Rate this Novel
Episode 20
سب لوگ اس وقت لان میں بیٹھے شام کی چائے پی رہے تھے جبکہ وہ چاروں بہن بھائی ان سب سے الگ تھلگ گروپ بنا کر کھڑے عدید کے نئے ملنے والے پروجیکٹ کو ڈسکس کر رہے تھے امثال کے ہاتھ میں چپس کا ایک بڑا سا پیکٹ بقول دادی کے بوری تھی ، جسے وہ چاروں شئیر کر رہے تھے ۔عدید کو دبئی والا پروجیکٹ مل گیا، جب سے دونوں نے سنا تھا اسکے سر ہو گئے کہ ہمیں ٹریٹ دیں اور شاپنگ بھی کروائیں
اچھا عدی تم تو وہ پروجیکٹ چھوڑ کے آ گئے تھے نہ تو پھر ۔امثال نے چپس کا پیکٹ شہریار کے آگے کرتے ہوئے پوچھا
میں ہی آیا تھا نہ میری ٹیم تو وہی تھی اور ویسے بھی پریزینٹیشن میں نے بنائی تھی بس پریزینٹ میری ٹیم نے کی تھی ۔عدید نے آخری بات کالر جھاڑتے ہوئے کی
تھوڑا زیادہ نہیں ہو گیا ۔۔۔بازل نے ہنستے ہوئے کہا
اچھا میرے پاس دو نیوز ہیں ایک تھوڑی سرپرائزئینگ ہے اور دوسری تھوڑی نارمل ہے کونسی پہلے سناؤں ۔۔عدید نے چپس کا ٹکڑا لیا
کیا ۔۔ دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑے شہریار نے پوچھا
مجھے ماڈلنگ کی آفر آئی ہے ۔۔
سچی۔۔۔۔۔۔۔ امثال اور بازل اچھلے تھے چائے پیتے سبھی افراد ان کی طرف متوجہ ہوئے
آرام سے ابھی سرپرائزئینگ نیوز تو میں نے دینی ہے ۔
یار یہ لوگ کیا باتیں کر رہے ہیں سانیہ شامین اور زروا کھڑکی میں کھڑی کب سے انہیں باتیں کرتا دیکھ رہی تھیں
جاؤ جا کہ پتہ کر کہ آؤ نہ۔ رامین نے کہا
میں کیسے جاؤں ۔۔۔کیا سوچیں گے۔۔۔۔
کچھ نہیں سوچیں گے یار۔۔۔۔۔۔۔انکی نیچر ایسی نہیں ہے کہ کچھ بھی غلط سوچیں ۔زروا نے کہا
جاؤ ۔۔۔۔۔ سانیہ نے نفی میں سر ہلایا
اچھا ٹھیک ہے آؤ سب چلتے ہیں زروا نے کہا اور دروازے کی طرف بڑھی
لیکن ایسے کیسے ۔۔ابکی بار رامین نے کہا تو زروا انہیں کھینچتی ہوئی نیچے لے گئی
ہم لوگ بھی آپکو جوائن کر سکتے ہیں
ارے کیوں نہیں زروا بیٹا آؤ۔ شہریار نے مسکراتے ہوئے کہا تو تینوں انکے پاس جا کھڑی ہوئیں
عدی اب بتا بھی دو کیوں خوا مخواہ کا سسپینس پھیلا رہے ہو امثال نے جھنجھلائی
پہلے تم لوگ ٹریٹ یا شاپنگ میں سے کوئی ایک چوز کرو عدید نے بے نیازی سے کہا
کیا ہے بھئی ہم نہیں کر رہے ۔۔۔نہیں بتانا تو نا بتاؤ .بازل نے منہ بنایا
ٹھیک ہے جیسے تم لوگوں کی مرضی عدید نے کندھے اچکائے
عدی ی ی ۔۔۔۔ امثال چیخی
اچھا سنو دبئی میں ایک لڑکی نے مجھے پرپوز کیا تھا
اوہ اچھا ۔۔۔امثال اور بازل نے سر ہلایااور اگلے ہی لمحے وہ اچھلے
واٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دونوں تقریبا چیختے تھے
یس ۔۔۔عدید نے ہنستے ہوئے کہا
کون تھی امثال نے دلچسپی سے پوچھا
تم لوگوں کی شاپنگ کرنے گیا تھا مال تو وہاں ملی تھی کاؤنٹر پر بل پے کرتے ہوئے اسکے کارڈ میں کچھ پروبلم ہو گئی تھی تو میں نے اسکی ہیلپ کر دی ۔ کسی عرب بزنس مین کی بیٹی تھی ۔ دوسرے دن ہی وہ میرے ہوٹل پہنچ گئی ۔ اور کہنے لگی کہ میں آپ سے شادی کرنا چاہتی ہوں
تو تم نے کیا کہا۔۔امثال نے پوچھا
میں نے کہا کہ میں آلریڈی انگیجڈ ہو۔
