Rate this Novel
Episode 26
دادو آپ لوگ یہاں کیوں بیٹھے ہیں ۔باہر چلیں نہ امثال نے ہاجرہ بیگم اور مصطفی شاہ کو کمرے میں بیٹھے پایا تو کہا
پتر باہر جا کر کیا کریں گے ۔ اب تو لوگوں نے پوچھنا شروع کر دیا ہے کہ نکاح کیوں نہیں ہو رہا، کس بات کی دیر ہے ۔بی جان نے ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے کہا
لو بھلا اسکا کیا مطلب ہوا غلطی انکے بیٹے کی ہے۔ منہ چھپا کہ آپ کیوں بیٹھے ہیں ۔ آپ باہر جائیں اور جا کہ جواب مانگیں کیوں دادا جانی ۔۔
خیر جو اب تک نہیں آیا وہ آئے گا بھی نہیں آپ کوئی فیصلہ کریں ۔وہ کوئی آخری لڑکا تو نہیں تھا اس دنیا میں۔ گھر میں اتنے لڑکے موجود ہیں آپ کسی سے بھی نکاح پڑھوا دیں ۔اور ویسے بھی میں نے تو پہلے ہی آپ سے شہری بھائی کے لیے کہا تھا
مگر بیٹا ایسے کیسے
دادو گھر مہمانوں سے بھرا پڑا ہے ۔اگر نکاح نہیں ہوگا تو لوگ وجہ پوچھیں گے ۔اور ہمارے معاشرے میں لڑکے کا قصور کوئی نہیں دیکھتا سب یہی کہیں گے کہ لڑکی میں کوئی خرابی ہو گی جو لڑکا عین نکاح کے موقع پر بھاگ گیا ۔۔ آخر ہماری بھی کوئی عزت ہے جسے ہم یوں انکو خراب نہیں کرنے دیں گے۔ نکاح آج ہی ہوگا اور سب کے سامنے ہوگا آپ۔۔۔آپ ایسا کریں ماما بابا کو بلوائیں ان سے بات کریں بلکہ بات بھی کیا کرنی ہے آپ انکو حکم دیں کہ وہ شہری بھائی کا نکاح عاشی آپو سے کریں ۔کیوں دادا جانی میں نے ٹھیک کہا نہ ؟امثال کی بات سن کر مصطفی شاہ نے اپنی ڈرامے باز پوتی کو نظر بھر کر دیکھا تھا انکے اس طرح سے دیکھنے پر وہ سٹپٹا گئ
ہوں ٹھیک کہہ رہی ہو اب ایسا ہی کرنا پڑے گا۔ بلاؤ اپنے ماں باپ کو میں کرتی ہوں بات. ہاجرہ شاہ کی بات سن کر اسکا دل بے اختیار بھنگڑا ڈالنے کو چاہا لیکن خود پر جبر کرتی اس نے صرف مسکرانے پر اکتفا کیا۔ مصطفی شاہ اسکی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہے تھے
کچھ ہی دیر میں وہ راسم شاہ اور ساریہ بیگم کو لے آئی اور خود بھی ساتھ ہی آ کر ایک سائیڈ پر خاموشی سے کھڑی ہو گئی ، کہ کہیں اسکا بنا بنایا کام نہ بگڑ جائے۔ ہاجرہ شاہ نے بات کی تو راسم شاہ کچھ دیر کے لیے سوچ میں پڑ گئے انکی نظر امثال پر پڑی تو اس نے ہاں کا اشارہ کیا
ٹھیک ہے اماں جان جیسے آپکا حکم ۔ راسم شاہ کی بات سن کر امثال کی جان میں جان آئی وہ بے اختیار مسکرائی تھی اندر آتے عادل کو دیکھ کر اس کی مسکراہٹ سمٹی تھی اس پر ایک سرد نگاہ ڈال کر وہ باقی سب کے پیچھے نکل گئی مصطفی شاہ نے بشیر شاہ کو اپنا فیصلہ سنایا تو انہوں نے واویلا مچا دیا کہ عائشہ انکے بیٹے کی منگ ہے وہ ایسے کیسے چھوڑ سکتے ہیں
چلو جی ایک بیٹھتا ہے تو دوسرا اٹھ کھڑا ہوتا ہے ۔لگتا یہاں بھی مجھے ہی انٹری دینی پڑے گی امثال بڑبڑاتے ہوئے انکی طرف آئی
