32.9K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 33

ایس پی صاحب تمہارا کچھ غصہ کم ہوا یا نہیں کافی کا مگ ٹیرس پر کھڑے عادل کو پکڑاتے ہوئے امثال نے پوچھا
تم کم ہونے کی بات کرتی ہو میرے تو دل میں ٹھنڈک پڑ گئی ہے۔اتنا تو شائد میں بھی اسکا حلیہ نہ بگاڑ پاتا جتنا تم نے بگاڑا ہے ۔
لیکن ایک بات ہے مجھے اب تھوڑا سنھبل کر رہنا پڑے گا کیا پتا کب تمہارا دماغ گھوم جائے اور تم میرا حشر نشر کر دو ۔اسکی بات پر امثال ہنسی
تم پر ہاتھ اٹھاتی اچھی لگوں گی بھلا ۔۔۔۔
تو کیا جوتوں سے مارو گی ۔۔۔؟؟
ہاہاہا تم مجھے ایسا سمجھتے ہو۔۔۔۔
کوئی ایسا ویسا ۔۔۔۔۔۔
ایک بات بتاؤ اس دن جب مجھ سے چائے گری تھی تو تم نے رو رو کر دریا بہا دئیے تھے اور اب بہرام سے گولی کھا کر بھی مضبوط رہی ۔ایسا کیوں؟؟
جب پاس کوئی سنبھالنے والا نہ ہو تو خود کو خود ہی دیکھنا پڑتا ہے ۔لاڈ اور نازک مزاجی وہیں دکھانی چاہئیے جہاں توقع ہو کہ کوئی آگے بڑھ کر آپ کو سنبھال لے گا ۔اور ویسے بھی ہمدردیاں بٹورنا بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ آخری بات پر اس نے شرارت سے آنکھ دبائی
بڑی ہی کوئی ڈرامےباز لڑکی ہو
ہی ہی ہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عادی!! پرسوں دعوت ہے۔ تمہیں پتہ ہے اتنے سارے لوگ اکھٹے ہوں گے
اور تم دونوں کچھ بھی الٹا سیدھا نہیں کرو گے ۔عادل نے اسکی بات کاٹی
کیا ہے بھئی پوری بات تو سنو۔ امثال نے اسکے بازو پر مکا مارا
لڑکی تھوڑی تمیز کر لو شوہر ہوں تمہارا ۔عادل کے جتانے پر وہ خاموش ہوگی
چلو بتاؤ کیا کہہ رہی تھی ؟؟
مجھے نہیں بتانا اب ۔۔۔۔
مذاق کر رہا تھا ۔ میں سن رہا ہوں بولو
رہنے دو تم۔۔۔۔ مجھے بات ہی نہیں کرنی۔ وہ منہ پھلا کر جانے لگی تو وہ گھوم کر اسکے سامنے آیا
تم یہاں سے میری لاش سے ہی گزر کر جاؤ گی ایسے نہیں جانے دوں گا ۔عادل کے انداز پر امثال کا منہ کھلا تھا
جیسے تمہاری مرضی۔ امثال کندھے اچکاتی آگے بڑھی تو عادل نے اسکا بازو پکڑ کر روکا
مجھے لگا تم فلمی ہیروئن کی طرح میرے منہ پر ہاتھ رکھ کر کہو گی، نہ عادل ایسے نہ کہو مگر تم نے تو بےمروتی کی حد ہی کر دی ہے ۔ عادل کے منہ بسورنے پروہ کھلکھلا کر ہنسی تو اس نے سکون کا سانس لیا
میرا ابھی دماغ خراب نہیں ہوا جو ایسے کہوں گی ۔۔
ہاں بھئی تم کیوں کہو گی تم کونسا مجھ سے محبت کرتی ہو۔ تمہاری بلا سے جئیوں یا مروں تمہیں کیا فرق پڑتا ہے ؟؟؟
ہاں یہ تو ہے ۔ امثال نے جھٹ سر ہلایا