ہیں یہ کب ہوا اور مجھے پتہ ہی نہیں چلا میں نے بھی شریک ہونا تھا۔۔۔۔۔۔۔ امثال نے حیران ہوتے ہوئے کہا
اوہو پاگل لڑکی اور اسکو کیا کہتا ۔
ویسے عدی تم نے دھیان سے دیکھا تھا کہیں اندھی تو نہیں تھی بازل نے منہ بناتے ہوئے کہا
نہیں بلکل ٹھیک تھی کیوں۔۔ عدید نے کہا
تو پھر پاگل ہوگی جو آپکو پرپوز کرنے چل دی ..ہمیں تو آج تک کسی نے نہیں کیا بازل نے جل کر کہا تو سبھی ہنس دیے وہ تینوں آنکھیں پھاڑے انکی بے تکلفی دیکھ رہیں تھی۔
کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔ کب سے کھڑے ہیں آپ لوگ یہاں ۔عائشہ نے انکے پاس آتے ہوئے پوچھا
کچھ نہیں آپو بس ایسے ہیں باتیں کر رہے تھے ۔امثال نے جواب دیا اوراچانک کچھ یاد آنے پر وہ چونکی
ارے ہاں تم لوگوں کو پتہ پے پچھلی بار جب میں شہری بھائی کے ساتھ لندن گئی تھی نہ تو وہاں پہ ایک انگلش لڑکی بڑے دھڑلے سے بھائی کے پاس آئی اور کہنے لگی “ول یو میری می”۔ میں نے بھی اسی دھڑلے سے کہہ دیا کہ بی بی یہ پہلے سے شادی شدہ ہیں اور چار بچوں کے باپ ہیں۔ کیوں انہیں انکی بیوی سے پٹوانے کا ارادہ ہے ۔۔میری بھابھی بہت بری طرح سے پیٹیتی ہیں۔ بندہ کئی کئی دن ہل نہیں سکتا ۔ ابھی وہ بچوں کو لے کر آ رہی ہیں اس سے پہلے وہ یہاں پہنچیں اپ یہاں سے نکل لیں ورنہ آج لوگوں کو سڑک پر فری میں ڈبلیو ڈبلیو ای دیکھنے کو ملے گا ۔ہاں اگر آپ کو واقعی ہی بھائی سے محبت ہو گئی ہے تو کوئی نہیں ڈٹ کر کھڑی رہیں۔ زیادہ سے زیادہ دو چار ہڈیاں ہی ٹوٹیں گیں نہ تو کیا ہوا لوگ محبت میں پٹتے رہتے ہیں کبھی محبوب کے ہاتھوں تو کبھی محبوب کے رشتےداروں کے ہاتھوں۔جب رانجھا ہیر کے لیے بھینسیں چرا سکتا ہے سوہنی دریا میں ڈوب سکتی ہے ، مجنوں صحرا کی خاک چھان سکتا ہے تو آپ کیوں نہیں پٹ سکتی ۔ میری بات سنتے ہی اسکا رنگ اڑا تھا ۔وہاں سے ایسے غائب ہوئی جیسے کبھی تھی ہی نہیں ۔۔
ہاں واقعی اسکی بات سن کر وہ بہت ڈر گئی تھی اور جیسا نقشہ ژلے نے کھینچا تھا ایک بار تو مجھے بھی لگا تھا کہ میں اپنی نادیدہ بیوی سے اکثر پٹتا رہتا ہوں رہتا ہوں شہریار نے ہنستے ہوئے کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپی میرے کالج میں پارٹی ہے ۔سانیہ نے ڈریس کا سکیچ بناتی عائشہ سے کہا
اچھا کب ۔۔
اگلے ہفتے ہے اور اس بار میں بھی جاوں گی ۔سانیہ نے ضدی انداز میں کہا
تمہیں جب پتہ ہے کہ اجازت نہیں ملے گی تو یوں ضد کرنے کا کیا فائد ۔ہربار کی طرح تم جانے کا کہو گی اور ڈانٹ کھا کر چپ ہو جاؤگی جب چپ ہی ہونا ہے تو ویسے ہی ہو جاؤ ڈانٹ ضرور کھانی ہے عائشہ نے اسے سمجھایا
ہاں نہ سانیہ آپی ابھی آپ عادل لالہ کو کہو گے وہ کہیں گے کوئی ضرورت نہیں کہیں جانے کی پڑھنے جاتی ہو تو پڑھو یہ فضول کے چونچلے کرنے کی ضرورت نہیں ہے زروا نے عادل کی آواز نکال کر نقل اتاری
