32.9K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

چلیں بھائی۔ امثال چینج کر کہ آئی تو شہریار کو ٹہلتے پایا
کہاں جا رہے ہو۔ عدید نے لاونج میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا
اسے ڈاکٹر کے پاس لے کے جا رہا ہوں جب تک میں خود اس کا ٹریٹمنٹ نہ کروا لوں میری تسلی نہیں ہوگی
ہوں۔۔ صحیح ہے میں بھی چلتا ہوں
شہری بھائی میں بتا رہی ہوں میں پلاسٹر نہیں لگواوں گی۔۔ عجیب سا لگتا ہے ۔ ہوسپیٹل پہنچ کر امثال نے اسے یاد دلوایا
ٹھیک ہے گڑیا مت لگوانا۔۔۔۔ ڈاکٹر پہلے والی بینڈیج اتارنے لگا تو امثال کراہی
ڈاکٹر آرام سے۔۔۔۔۔ آپ دیکھ نہیں رہے اسے تکلیف ہو رہی ہے۔۔۔۔عدید کے سرد اور کرخت لہجے پر ڈاکٹر جھرجھری لے کر رہ گیا ۔پاس کھڑی نرسوں میں سے ایک جو کافی دیر سے اسے میٹھی نظروں سے دیکھ رہی تھی اسکا انداز دیکھ کر اس نے کھسکنے میں ہی عافیت جانی۔عدید کی سرخ انگارہ آنکھیں اور چہرے پر چٹانوں جیسی سختی دیکھ کر امثال کی بھی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑ گئی تھی اسکی پھیکی پڑتی رنگت دیکھ کر شہریار نے عدید کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر امثال کی طرف اشارہ کیا
تم ٹھیک ہو ۔۔درد تو نہیں ہو رہا ۔۔عدید کے پوچھنے پر امثال نے ڈرتے ہوئے نفی میں سر ہلا دیا اسکو یوں خود سے ڈرتے دیکھ کر اس نے آنکھیں بند کر کہ گہری سانس لی
ریلیکس پرنسز۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ سٹریچر پر بیٹھتے ہوئے اس کا سر چوما ۔
یوں تو نہیں کرو نہ ۔۔ مجھے تکلیف ہو رہی ہے ۔اسکو ہلکا سا کانپتا ہوا دیکھ کر عدید نے اسے بازو کے حصار میں لیا۔ ابکی بار اس کے لہجے میں بلا کی نرمی تھی۔امثال نے اسکے سینے پر سر رکھا
آئی ایم سوری۔۔ تم پر سکون رہو پلیز ۔۔۔۔ ڈاکٹر اور نرسیں اسکے پل پل بدلتے رویے کو دیکھ کر حیران تھے
میں میڈیسن لے کر آتا ہوں پھر گھر چلتے ہیں۔ شہریار کہتا ہوا باہر چلا گیا
میری بیٹی کیسا فیل کر رہی ہے ۔ اسکی دوسری طرف بیٹھتے ہوئے پوچھا
ٹھیک ہوں ماما۔۔۔۔۔۔۔۔
۔تم دیکھنا میری بیٹی جلدی ٹھیک ہو جائے گی ۔ساریہ بیگم نے اس کا منہ چومتے ہوئے کہا
اللہ اللہ یہ میری ماما ہی ہیں نہ ۔۔مجھے لگتا ہے میں خواب دیکھ رہی کوئی مجھے چٹکی کاٹو تاکہ مجھے ہوش آئے۔ امثال کے شرارت سے کہنے پر ساریہ بیگم اور عدید ہنس دیے
ہا ۔۔۔۔۔۔۔۔ میری بات پرماما ہنس رہی ہیں عدی ۔۔ اب تو پکا میں کوئی خواب دیکھ رہی ہوں
یہ لڑکی بیماری میں بھی باز نہیں آتی۔ ساریہ بیگم نے سر جھٹکا