بندہ دل رکھنے کے لیے ہی کہہ دیتا ہے اللہ نہ کرے تمہیں کچھ ہو ۔
لو بھئ میں کیوں خوامخواہ جھوٹ بھولوں ۔۔۔۔ بات کرتے کرتے وہ چونکی
ایک منٹ ایک منٹ تم زرا مجھے یہ بتاؤ تمہارے موبائل میں میری تصویریں کیا کر رہی ہیں ۔اسکے پوچھنے پر وہ مسکرایا
اب تمہاری تصویریں نہیں رکھوں گا تو کس کی رکھوں گا ۔۔
نکاح سے پہلے کی ہیں عادی۔۔۔۔۔ تم میری بے خبری میں پکچرز لیتے رہے ہو چور کہیں کے ۔امثال کی بات پر اس نے قہقہ لگایا
ہاں۔۔۔۔۔۔۔ تمہیں کوئی اعتراض ہے ۔۔۔
اور ہمارا نکاح بھی تمہارے کہنے پر ہی ہوا ہے تم نے ہی دادو سے کہا تھا نہ۔۔۔ ؟؟
بلکل کوئی اعتراض ہے ۔۔۔
ہاں نہ مجھے تم سے شادی نہیں کرنی تھی۔۔
تو پھر کس سے کرنی تھی؟؟ عادل نے ابرو اچکائے
کسی اچھے سے انسان سے کرنی تھی
ہاں میں تو روز دس بندے قتل کر کہ آتا ہوں نہ ۔۔عادل نے جل کر کہا
اوہو بھئی کسی ہینڈسم سے ہیرو ٹائپ کے بندے سے کرنی تھی نہ
کیوں مجھے کیا ہے اچھا خاصا ہینڈسم ہوں یونی میں لڑکیاں مرتی تھی مجھ پر ۔۔۔اتنا ویل ایجوکیٹیڈ اور ویل سٹیبلڈ بندہ مل گیا ہے ، تمہیں تو شکر کرنا چایئے۔ عادل نے فخر سے کالر جھاڑے
اور وہ جو تم ہر وقت مجھ پر غصہ کرتے رہتے ہواور ڈانٹتے بھی ہو ۔ امثال کی بات پر اسنے آنکھیں پھاڑیں
میں نے کب غصہ کیا ہے تم پراور کب ڈانٹا ہے ۔۔ ؟بتانا زرا مجھے
وہ جو اس دن ڈانٹا تھا وہ۔۔۔۔۔
کب۔۔۔؟؟
اچھا چھوڑو نہ ۔۔۔امثال کو سوچنے سے بھی یاد نہ آیا تو وہ جھنجھلائی
جانتا ہوں تمہیں مجھ سے بہت سی شکائیتں ہوگی ۔کوشش کر رہا ہوں خود کو بدل سکوں لیکن تھوڑا ٹائم لگے گا اب ایک دم تو نہیں بدل سکتا نہ اسکے باوجود بھی اگر مجھ سے کوئی شکوہ ہے تو تم بتا سکتی ہو ۔عادل کے دھیمے لہجے پر امثال کو شرمندگی نے آن گھیرا تھا ۔ وہ صحیح ہی تو کہہ رہا تھا نکاح والے دن کے بعد سے اس نے ڈانٹنا تو بہت دور کی بات کبھی سخت نظر سے بھی نہیں دیکھا تھا
سوری نہ بس مذاق کر رہی تھی ۔ امثال نے اسکے کندھے پر سر رکھا
لیکن میرا مؤقف ابھی بھی وہی ہے۔امثال نے اسکے کندھے سے سر اٹھا کر اسے دیکھا تو اس نے نفی میں سر ہلایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم دونوں جیسا دغا بازاور فراڈ بندہ میں نےزندگی میں آج تک نہیں دیکھا ۔ فرہاد کے پاس بیٹھے امثال اور بازل کو صدام نے کڑے تیوروں سے گھورا
کیوں بھئی ہم نے ایسا کیا کر دیا ہے ؟؟بازل جان کربھی انجان بنا
