62.1K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

حویلی پہنچ کر چھوٹی موٹی رسموں کے بعد اسے عادل کے روم میں پہنچا دیا گیا تھا۔عادل روم میں داخل ہوا تو کانوں میں ہینڈ فری لگائے چپس کے ساتھ مکمل انصاف کر رہی امثال نے اس کے گھونگٹ اوڑھے روائتی دلہن کی طرح دیکھنے کے ارمان کو چکنا چور کیا تھا۔اس نے گہری سانس لیتے ہوئے شہروانی اتار کر صوفے پر رکھی اور خود اسکے سامنے تکیہ کھینچ کر کہنی کے بل لیٹ کر اسے دیکھنے لگا مگر وہ اس سے بے نیاز اپنے کام میں مگن رہی بظاہر تو وہ لاپرواہ بنی بیٹھی تھی مگر اسکی ساری حسیات اسی کی طرف تھی اسے خود کو یوں تکتا پا کراسکا دل دھڑکا تھا اور چہرے پر کئی رنگ پھیلے تھے ۔۔ عادل اسکے چہرے پر آتے جاتےرنگوں کو بغور دیکھ رہا تھا
کیا ہے عادی ایسے کیوں دیکھ رہے ہو ۔جب کافی دیر بعد بھی اس نے نظریں نہ ہٹائیں تو امثال نے اسے گھورا
کیسے دیکھ رہا ہوں ۔عادل نے اسکے سرخ ہوتے چہرے کو دلچسپی سے دیکھا
یہ جیسے دیکھ رہو ایسے مت دیکھو نہ ۔۔
وہی تو پوچھ رہا ہوں کیسے دیکھ رہا ہوں ۔ وہ محظوظ ہوا
جیسے ۔۔۔۔جیسے وہ فلموں میں گلی میں کھڑے غنڈے اور آوارہ لڑکے لڑکیوں کو تاڑ رہے ہوتے ہیں۔۔ اسکی بات پر عادل کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی
یا اللہ ژلے کیا چیز ہو تم ۔۔۔ میں تمہیں آوارہ غنڈہ نظر آتا ہوں
ہاں تو دیکھ تو انکی ہی طرح رہے ہو نہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پوری پاگل ہو تم۔۔ عادل نے ہنستے ہوئے اسکی گود میں سر رکھا تو وہ سٹپٹائی
اٹھو یہاں سے ایویں ای فری ہو رہے ہو اور۔۔۔۔۔اور میری منہ دکھائی بھی نہیں دی۔۔امثال نے اسکو اٹھانا چاہا
کئی بار دیکھا ہوا ہے اور کل تم بھی یہی کہہ رہی تھی اس لیے میں لایا ہی نہیں ۔عادل نے سنجیدگی سے کہا تو اسکا منہ کھلا
کیوں نہیں لائے۔۔۔۔ جاؤ میں نہیں بات کرتی.. امثال نے منہ بسورا
ائے سنو نہ ۔عادل ٹھوڑی سے پکڑ کر اسکا رخ اپنی طرف موڑا
چھوڑو میں نہیں بات کر رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھایہ دیکھو کیسا ہے ۔۔۔۔ عادل نے جیب سے ڈبی نکال کر اس میں سے بریسلٹ نکال کر اسکے سامنے لہرایا
مجھے نہیں دیکھنا اور نہ ہی مجھے لینا ہے۔۔۔۔۔
تو پھر کسے دوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم جسکو مرضی دو مجھے نہیں چایئے۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے پھر میں رکھ دیتا ہوں جب دوسری شادی کروں گا تو اسے دے دوں گا چلو اچھا ہے بار بار نہیں خریدنا پڑے گا ۔۔عادل نے بریسلٹ واپس ڈبی میں رکھا امثال کے تو تلوں پر لگی اور سر بجھی تھی
تم ۔۔تم دوسری شادی کروگے ۔۔۔۔۔ میں کرواتی ہوں تمہاری دوسری شادی ۔۔امثال نے تکیے اٹھا کراسے دے مارے اس سے دل نہ بھرا تو اس نے اسکے بال نوچنے شروع کر دیے
ظالم لڑکی چھوڑو ۔۔ کیوں ایک ہی رات میں گنجا کرنے کا ارادہ ہے۔ میں صبح کیا منہ لے کر سب کے سامنے جاؤں گا۔۔ عادل نے بال چھڑوانے چاہے
پہلےتوبہ کرو، آئندہ دوسری شادی کی بات بھی نہیں کرو گے ورنہ عادی میں بہت بری طرح پیش آؤں گی۔امثال روہانسی ہوئی