دیکھیں انکل ہم مانتے ہیں آپکے بیٹے کی منگ تھی لیکن آپکا بیٹا کہاں ہے ؟اب ہم آپکے بھگوڑے بیٹے کے لیے سارے خاندان کے سامنے اپنی عزت تو دادؤ پر نہیں لگا سکتے نہ ۔جو اب تک نہیں آیا ۔ وہ آئے گا بھی نہیں پلیز آپ سمجھنے کی کوشش کریں
دیکھو لڑکی جانتے ہیں ہمارے بیٹے کی غلطی ہے مگر ہم اپنی منگ کو ایسے ہی نہیں چھوڑ سکتے۔ بہرام شاہ نہ سہی ہماراا دوسرا بیٹا تو ہے، فہد شاہ یہ نکاح کرے گا ۔ جمال شاہ کی بات سن کے اسکی رنگت پھیکی پڑی تھی
ہاں بابا میں تیار ہوں فہد شاہ نے آگے آیا
بات سنیں انکل عائشہ اس گھر کی بیٹی ہے کوئی بھیڑ بکری نہیں کہ یہ نہیں تو یہ سہی اور ویسے بھی آپکا ایک بیٹا نکاح کے موقع پر بھاگ گیا ہے اگر دوسرا رخصتی کے موقع پر بھاگ گیا تو؟ ہم اپنی بیٹی کو آپ کے تجربات کے لیے تو نہیں چھوڑ سکتے۔۔
بریکینگ نیوز بہرام شاہ نہیں آیا ہے اور گھر والے آپکا نکاح شہریار لالہ سے کرنے کا کہہ رہے ہیں۔ زروا نے عائشہ کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا
کیا کہہ رہی ہو؟سانیہ اور شامین کو حیرت ہوئی تھی
تم لوگ کھڑکی ٓسے دیکھ لو میں ذرا نیچے جا رہی ہوں ہماری کزن فارم میں آ رہی ہے میں وہ سین مس نہیں کر سکتی باقی کی تفصیل پھر دوں گی۔ کہتی ہوئی وہ واپس بھاگی وہ تینوں اٹھ کر کھڑکی کی طرف آئیں جہاں امثال اب ایک لڑکی کے ساتھ بات کر رہی تھی
فہد یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ۔ایک لڑکی نے آگے بڑھ کر کہا
تم مردوں کے معاملے میں مت بولو زرین ۔بشیر شاہ نے سختی سے کہا
کیوں نہ بولوں بابا یہ شوہر ہیں میرے ۔۔اسکی بات سن کر امثال کی آنکھیں کھلی تھیں ۔وہ تالی مارتے ہوئے فہد کی طرف مڑی
ماشاءاللہ ۔ماشاءاللہ تو شادی شدہ ہیں آپ اسکے باوجود بھی نکاح کے لیے راضی ہو گئے ہیں ۔واہ بھئی کیا عظیم جذبہ پایا ہے آپ نے قربانی کا ۔۔ میری تو آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔۔۔آپکی اس عظمت کو فی الوقت اتنے سارے لوگوں کے سامنے میں کوئی خراج نہیں پیش کر سکتی بس بہت ہو گیا میں کوئی بدتمیزی نہیں کرنا چاہتی اب آپ خاموشی سے کھڑے رہیں گے ۔ دادا جانی آپ نکاح خواں کو بلوائیں
آپ جا کر اسے روکیں نہ کیسے سب کے سامنے پٹر پٹر کررہی ہے
بولنے دیں اسے ساریہ بیس سال پہلے جو میں نہیں کر سکا وہ آج اگر میری بیٹی کر رہی ہے تو کرنے دو۔ راسم شاہ کی بات سن کر ساریہ بیگم خاموش ہو گئیں
دیکھو لڑکی یہ معاملات مردوں کے ہیں تم بیچ میں مت بولو ،بشیر شاہ نے ناگواری سے کہا
جس کے لیے فیصلہ کر رہے ہیں وہ بھی ایک لڑکی ہے اور ہماری فیملی کو جب مسئلہ نہیں ہے تو آپ کون ہوتے ہیں اعتراض کرنے والے ؟آپ لوگوں نے جتنا کرنا تھا کر دیا ہمارے ساتھ اب مزید کی گنجائش نہیں ہے
ہر گز نہیں ہم یہ نکاح نہیں ہونے دیں گے ۔امثال کی بات سن کر فہد شاہ نے کہا