میں نے تم لوگوں کی ہیلپ اس لیے نہیں کی تھی کہ اپنا کام نکل جانے کے بعد میرا بھول جاؤ تم لوگ ۔۔اگر میرا کام نہ کیا تو میں نے اعلان کروا دینا ہے کہ بہرام کو تم لوگوں نے اغواہ کروایا تھا ۔اسکی بات سن کر امثال نے صدام کو کھینچتے ہوئے کرسی پر پٹخا
دماغ خراب ہو گیا ہے کیا ۔۔چیخ کیوں رہے ہو ابھی کوئی سن لیتا تو ۔۔۔
ہاں تو سن لے اچھا ہے سب کو پتہ چل جائے گا۔۔۔
صدام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امثال چیخی تھی
یہ کیا چکر ہے بھئی ۔فرہاد کے پوچھنے پر امثال کے نہ نہ کرنے کے باوجود صدام نے اسے بتا کر دم لیا
مائی گاڈ کیا چیزہوتم دونوں ۔۔۔۔مجھے یقین نہیں آ رہا ہے، کوئی ایسے بھی کر سکتا ہے
ہم کر سکتے ہیں نہ۔ بازل نے فخر سے کہا
واقعی تم ہی کر سکتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویسے کزن تمہاری کل والی فائٹ دیکھ کر مزہ آگیا تھا ۔فرہاد کی بات پر امثال چونکی
تم نے کہاں دیکھی ۔۔۔۔۔
ہم نے تو ٹی وی پر لائیو دیکھی تھی ۔۔۔۔
ہم سے مطلب ،کون کون ۔۔۔
ہم سے مطلب ہم سب گھر والے ۔ امثال نے بازل کی طرف دیکھا ۔۔۔۔
بازی کیسے ۔۔۔۔
مجھے عدی نے اپنا موبائل دیا تھا کہ ایل ای ڈی سے اٹیچ کردوں ۔۔اس نے تمہیں کچھ دیا تھا ؟؟؟آئی مین کوئی گیجٹ وغیرہ ۔۔۔
ہاں کچھ دن پہلے ایک واچ دی تو تھی اور کہا کہ کبھی بھی اسکو نہ اتاروں ۔امثال نے سوچتے ہوئے کہا
اوہ تو پھر اسی واچ میں ہی اس نے کچھ فٹ کروا کر اپنے موبائل کے ساتھ اٹیچ کیا ہو گا
اب تو مجھے لگتا ہے ایک بار خود کو مکمل طور پر سکین کروا ہی لوں پتہ نہیں کیا کچھ فٹ کروا چکے ہیں یہ لوگ۔۔
میں نے شائد کچھ کہا ہے ۔صدام نے خود پر سے توجہ ہٹتے دیکھ کر سر پیٹا
اچھا اچھا کرتے ہیں کچھ۔۔ بےصبرے کیوں ہو رہے ہو۔۔صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے بازل اسے صبر کی تلقین کرتے ہوئے اٹھ گیا
ہاں لیکن خیال رکھنا کبھی کبھی یہ پھل محبوبہ کی کہیں اور شادی کی صورت میں بھی نکل آتا ہے اسکے پیچھے امثال بھی کھسک گئی۔جب تک وہ ہال میں داخل نہ ہو گئی فرہاد اسے دیکھتا رہا ۔اسکو نوٹ کرتے صدام نے مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلایا
لیٹ ہوگئے ہو باس ۔۔۔۔۔۔ اس لیے اپنے دل اور نظروں کو کنٹرول میں رکھو ۔اپنی چوری پکڑے جانے پر فرہاد خجل ہو کر رہ گیا
جانتا ہوں یار لیکن یہ کمبخت دل بھی تو سمجھے نہ ۔جب جب سامنے آتی ہے فضول میں ضد کرنے لگتا ہے ۔ فرہاد نے بےبسی سے کہا