کیا مسئلہ ہے بھئ ہر بات پر روک ٹوک اب یہ کالج فنکشن پر جانے سے کون بگڑ جاتا ہے ۔اور امثال بھی تو یونی جاتی ہے گھر سے باہر بھی نکلتی ہے پارٹیز بھی اٹینڈ کرتی ہے اسے تو اسکے بھائیوں نے کبھی نہیں روکا بلکہ وہ تو خود اسے ہر جگہ ساتھ لے کر جاتے ہیں تم لوگوں کو پتہ ہے امثال بتا رہی تھی کہ جب شہری بھائی یا عدیدی بھائی بزنس کے لیے کہیں باہر جاتے ہیں تو وہ اور بازل بھی اکثر انکے ساتھ جاتے ہیں ۔وہ تو نہیں بگڑی اور ہم یہ زرا سا کالج فنکشن آٹینڈ کر لیں گے تو بگڑ جائیں گے عجیب ہی سوچ ہے عادل لالہ کی ۔۔سانیہ نے منہ بنایا
میری جان نہ تو تم امثال ہو اور نہ ہی تمہارا بھائی شہریار،عدید یا بازل ہے جواپنی بہن کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں یا کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہو جاتے ہیں تم سانیہ ہو اور عادل کی بہن ہو جنکے مطابق لڑکیوں کو سر پر نہیں چڑھانا چاہئیے ورنہ نتائج اچھے نہیں نکلتے ۔عائشہ نے سکیچ کو فائنل ٹچ دیا
آپی بلکل صیح کہہ رہی ہیں کاش ہمارا بھی ان تینوں جیسا کوئی بھائی ہوتا یا پھر میں انکی بہن ہوتی کتنا مزہ آتا نہ جب میں ان سے لاڈ اٹھواتی ۔ان سے لڑتی جھگڑتی جیسے امثال آپی بازل لالہ سے لڑتی ہیں ۔ زروا نے جوش سے کہا عائشہ نے نفی میں سر ہلایا دروازے پر کھڑا عادل جو عائشہ کو کھانے کا کہنے آیا تھا خاموشی سے واپس پلٹ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دریاب بھائی آپکے چائے لائی ہوں۔ امثال نے ٹرے ٹیبل پر رکھی اور کپ دریاب کو پکڑایا اور دوسرا ساتھ بیٹھے عادل کو ۔ عادل تو اسکا انداز دیکھ کر ہی بے ہوش ہوتے ہوتے بچا
یہ سورج کہاں سے نکلا ہے ۔امثال شاہ چائے لے کر آئی ہے اور خاصی تمیز کا مظاہرہ بھی کر رہی ہے ۔ الہی خیر ہو۔ عادل نے حیرت سے کہا تو امثال نے اسے گھورا وہ جو اس سے کسی جواب کی توقع کر رہا تھا اسکو صرف گھورنے پر اکتفا کرتے دیکھ کر حیران ہوا
وہ دریاب بھائی مجھے نہ آپ سے ایک کام ہے کر دیں گے پلیز۔۔ امثال نے دنیا جہان کی معصومیت چہرے پر سموئی
ہر گز نہیں دریاب بلکل بھی ہامی مت بھرنا اسکا انداز بتا رہا ہے کہ کام کوئی الٹا سیدھا ہی ہے عادل نے دریاب کو وارن کیا
اوہو آپ تو چپ کریں بات تو کرنے دیں نہ ۔۔ امثال نے انتہائی شائستگی سے کہا تو اسکی آنکھیں پھٹی تھیں
بس دریاب اب تو مجھے پکا یقین ہو گیا ہے کہ کچھ گڑ بڑ ہے عادل نے چائے کا گھونٹ لیا
آپ چھوڑیں اسے میری بات سنیں میرا کام کر دیں گے نہ ۔امثال نے دانت پیسے
ہاں بولو کیا کام ہے
ایک بندہ اٹھوانا ہے۔۔۔ امثال نے سنجیدگی سے کہا اسکی بات سن کر عادل کے منہ سے چائے فوارے کی صورت میں باہر نکلی تھی ۔حیران تو دریاب بھی تھا
دیکھا میں نے کہا تھا نہ کہ کوئی الٹا سیدھا کام ہو گا ۔
گڑیا میں تمہیں کس اینگل سے غنڈہ بدمعاش لگتا ہوں دریاب نے حیرت سے کہا
لگتے تو خیر آپ ہر اینگل سے ہی ہیں لیکن فی الوقت یہ مسئلہ زیربحث نہیں اسکو کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھیں امثال کی بے نیازی پر دریاب منہ بنا کر رہ گیا
امثال یہ تم نے کب سے بندے اٹھانے کا کام شروع کر دیا ہے عادل نے کہا
