32.9K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

وہ بیڈ پر بیٹھی نیند میں جھول رہی تھی جب بازل اسکے کمرے میں آیا
مجھے بہت نیند آ رہی ہے ۔۔ ایکسرسائز کرنے کا بلکل بھی موڈ نہیں ہے۔۔ کچھ کرو ۔۔۔۔ بازل نے امثال سے کہا
ژلےیار اٹھونہ ۔۔ کچھ کرو۔۔۔۔۔ بازل نے اسے جھنجھوڑا
اچھا چلو۔۔۔وہ دونوں نیچے اترے تو شہریارچینج کر کہ ریڈی کھڑا ان دونوں کا انتظار کر رہا تھا
اسلام و علیکم اینڈ گڈ مارننگ بھائی ۔۔۔ امثال جمائی لیتے ہوئے شہریار کےگلے لگی تھی
گڈ مارننگ بیٹا۔۔۔۔۔۔۔
۔
بھائی آپکو پتا ہے آپ ورلڈ کے بیسٹ بھائی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں میں جانتا ہوں میری گڑیا مجھے اکثر بتاتی رہتی ہے۔۔۔۔۔۔ شہریار نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا ۔۔صبح صبح اس تعریف کا مقصد اس سے بہتراور کون جان سکتا تھا ۔۔
آپ نہ بہت اچھے ہو ۔۔۔۔آپ جیسا کوئی نہیں ہے۔۔۔۔۔ سب سے اچھے بھائی اور دوست ہو۔۔۔آپ نہ عدی سے بھی اچھے ہو۔۔۔ سچی میں لو یو ڈھیر سارا مچ ۔۔امثال نے شہریار کا گال چوما ۔۔۔۔۔۔ بازل وہیں سیڑھیوں پہ بیٹھا نیند میں جھوم رہا تھا صبح صبح اس پیار کے مظاہرے پر سب حیران تھے سوائے ساریہ بیگم اور راسم صاحب کہ کیونکہ وہ دونوں جانتے تھے جب بھی ان دونوں کو جم سے چُھٹی کرنی ہوتی تھی امثال ایسے ہی کرتی تھی
ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہریار نے اسے نرمی سے خود سے الگ کیا
ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امثال نے پوری آنکھیں کھول کر اسے دیکھا
اگر تمہارا ہو گیا ہو تو جاؤچینج کر کہ آؤ۔۔۔۔۔آلریڈی تمہاری فلاپ ایکٹینگ کے چکر میں لیٹ ہو چکے ہیں۔ شہریار نے سنجیدگی سے کہا اس وقت نرمی دکھانے کا مطلب دونوں نے مزید پھیل جانا تھا
بھائی آپ نہ زرا بھی اچھے نہیں ہو ۔ میں آپ سے بلکل بھی پیار نہیں کرتی ۔امثال نے منہ بسورا
اچھا مگر تھوڑی دیر پہلے تو کوئی کہہ رہا تھا کہ میں ورلڈ بیسٹ بھائی ہوں۔۔۔۔ عدی سے بھی زیادہ اچھا ہوں ۔لو یو ۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔ اب پتا نہیں کون تھا وہ ۔۔ شہریارنے سوچتے ہوئے کہا
بھائی یار ہوگا کوئی پاگل ،نان سینس ۔۔۔۔۔ایڈیٹ ۔۔۔آپ کیوں سیریس لے رہے ہیں۔۔ بازل نے امثال کو ناکام ہوتے دیکھ کر اپنی کچھ بھڑاس نکالنی چاہی
میری نو بجے میٹینگ ہے مجھے آفس جلدی جانا ہے تم لوگوں کے پاس صرف پندرہ منٹ ہیں ۔۔چینج کر کہ آؤ ۔ امثال پیر پٹختی اوپر چل دی پہلی سیڑھی سے واپس پلٹی۔
بھائی ہم لوگ اس وقت گاؤں میں ہیں یہ شہر تو نہیں ہے نہ۔۔۔ یوں صبح صبح جاگنگ کے لیے جائیں گے تو لوگ کیا سوچیں گے ۔۔۔۔امثال نے اپنی طرف سے سمجھداری کا شاندار مظاہرہ کیا تھا تو بازل نے بھی جھٹ ہاں میں ہاں ملائی ۔۔مگر بھول گئے کہ مقابل بھی انکا دس سال بڑا بھائی ہے
