60.7K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

یہ تم نے بہت غلط کیاہے اور مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ تمھیں کوئی شرمندگی بھی نہیں ہے ۔ میں تمھارے باپ کو پورے خاندان کو کیا جواب دوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔تمھیں ایک بار اپنی ماں کا خیال بھی نہیں آیا ۔ رانیہ صدمے سے نڈھال پژمردہ آواز میں گویا تھیں ۔
مام ! میں نے اس سے اسلام قبول کروانے کے بعد نکاح کیا ہے ۔ جیلین بہت اچھی لڑکی ہے ۔ آپ بھی اس سے ملیں گی تو آپ کو میرے فیصلے پر بہت خوشی ہوگی ۔ میں جلد ہی اس کو آپ سے ملوانے کے لئے پاکستان لے کر آؤں گا ۔ سفیان شاہ کی بھاری آواز پر رانیہ کی آنکھیں بھرآئیں ۔
تم مجھے بہلا نہیں سکتے ،ہمارے خاندانوں میں حسب نسب کا کتنا خیال کیا جاتا ہے ۔ ہم تو حسب نسب رکھنے والے خاندانوں میں رشتہ جوڑتے ہوئے بھی سوبار سوچتے ہیں اور تم نے ایک غیر مسلم کا طوق اپنے گلے میں لٹکا لیا ہے ۔ رانیہ دکھ سے بولیں ۔
مام ! مجھے اپنی ذندگی یورپ میں ہی گزارنی ہے ، مجھے پاکستان میں کبھی نہیں رہنا تھا تو میں پاکستانی لڑکی کو اپنا لائف پارٹنر کیسے بناتا اگر آپ کے اسرار پر میں شادی کر بھی لیتا تو وہ شادی ذیادہ عرصے تک چلنے والی نہیں تھی پھر میں کیوں آپ لوگوں کے لئے اپنی اور کسی بے قصور لڑکی کی ذندگی خراب کرتا ۔
میری ذندگی شاید دوبارہ خوشگوار ہوجاتی مگر وہ لڑکی جو مجھ سے امیدیں وابسطہ کرکے میری ذندگی میں شامل کی جاتی اس کے ساتھ تو بہت بڑی نا انصافی ہوتی ۔ سفیان شاہ رسان سے ماں کو سمجھانے کی کوشش کررہا تھا ۔
تم کچھ بھی کہو مگر تم نے میرا بہت دل دکھایا ہے ، کتنے آران تھے کہ جب اسٹڈیز کمپلیٹ کرکے آؤگے تواروما کے لئے بھائی سے تمھارا رشتہ لینے جاؤں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دھوم دھام سے شادی کروں گی مگر تم نے میرے سر میں خاک ڈال دی ۔
رانیہ کے آنسوؤں میں شدت آگئی ۔
آپ کے ری ایکشن پر شاید مجھے دکھ ہوتا مگر اب میں اپنے فیصلے پر مطمئین ہوں اگر آپ اروما سے میری شادی کروانا چاہتی تھیں تو بہت ہی اچھا ہوا کہ میں نے جیلین سے شادی کرلی کیونکہ میں اروما جیسی دبو ، آؤٹ آف ڈیٹڈ لڑکی کو بیوی کے طور پر کبھی قبول نہیں کرتا ۔ میری ذندگی جہنم بن جاتی ۔
میں حسن پرست نہیں ہوں ، مجھے کانفیڈینٹ بولڈ زمانے کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے والی لڑکیاں اٹریکٹ کرتی ہیں ۔
مام ! آپ کا اکلوتا بیٹا ہوں کچھ تو خیال کرلین بحرحال میں کچھ دن بعد آپ سے بات کروں گا تب تک آپ بھی نارمل ہوجائیں گی ۔سفیان شاہ گہری سانس بھر کر بولتے ہوئے کال منقطع کر گیا ۔اسے اروما کے خیال سے بھی کوفت محسوس ہورہی تھی ۔