میں اپکو بتاتی ہوں وہ اصل میں ایک ینگ پروفیسر ہے۔ یونی میں نیو آیا ہے ۔اسکی حرکتیں کچھ ٹھیک نہیں ہیں اسپیشلی لڑکیوں کے ساتھ ۔بہانے بہانے سے انکو اپنے کیبن میں بلوانا ، کبھی اسانمنٹس میں نمبر کاٹ لینا تو کبھی کسی بہانے سے ٹچ کرنا اگر مختصر کہوں تو وہ لڑکیوں کو ہراس کرتا ہے اسے سبق سکھانا ہے اگر شہر میں ہوتی تو یہ کام میں خود بھی بہت اچھے سے کر لیتی لیکن یہاں سے رات کو نکلنا میرے لیے تھوڑا مشکل ہو گا اس لیے آپ سے کہا۔
اوہ تو یہ بات ہے ۔۔دریاب نے کہا
تمہیں بھی ہراس کیا ہے اس نے عادل نے خاصی سنجیدگی سے پوچھا
کسی کی اتنی ہمت نہیں مجھے ہراس کر سکے ۔۔اگر میرے ساتھ کچھ ایسا کرنے کی کوشش بھی کرتا تو اب تک فرشتوں کو حساب کتاب دے کر فارغ ہوچکا ہوتا اور اسکے رشتےدار اسکے قلوں کا فروٹ کھا چکے ہوتے ۔امثال نے ناک چڑھائی اسکے انداز پر عادل مسکرا دیا
ٹھیک ہے ہو جائے گا۔ نام پتا دے دو۔ دریاب نے کہا
اسکا حال ایسا کیجیےگا دوبارہ کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھ سکے اور جب تک ناک رگڑ کر توبہ نہ کرے چھوڑئیے گا مت اگر کوئی کسر رہ جائے تو مجھے بلا لیجیے گا اسکے سارے شوق پورے کر دوں گی۔ امثال نے اسے پروفیسر کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا تو اس نے سر ہلا دیا تو وہ سٹڈی سے نکل گئی
یہ لڑکی کسی دن مجھے ہارٹ اٹیک دلوا ئے گی۔عادل بڑبڑایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہری بھائی ۔۔۔ وہ مجھے آپ سے۔۔۔۔ بات کرنی ہے۔ امثال نے ہچکچاتے ہوئے لاونج میں بیٹھے شہریار سے کہا تو اس نے حیرانی سے اسے دیکھا کہاں وہ بات کرنے کے لیے اجازت لیتی تھی یا پھر ہچکچاتی تھی
اوئے کہیں اپنے لیے لڑکا تو نہیں پسند کر لیا ،جو اتنا جھجھک رہی ہو بازل نے ہانک لگائی
یہاں آؤ۔۔ شہریار نے ٹی وی کا والیوم کم کرتے ہوئے کہا تو وہ اسکے پاس جا بیٹھی
ہاں بتاؤ کیا بات ہے جو تم اتنا جھجھک رہی ہے۔ شہریار نے اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا
بھائی آپ مانے نہ مانے بات وہی ہے جو میں نے کہی ہے
تم اپنا منہ بند رکھو گے اگر کوئی ایسی بات ہے بھی تو ژلے تمہیں جھجھکنے کی ضرورت نہیں ہے بتاؤ کیا بات ہے ۔ شہریار نے بازل کو گھورتے ہوئے امثال سے کہا
وہ بھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوں بولو میں سن رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھائی۔۔۔۔۔ مجھے پیسے چائیں ۔امثال نے بلآخر بات مکمل کی
لو جی کھودا پہاڑ نکلا چوہا میں نے سوچا پتا نہیں کیا بات ہے ۔۔
یہ لو والٹ جتنے چائیں لے لو ۔شہریار نے والٹ اسکی طرف بڑھایا
نہیں نہ۔۔۔۔۔ اتنے نہیں چائیں ۔۔۔۔۔ زیادہ چائیں امثال نے والٹ واپس کیا
پھر کتنے ۔۔
دس لاکھ ۔۔۔امثال نے کہا تو بازل کو جھٹکا لگا
اوہ تیری۔۔۔۔۔۔خدا خوف کر لو ژلے اپنی شکل دیکھو اور ایمانداری سے بتاؤ یہ شکل ہے دس لاکھ والی ۔اس شکل پر کوئی پرانا ٹھیپہ دے دے بہت ہے ۔۔بازل نے ہنستے ہوئے اسکا مزاق اڑایا
