60.7K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 36

وہ بیڈ پر رکھے سفری بیگ میں کپڑے سیٹ کررہی تھی ۔ زعیم شاہ دبے قدموں آیا اور اس کے شانے پر پڑے دوپٹے کا پلو اٹھا کر اس کے سر پر رکھ کر سرگوشی میں بولا ۔
نیند والی گرل ہنی مون پر جارہی ہو ؟
آپ کے ساتھ ہی تو جارہی ہوں ۔ وہ چونک کر پلٹی اور ہونقوں کی طرح اسے دیکھنے لگی ۔ شاہ اس کی ہونق شکل دیکھ کر بے اختیار ہنس پڑا ۔
تم ہنی مون پر جا کر کیا کرو گی ؟ وہاں پہنچ کر بھی سوئی رہوگی ۔
میں تو بہت بور ہونے والا ہوں ۔ وہ مسلسل اسے زچ کررہا تھا ۔ ولیمے کے بعد سے جتنی بار بھی وہ اسے تلاشتا، اروما کہیں نا کہیں سوئی ہوئی ملتی ۔ اتنی نیند تو اسے شادی سے پہلے بھی نہیں آتی تھی مگر اب تو اس نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دئیے تھے اور زعیم شاہ اسے تنگ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ۔
پچھلے کچھ دنوں شادی کی تھکن تھی اس لئے فارغ وقت میں سوجاتی تھی مگر اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ آپ نیند کو میری چڑ ہی بنالیں ۔ وہ خفگی سے کہہ کر رخ مڑ گئی ۔
اوہ گاڈ ! آپ ناراض بھی ہوتی ہیں مگر آپ کو منانا تو بے حد آسان ہے ۔ اس نے رومی کو بازو سے پکڑ کر رخ اپنی جانب کیا اور ایک بھرپور گستاخی کر ڈالی ۔ اروما نے محجوب ہوکر چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپالیا ۔ وہ اس کے گلنار چہرے کو اپنی چاہت سے مذید رونقیں بخش گیا۔
خیر میں تمھیں یہ بتانے آیا تھا کہ ہمارے ہنی مون کا آغاز آج اور ابھی سے ہونے والا ہے ۔ وہ معنی خیزی سے بولا ۔
ہماری فلائیٹ تو کل رات کی ہے اور تب تک آپ مجھے بلکل تنگ نہیں کریں گے ۔ وہ بدک کر دور ہوئی ۔ شاہ نے بھرپور قہقہہ پگایا ۔
فلائیٹ کل ہے مگر آج میں تمھیں ایک اور سرپرائز دینے والا ہوں ۔ فٹافٹ ریڈی ہوجاؤ ۔ ہمیں ابھی نکلنا ہے ۔ وہ بیڈ پر ٹانگیں پسار کر لیٹ گیا ۔
“”””””””””””””””
آپ مجھے بتا تو دیتے ہم کہاں جارہے ہیں ۔۔۔۔۔۔ خالہ جان کے سامنے بھی شرمندگی ہورہی تھی ، انہوں نے پوچھا تو میں انہیں کیا بتاتی جب مجھے خود ہی نہیں معلوم تھا ۔ وہ خاصی جھنجلائی ہوئی تھی ۔
اتنی بھی کیا بے صبری ہے ۔ میرے ساتھ ہو ریلیکس رہو ۔ تھوڑی دیر میں پتا چل جائے گا کہاں جارہے ہیں ۔ وہ اپنی نیو سگنس مین روڈ پر ڈال چکا تھا ۔ ونڈ اسکرین پر نظر جمائے سنجیدگی سے بولا ۔
اس نے پورٹ پر پہنچ کر گاڑی پارک کی پھر نیچے اترا اور اروما کا ہاتھ تھام کر اسے اترنے میں مدد دی ۔
یاٹ پر پہلا قدم رکھتے ہی اروما کی خوشی کی انتہا نہ رہی ۔ یہ جدید لکژی یاٹ تھی ۔ شاہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں دبائے ٹیرس پر لے آیا ۔