دیکھو میرا دماغ مت گھوماؤ ورنہ اچھا نہیں ہوگا تمہارے ساتھ تو میں نکاح نہیں ہونے دوں گی ۔ یہ بات تو طے ہے ۔ ٹھیک ہے ہم لوگ دس پندرہ منٹ ویٹ کر لیتے ہیں اگر بہرام آجاتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ جو ہو رہا ہے اسے ہونے دو۔ ویسے بھی تم لڑکی کے باپ بھائی نہیں لگتے ہو جو اسکے لیے فیصلے کرو گے ۔بیٹی ہماری ہے تو فیصلہ بھی ہم ہی کریں گے آپ سے اپنا بیٹا تو سنبھالا نہیں گیا ، ہم سے بات کرتے ہیں ۔چلیں دادا جانی آپ شروع کروائیں میں بھی دیکھتی ہوں کون روکتا ہے۔ امثال نے خاموش کھڑے مصطفی شاہ سے کہا تو انہوں نے مولوی کو نکاح پڑھانے کا کہا بشیر شاہ بھی اب کی بار خاموش ہو گئے
کمال کی ایکٹر ہے تمہاری بہن ۔ایکٹر کیا پوری کی پوری ڈرامے باز ہے ۔ صدام نے بازل سے کہا تو عادل نے مڑ کر اسے گھورا
تم ذرا یہ فنکشن ختم ہونے کے بعد ملنا تم سے تو نبٹ لوں گا عادل نے دانت پیستے ہوئے کہا تو صدام نے دانت دکھائے
جیسے ہی نکاح ختم ہوا امثال بھاگ کر عدید کے گلے لگی پاگل ۔۔ وہ اسکا انداز دیکھ کر ہنسا تھا
اچھا نکاح ہو گیا ہے اب بہرام کو چھوڑ دو۔ عدید کی بات سن کر اسکے سینے سے لگی امثال نے ایک جھٹکے سے سر اٹھایا
عدی۔۔۔۔۔۔
کیاعدی ۔۔۔۔۔۔۔۔تم لوگ کیا کرتے پھر رہے ہو مجھے سب پتہ ہے
آپ کو کیسے پتہ ۔۔امثال حیران ہوئی
شک تو مجھے تم لوگوں پر اسی وقت ہوگیا تھا کہ تم لوگ کچھ نیا کرنے والے ہو ،جب تم دونوں چھجے پر بیٹھے میٹینگ کر رہے تھے اور وقت بے وقت صدام سے ملنا اور پھر میں صدام سے ملا میری ایک گھوری پر اس نے سب کچھ بتا دیا ۔عدید نے اسکے بال سیٹ کرتے ہوئے کہا
کیا یار عدی کچھ پرائیوسی بھی ہوتی ہے بندے کی ۔تم ہر وقت جاسوسی کرتے رہتے ہو ہماری ۔امثال نے منہ بنایا
ہاں ہوتی ہے لیکن وہ عام لوگوں کی ہوتی ہے تم لوگوں کو اگر پرائیوسی دی گئ نہ تو اردگرد کے رہنے والوں کا تو اللہ ہی حافظ ہے
اچھا چلیں نہ شہری بھائی سے ملتے ہیں
ہاں چلو ۔۔۔۔۔۔۔۔
آپکو پتہ ہے میں نے عاشی آپو کے ڈریس سے میچنگ کلر کا ڈریس بنوایا ہے شہری بھائی کا آخر کو پکچرز کھینچنی تھی ۔امثال کی بات سن کر وہ مسکرایا تھا
دادا جان سب کا ہو گیا میں ہی رہ گیا ہوں ۔عادل نے مصطفی شاہ کے پاس آتے ہوئے کہا
ہاں تمہارے نکاح کی ڈیٹ بھی آج ہی کی رکھی ہوئی ہے ۔میں راسم سے کہتا ہوں وہ بہو سے کہے کہ امثال کو تیار کرے
یار دادا جان آپکی پوتی ناراض ہو گئی ہے پہلے اس سے بات کر لیں ایسا نہ ہو عین وقت پر انکار کر دے
یہ تو تمہیں اسے ڈانٹنے سے پہلے سوچنا چائے تھا نہ ۔ویسے وہ کوئی اتنی غلط بھی نہیں ہے تم نے بہت ہی سختی سے بات کی ہے اور جب تم جانتے تھے بہرام کے بارے میں تو تمہیں مجھے بتانا چاہئیے تھا نہ کہ اس طرح خاموش تماشائی بن جاتے ۔۔میں اس گھر میں اب مزید کسی اور کو لالہ نہیں بنانا چاہتا