بھائی آپ دیکھ لیں اسے
بازی اب اگر تم کچھ بھی بولے تو میں تمہیں اٹھا کر باہر پھینک دوں گا شہریار نے سختی سے کہا تو خاموش ہو گیا
بھائی وہ یونی میں میری ایک لڑکی ہے اسکی بہن کی شادی ہے ۔۔اور اب عین شادی کے موقع پر وہ لوگ کچھ چیزوں کی ڈیمانڈ کر رہے ہیں ۔پوری نہ کرنے کی صورت میں رشتہ توڑنے کی دھمکی دی ہے تووہ لوگ بہت پریشان ہیں اور اسکے بابا کو ہارٹ اٹیک بھی ہوا ہے اس لیے انہیں پیسوں کی ضرورت ہے ۔امثال نے دھیمی آواز میں تٖفصیل بتائی
کیش لینا ہے یا چیک۔ شہریار نے پوچھا
نہیں بھائی وہ لوگ ایسے نہیں لیں گے آپ کسی اور طرح سے دیں نہ ۔۔۔ کسی این جی او کی طرف سے۔ آپکے تو جاننے والے ہوں گے نہ آین جی اوز وغیرہ میں ۔
ٹھیک ہے بچے میں بجھوا دوں گا شہریار نے کہا
تھینکیو سو مچ بھائی امثال اسکے گلے لگتی ہوئی بولی
اچھا اب میری بات دھیان سے سنو آئیندہ کچھ بھی چاہئیے ہو کوئی بھی بات کرنی ہو تو اس طرح جھجھکنے کی ضرورت نہیں تم ڈائرئکٹ کہہ سکتی ہوں جس طرح تم نے آج ہچکچاتے ہوئے بات کی مجھے بلکل بھی اچھا نہیں لگا سمجھ رہی ہو نہ شہریار نے کہا تو اس نے سر ہلا دیا
……………………………………………………….
ان دونوں کے فائنل امتحانات ہو رہے تھے جسکی وجہ سے گھر میں آج کل خاموشی تھی ۔۔ انہوں نے تو بہت کہا تھا کہ اُنہیں فاریہ کے پاس شہر رہنے دیں لیکن بی جان نے صاف منع کر دیا کہ جب تک وہ دونوں کی صورت نہ دیکھ لیں انہیں چین نہیں پڑتا اس لیے وہ روز واپس گاؤں آیا کریں گے ان دنوں میں وہ دونوں سب کچھ بھلا کر نہایت ہی دلجمعی سے پڑھائی میں مصروف ہو جاتے تھے ۔اس لیے گھر میں اور دوسرے لوگوں کی زندگیوں میں خاصا سکون ہوتا تھا اس بار تو انہیں صبح شام کافی سفر کر کہ آنا جانا پڑتا تھا اس لیے کافی سنجیدہ ہوچکے تھے ۔ بقول ساریہ بیگم کے روای کیا جہلم ،ستلج سندھ غرض کے پانچوں کے پانچوں دریا چین ہی چین لکھ رہے تھے ۔گھر کے باقہ لوگ البتہ انکی پٹر پٹر کو کافی مس کرتے تھے ۔آج دونوں کا آخری پیپر تھا ۔ پیپر کے بعد انہوں نے عدید اور شہریار کے آفس جانے کا فیصلہ کیا تاکہ دونوں کے ساتھ مل کر لنچ کیا جا سکے امثال نے اسے کہا کہ وہ اسے عدید کے پاس چھوڑ کر شہریار کے آفس چلا جائے وہاں سے وہ دونوں ریسٹورینٹ پہنچ جائیں وہ بھی عدید کو لے کر آجائے گی ۔ بازل اسے عدید کے آفس چھوڑ کر جا چکا تھا
اسلام و علیکم شانزے ۔۔۔ عدی ہے کیا آفس میں ۔۔امثال نے ریسپشنیسٹ پوچھا
وعلیکم السلام ۔۔۔نہیں میم وہ تو سائٹ وزٹ پر گئے ہوئے ہیں بس آنے والے ہوں گے آپ ویٹ کر لیں ۔شانزے نے مسکراتے ہوئے کہا سارا سٹاف انہیں بہت اچھے سے جانتا تھا ۔وہ جب جب آتے آفس میں رونق لگ جاتی تھی سارا سٹاف کام چھوڑ کر انکے گرد اکھٹا ہوجایا کرتا ۔ان دونوں کا بھی رویہ انکے ساتھ دوستانہ ہی ہوا کرتا تھا ۔جب بھی کسی کو کوئی مسئلہ ہوتا وہ عدید کی بجائے امثال یا بازل سے کہتے یایوں کہہ سکتے ہیں عدید سے زیادہ ان دونوں کی چلتی تھی وہاں پر ۔عدید نے چونکہ بزنس کا فورٹی پرسنٹ امثال کے نام اور تھرٹی پرسیٹ بازل کے نام کیا ہوا تھا اس لیے جب بھی دونوں فارغ ہوتے تو وہ کھینچ تان کر انہیں میٹنگز میں لے جاتا تاکہ وہ کچھ سیکھ سکیں ۔شہریار نے بھی اپنے شئیرز اسی ترتیب سے انکے نام کر رکھے تھے۔اس لیے دونوں کا آفس سٹاف انہیں بہت اچھے سے جانتا تھا