مزاق کر رہا تھا یار ۔۔ سانسوں میں بستی ہو تو بھلا کوئی اپنی سانسوں کو بھی خود سے دور کر سکتا ہے۔۔ نہیں نہ۔۔۔۔ تو میں کیسے اپنی زندگی کو خود سے دور کر سکتا ہوں۔ عادل بریسلٹ اسکے ہاتھ میں پہنایا ۔۔ دراز سے کھول کرایک فائل اس کے سامنے رکھی
یہ بابا کے آفس میں میرے شئیرز کی فائل ہے ،جو میں نے تمہارے نام کر دیے ہیں۔۔۔
یہ کیوں۔۔۔۔۔۔یہ مجھے نہیں چایئے اور نہ ہی مجھے اسکی ضرورت ہے ۔۔ امثال نے فائل اٹھا کر اسکی طرف بڑھائی
جانتا ہوں تمہیں کسی بھی چیز کی ضرورت نہیں ہے مگر تم میری طرف سے یہ ایک چھوٹا سا گفٹ سمجھ کر رکھ لو ویسے بھی میں جاب کرتا ہوں تو بزنس کو ٹائم نہیں دے سکتا تم سنبھال لینا اور اب کوئی بحث نہیں ۔۔۔عادل نے اسے منہ کھولتا دیکھ کر ٹوکا
اوکے ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی۔۔ امثال کندھے اچکاتی اٹھی تو عادل نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ بٹھاتے ہوئے نرمی سے اسے اپنے حصار میں لیا
کیا کر رہے ہو عادی ۔۔ وہ کسمسائی
شش ۔یہاں بیٹھو مجھے دیکھنے تو دو۔۔۔ میں نے اس دن کا کتنا انتظار کیا ہے ۔۔کبھی کبھی سوچتا ہوں تو حیران ہوتا ہوں مجھے لگتا تھا مجھے کسی سے محبت نہیں ہوسکتی مگر تمہیں دیکھا تو خود کو روک نہیں پایا۔۔۔۔ تمہارے آنے سے پہلے میری زندگی روکھی اور بے رونق تھی جس میں تم نے آ کہ رنگ بھر دیے ہیں تمہارے آنے سے ہنسنا سیکھ گیا ہوں اور محبت کرنا بھی۔۔۔ تھینکیو میری زندگی میں آنے کے لیے ۔۔
تمہیں پتہ ہے مجھے تمہارا یہ ڈمپل بہت پسند ہے تم سے تو محبت کرتا ہوں مگر تمہارے اس ڈمپل سے تو عشق ہے مجھے۔۔عادل اسکا گال چھوا
کچھ کہو گی نہیں ۔عادل نے اسے خاموشی سے اپنے کندھے پر سر رکھے بیٹھے پایا تو پوچھا
تم نہ بہت اچھے ہو اور۔۔۔۔۔۔۔ اس نے بات ادھوری چھوڑی
اور کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور مجھے بھی اچھے لگتے ہو اور پولیس یونیفارم میں اور بھی ہینڈسم لگتے ہو۔ امثال نے کہتے ہوئے اسکے کندھے میں منہ چھپایا عادل نے بے ساختہ قہقہ لگایا
ارے ارے میری کیوٹی شرما رہی ہے ۔۔۔۔۔۔تم نہیں جانتی میری کتنی خواہش تھی کہ تمہیں شرماتا دیکھوں ..اس نے ہنستے ہوئے اسے چھیڑا
اچھا ادھر تو دیکھو نہ میری طرف ۔۔۔۔ مجھے دیکھنا ہے کہ میرا فتنہ شرماتے ہوئے کیسا لگتا ہے ۔۔عادل نے اسکا سر اٹھانا چاہا
تم مار کھاؤ گے مجھ سے خبردار جو آئیندہ مجھے فتنہ کہا تو۔۔ امثال نے سرخ ہوتے چہرے سے اسکے کندھے پر مکا مارا۔اسکی حالت دیکھتے ہوئے عادل نے ایک بار پھر قہقہ لگایا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ولیمے کی تقریب جاری تھی شاہ خاندان کے علاوہ شہر کی بزنس فیملیز بھی مدعو تھیں ۔ امثال نے پیچ کلر کی میکسی زیب تن کی ہوئے تھی ۔ساتھ میں خدیجہ بیگم کے دیے ہوئے زیورات پہنے ہوئے تھے ۔انہوں نے اپنے سارے زیورا اٹھا کر اسے دے دیے تھے اسے ساتھ عادل بھی تمام تر وجاہت لیے بیٹھا تھا ۔ ہمیشہ کی طرح امثال کی زبان اپنی مکمل رفتار سے چل رہی تھی ۔وہ تقریب میں آنے والی لڑکیوں اور خواتین کے کپڑوں اور میک پر زور شور سے تبصرہ کر رہی تھی جس میں عادل بھی بھرپور طریقے سے اسکا ساتھ دے رہا تھا
