32.9K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

کیا بات ہے ژلے ، پریشان کیوں بیٹھی ہو ۔بازل نے اسکے سامنے نوڈلز کا باؤل رکھا ۔بقول امثال کے،کہ اسے بخار نہیں ہے جو وہ پھیکے کھانے کھائے ۔اس کے ضد کرنے پر وہ اس کے لیے نوڈلز بنا کر لایا تھا
عادل کو گئے آج دسواں دن ہے نہ تو وہ خود آیا ہے اور نہ ہی اسکی کوئی خیر خبر، مجھے فکر ہو رہی ہے
بات تو فکر کی ہے اب تک آ جانا چایئے تھا، بازل نے اسے نوڈلز کھلاتے ہوئے فکرمندی سے کہا
ہاں نہ آٹھ دن کا کہہ گیا تھا آج دسواں دن ہے ۔پتہ نہیں ٹھیک بھی ہوگا کہ نہیں۔
اچھا تم ٹینشن نہ لو ۔۔۔انشاءاللہ وہ ٹھیک ہوگا تم اس کے لیے دعا کروکہ وہ بخیر و عافیت سے لوٹ آئے ۔
انشاءاللہ ۔۔۔۔۔
چلو بھئی رات کافی ہو گئی ہے اب سو جاؤ۔۔۔ چلو شاباش شہریار نے اندر آتے ہوئے کہا تو بازل اٹھ کر اپنے روم میں چلا گیا ۔
ابھی اسے سوئے کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اسکا فون بجا مگر وہ کان بند کیے پڑی رہی فون کرنے والا بھی شائد خاصا مسقل مزاج واقع ہوا تھا تیسری بار جب فون بجا تو اس نے بند آنکھوں کے ساتھ موبائل سکرین پر ہاتھ مار کر کان سے لگایا۔کال پک پونے کی بجائے کٹ چکی تھی ۔اور وہ کان سے لگائے ہیلو ہیلو کیے جا رہی تھی ۔ موبائل پھر بجنا شروع گیا تھا ابکی بار اس نے زرا سی آنکھیں کھول کر کال پک کی
ہیلو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیلو۔۔۔ کون بول رہا ہے بھئی۔اسکی آواز سن کر دوسری کال پر موجود عادل کی بیٹ مس ہوئی تھی
کال کر کے سو گئے ہو کیا ۔ دوسری جانب سے جواب نہ پا کر امثال جھنجھلا گئی
میں عادل بات کر رہا ہوں امثال ۔موبائل سے آتی آواز نے اسے ساکت کیا تھا اس نے پٹ سے آنکھیں کھولیں
تم ۔۔کیسے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ٹھیک ہو نہ ۔۔۔ کہاں ہو ۔۔۔ گھر آ گئے کیا۔۔ امثال نے سوالوں کی پوجھاڑ کر دی اسکی بے چین آواز سن کردوسری طرف موجود عادل کے چہرے پر دلکش سی مسکراہٹ پھیلی
آرام سے لڑکی کیا ہو گیا ہے سانس تو لو اور میں ابھی گھر نہیں آیا تم ایک کام کرو میرے روم میں جاؤالماری میں ایک فائل پڑی ہوئی ہے اسکی تھوڑی سی ڈیٹیل چایئے مجھے وہ بھیجو
تم کب آؤ گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم پہلے میرا کام تو کرو، پھر بتاتا ہوں
کیا ہوا ژلے کچھ چایئے۔ شہریار اسکی آواز سن کر اٹھ گیا تھا
نہیں بھائی مجھے کچھ نہیں چایئے ۔عادی کا فون ہے، میں سن کر آتی ہوں آپ آرام سے سو جائیں
ٹھیک ہے۔ شہریار نے دوبارہ آنکھیں موندیں
یہ شہری تمہارے روم میں کیوں سو رہا ہے، تم ٹھیک تو ہو نہ ۔عادل نے پوچھا
ہاں بس تھوڑی طبعیت خراب تھی ، اسلیے بھائی میرے روم میں سو رہے ہیں۔ امثال نے جوتا پہنتے ہوئے اسے بتایا
کیوں۔۔ کیا ہوا ۔۔
کچھ نہیں بس تھوڑا سا بخار ہے ۔ تمہیں پتہ توہے کہ بھائی ایسے ہی ٹینشن لے لیتے ہیں ۔امثال آہستگی سےدروازہ بند کرتی باہر آئی
میڈیسن لی۔۔۔۔