اتنا کچھ پلان کرلیتے ہیں اور مجھے بتاتے بھی نہیں ہے ۔ ویسے آپ نے مجھے اس یاٹ کے بارے میں پہلے تو نہیں بتایا ۔
یہ شادی سے کچھ دن پہلے ہی لی تھی ۔ مصروفیت کی وجہ سے بتانا بھول گیا ۔ ایک دو بار ہی دوستوں کے ساتھ یہاں آیا ہوں ۔
اچھا یہ بتاؤ سرپرائز کیسا لگا ۔۔۔۔۔۔وہ ریلنگ پر ہاتھ جماکر اس پر جھکا ۔
دو پیار کرنے والوں کا ہنی مون چھوٹے سے روم میں بھی یادگار بن سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔یہ تو پھر بھی بہت شاندار جگہ ہے ۔ وہ رخ پھیر متبسم لہجے میں بولی ۔ سمندر کی ہوائیں اس کے چہرے سے ٹکرا رہی تھیں ۔ ریشمی دراز کھلی زلفیں اڑ اڑ کر شاہ کے چہرے کو سلامی دینے لگیں ۔
واہ جناب ! اتنی رومینٹک باتیں کس نے سکھائی ہیں ؟ شاہ اس کے بلا جھجک کہنے پر حیران ہوا ۔
ایک بے انتہا رومینٹک شخص کے ساتھ کا کچھ تو اثر ہونا تھا ۔ وہ کھلکھلا کر ہنسی ۔
تو پھر کیا خیال ہے اس ساتھ کو تھوڑا اور رومینٹک بنادیتے ہیں ۔ شاہ نے بالوں میں ہاتھ پھیر کر اس کا ہاتھ پکڑا اور یاٹ میں موجود عالیشان روم میں لے آیا ۔ قیمتی فرنیچر سے سجا روم اپنے آپ میں بے مثال تھا ۔
یاٹ سمندر کی سطح پر تیزی سے سفر طے کررہی تھی اور ان دونوں کے ہنی مون کے سفر کا آغاز زعیم شاہ نے یادگار انداز میں کیا تھا ۔
“””””””””””””””
وہ دونوں پچھلے ایک ماہ سے اٹلی میں قیام پزیر تھے ۔ ان دونوں نے اس ایک مہینے میں پوری ذندگی جی لی تھی ۔ میرزوار نے ہر پل کو یادگار بنانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی تھی ۔
نینا ٹریوی فاؤنٹین کے خوبصورت نظارے پر نگاہیں جمائے سوچ میں گم تھی اس کی آنکھوں میں بے پناہ رنگ موجزن تھے اور میر زوار اس کے بے حد نذدیک بیٹھا فاؤنٹین کے دلفریب منظر سے نظریں چرائے نینا کے حسین چہرے کے دلکش نقوش کو انہماک سے دیکھنے میں مگن تھا ۔
دو دن سے نینا کی طبیعت ناساز تھی ۔ڈاکٹر نے اسے نینا کے پریگننٹ ہونے کی نوید سنائی اور وہ خوشی سے نہال ہی تو ہوگیا تھا پھر کمپلیٹ چیک اپ اور کچھ ضروری ٹیسٹ کروانے کے بعد اسے یہاں لے آیا ۔
وہ بلکل تمھارے جیسا ہوگا ۔۔۔۔۔۔؟ میر نے مخمور نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے بے خودی سے کہا ۔
کون ؟
یار ! ہمارا بے بی ۔
توبہ پاگل ہیں آپ ۔۔۔۔۔وہ بری طرح جھینپ گئی ۔
مادام ! مجھے انیس بیس کا فرق بھی نہیں چاہئے ۔ وہ باز آنے والوں میں سے کہاں تھا یکدم اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر اپنی طرف کھینچتے ہوئے بولا ۔
اف ۔ کہیں تو خیال کیا کریں ۔ نینا سٹپٹا کر ادھر ادھر دیکھنے لگی پھر بولی ۔