وہ دیکھو عادی اس آنٹی کی عمر ہے بھلا ساڑھی پہننے والی ۔۔۔بھئی تم گھر بیٹھو پوتے پوتیاں سنبھالو ۔پر نہ جی دیکھو کیسے لہک لہک کر جلوے دکھا رہی ہے
تم اسے چھوڑو اس آنٹی کو دیکھو عادل نے ایک پچاس ساٹھ کے لگ بھگ خاتون کی طرف اشارہ کیا
بس کر دو تم دونوں ۔۔کچھ تو لحاظ کر لو ۔۔۔ امثال سے امید تو کیا پورا پورا یقین کیا جا سکتا ہے مگر عادل ،تم سے رتی برابر امید نہیں تھی کہ ایسی حرکتیں کرو گے ۔ امان نے انہیں افسوس سے دیکھا
میں نے کہا تھا کہ یہ زن مریدی کے سارے ریکارڈ توڑے گا مگر ایک ہی رات میں اسکی اتنی کایا پلٹ جائے گی مجھے یہ اندازہ نہیں تھا ۔۔صدام نے طنز کیا
تم لوگوں کو کوئی مسئلہ ہے کیا ۔۔۔بھئی میری بیوی بور ہو رہی ہے اس لیے ٹائم پاس کر رہے ہیں۔ عادل نے ڈھٹائی دکھائی
ماشاءاللہ کیا کہنے تمہارے ۔۔۔۔
امان بھائی میرے شوہر کو کچھ مت کہیں ورنہ میں نے اٹھ کر اعلان کر دینا کہ آپ شامین آپی کی پکچرز رکھتے ہیں اپنے موبائل میں اور انکو چوری چوری دیکھتے تھے امثال کی بات پر صدام اور عادل نے بےساختہ اسکی طرف دیکھا تو وہ گڑبڑا گیا
کسی دن ماری جاؤ گی میرے ہاتھوں ۔۔امان نے دانت پیسے
آپ میرے ایس پی شوہر کے سامنے دھمکی دے رہے ہیں
بھاڑ میں جاؤ تم دونوں ۔امان نے رخ موڑا
ہاہاہا ویلڈن وائفی ۔۔عادل نے ہستے ہوئے کہا
تم دونوں کا مسئلہ کیا ہے آج تیسرا دن ہے مسلسل آ کہ کہنا پڑتا ہے سیدھے ہو کر بیٹھو ،خاموش ہو کر بیٹھ جاؤ، کونسی ایسی باتیں ہیں جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔۔۔۔۔ چلو تھوڑا دور ہو کر بیٹھو۔۔۔ چلو شاباش ۔رمل آکر ان پر برسی
کیا ہو رہا ہے ۔۔آرام سے نہیں بیٹھ سکتے ۔ سٹیج پر بیٹھے ہو کچھ اس بات کا ہی خیال کر لو۔ کب سے ان دونوں کو نوٹ کرتا زریاب ان کے پاس آیا
لو جی انکی کمی تھی ۔امثال عادل کے کان میں گھسی تو وہ مسکرایا
میں نے شائد تم سے کچھ کہا ہے امثال ۔اپنی بات کو بے اثر دیکھ کر زریاب نے سر پیٹا
کیا ہوا سب خیریت ۔۔امثال تم ٹھیک ہو نہ ۔ان سب کو سٹیج پر یوں اکھٹا دیکھ کر شہریار انکے پاس آیا
ابھی تک تو خیریت ہی ہے مگر جس طرح یہ میاں بیوی تقریب میں موجود لوگوں پر تبصرے کر رہے ہیں نہ اگر کسی کے کان میں پڑ گئ نہ انکی باتیں ،تو لوگوں نے انکے دلہا دلہن ہونے کا لحاظ کیے بغیر جوتے لگانے ہیں۔ صدام نے کہا امان نے تو اسکے بعد بولنے کا رسک نہیں لیا تھا اس آفت کا کیا بھروسہ سب کے سامنے ہی شروع ہو جاتی
اچھا تم مہمانوں کو دیکھ لو میں انکے پاس بیٹھ جاتا ہوں۔شہریار نے ہنستے ہوئے اسکے سر پر چیت لگائی انکے ولیمے میں بازل اور زروا، عدید اور سدرہ ،صدام اور صوفیہ اور فرہاد رامین کا نکاح کر دیا گیا۔ رامین نے نکاح سے پہلے ہاجرہ شاہ سے کہا کہ وہ ابھی رخصتی نہیں کروائے گی زروا کی طرح اسکی سٹڈی ختم ہونے کے بعد رخصتی رکھیں جس پر انہوں نے ڈانٹا کہ یہ بڑوں کے کے کرنے کے فیصلے ہیں تو رامین نے صاف کہا کہ جب امثال کی ہر بات مانی جاتی ہے تو اسکی کیوں نہیں ۔