سوری دادا جان مجھے لگا کہ آپ فیصلہ کر چکے ہیں تو اب کچھ نہیں ہو سکتا
ہوں۔۔۔ چلو جو ہونا تھا ہو چکا اب جا کہ اسے مناؤ تاکہ نکاح شروع کروا سکیں
یار دادا جانی آپ ابھی نکاح کے لیے اسے راضی کر لیں میں بعد میں منا لوں گا اب اگر میں اس کے سامنے بھی جاؤں گا تو وہ تو ہتھے سے ہی اکھڑ جائے گی ۔۔آپکو نہیں پتہ میری طرف دیکھتی بھی ہے تو ایسے جیسے سالم نگل جائے گی ، چبانے کی بھی زحمت نہیں کرے گی۔ عادل کے بیچارگی سے کہنے پر مصطفی شاہ نے ہلکا سا قہقہ لگایا
اچھا ٹھیک ہے میں کرتا ہوں کچھ۔ مصطفی شاہ کہتے ہوئے امثال کی طرف بڑھے جو شہریار کے ساتھ تصویریں کھینچوا رہی تھی اسے آواز دے کر اپنے پاس بلایا
جی دادا جانی
اپنے دادا کی ایک بات مانو گی
آپ ایسے بات نہ کریں۔ بس حکم دیں یار۔ امثال نے کہا تو وہ مسکرائے
اچھا تو پھر میرا یہ فیصلہ ہے کہ ابھی تمہارا نکاح عادل سے کر دیا جائے اور یہ میرا حکم بھی ہے
دادا جان آپ نہیں جانتے آپکا پوتا کتنا بدتمیز ہے آپکو پتہ ہے ابھی اس نے مجھے کتنا ڈانٹا ہے
میں جانتا ہو بچے میں نے اس سمجھایا ہے اور اس نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ آئندہ نہیں ایسا کرے گا۔مصطفی شاہ کی بات سن کر وہ سوچ میں پڑ گئی
پتر کیا سوچ رہی ہے میرا ژلی شاہ میری بات بھی نہیں مانے گا۔
اب آپ ایموشنل بلیک میل کر رہے ہیں ۔ اس نے منہ بسورا تو وہ رخ موڑ کر مسکرائے
اچھا چلیں کہتی ہوئی وہ سٹیج کی طرف بڑھی اور جا کر شہریار کے ساتھ بیٹھ گئی
لائیں مولوی صاحب کہاں سائن کرنے ہیں۔ امثال نے عادل کو کھا جانے والی نظروں سے گھورتے ہوئے کہا تو وہاں پر کھڑے تقریباً سبھی افراد نے اپنی مسکراہٹ دبائی
بیٹا پہلے نکاح پڑھوائیں گے پھر سائن ہوں گے مولوی صاحب نے اس انوکھی دلہن کو حیرت سے دیکھا
تو شروع کریں نہ یار کس کا انتظار کر رہے ہیں ۔کوئی دعوت نامہ بنوا کر دینا پڑے گا کیا ۔ امثال نے اسے گھورا تو اس نے مصطفی شاہ کی طرف دیکھا
لگتا ہے لڑکی راضی نہیں ہے
او بھائی میں راضی ہی راضی ہوں۔ اب کیا سٹامپ پیپر پر لکھ کر دوں یا باقاعدہ دھمال ڈال کر دکھاؤں، تب جا کر یقین آئے گا آپ کو۔ چلیں جلدی سے شروع کریں مجھے اور بھی بہت سے کام ہیں۔ امثال کی بات سن کر مولوی صاحب نے سر ہلایا
یہ پیس اللہ نے خاص میرے لیے ہی رکھا تھا۔ سٹیج پر کھڑی ساریہ بیگم بڑبڑائی تو انکے ساتھ کھڑے راسم شاہ مسکرائے۔ نکاح کے بعد سائن کرتے ہوئے اسکے ہاتھ ہلکے سے کانپے تھے شہریارنے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تو امثال نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اسکی آنکھوں میں ہلکی سی نمی تیر رہی تھی ۔شہریار نے اسکو اپنے ساتھ لگایا سب لوگوں کو اپنی طرف متوجہ پا کر اس نے خود کو سنبھالا
دادا جانی یہ فالتو لوگوں کو فارغ کریں۔ دلہنوں کو لا کر مجھے پکچرز بنانی ہیں۔
