60.7K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

مجھے یہاں قید کرکے کیا ثابت کرنے چاہتے ہیں ؟ کب تک مجھے جانوروں کی طرح یہاں بند رکھیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟آپ نے مجھ پر ذندگی تنگ کردی ہے ۔ مجھے آپ کے عزائم کی خبر لگ جاتی تو میں ہر گز آپ کے ساتھ نہیں آتی ۔ وہ اس کا ہاتھ جھڑک کر حلق کے بل چلائی ۔
تم تو میری سوچ سے بڑی جھوٹی نکلی ۔شاندار گھر ، آرام دہ روم ذندگی جینے کی ہر سہولت یہاں موجود ہے پھر بھی تم خوش نہیں ہو تو یہ تمھارا قصور ہے ۔ وہ بستر پر نیم دراز ہوتے ہوئے مزے سے بولا ۔
یہ ایک خوبصورت جیل سے کم نہیں ، قید میں کوئی خوش نہیں رہ سکتا چاہے قید خانہ کتنا ہی شاندار کیوں نا ہو ۔ وہ تڑخ کر بولی ۔میرزوار کے لبوں پر جاندار مسکراہٹ ابھری ۔
اس نے اسلام آباد پہنچنے کے بعد اس گھر کے تمام لینڈ لائن فون ڈسکنیکٹ کروادئیے تھے ۔ اس کا موبائل بھی اپنے پاس رکھ لیا ۔ گھر کے کسی بھی ملازم کو اسے مخاطب کرنے یا اس کے سوال کا جواب دینے کی اجازت نہیں تھی ۔ سیکیورٹی گارڈز کو سختی سے تاکید کی گئی تھی کہ اسے باہر نکلنے کا موقع ناملے ۔ وہ تمام انتظامات کرنے کے بعد پورا ہفتہ غائب رہا تھا۔
نینا کی حقیقت آپ کے فائدے کے لئے آپ کے سامنے لائی ۔ میرا دوسرا کوئی مقصد نہیں تھا اگر اس سے اتنی ہی محبت تھی تو اسی سے شادی کر لیتے میری ذندگی برباد کیوں کی ۔۔۔۔آخر کس بات کی سزا دے رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟میں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے ؟ وہ آپے سے باہر ہورہی تھی ۔
بند کرو یہ ڈرامہ ۔۔۔۔۔۔۔یہ جھوٹے آنسو ۔تمھیں قید بلاوجہ تو نہیں دی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس لئے دی ہے کہ تم فرصت سے بیٹھ کر سوچو تم نے کتنی ذندگیاں خراب کی ہیں ۔ کتنے لوگوں کو روگی بنادیا ہے ۔
یہ تمھاری سزا کا پہلا دور ہے ، آخری دور کی شروعات میں ہی تم اپنے ہر گناہ ہر ذیادتی کااپنے منہ سے اعتراف کروگی ۔ میرزوار نے بلند آواز میں دہاڑ کر اسے خاموش کردوادیا پھر ایک نگاہِ غلط ڈالے بغیر روم سے چلا گیا ۔
تحریم کا دل کیا اپنے سر کے بال نوچ لے ۔ اس محل نما قید خانے میں اس کا دم گھٹا جارہا تھا ۔ اندیشوں نے نیندیں حرام کردیں تھیں کہ ناجانے اب وہ اس کا کیا حشر کرنے والا ہے ۔
“”””””””””””””””””””
یار ! کیسی باتیں کررہے ہو ، ابھی وہ بہت چھوٹی ہے ۔ اس کی اسٹڈیز تو کمپلیٹ ہونے دو ۔ شادی بیاہ کی فکر بعد کے لئے رکھو ۔ میر سبطین کو ان کی بات حیران کن لگی ۔
بھائی ! میں سوچ کر آیا تھا کہ حفصہ کا رشتہ طے کر کے ہی جاؤں گا ۔ اگلے سال تک اس کا ایف اے کمپلیٹ ہوجائے گا پھر شادی کردوں گا ۔ میر حنین حفصہ کی شادی کا پکا ارادہ کئے بیٹھے تھے ۔