کبھی کبھی آپ مجھے تھوڑے سے نہیں بلکہ پورے پاگل لگتے ہیں بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی ۔۔۔۔۔۔وہ میرے جیسے ہوگا یا نہیں یہ میں کیسے کرسکتی ہوں ؟ اللہ کی مرضی ہوگی میرے بس میں تو نہیں ہے ۔ نینا کو اس کی دماغی حالت پر شبہ ہوا ۔
یار ! تم دعا ما نگو ناں ۔ میں چاہتا ہوں وہ بلکل تمھارے جیسا ہو تاکہ میں اس کو بھی دیکھوں یا پیار کروں تو اس میں بھی صرف تم نظر آؤ ۔ میرزوار نے اس کے شولڈر پر بکھری زلفوں کو پکڑ کر اپنے چہرے پر سایہ کیا ۔
ہونہہ ۔۔۔پاگل عاشق ۔ وہ کھلکھلا کر ہنسی ۔
سوہنا سائیں ! اڑا لو مذاق مگر میں تو پوری طرح تمھارے پیار میں پاگل ہوں ۔ وہ بے اختیار اس کے رخسار پر جھکا ۔
مگر میں اتنی پاگل نہیں ہوں جو سرعام آپ کو کھلی چھٹی دے دوں ۔فار گاڈ سیک زرا دور رہ کر بات کریں ۔ وہ بگڑ کر دور ہوئی ۔
مگر میں تو فی الحال چھٹیوں پر ہوں اور اپنی چھٹیوں سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتا ہوں۔ وہ کسی طور بھی سنجیدہ ہوتا نظر نہیں آرہا تھا ۔
تم بہت پیاری ہو نین تم نے میری ذندگی کو مکمل کردیا ، تم سے پہلے مجھے اس میں کوئی کشش محسوس نہیں ہوتی تھی ۔ وہ خمار آلود لہجے میں بولا ۔
اماں اور بابا کے گزر جانے کے بعد جو خالی پن اور تنہائی میں نے سہی ہے ، تمھارے آنے سے ان تمام دنوں کی تلخ یادیں بھی اب مٹتی جارہی ہیں ۔ میرزوار کے لفظوں سمیت لہجے میں بھی
اس کے لئے پیار ہی پیار تھا ۔
نینا ایک ہاتھ گال پر رکھے پوری توجہ سے اسے سن رہی تھی ۔
اس ایک مہینے میں میرزوار نے اسے اتنی چاہت اور توجہ سے نوازا تھا کہ وہ خود کو دنیا کی خوش قسمت ترین لڑکی سمجھنے لگی تھی ۔ میر کے دئیے گئے زخم بھی اس کی بھرپور محبت ملنے سے مندمل ہوتے جارہے تھے ۔
“”””””””””””””””
شاہ نے کال ڈسکنیکٹ کرنے کے بعد پہلو میں بے خبر سوئی ہوئی اروما کے چہرے پر بکھری زلفوں کو نرمی سے سمیٹا ۔
اٹھ جاؤ رومی صبح ہوگئی ہے اور ہمیں پاکستان کے لئے فلائیٹ لینی ہے ۔
اروما نے سوئی جاگی کیفیت میں اس کی کہی بات پر توجہ دی اور مفہوم سمجھتے ہی پٹ سے آنکھیں کھول دیں ۔
کل رات تک تو ایسا کوئی پروگرام نہیں تھا پھر اچانک پاکستان کیوں جانا ہے ؟ اروما نے استہفامیہ نظروں سے دیکھا ۔
شاہ اس سے دو انچ کے فاصلے پر تکیے پر سر رکھے کروٹ کے بل لیٹا تھا ۔
میرا خیال ہے اب ہمیں واپس چلنا چاہئے ۔ سب کچھ ملازموں پر چھوڑنا بھی ٹھیک نہیں ہے ۔ وہ سنجیدگی سے کہہ کر اٹھ گیا اور نائٹ ڈریس کی شرٹ پہننے لگا ۔
لیکن ابھی تو ہمیں یہاں آئے ہوئے دس دن بھی نہیں ہوئے ہیں ۔ وہ منہ بسور کر بولی ۔
کیوں بحث کررہی ہو ؟ جب کہہ دیا ہم آج ہی واپس جارہے ہیں تو سمجھتی کیوں نہیں ۔ وہ یکدم بگڑ کر بولا اور تیزی سے بیڈ سے اٹھ کر واش روم کی طرف بڑھا ۔ اروما اس کے پیچھے بھاگی اور اس کی راہ میں حائل ہوگئی ۔