ہوں ٹھیک ہے میں بھجواتا ہوں وہ کہتے ہوئے قاسم شاہ کی طرف گئے اور انہیں مہمانوں کو رخصت کرنے کا کہا
کچھ ہی دیر میں اس نے رمل اور زروا کے ساتھ مل کر تینوں دلہنوں لا کر سٹیج پر بٹھایا اور مختلف پوز بنا کر دھڑا دھڑ تصویریں کھینچنے لگی جب زروا عادل کا ہاتھ پکڑ کر اس کے پاس آئی
آپی آپ بھائی کے ساتھ کھڑی ہوں نہ آپ کا بھی تو نکاح ہوا ہے تو آپکی پکچرز بھی تو ہونی چائیں
ہاں تو بنوا رہی ہوں نہ
ایسے نہیں آپ بھائی کے ساتھ کھڑی ہوں۔ زروا نے پکڑ کر اسے عادل کے ساتھ کھڑا کیا اور تصویریں بنانے لگی اور ساتھ ساتھ کسی پروفیشنل فوٹوگرافر کی طرح ہدایات بھی دیتی جا رہی تھی
بھائی آپی کے کندھے پر ہاتھ رکھیں اور ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھیں ۔ زروا کی بات سن کر امثال کو تپ چڑھی
زری تم یقیناً نہیں چاہو گی کہ یہ اتنے سارے لوگ جوتے سے تمہاری پٹائی ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھیں ۔خاموشی سے بناؤ ورنہ میں جارہی ہوں اس نے دانت پیستے ہوئے دھیمی آواز میں کہا تو اس خاموش ہونے میں عافیت جانی کہ اسکا کوئی بھروسہ نہیں کہ واقعی اسے پیٹ ڈالے ۔
اتنے میں انہیں بہرام شاہ آتا دکھائی دیا جیسے ہی وہ انکے پاس پہنچا بشیر شاہ نے ایک تھپڑ لگایا تھا اسے۔ جس نے امثال کا کلیجہ تک ٹھنڈا کر دیا تھا
آ گئے ہو سارے خاندان کے سامنے ہمارا منہ کالا کروا کر ۔۔شرم سے ڈوب مرو تم ۔۔اگر نہیں شادی کرنی تھی تو بتا دیتے اس طرح عین موقع پر بھاگنے کی کیا ضرورت تھی
بابا جان میں بھاگا نہیں تھا کسی نے مجھے اغوا کیا تھا
بکواس بند کرو تم غلطی کر کہ پھر جھوٹ بول رہے ہو
بابا جان میں سچ کہہ رہا ہوں مجھے اغوا کیا گیا تھا
اوہ بھائی پاگل سمجھا ہوا ہے کیا ۔ اپنی حالت دیکھو اچھے خاصے فریش دکھ رہے ہو ۔نہ کوئی زخم نہ کوئی مار پیٹ ۔۔۔۔ اغوا ہونے والی صورتیں ایسی نہیں ہوا کرتی ۔خیر اب تمہارا یہاں کوئی کام نہیں جا سکتے ہو۔ تم جتنا کر سکتے تھے کر دیا اب مزید کوئی بدمزگی نہیں چاہتے ہم ۔امثال نے اسکی طبعیت صاف کی تھی
انکل آپ لوگ جائیں یہاں سے اس وقت ۔پھر بات ہو گی قاسم شاہ نے اگے بڑھ کر کہا تو وہ سب کو لے کر چلے گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے دس بج رہے تھے اور امثال اس وقت حویلی کے پچھلی جانب بنے پول کے کنارے بیٹھی گھاس نوچ نوچ کر پانی میں پھینک رہی تھی
میرا سوہنا بیٹا یہاں اکیلا کیوں بیٹھا ہے شہریار کی آواز سن کر اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو شہریار بازل اور عدید کو کھڑا پایا وہ بھاگ کر شہریار کے گلے لگی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔ شہریار اسکو یوں روتا دیکھ کر ششدر رہ گیا
ژلے میرا بیٹا کیا بات ہے ۔۔۔۔۔ بھائی کو بتاؤ کیا ہوا ہے ۔۔۔۔ کسی نے کچھ کہا ہے۔ شہریار نے اسکے چہرے کو ہاتھوں تھامتے ہوئے کہا