اگلی بار جب یہ ضد کرے نہ تو اسے بہرام کا حشر یاد کروا دینا آیم شیور خود ہی سنبھل جائے گا ۔ صدام کی بات سن کر فرہاد نے بےساختہ جھرجھری لی تھی
جب مجھے بتایا گیا عادل کا نکاح امثال سے ہوا ہے تو مجھے یقین ہی نہیں آیا تھا کہ کہاں خاندان بھر میں سب سے زیادہ سنجیدہ مزاج اور کھڑوس بندہ اور کہاں امثال جیسی نٹ کھٹ لڑکی
اوہ بھائی محبت سب کچھ کروا دیتی ہے ۔تم نے دیکھا نہیں کتنا بدل گیا ۔غصہ جس کی ناک پر دھرا ہوتا تھا اسکو اب یاد بھی نہیں ہوگا کہ لاسٹ ٹائم اس نے کب کسی پرغصہ کیا تھا ۔ ہر وقت اس کے چہرے ایک مسکراہٹ رہنے لگی ہے ۔سختی اور سردمہرلہجہ جسکا خاصا ہوا کرتا تھا ،اب بات کرتا ہے تو بلا کی نرمی ہوتی ہے ۔کبھی کبھی تو میں حیران ہوتا ہوں کوئی اتنا کیسے بدل سکتا ہے ۔صدام کے لہجے میں حیرت نمایاں تھی
اور میری مانو تو خود کو یہی روک لو کسی کو بھنک بھی پڑ گئ نہ تو انجام اچھا نہیں ہو گا۔ دونوں خاندان کئی سالوں بعد ملے ہیں ۔امید کرتا ہوں کوئی بےوقوفی نہیں کرو گے ۔صدام اسکا کندھا تھتھپاتا اٹھ گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی صبح آنکھ کھلی تو امثال کو کاؤچ پر آلتی پالتی مارے موبائل میں مصروف پایا۔سویرے سویرےاسکو یوں اپنے کمرے میں پا کر اسکے ہونٹوں پر بے ساختہ سی مسکراہٹ چھائی تھی۔
کیا بات ہے جانم رخصت ہو کر آگئ ہو کیا؟؟؟
فلحال تو پناہ لی ہے یہاں۔۔۔۔۔۔تمہاری ساس سے چھپی بیٹھی ہوں
کیا کر کہ آئی ہو ۔۔۔۔۔؟؟ عادل نے تکیے پر کہنی کے بل ٹیک لگائی
زیادہ کچھ نہیں بس دونوں حویلیوں کے کچن کا گیس کنکشن اور فریج کا بجلی کا کنکشن کاٹا ہے جو بندہ دودھ لے کر آیا تھا اسے واپس بھیج دیا کہ آج کوئی بھی گھر پر نہیں ہے اس لیے ہمیں نہیں چایئے ۔۔ گھی، چینی اور پتی بھی غائب کر دی ہے
کیوں ۔۔؟؟ عادل نے حیرانی سے پوچھا
ایویں ای۔۔ مثال نےلاپرواہی سے شانے اچکائے۔ وہ اسے دیکھ کر رہ گیا
اسکا مطلب آج ناشتہ نہیں ملے گا
آف کورس۔۔۔۔۔۔۔
تمہارا کرائم پاٹنر کہاں ہے؟؟؟
آج بھائی کو جلدی جانا تھا تو وہ انکےساتھ ہی چلا گیا ہے۔ عدی تھا نہیں شہری بھائی بھی چلے گئے ۔مجھے یہی جگہ سیف لگی تو یہاں آ گئ ۔اب اگرکوئی پوچھے تو کہہ دینا میں یہاں نہیں ہوں
اوکے باس ۔۔۔عادل نے سر کو ہلکا سا خم دیا۔اتنے میں باہر سے ساریہ بیگم کی آوازیں آنا شروع ہو گئی تھیں ۔وہ شائد ہر جگہ سے اسے ڈھونڈ کر اسی کے کمرے کی طرف آ رہیں تھیں
لو آ گئی تمہاری ساس اب سنھبالو۔۔دروازے پردستک ہوئی اس نے تھوڑا سا دروازہ کھولا تو ساریہ بیگم کو کھڑے پایا