ہاں لی تھی۔۔۔ امثال نے عادل کے روم کا دروازہ کھولا ،اندر داخل ہو کر سوئچ بورڈ پر ہاتھ مار کر لائٹ آن کی واپس مڑی تو فون کان سے لگائےکھڑے عادل کو دیکھ کر اچھلی
تم۔۔۔۔۔۔۔۔ تم کب آئے ۔واٹ اے پلیزینٹ سرپرائز عادی ۔۔۔۔۔اوہ مائی گاڈ ۔ امثال اسکی طرف لپکی۔ وہ جو اسکاری ایکشن دیکھنے کے لیے فون کان سے لگائے کھڑا مسکرا رہا تھا اسکے ہاتھ سے بے اختیار موبائل چھوٹا
دینا تو میں نے سرپرائز چاہا تھا مگر یہاں تو میں ہی سرپرائز ہو گیا ۔اسکے پٹیوں میں جکڑے وجود کو دیکھتے ہوئے عادل نے کہا
کیسے ہو ۔۔ٹھیک ہو نہ۔ اتنے دن کیوں لگا دیئے
میں تو ٹھیک ہوں لیکن یہ تمہیں کیا ہوا ہے ۔ اسکے ماتھے اور گال کی بینڈیج دیکھتے ہوئے اس نے پوچھا
کچھ نہیں ہوا بس چھوٹا سا ایکسیڈینٹ ہو گیا تھا
یہ چھوٹا سا ایکسیڈننیٹ ہے ۔عادل نے اسکا بازو پکڑ کر سامنے کیا جس پر پٹی لگی ہوئی تھی
اوہو عادی چھوڑو نہ۔۔ بیٹھو تم اتنے دن سے گھر سے نکلے ہوئے ہو ،آٹھ دن کا کہہ کے گئے تھے اور دسویں دن بعد آئے ہو اور آتے ہی تفتیش شروع کر دی ہے تم اپنا یہ تھانہ وہیں چھوڑ کر آیا کرو
ارے مٹی ڈالو تم مجھ پر۔۔۔کچھ نہیں ہوا مجھے ۔۔۔۔ اپنا حال دیکھا ہے تم نے ۔ رنگت کیسے پیلی پڑ گئی ۔انکھوں کے گرد حلقے پڑ چکے ہیں ۔۔کیا کیا ہے تم نے اپنے ساتھ ہاں ۔عادل دبی دبی آواز میں دھاڑا تو وہ سہم کر پیچھے ہٹی اسکی بگڑی حالت دیکھ کر اس نے گہری سانس لی
ایم سوری۔۔ عادل اسکو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے معذرت کی ۔کافی دیر تک اسکے سر پر اپنی ٹھوڑی ٹکائے انکھیں بند کیے کھڑا رہا
کہہ کے گیا تھا کہ اپنا خیال رکھنا ۔۔۔نہیں رکھا نہ ۔۔۔۔۔۔ کبھی تو میری کوئی بات مان لیا کرو۔۔ اسکو خود سے الگ کرتے ہوئےاسکی ماتھے اور گال کی بینڈیج پر لب رکھے
کیسے ہوا ۔۔۔۔۔۔۔
یونی جا رہی تھی شائدبریک کا مسئلہ تھا تو گاڑی آؤٹ آف کنٹرول ہو گئی۔ امثال نے نگاہیں جھکاتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا
یہی بات ہے نہ، عادل کواسکا یوں نگاہیں جھکا کر بات کرنا کھٹکا تھا ۔وہ تو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتی تھی کہ سامنے والا کنفیوز ہو کر رہ جاتا تھا
ہاں یہی بات ہے ۔ امثال نے زرا کی زرا نظریں اٹھائی تھیں
اچھا میری چاکلیٹ اور شاپنگ کی ہے تم نے۔ امثال نے اسکو یوں کھوجتےپایا تو اسکا دھیان بھٹکانا چاہا
ہاں لایا ہوں ابھی لوگی یا صبح
ہممم ۔۔۔صبح دے دینا ابھی تم ریسٹ کرو ۔ویسے بھی شہری بھائی میرے روم میں سو رہے ہیں ،مجھے نہ پا کر پریشان ہوں گے۔ امثال نے اٹھتے ہوئے کہا
ایک یہ تمہارے بھائی نہ ۔۔اب تو مجھے ان سے سوتنوں والی فیلینگ آنا شروع ہو گی ہے، جہاں مجھے ہونا چایئے وہاں وہ موجود ہوتے ہیں ۔عادل نے جل کر کہا تو مثال کھلکھلا کر ہنسی
تمہارے اس بدتمیز سے ڈمپل کو میں نے بہت مس کیا ہے۔ عادل نے اسکےڈمپل کو ہاتھ سے چھوا
تم مشن پر گئے تھے یا فلرٹ کی کلاسز لینے۔ امثال گال سے اسکا ہاتھ ہٹایا اسکی بات سن کر عادل دل کھول کر ہنسا
تم میرے ایموشنز کو فلرٹ کا نام دے رہی ہو۔۔۔۔۔۔