بھائی ۔۔۔۔۔۔۔ مم ۔۔۔ مجھے ۔۔۔ نہیں کرنی تھی۔ اس ۔۔ ایس پی سے شادی۔۔۔وہ اچھا نہیں ہے ۔۔۔ ڈانٹتا ہے مجھے ۔۔۔۔۔سختی ۔۔۔۔۔۔۔ سختی سے بات کرتا ہے۔۔۔۔۔۔ امثال نے روتے ہوئے بات مکمل کی شہریار نے اسکا سر تھپکا۔ وہ تینوں جانتے تھے کہ وجہ وہ نہیں ہے جو بتا رہی ہے ۔ اسے نکاح کے بعد سے دیکھ رہے تھے کہ وہ ضبط کیے ہوئے تھی وہ امثال شاہ تھی سب کے سامنے رو کر اپنا بھرم نہیں توڑ سکتی تھی
میں اسکے کان کھینچوں گا دوبارہ نہیں ڈانٹے گا شہریار نے اسکے بالوں پر لب رکھے
ویسے بھائی یہ میرے ساتھ زیادتی نہیں ہوئی یہ چڑیل میری ہم عمر ہے اور اسکی شادی پہلے ہو گئی ہے اور میں ابھی تک کنوارہ پھر رہا ہوں بازل نے اسکا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے بات بدلی
ہاں اور میرے ساتھ بھی۔ میں بڑا ہوں اور ابھی تک میری شادی بھی نہیں ہوئی اور ان دونوں کو دیکھو کیسے ایک ہی دن میں نکاح کروا کر بیٹھے ہیں۔ عدید نے بھی نیچے بیٹھتے ہوئے منہ بسورا
ژلے مجھے لگتا ہے کچھ جل رہا ہے؟ ۔۔نہیں ؟ شہریار نے مسکراتےہوئے کہا
دو بھائی جل رہے ہیں۔ امثال نے ہنستے ہوئےشہریار کے کندھے پر سر رکھا
ہاں اب بندے کی قسمت ہی سلو ہو تو کوئی کیا کر سکتا ہے شہریار نے عدید اور بازل کو دیکھا جو انکو دیکھ کر منہ بسور رہے تھے
یار بھائی نکاح نہ سہی تھوڑی سی منگنی ہی کروا دیتے ہماری۔ بازل کی بات سن کر عدید نے ہاں میں ہاں ملائی
رکو میں کرواتی ہوں تم دونوں کی منگنیاں۔ امثال نے دونوں کو پول میں دھکا دیا اور شہریار کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنسنے لگی اسکو یوں ہنستا دیکھ کر سب کی جان میں جان آئی
شکر ہے اسکا موڈ ٹھیک ہوا۔ ورنہ اسے اس طرح بیٹھا دیکھ کر مجھے دھڑکا لگا ہوا تھا کہیں ہم نے زیادتی نہ کر دی ہو۔ کھڑکی سے ان چاروں کو دیکھتے ہوئےساریہ بیگم نے راسم شاہ سے کہا
اچھا واقعی ہی ۔۔۔۔۔۔۔
طنز مت کریں میری بیٹی ہے وہ ۔ میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔ چاہے میں جتنا بھی ڈانٹوں مگر اسکو اس طرح سے افسردہ تو نہیں دیکھ سکتی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چینج کر کہ واش روم سے نکلی تو عادل کو اپنے کمرے میں کھڑے پایا
تم میرے کمرے میں کیا کر رہے ہو امثال نے اسے گھورا
مجھے بات کرنی ہے تم سے
مگر مجھے کوئی بات نہیں کرنی تم جا سکتے ہو امثال نے سپاٹ لہجے میں کہا
اچھا ٹھیک ہے تم مت کرنا میری سن لوعادل نے اسکا ہاتھ پکڑ کراسے کاؤچ پر بٹھایا ،خود اسکے سامنے زمین پر بیٹھ گیا
میں ہرٹ نہیں کرنا چاہتا تھا تمہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکا ہاتھ پکڑ کر کہا تو اس نے رخ موڑا
آئم سوری ۔۔۔۔۔۔