مجبوراً انہیں خاموش ہونا پڑا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان پانچوں کی مہندی کی تقریب عروج پر تھی تقریب شروع ہونے سے پہلے جمال شاہ نے امان اور رمل کو انکے حصے کی پراپرٹی کے کاغذات دے دیے تھے اور ساتھ میں اپنی کوتاہیوں کی ایک بار پھر معافی مانگی تھی ۔ عدید نے بھی امثال کی فرمائش پر گاؤں میں ہی ایک چھوٹا سا گھر بنوا لیا تھا حالاں کہ ساریہ بیگم نے کہا بھی کہ لوگ گاؤں سے شہر شفٹ ہوتے ہیں تم شہر سے گاؤں آ رھے ہو ، مگر عدید نے یہ کہہ کر انہیں منا لیا کہ میں تو اکثر یہاں ہوتا ہوں تو ماما شہر میں اکیلی ہوتی ہیں اور ماما بھی مجھے کئی بار گاوں شفٹ ہونے کا کہہ چکی ہیں جس پر وہ خاموش ہو گئیں۔امثال نے اپنے دو دن نئی دلہن ہونے کے ٹائٹل کو ایک سائیڈ پر رکھتے ہوئے بازل کے ساتھ مل کر جو دھمال ڈالی تو سب نے کانوں کو ہاتھ لگایا تھا اس نے ساتھ میں عادل فرہاد رامین اور زروا کو بھی گھسیٹ لیا تھا۔ان سب نے مل کر خوب رونق لگائی تھی ان سب سے آنکھ بچا کر بازل نے امثال کو اشارہ کیا اور ابٹن باؤل میں لے کر اس میں پانی ملا کر اچھا خاصا پتلا کر کے تھک ہار کر بیٹھے فرہاد ،رامین اور زروا کے سر پر انڈیلا جو انکے سر سے لے کر پاؤں تک بہا تھا
یہ چیٹنگ ہے تم نے عادل لالہ کو چھوڑ دیا ہے۔۔ ان تینوں نے صدائے اجتجاج بلند کی
تم لوگوں کو نظر آ رہا ہے نہ اسکا سفید سوٹ ہے۔۔۔ابٹن سے خراب ہو جائے گا
واہ بڑا خیال ہے اسکے کپڑوں کا اور ہمارا کیا۔۔ فرہاد نے دانت پیسے تو امثال کندھے اچکاتی دریاب لوگوں کے پاس پہنچی
یااللہ خیر ۔۔۔ جل تو جلال تو آئی بلا ٹال تو صدام نے اونچی آواز میں ورد کرنا شروع کر دیا
چلیں بھئی نکالیں دو دو لاکھ ۔۔ امثال نے ہتھیلی آگے کی
کس خوشی میں۔۔۔ امان نے حیرانی سے پوچھا
آپکی مہندی کی خوشی میں اور ویسے بھی مہندی پر لڑکیاں دلہے سے نیگ لیتی ہیں ۔ہیں نہ رمل آپی
نہیں مہندی پر نیگ نہیں لیتے اور نہ ہی کوئی ایسی رسم ہوتی ہے ۔رمل نے مسکراہٹ دباتے ہوئے نفی میں سر ہلایا
تو ٹھیک ہے اب سے ہوا کرے گی ۔آج سے میں یعنی امثال راسم شاہ۔۔۔۔
امثال راسم شاہ نہیں امثال عادل شاہ۔۔ رامین نے لقمہ دیا
ہاں ہاں امثال عادل شاہ آج سے یہ رسم قائم کرتی ہے کہ مہندی پر بھی نیگ لیا جائے گا
نہیں بھئی ہم نہیں دے رہے۔ چلو تھوڑے مانگتی تو دے بھی دیتے یہ دو دو لاکھ فی بندہ۔۔۔۔ مطلب تمہارا تو پھر دس لاکھ بنتا ہے دریاب نے حساب لگایا
دس لاکھ کیوں بس چھ لاکھ ہی بنیں گے اور ہم تین ہیں دو دو لاکھ ہیں آئیں گے
کیوں اپنے بھائیوں سے نہیں لو گی ۔ وہ دلہے نہیں ہیں کیا ۔امان نے اسے گھورا
نہیں بھئی وہ میرے بھائی ہیں ان سے کیوں لوں گی اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ مہندی بخیروعافیت سے گزر جائے تو شرافت سے پیسے دے دیں ورنہ مجھے صرف دو منٹ لگیں گے یہ سارا سیٹ اپ تلپٹ کرنے میں۔۔ امثال نے دھمکی لگائی
تم نے جو کرنا ہے کر لو ہم نہیں دے رھے ہیں