اچھا ٹھیک ہے امثال کہتے ہوئے مڑی
ہائے میم کیسی ہیں کافی دنوں بعد چکر لگایا ہے آپ نے۔ کمپیوٹر پر کام کرتی انعم نے آگے بڑھ کر مسکراتے ہوئے کہا
میں بلکل ٹھیک ہوں تم کیسی ہو اور تمہیں کتنی بار کہا ہے کہ مجھے میم نہ کہا کرو میرے نام سے ہی بلا یا کرو امثال نے خفگی سے کہا سارا سٹاف آہستہ آہستہ امثال کو دیکھ کر وہاں پہنچ چکا تھا
آپ سر کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہن ہیں اس لحاظ سے ہمارے لیے قابلِ احترام ہیں ہمیں عزت کرنی چاہئیے بلا بلا بلا ہے نہ ۔۔۔ امثال نے اسے ٹوک کر اسکی بات پوری کی تو سبھی ہنس دیئے
اچھا میں عدی کے آفس میں جا رہی ہوں عبداللہ میرے لیے جوس بجھوا دینا ۔ان سے کہتی وہ عدید کے آفس کی طرف بڑھی
کون ہیں آپ اور یوں منہ اٹھا کر کہا ں جا رہی ہیں وہ عدید کے روم کے باہر پہنچی تو اسے پیچھے سے آواز سنائی دی
اندر جا رہی ہوں عدی کےروم میں ، آپ کون اور یہ کون سا طریقہ ہے بات کرنے کا امثال نے حیرانی سے کہا
میں سیکرٹری ہوں انکی اور تم جیسی مڈل کلاس لڑکیوں کے ساتھ یہی طریقہ ہوتا ہے بات کرنے کا اس لڑکی نے نخوت زدہ لہجے میں کہا وہ شائد اسکے حجاب کو دیکھ کر اسے کوئی مڈل کلاس لڑکی سمجھی تھی
ایکسکیوزمی ۔۔آپ جانتی ہیں کہ آپ کیا کہہ رہی ہیں اور کس سے ۔امثال نے ابرو اچکاتے ہوئے پوچھا
بہت اچھے سے جانتی ہیں تم جیسی دو ٹکے کی لڑکیوں کو اچھے سے جانتی ہوں جہاں کوئی امیر لڑکا دیکھا وہیں اسکے پیچھے چل دیں اس لڑکی نے ناک بھوں چڑھاتے ہوئے کہا انعم آگے بڑھنے لگی تو عبداللہ نے اسے روک دیا
عبداللہ جانے دو مجھے وہ میم سے بدتمیزی کر رہی ہے ۔ عدید سر کو پتہ چلا تو وہ تو اسکی جان ہی لیں لیں گے
رہنے دو انعم جس طرح سے یہ بکواس کر رہی ہے آج تو اسکی چھٹی سمجھو ۔تم نہیں چاہتی کہ اس سے جان چھوٹ جائے ۔ خود تو کوئی کام کرتی نہیں ہم پر خوامخواہ کا رعب جھاڑتی رہتی ہے جیسے عدید سر اسکا باس نہیں شوہر ہو عبداللہ نے تپے تپے انداز میں کہا
میں دو ٹکے کی مڈل کلاس لڑکی ہوں اور آپ جناب کی تو ہائی وے پر بسیں چلتی ہیں ۔۔۔ ماشاءاللہ سے دو تین ایئر لائینز کی مالکن ہیں ۔کچھ ریاستوں کا نظام و انصرام بھی آپ ہی سنبھالتی ہیں۔ بیشتر وقت آپکا اقوام متحدہ اور جنرل اسمبلی میں بڑے بڑے فیصلے کرنے میں گزرتا ہے ، تو ٹائم کی تو بہت کمی ہو گی نہ آپکے پاس ۔چلیں آپ کو یہاں سے فارغ کر دیتے ہیں تاکہ آپ اپنے باقی امور کو خوش اسلوبی نمٹا سکیں اور مجھ جیسے دو ٹکے کے لوگوں سے بھی نہیں ملنا پڑے گا ۔امثال نے چبا چبا کر کہا ۔سارے سٹاف نے مسکراہٹ دبائی