چلیں ماما ۔۔شہریار نے آ کر کہا تو وہ اٹھے
بڑی مام آپ شہری بھائی کے ساتھ بیٹھ جائیں میں ژلے کے ساتھ پیچھے بیٹھ جاتا ہوں دو لوگوں کے ساتھ کمفرٹ ایبل فیل نہیں کرے گی ۔ عدید کے کہنے پر ساریہ بیگم آگے بیٹھ گئی ۔عدید اسے اپنے ساتھ لگائے پیچھے بیٹھ گیا ۔ ابھی وہ لوگ آدھے راستے میں ہی پہنچے تھے کہ امثال نے اپنا وزن مکمل طور پر اس پر ڈال دیا ۔اس نے چونک کر اسے دیکھا تو وہ آنکھیں بند کیے گہری سانسیں لے رہی تھی
ژلےسوہنے ٹھیک ہو نہ ۔۔ کیا ہوا ہے عدید نے اس پر جھکا
کچھ نہیں ہوا عدید۔۔ سو گئی ہے ڈاکٹر نے کہا تھا انجکشن کی وجہ سے سو جائے گی، اسے ڈسٹرب نہ کرو۔ بیک ویومررسےدیکھتےشہریار نے اسے منع کیا تو اس سکھ کا سانس لیا
اسکے سامنے اپنے غصے پر کنٹرول رکھا کرو ۔ اگر ایسے ہی چلتا رہا تو وہ تم سے ڈرنے لگے گی۔ شہریار نے اسے تنبیہ کی
جی بھائی آئندہ خیال رکھوں گا
حویلی پہنچتے پہنچتے انہیں رات کے آٹھ بج چکے تھے شہریار نے اسے کسی چھوٹی بچی کی طرح اپنے ہاتھوں میں اٹھایا اور اسکے کمرے میں لٹایا ۔سب لوگ وہاں جمع ہو گئے تھے کچھ دیر تک اس کے پاس بیٹھے رہنے کے بعد سب آہستہ آہستہ اٹھ کر جانے لگے
ماما آپ بھی جا کر سو جائیں میں یہی سو جاتا ہوں ۔رات کو اگر اسکی آنکھ کھلی ہمیں نا پا کر پریشان ہو گی اور اگر اسے کچھ چاہئیے ہو گا تو بھی میں مینج کر لوں گا شہریار نے امثال کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا
بیٹا تم سارے دن کے تھکے ہوئے ہو میں سو جاتی ہوں اسکے پاس تم جاؤ اپنے کمرے میں ۔۔ساریہ بیگم نے اسے بھیجنا چاہا
نہیں مام آپ جائیں میں بھی یہی ہوں۔ عدید نے کہا تو وہ دروازے کی طرف بڑھی جب راسم شاہ کو اندر آتے دیکھا
چلو بھئی رش کم کرو۔ میں آج اپنی بیٹی کے پاس سوؤں گا۔ انکی بات سن کر ساریہ بیگم نے نفی میں سر ہلایا
اسکی ضرورت نہیں آپکے سپوت پہلے ہی ڈیرے جما چکے ہیں۔ ساریہ بیگم نے عدید اور شہریار کی طرف اشارہ کیا
چلو بھئی پھر میری بھی جگہ بناؤ اور آپ بھی کھانا کھا لیں اور ان دونوں کے لیے بھی بجھوا دیجیے گا ۔ راسم شاہ نے باہر نکلتی ساریہ بیگم سے کہا تو دونوں نے معنی خیزی نظروں سے انہیں دیکھا
واہ بھئی کتنی فکر ہے آپ کو اپنی بیوی کی مجھے تو لگتا ہے ہماری آڑ میں آپ ماما کو تاکید کر رہے ہیں۔ عدید نے مسکراتےہوئے کہا
کاش ژلے جاگ رہی ہوتی ،آپکا وہ ریکارڈ لگاتی کہ یاد رکھتے۔ شہریار نے بھی ہنستے ہوئے انہیں چھیڑا تو انہوں نے قہقہ لگایا
