Rate this Novel
Episode 06
میں صرف اتنا جانتی ہوں کہ میں تم سے محبت کرتی ہوں ، اس کے علاوہ مجھے کچھ سوچنے سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ تحریم ٹوٹے ہوئے لہجے میں کہتے ہوئے چند قدم آگے آئی پھر اپنے دونوں بازو زعیم شاہ کے گلے میں ڈال کر شرمناک حرکت کرتے ہوئے بے باکی کی انتہا کردی ۔
تم ہوش میں تو ہو یا پاگل ہوچکی ہو ۔۔۔۔۔۔ زعیم شاہ بدک کر پیچھے ہٹا مگر تحریم جذبوں کی رو میں بہک کربے قابو ہوتی جارہی تھی ۔
زعیم نے ایک جھٹکے سے اسے خود سے الگ کیا پھر اس کے منہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ مارا ۔تحریم نے لڑکھڑاتے ہوئے خود کو زمین بوس ہونے سے بچایا ۔
آج تم نے نا صرف ڈھٹائی اور بے حیائی کی انتہا کی ہے بلکہ خود کو میری نظروں میں بھی گرادیا ہے ۔ مجھے یقین نہیں آرہا کہ تم اتنی گری ہوئی لڑکی ثابت ہوگی ۔
افسوس تو اس بات کا ہے کہ تم میرے خاندان کا حصہ ہو اور میرےخاندان کی عورت تمھارےجیسی ناپاک کیسے ہوسکتی ہے۔
تحریم تھپڑ کھانے کے بعد رخسار پر ہاتھ دھرے سن کھڑی تھی ۔
دل کرتا ہے دو گولیاں تمھارے سینے میں اتار کر اپنے خاندان کو تمھارے جیسی گندگی سے پاک کردوں مگر اس میں رسوائی میرے ہی خاندان کی ہوگی اس لئے تم میرے ہاتھوں قتل ہونے سے بچ گئی ہو۔ زعیم شاہ دانت بھینچے غرارہا تھا ۔ کنپٹیوں کی رگیں تن گئیں تھیں ۔
یہی ناپاک حرکت تمھاری چہیتی اروما نے کی ہوتی تو تم نے اس کا بھرپور ساتھ دینا تھا مگر یہی حرکت میں نے کی تو تمھاری نظروں میں گناہ گار ہوگئی ۔وہ حواسوں میں لوٹتے ہی بدلحاضی سے چلائی ۔
میں اس کے کردار پر قسم اٹھا سکتا ہوں کہ وہ مرکر بھی اس حد تک نہیں جا سکتی ۔ وہ ظاہری ہی نہیں باطنی طور پر بھی پاکیزہ ہے ۔
وہ تمھاری طرح شرافت کا لبادہ اوڑھ کر خاندان والوں کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونک رہی اور خبردار آج کے بعد اپنی گندی زبان سے اس کا نام بھی لیا تو تمھاری زبان کھینچ لوں گا ۔ شاہ نے غصے سے کھولتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ کر گھسیٹا پھر دروازہ کھول کر پھینکنے کے انداز میں د ھکا دیا ۔
تحریم اپنے نازک وجود کا توازن برقرار نہیں رکھ سکی اور بیچ کاریڈور میں دھڑام سے گرپڑی۔
شاہ ! تم ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے اٹھتے ہوئے کچھ کہنے کے لئے لب کشائی کی مگر شاہ نے دھاڑ سے دروازہ بند کرکے لاک کرنے کے ساتھ بولٹ بھی چڑھا دیا۔
تحریم کا پورا بدن بے عزتی اور غصے کی شدت سے کپکپا رہا تھا ۔
وہ ناجانے کتنی دیر تک بند دروازے کو خون آشام نظروں سے گھورتی رہی پھر آنکھوں سے بہتے ہوئے سیلاب کو ہتھیلیوں سے رگڑتے ہوئے اپنے روم میں چلی گئی ۔
