32.9K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

اس وقت وہ امان کے ساتھ ڈیرے پر تھا شہریار نے امان کو کہا تھا کہ عدید پہنچنے والا ہے اور وہ آتے ہی ہنگامہ کھڑا کرے گا اس لیے تم عادل کو لے کر کچھ دیر کے لیے باہر چلے جاؤ تو وہ اسے بہانے سے لے کر ڈیرے پر آ گیا تھا اس وقت عادل کمرے میں بے چینی سے ادھر اُدھر ٹہل رہا تھا جبکہ امان صوفے پر ٹیک لگائے کب سے اسے ٹہلتا دیکھ رہا تھا ۔
تم نے چائے جان بوجھ کر پھینکی تھی نہ ۔۔امان نے بات شروع کی تو اس نے ایک پل رک کر اسے دیکھا پھر نظریں چراتے ہوئے اپنے سابقہ شغل میں مصروف ہو گیا
شکر کرو ابھی کسی اور نے تمہیں نوٹس نہیں کیا ۔۔۔یہ جو چار پانچ گھونٹ پینے کے بعد ،تمہیں چائے کڑوی لگی تھی بات کچھ پلے نہیں پڑی میرے ۔۔امان نے نا سمجھی سے اسے دیکھا لیکن اسکی طرف سے کوئی جواب نہ پا کر دوبار گویا ہوا
مجھے لگا تھا تم اسے پسند کرنے لگے ہو۔ لیکن شائد میں غلط تھا۔
یار میں اسے ہرٹ نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔میرا ایسا ہر گز ایسا کوئی مقصد نہیں تھا بس غصہ آگیا تھا ۔
کیوں جہاں تک میرا خیال ہے تم اچھے خاصے فریش موڈ میں تھے۔ پھر اچانک ایسا کیا ہوا جو تمہیں اتنا غصہ آ گیا تھا ۔۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا ۔۔۔ عادل نے پیشانی مسلی
مجھے بتاؤ کیا مسئلہ ہے۔ ہو سکتا ہے میں تمہاری ہیلپ کر دوں۔ امان نے اسے کہا لیکن اسے خاموش دیکھ بات کو جاری رکھا
دیکھو عادل اگر تم واقعی ہی اسے پسند کرتے ہو تو اس کے لیے تمہیں امثال کے ساتھ اپنا رویہ چینج کرنا ہوا گا اگر یہی حال رہا تھا مجھے نہیں لگتا، شہریار امثال کے لیے تمہارے رشتے کے لیے کبھی ہامی بھرے گا ۔ جانتے ہو نہ کتنا پیار کرتا ہے اور اگر وہ ہاں کر بھی دےگا تو عدید کبھی نہیں مانے گا ویسے بھی میں نے نوٹس کیا ہے عدید کے ساتھ تمہارا انداز خاصا لیا دیا ہوتا ہے ۔۔۔ شہریار جتنے ٹھنڈے مزاج کا ہے وہ اتنا ہی پوزیسسو ہے اگر ایک بار عدید نے منع کر دیا نہ تو شہریار تو کیا ساریہ ممانی اور راسم ماموں بھی کچھ نہیں کر سکیں گے ۔۔۔تم کیوں اپنا امیج خراب کرنے پر تلے ہوئے ہو ۔۔
یہ سب اس سالے عدید کی وجہ سے ہی تو ہوا ہے ۔ سارےفساد کی جڑ ہی وہی ہے ۔ عادل نے دانت پیسے
اسکی وجہ سے کیسے اور اسکا یہاں کیا زکر۔۔ امان نے حیرانگی سےاسےدیکھا
یار مجھے اچھا لگتا نہیں جب وہ عدید سے بات کرتی ہے ۔اس سے ملتی ہے اس کے ساتھ ہنستی ہے ۔۔مجھے نہیں اچھا لگتا جب عدید کے آنے پر وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اس سے ملنے چل پڑتی ہے ۔گھنٹوں اس کے پاس بیٹھی رہتی ہے عادل نے بےبسی سے کہا تو امان نے اچنبھے سے اسے دیکھا