تم لوگوں سے کس نے کہا کہ ہم لوگ باہر جا رہے ہیں ۔۔عادل کا یہاں اپنا جم ہے ہم لوگ وہیں جا رہے ہیں اور پانچ منٹ مزید تم لوگ ضائع کر چکے ہو اب صرف دس منٹ ہیں
پر بھائی دس منٹ میں کیسے تیار ہوں گے منہ دھونا ،برش کرنا چینج کرنا وغیرہ وغیرہ
پانچ منٹ ۔۔شہریار نے اسکی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے پانچ منٹ مزید کم کر دیے تھے
اچھا اچھا سیریس کیوں ہو رہے ہیں جا رہے ہیں نہ چلو بازی اور وہ دونوں اوپر کی جانب بھاگے
آرام سے گر جاؤ گے ۔۔۔۔اور پانچ منٹ کا مطلب پانچ منٹ ہی ہیں ۔۔۔شہریار نے پیچھے سے آواز دی تھی اور وہیں ٹہلنے لگا۔۔ ٹھیک چار منٹ بعد وہ دونوں اسکے سامنے کھڑے تھے ۔شہریار بیٹھ کر دونوں کے شولیس باندھنے لگا ویسے تو بازل خودبھی باندھ لیا کرتا تھا اور شہریار کی غیر مجودگی میں امثال کے بھی باندھ دیتا تھا لیکن جب امثال ہوتی تو بقول اسکے وہ برابری کا قائل ہے اسے بھی وہی پروٹوکول چاہئے جو امثال کو ملتا ہے
بازی ژلے کم از کم اپنے شولیس تو خود باندھ لیا کرو۔کچن سے نکلتی ساریہ بیگم نفی میں سر ہلا کر رہ گئیں۔
اس دو نمبر ایس پی کا یہ جم نہیں بچتا میرے ہاتھوں۔۔۔ امثال نےدانت پیستے ہوئے بازل کے کان میں سرگوشی کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واؤ۔۔۔ کیا جگہ ہے۔۔۔اللہ ہر بری نظر سے بچائے امثال نے جم میں داخل ہوتے ہوئے کہا
ہاں پر اب کیا کیا جا سکتا ہے اب تو پڑ گئی نہ ۔۔بازل نے مسکراتے ہوئے کہا
چلو بچے سٹارٹ کرو اور کوئی شرارت نہیں۔عادل کا جم ہے وہ کیا سوچے گا۔۔آرام سے ورک آؤٹ ختم کرو شاباش ۔۔شہریار نے کہا تو دونوں نے فرماں برداری سے سر ہلا دیا
ویسے ماما صحیح کہتیں ہیں جب تم دونوں یوں فرمابرادری کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوئے سر ہلاتے ہو نہ تو پتا نہیں کیوں مشکوک لگتے ہو ۔
ماں ہیں نہ ۔۔۔۔۔ہمیں اچھے سے جانتی ہیں امثال نے ہنسی تھی
ویسے بھائی کیا یہ جم رات کو بھی کھلا رہتا ہے ۔۔۔۔۔۔میرا مطلب ہے کہ کوئی تالا وغیرہ نہیں ہوتا یہاں پر۔۔۔۔ امثال نے خاصے مصروف سے انداز میں پوچھا۔جیسے اسنے یہ بات صرف ٹائم پاس کے لیے پوچھی ہو ۔شہریار نے اسکی طرف دیکھا لیکن اسکو انہماک سےرننگ کرتے دیکھ کر کوئی نتیجہ اخذ نہ کر سکا
چونکہ یہ عادل کا جم ہے تو کوئی فضول میں اس طرف آنے کی جرات نہیں کر سکتا ۔امان بتا رہا تھا کہ گھر میں اور ملازموں پر خاصا رعب ہے اسکا ۔۔۔اور گھر کی خواتین کو تو اس طرف آنے کی اجازت ہی نہیں ہے ۔۔ گھر کے باقی لڑکے بھی آتے جاتے رہتے ہیں سو یہ روم ہر وقت کھلا ہی ہوتا ہے ۔ شہریار کی بات سن کر امثال نے بازل کی طرف دیکھتے ہوئے آنکھیں مٹکائیں
تو بھائی جب گھر کی خواتین کو یہاں آنے کی اجازت نہیں ہے تو مجھے کیوں لائے ہیں۔۔۔۔۔۔آپکو نہیں لانا چائے تھا ۔۔۔اگر اس ایس پی نے مجھے ڈانٹ دیا تو پھر آپکو پتا تو ہے میں کتنی معصوم سی ہوں چھوٹی چھوٹی باتوں پر رونے لگتی ہوں ۔۔۔میں کل سے نہیں آؤں گی ۔۔۔۔۔۔ہاں یہ ٹھیک ہے میں نہیں آؤں گی ۔۔امثال نے ڈرپوک ہونے کا ثبوت دینے کے لیے رونی صورت بنائی اور نہ بہنے والے آنسو بھی صاف کیے۔۔ اسکی معصوم اور ڈرپوک والی بات سن کر شہریار اور بازل نے قہقہ لگایا