کل ہی بابا سائیں سے بات کرتا ہوں ۔ شادی کے علاوہ اس کا کوئی علاج نہیں ہے جلد از جلد اس لڑکی کا بندوبست کرنا پڑے گا ورنہ یہ مجھ سمیت پورے خاندان کی عزت کوداؤ پر لگادے گی۔شاہ نےتفکرسے سوچتے ہوئے سگریٹ سلگا کر لبوں میں دبایا ۔
فجر کی اذان ہورہی تھی مگر نیند اس کی آنکھوں سے کوسو دور تھی ۔ روم میں یہاں سے وہاں چکر کاٹ کر ٹانگیں شل ہو چکی تھیں ۔دماغ میں جوار بھاٹا پھٹ رہا تھا ۔ وہ دونوں ہاتھوں میں سر تھام کر بیڈ پر گرنے کے انداز میں بیٹھ گیا ۔
“””””””””””””””””””
بابا سائیں ! مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے ۔ زعیم شاہ نے اندر قدم رکھتے ہی بلند آواز میں کہا ۔
معظم شاہ کا مینیجر ان سے کوئی مسئلہ ڈسکس کر رہا تھا ، شاہ کے اشارے پر فائلز سمیٹ کر چلتا بنا ۔معظم شاہ نے استہفامیہ نظروں سے اسے دیکھا ۔
آپ مکتوم چاچا سے بات کریں کہ وہ تحریم کے لئے آئے ہوئے رشتوں میں سے کوئی رشتہ فائنل کریں اور اس کی شادی کی تیاریاں شروع کریں ۔ شاہ نے بغیر تہمید کے دو ٹوک بات کی ۔
خیریت ! ایسی بھی کیا تباہی ہے جو تم اتنی عجلت مچارہے ہو ؟
وہ متعجب ہوئے ۔
کوئی تو بات ہوگی ، اس لئے کہہ رہا ہوں ۔ اس نے جتایا ۔
اگر ایسی کوئی بات ہے تو مجھے کھل کر بتاؤ تاکہ میں کوئی بہتر فیصلہ کر سکوں ۔
یہ میں آپ کو نہیں بتا سکتا بس آپ اتنا سمجھ لیں کہ جتنی جلدی ہوسکے تحریم کی شادی کروادیں ۔ وہ بے حد سنجیدہ تھا ۔
دراصل بات یہ ہے کہ مکتوم شاہ تحریم کی شادی تم سے کرنے کے خواہش مند ہیں ۔ وہ اس سلسلے میں ایک دوبار مجھے اشارتاً کہہ چکے ہیں کہ ہم کوئی رسم کریں تاکہ خاندان والوں کو بھی مدعو کیا جاسکے ۔
اسی وجہ سےمیں چاہتاہوں کہ آپ ان کی یہ غلط فہمی دور کردیں۔
میں ہر گز تحریم سے شادی نہیں کروں گا ۔ وہ برہم ہوا ۔
تحریم میں کیا کمی ہے جو تمھیں اعتراض ہورہا ہے بلکہ میری نظر میں تو تحریم تمھارے لئے بہترین لائف پارٹنر ثابت ہوگی ۔معظم شاہ نا گواری چھپائے رسانیت سے بولے ۔
آ پ کیسی باتیں کررہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے کبھی نینا اور تحریم میں فرق نہیں سمجھا ۔اب میں کیسے اس سے شادی کے بارے میں سوچ سکتا ہوں ۔ وہ جھنجلایا ۔
کزن میرج میں ایسا ہی ہوتا ہے ، شروعات میں نئے رشتے کو سمجھنا دشوار ہوتا ہے مگر دھیرے دھیرے عادت پڑ جاتی ہے اور سب کچھ نارمل ہوجاتا ہے ۔ ہمارے خاندانوں میں صدیوں سے یہ رسم چلی آرہی ہے ، تم کوئی انوکھا رشتہ جوڑنے نہیں جارہے ۔
معظم شاہ نے جتایا۔
میں آپ سے صرف یہ کہنے آیا ہوں کے میں کسی صورت تحریم سے شادی نہیں کروں گا ۔ آپ اس کے لئے کوئی اور رشتہ دیکھیں اور جلد از جلد شادی کردیں ۔ وہ بھنا کر کہتا ہوا اٹھ گیا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا روم سے باہر نکل گیا ۔
معظم شاہ پرسوچ نگاہوں سے اسے جاتا ہوا دیکھ رہے تھے ۔
“””””””””””””””””””
وہ رات سے کمرے میں بند زعیم شاہ کے ہاتھوں ہوئی اپنی بے عزتی کا سوگ منا رہی تھی۔
دو تین بار رانیہ کمرے میں آئیں مگر اسے سوئی ہوئی سمجھ کر واپس لوٹ گئیں ۔
وہ اپنی سارے توانائیاں سمیٹ کر اٹھی اور بیڈ سے پاؤں نیچے لٹکا کر بیٹھ گئی ۔ اپنے بکھرے بالوں کو سمیٹ کر جوڑا بنایاپھر سست روی سے چلتی ہوئی آئینے کے سامنے آکر کھڑی ہوگئی۔رخسار پر زعیم شاہ کے بھاری ہاتھ کی انگلیوں کے نشان ابھر کر واضح نظر آرہے تھے ۔
آنکھیں یکلخت لبالب پانیوں سے بھر گئیں ۔ شاہ تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھا کر میری محبت کی تو ہین کی ہے ۔ میں اس کے لئے تمھیں کبھی معاف نہیں کروں گی ۔ ایسا بدلوں گی کہ تم بھی میری طرح بند کمرے میں منہ چھپائے رونے پر مجبور ہوجاؤگے ۔
وہ ہچکیوں سے روتے ہوئے وارڈروب سے اپنے کپڑے نکال رہی تھی ۔
مجھ میں ، میری محبت میں ایسی کونسی کمی تھی جو تم نے میرے ساتھ اتنا برا سلوک کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے اظہار پر میرے منہ پر تھپڑ دے مارا ۔۔۔۔۔۔۔۔ تم نے مجھے محبت کرنے کی کتنی بڑی سزا دی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا ہوجاتا اگر تم ہمارے بیچ اس منحوس اروما کو نہیں لاتے ۔۔۔۔۔۔۔۔بچپن سے میں نے تمھیں چاہا ، تمھارا انتظار کیا اور تم نے مجھے دھتکار کر میری جگہ اروما کو دے دی ۔
میری جتنی بے عزتی تم کر سکتے تھے تم نے کرلی مگر اب میری باری ہے ۔ اب تم دیکھنا زعیم شاہ شیرازی میں تمھیں کس طرح منہ کے بل گراتی ہوں ۔
اگرمیری محبت مجھےنہیں مل سکتی تو میں تمھیں تمھاری محبت بھی حاصل نہیں کرنے دوں گی۔ وہ شاور کے نیچے کھڑی مسلسل پانی بہاتے ہوئے نفرت سے سوچ رہی تھی ۔
اپنے خیال کو عملی جامہ پہنانے کے لئے واش روم سے باہر نکل کر تیار ہوئی اور خود کو ہشاش بشاش ظاہر کرتے ہوئے روم سے باہر نکل آئی ۔
ماما ! آپ لوگ یہاں ہیں ، میں پورے گھر میں آپ کو ڈھونڈ رہی تھی ۔ زرینہ نے بتایا کہ آپ لوگ لان میں ہیں ۔ وہ رانیہ کی چئیر کے پاس آکر مسکراتے ہوئے بولی ۔ لان کی مدہم روشنیوں اور میک اپ کی تہہ میں اس کے رخسار پر پڑنے والا نشان بھی مدہم پڑ گیا تھا ۔
بیٹھو جاؤ ، صبح سے غائب ہو ۔ تمھاری طبیعت تو ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ عروش نے اس کا ہاتھ تھام کر فکرمندی سے پوچھا ۔
سر میں درد تھا اس لئے آرام کر رہی تھی ۔
ہم سب نے اپنی پیکنگ کر لی ہے ، تمھارا بھی کوئی ضروری سامان ہے تو تم بھی رات تک پیکنگ کرلینا ۔ ہم صبح گاؤں کے لئے روانہ ہورہے ہیں ۔ رانیہ بولیں ۔
ماما ! آپ جائیں ۔میں ابھی گاؤں نہیں جارہی،کچھ دن یہیں رہوں گی۔
لیکن کیوں ؟ ہمیں یہاں رہتے ہوئے کافی دن ہوگئے ہیں ۔ اب تمھیں بھی ہمارےساتھ چلنا چاہئے۔رانیہ حیرت سے گویا ہوئیں۔
میراموڈ نہیں ہے ۔ میں کچھ دن مزید کراچی میں گزارنا چاہتی ہو ۔
جیسی تمھاری مرضی ۔ جب دل چاہے آجانا ۔ عروش نے بحث سمیٹی ۔
نینا کہاں ہے ۔۔۔۔۔۔؟ نظر نہیں آرہی ۔ تحریم نے عروش سے استفسار کیا ۔
وہ اپنے بابا سائیں کے ساتھ اسلام آباد گئی ہے ۔ دو تین دن میں ان کی واپسی ہوگی ۔ عروش نے چائے کا سپ لیتے ہوئے سرسری انداز میں بتایا ۔
ہممم ۔۔۔۔۔ ماما ! میں میر ہاؤس جا رہی ڈنر وہیں کروں گی ۔ وہ پرسوچ انداز میں کہتے ہوئے اٹھ گئی ۔
“””””””””””””””””””
نینا ! تم کتنا سوتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔میں دس بار تمھارے روم کا چکر لگا کر جا چکی ہوں ۔ تحریم لیونگ روم میں بیٹھی ہوئی تھی نینا کو دیکھتے ہی چلائی۔ وہ اپنی پلاننگ کے تحت کراچی میں رک تو گئی تھی مگر اس کا دل یہاں نہیں لگ رہا تھا ۔
آپی ! نیندیں پوری کررہی ہوں ۔ ڈیوٹی جوائن کرلوں گی تو پھر کہاں نیند نصیب ہونے والی ہے ۔ وہ ٹھنڈی آہ بھر کر بولی ۔
یہ تو تم ٹھیک کہہ رہی ہو ۔ تمھیں نائیٹ ڈیوٹی بھی دینی پڑے گی ۔ تحریم مزید بولی ۔
جی ۔ نینا مختصراً جواب دیا ۔
آپ کہیں جا رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ تحریم کی تیاری پر نظر دوڑاتے ہوئے نینا نے استفسار کیا ۔
میر ہاؤس جا رہی ہوں ۔ تم چلوگی ۔۔۔۔۔؟
آپ پرسوں بھی تو میر ہاؤس گئی تھیں ۔ نینا سوچتے ہوئے بولی ۔
ہاں گئی تھی،تو کیا تم میرے وہاں جانے کا حساب رکھنے لگی ہو؟
تحریم تنک کر بولی ۔
ارے نہیں ، وہ تو اروما سے فون پر بات ہورہی تھی جب میں اسلام آباد میں تھی ۔ اسی نے ذکر کیا تھا ۔نینانے سٹپٹا کر صفائی دی ۔
میں اکیلی گھر پر رہ کیا کروں گی ،بھی چلتی ہوں ۔۔۔۔۔۔وہ منہ بنا کر بولی ۔
تم جلدی سے چینج کرلو ۔ میں تمھارا ویٹ کررہی ہوں اور دیکھو ذیادہ ٹائم مت لگانا ۔ تحریم نے اسے تنبیہہ کی ۔
بس پانچ منٹ میں آتی ہوں ۔ نینا چٹکی بجا کر کہتے ہوئے بھاگ گئی ۔
“””””””””””””””””””
میر جازب کے جوک پر اروما اور تحریم بے تحاشہ ہنس رہی تھیں۔نگین بھی اس کی باتوں سے محفوظ ہورہی تھیں ۔جبکہ نینا فقط مسکراتے ہوئے تحریم کو دیکھے جارہی تھی ۔
اے خوبصورت لڑکی ! تم کہاں گم ہو ؟ تمھیں جازب بھائی کے جوک پر ہنسی نہیں آئی ۔۔۔۔۔۔؟ اروما نے اسے ٹوکا ۔
نہیں آئی ۔ میرا دیھان کہیں اور تھا ۔ نینا کے چہرے پر گہری سوچ رقم تھی ۔
کیا سوچ رہی ہو ۔۔۔۔؟ وہ نینا کے برابر آبیٹھی ۔
یہی کہ تحریم آپی ان دونوں بدل سی گئی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے آج سے پہلے کبھی انہیں اتنے خوشگوار موڈ میں نہیں دیکھا مگر آج تو وہ یکسر بدلی ہوئی نظر آرہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اتنا تو وہ اپنی پوری لائف میں نہیں ہنسی ہونگی جتنا ابھی ہنس رہی ہیں ۔ نینا اس کے قریب ہوتے ہوئے انتہائی دھیمی آواز میں بولی ۔
تمھاری قسم نین ! میں بھی کچھ دنوں سے نوٹ کررہی ہوں ۔اس ہفتے میں ہمارے گھر ان کا تیسرا چکر ہے ۔ پہلے تو کتنے ہی مہینے گزرجاتے تھے کراچی آتی بھی تھیں تو بغیر ملے واپس چلی جاتی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یونیورسٹی کے دنوں میں بھی شازونادر
ایک آدھ چکر لگاتیں ۔ اروما نے دھیرے دھیرے اس کی معلومات میں اضافہ کیا ۔
مجھے بھی حیرت ہورہی ہے اور جب میں نے ان سے کہا کہ آپ پرسوں بھی گئی تھیں تو بھڑک گئیں پھر میں خاموش ہوگئی مگر مجھے دال میں کچھ کالا لگ رہا ہے ۔ نینا نے رازداری سے کہا ۔
مجھے تو پوری دال ہی کالی لگ رہی ہے کیونکہ وہ کہاں کسی کو لفٹ کرواتی ہیں ۔ اروما اور نینا اپنی اپنی جگہ حیران تھیں ۔
لیڈیز ! کونسے سیکریٹس شئیر کئے جارہے ہیں ۔ میر جازب کافی دیر سے انہیں کھسر پھسر کرتے دیکھ رہا تھا ۔
تمھاری برائیاں کررہے ہیں ۔ نینا برجستہ بولی ۔
وہ تو میں جانتا ہوں تمھیں بیک بائیٹنگ کی عادت ہے ۔ میر جازب ترکی بہ ترکی بولا ۔
تم نے مجھے کہاں دیکھا ہے بیک بائیٹنگ کرتے ہوئے ؟ نینا تڑخ کر بولی ۔
ابھی تم نے خود ہی تو کہا ۔ میر جازب نے اسے مزید تپایا ۔
وہ دونوں ایک دوسرے سے الجھنے لگے ۔
رومی ! تم دیکھو کھانے میں کتنی دیر ہے ، تمھارے بابا سائیں بھی آنے والے ہونگے ۔میں نماز پڑھ رہی ہوں پھر کھانا لگوادینا ۔نگین نے اروما کو کام سے لگایا ۔
جی اماں ! میں پتا کرلیتی ہوں ۔ اروما فوراً کھڑی ہوگئی ۔
رومی ! میں بھی تمھارے ساتھ چلتی ہوں ۔ تحریم سائے کی طرح اروما کے ساتھ لگی ہوئی تھی ۔ وہ تینوں ایک ساتھ باہر چلی گئیں ۔
نین ! تحریم بی بی کے تیور ہی بدل گئے ہیں ۔ کیا تم جانتی ہو اس کے پیچھے کیا راز ہے ۔۔۔۔۔۔؟ میر جازب نے ان کے نکلتے ہی نینا سے کہا ۔
ہم بھی ابھی یہی بات کر رہے تھے ۔ جب تم نے بیچ میں اپنی ٹانگ اڑائی ۔
کہیں عشق کا چکر تو نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ نینا نے گول گول آنکھیں گھمائیں ۔
بے وقوف لڑکی ! عشق میں بندہ ہنسنا بھول جاتا ہے اور یہ قہقہے لگا رہی ہے ۔ عشق کا چکر کیسے ہو سکتا ہے ۔ میر جازب نے اپنا سر پیٹا ۔
تمھارے ساتھ ہی قہقہے لگارہی تھیں ، تمھارا ہی تو چکر نہیں ہے ؟
نین! تمھیں جس نے بھی ڈاکٹر کی ڈگری دی ہے ، بہت جلد میں انہیں چوک پر لٹکانے والا ہوں ۔ میر جازب نے اس کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا ۔
بولنے سے پہلے تھوڑا سا تو سوچ لیا کرو۔پورا خاندان جانتا ہے کہ تحریم تمھارے بھائی میں انٹریسٹڈ ہے ۔
واٹ ! یہ کب ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پورے خاندان کو پتا ہےاور مجھے کسی نے بھی نہیں بتایا ۔میر جازب کے انکشاف پر نینا اچھل پڑی ۔
زعیم بھائی کے ساتھ آپی تو بلکل سوٹ نہیں کرتیں ۔نینا نے منہ بنایا پھر یکدم ہی میر جازب کا ہاتھ پکڑ بولی ۔
شرم کرو ، کسی کے بارے میں ایسا نہیں بولتے ۔ میر جازب نے ٹوکا ۔
چھوڑو انہیں ، تم نے مجھے اپنی گرل فرینڈ کے بارے میں اب تک کچھ نہیں بتایا ۔
میری کوئی گرل فرینڈ ہوگی تو بتاؤں گا ناں ۔
جھوٹ مت بولو ۔۔۔۔۔۔
جھوٹ کیوں بولوں گا ، نہیں ہے تو بس نہیں ہے ۔ میر جازب نے شانے اچکائے ۔
تو کب بناؤگے ؟ کب شادی کروگے ۔۔۔۔۔؟ وہ بے چینی سے بولی جیسے میر جازب سے ذیادہ اسے میر کی شادی کی فکر ہو ۔
ہائے ۔۔۔۔۔۔ہمارے اتنے اچھے نصیب کہاں ۔ پہلے بڑے سرکار تو شادی کے لئے ہامی بھریں ، ان کے بعد ہی میرا نمبر آئے گا ۔ میر جازب کا اشارہ میر زوار کی طرف تھا ۔
وہ کب شادی کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔؟ اچھے خاصے عمر رسیدہ لگنے لگے ہیں ۔ نینا کھلکھلائی ۔
شٹ اپ ! میرے بھائی کے بارے میں کچھ کہا تو تمھارے خوبصورت دانت توڑ دوں گا ۔ میر جازب نے پنچ بنا کے اس کے ہونٹوں سے لگایا ۔
نینا سچ بولنے سے کبھی نہیں جھجکتی اور ڈنکے کی چوٹ پر بولتی ہے ۔ نینانے اترا کر کہا ۔
دوبارہ بولو پھر میں بھی جو کروں گا ڈنکے کی چوٹ پر کروں گا ۔میر جازب برجستہ بولا ۔نینا دل کھول کر ہنسی ۔
تو پھر تمھارا بھائی شادی کیوں نہیں کرتا ، میرا بھائی بھی شادی نہیں کرتا ۔ یہ آجکل کے لڑکوں کو ہوا کیا ہے ۔۔۔نینا خاصی جھنجھلائی ہوئی تھی ۔
ہم میروں کا تو ہمیں پتا ہے ، ہمیں مشکل سے ہی کوئی لڑکی بھاتی ہے ۔ تمھارے بھائی کی تم جانو ۔ میر جازب بے نیازی سے گویا تھا ۔
میں لڑکا ہوتی تو ضرور اپنے بھائی کے بارے میں جانتی مگر افسوس کے میں لڑکی ہوں اس لئے کچھ نہیں کہہ سکتی ۔ نینا تاسف سے بولی ۔
تم اپنے بھائی کو راضی کرو اور تمھارے لئے لڑکی میں ڈھونڈتی ہوں پھر جلدی سے شادی کروادوں گی تاکہ اپنی شادی سے پہلے میں خاندان کی دو چار شادیاں تو انجوائے کرسکوں ۔
تم میرے بھائی کی شادی کا خیال دل سے نکال دوں ، ہاں میرے لئے چاہو تو ڈھونڈ سکتی ہو ۔ میر جازب مسکراہٹ دبائے سنجیدگی سے بولا ۔
کمال ہے،ہم سب بچپن سے ان کے پیرنٹس کے عشق کی کہانیاں سنتے آئے ہیں اور بیٹے کو شادی میں بھی دلچسپی نہیں ہے ۔ وہ متعجب ہوئی۔
تم کیسے دوست ہو ، انہیں شادی کے لئے راضی کرو تاکہ تمھاری بھی شادی ہو ۔ خاندان میں شادیوں کا سیزن آئے ۔ مجھے بہت ذیادہ انجوائے کرنا ہے ۔ نینا جوش سے بولی ۔
اسے شادی یا لڑکیوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ کبھی کسی کے چکر میں نہیں آتا ناکسی کو پاس بھٹکنے دیتاہے ۔میر جازب نے نفی میں سرہلایا۔
تم کیسے کہہ سکتے ہو کہ انہیں لڑکیوں میں دلچسپی نہیں ہے ؟ نینا یکدم سنجیدہ ہوگئی ۔
کیونکہ مجھے سو فیصد یقین ہے اسے مجھ سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ میر جازب کا لہجہ پر اعتماد تھا ۔
اگر میں تمھارا یقین غلط فہمی میں بدل دوں تو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ نینا کی آنکھیں شرارت سے چمکیں ۔
وہ کیسے ۔۔۔۔۔؟
یہ تم مجھ پر چھوڑ دو مگر میں تمھاری غلط فہمی دور کردوں گی کہ انہیں لڑکیوں میں دلچسپی نہیں ہے ۔
پھر بھی کچھ بتاؤ تو سہی کس طرح ثابت کروگی ۔میر جازب نے اسے اکسایا ۔
تم نے اس دن سنا نہیں تھا ، میں جس دن ہاں کروں گی وہ حاضر ہو جائیں گے ۔ نینا نے فرضی کالر جھاڑے ۔
وہ مذاق کر رہا تھا ، اس کا دور دور تک بھی شادی کا ارادہ نہیں ہے ۔ میر جازب نے اس کی بات چٹکیوں میں اڑ دی ۔
وہ مذاق نہیں کر رہے تھے بلکل سیریس تھے ۔ نینا ٹھوس لہجے میں بولی ۔
اس طرح کی مکالمے بازی تو وہ کرسکتا ہے مگر اس معاملے میں سنجیدہ نہیں ہوسکتا ۔ میر جازب بضد تھا ۔
ایک لڑکی اپنے اوپر اٹھنے والی نظر کو فوراً پہچان لیتی ہے، وہ جانتی ہے کہ اس نظر میں کیا چھپا ہے۔میرے لئے ان کی نظر میں پسندیدگی کا عنصر نمایاں ہے ۔میرا اندازہ غلط نہیں ہوسکتا ۔ وہ وثوق سے بولی ۔
تمھارا اندازہ سو فیصد غلط ہے ۔ تمھیں نظر کا دھوکا ہوا ہے ۔وہ ایسا نہیں ہے ۔ میر جازب ماننے کے لئے تیار ہی نہیں تھا ۔
اگر میں نے ثابت کردیا تو مان جاؤگے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟
ہاں مان جاؤں گا ، تم ٹرائے کرکے دیکھ لو ۔ تم ہی غلط ثابت ہوگی ۔ وہ تمھارے چکر میں کبھی نہیں آئے گا ۔ میر جازب تمسخرانہ بولا ۔
لگی شرط ۔۔۔۔۔۔؟ نینا نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا ۔
لگ گئی ۔۔۔۔۔۔۔میر جازب نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ مارا۔
نینا کا دماغ تیزی سے چلنا شروع ہوگیا تھا ۔ وہ میر زوار کی آنکھوں میں اپنے لئے بدلتے رنگ دیکھ چکی تھی ۔ اس کے لئے یہ شرط جیتنا نہایت ہی آسان تھا ۔
تحریم واپس آئی تو ان کی باتیں سن کر ٹھٹک گئی ۔وہ دروازے کی اوٹ میں کھڑی ہوکر ان کا پورا پلان سن چکی تھی مگر اس نے پوری گفتگو کی ویڈیو بنانا بھی ضروری سمجھا تھا کہ اپنی پلاننگ میں کبھی نا کبھی یہ وڈیو بھی کام آسکتی ہے ۔
ویڈیو بنانے کے بعد کیمرہ آف کرکے مسکراتی ہوئی اندر چلی آئی ۔
جاری ہے