جی خالہ ۔۔۔عادل نےادھ کھلے دروازے کے درمیان کھڑے ہوتے پوچھا
ژلےاوربازی تمہارے پاس ہیں
نہیں ۔۔۔۔۔ وہ یہاں کیوں ہوں گے خیریت ۔۔آپ صبح صبح انکا کیوں پوچھ رہیں ہیں ؟؟
ان دونوں کے ہوتے کہاں خیریت ہو سکتی ہے ۔اٹھتے ساتھ ہی کچن تلپٹ کر کہ خود پتہ نہیں کہاں دفع ہو گئے ہیں۔
چلیں کوئی نہیں خالہ آپ کسی کو بلوا کر گیس اور بجلی فکس کروا لیں۔عادل کی بات پر جہاں امثال نے دانت کچکچائے وہیں ساریہ بیگم جاتے جاتے رکیں
تمہیں کیسے پتہ وہ بجلی اور گیس کا کنکشن کاٹ گئے ہیں ۔انہوں نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا تو سٹپٹایا
وہ۔۔۔۔۔۔خالہ آپ نے ابھی تو بتایا ہے
نہیں میں نے نہیں بتایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے نفی میں سر ہلایا
ارے آپ بھول گئیں ۔۔۔آپ نے ہی تو کہا کہ وہ بجلی اور گیس کا کنکشن کاٹ گئے ہیں ۔
ورنہ مجھے کیسے پتہ ہو سکتا ہے۔ آپ جائیں میں بلواتا ہوں کسی کو۔۔۔۔۔عادل انہیں بھیج کر واپس پلٹا تو امثال کو خود کو گھورتے پایا
کیا ایسے کیوں دیکھ رہی ہو ؟؟
تمہیں ڈھنگ سے جھوٹ بولنا بھی نہیں آتا عادی۔۔
پہلی بار بولا ہے نہ آہستہ آہستہ عادت ہو جائے گی
ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔امثال نے اچھنبے سے دیکھا
تم نے روز کچھ نہ کچھ ایسا کرنا ہے تو تمہیں بچانے کے لیے جھوٹ تو بولنا پڑے گا نہ ۔ امثال نے مصنوعی غصے سے کشن اسکی طرف اچھالا جسے عادل نے ہسنتےہوئے کیچ کیا
تم بیٹھو میں چینج کر کہ آتا ہوں پھر کچن کو دیکھتا ہوں ورنہ سارا دن بھوکے رہنا پڑے گا
کچھ پتہ چلا کہاں گئے ہیں دونوں سب جگہ دیکھ چکے ہیں ۔۔اب تو فکر ہونے لگی ہے ۔۔ہاجرہ شاہ نے فکرمندی سے کہا
جانا کہاں ہے چوکیدار بتا رہا ہے کہ بازل شہری کے ساتھ گیا ہے اور امثال عادل کے کمرے میں ہے ،مگر میرے پوچھنے پرتمہارا بیٹا صاف مکر گیا ہے ۔ساریہ بیگم نے پہلے بی جان اور پھر خدیجہ بیگم سے کہا
پہلے مجھے ایک امید تھی کہ یہ لڑکی سدھر جائے گی مگر اسکو بچانے کے لیے عادل کے یوں دھڑلے سے جھوٹ بولنے پر مجھے یقین ہو گیا کہ میری یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہو سکتی
چھوڑو نہ ساریہ بچی ہے آہستہ آہستہ سمجھ جائے گی اور تمہاری بات سن کر مجھے سکون ہو گیا ہے کہ ہم نے امثال کے لیے کوئی غلط فیصلہ نہیں کیا ورنہ مجھے دھڑکا لگا رہتا تھا کہ جتنی وہ نٹ کھٹ سی ہے اتنا ہی عادل غصے کا تیز ،کہیں ہم نے کوئی زیادتی نہ کر دی ہو خدیجہ بیگم کی بات پر ساریہ بیگم نے سر جھٹکا