شرم تو نہیں آتی ماں باپ سے اس طرح سے بات کرتے ہوئے۔ساریہ بیگم نےجھینپتے ہوئے انکو گھرکا جواب میں تینوں کا قہقہ دیکھ کر وہ سر جھٹکتی باہر نکل گئی ان کے جانے کے بعد وہ شہریار کی طرف متوجہ ہوئے
کیا کہا ہے ڈاکٹر نے ۔۔۔۔
ہڈی فریکچر نہیں ہوئی اس لیے فکر کی کوئی بات نہیں مگر ڈاکٹر نے کہا ہے کہ احتیاط ضروری ہے تاکہ زخم خراب نہ ہو۔ کل دوبارہ چیک اپ کے لیے جانا ہے
کچھ پتا چلا کون تھے ؟
نہیں بڑے بابا میں نے پتہ کروایا ہے صبح تک پتہ چل جائے گا ۔ژلے جانتی ہے مگر پتہ نہیں کیوں بتا نہیں رہی ہے ۔ عدید نے اپنی پیشانی مسلی
اچھا کوئی نہیں تم پریشان نہ ہو، پتہ چل جائے گا ۔اتنے میں عائشہ کھانا لے کر کمرے میں آئی
عدید بھائی اور آپ نے کھانا نہیں کھایا تھا تو خالہ نے کہا ہے کہ آپکو کمرے میں دے آؤں۔ پلیز کھا لیں۔ عائشہ نے شہریار کے سامنے کھانا رکھا تو راسم صاحب کھنکھارے
عدید تمہیں یاد ہے کچھ دیر پہلے کوئی کچھ کہہ رہا تھا ۔۔۔
ہاں نہ بابا مجھے بڑے اچھے سے یاد ہے۔۔ عدید نے بھی لقمہ دیا تو شہریارجھینپ کر رہ گیا ۔عائشہ ناسمجھی سے انہیں دیکھتی ہوئی چلی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح جب امثال کی آنکھ کھلی تو اپنے دائیں طرف ساریہ بیگم ،بائیں طرف راسم صاحب کو سوتے پایا۔ سامنے نظر پڑی تو صوفے پر عدید سو رہا تھا اور اسکے پاس ہی نیچے گدا بچھائے عدید سو رہا تھا
یہ حویلی والوں نے ان سے انکے کمرے چھین لیے ہیں کیا، جو یہ لوگ یہاں سو رہے ہیں ۔امثال بڑبڑاتے ہوئے اٹھی
ایک ہاتھ سے بال سمیٹنے کی کوشش کی جو کہ ناکام رہی تھک کر اس نے ایسے ہی چھوڑ دیے ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی کہ درمیان میں سے کیسے اٹھے کہ شہریار کی آنکھ کھل گئی وہ اٹھ کر اسکے پاس آیا
کیا ہوا کچھ چاہئیے۔۔۔۔۔ پین تو نہیں ہو رہا ہے؟
ہاں بھائی میں ٹھیک ہوں۔ آپ میرے بال سمیٹ دیں، مجھے منہ دھونا ہے تو شہریاراسکے بال سمیٹنے لگا گوکہ دونوں ہلکی آواز میں باتیں کر رہے تھے پھر بھی باری باری ان تینوں کی آنکھ کھل گئی
ژلے کیسا ہے تمہارا بازو ؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔کب اٹھی ؟۔۔ساریہ بیگم نے اٹھتے ہوئے پوچھا
ماما ٹھیک ہے اور میں تھوڑی دیر پہلے ہی اٹھی ہوں ۔جب آنکھ کھلی تو پہلے تو مجھے لگا شائد میں کسی دربار میں ہوں جہاں اتنے سارے لوگ آڑے ترچھے سو رہے ہیں ۔۔۔پھر خیال آیا کہ ہو سکتا ہے حویلی والوں نے آپ سے کمرے چھین لیے ہوں ، اب ذرا آپ روشنی ڈالنا پسند کریں گے کہ آپ سب یہاں کیوں سو رہے تھے ۔۔۔۔ امثال نان سٹاپ شروع ہو چکی تھی
ہمارے دماغ خراب ہوگئے تھے جو یہاں سو گئے ۔اسکے خیالات سن کر ساریہ بیگم جل کر رہ گئیں
