Rate this Novel
Episode 14
میرزوار کی گاڑی میر ہاؤس کے کار پورچ میں رکی ، اس نے گاڑی سے اتر کر آستین کہنیوں تک فولڈ کیں پھرگھر کے اندر جانے والی راہ داری کی طرف قدم بڑھائے پھر یکدم پلٹ کر آیا اور باوردی گارڈز کے ہاتھ میں پکڑی گن جھپٹ لی ۔
وہ دندناتا ہوا لیونگ روم میں پہنچا تھا ۔ میر جازب ، اروما اور نگین ریپیٹ مارننگ شو پر تبصرہ کررہے تھے ۔ اسے دیکھ کر اروما خوشگوار حیرت سے بولی ۔
زاری بھائی ! اچھا ہوا آپ آگئے ،ابھی ہم آپ کا ہی ذکر کررہے تھے ۔ہم تو سمجھ رہے تھے آج رات آپ گھر نہیں آئیں گے ۔
اروما ! تم اپنے کمرے میں جاؤ اور واپس نیچے مت آنا ۔ میر زوار اس کی بات کے جواب میں کرختگی سے بولا ۔ اس کے سرد لہجے اور ہاتھ میں پکڑی ہوئی گن سے حاضرین کو پہلی بار معاملے کی سنگینی کا احساس ہوا ۔
اروما خاموشی سے سر ہلا کر اس کے برابر سے گزر کر باہر نکل گئی ۔ میر جازب اور نگین کی استہفامیہ نظریں میر زوار کے دہشت ناک تاثرات لئے چہرے پر جمی تھیں ۔
اروما کے روم سے نکلتے ہی میر زوار جارحانہ تیور لئے میر جازب کی طرف بڑھا جو صوفے سے اٹھ کر کھڑا ہوچکا تھا ۔
تو اس بدزات لڑکی کے ساتھ مل کر میرے جذبات کا تماشا بنا رہا تھا ، اس کی رگوں میں تو گندا خون دوڑ رہا ہے مگر تو اس خاندان کا خون تھا پھر تیرے خون میں ملاوٹ کیسے ہوگئی ؟ میر زوار اس کا گریبان دبوچے بلند آواز میں دہاڑ رہا تھا۔
کیا بکواس کررہے ہو ، ایسا میں نے کیا کردیاہے جو مجھے گالیاں دے رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔؟ میرجازب نے بھنا کراپنا گریبان چھڑانے کی کوشش کی ۔
تو نے نینا کے ساتھ مل کر جو کھیل رچایا ہے اس پر شرمندہ ہونے کی بجائے معصومیت کا ڈھونگ کررہا ہے ۔ میر زوار نے گن سے اس کے سینے کو ٹھوکا ۔
یہ تم کیا کررہے ہو ، خدا کے لئے بندوق نیچے کرو ۔ نگین لرز کر چلائیں اور اسے بازو سے پکڑ کر پیچھے کی طرف دھکیلنے لگیں ۔
تائی سائیں ! آپ یہاں سے چلی جائیں ، آپ نہیں جانتی آپ کے بیٹے نے کیا کارستانی کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کا بیٹا اور آپ کی بھانجی مل کر مجھے بے وقوف بنا رہے تھے ۔ ان دونوں نے میر زوار کا تماشہ لگانے کی پلاننگ کی ۔میر زوار نے جھٹکے سے اپنا بازو چھڑایا پھر میر جازب کی طرف پلٹا ۔
بیٹا ! مجھے علم نہیں ان دونوں نے کیا حرکت کی ہے مگرجو بھی کیا ہے یقیناً غلط کیا ہوگا ۔ تم بڑے ہو اسے مارو پیٹو مگر بندوق پھینک دو ۔ یہ جب ہاتھ میں ہو تو خون مانگتی ہے ۔ بھائی کے ہاتھوں بھائی کا خون بہہ جائے ، یہ منظر ایک ماں کے لئے قیامت سے کم نہیں ہوگا ۔
میں نے تمھیں اپنی اولاد سمجھ کر پالا ہے ، تمھارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں ۔ اسے پھینک دو ۔ نگین نے باقاعدہ ہاتھ جوڑ دئیے۔
میر ! بیٹھ کر آرام سے میری بات سن لو ، تمھیں اگر نینا سے بھی یہ بات پتہ چلی ہے تو جذبات میں تم غلط سمجھ بیٹھو ہو ۔ میری بات تحمل سے سنو ، ایسا کچھ بھی نہیں ہے جیسا تم سمجھ رہے ہو ۔ پہلے مجھے یہ بتاؤ کس نے تمھیں بتایا ہے پھر میں تمھیں ساری بات سمجھا دوں گا ۔ میر جازب تحمل سے سمجھارہا تھا ۔
مجھے کالے چور نے بتایا ہے ، تجھے اس بات سے غرض نہیں ہونی چاہئے ۔ میری بات کا جواب دے ،تو نے مجھے نو عمر بچہ سمجھ کر اس لڑکی کو چیلنج دے تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ تو نے کیا سمجھا تھا شرط جیت جانے پر تو فاتح ہوجائے گا یا وہ مجھے کھلونا سمجھ کر کھیلے گی اور جیت جانے پر مجھے چھوڑ کر چلی جائے گی اور میں اسے ذندہ چھوڑ دوں گا ؟ میر زوار گن سائیڈ پر پھینک کر اسے گریبان سے پکڑے طیش کے عالم میں بولا رہا تھا ۔
باتوں ہی باتوں میں نوبت شرط تک پہنچ گئی ۔ میں نے سوچا تھا وہ خود ہی بھول جائے گی ۔میں نے بعد میں اسے سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر تم نینا کو جانتے ہو وہ دھن کی کتنی پکی ہے لیکن اب وہ خود بہت پچھتا رہی ہے ۔ میر جازب نے پوری کہانی اس کے گوش گزار کردی مگر میر زوار کا غصہ قابو میں آنے والا نہیں تھا ۔
تم سے تو اب میرا کوئی واسطہ ہی نہیں رہا کیونکہ ویڈیو میں دیکھ کر آرہا ہوں کس طرح تم نے اسے بیٹ لگانے پر اکسایا ہے اور وہ جو خود کو تیس مار خاں سمجھتی ہے اب ضرور بھگتے گی ۔
اس کا پچھتاوا تو اب شروع ہوگا ۔ اسے اپنے کئے کی سزا ایسی ملے گی کہ وہ روئے گی اس وقت پر جب اس نے میرے جذبات سے کھیلنے کی سنگین غلطی کی تھی ۔ تم چاہو تو اپنی “سگی “کو آگاہ کردینا ۔ میر زوار نے اسے دھکا دے کر صوفے پر گرایا پھر لمبےلمبے ڈگ بھرتا ہوا چلا گیا ۔ اروما اسےباہر آتا سن کر سائیڈ میں چھپ گئی ۔ وہ میر زوار کے تاکید کردینے کے باوجود بھی باہر کھڑی کان لگائے سب کچھ سن رہی تھی ۔
میر زوار ! میری بات سنو ، تم اس کے ساتھ ایسا کچھ بھی نہیں کروگے ۔ میرا یقین کرو ، وہ معصوم ہے اور اسے اپنی غلطی کا احساس ہوچکا ہے ۔ اس نے شروعات مذاق سے کی تھی مگر اب وہ تمھارے ساتھ سیریس ہے ۔ میر جازب تقریباً بھاگتا ہوا اس کے پیچھے آیا ۔
میر زوار نے مڑ کر اسے دیکھا اور ہاتھ اٹھا کر اسے آگے آنے سے روک دیا ۔ اس کی خاموش تنبیہہ میں اتنی دہشت تھی کہ میر جازب ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا سکا ۔
“””””””””””””””””
مجھے ڈرنےکی بجائےرشتے کی بات فوراً زار کو بتادینی چاہئے ۔ ذیادہ سے ذیادہ کیا ہوگا تھوڑا غصہ کرے گا ، ویسے بھی کرتا ہے مگر میں کسی بھی طرح اسے منالوں گی ۔ کہہ دوں گی ماں اور بابا سائیں نے پہلے سے ہی سب طے کیا ہوا تھا ۔ نینا کی ٹانگیں ٹہل ٹہل کر شل ہورہی تھیں بالآخر اس نے نتیجے پر پہنچ کر میر زوار کو کال ملائی مگر بار بار ٹرائے کرنے پر بھی کال رسیو نہیں کی گئی ۔
شاید بزی ہوگا ۔ اس کے سارے کام بھی تو آدھی رات کے بعد شروع ہوتے ہیں ۔ اس نے تھک کر سوچا پھر کمرفرٹر اوڑھ کر لیٹ گئی تبھی موبائل بج اٹھا ۔ اس نے اسکرین پر نظر ڈالی تو اتنی رات کو اروما کا نمبر دیکھ کر حیران رہ گئی ۔
تم ابھی تک جاگ رہی ہو ۔۔۔۔۔۔؟ نینا نے کال اٹینڈ کرتے ہی استفسار کیا ۔
تم نے شرط والی بات زاری بھائی کو کیوں بتائی ؟ اروما نے چھوٹتے ہی سوال کیا ۔
پاگل ہوگئی ہو ، میں اپنی شامت خود بلاؤں گی ؟ میری تو ان سے آج بات ہی نہیں ہوئی ہے مگر تم ایسا کیوں بول رہی ہو ؟ میرا دل بند ہورہا ہے ۔ نینا پریشانی سے بولی ۔
ابھی وہ گھر آئے تھے ۔ انہیں شرط والی بات معلوم ہوگئی ہے ۔ بہت ہنگامہ کر کے گئے ہیں ۔ جازب بھائی کو مارنے کے درپے تھے ۔ اماں نے بڑی مشکل سے سنبھالا ہے ۔ اب تم اپنی خیر مناؤ ۔
رومی ! اب کیا ہوگا ؟ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ۔ میں تو پہلے ہی بہت پریشان ہوں ۔ نینا کی آواز کپکپا رہی تھی ۔
کیوں ، کیا ہوا ؟ تم کیوں پریشان ہو ۔۔۔۔۔۔؟
بابا سائیں نے میرا رشتہ سنان شاہ سے طے کردیا ہے ۔ میں یہ بات میر زوار کو بتانے ہی والی تھی کہ تمھارا فون آگیا ۔ اب میں کیا کروں ۔۔۔۔۔۔؟ انہیں کیسے بتاؤں ۔ نینا بے آواز رورہی تھی ۔
تم انہیں کال کرو ، سمجھاؤ کہ تم نے مذاق میں شروعات کی تھی مگر اب بلکل سیریس ہو ۔ جیزی بھائی نے بھی یہی کہا ہے ، تم بھی یہی کہنا ۔ وہ تم سے بہت پیار کرتے ہیں ۔ انشاءاللہ مان جائیں گے ۔ اروما نے اس کی ہمت بندھائی ۔
اوکے ، تم بند کرو ۔ میں انہیں کال کرتی ہوں ۔ نینا نے کال ڈسکنیکٹ کرتے ہی میر زوار کو کال کی مگر ایک گھنٹے مسلسل کوشش کرنے کے باوجود بھی دوسری طرف کال رسیو نہیں گئی ۔
نینا دونوں ہاتھوں میں سر تھامے بیٹھی تھی ۔
“””””””””””””””””””
وہ اس قدر ٹوٹا ہوا میر زوار پیلس پہنچا تھا کہ سینے میں دھڑکتا ہوا دل بھی اسے منجمد لگا ۔ اس نے بوجھل قدموں سے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے سینے کو ہاتھ سے ٹٹول کر دھڑکنوں کو محسوس کیا ۔
اس نے کمرے میں داخل ہوکر دیوار گیر بار سے بوتل اٹھائی اور گلاس بھرنے لگا ۔ دل سے ذیادہ اس کی آنکھیں جل رہی تھیں ۔
باوجود ضبط کے پلکوں سے آنسوؤں کی بوندیں بے اختیار اس کے سرخ و سفید ہاتھ کی پشت پر گرنے لگیں ۔
وہ گلاس اور بوتل اٹھائے صوفے پر آبیٹھا ۔ وہ کسی بھی خیال کو اپنے آس پاس بھٹکنے نہیں دینا چاہتا تھا مگر پھر بھی گزری ملاقاتوں کے خوشگوار پل نظروں کے سامنے گھوم رہے تھے پھر ویڈیو کا منظر یاد آتا تو کنپٹی کی رگیں تن جاتیں ۔ دروازے پر ہونے والی دستک پر اس نے انگوٹھوں کی مددسے آنکھوں کو رگڑا اور دستک دینے والے کو اندر آنے کی اجازت دی ۔
میر سائیں ! ساری تیاریاں ہوگئی ہیں ۔ آپ بتادیں کتنی دیر میں نکلنے کا ارادہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟ ساجد نے ٹیبل پر پڑے گلاس اور بوتل کو حیرت سے دیکھا پھر سنبھل کر مؤودبانہ پوچھا ۔
تم تیار ہو ۔۔۔۔۔؟ میر زوار نے بے تحاشہ سرخ بوجھل نظریں اٹھا کر اسے دیکھا ۔
جی سائیں ! ہم بھی تیار ہیں ، ہیلی کاپٹر بھی تیار ہے مگر آپ کی اجازت ہو تو ایک سوال پوچھ سکتا ہوں ۔۔۔۔۔۔؟ ساجد نے ڈرتے ڈرتے کہا ۔
پوچھو ۔ میرزوار مختصراً بولا ۔
ابھی کچھ دیر پہلے تک کوئی ارادہ نہیں تھا اور اب اچانک جارہے ہیں ۔ سب خیریت ہے ، کوئی پریشانی والی بات تو نہیں ہے ؟
ساجد سائیں ! یہاں میرا دم گھٹ رہا ہے ، مجھے یہاں سے لے چلو۔ ایک پل بھی یہاں رکا تو مر جاؤں گا ۔میر زوار اس قدر بے بسی سے بولا کہ ساجد کو بھی ترس آگیا ۔
بس پھر چلیں سرکار ! آپ نیچے آجائیں ۔
تمھاری بیوی بیمار تھی اگر اس کی وجہ سے تم میرے ساتھ جاتے ہوئے ہچکچا رہے ہو تو رہنے دو ۔ تم ساتھ مت چلو ۔ یہاں رہ کر ان کا خیال رکھو ۔میر زوار اٹھتے ہوئے بولا ۔
سائیں ! وہ اب ٹھیک ہے ، اس کا خیال رکھنے کے لئے سب موجود ہیں ، بچے اس کی مجھ سے ذیادہ دیکھ بھال کرتے ہیں۔
میں آپ کے ساتھ چلوں گا ، آپ کو تنہا نہیں چھوڑ سکتا ۔ میر زوار پشت پر ہاتھ باندھے چل رہا تھا ۔ساجد اس کے پیچھے چلتے ہوئے بولا ۔
میں تو صدا سے تنہا تھا اور مجھے آج ہی پتہ چلا ہے کہ میں مرتے دم تک تنہا ہی رہوں گا ۔ میر زوار کی بڑبڑاہٹ میں کرب تھا ۔
ساجد نے اس کی بڑبڑاہٹ سن کر تاسف سے سر ہلایا ۔اندرونی معاملات سے تو وہ بے خبر تھا مگر اتنا ضرور سمجھ رہا تھا کہ معاملہ پیچیدہ ہے ۔
ساجد ان کی خفیہ ملاقاتوں کا گواہ تھا ، اس بے بنیاد تعلق کی بنیادی وجہ سے بھی آگاہی تھی مگر اپنے سائیں کی اس حالت پر ششدر تھا ۔
اس کی سمجھ کے مطابق اس کہانی کا انجام یکسر مختلف ہونا چاہئے تھا ، ایک فاتح اور ایک مفتوح کرار پاتا مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹ لگ رہا تھا ۔
پکا نشانِ باز شکاری خود شکار کیسے بن گیا ؟ ساجد کی سوئی بار بار اسی نقطے پر آکر اٹک آجاتی ۔
“””””””””””””””””””
اماں ! ہمارا ان کے گھر آنا اتنا ضروری بھی نہیں تھا ۔ ذیادہ دن تو نہیں گزرے جب وہ ہمارے گھر آئے تھے ۔ یہ روز روز کے چونچلے مجھ سے نہیں ہونگے ۔نینا سنان شاہ کے ڈرائینگ روم میں عروش سے چپکی بیٹھی ہوئی تھی اور مسلسل ان کا سر کھا رہی تھی ۔
ڈرائینگ روم میں حمید شاہ کی پوری فیملی موجود تھی ، ان کی دونوں بیٹیاں سنان اور ان کی مسز بھی تھیں ۔ تحریم ان لوگوں کے ساتھ بڑے خوشگوار موڈ میں باتیں کرہی تھی جبکہ زعیم شاہ اور سنان بھی باتوں میں مصروف تھے ۔ زعیم شاہ کی موجودگی میں سنان بہت احتیاط سے نینا پر اڑتی پڑتی نظرڈال لیتا ۔
نین ! پلیز ! خاموش رہو ، کوئی سن لے گا ۔ عروش نے دانت بھینچ کر اسے جھڑکا ۔
ہو کئیرز ۔ ( کسے پرواہ ہے ) نینا نے لاپرواہی سے کہا ۔ عروش نے حیرت سے اسے دیکھا پھر آہستگی بولیں ۔
کیا تم اس رشتے پر خوش نہیں ہو ۔۔۔۔۔؟
اماں ! آپ لوگوں نے مجھے یہ سوچنے کا موقع ہی کب دیا ہے ۔بھیڑ بکریوں کی طرح رشتہ کردیا اور اب پوچھ رہی ہیں کہ میں خوش نہیں ہوں ۔ نینا انتہائی دکھ سے بولی ۔
اس موضوع پر میں تم سے گھر چل کر بات کروں گی ۔ عروش کے چہرے پر تفکر کے سائے لہرائے ۔
آپ دونوں کیوں خاموش بیٹھی ہیں ؟ نینا ! آپ بور ہورہی ہیں ۔۔۔۔؟ مسز حمید ان کی طرف متوجہ ہوئیں ۔
پتا نہیں آپ کو ایسا کیوں لگ رہا ہے ، میں تو بہت انجوائے کررہی ہوں ۔نینا کا انداز اتنا تیکھا تھا کہ مسز حمید شاہ کو زبردست جھٹکا لگا ۔ عروش کا شرمندگی سے برا حال تھا ۔
مسز شاہ!آپ شادی کی تاریخ جلد سے جلد دینے کی کوشش کریں۔ بچے چاہتے ہیں کہ شادی کی شاپنگ سب ایک ساتھ کریں۔مسز حمید نینا کا روئیہ نظر انداز کرکے خوشامد کررہی تھیں۔
جی ضرور ، میں شاہ سے بات کروں گی پھر خاندان والوں سے بھی مشورہ کرنا ہوگا ۔ ہم کل سن پورہ جارہے ہیں ۔ وہاں پہنچ کر ہی باقی گھر والوں سے مشورہ کرنے کے بعد جلد ہی آپ کو سن پورہ آنے کی دعوت دیں گے ۔ شادی کی تاریخ بھی وہیں طے کریں گے ۔ عروش کے تفصیلی جواب سے جہاں مسز حمید کی بانچھیں کھل گئیں وہیں نینا کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں ۔
اس نے وہیں بیٹھے بیٹھے بے قراری سے میر زوار کا نمبر ٹرائے کیا جو اب بھی اس کے لئے دستیاب نہیں تھا پھر وہ کب تک وہاں بیٹھی رہی محفل کو فراموش کئے ایک کے بعد ایک ٹیکسٹ میسج بھیجتی رہی مگر دوسری جانب مکمل خاموشی اختیار کر لی گئی تھی ۔
“””””””””””””””””
وہ نیند سے جاگنے کے بعد پوری آنکھیں کھولے چھت کو گھور رہی تھی ۔ پچھلے کئی دنوں سے دن رات کالز ، وائس اور ٹیکسٹ میسیجز پر منت سماجت ، دہائیاں دینے کے باوجود بھی میر زوار نے مکمل چپ سادھ لی تھی ۔ اس پر ستم مسز حمید کا جلد شادی کے لئے اسرار کرنا اسے ہراساں کررہا تھا ۔
یکدم ایک خیال اس کے ذہن میں کوندا اور وہ اچھل کر بیٹھ گئی ، وہ ادھر ادھر ہاتھ مار کر موبائل تلاش رہی تھی ۔
اس نے جھجکتے ہوئے میر زوار کے آفس کال کی ۔ لینڈ لائن پر بیل جارہی تھی اور بیل کی آواز کےساتھ نینا کا دل بھی کانوں میں دھڑک رہا تھا ۔
ہیلو ! السلام و علیکم ! کیا میرزوار علی صاحب سے بات ہوسکتی ہے ؟ نینا نے کال رسیو ہوجانے کے بعد چند لمحے کے توقف سے لہجے کو نارمل کرتے ہوئے پراعتماد لہجے میں پوچھا ۔
وعلیکم اسلام ! سر کچھ دن کے لئے ذاتی مصروفیات کی وجہ سے چھٹیوں پر ہیں ۔ ائیر فون میں میر زوار کی پرسنل سیکریٹری کی خوبصورت کھنکتی آواز ابھری ۔
آپ بتا سکتی ہیں وہ کب تک جوائن کریں گے ۔۔۔۔۔؟
سوری ! اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتی ۔
اوکے تھینکس ۔ نینا نے بے دلی سے فون بند کردیا پھر میرزوار پیلس کے لینڈ لائن نمبر پر کال ملائی ۔
ہیلو ! میں نینا بات کررہی ہوں ، میرزوار کہاں ہے ؟ فون ملازم نے اٹینڈ کیا تھا نینا نے علیک سلیک کی بھی زحمت نہیں کی ۔
بی بی سرکار ! سائیں تو ملک سے باہر ہیں ۔ ملازم کی کرخت آواز پل میں مؤودبانہ ہوگئی ۔
کب گئے ہیں ؟ نینا کی آنکھیں جھلملانے لگیں ۔
ہفتہ ہونے کو آیا ہے ۔ ملازم نے انگلیوں پر حساب لگایا ۔
ہممم ۔۔۔۔۔۔۔ نینا نے کال ڈسکنیکٹ کرنے کے بعد آنکھوں سے بہتے سیال کو ہتھیلی کے ساتھ بے دردی سے رگڑا ۔
وہ بہت دیر تک بلک بلک کر رونے کے بعد کسی نتیجے پر پہنچ کر پر سکون ہوگئی ۔ اس نے میر زوار سے روبرو ملنے اور اپنی نادانی پر معافی مانگنے کا حتمی فیصلہ کرنے کے بعد اروما کو کال کی ۔
رومی ! تمھارا بھائی مجھے چھوڑ کر چلا گیا ہے ، اس نے مجھے اپنی صفائی میں کچھ کہنے کا موقع بھی نہیں دیا ۔ میں اس کے بغیر مرجاؤں گی ۔ وہ اروما کی آواز سنتے ہی ایک بار پھر روپڑی ۔
نین ! رو مت سب ٹھیک ہوجائے گا ۔ مجھے بتاؤ ، کیا ابھی تک زاری بھائی نے تم سے کوئی بات نہیں کی ؟ اروما کو اس سے دلی ہمدردی محسوس ہورہی تھی ۔
نہیں ۔۔۔۔۔۔وہ تو منہ، کان ، آنکھیں سب بند کئیےبیٹھے ہیں ۔ میری ایک بھی کال اٹینڈ نہیں کررہے ۔ اب میں نے فیصلہ کیا ہے میں خود ان کے پاس جاؤنگی ۔ نینا سسکیاں دبا کر فیصلہ کن لہجے میں بولی ۔
ایسا کچھ بھی مت کرنا اگر وہ خاموش ہیں تو انہیں خاموش ہی رہنے دو ورنہ ضرور کوئی طوفان کھڑا کردیں گے ۔ وہ جب بھی بہت تکلیف میں ہوتے ہیں اسی طرح خاموش ہوجاتے ہیں ۔ تم نے انہیں ہرٹ کیا ہے اور وہ خاموشی سے چلے گئے ۔
تم ان کے سامنے جاؤگی تو ممکن ہے وہ بری طرح پیش آئیں پھر تمھارے لئے نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے ۔ تم ہمارے مردوں کو جانتی ہو ناں ، غصے میں اچھا برا کچھ نہیں سوچتے پاگل ہوجاتے ہیں ۔
نین ! تم سن رہی ہو ناں ؟ میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو تم بھی اب خاموشی سے بیٹھ جاؤ ۔ اروما اسے میرزوار کا سامنا کرنے سے باز رکھنا چاہتی تھی ۔
رومی ! انہیں تکلیف پہنچا کر میں خود بھی بہت تکلیف میں ہوں ، ذیادہ سے ذیادہ کیا ہوگا وہ مجھے مار دیں گے ۔ مجھے منظور ہے مگر میں ایک بار ان سے مل کر معافی مانگنا چاہتی ہوں ۔ نینا سسکتے ہوئے بولی ۔ اروما بغور اسے سن رہی تھی اس کی حالت کی پیش نظر خاموشی ہوکر رہ گئی۔
جاری ہے