میری سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی کہ تمھیں اتنی جلدی کس بات کی ہے ۔ابھی تک تو میں نے رومی کے لئے بھی کچھ نہیں سوچا ۔ میر سبطین جھنجلا کر بولے ۔
آپ کو یورپ کے طرزِ ذندگی کا خوب علم ہے ۔ میں نہیں چاہتا میری بیٹی بے راہ روی کا شکار ہو ۔ اسٹڈیز تو شادی کے بعد بھی کنٹینیو کی جا سکتی ہے ۔ آپ ہاں کردیں ، مجھے سکون مل جائے گا ۔ میر حنین التجائیہ بولے ۔
تم بلاوجہ فکر مند ہورہے ہو ، حفصہ تو ماشاءاللہ سمجھدار بچی ہے تھوڑی سی شرارتی ہے مگر خود سر نہیں ہے ۔
میں نے ایسا کب کہا ہے ، مجھے اپنی بیٹی پر پورا بھروسہ ہے ۔میں وہاں کے ماحول کو لے کر فکر مند ہوں ۔ بزنس کا مسئلہ ناہو تو میں یہاں سیٹل ہوجاتا۔
میری بیٹی کو اپنی بہو بنانے کا ارادہ نہیں ہے تو صاف صاف کہہ دیں ۔ میر حنین برا مناگئے ۔
تم بے وقوفوں جیسی باتیں کیوں کررہے ہو ، حفصہ اتنی پیاری ہے ۔ میری بیٹی ہے ۔ اس کے لئے میں کیوں انکار کروں گا ۔
وہ ابھی چھوٹی ہے اس لئے میں چاہتا تھا کہ تھوڑا انتظار کر لیتے ہیں مگر تم بضد ہو تو جیسا تم کہوگے ویسا کرلیتے ہیں ۔ میر سبطین ان کی ناراضگی کے خیال سے سنبھل کر بولے ۔
آپ میر جازب اور نگین بھابھی سے بات کرلیں پھر ہم واپسی سے پہلے چھوٹی سی منگنی کرلیتے ہیں ۔ میر حنین کے چہرے پر جاندار مسکراہٹ ابھری ۔
نگین میرے کسی فیصلے سے اختلاف نہیں کرتی اور جازب سے بات نہیں بھی کروں تو چلے گا ۔ وہ اعتراض نہیں کرے گا ۔اس نے شادی کے معاملے میں فیصلے کا اختیار مجھے دیا ہوا ہے ۔ میر سبطین لاپرواہی سے بولے ۔
میر سبطین کی رضامندی سے وہ مطمئین ہوگئے ۔ ان کے سر سے ایک بوجھ اتر گیا تھا اس لئے خوشگوار موڈ میں حنین ہلکی پھلکی باتیں کرنے لگے ۔
“””””””””””””””””
میرزوار نے اس دن اپنی ایک جھلک دکھانے کے بعد دوبارہ پلٹ کر اس روم کا رخ نہیں کیا تھا ۔اسے اسلام آباد میں رہتے ہوئے مہینہ ہونے کا آیا تھا مگر سزا میں کوئی رعایت نہیں ملی تھی ۔
اسے میر زوار سے شادی کے فیصلے پر رہ رہ کر پچھتاوا ہوتا ۔ قید و تنہائی نے اسے نیم پاگل کر چھوڑا تھا۔ وہ اکیلے پن میں پاگلوں کی طرح گزرے روزِ شب یاد کرتی رہتی ۔ آج کل وہ گھروالوں سے رابطہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہی تھی ۔
بالآخر کئی دنوں کی منت سماجت اور لالچ دینے کے بعد ایک ملازمہ کو منانے میں کامیاب ہوگئی کیونکہ وہ میر کی پشتنی ملازمہ تھی اور اسے بھی تحریم کی بے بس حالت پر رحم آگیا ۔ یہ ملازمہ ہی اسے کھانا دینے کی ڈیوٹی پر معمور تھی ۔ تحریم کے کچن میں جانے پر میرزوار نے پابندی لگائی ہوئی تھی ۔