اچھا تم یہ بتاؤ کہ کچن کا کیا کرنا ہے ؟
عادل کہہ رہا ہے کسی کو بلواتا ہے ۔
چلو کوئی نہیں بہو ۔۔ بچے ہیں مذاق ہی کیا ہے ۔ تم دل پر نہ لو
میں بتا رہی ہوں آپکے یہ بچے کسی دن کوئی بہت بڑا فساد کھڑا کریں گے پھر مجھے کوئی نہ کہے ۔۔وہ جلتی بھنتی اٹھ گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر میں دعوت کی تیاریاں چل رہی تھیں امثال نے عائشہ سے سپیشلی فرمائش کر کہ اپنے لیے ڈریسز بنوائے تھے ۔ ساریہ بیگم اٹھتے بیٹھتے انہیں انسان بن کر رہنے کی تلقین کر رہی تھیں جنہیں وہ ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال رہے تھے دوسرے شہر سے مہمان آنا شروع ہو گئے تھے ۔امثال اِدھراُدھر آنکھیں گھوماتی ہال میں داخل ہوئی تو فوزیہ اور ساریہ بیگم کے پاس بیٹھی عورت کی باتیں سن کر اسکی آنکھیں شرارت سے چمکیں
پتر آو نہ وہاں کیوں کھڑی ہو۔ ثریا شاہ نے اسکو واپس پلٹتے دیکھ کر پکارا
اسلام و علیکم نانو
وعلیکم اسلام ۔۔یہاں آؤ ان سے ملو یہ تمہاری پھپو دادی ،میری اور تمہاری دادی کی نند ۔ ثریا شاہ نے تعارف کروایا
ماشاء اللہ کتنی پیاری اور بھولی بھالی ہے ۔اللہ نظر بد سے بچائے۔ اس خاتون نے اسکا منہ ماتھا چومتے ہوئے باقاعدہ اسکی بلائیں لے ڈالیں ۔انکی بھولی بھالی والی بات پر ثریا شاہ اور ہاجرہ مسکراہٹ دبائی
شکریہ دادی جان۔آپ بھی بہت اچھی ہیں ۔ امثال نے دنیا جہان کی معصومیت چہرے پر سجائی
ارے دادی صدقے ۔۔ وہ تو باقاعدہ واری جا رہی تھیں
میں اب جاؤں ۔ امثال نے پلکیں جھپکائیں
ہاں ہاں پتر جا ۔۔ تو امثال نزاکت سے چلتے ہوئے باہر نکل گئی تھوڑا آگے جا کر اس کےحلق سے قہقہ بلند ہوا تھا ڈیرے سے آتے فرہاد نے حیرانی سے دیکھا
خیریت امثال ایسے کیوں ہنس رہی ہو ؟؟
ٹرسٹ می ہادی کل بہت مزہ آنے والا ہے۔ امثال ہنستے ہوئے لان میں بیٹھے بازل کی طرف بڑھی
ہادی نائس نیم ۔۔آج سے پہلے کسی نے یہ نام نہیں دیا ۔فرہاد اپنی سوچ پر مسکرایا اور لان کی طرف دیکھا جہاں امثال بازل کے ساتھ کچھ بات کر رہی تھی اسکی آنکھوں اور چہرے پر شرارت دور سے بھی دیکھی جا سکتی تھی۔ وہ سر جھٹکتا حویلی کے اندر چلا گیا
ڈی جے خالہ یہاں گاؤں میں کوئی سپیرا ہے کیا؟؟ امثال نے خدیجہ بیگم کی گود میں گھستے ہوئے پوچھا
ہاں ہے تو مگر تم کیوں پوچھ رہی ہو۔۔؟؟
بس ایسے ہی ۔۔
ایسے تو نہیں ۔کوئی نہ کوئی شرارت ہی کرنی ہو گی ۔ خدیجہ اسکے سر میں چیت لگائی