اچھا اچھا اور یہ بات آپکو اب کس نے بتائی۔ امثال نے “اب”پر زور دیتے ہوئے تجسس سے پوچھا تو راسم شاہ نے قہقہ لگایا
تم کیوں چاہ رہی ہو کہ میں تمہیں اس حالت میں بھی جوتے لگاؤں ؟
رہنے دیں ماما اس وقت میرے پاس سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات ہیں ۔آپ مجھے ٹچ بھی نہیں کر سکتی امثال نے اپنے چاروں طرف باپ اور بھائیوں کو دیکھتے ہوئے فخر سے آنکھیں مٹکائیں
میں تمہارے ساتھ پوری نہیں آ سکتی ۔ اٹھتے ساتھ ہی تمہارا دماغ اور زبان پٹرپٹر کرنے کے لیے حاضر ہوتے ہیں ۔۔۔۔ لوگوں کی اولاد صبح اٹھنے کے بعد آدھے آدھے گھنٹے تک جام رہتی ہے اور ایک میری اولاد ہے جو نیند میں بھی فریش ہوتی ہے۔ بڑبڑاتے ہوئے وہ باہر نکل گئی پیچھے وہ چاروں دل کھول کر ہنسے تھے
ویسے آپ لوگوں نے بتایا نہیں کہ یہ درباروں پر سوئے ملنگوں کی طرح میرے کمرے میں کیوں پڑے تھے۔
تمہاری ماں کا خیال غلط نہیں ہے راسم شاہ نے ہنستے ہوئے کہا اور وہ بھی کمرے سے نکل گئے
بھائی مجھے بھوک لگی ہے۔ امثال فریش ہو کر آئی تو شہریار سے کہا
اچھا میں ناشتے کا کہتا ہوں اور عدید تم سو جاؤ کافی دیر تک جاگتے رہے ہو تمہاری آنکھیں ریڈ ہو رہیں
ہاں عدی تم یہاں آجاؤ ایزی ہو کر سونا ۔۔امثال نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا تو وہ اٹھ کر اسکے بائیں جانب لیٹ گیا ۔شہریر نے ٹاول لے کر اسکے ہاتھ اور منہ خشک کیا بالوں میں کنگھی کر رہا تھا کہ رمل اور عائشہ ان تینوں کا ناشتہ لے کر آئیں شہریار کو اسکے بال کنگھی کرتا دیکھ کر عائشہ مسکرائی
آہستہ عدید ابھی سویا ہے۔ شہریار نے انکو اشارہ کیا
لائیں مجھے دیں میں کر دیتی ہوں آپ ناشتہ کر لیں ٹھنڈا ہو جائے گا عائسہ نے اس سے کنگھی لینی چاہی
نہیں بس ہو گیا ۔شہریار نے مصروف انداز میں کہا ۔اسکو اتنی مہارت اور صفائی سے چٹیا کرتے دیکھ کر رمل اور عائشہ کے منہ کھلے تھے
ویسے شہریار بھائی اتنی صفائی سے تو ہمیں بھی چٹیا کرنی نہیں آتی جتنی مہارت سے آپ کر رہے ہیں ۔رمل ہنستے ہوئے بولی
وہ اس لیے کہ میں اکثر اپنے بچے کے بال بناتا رہتا ہوں۔ شہریار نے ہنستے ہوئے بالوں کے آخر پر پونی لگائی
ارے آپو آپکو نہیں پتہ بھائی تو آئلنگ بھی بہت اچھی کرتے ہیں۔ امثال اسکی ایک اور خوبی بتائی
چلو بھئی عائشہ تمہارے لیے آسانی رہے گی۔تمہاری نند نے کافی ایکسپرٹ بنایا ہوا ہے تمہارے مجازی خدا کو ۔ رمل عائشہ کو چھیڑا تو پل میں اسکا چہرہ سرخ ہوا