تم تو خاموش ہی رہو جو تم نے دعوت میں میرے ساتھ کیا تھا نہ ، اسے بھولی نہیں ہوں میں۔۔۔ ایسا نہ ہو کہ میں یہی جوتی اتار لوں۔۔ امثال کی دھمکی پر وہ ایسا ہو گیا جیسے وہاں ہے ہی نہیں۔۔
دیکھو ابھی اتنے تو ہمارے پاس نہیں ہیں تم ادھار کر لو۔۔۔۔ دریاب نے اسے ٹالنا چاہا
لو اس میں کیا بڑی بات ہے زری انکی چیک بکس دو۔۔ امثال نے زروا سے کہا تو اس نے تین چیک بکس اسکے ہاتھ پر رکھی ہیں
مائی گاڈ میں نے صبح سے کمرہ الٹا دیا ہے اسے ڈھونڈنے میں ۔۔حد ہو گئی ۔۔ امان نے سر جھٹکا ،بادل ناخواستہ ان تینوں نے چیک سائن کر کہ اسے پکڑائے امثال نے سائن کردہ چیک اور چیک بکس ان سے لے کر زروا کو دیں کہ ابھی بہت جگہ کام آئیں گی خود وہ وہیں نیچے بیٹھ کر ان سے گپیں ہانکنے لگی
تم اپنی بیوی کو کنٹرول نہیں کر سکتے ۔ ساریہ بیگم نے اسکو یوں دندناتے دیکھ کر عادل سے کہا
خالہ جانی جو کام پچھلے بائیس تیئس سال میں آپ نہیں کر سکیں تو دو ہی دن میں کیا سنبھالوں گا ۔عادل نے مسکراتے ہوئے کہا
بازی نہیں کرو انسان بنو ۔۔۔۔ امثال اٹھو یہاں سے فورا ۔۔۔ شہریار نے کہا تو امثال کے اٹھنے سے پہلے ہی زروا اور رامین نے اسے پکڑا ، بازل اور فرہاد نے ابٹن کا تھال اس پر الٹا
بازی کمینے یہ کیا کیا ہے میں نے تم پر تو نہیں پھینکی تھی۔۔ امثال وہیں بیٹھی بیٹھی چیخی تھی شہریار اٹھ کر ٹشو سے اسکا منہ صاف کرنے لگا
دریاب آنا زرا تمہاری ہیلپ چایئے ۔عادل نے دریاب کو اشارہ کیا تو وہ اٹھ کر بازل کے پیچھے جا کھڑا ہوا عادل مہندی کا تھال اٹھا کر بازل کے چہرے پر ملنے لگا دریاب نے اسے بازوں سے پکڑ رکھا تھا
بھائی کیا کر رہے ہیں مہندی اترے گی نہیں۔۔۔ چھوڑیں نہ مجھے کل شادی اٹینڈ کرنی ہے ۔ بازل نے خود کو چھڑوانا چاہا مگر دریاب نے اسے مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا اس لیے سوائے پھرپھڑانے کچھ نہ کر سکا امثال کی نظر پاس کھڑے فرہاد پر پڑی جو بازل کی حالت پر ہنس رہا تھا اسے یاد آیا کہ بازل کے ساتھ فرہاد بھی شامل تھا ۔اس نے اپنی ہیل اتاری اور فرہاد کی طرف پھینکی جو سیدھی اسکی کمر میں لگی اسکی منہ سے بے ساختہ چیخ بلند ہوئی تھی ۔مڑا تو امثال کمر پر ہاتھ رکھے اسے گھور رہی تھی امثال جھک کر دوسرا جوتا اتارنے لگی تو فرہاد کو سٹیج سے اتر کر غائب ہونے میں دو سیکنڈ لگے تھے ۔تقریب میں شامل مہمان ایسی انوکھی مہندی پہلی بار دیکھ رہے تھے بے شک وہ اس تقریب کو برسوں یاد رکھنے والے تھے ۔
ہائے دلہنوں کیسی ہو کیا ہو رہا ہے۔۔۔ امثال عائشہ کے روم میں داخل ہوئی سانیہ ،شامین رمین اور زروا بھی اسکے کمرے میں جمع تھیں
کچھ نہیں بس ایسے ہی ۔۔۔ سانیہ نے کہا عائشہ اٹھ کر امثال کے گلے لگی
کیا ہوا آپی آپ ٹھیک ہیں نہ امثال نے فکرمندی سے پوچھا مگر وہ خاموشی سے کھڑی رہی
آپی کیا ہوا ۔۔۔۔۔رخصتی کل ہے آپ ابھی سے گلے لگ رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