رانیہ بھرائی ہوئی آنکھوں سے بجھتی ہوئی اسکرین کو دیکھ رہی تھیں ۔ انہوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو مکتوم شاہ کھڑے تھے ، وہ بے اختیار ان کے کندھے پر سر رکھ کر سسکنے لگیں ۔
صبر کرو ۔ اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے ۔ تمھاری خوشی کے خاطر سفیان اروما سےشادی کر بھی لیتا تو اسے وہ خوشیاں نہیں دے پاتا جن کی امید دلا کر تم سبطین سے اروما کا رشتہ مانگتی ۔اللہ نے ہمیں بڑی شرمندگی اور ذلت سے بچالیا ہے ۔ مکتوم شاہ نے مدبرانہ کہتے ہوئے ان کے سر میں ہاتھ پھیرا ۔
آپ جانتے ہیں کہ سفیان نے وہاں فارنر لڑکی سے شادی کرلی ہے ۔۔۔۔۔؟ رانیہ نے حیرت سے سر اٹھایا ۔
ہاں ، پہلے اس نے مجھے ہی کال کی تھی ۔
مکتوم ! ہماری اولاد اس قدر خودسر کیوں ہوگئی ہے ازخود فیصلہ کتے ہوئے انہیں ہمارا خیال کیوں نہیں آتا ۔۔۔۔۔۔ہم نے ان کی ایسی تربیت تو نہیں کی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تو تحریم کی حرکتوں کو لے کر پریشان تھی مگر سفیان نے تو میرا مان ہی توڑ دیا ۔ رانیہ نم لہجے میں بولیں ۔
تم یہ کیوں نہیں سوچتی کہ اللہ نے ہمیں بڑی آزمائش سے بچالیا ہے اگر سفیان وہاں خفیہ شادی کرلیتا اور یہاں تمھارے کہنے پر اروما سے بھی مجبوراً شادی کرتا تو کیا تم سہہ پاتی ۔۔۔۔۔۔اروما کے ساتھ بھی ظلم ہوجاتا ۔ ہم میر سبطین اور اروما کو کیا جواب دیتے اس طرح کم از کم اس بچی کی بچت ہوگئی ہے اور تمھارا اپنے میکے والوں کے سامنے بھرم بھی برقرار ہے۔ مکتوم شاہ کی بات میں وزن تھا ۔ رانیہ نے اثبات میں سر ہلایا ۔
تم تحریم کے بارے میں کیا کہہ رہی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی وجہ سے کیوں پریشان ہو ؟ مکتوم شاہ نے کوٹ اتارتے ہوئے استفسار کیا ۔
وہ بھی تو ہر رشتے میں نقص نکالتی ہے ، کبھی کوئی اعتراض کرتی ہے کبھی کوئی جواز بنا لیتی ہے ۔ میں پریشان ہوجاتی ہوں ، اس عمر میں اس کی شادی ہوجانی چاہئے تھی مگر اس کے نخرے ہی نہیں ملتے ۔ اس طرح تو اس کی عمر نکل جائے گی ۔ رانیہ تحریم کی ضد اور زعیم شاہ کے لئے اس کی پسندیدگی کا اظہار یکسر چھپا گئیں ۔
تم فکرمند نہ ہو ، میں اس سے بات کروں گا ۔ وہ فطرتاً ضدی ہے مگر میری بات سنتی بھی ہے اور مان بھی لیتی ہے ۔
معظم شاہ نے ایک رشتہ بتایا ہے ۔ ہر لحاظ سے تحریم کے لئے اچھا ہے ۔جلد ہی انہیں گھر بلاتے ہیں پھر فائنل کردوں گا ۔ مکتوم شاہ سنجیدگی سے کہتے ہوئے کپڑے تبدیل کرنے کے لئے ڈریسنگ روم کی جانب بڑھے ۔
سفیان نے بہت بڑا دھچکا پہنچایا ہے ، اب تحریم کا کچھ نا کچھ ہوجانا چاہئے ۔ نینا تو اس سے بہت چھوٹی ہے مگر اس کی بات پکی ہوگئی ہے ۔ دوچار دن میں معظم بھائی شادی کی ڈیٹ بھی فکس کردیں گے ۔ رانیہ تفکر سے بولیں ۔