آپ ضرورمجھ سے کچھ چھپارہے ہیں ورنہ اتنی جلدی واپس جانے کی بات کبھی نہیں کرتے ۔ کل ہی تو آپ نے کہا تھا کہ واپس جانے کا کوئی موڈ نہیں ہے اب اچانک یہ فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں ۔پلیز! بتائیں کیا بات ہے ؟ میرا دل بیٹھا جارہا ہے ۔
پہلے پرامس کرو تم بلکل بھی پریشان نہیں ہوگی اور ہمت سے
کام لوگی ۔ شاہ نے اس کے سامنے چوڑی ہتھیلی پھیلائی ۔
شاہ ! ایسی کیا بات ہے ؟ وہ روہانسی ہوگئی ۔
تحریم کی ڈیٹھ ہوگئی ہے اس لئے ہمیں نیکسٹ فلائیٹ سے واپس جانا ہوگا ۔ وہ مدہم آواز میں کہتا ہوا نذدیک آگیا ۔
اللہ تحریم آپی مر نہیں سکتیں ۔۔۔۔۔۔۔ یہ کیا ہوگیا شاہ مجھے تو پوری امید تھی وہ بہت جلد ٹھیک ہوجائیں گی ۔ وہ شاہ کے سینے سے لگ کر بلک بلک کر رونے لگی ۔
اللہ کو یہی منظور تھا ۔ اس کی اتنی ہی ذندگی تھی اور وہ جس تکلیف سے گزر رہی تھی کہ نہ ذندوں میں رہی تھی اور نہ مردوں میں ، اس طرح اس کو تکلیف سے نجات مل گئی ۔ اب تم رو مت اس کے لئے دعا کرو ۔ وہ اس کا سر سہلا رہا تھا ۔
پھپھو کا بہت برا حال ہوگا ، وہ یہ صدمہ کیسے برداشت کریں گی ۔ مجھے ان کی بہت فکر ہورہی ہے ۔
اللہ بہت بڑا ہے ، وہی صبر دے گا ۔ تم جلدی سے پیکنگ کرلو دو گھنٹے بعد ہماری فلائیٹ ہے ۔
“””””””””””””
آپ کے مزید دو کیسز ری اوپن کئے گئے ہیں ۔ اس بار ضمانت بہت مشکل ہے ۔ اب یہ بتائیں کرنا کیا ہے ؟
سب کے منہ بند کرنے ہیں اور کیا کرنا ہے ۔ ساجد کی آواز پر اس نے چونک کر دیکھا پھر شیو پر ہاتھ پھیر کر پرسوچ انداز میں بولا ۔
وہ بند ہوجائیں گے ۔ وکیل صاحب میٹنگ کرنا چاہتے ہیں کل صبح دس بجے کا ٹائم دے دوں ؟
جان چھوڑو یار ، سب سے مل لوں گا ۔ دیکھ رہے ہو تھکا ہوا ہوں ۔ کل بات کریں گے ۔ وہ سوئم کی رسومات سے فارغ ہونے کے بعد اب تک مہمانوں کے بیچ پھنسا تھا ، خدا خدا کر کے ان سے فارغ ہونے کے بعد گھر آیا تھا انتہائی بیزاری سے گویا ہوا اور صوفے پر دور تک ٹانگیں پھیلا دیں ۔
پریزیڈنٹ ہاؤس سے سمری جاری ہوچکی ہے ، دو دن بعداسمبلی کا اجلاس ہے اور اس کے اگلے دن آپ کی کورٹ میں پیشی ہے ۔
وکیلوں سے ملاقات بہت ضروری ہے ۔
ہاں تو کرلیں گے ملاقات بھی میں نے کب منع کیا ہے لیکن پہلے یہاں سے تو جان چھوٹ جائے ۔
یہاں کا کام تقریباً مکمل ہوگیا ہے میرے خیال سے کل سویرے ہی آپ کو شہر کے لئے روانہ ہوجائے چاہئے ۔ وقت کم ہے ۔
تم پتا کرو ججز کون ہیں اور ان کی رپورٹ کیسی ہے ۔ کل تک یہ کام ہوجانا چاہئے ۔ اس کی پیشانی پر بل پڑتے جارہے تھے ، چہرے پر تفکر کی لہر بھی واضح تھی ۔