وہ جلے پیر کی بلی کی طرح یہاں سے وہاں چکرکاٹ رہی تھی ۔
(کہیں وہ جھوٹ بول کر تونہیں بھاگ گئی اگر اس نے مجھے اپنا موبائل نہیں دیا تو میں یونہی گھٹ گھٹ کر مرجاؤں گی اور میرزوار کسی کو میری موت کی وجہ تک پہنچنے بھی نہیں دے گا ۔
رشیدہ (ملازمہ) سے پہلے وہ جلاد یہاں آگیا اور اسے بھنک بھی پڑ گئی تو ڈیڈ سے رابطہ کرنے کا آخری وسیلہ بھی چھین لے گا ۔)اس نے پریشانی سے دل میں سوچا ۔
انتظار کا ایک ایک لمحہ صدیوں پر محیط ہوا جارہا تھا تبھی ملازمہ گھبرائی ہوئی سی ناک کرنے کے بعد اندر چلی آئی ۔
کہاں رہ گئی تھیں ؟ میر سائیں آجاتے تو قیامت ہوجاتی ۔ موبائل لائی ہو؟ اس نے ڈرتے ہوئے پوچھا ۔
چھوٹے میر سائیں آجاتے تو مجھے ان کے سامنے آکر مرنا تھا کیا ۔ میں فوراً چھپ جاتی ۔ رشیدہ نے عقلمندی کا مظاہرہ کرنے کی پوری کوشش کرتے ہوئے پلو میں چھپا فون اس کی طرف بڑھایا ۔
تحریم نے اس کی باتوں پر توجہ دئیے بغیر فون جھپٹ لیا ۔ اس کی کپکپاتی ہوئی انگلیاں پھرتی سے نمبر پریس کررہی تھیں ۔ نمبر پریس کرتے ہوئے اس کے دماغ میں ایک خیال بجلی کی طرح کوندا اور اس نے مکتوم شاہ کا نمبر ریموو کردیا ۔ اب وہ معظم شاہ کا نمبر پریس کررہی تھی ۔
اس نے والدین کو مطلع کرنے سے ذیادہ معظم شاہ کو انوالو کرنا ضروری سمجھا ۔ کوئی بعید نہیں تھی کہ رانیہ بھتیجے پر آنچ آنے ہی نہیں دیتیں اور شوہر کو بھی اس کی شکایت کا نوٹس لینے سے روک دیتیں مگر معظم شاہ کو مطلع کرنے کی صورت میں میرزوار کی کھنچائی کے چانسز یقینی تھے ۔
ہیلو ! تایا سائیں ! میں تحریم بات کررہی ہوں ۔ پلیز ! پہلے میری بات غور سے سنئیے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت مشکل سے آپ کو کانٹیکٹ کرنے کا موقع ملا ہے ۔
میرزوار نے مجھے یہاں قید کرلیا ہے ۔ میرے باہر جانے ، کسی سے بات کرنے یہاں تک موبائل یوز کرنے پر بھی پابندی لگادی ہے ۔ وہ مجھے اذیتیں پہنچا کر آپ سے بدلہ لے رہا ہے ۔
پلیز ! مجھے یہاں سے نکالیں ورنہ یہ مجھے ماردے گا ۔ وہ خوف کے باعث روانی سے بولتی چلی گئی ۔
تحریم بیٹا ! یہ تم کیا کہہ رہی ہو ؟ معظم شاہ کو اس کی بات پر دھچکا لگا ۔
میں بلکل سچ کہہ رہی ہوں ۔ وہ مجھے دھوکے سے اسلام آباد لے آیا اور اب مجھے یہاں قید کر کے چلاگیا ہے ۔
اس کی اتنی جرأت ، وہ ذلیل انسان اس حد تک گرِ گیا ۔ میں ابھی اس کی عقل ٹھکانے لگاتا ہوں ۔ وہ تم پر پابندیاں لگانے والا ہوتا کون ہے ۔ معظم شاہ پوری توجہ سے اسے سن رہے تھے بات کے اختتام پر غصے سے ان کی کنپٹیوں کی رگیں تن گئیں ۔