عبداللہ ان معزز اور باعزت خاتون کا ٹرمینشن لیٹر بنواؤ اور اس مہینے کی سیلری اور ٹرمینیشن لیٹر بہت ہی عزت کے ساتھ انکے ہاتھ ہر رکھو اور نہایت ہی احترام سے باہر کا راستہ دکھاؤ ۔ پست ذہنیت اور گھٹیا سوچ رکھنے والوں کی میرے آفس میں کوئی جگہ نہیں ۔امثال نے ٹھنڈے ٹھار لہجے میں کہا
جی میم عبداللہ نے مسکراہٹ دبائی
دس منٹ ہیں تمہارے پاس اسکے بعد یہ مجھے یہاں نظر نہیں آنی چایئے ۔عدی پوچھے تو کہنا امثال نے نکال دیا ہےاور ان سے کہنا کہ اگلی بار سیکرٹری رکھنے کے لیے میں خود انٹرویو لوں گی کہتی ہوئی وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگئی ۔پیچھے وہ لڑکی ہکا بکا منہ کھولے کھڑی تھی ۔امثال کا میرا آفس اور عبداللہ کا اسکو میم کہنے سے اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ غلط جگہ الجھ بیٹھی تھی ۔
نتاشہ جاننا نہیں چاہو گی کہ تمہارے ساتھ ہوا کیا ہے۔
چلو کوئی نہیں تم اس وقت شاک میں ہو میں خود ہی بتا دیتا ہوں ابھی جس کے ساتھ تم نے بدتمیزی کی ہے نہ وہ یہاں کی فورٹی پرسنٹ کی اونر ہیں اور باس کی بہن ہیں جس پر وہ جان دیتے ہیں ابھی تو تم شکر مناؤ باس نے تمہیں نہیں دیکھا ان سے اس طرح سے بات کرتے ورنہ اب تک تم اس دنیا سے رخصت ہوچکی ہوتی ۔۔۔۔ تمہیں پتہ ہے انعم نےاگے بڑھ کر تمہیں روکنا چاہا لیکن ہم نے منع کر دیا تم سے چھٹکارا حاصل کرنے اتنا سنہری موقع ہاتھ سے کیسے جانے دے سکتے تھے ۔اب بھی اگر ہم میں سے کوئی ایک بار بھی جا کر ان سے کہے کہ تمہیں جاب سے نہ نکالا جائے تو وہ کچھ نہیں کہیں گی لیکن سوال یہ ہے کہ ہم جائیں ہی کیوں تم نےکب کسی کے ساتھ کچھ اچھا کیا ہے ۔جھوٹ بول بول کر باس سے جو ڈانٹ پڑواتی رہی ہو اسکو بھول بھی جائیں تو جو وقتا فوقتا خود ذلیل کرتی رہی ہوچاہ کر بھی نہیں بھلا سکتے اس لیے سوری اینڈ گڈ بائے ہم تمہیں بلکل بھی یاد نہیں کریں گے آفس بوائے سے لیٹر اور اسکی سیلری کا پیکٹ پکڑ کر اسکے ہاتھ پر رکھتے ہوئے عبداللہ نے چبا چبا کر کہا تو وہ پھیکی پڑتی رنگت کے ساتھ اپنا بیگ اٹھا کر باہر نکل گئی خس کم جہاں پاک پیچھے وہ بڑبڑا کر اپنی سیٹ پر جا بیٹھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بازی چول انسان میری بال تو نہ کھینچو یہ کیسا ہیر سٹائل بنا رہے ہو بالوں کا گھونسلہ بنا کر رکھ دیا ہےامثال نے چلاتے ہوئے کہا ۔بازل نے کوئی نیا ہیرسٹائل سیکھا تھا جسے وہ امثال پراپلائی کر رہا تھا دوسرے لفظوں میں اسکے بالوں کا ستیا ناس کر رہا تھا جب کافی دیر تک اسے اپنے بالوں میں کھینچا تانی محسوس ہوتی رہی تو اس نے زروا سے شیشہ منگوایا ۔ اپنے بالوں کا حال دیکھ کر اسکی چیخ نکلی تھی
ژلے کتنی بار کہا یوں چیخ و پکار کرنی ہوتی ہے تو اکھٹے مت بیٹھا کرو۔ ساریہ بیگم نے اسے کہا
ماما اپ اس بازی کے بچے کو نہیں دیکھ رہیں کیا کر دیا ہے میرے بالوں کے ساتھ امثال نے رونی صورت بنائی
تو نہیں بیٹھنا تھا نہ اسکے آگے کس نے کہا تھا ۔ ادھر آؤ میں ٹھیک کر دیتی ہوں۔ ساریہ بیگم نے اس لتاڑا تو وہ اٹھ کراسکےآگے آ بیٹھی
