Rate this Novel
Episode 24
مبارک ہو بنو رانی تمہارے سسرال والے ڈیٹ فکس کرنے کے لیے آ رہے ہیں رمل نے کھڑکی میں کھڑی عائشہ کو گلے لگایا
تمہیں پتہ ہے انکا فون آیا ہے ابھی بی جان کو کہ وہ اس سنڈے آ رہے ہیں رمل نے کہا لیکن اسکی طرف سے کوئی جواب نہ پا کر اس دیکھا
عائشہ کیا ہوا تمہیں خوشی نہیں ہوئی۔ رمل نے پوچھا لیکن اسکو مسلسل خاموش پا کر ٹھٹھکی
عائشہ ادھر میری طرف دیکھو کیا بات ہے پریشان ہو
رمل ۔۔۔رمل مجھے نہیں کرنی یہ شادی ۔۔ رمل کے سر پر تو بمب پھٹا تھا رمل کو بلانے کے لیے آتی امثال بھی ٹھٹھک کر دروازے پر رکی تھی
کیوں نہیں کرنی۔ رمل کو حیرت ہوئی تھی
بس نہیں کرنی تو نہیں کرنی تم جا کر منع کر دو۔ عائشہ نے کہا تو اب کے رمل کی صحیح معنوں میں آنکھیں کھلیں تھیں
تم ۔۔۔تمہارا دماغ ٹھیک ہے جانتی بھی ہو کہ کیا کہہ رہی ہو ۔۔ رمل نے حیرانگی سے کہا
جانتی ہوں بہت اچھے سے جانتی ہوں تم بس جا کر کہہ دو کہ مجھے نہیں کرنی وہاں شادی ۔عائشہ نے سنجیدگی سے کہا
ہاں جیسے باہر سب تمہاری مرضی کا ہی تو انتظار کر رہے ہیں ۔تم منع کرو گی تو وہ تمہاری بات مان لیں گے ۔اور یہ پہلے تو تمہیں کبھی کوئی اعتراض نہیں رہا ۔اب اچانک کیا ہو گیا ہے رمل نے کہا تو اسنے رخ پھیرا
تمہارا یوں منہ پھیرنا مجھے شک میں ڈال رہا ہے عاشی ۔۔رمل نے اسے جانچتی نظروں سے دیکھا تھا
ایسی بات نہیں ہے رمل ۔میں بس۔۔۔۔ عائشہ ابکی بار دھیمی پڑی تھی
کیا بس بات پوری کرو رمل نے سختی سے کہا تو وہ ہتھیلیاں مسلنے لگی
یہاں آؤ بیٹھو ۔۔اور بتاؤ کیا بات ہے رمل نے اسے پاس بٹھایا
اب بولو۔۔رمل نے کہا تو وہ لب کاٹنے لگی
تم کہیں کسی کو پسند تو نہیں کرنے لگی رمل نے اپنا خدشے کو زبان دی تھی
بولو بھی میری سانس اٹکی ہوئی ہےعاشی ۔۔جو میں سمجھ رہی ہوں وہ سچ نہیں ہے نہ رمل نے اسے جھنجھوڑا تو وہ اٹھ کر کھڑکی کے پاس جا کھڑی ہوئی
وہی سچ ہے رمل ۔عائشہ نے اسکے سر پر بمب پھوڑا تھا
تم جانتی بھی ہو کیا کہہ رہی ہو اور کیا کیا ہے تم نے ۔ رمل دبی دبی آواز میں چلائی تھی گھر میں اگر کسی کو پتہ چلا تو جانتی ہو نہ طوفان آ جائے گا اوہ گاڈ، عاشی میں کیا کہوں تمہیں رمل نے ماتھا مسلتے ہوئے کہا
کون ہے وہ رمل نے اسکے پاس آتے ہوئے کہا تو اس نے کھڑکی سے نیچے دیکھا اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو ایک بار پھر اچھلی تھی نیچے شہریار اور عدید کھڑے بات کر رہے تھے
دونوں میں سے کون۔۔ رمل کو اپنی آواز کھائی سے آتی سنائی دے رہی تھی امثال جو واپس مڑنے لگی تھی رمل کی بات سن کر رکی
شہریار …….عائشہ نے کہا تورمل خاموش ہو کر رہ گئی ۔شہریار کا نام سن کر حیران تو امثال بھی رہ گئی تھی وہ الٹے قدموں واپس پلٹی