ہاں بلکل آپ بھائی سے کنگھی کروایا کرنا اور آئلنگ بھی کروانا اور تو اور بھائی نوڈلز بہت اچھے بناتے ہیں ۔ امثال نے بھی اپنا حصہ ڈالنا ضروری سمجھا۔ شہریار کے سامنے انکے چھیڑنے پر اس کے لیے نظریں اٹھانا مشکل ہو گیا تھا رہی سہی کسر رمل کی اگلی بات نے پوری کر دی
بھئی عائشہ امثال کا کمرہ سیٹ کر دو۔ سارا بکھرا پڑا ہے میں کر دیتی مگر تمہارے شوہر ،دیور اور نند کے درمیان، میرا یوں کام کرنا بنتا نہیں۔ بھئی انکی بہو ہو خود ہی سنبھالو ،کہتی ہوئی وہ یہ جا وہ جا ۔اسکی حالت دیکھتے ہوئے امثال کی ہنسی چھوٹی تھی شہریار کے چہرے پر بھی ہلکی سی مسکراہٹ تھی ۔
بری بات بچے ایسے تنگ نہیں کرتے ،عائشہ آپ ریلیکس ہو کر اپنا کام کریں یہ اب کچھ نہیں بولے گی اسکو اپنی جگہ سے نہ ہلتا پا کر شہریار نے امثال کو ٹوکا
ٹھیک ہے بھائی اب نہیں کروں گی ۔۔۔ سوری آپی آپ کر لیں جو کرنا ہے میں کچھ نہیں بولوں گی امثال نے ہونٹوں انگلی رکھی تو وہ آگے بڑھ کر چیزیں سمیٹنے لگی شہریار ہاتھ دھونے کے لیے واش روم گیا تو عائشہ اسکے پاس آئی
تمہاری آج والی بکواس کو میں بھولوں گی نہیں بدلہ تو ضرور لوں گی
بھائی آپی دھمکیاں دے رہیں ہیں۔ امثال نے واش روم سے نکلتے شہریار کو شکایت لگائی
میں مان ہی نہیں سکتا ۔۔۔۔ شہریار کی بات سن کر امثال کا منہ کھلا عائشہ بھی اب کی بار مسکرائی تھی
بھائی آپ میرا یقین نہیں کر رہے
ہاں بلکل کیوں کہ میں جانتا ہوں میرا بیٹا دھمکیاں سننے والا بندہ ہی نہیں ہے ۔
چلو اب منہ نہ بناؤ ناشتہ کرو پہلے ہی ٹھنڈا ہو گیا ہے۔ شہریار نے ٹرے سے ناشتہ نکالا اور خود کھانے کے ساتھ ساتھ نوالے بنا کر اسے بھی کھلانے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارے بازی تم ۔۔۔ تم لوگوں نے تو شام کو آنا تھا نہ ۔۔امثال کمرے میں داخل ہوتےبازل کو دیکھ کر حیران ہوئی
ہاں آنا تو شام میں ہی تھا مگر تمہاری چوٹ کا سنا تو رہا نہیں گیا مجھ سے
تمہیں کس نے بتایا عدی اور شہری بھائی کو تو منع کر چکی تھی۔
زروا نے۔۔۔۔۔۔۔ بازل اسے گلے لگاتے بولا
کس نے۔۔۔۔۔۔ امثال نے دوبارہ پوچھا کہ شائد اسے نام سننے میں غلطی ہوئی ہو
زروا نے ۔۔۔
تم اس سے کیوں رابطے میں ہو ۔امثال نے آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے پوچھا تو وہ گڑبڑا گیا
اوہ آئی سی۔۔۔ تو اس دن تم نے موبائل اس کے لیے لیا تھا اور مجھے کہا کہ کسی کو دینا ہے ۔۔۔
ہاں تو دیا ہی ہے نہ ۔۔۔
لسن ۔۔۔ہم نے طے کیا تھا کہ ایک دوسرے سے کبھی کچھ نہیں چھپائیں گے پھر نہ بتانے کی وجہ جان سکتی ہوں
میں بس بتانے ہی والا تھا
کب ۔۔۔۔۔۔۔