تھینک یو ۔۔ ہمیں اتنی خوشیاں دینے کے لئے ۔۔۔ہمارے چہرے پر ہنسی لانے کے لیے ،تھینک یو ۔۔ ہمارے لیے اتنا سب کچھ کرنے کے لئے۔۔۔۔۔۔۔ حویلی میں رونق لانے کی وجہ ہو تم ۔۔۔۔۔۔۔۔تھینک یو سو مچ ہماری زندگی میں آنے کے لیے ۔۔۔۔۔۔بس ایک گلہ رہے گا کاش تم بہت پہلے ہمیں مل گئی ہوتی ۔۔۔زندگی کے بیس سال ہم نے بے رونق گزارے ہیں ۔عائشہ نے بھیگی آواز میں کہا ۔ باقی سب بھی اٹھ کر انکے دائیں بائیں لگ کر کھڑی ہو گی
اچھا اچھا اب پیچھے تو ہٹیں مجھے مارنا ہے کیا ۔۔میرا تو کچھ نہیں جائے گا تمہارا بھائی ہی دو دن بعد بیوہ ہو جائے گا۔ امثال نے شرارت سے کہا تو وہ پیچھے ہٹیں
اللہ نہ کرے تمہیں کچھ ہو۔۔۔۔۔ ہم نے تو پھر بھی گزارہ کر لینا ہے مگر ہمارے لالہ کا کیا ہوگا ۔عاشہ نے ہنستے ہوئے اسکا گال کھینچا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رخصتی کے بعد امثال اور رمل نے لڑکیوں کو کمروں میں بٹھا دیا تھا ۔ امثال نے دریاب ،امان اور صدام کے کمروں کو لاک کر دیا تھا۔صدام سے پیسے لے کر وہ تینوں دریاب اور امان کے کمروں کے باہر کھڑی تھیں چونکہ ان دونوں کے کمرے ساتھ ساتھ تھے اس لیے انہیں اکھٹے ہی نمٹانے کا سوچا تھا
ہاں بھئی اب کیا مسئلہ ہے کیا چایئے ۔امان نے انہیں گھورا صبح سے دودھ پلائی اور پتہ کس کس رسم کے نام سے انہیں لوٹ چکیں تھیں وہ تینوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ رسمیں تو خالصتا نئی اور امثال کی اپنی ایجاد کردہ تھیں اور وہ رسمیں صرف صدام ،امان اور دریاب کے لیے تھیں عدید اور شہریار ان سے مستشنٰی تھے
پیسے چاہئں اور کیا ۔۔۔تمہارے بچوں کا رشتہ تھوڑی مانگنے آئے ہیں ابھی اس میں دیر ہے ۔۔۔۔امثال نے بے نیازی سے کہا
یا خدا امثال اور کتنے پیسے چاہیں تمہیں۔۔۔ صبح سے کتنا لوٹ چکی ہو اب بس کر دو اور بازل تمہارا یہاں کیا کام ہے ۔۔امان نے دہائی دی
جس طرح سے تم لوگ کل سے پیسے اکھٹے کر رہی ہو قسم سے پروفیشنل بھکارنیں لگ رہی ہو۔ دریاب نے انہیں چڑایا
تم لوگ جو بھی کہو ہم برا نہیں منانے والے بس جلدی سے چیک یا کیش دیں ہمیں اور بھی کام ہے۔۔ امثال نے اسکی بات کا برا منائے بغیر کہا
عادل اپنی بیوی کو دیکھ لو تم۔ امان نے اسے بھی گھسیٹا
ہاں میں دیکھ رہا ہوں اسے نہیں دیکھوں گا تو کسے دیکھوں گا عادل نے کندھے اچکائے تو دانت پیس کر رہ گیا
تم رہنے دو اسے ۔۔۔۔۔۔۔ اس نے تو زن مریدی کا ورلڈ ریکارڈ قائم کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔لاؤ دو چیک بک۔۔ دریاب نے جلتے بھنتے چیک سائن کر کہ اسے پکڑایا ۔امثال نے چابیاں انکی طرف اچھالیں تو وہ لاک کھول کر اندر داخل ہوگئے
تم کہاں جا رہی ہو عادل نے اسے نیچے جاتے دیکھا تو اسکا ہاتھ پکڑ کر روکا
نیچے جا رہی ہوں ماما نے کہا ہے کہ مہمانوں کو دیکھ لوں۔۔۔۔
رہنے دو گھر میں اتنے سارے لوگ ہیں اور ملازم بھی موجود ہیں وہ دیکھ لیں گے تم چلو کمرے میں سارا دن اچھل کود کر کہ تھک گئی ہو گی۔۔۔ وہ کندھے اچکاتی اس کے پیچھے چل پڑی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یار پلیز سمجھنے کی کوشش کرو مجھے پندرہ دن کی چھٹی ملی تھی جس میں سے آٹھ دن تو گزر گئے ہیں باقی آٹھ دن ہیں ان میں تم جہاں کہتی ہو چلتے ہیں