وہ کل ہی اٹلی سے سات گھنٹے کی طویل فلائیٹ لے کر پاکستان اور پھر گاؤں پہنچا تھا ۔ اسےتحریم کی تدفین میں طوہاً کرہاً شامل ہونا ہی پڑا تھا وہ بھی صرف نینا کے خاطر جس نے تحریم کی موت کی اطلاع ملتے ہی واپسی کے لئے رونا دھونا مچا دیا تھا یوں مجبوراً اسے ہنی مون تباہ کرکے آنا پڑا اور یہاں پہنچ کر دو اور کیسز ری اوپن ہونے کی خبر نے اسے حد سے ذیادہ طیش دلایا تھا ۔ اسے اس طرح کی رپورٹس تو وہاں بھی مل رہی تھیں مگر وہ نان اویلیبل وارنٹ جاری ہونے تک ہنی مون انجوائے کرنا چاہتا تھا ۔تحریم کی موت کی خبر نے اس کا موڈ بے حد خراب کیا تھا ۔
اچھا ٹھیک ہے اب تم جیسا سمجھو ویسا ہی کرو ، میں روم میں جارہا ہوں اور یاد رہے کل صبح دس بجے نکلنا ہے ۔ وہ حکمیہ کہہ کر روم کی طرف جانے والی سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا ۔
وہ لاک گھما کر اندر داخل ہوا تو سامنے ہی نینا ٹشو بوکس سے ٹشو نکال کر ہاتھ صاف کررہی تھی اس پر نظر پڑھتے ہی وہ جاندار مسکراہٹ لئے اندر داخل ہوا ۔
آج بھائی بتارہے تھے کہ آپ کے دو انتہائی حساس کیسز ری اوپن کئے گئے ہیں ۔ کیا یہ سچ ہے زار آپ اریسٹ بھی ہوسکتے ہیں ؟وہ میر زوار کے کمرے میں داخل ہوتے ہی بے تابی سےاس کے پاس آئی ۔
ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ میر زوار نے محبت سے اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر ہنکارہ بھرا ۔
ایسا مت بولیں پلیز ۔ میں مر جاؤں گی ۔ وہ جی جان سے لرز کر اس سے لپٹ گئی ۔
حقیقت کا سامنا تو کرنا ہوگا نین تم تو بہت بریو ہو ، شیرنی ہو اس لئے تو تم سے محبت کی تھی ۔ ابھی تو بہت کچھ دیکھنا باقی ہے ، تم اتنی جلدی نہیں ٹوٹ سکتی ۔ وہ نرمی سے اسے خود سے لگاتے ہوئے بولا ۔
نہیں ، میں اتنی بھی بہادر نہیں ہوں ۔ آپ نے مجھے کیا سمجھ لیا ہے ۔ میں آپ سے دور نہیں رہ سکتی ۔ وہ بلک بلک کر روتے ہوئے سر اٹھا کر بولی ۔
سوہنا سائیں ! میں تمھیں اندھیرے میں نہیں رکھ سکتا ، آج نہیں تو کل میری گرفتاری یقینی ہے اس کے لئے تمھیں ابھی سے خود کو تیار کرنا ہوگا اور بات صرف یہاں ختم نہیں ہوجاتی اگر کوئی پھندا میری طرف لہرایا تو وہ پھانسی کے پھندے میں بھی تبدیل ہوسکتا ہے ۔ وہ اسے خود میں سمیٹے آنے والے وقت کے لئے ذہنی طور پر تیار کرنے کی کوشش کررہا تھا ۔ نینا نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھا ۔
آپ مجھے قسط وار ہلاک کیوں کررہے ہیں ایک ہی بار ماردیں تاکہ میں آپ کا غم سہنے کے لئے اس دنیا میں نہ رہوں ۔ میں یہ اذیت برداشت نہیں کرسکتی ۔ وہ پژمردگی سے کہتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رودی۔