ہاہاہا خالہ کتنا سمجھنے لگی ہیں آپ مجھے
صرف خالہ ہی نہیں خالہ کا بیٹا بھی سمجھنے لگا ہے ایسے ہی تو نہیں اس نے ساریہ سے جھوٹ بولا
ہا۔۔۔۔۔ خالہ آپکو کیسے پتہ
تمہاری ماں بتا رہی تھی
اوہ تو اسکا مطلب ماما کو پتہ چل گیا تھا
ہاں تو اور کیا تم دونوں کو کیا لگا کہ ہمیں پتہ نہیں چلے گا ۔۔۔ویسے بھی میں نے صبح تمہیں عادل کے کمرے میں جاتے دیکھ لیا تھا۔
ماما اگر ساس بہو کی محبت کا عملی مظاہرہ ہو گیا ہو تو دادو کی بات سن لیں۔۔اپکو باہرلان میں بلا رہی ہیں ۔۔
خالہ!! کچھ جل رہا ہے لگتا ہے سانی ہی جل رہی ہے
پاگل لڑکی ۔۔ وہ ہنستی ہوئی باہرنکل گئیں
ویسے اگر تمہارا بھی دل چاہ رہا تو وہ رہی تمہاری ساس جا کہ اٹھوا لو تم بھی لاڈ ۔۔ہمیں تونظر نہ لگاؤ ۔امثال نے فوزیہ بیگم کی طرف اشارہ کیا
اب ہر کوئی تمہاری طرح بے شرم تو نہیں ہو سکتا ۔ تم تو آج کل اکثر عادل لالہ کے ساتھ پائی جاتی ہو ۔ شامین نے کہا
اوہ بی بی شوہر ہے وہ میرا ۔۔۔ اب اگر تم دونوں کے شوہر تمہیں منہ نہیں لگاتے تو میں کیا کروں۔یار امان بھائی اپنی بیوی کو تھوڑا ٹائم دےدیا کریں بیچاری خوامخواہ میں جیلس فیل کر رہی ہے ۔امثال نے امان کے کانوں سے ہینڈفری کھینچی
میں تو ہمہ وقت تیار ہوں مگر کوئی لفٹ ملے تب نہ ۔امان نےسرد آہ بھری ۔ شامین تو اسے چھیڑ کر پچھتائی تھی
اب جاؤ جا کہ ٹائم دو اپنے “ان” کو۔۔۔۔ بچارے نےٹھنڈی آہیں بھر بھر کہ ہی جم جانا ہے ۔امثال نے شامین کے پاس سے گزرتے ہوئے اسے ہلکا سا پش کیا تو وہ امان کے پاس صوفے پر جا گری اسکو جارحانہ انداز میں اٹھتے دیکھ کر امثال دو دو سیڑھیاں پھلانگتے اوپر بھاگ گئی
کہاں جا رہے تم لوگ ۔ بازل اور امثال بیرونی گیٹ کے پاس پہنچے توگاڑی سے اترتے قاسم شاہ نے انہیں روکا
ایک کام سے جا رہے ہیں
کہاں ۔۔ اور گارڈز کے بغیر، جہاں بھی جا رہے ہو گارڈز کو ساتھ لے کے جاؤ
یہی گاؤں میں ہیں ۔ بس تھوڑی دیر میں آجائیں گے ۔گارڈز کی ضرورت نہیں
پر بیٹا
کوئی نہیں تایا جان ہم بس یوں گئے اور یوں آئے۔ امثال نے چٹکی بجائی اور انکا جواب سنے بغیر باہر نکل گئے
فیض بچے باہر جا رہے ہیں تم انکے پیچھے جاؤ خاص خیال رکھنا ۔جیسے جا رہے ہیں ویسے ہی واپس آنے چاہئیے یہ تمہاری زمہ داری ہے سمجھے ؟؟قاسم شاہ نے گیٹ کے باہر بیٹھے اپنے گارڈ کو انکے پیچھے بھیجا
جی صاحب وہ سر ہلاتا انکے پیچھے چل پڑا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے