60.7K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

سرد یخ بستہ رات میں ساحلِ سمندر پر صبح کے چار بجے دور دور تک بھی کسی زی روح کا نام و نشان نہیں تھااور وہ دونوں گھنٹوں سے ایک دوسرےکے سحر میں گرفتار عشق کا لامتناہی سفر طے کررہے تھے ۔
ایک میر زوار تھا جو کچھ عرصہ قبل عورت کو وقت گزاری کے قابل بھی نہیں سمجھتا تھا ۔اپنے ارد گرد ہجوم لگائے بے شوخ حسیناؤں کے تباہ کن سراپوں سے نظر چرائے ، اپنے دل اور ذندگی کی ویرانی کو نظر انداز کئے آگے بڑھتا چلا گیا اور آج ایک عورت کی ہی زلف گرہ گیر کا اسیر ہو کر سدھ بدھ بھلائے بیٹھا تھا ۔
ایک نینا شاہ تھی جو نو عمری سے ہی بے تحاشہ دلوں کی دھڑکن بنی رہی ، ان گنت دلوں کو اپنے لئے دھڑکتا دیکھ کر بے تحاشہ ہنستی اور ہنستی ہی چلی جاتی مگر کبھی کسی کو اپنے دل تک رسائی نہیں دی اور آج میر زوار کے ایک اشارے پر دنیا کی پرواہ کئے بغیر دوڑی چلی آتی پھر دونوں ہاتھوں میں ہاتھ دئیے رات آنکھوں میں گزاردیتے ۔
نینا اسے دن بھر کی روداد سناتی ، بولتی چلی جاتی اور میر زوار اسے یک ٹک دیکھے جاتا ۔ وہ پل نینا کو اپنی ذندگی کی قیمتی متاع لگتے ۔
کورٹ کچہری ،سیاسی جھمیلوں ، کاروباری مسئلوں سے دن بھر نمپٹنے کے بعد یہ ملاقاتیں اور نینا کی میٹھی باتیں دلچسپ اندازِ بیاں میر زوار کے لئے ٹانک کا کام کرتی تھیں ۔ وہ بغیر ٹوکے پہروں اسے سنتا ۔
نینا دل میں سوچتی کاش یہ وقت یہیں ٹہر جائے،
میر زوار اور اس کے درمیان کوئی پل جدائی کا نہ آئے ۔ شرط والا مذاق اسے اندر ہی اندر کھائے جارہا تھا ۔
مٹھا سائیں ! وہاں دیکھیں ۔ آسمان کی طرف ، چاند کتنا خوبصورت لگ رہا ہے اور آپ ہیں کہ مجھ پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں ۔ تاحدِ نگاہ پھیلے ہوئےسمندر کی منہ زور لہریں رات کے اس پہر دیوانہ وار آکر گاڑی کے پہیوں سے ٹکراتیں پھر دم توڑ جاتیں ۔
نینا فرنٹ سیٹ پر بیٹھی مبہوت سی چاند کو دیکھ رہی تھی ۔
میر زوار نے اس کی نظروں کے ارتکاز میں چاند کی سمت دیکھا پھر دوبارہ نظریں اس کے چاند کی طرح دمکتے چہرے پر ٹکادیں ۔
میرے پہلو میں مکمل چاند اپنی چاندنی سمیت براجمان ہے ، مجھے اس چاند کے دیدار میں کشش کیونکر محسوس ہوگی ۔ میں جب چاہوں ہاتھ بڑھا کر چاند کو چھو سکتا ہوں ۔ میر زوار ڈرائیونگ سیٹ کی پشت پر دونوں ہاتھ سر کے نیچے ٹکائے نیم دراز تھا زرا سا ہاتھ بڑھا کر نینا کے گلابی رخسار کو دو انگلیوں سے چھوا ۔ نینا اس کے بے اختیار چھو لینے پر جھینپ جاتی تھی ۔ اب بھی اپنی جھینپ مٹانے کے لئے فوراً بولی ۔
زار ! قدرت کے حسین شاہکاروں میں جو مجھے سب سے ذیادہ متاثر کرتے ہیں ان میں ایک چاند اور دوسرا یہ تاحدِ نگاہ پھیلا ہوا سمندر ہے اور جب یہ دونوں ایک ساتھ میرے سامنے ہوتے ہیں تو مجھے گردو پیش سے بیگانہ کردیتے ہیں ۔ وہ ٹھوڑی پر ہتھیلی جمائے بولی ۔
اور مجھے فقط تم ۔ میر زوار نے انگلی سے اس کی بکھری زلفوں کی ایک لٹ کو چھیڑا پھر ڈیش بورڈ پر پڑا سگریٹ کیس اٹھایا اور سگریٹ نکال کر سلگائی ۔
ایک دو دن میں بابا سائیں پاکستان واپس آجائیں گے پھر انہیں اور تائی سائیں کو تمھارے گھربھیجوں گا ۔ اس سے پہلے اگر تم اپنے پیرنٹس کو بتانا چاہتی ہو تو بتادو ویسے میرا نہیں خیال کے وہ کوئی مسئلہ کریں گے ۔ میر زوار نے گہرا کش لے کر شرارتاً دھواں اس پر پھونک دیا ۔ حسبِ توقع نینا نے زوردار چیخ مار کر میر زوار کے سینے پر ہاتھ مارا ۔
مجھے بابا سائیں کا بھی اسموکنگ کرنا پسند نہیں ہے ،میرے سامنے وہ بھی سگریٹ سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ایک تو آپ کھلے عام پیتے ہیں اور پھر بدتمیزی بھی کرتے ہیں ۔ وہ غراتے ہوئے کھانس پڑی ۔
میری بیٹی کو اسموکنگ ناپسند ہوگی تو میں بھی نہیں کروں گا مگر تم تو میری بیوی ہو ، تمھارےساتھ بدتمیزی کرنے کا تو میرا پوراحق بنتا ہے ۔ وہ شرارت سے کہتا ہوا ایک بار پھر بھرپور کش لے کر دھوئیں کا مرغولہ اس کی طرف روانہ کرچکا تھا ۔
زار ! اگر اب آپ نے دوبارہ ایسی حرکت کی تو میں اسی وقت چلی جاؤنگی اور شادی تک ملنے کے لئے کتنی بھی منتیں کریں گے تب بھی نہیں آؤنگی ۔ نینا نے اس کے گال پر ہلکا سا تھپڑ لگا کر دھمکی دی ۔
ایسا سوچنا بھی مت ورنہ میں شادی کے لئے صبح تک کا بھی انتظار نہیں کروں گا ۔ میرزوار یکدم اس کی کلائی تھام کر انتہائی برہمی سے بولا ۔ اس کے حد درجہ سنجیدگی سے کہنے پر نینا بے ساختہ ہنس پڑی ۔
“ بیٹی ہنس ہنس کر پاگل کرتی ہے ، باپ اپنے سیاسی حربے مجھ پر آزماکر دماغ خراب کرتا رہتا ہے ۔ دونوں باپ بیٹی نے مل کر جینا حرام کردیا ہے ۔یار! میں بھی کہاں پھنس گیا ۔ “ میر زوار نے شیو پر ہاتھ پھیرتے ہوئے دل میں سوچا ۔
اس نے نینا کی نرم و نازک کلائی کو ہلکاساجھٹکا دیا اور نینا اس کے سینے سے جا لگی ۔ میر زوار کے بدلتے موڈ پر نینا کی کھنکتی ہنسی یک لخت تھم گئی ۔
نینا نے دونوں ہاتھ اس کے سینے پر جماکر دور ہٹنا چاہا مگر میر زوار من مانی کرتے ہوئے اپنے آہنی بازوؤں سے اس کی کمر کے گرد احاطہ کرچکا تھا ۔
“””””””””””””””””””
شاہ ! کل مسز حمید شاہ کی کال آئی تھی ۔ وہ نینا کے رشتے کے سلسے میں ہمارے گھر آنا چاہتی ہیں ۔ عروش نے معظم شاہ کے کوٹ کا بٹن بند کرتے ہوئے آگاہ کیا ۔
انہوں نے خود کہا ہے کہ وہ نین کے لئے آرہی ہیں ؟ معظم شاہ نےاستفسار کیا ۔
میں نے ان کی باتوں سے اندازہ لگایا ہے ۔ اس دن برتھڈے پارٹی پر بھی میں نے نوٹ کیا تھا وہ نینا کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھ رہی تھیں اور کل فون پر بات کرتے ہوئے مجھے یقین ہوگیا ہے کہ وہ اپنے بیٹے سنان شاہ کے لئے نینا کا رشتہ مانگنا چاہتی ہیں ۔ عروش نے تفصیلی جواب دیا ۔
ہوں ۔۔۔۔۔۔ معظم شاہ نے پرسوچ انداز میں ہنکارہ بھرا ۔
ٹھیک ہے ، تم انہیں بلالو ۔ وہ لڑکا ہر لحاظ سے اچھا ہے ۔ نینا کی طرف سے کوئی فکر نہیں ہے ، وہ اپنی شادی کے فیصلے کا اختیار مجھے پہلے ہی سونپ چکی ہے ۔زعیم شاہ سے بھی اس کی رائے لے لوں گا ۔
ایک بات مجھے تنگ کررہی ہے ۔ عروش پریشانی سے بولی ۔
کونسی بات ۔۔۔۔۔۔۔؟
یہی کہ تحریم نینا سے بڑی ہے اگر نینا کا رشتہ طے ہوگیا تو رانیہ اور مکتوم کو کتنا برا لگے گا،وہ ہمارے آسرے پر بیٹھے ہیں اور شاہ ہے کہ سننے کے لئے بھی تیار نہیں ہے ۔
مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ وہ کسی میں انٹریسٹڈ ہے اسی لئے وہ ہر بار اس ذکر پر بدک جاتا ہے اور چاہتا ہے کہ پہلےتحریم کی شادی ہوجائے پھر وہ اس سلسلے کو آگے بڑھائے ۔ معظم شاہ پرسوچ انداز میں بولے ۔
آپ کا یہ اندازہ درست ہوا تو ہمیں سب کے سامنے بہت شرمندگی ہوگی ، خاص طور پر تحریم کے سامنے کیونکہ وہ بہت دلبرداشتہ ہوگی ۔ عروش یاسیت سے بولیں ۔
کیا تحریم شاہ میں دلچسپی رکھتی ہے یا ان دونوں کی شادی رانیہ وغیرہ کی خواہش ہے ۔۔۔۔؟ معظم شاہ کو یکدم چونک گئے ۔
میں نے تحریم کی آنکھوں اور شاہ کے لئے اس کے روئیے میں پسندیدگی کا عنصر محصوص کیا ہے ۔ وہ اس رشتے کے لئے دل سے رضامند ہے ۔ عروش وثوق سے بولیں ۔
ہوں ۔۔۔۔۔تم پریشان مت ہو ۔ میں ایک بار پھر شاہ کو منانے کی کوشش کرتا ہوں اگر وہ نہیں مانا اور اس کے پاس انکار کی ٹھوس وجہ بھی ہوئی تو پھرمجبوراً مکتوم کو سمجھانا پڑے گا کیونکہ زبردستی کے رشتے جوڑنے کاکوئی فائدہ نہیں ہوتا۔معظم شاہ اس کا گال تھپک کر آفس چلے گئے ۔
“”””””””””””””””
اوہ ، آج تو دن کی روشنی میں بڑے بھائی صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوگیا وگرنہ نیوز میں ہی دیکھ کر اپنے دل کو تسلی دیتے ہیں ۔ ارحان ڈائیننگ روم میں داخل ہوا تو گھر کے دیگر افراد کے ساتھ میر زوار کو بھی لنچ تناول فرماتے ہوئے دیکھ کر اس کی زبان میں سرسراہٹ ہوئی ۔
مجھے بہت افسوس ہے جب سے تم آئے ہو تمھیں بلکل بھی ٹائم نہیں دے سکا مگر سنڈے کو ضرور کچھ وقت نکالوں گا پھر ڈنر کے لئے چلیں گے ۔ فیملی ڈنر کریں گے ۔
میر جازب ! تم بھی کوئی مصروفیات نہیں رکھنا اور اروما تم بھی ۔ میر زوار نے اروما کو خصوصی طور پر متوجہ کیا ۔ وہ بھی کچھ دنوں سے اروما کی اداسی کو محسوس کررہا تھا ۔
بھائی ! میں جاکر کیا کروں گی ، آپ لوگ چلے جائیے گا ۔ میں اکیلی لڑکوں کے گروپ میں مس فٹ لگوں گی ۔ اروما نے فوراً سے پیشتر جواز پیش کیا ۔
اکیلی کیوں ؟ میں نے کہا نا فیملی ڈنر کریں گے ۔ تائی سائیں بھی ہونگی بلکہ یوں کرو ، تم اپنی چلبلی سہیلی اور تحریم کو بھی انوائیٹ کرلینا ۔ تمھارا بھی وقت اچھا گزر جائے گا ۔ میر زوار نے اس کی اداسی کے سبب ان دونوں کا بھی نام تجویز کیا ۔
بہانے کیوں بناتے ہو ، ایسا کہو نا کہ تم اپنا وقت اچھا گزارنا چاہتے ہو اور فیملی گیدرنگ میں اسے مس نہیں کرنا چاہتے ۔ میر جازب نے سر گوشی کی ۔
تم تھوڑی دیر چپ نہیں رہ سکتے ۔ اگر تمھیں یہی لگ رہا ہے تو یونہی سہی لیکن میں نے اروما کی اداسی کے خیال سے اس کا نام لیا تھا ۔ تھوڑی توجہ گھر پر بھی دیا کرو ۔ میر زوار نے اروما کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس کی توجہ اروما کے جانب مبذول کروائی ۔
رومی ! تمھارے ساتھ مسئلہ کیا ہے ؟ آج کل اتنی گم سم کیوں رہتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔آخر کیا پریشانی ہے ؟ میر جازب نے رعب دار آواز میں اروما کو مخاطب کیا ۔
میں کیوں پریشان ہونے لگی ، پہلے بھی اسی طرح رہتی تھی کونسا شور شرابہ کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔آپ سب میرے پیچھے کیوں پڑگئے ہیں ۔ اروما پہلے تو گڑبڑائی پھر روہانسی ہوگئی ۔ ایک ہی سانس میں سب کچھ کہہ کر وہاں سے اٹھ گئی ۔
میرے جازب اور میر زوار ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے ۔
اروما کا روئیہ پورے گھر کے لئے پریشان کن تھا ۔
“”””””””””””””””””””
وقت پر لگا کر اڑ رہا تھا ۔ دن کب گزر جاتا اور رات کب دن میں تبدیل ہوجاتی اسے کچھ خبر ہی نہیں تھی ۔ وہ میر زوار کے طلسماتی عشق کی ڈور میں بندھی باقی دنیا سے کٹ کر رہ گئی تھی ۔نینا کے دل میں کھلا میر زوار کی محبت کا ننھا ساپھول اب تناور درخت بن چکا تھا ۔ ایسے میں عروش کا اسے خاص مہمانوں کی آمد پر پیش ہونے کا کہنا بے حد گراں گزرا ۔
وہ صبح ہاسپٹل جانے کے لئے تیار ہورہی تھی تب عروش اس کے کمرے میں آئیں اور شام کو جلد گھر آنے کی تاکید کی پھر انہوں نے مہمانوں کی آمد اور اس کے پیچھے مقصد بتایا تو نینا کو معاملے کی گنبھیرتا کا احساس ہوا ۔
اماں ! آپ ان لوگوں کو اجازت دینے سے پہلے کم از کم ایک بار مجھ سے ذکر تو کر لیتیں ۔ آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا ۔ نینا خاصی جھنجلائی ہوئی تھی ۔
بیٹا ! تم نے خود ہی تو کہا ہوا تھا کہ تمھیں ہمارے کسی بھی فیصلے سے اختلاف نہیں ہوگا ۔ ہم تمھارے لئے جو بہتر سمجھیں وہی کریں اس لئے تمھارے بابا سائیں نے انہیں اجازت دی ہے ۔
سنان اور اس کی فیملی میں ایسی کو خامی ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی کے انہیں انکار کیا جاتا ۔ سنان کے رشتے پر ہم سب بہت خوش ہیں ۔ ہم نے تو سوچا بھی نہیں تھا کہ تمھیں اعتراض ہوگا ۔ تم بھی ایک بار ان لوگوں سے ملو ، یقیناً تمھیں بھی ان کی فیملی سے مل کر اچھا لگے گا ۔ عروش اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر رسان سے بولیں ۔
میں نے کب کہا اس فیملی میں کوئی برائی ہے ، میں پہلے بھی ان سے مل چکی ہوں مگر میں یہ کہہ رہی ہوں کہ اتنا بڑا فیصلہ کرنے سے پہلے مجھے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا ۔ نینا خفگی سے بولی ۔
اب تم یہ بحث چھوڑو اور جلدی سے فریش ہوکر آجاؤ ۔ وہ لوگ بہت دیر سے بیٹھے ہیں ، تمھارا ان سے ملنا ضروری ہے اور دیکھو ان کے سامنے الٹے سیدھے لکس مت دینا ۔ مجھے پتا ہے جب تمھارا موڈ بھڑ جائے تو بدتمیزہوجاتی ہو ۔ عروش ہنستے ہوئے بولیں ۔
اماں اب آپ میری انسلٹ کررہی ہیں ۔ وہ بدستور خفا تھی ۔
اچھا نہیں کرتی انسلٹ ۔ میری بیٹی بہت پیاری ہے ، کوئی بدتمیزی نہیں کرے گی ۔ اب پلیز ! ریڈی ہوجاؤ ۔ عروش اسے پیار کرتے ہوئے روم سے نکل گئیں ۔
ان کے چلے جانے کےبعد نینا کتنی ہی دیر گہری سوچ میں گم رہی،
یہ سب اتنی اچانک ہوگیا تھا کہ اسے کوئی راستہ سجھائی نہیں دے رہا تھا ۔ میر زوار کا خوف الگ کھائے جارہا تھا اور جب اسے رشتے کی بابت معلوم پڑے گا تو اس کا ری ایکشن کس قدر شدید ہوگا یہ سوچ کر ہی نینا نے جھرجھری لی پھر وارڈروب کھول کر ڈریس منتخب کرنے کے بعد واش روم کی طرف بڑھ گئی ۔
“”””””””””””””””””””
وہ ڈرائینگ روم میں داخل ہوئی تو عروش اور تحریم مسز حمید کے ساتھ ہلکی پھلکی باتوں میں مصروف تھیں جبکہ معظم شاہ اور حمید صاحب سیاست کا ذکر چھیڑے بیٹھے تھے ۔ سنان شاہ ایک صوفے پر الگ تھلگ سا خاموش بیٹھا تھا ۔ متاثر کن سی پرسنالٹی اور مناسب خدوخال والا سنان شاہ کسی بھی لڑکی کا خواب ہوسکتا تھا مگر جن آنکھوں میں میر زوار جیسا شاندار مرد بستا ہو انہیں دنیا کا کوئی بھی مرد متاثر نہیں کرسکتا تھا ۔
وہ آہستگی سے سلام کرتی ہوئی عروش کے پاس چلی آئی مگر مسز حمید نے اٹھ کر اس کا ہاتھ تھاما اور اپنے ساتھ بٹھا لیا ۔ سنان محتاط نظروں سے اس کا جائزہ لے رہا تھا ۔ نینا ٹی پنک کلر کی پرنٹڈ شرٹ ، ہم رنگ اسکارف جو اسے نے گلے میں اٹکایا ہوا تھا اور وائیٹ ٹراؤزر میں بلاشبہ بے حد حسین لگ رہی تھی ۔
وہ سنان شاہ کو پہلی ہی نظر میں اسیر کرگئی ۔
بیٹا ! آپ کو تو جاب سے فرصت ہی نہیں ملتی ، میں کتنی بار عروش سے کہہ چکی ہوں نینا کو لے کر ہمارے گھر آئیں مگر وہ ہمیشہ یہی کہہ کر معذرت کر لیتی ہیں کہ نینا بزی ہوتی ہے ۔ مسز حمید نینا سے مخاطب ہوئیں ۔
اماں اسی لئے کہتی ہیں کہ میری جاب ٹف ہے ، چھٹی ملنے پر گاؤں چلی جاتی ہوں ۔ واپسی پر پھر وہی روٹین ہوتی ہے ۔ کہیں بھی جانے کے لئے وقت نکالنا خاصا مشکل ہوجاتا ہے ۔نینا نے نظریں جھکا کر آہستگی سے جواب دیا ۔ وہ سنان کی موجودگی میں نروس ہورہی تھی ۔
تھوڑا وقت ہمارے لئےبھی نکالیں اور گھر چکر لگائیں ۔ مجھے اچھا لگے گا ۔ آنا جانا ہوگا تو آپ دونوں کی بھی انڈراسٹینڈنگ ہوجائے گی ۔ شادی سے پہلے یہ بہت ضروری ہے تاکہ شادی کے بعد آپ دونوں کو دشواری نا ہو ۔ مسز حمید کو نینا دل و جان سے پسند تھی آج تو وہ ہر صورت اس رشتے پر مہر لگوانے کا عہد کر کے آئی تھیں ۔
مسز حمید کے برملا کہنے پر نینا گھبراہٹ کا شکار ہوگئی ۔ کمرے میں گھٹن کا احساس بڑھا تو وہ فوراً اٹھ گئی مگر مسز حمید نے اسے دوبارہ بڑھالیا ۔
شاہ صاحب ! اب ہم تھوڑی سی بھی مہلت نہیں دینے والے ، آج تو آپ کو ہمرا منہ میٹھا کروانا ہی پڑے گا ۔ بھئی نینا اب سے ہماری بیٹی ہے ۔ اب آپ اس کی فکر کرنا چھوڑ دیں ۔ مسز حمید بے صبری سے بولیں ۔
جی ، جی ! مجھے کوئی اعتراض نہیں ، آپ کی ہی بیٹی ہے ۔ معظم شاہ نے مٹھائی کی پلیٹ حمید شاہ کی طرف بڑھا کر اس رشتے پر مکمل رضامندی کی ظاہر کردی ۔
نینا کی گویائی سلب ہوچکی تھی ، وہ ماؤف ہوتے ذہن کے ساتھ ان لوگوں ہنستے مسکراتے دیکھ رہی تھی ۔ اس کی گلابی رنگت تیزی سے زرد پڑتی جارہی تھی مگر اب کسی کا دیہان اس کی طرف نہیں تھا سوائے تحریم کی شاطر نظروں کے جو اس کی غیر ہوتی حالت سے محفوظ ہورہی تھی ۔
نینا بی بی ! تم میر زوار کی محبت میں بہت اونچی اڑان بھر رہی تھیں کہ مجھ پر طنز کرتے ہوئے بھی نہیں چوکیں ،اب وقت آگیا ہے کہ میر زوار کو تمھاری جھوٹی محبت کا اصل رنگ دکھا کر تمھیں بھی تمھارے بھائی کی طرح منہ کے بل گرادیا جائے ۔
تم دونوں بہن بھائی اسی لائق ہو ۔ بھائی نے مجھے ذلیل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اور بہن مجھ پر طنز کے تیر برسا رہی تھی ۔ اب میری باری ہے ۔ ایک ٹیپ پر تمھارے ڈرامے کا کلائیمکس ہوجائے گا ۔
تحریم نے مسکراتی نظروں سے نینا کو دیکھا پھر ڈرائینگ روم سے باہر آگئی ۔ وہ موبائل گیلری میں وہی ویڈیو تلاش کر رہی تھی جو اس نے نینا اور میر جازب کو پلاننگ کرتے ہوئے بنائی تھی ۔
مطلوبہ ویڈیو مل جانے پر پہلے اس نے تسلی کی پھر نیو فیس بک اکاؤنٹ کے میسینجر سے میر زوار کے اکاؤنٹ پر سینڈ کر دی ۔
“”””””””””””””””””””
میرزوار رات کے دو بجے میٹنگ سے فارغ ہوکر کمرے میں آیا ۔پہلے اس کا ارادہ میر ہاؤس جانے کا تھا مگر نینا سے بات کرنے کی جلدی میں اس نے اپنا ارادہ ترک کردیا اور میر زوار ہاؤس میں ہی ٹہرنے کا فیصلہ کیا ۔
یہ وقت اس نے نینا کے لئے مختص کردیا تھا ۔ اب وہ بہت ہی کم پارٹیز اٹینڈ کرتا ، اپنا کوئی بھی ضروری کام یا میٹنگ اس وقت کے لئے نہیں رکھتا کیونکہ رات کے اس پہر ان کی ملاقات ہوتی یا پھر فون کال پر وہ ایک ساتھ وقت گزارتے ۔
وہ بیڈ پر بیٹھ کر موبائیل کی اپ ڈیٹس چیک کر رہا تھا تبھی اسے ایک میسیج نظر آیا ۔ یہ فیس بک اکاؤنٹ کافی دنوں سے اسے عجیب و غریب کمنٹس کررہا تھا ۔ کمنٹس ایسے ہوتے جو میر زوار کو چونکا دیتے ۔
اس نے انباکس اوپن کیا تو ویڈیو میں میر جازب کا چہرہ دیکھ کر پلے کئیے بغیر رہا نہیں گیا ۔ اس نے فوراً سے پیشتر ویڈیو پلے کی ۔ وہ ویڈیو جیسے جیسے دیکھتا جاتا اس کے تاثرات غضبناک ہوتے جارہے تھے ۔
ایک بار ، دوبار نہیں پورے پانچ دفع اس نے ویڈیو کو پلے کیا ۔ وہ حیرت اور بے یقینی سے بار بار ویڈیو پلے کر رہا تھا ۔ صدمے سے زبان گنگ ہوگئی ۔ اس نے سختی سے اپنی آنکھیں میچ لیں ۔
نینا میرے ساتھ اتنا بڑا کھیل نہیں کھیل سکتی ۔ اس نے نفی میں گردن ہلاتے ہوئے سوچا ۔
دل اس حقیقت کو ماننے کے لئے تیار نہیں تھا مگر ہاتھ میں موجود ثبوت اتنا پکا تھا کہ شک کی گنجائش باقی نہیں رہتی تھی ۔
جس کا باپ اتنا کمینہ اور کم ظرف انسان ہوسکتا ہے اس کی اولاد سے بھی کوئی امید نہیں رکھی جاسکتی مگر میرا اپنا بھائی میرا خون اتنا گرا ہوا کیسے ہوسکتا ہے کہ اس لڑکی کے ساتھ مل کر میرے جذبات کی کھلی اڑائے ۔ میرے احساسات پر شرط لگائے ۔
میں ان دونوں کو ذندہ نہیں چھوڑوں گا ۔
میر زوار کے سر میں درد کی شدید ٹیسیں اٹھ رہی تھیں ۔ دکھ سے دل پھٹا جارہا تھا ۔وہ جھٹکے سے کھڑا ہوگیا ۔
جاری ہے