پلیز ! آپ جلدی کچھ کریں ، اسے ہمارے رابطے کا علم ہوگیا تو میرے ساتھ بہت بری طرح پیش آئے گا ۔ وہ بہت برا انسان ہے ۔ اس میں انسانیت نام کی چیز نہیں ہے ۔ اس کی ڈری سہمی آواز پر معظم شاہ کا خون کھولنے لگا ۔
ابھی میں ذندہ ہوں ، تمھیں اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ میں اسی وقت اسلام آباد کے لئے نکل رہا ہوں ۔ معظم شاہ نے غصہ کنٹرول کرتے ہوئے بھاری آواز میں اسے تسلی دی ۔
“””””””””””””””””””
نینا وارڈ کا راؤنڈ لگانے کے بعد اپنے روم میں آگئی ۔ وہ چئیر پر بیٹھی دھیرے دھیرے اپنی پیشانی کو انگلیوں کی مدد سے دبا رہی تھی ۔ سر درد کی شدت سے شربتی آنکھیں انگاروں کی طرح دہک رہی تھیں ۔
وہ ذہنی طور پر اتنی ڈپریسڈ رہنے لگی تھی کہ خود پر توجہ دینا تو جیسے بھول چکی تھی ۔ شہابی رنگت میں زردیاں کھنڈ گئیں تھیں ۔بجھی بجھی سی آنکھیں ہر پل بین کرتی نظر آتیں ۔
اس نے تصور میں تحریم کو میرزوار کے پہلو میں دیکھا اور بے اختیار سر ٹیبل پر ٹکا کر بلکنے لگی تبھی دھاڑ سے دروازہ کھلنے کی آواز آئی ۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا اور دیکھتی ہی رہ گئی ۔ آنکھوں میں جگنو چمک اٹھے ۔
نظروں کے عین سامنے اس کا ہرجائی شوہر اپنی تمام تر وجاہتوں سمیت ہونٹوں پر بھرپور شریر دلکش مسکراہٹ سجائے پوری شان سے کھڑا تھا ۔ میرزوار نے پلٹ کر دروازہ لاک کردیا ۔
آپ یہاں کیوں آئے ہیں اور دروازہ کیوں لاک کردیا ؟ آپ مجھے بدنام کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔؟ وہ یکدم حواسوں میں لوٹ آئی ۔ چئیر سے اٹھتے ہوئے ناگواری سے بولی ۔
رو رہی تھی ؟ مجھ سے ضد لگا کر بیٹھو گی تو یہی ہوگا ۔یاد آرہی تھی تو میرے پاس کیوں نہیں آئی ، یہاں بیٹھ کر رونے سے کیا فائدہ حاصل ہورہا ہے ۔ وہ دھیرے سے گلا کھنکارتے ہوئے دھیمی آواز میں بولا ۔
میرے رونے کی آپ کو اتنی فکر نہیں ہونی چاہئے ۔ آپ کی مہربانیوں سے میرا یہ حال ہے ۔ آپ میری بات کا جواب دیں یہاں کیوں آئے ہیں ؟ وہ جھنجلا گئی ۔
آپ کونہیں پتا،آج آپ کی منسٹرمیرزوار کےساتھ امپارٹنٹ میٹنگ ہے ۔ وہ آپ کےہاسپٹل کے لئے ایک بڑا اماؤنٹ ڈونیٹ کرنے والے ہیں ۔ میر زوار مصنوئی سنجیدگی سے کہتا ہوا اس کے پاس چلا آیا ۔
مم ۔۔۔مجھے تو نہیں پتا ۔ وہ حونقوں کی طرح اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
سوہنا سائیں ! آپ کو پتا ہو بھی تو کیسے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ پلاننگ تو آپ کے دیدار کے خاطر ابھی راستے میں کی ہے ۔ آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ میرے کچھ چہیتے ایڈمنسٹریٹر اب تک یہ نیوز پورے ہاسپٹل میں نشر کرچکے ہونگے ۔ میر نے دونوں ہاتھ اس کی کمر میں ڈال کر اٹھایا اور احتیاط سے ٹیبل پر بٹھادیا ۔