اللہ ژلے گانٹھیں بن کر رہ گئی ہیں۔ بازل کیوں کرتے ہو تم جب نہیں آتا تو کیوں لے کے بیٹھ جاتے ہو اسے اور تم تمھیں کیا ضرورت اسکی بات ماننے کی۔ ساریہ بیگم نے اسکی کمر میں دھموکا جڑا تو وہ کراہ کر رہ گئی
ماما اتنی زور سے کون مارتا ہے آپکا ہاتھ کتنا سخت ہے۔ بڑی ہی کوئی ظالم قسم کی ماں ہیں۔ امثال نے کمر مسلی
ژلے خاموشی سے بیٹھی رہو ۔میرے ہاتھ کے نیچے بیٹھی ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ میں اگلی پچھلی ساری کسریں نکال دوں۔ ساریہ بیگم نے اسکے بالوں کو ہلکا سا جھٹکا دیا
مجھے لگتا ہے خالہ آپ نے اسکے بال سیٹ کرنے کے لیے نہیں بلکہ اسے سیٹ کرنے کے لیے اپنے پاس بلایا ہے عادل نے مسکراہٹ دبائی
یہ گندی اولاد کہاں سیٹ ہوتی ہے مجھ سے۔۔۔۔۔۔۔ یہ تو مجھے سیٹ کر کہ بھی نہ ہوں۔ ساریہ بیگم نے جل کر کہا
ماما آرام سے کیا ہو گیا کھینچ کیوں رہی ہیں بازی کمینے مجھے اٹھنے دو یہاں سے۔۔ تمہاری خیر نہیں امثال نے اسے دھمکایا
تمیز سے بات کرو مجھ سے ۔۔۔۔۔۔ اس معاشرے میں بڑی عزت ہے میری ۔۔بازل نے کالر جھاڑے
ہاں جانتی ہوں بہت عزت ہے تمہاری جب بھی کہیں کتوں کی لڑائی یا گدھوں کی ریس ہوتی تو بطور چیف گیسٹ تمہیں ہی تو بلایا جاتا ہے
اور جہاں تک رہی عزت سے بات کرنے کی تو وہ تو میں اپنے” ان” سے بھی نہیں کروں گی امثال نے دائیں طرف بیٹھی عائشہ اور بائیں طرف بیٹھی فوزیہ بیگم کے دوپٹوں کے کونے پکڑ کر دانتوں تلے دباتے ہوئے شرمانے کی ناکام کوشش کی تھی
یہ کیا کر رہی ہو ساریہ بیگم نے حیرت سے اسے دیکھا
ماما شرمانے کی کوشش کر رہی ہے۔ بازل نے ہنستے ہوئے کہا
ہا۔۔۔۔۔۔ بیٹا شرم کوشش کرنے سے نہیں آتی ہے۔ یہ تو انسان کے اندر ہوتی ہے ،جو تم میں ناپید ہو چکی ہے اس لیےیہ کوشیشیں بیکار ہیں ۔۔۔ میری تو حسرت ہی رہ جائے گی کی دوسری لڑکیوں کی طرح میری بیٹی بھی کبھی شرمائے ۔۔ساریہ بیگم نے بھگو کر مارا تھا
ڈی جے خالہ میں نے اس دن بھی کہا تھا کہ مجھے آپ اپنی بیٹی بنا لیں ماما کو تو میں بلکل بھی اچھی نہیں لگتی ۔آپکی بیٹی بننے کے بعد میں ان سے کبھی بات نہیں کروں گی ۔۔۔لیکن وہاں پر بھی ایک مسئلہ ہو گا اپکی بیٹی بنوں گی تو عادل بھائی کی بہن بھی بننا پڑے گا ۔مگر مجھے ان جیسا ہٹلر اور کھڑوس بھائی نہیں چائیے ۔آپ نہ بس میری ماما بن جانا بھائی میرے اپنے ہی ٹھیک ہیں ۔۔
ہاں بیٹا میں تمہاری ماما سے بات کی تھی اس بارے میں ۔۔ خدیجہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا
ہائے ۔۔سچی خالہ ۔۔۔۔۔امثال نے آنکھیں پھیلائیں جس پر لاونج میں بیٹھی خواتین کی دبی دبی ہنسی گونجی۔عادل نے بھی اپنی مسکراہٹ دبائی
مجال ہے جو یہ لڑکی بات کو سن کر سمجھے اور سوچ کر بولے ۔۔ساریہ بیگم نے ایک اور دھموکا اسکی کمر میں جڑا تو کراہ کر رہ گئی
چھوڑیں آپ۔۔ مجھے نہیں سیٹ کروانے آپ نے تو مار مار کر میری کمر سوجا دینی ہے ۔خالہ آپ کر دیں ۔امثال اٹھ کر خدیجہ بیگم کے سامنے جا بیٹھی
جاری ہے