تم چھوڑو اس بات کو پھر بتاؤں گا ابھی تم یہ بتاؤ کہ یہ سب ہوا کیسے۔ میں تو سن کر ہی حیران ہو گیا تھا کہ امثال کو گولی لگی ہے ۔ایسا ممکن ہی نہیں وہ تو جب اس نے مجھے پکچر بھیجی تب جا کر مجھے یقین آیا
پہلے تم پرومس کرو کہ نہ تو تم کسی کو بتاؤ گے اور نہ ہی خود کچھ کرو گے۔ امثال نے اسکے قریب بیٹھتے ہوئے کہا تو اس نے سر ہلا دیا
ایسے نہیں اب کرو پرومس ۔۔۔امثال نے اسکے سامنے ہاتھ پھیلایا تو بازل نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا
وہ کچھ دن سے مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔
آپی شہری بھائی کہہ رہے ہیں کہ نیچے آجائیں۔ زروا نے اندر آتے ہوئے کہا
اچھا تم چلو ہم آتے ہیں۔ بازل نے کہا
نہیں بھائی نے کہا ہے کہ آپ دونوں کو لے کر آؤں اور وہ نیچے بشیر انکل لوگ بھی آئے ہوئے ہیں آپی کی عیادت کرنے۔ زروا کی بات سن کر وہ چونکی
اچھا اکیلے آئے ہیں کیا ۔امثال نے سرسری سا پوچھا
نہیں انکی بہو،بیٹا اور بہرام شاہ ہے ساتھ میں
تم ریسٹ کرو میں ذرا مہمانوں سے مل لوں پھر بات کریں گے
السلام علیکم انکل کیسے ہیں آپ۔ امثال نے بشیر شاہ کے اگے سر جھکایا
وعلیکم اسلام ۔۔جیتی رہو۔ انہوں نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا
کیسی ہیں آنٹی ۔اپ کیسے ہیں بہرام بھائی۔ امثال نے مسکراتے ہوئے بہرام شاہ سے کہا تو اس نے بھی مسکراتے ہوئے سر کو خم دیا
میں ٹھیک ہوں تم کیسی ہو اور زخم کیسا ہے تمہارا ۔ بہرام کی ماں زینت بیگم نے اسکو پیار کرتے ہوئے اپنے پاس بٹھایا امثال نے بہرام شاہ کے سامنے بیٹھتے ہوئے ٹانگ پر ٹانگ چڑھائی
ہمیں پتہ چلا ہے کہ تمہیں کسی نے گولی ماری ہے ۔خدا غارت کرے اس ظالم کو کیسے پھول سی بچی کملا کر رہ گئی ہے۔ ماں کی بات سن کر اسکے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی
بس آنٹی کیا کہہ سکتے ہیں کسی نامرد نے ایک لڑکی پر اپنی دھاک بٹھانے کی ناکام کوشش کی ہے۔ امثال نے بہرام کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
تم جانتی ہو انہیں۔ کون لوگ تھے اور انکا مقصد کیا تھا ۔ بشیر شاہ نے تفکر سے کہا
جی انکل میں جانتی ہوں اور جہاں تک رہی مقصد کی بات تو بس ایک کمینے نے اپنی کمینگی دکھائی ہے ۔امثال نے دل جلا دینے والی مسکراہٹ بہرام کی طرف اچھالی تو وہ دانت پیس کر رہ گیا
مگر مصطفی تو کہہ رہا تھا کہ انہیں نہیں پتہ کون تھے
میں انہیں نہیں بتایا ۔اگر بتا دیتی تو اب تک یوں کھلا نہ گھوم رہا ہوتا ، بلکہ کب کا قبر میں اتر چکا ہوتا ۔اس نے بہرام کی طرف دیکھتے ہوئے جتایا