نہیں مجھے کم سے کم پندرہ بیس دن کے لیے جانا ہے امثال نے صبح سے رٹا ہوا جملہ دہرایا اسکی ایک ہی ضد تھی کہ وہ پندرہ بیس دن کے لیے ہنی مون پر جائے گی مگر عادل کو چھٹیوں کا مسئلہ آ رہا تھا وہ صبح سے اسکے پیچھے پیچھے تھا مگر اسکا ایک ہی جواب کہ نہیں ایک ہفتہ تو آنے جانے میں ہی لگ جائے گا ابھی بھی وہ لاونج میں بیٹھے اسی بحث میں مصروف تھے
کیوں نہ ہم سب اکھٹے چلیں بہت مزہ آئے گا ۔امثال نے پرجوش ہوتے کہا
نہیں۔۔۔ تمہارے ساتھ ہر گز نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بلکل بھی نہیں ۔۔۔بیک وقت امان، دریاب اور صدام کی آواز آئی تو امثال کا منہ کھلا
ٹائمنگ چیک کرو زرا انکی۔۔۔عدید نے ہنستے ہوئے کہا
نہیں تو نہ سہی میں تو آپ لوگوں کے لیے ہی کہہ رہی تھی کہ آپ سب کو کمپنی مل جائے گے
نہیں چایئے ایسی کمپنی ہم باز آئے تمہارے ساتھ کہیں جا کر وہاں سے ہمیں بین نہیں ہونا ۔ صدام نے نفی میں سر ہلایا
تم چھوڑو انہیں میری بات سنو نہ ۔۔ عادل نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا اسکی حالت دیکھتے ہوئے سب نے مسکراہٹ دبائی
میں کچھ نہیں سنوں گی ۔ ایک سکینڈ تمہیں چھٹی کا مسئلہ ہے نہ۔۔۔ ایک خیال کے تحت امثال کی آنکھیں چمکیں
صبح سے وہی تو کہہ رہا ہوں عادل نے بیچاری سی صورت بنائی اسے لگا شائد وہ اسکی بات کو سمجھ گئی ہے
مائی گاڈ یہ خیال مجھے پہلے کیوں نہیں آیا ۔۔امثال نے موبائل پر پاسورڈ لگاتے ہوئے ایک نمبر ڈائل کر فون سپیکر پر ڈالا
ہیلو اسلام علیکم انکل میں امثال بات کر رہی ہوں
وعلیکم اسلام کیسی ہو بیٹا ۔۔دوسری طرف سے آتی ڈی آئی جی کی آواز پر عادل اچھلا
میں ٹھیک ہوں انکل آپ کیسے ہیں ۔۔مجھے آپ سے ایک کام تھا
میں بھی ٹھیک ہوں تمہاری کال آتے دیکھ کر ہی میں سمجھ گیا تھا کہ امثال شاہ کو لازمی کوئی کام ہی ہو گا ورنہ وہ کہاں ہم غریبوں کو یاد کرتی ہے ۔انہوں نے شکوہ کیا
انکل آپ تو یہ بات نہ کریں میں نے آپکو شادی پر انوائیٹ کیا تھا مگر آپ نہیں آئے کہ کہیں سلامی نہ دینی پڑ جائے۔ ویسے تو بڑا بابا کو اپنا بیسٹ بڈی کہتے ہیں مگر انکے بچوں کی شادی میں ہیں آئے دیکھنا میں کیسے انہیں بھڑکاؤں گی آپ کے خلاف ۔۔ امثال کی بات سن کر انہوں نے قہقہ لگایا ڈی آئی جی آفتاب مغل جیسا رعب و دبدے والے بندے کا یہ انداز دیکھ کر عادل کو خاصی حیرانی ہوئی تھی
چلو بتاؤ میری بیٹی کو کیا کام ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک بندہ معطل کروانا ہے۔۔
کیوں بھئی کس کی شامت آ گئی ہے۔۔ نام تو بتاؤ زرا میں بھی تو سنوں کس نے میرے شیر بیٹے سے الجھنے کی ہمت کر لی
ایس پی عادل عمر شاہ ۔امثال عادل کی طرف دیکھتے ہوئے آنکھ دبائی ۔اس نے بے یقینی سے اسکی طرف دیکھا اسکی حالت پر سب کا قہقہ لگانے کو جی چاہ رہا تھا
تمہاری شادی اسی سے ہوئی ہے نہ غالبا کارڈ پر یہی نام لکھا تھا تو پھر۔۔۔تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد انہوں نے پوچھا
ہاں ۔۔۔۔ میں نے ان سے کہا ہے کہ مجھے گھومنے جانا ہے جواب میں موصوف کہتے ہیں چھٹی نہیں مل رہی تو میں نے سوچا ایک مہینے کے لیے چھٹی کروا دیتی ہوں کوئی ہلکا سا کیس بنا کر معطل کر دیجیے