عاشی بہت دیر ہو چکی ہے یہ ممکن نہیں ہے اب جو ہو رہا ہے اسے ہونے دو اب کچھ نہیں ہوسکتا اور پلیز یہ بات مجھ سے تو کر دی ہے کسی اور سے مت کہنا ورنہ جانتی ہو نہ کیا ہو گا ۔۔۔ اس حویلی کی روایات تمہیں یاد رکھنی چائیں ۔ یہاں پر منگنی کو نکاح کی حیثیت حاصل ہے ۔سمجھ رہی ہو نہ میری بات تم کسی سے کچھ نہیں کہو گی ۔۔کچھ بھی نہیں
جب سے اس نے عائشہ کی باتیں سنی تھیں وہ مسلسل لان میں ٹہلے جا رہی تھی اسکے زہن میں مسلسل اسکی باتیں گونج رہی تھیں وہ اپنی سوچوں میں اتنی مگن تھی کہ درخت سے ٹیک لگائے کھڑے عادل کو نہ دیکھ سکی جب کافی دیر تک اسکی پوزیشن میں فرق نہیں آیا تو وہ اسکے پاس آیا
کیا بات ہے کزن ۔کونسے ایٹم بمب بنانے کے بارے میں سوچ و بیچار جاری ہے۔ عادل کی آواز پر وہ خیالوں سے باہر آئی
بس کچھ سوچ رہی تھی
ایسا کیا سوچ رہی ہو جو ارد گرد سے اتنی بے خبر ہو گئی۔ عادل نے کہا
کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔ اچھا ایک بات تو بتاؤ یہ عاشی آپی کا رشتہ کہاں طے ہوا ہے امثال کو اچانک خیال آیا کہ جاننا تو چاہئیے کہ ہے وہ لوگ ہیں کون ؟۔۔
شاہ بابا کے کزن ہیں انکا پوتا ہے
اچھا۔۔۔ کیا کرتا ہے لڑکا اور کہاں رہتے ہیں..؟ امثال نے پوچھا
ساتھ والے گاؤں کے رہنے والے ہیں اور لڑکا زمینداری سنبھالتا ہے ۔ تم کیوں پوچھ رہی ہو۔؟
نہیں بس ایسے ہی وہ گھر میں ڈیٹ رکھنے کی بات چل رہی ہے تو بس اسی لیے پوچھا تھا امثال نے نارمل انداز کہا
اچھا ٹھیک ہے لیکن ناجانے کیوں تمہاری سنجیدگی کھٹک رہی ہے۔ کچھ بھی الٹا سیدھا مت کرنا۔ امثال عادل نے کہا ۔اس نے اسکی وارننگ کس حد تک سنی تھی یہ امثال ہی بہتر جانتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سارا خاندان جمال شاہ حویلی میں مدعو تھا ویسے تو سبھی سے ملاقات ہو چکی تھی لیکن ثریا شاہ نے اصرار کیا کہ وہ آج لنچ انکے ساتھ کریں ۔ امثال اور بازل کو ساریہ بیگم نے خاص تاکید کی تھی کہ وہ کوئی بھی شرارت نہیں کریں گے جس پر دونوں نے شرافت سے سر ہلا دیا ۔وہ دونوں حویلی میں داخل ہوئے تو حویلی کا جائزہ لینے میں مصروف ہو گئے ۔امثال کی نظریں سامنے لگے پھلوں کے قطار در قطار درختوں پر اٹکی تھیں جب بازل کی بوکھلائی ہوئی آواز سنائی دی
ژلے ۔۔ سر راشد
اتنے اچھے موقے پر وہ ہٹلر تمہیں کہاں سے یاد آ گئے ۔امثال کی نظریں ابھی تک وہیں ٹکی ہوئیں تھیں
سامنے دیکھو سر راشد کھڑے ہیں۔ بازل نے اسے کہنی ماری
تمہارا دماغ خراب ہے وہ ہٹلر یہاں کہاں ہوں گے لگتا ہے جاگتے میں خواب دیکھنا شروع کر دئیے ہیں ۔ وہ تو اپنے آفس میں اسائمنٹس میں سر دیے۔۔۔۔۔۔۔ بیٹھے۔۔۔۔ ہوں۔۔۔ گے۔امثال جس نے چڑ کر بات شروع کی تھی سامنے نظر پڑتے ہی دھیمی پڑی جہاں سر راشد ساریہ بیگم سے مل رہے تھے
آپا آپ بلکل بھی نہیں بدلی سر راشد نے مسکراتے ہوئے کہا تو دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا
یہ ماما کو آپا کہہ رہے ہیں اسکا کیا مطلب ہوا۔ بازل نے امثال سے کہا
گدھے اسکا مطلب ہوا یہ ہمارے ماموں ہیں ۔امثال نے بازل کے فضول سوال پر گھورا
اب کیا کرنا ہے ۔ بازل نے کہا
کرنا کیا ہے نیویں نیویں ہو کر نکلو ۔ نہیں تو آج بڑا ذلیل ہونا ہے ۔ اگلی پچھلی ساری کسریں نکل جائیں گی ۔دونوں کی سرگوشیاں سنتے ان کے اگے کھڑے صدام شاہ نے نا سمجھی سے مڑ کر انہیں دیکھا دونوں پیچھے مڑے تو قاسم صاحب نے پوچھا
کیا بات ہے بیٹا۔۔؟
کچھ نہیں تایا جان ۔امثال نے بےچارگی سے کہا اور اپنے آگے کھڑے عادل کے پیچھے جا چھپی اس نے مڑ کر اچنبھے سے دیکھا
خیریت ۔۔
ہاں ابھی تک تو خیریت ہی ہے بس اسی طرح کھڑے رہو ہلنا مت اور اگر کوئی میرا پوچھے تو کہہ دینا ژلے کچھ دنوں کے لیے فوت ہو گئی ہے ۔بوکھلاہٹ میں اسکے منہ سے جو نکل رہا تھا بولے جا رہی تھی
اللہ نہ کرے ۔کیا بولے جارہی ہو ۔عادل نے اسے گھورا
کہا نہ چپ کر کہ کھڑے رہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی وہ کچھ بولتی انہیں ساریہ بیگم کی آواز آئی
بازی ژلے اپنے ماموں سے تو ملو ۔۔۔
آؤ نہ بازل اور یہ ژلے کہاں گئی ہے ابھی تو تمہارے ساتھ تھی ۔ صدام کے پیچھے کھڑے بازل سے کہا ۔بات کو کسی حد تک سمجھتا صدام اسکے آگے سے ہٹا تو انکی طرف دیکھتے سر راشد اچھلے تھے۔ساریہ نے آگے بڑھ کر امثال کو عادل کے پیچھے سے نکالا تو وہ مرے مرے قدموں سے سر راشد کے سامنے جاکر کھڑی ہوئی
راشد یہ میرے ۔۔۔۔۔۔۔
تم ۔۔۔تم دونوں یہاں کیا کر رہے ہو ۔ساریہ بیگم کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ تقریبا چیخے ۔ امثال نے اپنی آنکھیں میچیں۔ اللہ جی پلیز آج بچا لینا یہ ماما کو کچھ نہ بتائیں
تم انہیں جانتے ہو ساریہ بیگم نے خوشگوار حیرت سے کہا
انہیں میں نہیں جانوں گا تو اور کون جانے گا۔ زندگی حرام کر رکھی ہے انہوں نے میری۔ میں تو یونی میں بڑی مشکل سے برادشت کرتا ہوں یہ یہاں تک پہنچ گئے ہیں۔ لگتا ہے کوئی بہت بڑا گناہ کیا ہے میں نے اپنی زندگی میں ۔جو پچھلے دو سال سے انکو بھگت رہا ہوں ۔ پتا نہیں انکے والدین نے کیا چیزیں پیدا کی ہے ۔ وہ تو پھٹ ہی پڑے تھے ۔ انکی بات سن کر ساریہ بیگم کی خوشگواریت اڑنچھو ہوئی تھی باقی سب کے چہرے پر دبی دبی مسکراہٹ تھی۔
یہ دونوں چیزیں میری ہیں ۔۔ ساریہ بیگم نے دانت پیستے ہوئے کہا تو وہ ایک بار پھر اچھلے تھے
یہ ۔۔ یہ دونوں فتنے آپکے ہیں ۔انہوں نے معصومیت سےسرجھکائے کھڑے امثال اور بازل کو گھورتے ہوئے تصدیق چاہی ۔انکو اس طرح کھڑا دیکھ کر شہریار آگے بڑھا
چھوڑیں نہ ماموں آپ چلیں اندر چلتے ہیں۔ ان کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے اس نے خود ہی اندر کی جانب قدم بڑھائے پیچھے وہ سب بھی لاؤنج میں آ بیٹھے
ان دونوں کے بارے میں راشد بتاتا رہتا ہے اور سچ پوچھو تو ہمیں بھی بڑا شوق تھا تم لوگوں سے ملنے کا ۔ آخر کون ہیں وہ جو ہمارے ٹھنڈے مزاج بیٹے کو غصہ دلانے کی سکت رکھتے ہیں ثریا شاہ نے کہا۔۔
آپکو پتہ ہے نانو یہ ہمیں اتنا تنگ کرتے ہیں یونی میں۔ کبھی ہمارے کوئزز کے مارکس کاٹ لیتے تھے کبھی ہمارے اسائمنٹس کے ۔ایک بار تو پیپر میں بھی نہیں بیٹھنے دیا امثال نے معصومیت کے سارے ریکاڑد توڑتے ہوئے کہا
میں منع کروں گی اب نہیں کرے گا یہ اور خبردار راشد جو تم نے دوبارہ میرے بچوں کو تنگ کیا تو بری طرح پیش آؤں گی ۔آج کے بعد سے تم ان لوگوں کی مدد کیا کرو گے پڑھائی میں ۔کیا فائدہ ہوا تمہارے ماموں ہونے کا ۔ثریا شاہ نے راشد شاہ کو کہا ۔راسم شاہ نے مسکراہٹ دبائی اپنے بچوں کی معصومیت سے اچھی طرح واقف تھے
ویسے ساریہ آپا آپ دونوں الگ الگ رہتے ہیں کیا ۔۔۔ راشد شاہ نے کہا تو شہریار کے ساتھ بیٹھے بازل اور امثال کے کان کھڑے ہوئے
نہیں تو ۔۔ساریہ بیگم نے حیرانی سے کہا
اچھا تو پھر راسم بھائی نے دوسری شادی کر رکھی ہو گی ۔راشد شاہ نے سر ہلاتے ہوئے کہا اور امثال اور بازل کی طرف دیکھا تو دونوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں خاموش رہنے کی التجا کی ۔انکی متوقع درگت کا سوچ کر راشد شاہ کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی ۔ صوفے پر پیچھے کی جانب ٹیک لگاتے ہوئے انہوں نے ٹانگ پر ٹانگ چڑھائی
کیسی باتیں کر رہے ہو راشد ۔ساریہ بیگم نے حیرانگی سے انہیں دیکھا تھا
وہ آپا یونی میں ایک ۔۔۔۔۔۔۔
ماموں یونی کب اوپن ہو رہی ہے ۔امثال نے نفی میں سرہلاتے ہوئے کہا
بیٹا جی یونی کی ویب سائٹ پر شیڈول دیکھ لو راشد شاہ کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی امثال نے نا محسوس انداز میں ہاتھ جوڑے تھے جس پر انہوں نےکندھے اچکا دیے ۔
ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ یونی میں ۔۔۔۔۔۔۔۔
نورین مامی آپ نے مہروش کلیکشن کا نام تو سنا ہوگا نہ ۔امثال نے انہی کے اندازمیں صوفے پر ٹیک لگاتے ہوئے ٹانگ پر ٹانگ چڑھاتے ہوئے انکی بیوی کو مخاطب کیا اسکی بات سن کر وہ ایک جھٹکے سے سیدھے ہوئے ابکی بار انکی انکھوں میں التجا تھی جوابا امثال نےکندھے اچکائے۔انج تے فیر انج ہی سہی
نہیں بیٹا میں تو نہیں جانتی۔ نورین بیگم نے لا علمی سے کہا
پر ماموں تو بہت اچھےسے جانتے ہیں۔۔۔ ہیں نہ ماموں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ نےانہیں بتایا ہی نہیں کمال ہے ۔امثال نے انکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا جن میں واضح وارننگ تھی
ہاں۔۔۔۔۔۔ نہیں یہ نہیں جانتی ہیں تم چھوڑو اس بات کو ۔۔۔ اور بتاؤ کیا چل رہا ہے آج کل۔۔ رزلٹ کب ہے تم لوگوں کا۔۔؟
ماموں جی یونی کی ویب سائٹ پر شیڈول دیکھ لیں۔ امثال نے دل جلانے والی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائی
امثال تمیز کرو اور راشد تم کچھ کہہ رہے تھے
نہیں آپا میں کچھ نہیں کہہ رہا تھا بس ایسے ہی آپ سنائیں کیا چل رہا ہے آج کل انہوں نے جلدی سے کہا تو راسم صاحب نے ہلکا سا قہقہ لگایا وہ کب سے بیٹھے اپنی بیٹی کی ایک ایک حرکت کو نوٹ کر رہے تھے اور سمجھ بھی رہے تھے
یہ مہروش کلیکشن کا کیا چکر ہے۔ شہریار نے سب کو باتوں میں مصروف پایا تو امثال سے پوچھا
کوئی چکر نہیں ہے بھائی وہ ایک ڈریس برانڈ ہے اسی کے بارے میں بات ہو رہی تھی امثال نے کہا
بچے دس سال چھوٹی ہو مجھ سے تمہاری رگ رگ سے واقف ہوں ۔ تمہاری بات سن کر یہ جو ماموں کے چہرے پر تم لوگوں کے لیے نرمی آئی تھی نہ یہ صرف مہروش کی ہی بدولت تھی ۔چلو اب بتاؤ کون ہے یہ مہروش ۔ شہریار نے اسکے بال کان کے پیچھے اڑستے ہوئے کہا
ہماری یونی میں لیکچرار ہیں ماموں کی بہت اچھی دوست رہ چکی ہیں ۔ مرتی ہیں ماموں پر ۔شادی کی آفر بھی کر چکی ہیں اب جب ہم بڑھا چڑھا کر بتائیں گے تو کیا ہو گا بھلا۔ امثال نے آنکھیں مٹکائیں
بچےاس طرح کسی کو بلیک میل نہیں کرتے بری بات ہوتی ہے۔ شہریار نے نرمی سے کہا
اور وہ جو ہمیں بلیک میل کر رہے تھے اسکا کیا ۔۔ اس نے منہ بگاڑا
ہاں سچ وہ کیا بات کرنے والے تھے شہریار کو یاد آیا
چھوڑیں نہ پھر کسی وقت بتاؤں گی ۔امثال کہتی وہاں سے کھسک گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بازل اس وقت دریاب اور امان شاہ کے ساتھ مال آیا ہوا تھا ۔ دریاب اور امان شاپ میں کھڑے اپنے لیے شرٹس دیکھ رہے تھے.وہ اور امثال اکھٹی شاپنگ کرتے تھے ،جو کہ شاپنگ کم اور لوگوں کی شامت زیادہ ہوتی تھی اور وہ چونکہ ساتھ نہیں تھی اس لیے وہ بیزاری سے ادھر اُدھر نظریں گھما رہا تھا کہ ایک لڑکی پر اسکی نظر پڑی، وہ بے چینی سے ادھر اُدھر چکر کاٹ رہی تھی ،جیسے کسی کا انتظار کر رہی ہو۔ایک پل میں اسکی آنکھیں شرارت سے چمکی اور لڑکی کے پاس جا کر اسکے پیچھے پیچھے اُسی کے انداز میں چکر کاٹنا شروع کر دئیے
اوئے مسڑ تمھیں شرم نہیں آتی ۔۔لڑکی نے اسے گھورتے ہوئے کہا
آتی ہے لیکن مناسب وقت پر، ہر وقت نہیں۔بازل نے اپنی ازلی ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا
گھر میں ماں بہن نہیں ہے کیا ؟؟ لڑکی اونچی آواز میں چلائی تو شاپ میں کھڑے دریاب اور امان جلدی سے باہر نکلے ۔دریاب آگے بڑھنے ہی لگا تھا کہ امان نے روک دیا ، سب کو تگنی کا ناچ نچانے والا آج لڑکی کہ ہاتھوں ذلیل ہوگا یہ سوچ ہی اسے ٹھنڈک پہنچا رہی تھی
نہیں یار اکیلا ہوتا ہوں آج کل ماما اور بہن گاؤں گئی ہوئی ہیں ویسے تو میں بھی اب وہیں ہوتا ہوں اور وہاں پر میری ماں بہن کے علاوہ بھی بہت سی خواتین رہتی ہیں جیسے میری خالہ تائی کزنز وغیرہ ۔بازل نے جواب دیا
تم۔۔۔۔۔تم میرے پیچھے کیوں آ رہے ہو۔۔لڑکی نے غصیلے لہجے میں کہا۔
اگر آپکو اعتراض ہے تو آپ میرے پیچھے آجائیں۔۔ بازل نے بے نیازی سے جواب دیا ۔دریاب نے مسکرہٹ دبائی
میں تمہارا منہ توڑ دوں گی ۔۔
پلیز منہ مت توڑنا میں ٹوٹا ہوا منہ لے کر کہاں جاؤں گا ۔میں تو کسی کو منہ دکھانے لائق نہیں رہوں گا ۔اگر میرا منہ ٹوٹا ہوگا تو مجھے اپنی لڑکی کون دے گا کوئی لڑکی نہیں دے گا تو میری شادی کیسے ہو گی ،شادی نہیں ہوگی تو بچے نہیں ہوں گے، بچے نہیں ہوں گے تو میرا کوئی نام لیوا کوئی وارث اس دنیا میں نہیں ہو گا وارث نہیں ہوگا تو میری جائیداد پر رشتہ دار قبضہ کر لیں گے اور مجھے گھر سے نکال دیں گے گھر سے نکال دیں گے تو در در کی ٹھوکریں کھاوں گا اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بسسسس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ لڑکی چیخی ۔اس کو اپنے کانوں سے دھواں نکلتا محسوس ہو رہا تھا ۔کچھ ہی دیر میں وہ اس لڑکی کو اچھا خاصا زچ کر چکا تھا
مم۔۔۔ میں پاگل ہو جاوں گی ۔۔۔۔ نہیں شاید ہو چکی ہوں ۔۔ ہاں ہو چکی ہوں۔ وہ لڑکی اپنے چہرے پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے بڑبڑا رہی تھی۔ امان کو اس لڑکی حالت قابل رحم لگ رہی تھی ۔
چلو آؤ میں تمہیں چھوڑ دیتا ہوں ۔بازل نہایت ہی سنجیدگی سے آگے بڑھا ۔
کہاں۔۔۔۔ لڑکی نے پوچھا
پاگل خانے ۔۔۔خود ہی تو کہ رہی ہو کہ تم پاگل ہو چکی ہوں۔۔ بازل نے ہمدردی سے کہا تو لڑکی سر پر پیر رکھ کر بھاگی کہ اس سے کچھ بعید نہ تھا کہ وہ واقعی اسے پاگل خانے چھوڑ آتا ۔ دریاب نے بے اختیار قہقہ لگایا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ تم دونوں بہن بھائی اچھے خاصے انسان کو پاگل بنانے کا فن رکھتے ہو ۔۔۔۔امان نے اسکے پاس آتے ہوئے کہا تو بازل ہنس دیا
ہاہاہاہاہاہا۔ برو، میں نے تو اسے صرف پاگل بنایا ہے، ژلے ہوتی تو باقاعدہ اسکا ہاتھ پکڑ کر کسی پاگل خانے چھوڑ آتی ۔
کیا ہوا ہے۔ ابھی یہاں سے ایک لڑکی بھاگتی ہوئی جا رہی تھی اور تم لوگ بھی ہنس رہے ہو صدام شاہ نے انے پاس آتے ہوئے کہا
تم نے اچھا خاصا سین مس کر دیا ہے ۔ چلو کوئی نہیں میں بتا دیتا دریاب نے ہنستے ہوئے کہا اور اسے بتانے لگا جس پر دونوں نے قہقہ لگایا اس بار امان نے بھی انکا ساتھ دیا تھا
ویسے تمہیں ڈر نہیں لگا اگر وہ شور مچا دیتی یا پھر تھپڑ مار دیتی تو۔۔۔ صدام نے ہنستے ہوئے کہا
اتنی چھوٹی چھوٹی باتیں ہم نے کبھی نہیں سوچی اور اگر تھپڑ مار بھی دیتی تو کیا ہوتا بڑے بڑے شہروں میں ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی رہتی ہیں ۔بازل نے کالر جھاڑے تھے
چلو یہاں سے۔۔ ویسے بھی اب تمہارا سارا دن خاصا سکون سے گزر جائے گا
جاری ہے