اس بات کا کیا مطلب ہوا وہ شہری اور بازل کے ساتھ بھی تو ایسے ہی رہتی ہے۔ ان سے تو تمہیں کبھی کوئی مسئلہ ہوا تو پھر عدید سےکیوں ۔
یار وہ دونوں تو اسکے بھائی ہیں نہ انکی تو سمجھ آتی ہے۔ لیکن یہ کمینہ عدید ۔۔۔عادل نے مٹھیاں بھینچیں تو چند پل تو امان اسے نا سمجھی سے دیکھتا رہا پھر اچانک اسکا چھت پھاڑ قہقہ بلند ہوا تھا
اب تجھے کیا تکلیف ہوئی ہے جو اچانک منہ پھاڑ کر ہنسنا شروع ہو گئے ہو ۔ اسکو مسلسل ہنستا دیکھ کر عادل نے اسکی کمر میں مکہ جڑتے ہوئے کہا
سیریسلی ۔۔۔۔۔ تم عدید سے جیلس ہو رہے ہو ۔۔۔امان نے ہنستے ہوئے کہا تو عادل نے اسے گھورا
تم جانتے بھی ہوعدید کون ہے اور امثال سے اسکا کیا رشتہ ہے ۔
کزن ہے۔ فاریہ خالہ کا بیٹا۔۔
نہیں برو کزن ہونے کے ساتھ اسکا امثال سے ایک اور رشتہ بھی ہے ۔۔امان نے اسکی جیلسی دیکھتے ہوئے سسپینس پھیلایا تو عادل کا سانس اٹکا
کیا مطلب۔۔۔ کک۔۔۔کونسا رشتہ ۔عادل نے اٹکتے ہو پوچھا
کم آن یار انکا اتنا مقدس اور گہرا رشتہ ہے تم پتا نہیں کیا سوچ رہے ہو۔ امان نے بات کو طول دیا
اب بکو گے بھی یا نہیں کہ کیا لگتا ہے وہ امثال کا ۔عادل نے اٹھ کر اسے گردن سے پکڑا
اچھا تو دل تھام کہ سنو۔۔۔۔۔۔۔۔۔عدید فاریہ آنٹی کا نہیں بلکہ ساریہ ممانی کا بیٹا ہے ۔امثال ،بازل اور شہریار کا سگا بھائی ہے۔ امان نے اسکے سر پر دھماکہ کیا تھا
واٹ!! ۔۔۔ عادل اس کے انکشاف پر اچھلا
مگر وہ تو فاریہ خالہ کا بیٹا ہے نہ ۔بچپن سے ہی انکے ساتھ رہتا تھا تو پھر۔عادل کے پوچھنے پر امان نے اسے بتایا کہ فاریہ آنٹی نے ساریہ ممانی سے لے کر پالا تھا
اوہ مائی گاڈ میں پتہ نہیں کیا سمجھا تھا۔۔ عادل نے دوبارہ صوفے پر گرتے ہوئے آنکھیں بند کیں تھیں۔کچھ دیر تک اسی پوزیشن میں پڑے رہنے کے بعد اسے دوبارہ امان کا قہقہ سنائی دیا
ویسے سچ میں یار کیا سین ہوتا ہو گا ،جب جب تم عدید سے جیلس ہوتے ہو گے امان نے ہنستےہوئے کہا تو عادل بھی ہنسا تھا
اچھا تو اس دن ساریہ خالہ بھی بتا رہی تھیں مگر امثال آگئی تو بات بیچ میں رہ گئی
اچھا اب چلو واپس چلتے ہیں ۔عادل نے اٹھتے ہوئے کہا
چلتے ہیں ۔ پہلےکسی ڈاکٹر کا بندوبست تو کر لینے دو مجھےاور یہ تو بتاؤ کہ تمہاری چھٹی کس کو فون کر کہ منظور کراؤں۔
کیا مطلب ڈاکٹر کا کیا کرنا ہے اور چھٹی کیوں لینی ہے ۔
تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں تمہیں یہاں گھمانے کے لیے لایا ہوں ۔۔۔ عدید پاکستان آ چکا ہے اور شہریار نے مجھے کہا ہے کہ اسکے آنے سے پہلے میں تمہیں کہیں ادھر ادھر کردوں ورنہ تمہیں اسکے ہاتھوں سے کوئی نہیں بچا سکتا۔
ویسے خبر تو خاصی مزیدار بنے گی کہ ایس پی عادل عمر شاہ ہونے والے سالے کے ڈر سے چھپے بیٹھے ہیں۔ کیا ٹائم آ گیا ہے ۔امان نے ہنستے ہوئے کہا تو اسنے ٹھنڈی سانس لی
یہ آہیں بچا کر رکھو عدید سے مار کھانے کے بعد کام آئیں گی۔ کیونکہ مجھے نہیں لگتا کہ وہ تمہیں ایسے ہی چھوڑ دے گا
اچھا چلو اب واپس چلتے ہیں کب تک یہاں بیٹھے رہیں گے جو ہو گا دیکھا جائے گا ۔۔۔۔۔اب اوکھلی میں سر دے ہی دیا ہے تو موسلوں سے کیا ڈرنا ۔۔
لگتا تمہارے بھائی کے ہاتھوں شہید ہونے کا وقت قریب آن پہنچا ہے۔ عادل نے تصور میں امثال کو سوچتے ہوئے بڑبڑایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عدی میں بلکل ٹھیک ہوں کچھ نہیں ہوا ہے اور اب تو درد بھی نہیں ہو رہا ہے ۔۔۔ آپ ایسے ہی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر آ گئے۔۔ امثال نے اسے مطمئن کرتے ہوئے کہا ۔ وہ جب سے آیا تھا ایک ہی بات پوچھے جا رہا تھا امثال درد تو نہیں ہو رہا نہ ٹھیک ہو نہ کبھی اسکا ماتھا چوم رہا تھا تو کبھی اسکے گال ۔۔۔اس وقت وہ نہایت ہی شدت سے عادل کا انتظار کر رہا تھا
زریاب بھائی ، یہ عادل کہاں گیا ہے ۔۔عدید نے ہال میں آتےزریاب سے پوچھا
کیوں ۔۔تم کیوں پوچھ رہے ہو زریاب نے شہریار کی طرف دیکھاا
بس ایسے ہی۔۔۔ زرا کام تھا اس سے۔۔ عدید نے دانت کچکچائے تھے
مجھے نہیں پتہ شائد ڈیوٹی پر چلا گیا ہے۔۔ شہریار کے نفی میں سر ہلانے پر اس نے کہا۔۔۔ابھی وہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ امان اور عادل ہال میں داخل ہوئے اسکو اندر آتا دیکھ کر عدید کا غصہ نئے سرے جاگا تھا وہ ایک جست میں عادل تک جا پہنچا ۔شہریار نے امان کو گھورا تو اس نے کندھے اچکا دیے ۔
تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی امثال کو چوٹ پہنچانے کی ۔عدید نے اسکا گریبان پکڑ کر غراتے ہوئے کہا عادل بوکھلا کر رہ گیا تھا اسے لگا تھا وہ تھوڑا چیخے چلائے گا مگر اس نے تو سیدھا گربیان پر ہاتھ ڈال دیا تھا ۔ اسکی آگ اگلتی سرخ آنکھوں کو دیکھ کر اسکے جسم میں سرد لہر سی دوڑ گئی ۔ سب گھر والے ہکا بکا اسکا رد عمل دیکھ رہے تھے۔ ساریہ بیگم آگے بڑھیں تو عدید نے انہیں وہیں روک دیا
ایسی بھی کیا تکلیف دی تھی اس نے تمہیں جو تم نے اسے زخمی ہی کر دیا ۔۔عدید نے اسکے جبڑے پر مکہ مارا تو وہ لڑکھڑایا۔ اسکے سنھبلنے سے پہلے ہی اس پر تھپڑوں اور گھونسوں کی برسات کر دی تھی
سوری یار وہ میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا تھا ۔عادل نے منہ سے خون صاف کرتے ہوئے ہلکی آواز میں کہا ۔ساری حویلی میں رعب ودبدبہ رکھنے والا شیر کی طرح دھاڑنے والا عادل اس وقت عدید کے آگے منمنا رہا تھا۔اسکی حالت دیکھ کر امان کا شدت سے قہقہ لگانے کو جی چاہ رہا تھا
سوری ۔۔ تمہاری سوری سے اسکی تکلیف کم ہو جائے گی کیا ۔۔عدید نےاسے ایک اور مکہ اسکی کی آنکھ کے قریب جڑا
عدید چھوڑو اسے پاگل ہو گئے ہو کیا۔۔۔ شہریار نے اسے آگے بڑھ کر اسے عادل سے الگ کیا تو عدید نے پاس پڑا ہوا واس اٹھا کر اسکی طرف پھینکا جو اسکے کندھے پر لگا تھا
نہیں بھائی آج مجھے اس سے پوچھ ہی لینے دیں کہ اسکو آخر تکلیف کیا امثال سے ۔ پہلے بھی صرف اس کمینے کی وجہ سے آپ نے اسے ڈانٹا تھا اور امثال روئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہوا تھا زرا سی شرارت ہی تو کی تھی دونوں نے ۔۔۔۔جم کی مشینری ہی خراب کی تھی ۔کوئی بمب تو نہیں مارا تھا ۔جو آپ نے نہ صرف انہیں جھڑکا بلکہ معافی بھی منگوائی تھی۔۔ عدید کی بات سن کر سب کے منہ کھلے تھے ۔۔شہریار نے ان دونوں کی طرف دیکھا
یوں انکی طرف مت دیکھیں۔ انہوں نے مجھے کچھ نہیں بتایا ۔ بے خبر نہیں ہوں میں ۔ چاہے جہاں بھی ہوں پل پل کی خبر رکھتا ہوں انکی۔ اگر کچھ کہتا نہیں ہوں تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ مجھے پتہ نہیں ہوتا عدید نے شہریار کو کہا تو وہ خاموش ہو گیا اور امثال کو اشارہ کیا اس وقت وہ ہی اسے کنٹرول کر سکتی تھی
عدی مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے ماما نے بھی کچھ کھانے کو نہیں دیا تم چھوڑو اسے مجھے برگر کھانا ہے تم لا دو نہ ۔ امثال نے لاڈ سے کہا
اوکے میں لاتا ہوں امثال کو کہتے ہوئے وہ دوبارہ عادل کی طرف مڑا
اور تم ۔۔۔۔۔۔ تمہارا اپنی بہنوں سے یا باقی حویلی کی لڑکیوں کے ساتھ جیسا بھی رویہ ہے مجھے اسکی ٹکے کی پرواہ نہیں ہے۔۔ لیکن امثال میری بہن ہے اسکے ساتھ ایسا رویہ برداشت نہیں کروں گا ۔۔اسکی آنسوؤں کی وجہ بننے والا انسان دوبارہ کسی قابل نہیں رہتا۔ تم کزن ہو اور تمہاری پہلی غلطی تھی اسلئیے چھوڑ رہا ہوں آئیندہ خیال رکھنا۔ اسکا گریبان ٹھیک کرتے ہوئے عدید نے چبا چبا کر کہا۔۔ عادل کو تو اسکے منہ سے لفظ بہن سن کر ہی ٹھنڈ پڑ گئی تھی ایک بے ساختہ سی مسکراہٹ نے اسکے لبوں کو چھوا تھا دریاب نے حیرانگی سے اسے دیکھا
لگتا ہے اسکی چوٹوں نے دماغ پر اثر کیا ہے جو مار کھا کر مسکرا رہا ہے دریاب نے امان کے کان میں سرگوشی کی
بعد میں بتاؤں گا ابھی تو انجوائے کر۔۔ امان نے مسکراتے ہوئے کہا انکی کھسر پھسر پر زریاب نے دونوں کو گھورا
عادل بیٹا ٹھیک ہو نہ تم ۔ خدیجہ بیگم نے آگے بڑھ کر اسکے نیل زدہ چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا
کچھ نہیں ہوا خالہ ٹھیک ہے یہ ۔۔۔۔ ہلکی سی چوٹ لگی ہے۔۔ عدید نے عادل کو گھورتے ہوئے کہا
نیل و نیل کر کہ کہتا ہے ،کچھ نہیں ہوا ۔۔عادل نے بڑبڑایا ۔۔اسکی بربڑاہٹ سن کر امان کی کب کی رکی ہنسی چھوٹی تھی ۔سب نے اسے حیرانی سے اسے دیکھا تھا
لالی مجھے لگا تھا شائد میری اولاد ہی کھسکی ہوئی ہے یہاں تو ماشاءاللہ سے آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ساریہ بیگم کی بات پر لالہ رخ نے امان کو گھورا۔
امان تم عادل کو کمرے میں لے جاؤ۔ شہریار نے کہا تو امان نے سر ہلا دیا
یا اللہ کہاں پھنس گیا ہوں ان بہن بھائیوں کے بیچ ۔۔اور اس کمینے شہری کو دیکھو اچھی طرح پیٹوا لینے کے بعد کہہ رہا تھا ” عدید چھوڑو اسے ” چول انسان ۔۔۔۔۔۔۔۔یااللہ اب تو توُ ہی میری ننھی سی جان کی حفاظت کرنا ورنہ ان لوگوں نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑنی۔ اب میں پولیس سٹیشن کیسے جاؤں گا ،کیا بتاؤں گا کہ ہونے والے سالے سے پٹ کر آیا ہوں اس سے تو اچھا تھا میں وہی ڈیرے پر ہی بیٹھا رہتا ۔۔۔ عادل واش بیسن کے پر لگے شیشے کے آگے کھڑا ہو کر اپنے زخموں کا معائنہ کرنے کے ساتھ ساتھ مسلسل بڑ بڑا رہا تھا ہونٹ پر لگے زخم پر ہاتھ لگایا تو کراہ کر رہ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امثال کو تینوں بھائیوں نے ہاتھ کا چھالا بن کر رکھا ہوا تھا شہریار اور عدید پچھلے چار دن سے مسلسل آفس سے چھٹی پر تھے۔ بازل بھی یونی نہیں جا رہا تھا ۔بقول اسکے امثال کے بغیر دل نہیں لگتا اسکا۔ سب کی توجہ سے اسکا پاؤں کا زخم تیزی سے بھر رہا تھا ۔ چونکہ سبھی جانتے تھے کہ وہ ایک جگہ ٹک کر بیٹھنے والوں میں سے نہیں تھی اس لیے ہر وقت کوئی نہ کوئی اسکے پاس رہتا ۔ ان تینوں بھائیوں کے علاوہ وہ گھر کے باقی افراد سے بھی لاڈ اٹھوا رہی تھی اس وقت بھی وہ خدیجہ بیگم کی گود میں سر رکھے خاندان کا کوئی قصہ پوری توجہ سے سن رہی تھی ۔اچانک اسے ایک خیال آیا
خالہ جانی ہمارا ننھیال کہاں ہے ۔ میرا مطلب ہے کہ آپ اور فاریہ خالہ کے علاوہ باقی لوگ کہاں رہتے ہیں۔ ہمارے ماموں ممانیاں ، نانا نانی وغیرہ۔۔امثال نے سر اٹھا کر انکی طرف دیکھا۔ تو انکی چہرے کی رنگت زرد پڑی تھی۔ جسے امثال نے محسوس کیا تھا
تم بیٹھو بیٹا میں زرا کچن دیکھ لوں خدیجہ بیگم نے پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا اور اٹھ گئی۔اندر آتے عادل نے انکی اڑی رنگت صاف محسوس کی تھی ۔جبکہ امثال نے حیرانی سے باہر جاتی خدیجہ بیگم کی دیکھا تھا
ہائے کزن سکتے میں کیوں بیٹھی ہو ۔۔
اوہ ہائے ۔۔تم یہاں ۔ امثال نے اس ےدیکھتے ہوئے کہا
ہاں تمہاری خیریت دریافت کرنے آیا تھا
اچھا کمال ہے چار دن بعد تمہیں میری خیریت دریافت کرنے کا خیال آیا ہے۔ امثال نے جتایا
طعنہ دے رہی ہو ۔۔۔
نہیں جسٹ بات کی ہے میں نے کہ چار دن بعد حال پوچھنے کا خیال آیا ہے اور وہ بھی خالی ہاتھ ۔۔۔ بندہ کسی کی عیادت کے لیے جائے تو کچھ کھانے کو ہی لے جاتا ہے ۔
ہا ۔۔تمہارے بھائی نے کسی قابل چھوڑا تھا مجھے ۔۔ میرا جوڑ جوڑ ہلا کر رکھ دیا ۔اٹھنے بیٹھنے سے قاصر تھا ۔عادل نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا
اب تم طعنہ دے رہو مجھے۔
میری اتنی جرات کہاں ۔عادل نے آنکھ کے قریب زخم پر ہاتھ پھیرا
وہ اصل میں ہمت نہیں ہو رہی تھی بہت شرمندہ ہوں۔ سوری میری وجہ سے تمہیں چوٹ لگی۔ عادل نے کان کجھایا
اوہ۔۔ اٹس اوکے تم نے کون سا جان بوجھ کر کیا تھا۔ امثال لاپرواہی سے کہا تو وہ اسے دیکھ کر رہ گیا
ویسے مجھے لگا تھا تمہارے سامنے جاؤں گا تو منہ توڑ دو گی میرا ۔
ایسی بات نہیں ہے ویسے بھی میرا کوٹہ عدید پورا کر چکا تھا ۔ امثال نے ہنستے ہوئے کہا تو اسکے گال پر ڈمپل پڑا ۔ جس کو دیکھتے ہوئے عادل سٹل ہوا تھا
کہاں کھو گئے ۔امثال نے اسکے آگے چٹکی بجائی تو وہ سر پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا
ویسے ایک بات پوچھوں ۔امثال اسکی طرف جھکی تو اس نے اثبات میں سر ہلایا
کہیں تم نے جان بوجھ کہ تو نہیں کیا تھا اور اپنے سارے حساب ایک ہی بار میں چکا دیے۔
لا حولا ولا قوۃ ۔عادل نے سر جھٹکتے ہوئے کہا جس پر وہ ایک بار پھر ہنسی تھی
اف اسکا یہ بدتمیز ڈمپل ۔عادل بڑبڑایا ۔عدید اندر داخل ہوا تو عادل کو کمرے میں دیکھ کر اسے گھورا
تم۔۔۔۔۔ تم یہاں کیا کر رہے ہو ۔۔
چھوڑو نہ عدی حال چال پوچھنے آیا تھا ۔امثال نے جلدی سے کہا مبادا وہ کہیں پھر نہ اسے پیٹ دے
رئیلی ۔۔۔۔ عدید نے طنزیہ انداز میں کہا
میں امثال سے سوری کر چکا ہوں ۔۔عادل نے دھیمے لہجے میں کہا
ٹھیک ہے تم جا سکتے ہو ۔۔عدید نے کہا۔
یار پلیز ۔۔۔۔ عادل نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا
جانے دو نہ عدی وہ مجھ سے سوری کر چکا ہے ۔۔ ہو جاتا ہے۔۔اس وقت وہ غصے میں تھا ۔نہیں دیکھا ہو گا نہ مجھے آتے ہوئے۔ امثال نے بات رفع دفع کرتے ہوئے کہا
مگر ژلے ۔۔۔۔
نو مور اگر مگر بس اب آپ دونوں صلح کر لیں۔ چلیں اچھے بچوں کی طرح گلے ملیں اور دوستی کر لیں چلیں شاباش ۔امثال نے کہا تو عدید کو نا چار اسکی طرف ہاتھ بڑھانا پڑا
عدی میں نے گلے ملنے کو کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوکے ۔عدید نے منہ بناتے ہوئےکہا اور عادل کو گلے لگایا۔۔
عادل لالہ وہ۔۔۔ وہ میری دوست کی سالگرہ ہے میں چلی جاؤں۔ زروا نے امثال کے کمرے سے نکلتے عادل کو انگلیاں مروڑتے ہوئے کہا
ٹھیک ہے چلی جاؤ۔ عادل نے مسکرا کر کہا تو زروا بے ہوش ہوتے ہوتے بچی ۔ایک تو اجازت مل گئی تھی اوپر سے اسکی مسکراہٹ ۔۔
اللہ اللہ یہ عادل لالہ ہی تھے نہ۔ زروا نے گال پر انگلی رکھتے ہوئے سوچا اور سر پٹ سانیہ کے روم کی طرف بھاگی
جاری ہے