ہوں ۔۔۔۔۔۔ مکتوم شاہ نے ہنکارہ بھرنے پر اکتفا کیا ۔


تو زاری بھائی نے تمھاری کسی بات کا یقین نہیں کیا مگر انہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا کم از کم تمھیں ایک موقع تو دیتے ۔ اروما یاسیت سے بولی ۔
مجھے بھی اسی بات کا دکھ ہے ، میں نے انہیں ہر طرح منانے کی کوشش کی ۔ سب سے چھپ کر اتنی دور صرف اس لئے گئی کہ انہیں میری نیت پر جو شک ہے وہ دور ہوجائے مگر وہ تو کچھ بھی سننے اورسمجھنے کے لئے تیار ہی نہیں تھے ۔ انہوں نے مجھے دھکے دے کر نکالا ہے ۔ نینا دکھ سے کہتے ہوئے روپڑی ۔
میں نے تمھیں سمجھایا بھی تھا کہ وہ اب تمھاری کسی بات پر یقین نہیں کریں گے ، انہیں اپنے حال پر چھوڑ دو مگر تم مانی ہی نہیں۔
یہ زاری بھائی کی بدقسمتی ہے کہ انہوں نے اپنے دل میں زرا سی گنجائش نہیں نکالی ۔ اچھا ہوا کہ تم وہاں ہو آئیں اب تمھارے دل میں کوئی ملال تو نہیں رہے گا ۔
ساری بات بھی کلئیر کردی اب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب زاری بھائی ٹھنڈے دماغ سے سوچیں تو شایدتمھیں معاف بھی کردیں ۔
اروما اب بھی پرامید تھی ۔
اب وہ معاف کریں یا نہیں مگر میں تو مشکل میں آگئی ہوں ناں ۔بابا نے میرا رشتہ طے کردیا ہے ۔ میں انہیں کیسے روکوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتی ۔ اٹلیسٹ ابھی تو بلکل بھی نہیں مگر اماں اور بابا کو کون سمجھائے ۔میرزوار سے تو مجھے اب کوئی امید بھی نہیں کہ وہ دوبارہ میری شکل بھی دیکھیں گے ۔ نینا فکرمندی سے بولی ۔
ہنسی مذاق میں تم نے اپنی یہ حالت خود بنائی ہے ، میں تمھیں منع بھی کرتی تھی کہ ایسا کھیل مت کھیلو ، زاری بھائی ہر گز برداشت نہیں کریں گے اب دیکھو کیسے سب کچھ بگڑ گیا ۔ہاتھ بھی کچھ نہیں آیا ۔ اروما کو اب اس پر سخت غصہ آرہاتھا ۔
میں نے تو مذاق میں شرط لگائی تھی ، مجھے کیا پتا تھا میں خود ہی سیریس ہوجاؤں گی اگر میں ان کے لئے سیریس نہیں ہوتی تو مجھے اتنی سی بھی پرواہ نا ہوتی ۔ نینا ازحد معصومیت سے بولی تو اروما بے ساختہ ہنس پڑی ۔
اچھا تم ذیادہ پریشان مت ہو سب ٹھیک ہوجائے گا ۔ دعا کرو ، دعا میں بڑی طاقت ہوتی ہے ۔ میں تم سے بعد میں بات کروں گی ۔اروما نے اسے تسلی دیتے ہوئے کال ڈسکنکٹ کردی ۔
( نینا ! تم تو قصور وار ہو ، تمھیں اسی پر صبر آجائے گا ۔تم مجھ سے سب کچھ کہہ کر دل ہلکا کرلیتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔لیکن میں اپنے دل کا حال کسے سناؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرا تو کوئی قصور بھی نہیں تھا جس پر مجھے صبر آجاتا ۔ ) اروما دکھ سے سوچتے ہوئے ٹیرس پر ٹہلنے لگی ۔