اچھا ادھر تو دیکھو نہ میری طرف۔ عادل نے اسکا رخ اپنی طرف موڑا تو اسکی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر چونکا
سوری مجھے بس غصہ آ گیا تھا۔۔ رئیلی سوری ،پلیز تم رو تو نہیں نہ
آج غصے میں تم مجھ پر چیخے ہو کل کو ہاتھ بھی اٹھاؤ گے اور پھر کہہ دو گے کہ میں غصے میں تھا امثال کی بات سن کر وہ تڑپ اٹھا تھا
نہ۔۔۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔۔نہیں پرنسز میں بھلا کیوں ہاتھ اٹھاؤں گا؟ تم ایسے تو مت کہو
اچھا ٹھیک ہے اس بار معاف کر دو آئندہ اگر میں زراسا بھی ڈانٹوں نہ تو تم جو چاہے سزادینا۔ مگر پلیز اس بار صلح کر لو اپنے اس بےچارے شوہر سے۔عادل نے معصوم سی صورت بنا کر کہا تو وہ مسکرائی
اچھا ایک بات بتاؤ، میں کیا اتنا برا لگتا ہوں جو تم ابھی نیچے شہریار کے گلے لگ کر اتنا رو رہی تھی
لڑکیوں کی جب شادی یا نکاح ہوتا ہے تو وہ روتی ہیں تمہیں کیا پتہ تم کونسا لڑکی ہو۔ امثال نے منہ بگاڑا
ہاں مگر وہ اور سچویشنز ہوتی ہیں نہ ۔ یہاں تمہارا نہیں میرا رونا بنتا تھا۔
کیوں تمہارا کیوں ؟
بھئ میرا نکاح ایک ایسی لڑکی سے ہوا ہے جس کا ایک کام بھی لڑکیوں والا نہیں ہے ۔مار دھاڑ ،لوگوں کو دن دیہاڑے اٹھوانا جسکا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ دیواریں چڑھنا، چھتیں پھلانگنا وغیرہ کوئی معمولی بات تھوڑی ہے ۔۔عادل کی بات سن کر وہ کھلکھلا کر ہنسی تھی جس سے اسکا ڈمپل گہراہوا تھا
تم میرے سامنے اپنا یہ ڈمپل اندر ہی رکھا کرو ۔۔۔۔ خوامخواہ کی جیلسی ہونے لگتی ہے مجھے ۔عادل نے اسکے گال پر پڑتے ڈمپل کو دیکھتے ہوئے کہا
ہا ۔۔۔۔بھلا ڈمپل سے کون جیلس ہوتا ہے ۔امثال کو حیرانی ہوئی
میں ہوتا ہوں نہ۔۔۔۔ تمہارے پاس ہے اور میرے پاس نہیں۔ دکھ کی بات تو ہے نہ ۔عادل نے دکھ سے دائیں بائیں سر ہلایا
اچھا خیر میں تمہارے لیے گفٹ لایا تھا ، لیکن اب تم ناراض ہو تو رہنے دیتا ہوں ۔صبح جا کر واپس کر دوں گا ۔عادل نے گہری سانس لیتے ڈرامائی انداز اپنایا
نہیں اب تم اتنی منتیں کر رہے ہو تو میں خود پرجبر کرتے ہوئے مان جاتی ہوں ۔ امثال نے آنکھیں پٹپٹائیں
نہیں کوئی بات نہیں ۔ تمیں خود پر جبر کرنے کی بلکل بھی ضرورت نہیں ہے ۔میں کسی نہ کسی طرح ایڈجسٹ کر لوں گا
عادل بھا۔۔۔۔۔۔۔۔
خدا کا خوف کرو ژلے کیوں ابھی تین گھنٹے پرانا نکاح خراب کرنے پر تلی ہو ۔عادل نے جلدی سےاسکے منہ پر ہاتھ رکھا
سوری ۔۔۔۔۔ اور تم میرا گفٹ دے رہے ہو یا نہیں امثال نے اسے گھوری دکھائی
اچھا اچھا دے رہا ہوں۔ یوں گھورو تو مت ۔۔ اور خبردار جو تم نے آئیند مجھے بھائی کہا تو۔۔ ہاں آج سے اس صدام کو تم بھائی کہو گی
میں نہیں کہہ رہی اسے۔ تمہیں پتہ وہ ہمارا یعنی میرا اور بازل کا بیسٹ والا فرینڈ بن گیا ہے
ہاں تم لوگوں کے الٹے سیدھے کاموں میں ساتھ جو دیتا ہے بیسٹ فرینڈ تو بننا ہی تھا عادل نے اسے گھورا جیب سے ڈبی نکال کر اسے کھولا تو امثال آگے ہوکر دیکھنے لگی
