاری موت میری شادی شدہ شدہ ذندگی کے لئے بہت ضروری ہے ۔
اس میں قصور تمھارا بھی ہے ۔ تمھیں بھی پورا زمانہ چھوڑ کر شادی کرنے کے لئے وہی گھر ملا تھا جہاں میری گوٹ پھنسی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب یہ تو ناممکن ہے جس چیز پر میر زوار کی نظر ہو اسے کوئی اور لے اڑے ۔
وہ چیز بھی میری دسترس سے ذیادہ دیر تک دور نہیں رہتی نینا تو پھر بھی جیتی جاگتی حقیقت ہے بھلا اس سے میں کس طرح دستبردار ہوسکتا ہوں ۔ میر زوار شانے اچکاتے ہوئے کھڑا ہوگیا ۔
ساجد سائیں ! صاحب کو صبح ہونے سے قبل ٹھکانے لگادو ۔ اس نے کش لے کر سفاکی سے کہا اور باہر جانے کے لئے قدم بڑھائے ۔
میرزوار ! میری بات سنو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سنان حق دق اسے سن رہا تھا گھبرا کر بلند آواز میں چلایا ۔
میں نے تمھارا کیا بگاڑا ہے ۔ خدا کے لئے مجھے چھوڑ دو ۔میں تم دونوں کے بیچ نہیں آؤں گا ۔
اس شادی سے انکار کردوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرا یقین کرو میں خود یہ رشتہ توڑ دوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ تمھارا نام بھی سامنے نہیں آئے گا ۔
پلیز! مجھے مت مارو ۔ سنان ہزیانی انداز میں چیختا چلاتا رہا مگر میر زوار سنی ان سنی کرتا ہوا چلا گیا ۔
جاری ہے