توپتر بتانا چایئے نہ اگر اس خبیث نے دوبارہ نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو ۔۔۔بشیر شاہ نے کہا
نہیں انکل اب کچھ نہیں کرے گا ۔اتنا بھی وہ صرف اسی لیے کر گیا کہ اسے میں نے ڈھیل دے رکھی تھی اور جہاں تک رہی گھر میں بتانے کی بات۔۔۔ وہ انکی طرف تھوڑا سا جھکتے ہوئے گویا ہوئی
تو میں ان لڑکیوں میں سے نہیں ہوں جو چھوٹی چھوٹی باتیں لے کر باپ بھائیوں کی طرف بھاگتی ہیں امثال شاہ اپنے کھاتے خود ہی کلیر کر لیتی ہے ۔بہت سے حساب اکھٹے ہوگئے ہیں اسکی طرف، ایک ہی بار میں چکانے کا ارادہ ہے میرا۔ امثال نے بہرام کی طرف دیکھتے ہوئے آنکھ دبائی
چلیں بابا مجھے کام سے جانا ہے پھر آجائیں گے۔ بہرام شاہ نے اٹھتے ہوئے کہا
ارے بہرام بھائی بیٹھیں نہ اتنی بھی کیا جلدی ہے ۔امثال نے لفظ بھائی پر خاصا زور دیا تھا
نہیں ہم پھر آئیں گے بابا میں ویٹ کر رہا ہوں آپ آ جائیں کہتا ہوا وہ لاؤنج سے نکل گیا ۔امثال کے ہونٹوں پرخوبصورت سی مسکراہٹ تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیلو۔۔امثال لان میں بیٹھی تھی جب ایک انجانی آواز سنائی دی اس نے سر اٹھایا تو اواز کے ساتھ ساتھ چہرہ بھی اجنبی تھا
ہائے ۔۔۔۔
آپ شائد امثال شاہ ہیں۔ سامنےوالے بیٹھتے ہوئے کہا
مجھے بھی ایسا ہی کچھ لگتا ہے۔ امثال نے کندھے اچکائے تو وہ بے اختیار مسکرا دیا
سمجھ گیا،مجھے کہا گیا ہے کہ جو سیدھی بات کا بھی الٹا جواب دے وہی امثال ہوں گی
جب تک آپ مجھے اپنا تعارف نہیں دیں گے تب تک میں آپکی اس سمجھ کو داد نہیں دے سکتی۔۔۔۔ وہ اسکی بے نیازی دیکھ کر رہ گیا
میں فرہاد شاہ،راشد شاہ کا بیٹا ،ہائر سٹڈی کےلیے باہر گیا ہوا تھا کل ہی واپس آیا ہوں
اوہ اچھا تو تم راشد ماموں کے بیٹے ہو صحیح امثال مسکرائی
ہاں جی یہ تم دونوں کے سب سے بڑے وکٹم کا بیٹا ہے۔ صدام شاہ نے پاس بیٹھتے ہوئے کہا تو وہ کھلکھلا کر ہنسی ۔
ژلےکچھ پتہ چلا یہ کس کی حرکت ہے۔ صدام نے اسکے بازو کی طرف اشارہ کیا
میں جانتی ہوں یار ۔۔۔۔۔۔ پھر بتاوں گی
بی بی، ساریہ بی بی کہہ رہی ہیں کہ آپکی میڈیسن کا ٹائم ہو گیا ہے آجائیں ۔ ملازمہ نے ساریہ بیگم کا پیغام دیا تو وہ اٹھ کر چلی گئی ۔فرہاد کی نظروں نے دور تک اسکا پیچھا کیا
شی از سو کیوٹ۔۔۔ ۔فرہاد کی نظریں ابھی تک وہیں ٹکی تھیں جس طرف امثال گئی تھی اسکی بات سن کر صدام ہنسا
کیوٹ ہونے کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت کچھ ہے اب آ گئے ہو تو جسٹ ویٹ اینڈ واچ ۔ہر روز کچھ نیا دیکھنے سننے کو ملے گا۔
جاری ہے