نینا کی بکھری ریشمی تراشیدہ زلفوں پر اس کی دھڑکنوں میں طلاطم پیدا ہورہا تھا ۔ اس نے شانوں پر بے ترتیبی سے بکھری چند لئیرز کو مٹھی میں سمیٹ کر لبوں سے چھوا ۔
یہ مہربانی کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟ نینا نے غصے سے کہتے ہوئے اس کے ہاتھ سے بال چھڑائے ۔
آپ کے سوہنے مکھڑے کے ایک دیدار کی خاطر اپنے خون پسینے کی کمائی سے ایک کروڑ کی قیمت چکائی ہے ۔ نین ! تم مجھے بہت مہنگی پڑ رہی ہو ۔ وہ شوخی سے کہتے ہوئے آگے کی طرف جھکا ۔
مجھ سے دور رہ کر بات کریں ۔ یہ ہاسپٹل ہے ۔ آپ کا بیڈروم نہیں ہے ۔نینا نے اسے جھڑکتے ہوئے پرے دھکیلا ۔
تم اجازت دو تو یہاں بھی بیڈروم بنا لیتے ہیں ۔ وہ شوخی سے کہتے ہوئے نذدیک ہوا ۔
آپ کو میری بات سمجھ کیوں نہیں آرہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔دور سے بات کریں ۔ وہ سخت کوفت ذدہ ہوکر چیخ پڑی ۔
میں تم سے دور نہیں رہ سکتا اور تمھیں دور جانے بھی نہیں دوں گا ۔ وہ صدا کے ضدی لہجے میں ترکی بہ ترکی بولا ۔
میں دور جاکر دکھاؤں گی ۔ میرا اب آپ سے کوئی واسطہ نہیں ہے تو میں آپ کی دھونس دھاندلی بھی نہیں چلنے دوں گی ۔ اس کے انداز میں قطعیت تھی ۔
میری بیوی ہو ، دھونس دھاندلی تو چلا کر رہوں گا ۔ بہت دنوں سے تمھاری من مانی برداشت کررہا ہوں مگر اب تم نے زرا سی بھی چوں چراں کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔ تم سیدھی طرح کل میرے پاس آرہی ہو ۔
میں آج یہاں سے چلا گیا اور تم کل صبح میرے پاس نہیں آئی تو یاد رکھنا میں ذندگی بھر مڑ کر نہیں آؤں گا ۔ فیصلہ تمھارے ہاتھ میں ہے ۔ میرزوار کا شوخ شریر لہجہ پل بھر میں بدل کر خطرناک حد تک سنجیدہ ہو گیا ۔
نینا مخمصے میں پڑگئی ۔ اس کی بے بسی آنکھوں سے ہویدا تھی ۔
میر زوار دونوں ہاتھ اس کے دائیں بائیں ٹیبل پر سختی سے جمائے دو انچ کے فاصلے پر کھڑا کنفیوژ کررہا تھا ۔
تمھارے میرے پیار کا دل سے جڑا یہ بندھن میرے مرنے کے بعد بھی نہیں ٹوٹے گا ۔
تم مجھے بھول کر جی سکتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔؟ اس نے جذبوں سے بوجھل بھاری آواز میں اس کا ہاتھ اپنے دل پر رکھ کر سوال کیا ۔ نینا کی پلکیں لرز کر جھک گئیں ۔
آپ نے اتنی ٹھنڈ میں جیکٹ یا شال بھی نہیں لی ہے ۔ طبیعت خراب ہوجائے گی ۔ وہ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد ادھر ادھر دیکھتے ہوئے مبہم سامنمنائی ۔ میر زوار کے چہرے پر ذندگی سے بھرپور مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔ اس نے نینا کے لبوں پر استحقاق سے مہر ثبت کی ۔
جانم سائیں ! موسم مجھ پر اثر نہیں کرتے البتہ میں موسموں پر اثرانداز ہوجاتا ہوں ۔
چلو ! تمھارے ایم ۔ ایس کو چیک دے آئیں ۔ اس نے گنبھیر آواز میں کہتے ہوئے نینا کی سرد ناک کو نرمی سے چھوا پھر اس کا ہاتھ تھام کر ٹیبل سے نیچے زمین پر جمپ کرنے میں مدد کی ۔
“”””””””””””””””””””
ڈرائیور پچھلے دس منٹ سے میرزوار پیلس کے باہر ہارن پر ہارن دے رہا تھا مگر واچ مین کے کانوں پر جوں نہیں رینگ رہی تھی ۔ وہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں معظم شاہ کو دیکھنے کے بعد لاتعلق بنا کواٹر میں بیٹھا رہا کیونکہ اسے شاہ یا میر فیملی کے کسی بھی فرد کے لئے گیٹ کھولنے کی اجازت نہیں تھی ۔
معظم شاہ کو شدید ہتک کا احساس ہوا مگر معاملہ بھتیجی کا تھا اس لئے بمشکل برداشت کرتے ہوئے گاڑی سے اتر کر گیٹ تک آئے ۔
واچ مین ! دروازہ کھولو ! ورنہ میں تمھارا ایسا حشر کرواؤں گا کہ نا تمھارا شمار زندوں میں ہوگا نا مردوں میں پہچانے جاؤگے ۔معظم شاہ گرجدار آواز میں بولے ۔ واچ مین نے ایک نظر پاس بیٹھے گارڈز کی طرف دیکھا پھر کچھ سوچتے ہوئے گیٹ تک آیا ۔
شاہ صاحب ! ہمیں گیٹ کھولنے کا آرڈر نہیں ہے ۔ بہتر ہوگا آپ میر سائیں سے فون پر بات کریں اور اجازت لیں ۔ گیٹ کے پیچھے سے واچ مین کی آواز سن کر معظم شاہ کا پارہ مذید ہائی ہوگیا ۔
میں تمھارا منہ توڑ دوں گا ۔ میں اور اس گھٹیا انسان سے اجازت لوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ آخری بار کہہ رہا ہوں دروازہ کھولو ۔ معظم شاہ نے آہنی دروازے پر زوردار ہاتھ مارا ۔
واچ مین اور معظم شاہ کے درمیان بحث زور و شور سے جاری تھی ۔ تحریم یہ منظراپنے کمرے کی گلاس وال پر بے بسی سے ہاتھ جمائے دیکھ رہی تھی ۔ اس کے نذدیک ہی صوفے پر میرزوار ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھا تھا ۔ تحریم نے پلٹ کر اس کے سامنے زمین پر بیٹھ کر اس کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ دئیے ۔
میر سائیں ! مجھ پر رحم کریں ! پلیز ! انہیں اندر آنے کی اجازت دیں ۔ مجھے میرے اپنوں کے لئے مت ترسائیں ۔ میں وعدہ کرتی ہوں انہیں کچھ نہیں بتاؤں گی ۔ وہ التجا کرتے ہوئے روپڑی ۔ معظم شاہ کو دیکھنے کے بعد وہ تڑپ گئی تھی ۔
تم پر کیسے اعتبار کروں ؟ تم نے اب تک اپنی غلطیوں کا اعتراف نہیں کیا اور ابھی بھی جھوٹ بولنے سے باز نہیں آرہی جبکہ میں دیکھ چکا ہوں ، سن چکا ہوں ۔ تم اسے سب کچھ پہلے ہی بتا چکی ہو ۔ وہ تمھیں میری قید سے آزاد کروانے آیا ہے ۔ میر زوار نے تمسخرانہ کہتے ہوئے بھرا ہوا گلاس لبوں سے لگایا ۔
میں اعتراف کر تو چکی ہوں ۔ میں نے جو کچھ کیا آپ کی بھلائی کے لئے کیا ۔ میری انٹینشن نہیں تھیں کہ میں آپ دونوں کو درمیان پرابلم کری ایٹ کروں ۔ بس آپ کو نینا کی شرارت سے
آگاہ کرنا چاہتی تھی تاکہ وہ آپ کا مذاق نا بنا سکے ۔ وہ پرنم لہجے میں کہتے ہوئے بار بار مڑ کر گلاس وال کی طرف دیکھتی ۔
میری بہن کی ذندگی میں زہر گھولتے وقت کیا انٹینشن تھی ؟ اسے زعیم شاہ کی نظر میں برا بنایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے میری بہن پر شک کیا ، اسے بدکردار کہا صرف تمھاری اوچھی حرکتوں کی وجہ سے زعیم شاہ نے اس پر انگلی اٹھائی ۔
وہ بھی میری بہن پر میری اروما پر جس میں میری جان بستی ہے ۔ تم نے اس کے کردار کو مشکوک کردیا ۔
تمھاری سزا موت سے کم ہرگز نہیں ہوتی اگر تم میری پھپھو کی اولاد نا ہوتی ، بغیر سوچے سمجھے تمھارے ٹکڑے کردیتا ۔ وہ اس کا بازو دبوچے غرایا۔
میرزوار ہر بات سے با خبر ہے یہ جان کر تحریم دونوں ہاتھوں میں سر تھام کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔ معظم شاہ بک جھک کر واپس جا چکے تھے ۔
تمھیں ایک آخری موقع دے رہا ہوں ۔ اپنا خرافاتی دماغ استعمال کئے بغیر عمل کرسکو تو اس کے بعد شاید بیوی کا درجہ دے سکوں مگر میرے دل میں جگہ بنانے کی کوشش بھی مت کرنا ۔ اس کی جگہ تم کبھی نہیں لے سکتی ۔میر زوار کی سرد آواز پر اس نے سر اٹھایا ۔
تمھیں حویلی جانے کی اجازت مل سکتی ہے مگر اس کے لئے تم خود زعیم شاہ کے سامنے اپنے گناہ کا اعتراف کروگی ۔ تم نے اس رات جو کیا وہ سب بیان کروگی ۔اسے اروما کی پاکیزگی کا یقین دلاؤگی ۔ شادی کے لئے کنوینس کروگی ۔ وہ آگے طرف جھکاایک ایک لفظ پر زور دے کر بول رہا تھا ۔ تحریم پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی ۔
میں اپنی ہی نظروں میں گر چکی ہوں ۔ زعیم شاہ کے سامنے مجھے ذلیل مت کروائیں ۔ وہ سب کو حقیقت بتادے گا پھر میری کیا اوقات رہ جائے گی ۔ وہ پیشانی پر آئی نمی کو ہاتھ سے صاف کرتے ہوئے گھبرا کر بولی ۔
تم یہ کرسکتی ہو تو واپس آجانا ورنہ طلاق کے پیپرز تمھیں مل جائیں گے ۔ وہ فیصلہ کن لفظوں میں کہہ کر اٹھ گیا ۔
آپ مجھے طلاق نہیں دیں گے ، آپ جیسا کہیں گے میں ویسا ہی کروں گی مگر طلاق کے بارے میں کبھی مت سوچئے گا ۔ اس نے تڑپ کر ہامی بھرلی ۔ میر زوار کے ہونٹوں کا فاتحانہ مسکراہٹ نے احاطہ کیا ۔
حویلی پہنچ کر پھپھو کو آپ بیتی بتانے سے گریز کرنا ۔ معظم شاہ کو بھی اپنے طریقے سے سنبھالنا تمھاری زمہ داری ہے ۔ اس نے جاتے ہوئے سختی سے تاکید کی ۔ تحریم نے اثبات میں سرہلادیا ۔
ساجد سائیں ! تم معظم شاہ کو کال کرو اور اسے کہو اپنی بھتیجی کو لے جائے ۔ میر زوار نے اپنے بیڈروم میں پہنچ کر ساجد کو حکم دیا ۔ وہ سر ہلا کر موبائل پر معظم شاہ کو کال ملانے لگا ۔
جاری ہے