بچوں جیسی باتیں مت کرو نین سائیں حالات سے مقابلہ کرنا سیکھو ۔ ان حالات سے لڑوگی تبھی کامیاب رہوگی ۔ اگر میں نہ رہوں تو آگے چل کر تمھیں ہی میری جگہ سنبھالنی ہے ۔
تم جانتی ہو میرے آگے پیچھے کوئی نہیں ہے اور میرے بچے کو اس قابل ہونے میں بہت وقت درکار ہے ۔ میں نے تم جیسی بولڈ اینڈ کانفیڈینٹ لڑکی کو اپنا ساتھی بنانے کے لئے اسی لئے چنا تھا تاکہ وہ ہر مشکل میں میرے ساتھ ڈٹ کر کھڑی رہے مگر تم تو مجھے مایوس کررہی ہو ابھی سے خود کو رو رو کر ہلکان کرلیا اگر واقعی میرے ڈیتھ وارنٹ جاری ہوگئے تو تمھارا کیا ہوگا ؟ مجھے تو اب تمھاری فکر ہورہی ہے ۔ وہ حقیقتاً فکرمند ہوا ۔
آپ کی انہی باتوں سے تو مجھے ڈر لگ رہا ہے ، آپ سوچ بھی نہیں سکتے آپ کی یہ باتیں مجھے کتنی تکلیف پہنچارہی ہیں زار آپ کچھ کرتے کیوں نہیں ؟ آپ کے تعلقات کب کام آئیں گے ؟
کوشش تو کررہا ہوں ، سب ہورہا ہے باقی اللہ کی مرضی ہے سب کچھ اس پر چھوڑ کر مطمئین ہوجاؤ اور یہ بتاؤ تم نے ہمارے بے بی کے لئے اچھے اچھے نام سوچ لئے ؟ میں نے تو اپنی لسٹ بنالی ہے ۔ وہ ہلکے پھلکے لہجے میں باتیں کرکے اسے بہلانے کی کوشش کرنے لگا ۔
اپنے تئیں وہ اسے بہلانے میں کامیاب ہوگیا تھا اور پھر اس نے پر کیف لمحات سے سجی خوبصورت شب کے اختتام پر نینا کے گرد بازؤں کے حلقے کو مذید تنگ کیا ۔ وہ چند ہی لمحوں میں شدید اعصابی تناؤ اور تھکن کے باعث بے خبر سوگیا مگر نینا کی نیند ہمیشہ کے لئے اس کی آنکھوں سے رخصت ہوچکی تھی ۔
آنے والے کل اور اس کے بھیانک روز و شب نے اس کی نیندیں اڑادیں تھی ۔ وہ یک ٹک سوئے ہوئے میر کو دیکھے جارہی تھی ۔ اس کی آنکھوں کے گوشے یکبارگی بھیگنے لگے ۔
“”””””””””””””
جیل مردوں کے لئے بنی ہے میری جان وہ مرد ہی کیا جو جیل جانے سے گھبراجائے ۔ اب میری بیوی ہونے کا ثبوت دو اور ایک پیاری سی اسمائیل دے کر مجھے یقین دلاؤ کہ میرے پیچھے تم بلکل بھی نہیں روؤگی بلکہ صبر اور حوصلے سے کام لوگی۔ وہ کف لنکس لگا کر پر یقین لہجے میں کہتے ہوئے اس کی طرف پلٹا اور اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کردئیے ۔
مجھ سے اتنی امیدیں مت رکھیں ، میں اتنی اسٹرونگ نہیں ہوں جتنا آپ سمجھ رہے ہیں ۔
میں نے جتنا تمھیں سمجھا ہے پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں تم میری امیدوں پر پورا اتروگی ۔ اس کے لہجے میں اعتماد تھا ۔
زار ! جیل میں تو ٹارچر بھی کرتے ہیں ناں ؟ وہ خوف و وحشت کی حالت میں سراسیمگی سے بولی ۔
بس آپ کی دعائیں ہیں ؟ میر نےبے ساختہ قہقہہ لگایا ۔
بلکل نہیں ، میں نے کبھی آپ کے لئے برا نہیں سوچا ۔ نینا فوراً برا مان گئی اور اس کے سینے پر ہاتھ مار کر خفگی سے بولی ۔