ارے میرا بچہ تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔ تم شہریار راسم شاہ کی بہن ہو کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ تمہیں ڈانٹ سکے ۔۔۔ شہریار نے اسکے انداز میں ہی جواب دیا تو وہ منہ بنا کر رہ گئی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چلو بازی شروع ہو جاؤ۔ اس وقت رات کے گیارہ بجے تھے ۔۔سب لوگ اپنے اپنے کمروں میں جا چکے تھے ایسے میں دو جیالے اپنے مشن جم کی تباہی پر نکلے ہوئے تھے
کچھ بھی بچنا نہیں چائیے لیکن خیال رکھنا زیادہ نقصان نہ ہو بس اتنا ہو کہ دس پندرہ دن سکون سے نکل جائیں باقی کا پھر دیکھ لیں گے ۔۔امثال نے کہا تو بازل نے سر ہلا دیا ۔دس منٹ میں وہ لوگ اپنا کام کر چکے تھے
ہو گیا ۔۔۔۔بازل نے ہاتھ جھاڑے
کچھ رہ تو نہیں گیا نہ ۔۔ایک بار پھر دیکھ لو آخر کو سر پر کفن باندھ کر نکلے ہیں۔ایسا نہ ہو کچھ بچ جائے۔امثال نے دوبارہ ہدایات دیں
ویسے بازی اور کسی کو پتا چلے نہ چلے ماما کو ضرور چل جائے گا اس صورت میں زیادہ ڈانٹ تو نہیں پڑے گی نہ ۔۔
کم آن ژلے ڈارلنگ نیند اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے
لو جی ایس پی صاحب ہم نے تو کوشش کی تھی کہ اسکے بغیر ہی کام چل جائے مگر کیا کر سکتے ہیں ۔۔مقدر کا لکھا کون ٹال سکتا ہے۔۔۔اب نہ ہو گا جم نہ ہو گی ایکسرسائز۔۔۔۔۔ دونوں کی اپنی ہی کہاوتیں ہوتی تھیں ۔ ہاتھ پر ہاتھ مارکر ہنستے ہوئے دونوں باہر نکل گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عادل صبح صبح جم میں داخل ہوا تو روم کی صورت حال دیکھ کر ششدر رہ گیا۔ ساری مشینری بکھری پڑی تھی ۔کچھ کے بیلٹ ٹوٹے پڑے تھے تو کچھ کے نٹ کھلے ہوئے تھے ۔۔ایسے لگ رہا تھا جیسے چوری کی واردات کی گئی ہو اگلے ہی لمحے وہ تن فن کرتا حویلی کے اندر موجود تھا
کس کی ہمت ہوئی ہے جم میں چھیڑ چھاڑ کرنے کی ۔۔۔ عادل نے دھاڑتے ہوئے پوچھا تو سب گھر والوں اور ملازموں کو سانپ سونگھ کیا. سبھی اسکے غصے سے خائف رہتے تھے
دھاڑ کی آواز سن کر بازل اور امثال بھی روم سے نکل آئے تھے جاگ تو پہلے ہی گئے تھے اور باہر سے آنے والی دھاڑ کے ہی منتظر تھے ، لیکن خود کو سوتا ظاہر کرنے کے لیے پہلی سیڑھی پر کھڑے ہو کر جمائیاں لینے لگے
بازی جاؤ اور جا کہ پوچھو کہ کیا ہوا ہے ۔ امثال نے بازل کو کہنی ماری
میں نہیں جا رہا دیکھو نہ شیر کی طرح دھاڑ رہا ایس پی۔۔۔۔۔۔ اگر اسے پتا چل گیا نہ تو میں تو گیا دنیا سے ۔۔ بازل نے عادل کے تاثرات دیکھتے ہوئے سرگوشی کی
بازی چول انسان ۔۔۔۔۔ مرد بنو مرد۔۔۔ امثال نے اسے اکساتے ہوئے کہا
نہ بابا نہ۔۔۔۔ تم مجھے آج کا دن عورت ہی رہنے دو ۔۔۔میں اس وقت اپنی مردانگی ثابت کرنے کے لیے شیر کی کچھار میں ہاتھ ڈال کر خود کی موت یقینی نہیں بنانا چاہتا ۔بازل نے ٹکا سا جواب دیا
دفع ہو میں خود ہی جاتی ہوں۔۔۔
میں کچھ پوچھ رہا ہوں کون گیا تھا جم میں۔ عادل نے دوبارہ پوچھا تھا
اللہ کے بندے کوئی گیا ہوگا تو ہی کوئی جواب دے گا نہ ۔۔۔امثال بڑبڑاتی ہوئی نیچے آئی
کیا ہوا ہے شہری بھائی کیوں صبح صبح شور مچا ہوا ہے۔سکون سے سونے بھی نہیں دیتے۔۔امثال نے آخری سیڑھی پر رک کر زبردستی کی جمائی لیتے ہوئے کہا۔ شہریار نے امثال اور بازل کی طرف غور سے دیکھا لیکن دونوں کے نارمل تاثرات دیکھ کر کسی حد تک پرسکون ہو گیا
کچھ نہیں گڑیا تم جاؤ اپنے روم میں۔۔۔۔ شہریار نے کہا تووہ کندھے اچکاتی واپس جانے کے لیے پلٹی
رکو ایک منٹ ۔۔عادل نے چونکتے ہوئے کہا اس کے زہن میں اسکے تھانے کا حشر گھوما تھا جو جم کی حالت سے مختلف نہ تھا
یہ سب تم دونوں نے کیا ہے نہ ۔۔۔ عادل نے غصیلے لہجے میں کہا
کیا سب ۔۔۔۔ کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔ کچھ پتہ بھی تو چلے ۔۔۔امثال نے بھی انجان بننے کی حد کر دی
انجان بننے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔ جم میں توڑ پھوڑ تم دونوں نے کی ہے نہ ۔۔عادل نے سختی سے کہا
ہا ۔۔۔۔۔۔۔ ہم آپ کو کہاں سے غنڈے لگتے ہیں جو توڑ پھوڑ کرتے کریں گے۔۔امثال نے منہ پر ہاتھ رکھا
شٹ اپ میں جانتا ہوں یہ تم دونوں کا کام ہے ۔عادل نے غرایا
آپ۔۔۔۔۔آپ ہم پر الزام لگا رہے ہیں ۔تاکہ ہمیں یہاں سے بھیج سکیں ۔۔۔۔۔آپ چاہتے ہی نہیں ہیں نہ کہ ہم یہاں رہیں ۔۔۔۔۔۔ہمیں یہاں سے نکالنا چاہتے ہیں تو ویسے ہی کہہ دیں ۔۔۔۔۔۔ہم چلے جاتے ہیں یوں الزام تو نہ لگائیں ۔۔۔۔۔۔دادو آپ دیکھ رہی ہیں نہ کیا ہو رہا ہے ہمارے ساتھ ۔۔۔۔۔۔مجھے تو لگتا ہے انہوں نے خود ہی توڑ پھوڑ کی ہے اور ہمارے سر پر منڈھ رہے ہیں ۔۔۔۔ہم آپکو ایسے لگتے ہیں ۔ موٹے موٹےآنسو آنکھوں سے نکل کر قطار در قطار گالوں پر بہہ رہے تھے ۔ وہ بات کرتے کرتے شاہ بی بی کے سینے جا لگی ۔۔بازل تو اسکی شاندار ایکٹینگ دیکھ کر دل ہی دل میں اسکو سارے ایوارڈ دے چکا تھا
جسٹ شٹ اپ ۔۔ ڈرامے بازی بند کرو ۔۔ خوب جانتا ہوں میں تمہیں ۔عادل نے اسکو بازو سے پکڑ کر جھٹکے سے شاہ بی بی سے الگ کرتے ہوئے کہا۔۔اور یہیں پر شہریار کی بس ہوئی ۔اسکے آنسو اور عادل کی سختی دیکھ کر وہ آگے بڑھا
چھوڑو اسے ۔۔یہ کونسا طریقہ ہے بات کرنے کا ۔۔۔جب وہ کہہ رہی ہے انہوں نے نہیں کیا ہے ،تو سختی سے بات کرنے کیا تک بنتی ہے اور اگر پھر بھی تمہیں مسئلہ ہے ،تو میں رپییر کرو دوں گا، شہریار نے امثال کو ساتھ لگاتے ہوئے عادل سے سرد لہجے میں کہا
بھائی ہم یہاں نہیں رہیں گے ۔۔۔۔ہم آج ہی واپس چلے جائیں گے امثال نے بازل کو آنکھ ماری تو بازل نے جواب میں اسے ایک تگڑی سی مسکراہٹ پاس کی ۔۔۔امان اور دریاب جو امثال کو ہمدردی سے دیکھ رہے تھے اسے بازل کو آنکھ مارتا اور بازل کی جوابی مسکراہٹ دیکھ کر دھچکا لگا ۔دونوں نے بے اختیار ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ایک پل لگا تھا انہیں بات سمجھنے میں۔ وہ نفی میں سر ہلا کر رہ گئے
ہاں میرا سوہنا بیٹا ہم نہیں رہیں گے یہاں۔۔ شہریار نے اسکے آنسو صاف کیے
آج ہی واپس جائیں گے۔۔۔۔۔ امثال نے سوں سوں کرتے ہوئے کہا
ہاں آج ہی جائیں گے ۔۔۔۔ شہریار نے اسکو اپنے ساتھ لگائے اوپر کی جانب بڑھا
رکو بیٹا کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔اور عادل کیا تم ہر وقت عدالت لگا کہ بیٹھ جاتے ہو چلو سوری کرو بہن کو ۔۔۔دیکھو کیسے رو رہی ہے ۔۔۔ خدیجہ بیگم نے عادل کو گھرکا
ارے چھوڑیں نہ آپا ہو جاتا ہے بچے ہیں ساریہ بیگم امثال کو گھورا انہیں ایک سو ایک فیصد یقین تھا کہ یہ سب کیا دھرا انکی اولاد کا ہی ہے
عادل مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی شاہ بی بی نے کہا سخت نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تو اس نے مدد طلب نظروں سے شاہ بابا اور عاصم شاہ کی طرف دیکھا تو انکو بھی خود کو گھورتا پایا تو وہ سلگ کر رہ گیا
بیٹا خیال رکھا کرو ۔۔۔ بہنوں سے ایسے بات نہیں کرتے ہیں میں پہلے بھی کئی بار منع کر چکی ہوں خدیجہ بیگم نے کہا تو وہ جل کر رہ گیا مطلب حد ہوگئی اس پر کسی کو یقین ہی نہیں ہے ۔۔اور وہ کل کی آئی چھٹانک بھر کی لڑکی کے لیے سب اسے ہی گھورے جا رہے ہیں
ایک بار تم میرے ہاتھ لگو ۔۔بڑبڑاتا ہوا وہ کمرے کی جانب بڑھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آجاؤ.. عادل چینج کر کہ نکلا تو دروازے پر دستک ہوئی
تم۔۔۔۔ شہریار کو کمرے میں داخل ہوتا دیکھ کر کہا
سوری یار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہریار نے عادل کے پاس آتے کہا
کس بات پر ۔۔
میں نے نیچے تم سے روڈلی بات کی مجھے احساس ہے اس بات کا ۔۔۔۔
اوہ اچھا ۔۔۔شکر ہے تمہیں احساس تو ہوا ۔عادل نے طنزیہ لہجے میں کہا
آئی نو یار میں جانتا ہوں میں نے مس بیہیو کیا تمہارے ساتھ ۔اور یہ بھی جانتا ہوں جم کا حشر بھی دونوں نے ہی کیایے ۔ لیکن یار اس وقت وہ بری طرح سے رو رہی تھی اور میں نہیں دیکھ سکتا اسکو یوں روتا ۔۔ سو پلیزان دونوں کی طرف سے میں معافی مانگتا ہوں۔۔ اور مشینری بھی ٹھیک کروا دوں گا ۔تم انکے لیے اپنے دل میں میل مت رکھنا پلیز ۔ ۔شہریار نے بےچینی سے پیشانی مسلتے ہوئے کہا تو عادل نے گہری سانس لی
اچھا ٹھیک ہے تم معافی مت مانگو ۔۔۔۔ تمہیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔ میں خود دیکھ لوں گا ۔عادل نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا
تھینک یویار ۔۔اور ہاں ژلے بازی بھی تم سے سوری کر لیں گے۔شہریار کہتا ہوا باہر نکل گیا
کر ہی نہ لیں سوری اس نے کڑھتے ہوئے سوچا تھا
جاری ہے