تو بیٹا چھٹی لے لو۔۔۔
سنو چھٹی لینی ہے یا معطل ہونا ہے ۔امثال نے عادل کے سامنے آپشن رکھے ۔گویا سوٹ کا کلر پوچھ رہی ہو
یار چھٹی ہی لے لو معطل کروا کر میرا بے داغ ریکارڈ ضرور خراب کروانا ہے
ٹھیک ہے انکل ایک مہینے کی چھٹی ڈن کریں
اوکے۔۔۔ بیٹا اللہ جاٖفظ ۔۔
اب ٹھیک ہے میں جا کر پیکنگ کرتی ہوں ۔فون بند کرتی وہ عادل کو ہقابقا چھوڑے یہ جا وہ جا ہوئی ۔لاونج میں ایک دم سب کا قہقہ گونجا تھا ۔اس کے پیچھے عدید بھی اٹھ کر چلا گیا
یار تم امثال کو سمجھاؤ نہ ، کام کا برڈن بہت بڑھ جائے گا میری تو سن نہیں رہی ہے
کوئی نہیں پسند کی شادی میں بندہ اتنا زلیل تو ہوتا ہی ہے۔ شہریارنے بے نیازی سے کہا تو اس نے آنکھیں پھاڑیں
کک ۔۔۔کیا مطلب۔ عادل ہکلایا
تمہیں کیا لگتا ہے تم میری بہن کو چھپ چھپ کر دیکھو گے کبھی کھڑکی سے تو کبھی بلکونی سے ۔ اسکی پکچرز لو گے پھر دادو سے جا کر اپنی اور امثال کی شادی کی بات کرو گے اور مجھے پتہ نہیں چلے گا ۔شہریار کے انکشاف پر جہاں وہ ششدر ہوا تھا وہیں وہ تینوں بھی حیران ہوئے تھے
تمہیں کیسے پتہ ۔عادل نے مرے مرے انداز میں کہا
بہن ہے وہ میری۔۔۔ اسکی سانسوں تک کی خبر رکھتا ہوں ۔اس دن جب وہ فٹ بال کھیل رہی تھی تو میں نے تمہیں کھڑکی میں کھڑے دیکھ لیا تھا اور پھر جب وہ میرے پاس سٹڈی میں بیٹھی تھی تو اسکی پکچر لیتے ہوئے بھی دیکھا تھا ۔اور سچ کہوں تو اس دن تو تمہاری ہمت کی داد دینے کو جی چاہا تھا کہ لڑکی کا بھائی پاس بیٹھا ہے اور تم دھڑلے سے نہ صرف اسے گھور رہے ہو بلکہ تصویریں بھی لے رہے ہو ۔کیونکہ میں تمہیں ایک عرصے سے جانتا تھا کہ تمہاری نیت غلط نہیں ہو سکتی اسی لیے جب دادو نے تمہارے رشتے کی بات کی تو میں نے ہاں کر دی ایک تو اسطرح امثال ہمیشہ میری آنکھوں کے سامنے رہتی اور دوسرا تم نے اسکی نیچر کو جان کر اسکی طرف ہاتھ بڑھایا تھا مجھے امید تھی کہ تم اسے خوش رکھو گے
توبہ ہے تم بہن بھائیوں سے ۔۔تم لوگوں کو تو سی آئی اے میں ہونا چایئے ۔عادل نے سر جھٹکا ۔شہریار کی کال آگئی تو وہ اٹھ کر باہر نکل گیا
اچھا میرا تو سولیوشن نکالو نہ آلریڈی پندرہ چھٹیاں ہو چکی ہیں میں ابھی نہیں جانا چاہتا ۔۔۔۔
تم کیوں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نوکری سے ہاتھ دھونا چاہتے ہو اس بار تو معطل ہوتے ہوتے بچے اگلی بار سیدھا ریزگنیشن لیٹر لا کر تمہارے ہاتھ پر رکھ دے گی ۔امان نے ہنستے ہوئے اسے چھیڑا
چلو کوئی نہیں بعد میں گھر بیٹھ کر آرام سے زن مریدی کر لے گا ۔ دریاب نے صدام کے ہاتھ پر ہاتھ مارا
ویسے تمہارا مسئلہ دو لوگ حل کر سکتے ہیں ۔انکے پاس ہر مسلے کا حل ہوتا ہے۔۔ صدام سنجیدہ ہوا
کون ۔۔عادل نے اختیار سیدھا ہو کر بیٹھا
امثال اور بازل
شرم تو نہیں آتی کسی غریب کا مزاق اڑاتے ہوئے ۔عادل نے دانت کچکچائے
عادی یہاں آؤ بات سنو۔۔ امثال نے سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر کہا تو وہ انہیں گھورتا ہوا اٹھ گیا پیچھے سے آتے انکی ہنسی کی آوازوں پر سر جھٹکتے ہوئے وہ خود بھی ہنسا تھا
ختم شدہ