صبر کرو لڑکی تمہارے لیے ہی لایا ہوں عادل اسکی بے صبری دیکھ کر مسکرایا
واؤ پائل کی جوڑی کتنی خوبصورت ہے نہ امثال نے ستائشی انداز میں کہا
تمہیں پسند آئی۔ عادل کے پوچھنے پر اس نے زور و شور سے سر ہلایا
مجھے دو میں پہنتی ہوں تم دیکھ کر بتانا کہ اچھی بھی لگتیں ہیں یا نہیں ؟پہلی بار پہنوں گی نہ
ہاں تو میں پہنا دیتا ہوں ۔۔ عادل کی بات سن کر اس نے نفی میں سر ہلایا
نہیں تم نہیں پہنا سکتے ۔ لاؤ دو میں خود پہن لوں گی ۔امثال نے اپنے پاؤں پیچھے کیے
کیوں نہیں پہنا سکتا ۔۔عادل نے ابرو اچکائے
اوہو بھئی اب تم میرے پاؤں کو ہاتھ لگاؤ گے ۔۔ امثال جھنجھلائی تھی
اوہ کم آن ژلے یہ کوئی بڑی بات نہیں لاؤ پاؤں آگے کرو
مگر ۔۔۔۔۔۔۔
بس چپ مجھے اپنا کام کرنے دو ۔ویسے بھی پہلی بار کسی کو پہنا رہا ہوں ۔ میرا تجربہ نہیں ہے ، تو میرا دھیان مت بھٹکاؤ خاموش بیٹھی رہو۔ عادل کی بات سن کر وہ خاموش ہو گئی
لو ہو گیا ۔۔۔۔۔ اب دیکھو
اچھی لگ رہی ہیں نہ ۔امثال نےدونوں پاؤں اگے کرتے ہوئے کہا تواسنےاثبات میں سر ہلایا
ہاں بہت اچھی لگ رہی ہیں
اچھا تم وہاں سے تو اٹھو امثال نےاسکونیچےسےاٹھایا تو وہ اسکے برابرکاؤچ پرآ بیٹھا
ایک بات بتاؤ یہ بہرام شاہ صیح سلامت کیسے تھا مجھے تو لگ رہا تھا کہ اسکی کوئی ہڈی پسلی ضرور ٹوٹی ہو گی خاصی حیران کن بات تھی کہ تمہاری قید سے سلامت واپس آگیا
ہے
سٹوری میں جان ڈالنے کے لیے اسکا سلامت ہونا ضروری تھا ورنہ سچ بتاؤں تو میرا بڑا دل تھا ایک بار میں اسکی صحت سیٹ کروں امثال نے دانت پیسے
اچھا وہ کیسے عادل نے پوچھا
اگر اسے مارتے پیٹتے تو سب کو یقین آ جانا تھا کہ اسے اغوا کیا گیا تھا اب کوئی مر کر بھی یقین نہ کرے کہ وہ اغوا ہوا تھا ۔سب کو یہی لگے گا کہ اپنی مرضی سے گیا تھا
اور یہ صدام نے کیسے تم دونوں کا ساتھ دیا ؟؟
اگر کسی سے کچھ غلط کروانا ہو تو بلیک میلینگ اس دنیا کا سب سے بڑا ہتھیار ہے ۔ایس پی صاحب
کیا مطلب عادل نے اسے اچنھبے سے دیکھا
صوفیہ کو پسند کرتے ہیں موصوف ۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے دھمکی لگائی کہ ہم نانو کو بتا دیں گے ۔تم جانتے تو ہو نانو ان باتوں کو کتنا معیوب سمجھتیں ہیں اور اگر وہ ہمارا ساتھ دیں گے تو کچھ ہی دنوں میں نانو کے ہی ہاتھوں منگنی یا نکاح کروائیں گے ۔ اب آگے تم سمجھدار ہو امثال نے آنکھیں گھمائیں
ویسے میرا خیال غلط نہیں ہے پورے کے پورے فتنے ہو تم لوگ عادل نے ہنستے ہوئے سر جھٹکا
بس کبھی غرور نہیں کیا امثال نے اسکا کالر پکڑ کر اچکایا
چلو اب تم سو جاؤ رات بہت ہو گئی ہے مجھے بھی صبح پولیس سٹیشن جانا ہے ۔ پہلے ہی تین چھٹیاں کر چکا ہوں۔ شب بخیر اور ہاں اگین سوری۔ اسکی پیشانی چومتا ہوا وہ باہر نکل گیا
جاری ہے