دن مہینوں میں بدل گئے مگر میر زوار کی ناراضگی ختم نہیں ہوئی ۔نینا نے دور رہ کر بھی اسے منانے کی کوشش جاری رکھی مگر میر زوار نے پاکستان پہنچنے کے بعد بھی چپ نہیں توڑی پھر نینا نے بھی خاموشی اختیار کر لی ۔
درحقیقت وہ بھی تھک چکی تھی اور اب شرمندگی کی جگہ انا نے لے لی تھی ۔ اب وہ بھی میزوار سے لاتعلق ہوگئی تھی مگر دل میں وقتاً فوقتاً کسک اٹھتی رہتی ۔
شیرازی ہاؤس میں نینا کی شادی کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں ۔ اروما بھی ان تیاریوں میں شامل تھی مگر اب وہ دیکھ بھال کر شیرازی ہاؤس آتی اور نینا یا عروش کے ارد گرد ہی رہتی تاکہ زعیم شاہ پھر اسے تنہا پاکر اپنی بھڑاس نا نکال سکے ۔
اروما کی موجودگی میں زعیم شاہ گھر بھی آتا تو یوں ظاہر کرتا جیسے اروما وہاں موجود ہی نا ہو ۔ اس نے دوبارہ اروما سے کلام تک کرنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔
نینا بجھے دل سے شادی کی تیاریاں ہوتے دیکھتی رہتی ۔ اس نے عروش کے بے حد اسرار پرایک دو بار شاپنگ پر جانے کی زحمت کی تھی کیونکہ اس کی ہونے والی ساس کی خواہش تھی کہ نینا شادی کا سوٹ اپنی مرضی سے سلیکٹ کرے یوں عروش کے سمجھانے پر اس نے ان لوگوں کے ساتھ جانے کے لئے ہامی بھر لی ۔ وہ میر زوار کی طرح شادی سے بھی لاتعلق ہوکر سب کچھ حالات کے دھارے پر چھوڑ کر بیٹھ گئی تھی ۔


میرزوارریس کورس کی گیلری میں کھڑا دور بین سے اپنے دوڑتے ہوئے “ شکاری “ کو دیکھ کر تفاخر سے مسکرایا ۔
قیمتی بوسکی کے بے داغ شلوار سوٹ پر شانوں کے گرد گرے شال لپیٹی ہوئی تھی ۔اس کی شہابی رنگت دھوپ کی تمازت سے سنہری مائل ہو گئی تھی ۔ وہ لوگوں کے ہجوم میں سب سے منفر د سب سے نمایاں ، مردانہ وجاہت کا شاہکار لگ رہا تھا ۔
میر زوار تک نینا کی شادی کی خبریں پہنچ رہی تھیں مگر وہ اب تک سر کان لپیٹے بیٹھا تھا ۔
اس کی خاموشی ساجد کی سمجھ سے بھی بالاتر تھی ۔ ساجد نے گہری نظر سے اس کی بے فکر چہرے کی طرف دیکھا پھر قدرے نذدیک ہوکر رازداری سے بولا ۔
سائیں ! کیا سوچا ہے آپ نے ، شادی میں اب کچھ ہی دن باقی رہ گئے ہیں ۔
سب کچھ سوچ لیا ، تم بے فکر رہو ۔ اب تو ان پر میرا دوگنا قرض چڑھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سود سمیت پورا وصول کروں گا ۔ اس دھوکے باز کی سزا میں نے سوچ لی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔سزا بھی ایسی ہے کہ وہ ایک ایک پل میں ہزاروں موت مرے گی ۔ میر زوار مسکراتے ہوئےسفاکی سے بولا ۔ ساجد کے بوڑھے چہرے پر طمانیت پھیل گئی ۔
تمام انتظامات تمھارے زمے لگاؤں گا ۔ تم سنبھال لینا ۔
فی الحال تم یہ دیکھو ! میرا “ شکاری “مجھ سے کبھی دغا نہیں کرتا ۔ ہمیشہ جیت کا سہرا میرے سر سجاتا ہے ۔ میر زوار کے لہجے میں اپنے دلپسند گھوڑے کے لئے ڈھیروں پیار تھا ۔
بے شک ! سائیں کی خیر ہو ۔ ساجد نے زور سے گردن ہلا کر تائید کی ۔
“””””””””””””””””””””””
میر زوار نے آخری پیگ لبوں سے لگا کر ایک ہی سانس میں ختم کیا ۔ آنکھیں نیند اور خمار سے دھندلا رہی تھیں ۔ اس نے سونے کی غرض سے شرٹ کے بٹن کھولے تبھی میر جازب بغیر دستک دئیے اندر آگیا ۔ میر زوار نے سر اٹھا کر اسے دیکھا ۔ وہ قہر آلود نظروں سے میر جازب کو گھوررہا تھا ۔
مارنا چاہتے ہو مجھے تو ماردو ، تمھارے سامنے کھڑا ہوں مگر اتنی بے رخی مت دکھاؤ ۔ تمھارے بغیر میں ادھورا ہوں ۔ میر جازب بے خوفی سے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولتے ہوئے آبدیدہ ہوگیا ۔
تم کس کی اجازت سے آئے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے تم سے کہا تھا کہ میرا اب تم سے کوئی رشتہ نہیں ہے پھر کیوں آئے ہو ؟میرزوار اسے گھورتے ہوئے پھنکارہ ۔
غلطی ہوگئی ، غلطی بھی نہیں گناہ کہہ لو مگر میں اعتراف کر چکا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے احساس ہے میں نے غلط کیا مگر میری نیت میں کوئی کھوٹ نہیں تھا ۔ میں نینا کو جتانا چاہتا تھا کہ میرا بھائی ایسا نہیں ہے جو وہ سمجھ رہی ہے ۔ اب مجھے کیا پتا تھا کہ تم بھی پھنس ہی جاؤگے ۔بدقسمتی سے تمھیں بیٹ والی بات بھی معلوم پڑگئی اور تم نے بات کا غلط مطلب لے لیا اور اب روٹھ کر بیٹھ گئے ہو ۔ میر جازب کہتے ہوئے میر زوار سے زبردستی لپٹ گیا ۔
مجھے کچھ نہیں سننا اور اگر اپنی ذندگی پیاری ہے تو فوراً یہاں سے چلے جاؤ ۔ میرزوار بدستور اپنی بات پر قائم تھا خود کو چھڑاتے ہوئے بے زاری سے بولا ۔
مجھے اپنی ذندگی سے پیار نہیں ہے اسی لئے آیا ہوں ۔ اب تم مجھے ماردو یا پھر میرے ساتھ چلو ۔میں تمھیں لئے بغیر نہیں جاؤں گا ۔ میری موت کی صورت میں بھی تم مجھے کاندھا دینے جاؤگے میرے ساتھ جاؤگے ۔ میر جازب بضد تھا ۔
میں نے کہا نا میں کہیں نہیں جاؤں گا ۔ مجھے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور مت کرو ورنہ نقصان اٹھاؤگے ۔ میرزوار نے ایک جھٹکے سے خود کو الگ کیا ۔
میں نقصان اٹھانے کے لئے تیار ہوں مگر تمھیں لئے بغیر ہلوں گا بھی نہیں ۔ دادا سائیں بھی تمھارے لئے پریشان ہیں اور اماں بھی اروما بھی سب اداس ہیں ۔ یار ! ایسی بھی کیا ناراضگی جو تم اپنوں سے بھی روٹھ کر بیٹھ گئے ہو ۔
تم میرے ساتھ سارے گھر کو سزا کیوں دے رہے ہو ۔۔۔۔؟؟
مجھے اپنے دکھ رونے کی عادت نہیں ورنہ میں تمھیں بتاتا کہ میں کس کرب سے گزرا ہوں اور کیسے میں نے خود کو سنبھالا ہے ۔ میر زوار کی آنکھوں کا گلابی پن ضبط سے سرخی میں بدل رہا تھا ۔
میرے بھائی تم نہ بھی بتاؤ تب بھی مجھے احساس ہے ۔ مجھے معاف کردو اور پلیز ! اللہ کے واسطے گھر چلو ۔ میر جازب ہاتھ جوڑے عاجزی سے گویا ہوا ۔
میر زوار اس کی منت سماجت پر بلآ خر مان گیا ۔ میر جازب نے ایک بار پھر اسے گلے لگاکر زور سے بھینچا ۔


ڈاکٹر صاحبہ ! آپ سے کوئی زرینہ ملنے آئی ہے ۔ اسے اند بھیج دوں ؟ سسٹر نے روم میں داخل ہوکر اسے بتایا ۔
زرینہ ؟ نینا نے سسٹر کی طرف دیکھتے ہوئے ذہن دوڑایا مگر پھر سر جھٹک کر بولی ۔
بھیج دو !!اس کی ڈیوٹی آف ہوچکی تھی اور وہ گھر جانے کے لئے جلدی جلدی اپنا سامان سمیٹ رہی تھی ۔ چند لمحے بعد میر ہاؤس کی ملازمہ اس کے سامنے کھڑی تھی ۔
سلام بی بی سرکار ! زرینہ نے مؤودبانہ سلام کیا ۔
زرینہ تم ! خیریت تو ہے ، یہاں کیسے آنا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ نینا نے حیرانگی سے دریافت کیا ۔
وہ جی اروما بی بی نے مجھے بھیجا ہے ۔ وہ بازار آئی تھیں اور اپنا موبائل گھر بھول گئیں اس لئے مجھے کہا کہ آپ کو اطلاع دوں اور اپنے ساتھ لے آؤں ۔ وہ بازار میں آپ کا انتظار کر رہی ہیں ۔ زرینہ نے طوطے کی طرح رٹایا گیا سبق دہرایا ۔
اف ، تمھاری اروما بی بی بھی پاگل ہے ، بھلا یہ کوئی شاپنگ کا وقت ہے ۔ نینا نے گویا سر پیٹا ۔
جلدی چلیں جی ، اروما بی بی نے کہا تھا دیر نہیں لگانی ۔
ہاں ہاں ، چلتے ہیں ۔ پہلے میں زعیم بھائی کو تو بتا دوں مجھے پک کرنے کے لئے نا آئیں بلاوجہ پریشان ہونگے ۔ نینا نےکال ملاتے ہوئے اسے جواب دیا ۔


اسے گاڑی میں سوار ہوئے کافی دیر گزر چکی تھی ۔ وہ جن مخصوس شاپنگ مالز سے شاپنگ کرتی تھیں وہ سب گزر چکے تھے اور اب گاڑی ڈفینس کے رہائشی ایریا میں داخل ہوچکی تھی ۔
یہ اروما کونسے شاپنگ مال گئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ سبھی مالز پیچھے رہ گئے ہیں ۔بالآخر نینا نے جھلا کر کہا ۔
وہ جی ، وہ آگے ہے ۔ فرنٹ سیٹ سے زرینہ کی گھبرائی ہو آواز بمشکل حلق سے نکلی ۔
کتنا آگے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ مجھے پتا ہے کہ اب آگے کوئی اور مال نہیں ہے ۔ تم دونوں کیا مجھے بے وقوف بنا رہے ہو ۔ نینا نے غصے سے ڈرائیونگ سیٹ کے بیک پر ہاتھ مارا ۔
ڈرائیور اور زرینہ جواباً خاموش رہے ۔
اس کی حیرت کی انتہا نا رہی جب گاڑی ایک بنگلےکے سامنے جا کر رکی اور ہارن پر گیٹ کھلتے ہی اندر داخل ہوگئی ۔
زرینہ ! سچ سچ بتاؤ ، تمھیں کس نے بھیجا ہے؟ نینا نے خفیف لہجے میں استفسار کیا ۔
مجھے معاف کردیں بی بی سرکار ! میں نے جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولا ۔ مجھ سے جھوٹ بلوایا گیا ہے ۔ زرینہ خوف سے سفید پڑتے چہرے کے ساتھ گھگیائی ۔
جاری ہے