یاد کرو ، شاید برے وقتوں میں کوئی بدعا دی ہو ۔ وہ بلکل بھی سنجیدہ نہیں تھا اسے یونہی سینے سے لگائے جھک کر ٹیبل سے چائے کا کپ اٹھا کر لبوں سے لگایا ۔
یہ آپ کی سوچ ہوگی مگر میں نے آپ کے انتہائی سلوک کے باوجود بھی یہ نہیں چاہا کہ کبھی آپ کا برا ہو ۔
آئے نو ! مائے لو ! تم بہت سوئیٹ ہو اس لئے تو دل کے قریب ہو ۔ چلو اب لیٹ ہورہے ہیں ۔ وہ آخری سپ لے کر عجلت میں بولا پھر نینا کی پیشانی پر محبت بھری مہر ثبت کی ۔
اگر اریسٹ ہونے کا معاملہ ہوجائے تو بلکل بھی پریشان مت ہونا اور حوصلے سے کام لینا ۔ آنا جانا تو لگا رہتا ہے ، میں جلد واپس آجاؤں گا ۔ وہ اس کی آنکھوں میں براہِ راست دیکھ کر اس کی ہمت بندھا رہا تھا ۔ نینا نے نظریں چرالیں ۔ وہ پلکیں جھپک جھپک کر آنکھوں میں امڈنے والے آنسو اندر اتار رہی تھی ۔
اس نے گھر سے نکلنے سے پہلے قرآنی آیتوں کا ورد کیا اور میرزوار پر دم کرنے کے بعد وہ دونوں کورٹ کے لئے روانہ ہوگئے ۔
وہ دھڑکتے دل کے ساتھ کورٹ روم میں اس کے پہلو میں بیٹھی ہوئی حیرت سے اس شخص کو دیکھ رہی تھی جس کو اپنی مردانگی پر اتنا زعم تھا کہ اس قسم کے پریشان کن حالات میں بھی خود کو مکمل پر سکون ظاہر کررہا تھا جہاں بیٹھ کر کسی بھی طاقتور انسان کے چھکے چھوٹ جاتے تھے مگر جب ججز نے اسے اریسٹ کرنے کے آرڈر دئیے تب باوجود ضبط کے بھی بلند فشارِ خون کے باعث اس کے وجیہہ چہرے پر اشتعال انگیز تاثرات ابھرے جنہیں وہ کمال مہارت سے جلد ہی دبا گیا اور تمسخرانہ مسکراہٹ لبوں پر سجائے نینا کا ہاتھ تھام کر روم سے باہر نکل آیا ۔
پولیس کے نرغے میں گاڑی تک پہنچتے پہنچتے نینا کا ضبط جواب دے گیا۔ وہ بے اختیار میرزوار کے بازو سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔
ایک بات یاد رکھنا نین تمھارا ساتھ میری طاقت ہے ۔ تم کمزور پڑجاؤگی تو مجھے بہت دکھ ہوگا ۔ میں اندر پرسکون رہنا چاہتا ہوں اور ایسا تبھی ممکن ہے جب مجھے یقین ہوگا کہ تم مضبوط ہو ، میرے بغیر بھی دلیری سے حالات کا مقابلہ کررہی ہو ۔ اگر تم چاہتی ہو میں پرسکون رہوں تو میری باتوں پر غور کرنا ۔
اس نے لوگوں کے ہجوم میں نینا کو گلے سے لگا کر دھیرے سے سرگوشی کی ۔ اس جذباتی منظر کو کیمرہ مینز نے شوق سے اپنے کیمرہ میں نظر بند کیا ۔
نینا کا بلکنا بند نہیں ہورہا تھا ۔ میرزوار نے نینا کا سر تھپک کر بمشکل اپنا بازو اس کی گرفت سے آزاد کروایا اور سرکاری گاڑی میں سوار ہوگیا ۔
اس کا خود سے ذیادہ خیال رکھنا ، اپنی امانت تمھیں سونپے جارہا ہوں ۔ وہ میر جاذب سے مخاطب تھا ۔
نینا کا اپنے پیروں پر کھڑا رہنا ناممکن ہوگیا ۔ وہ غش کھا کر بری طرح ڈگمگائی اور میر جازب نے بڑھ کر اسے شانوں سے تھام لیا ۔
جاری ہے