پھر بات ہو گی ابھی تم سو جاؤ بائے۔۔۔ کہتی وہ باہر نکل گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کس کے لیے ،لے جا رہی ہو۔ عادل ۔وہ مصطفی شاہ کے بلاوے پر انکے کمرے کی طرف جا رہا تھا کہ کچن سے نکلتی زروا کے ہاتھ نے زروا کے ہاتھ میں سوپ دیکھا
وہ لالہ ژلے آپی کے لیے
کیوں اسے کیا ہوا ہے۔ عادل نے نارمل انداز میں پوچھا، مصطفی شاہ کا صبح صبح اپنے کمرے میں بلوانا ہی اسکو ٹھٹھکا گیا تھا ۔ رات آتے ہوئے بھی اس نے حویلی کے اندر باہر گارڈزمیں اضافہ دیکھا تھا
وہ انکا ایکسیڈینٹ ہوا ہے نہ۔۔۔ اوہو میں بھی نہ۔۔۔ آپکو کیسے پتہ ہو گا؟ ۔۔آپ کونسا یہاں تھے۔۔۔۔ زروا نے ماتھے پر ہاتھ مارا ۔میں بتاتی ہوں ژلے آپی کا نہ کل ایکسیڈیننٹ ہوا ہے اور ۔۔آپکو پتہ ہے عدید بھائی کہہ رہے تھے کہ ایکسیڈینٹ کروایا گیا ہے ۔گاڑی کے ٹائر سے بلٹ ملی ہے اور اس سے کچھ دن پہلے کسی نے انکو گولی بھی ماری تھی جو انکے بازو میں لگی تھی ۔ زروا کی بات سن کر وہ سکتے میں آ گیا تھا
بھائی ۔۔۔۔۔ بھائی کیا ہوا ۔۔۔۔۔؟؟؟
زروا نے اسکو سٹل دیکھا تو بازو سے پکڑ کر ہلایا
ہاں ۔۔۔۔ ہوں یہ مجھے دے دو، میں وہیں جا رہا ہوں۔ عادل نے اسکے ہاتھ سے باؤل پکڑا تو وہ کندھے اچکاتی واپس مڑ گئی
دستک دے کر وہ اندر داخل ہوا تو امثال کاوچ پر بیٹھی ہاتھ میں ریموٹ پکڑے چینل چینج کر رہی تھی
ارے ایس پی صاحب کیا لے کر آئے ہیں؟؟؟ میں بتا رہی ہوں پھیکا سوپ میں نہیں پیوں گی امثال اپنی ہی دھن میں بولے جا رہی تھی اس نے سوپ اسکے سامنے رکھا اور گہری نظروں سے اسکا جائزہ لینے لگا
اگر یہ لے ہی آئے ہو تو پلا بھی دو میں خود نہیں پی سکتی۔ امثال نے اسکے سامنے اپنا دایاں بازو لہرایا۔اسکو یوں دیکھتا پا کر اسے جھنجھلاہٹ ہو رہی تھی
یہ سب کیسے ہوا؟؟؟ عادل نے اسکے ہاتھ سے ریموٹ لیتے ہوئے ٹی وی آف کیا
رات بتایا تو تھا، لگتا ہے بھولنے کی بیماری ہے تمہیں ۔۔
ایکسیڈیننٹ کیسے ہوا تھا ؟؟چمچ بھر کر سوپ اسکی طرف بڑھایا
مجھے نہیں چمچ سے پینا۔ حلق بھی گیلا نہیں ہوتا۔ تم ایسے ہی پلا دو
میں نے کچھ پوچھا ہے ۔۔۔۔؟؟
عادی کیا ہو گیا ہے بتایا تو ہے بریک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سچ سننا ہے مجھے ۔۔۔۔۔۔۔
تو بتا تو رہی ہوں کہ
تم نے شائد سنا نہیں میں نے کہا کہ سچ سننا ہے مجھے ۔۔۔۔۔۔۔ تمہیں سمجھ نہیں آ رہا ۔عادل نے باؤل ٹیبل پر پٹخا ۔ وہ خاموشی سے لب کاٹنے لگی
ژلے مجبور مت کرو کہ میں تم سے سختی سے پیش آؤں ، کیونکہ بات تمہاری ہے اور میں رتی برابر بھی کمپرومائز نہیں کروں گا۔ اس نے گہری سانس لیتے ہوئے بتانا شروع کیا
اتنا سب کچھ ہو گیا ور میں بےخبر رہا۔۔۔ لعنت ہو مجھ پر۔۔۔۔۔۔ کون تھا
مجھے کیا پتہ ۔۔۔۔۔ سوپ تو پلاؤ نہ ٹھنڈا ہو رہا ہے
مجھے پانچ سال ہوگئے ہیں پولیس سروس میں ۔ایک نظر میں پہچان لیتا ہوں کہ سامنے والا جھوٹ بول رہا ہے اور تم اس وقت جھوٹ بول رہی ہو ژلے ۔عادل نے اسکا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں لیتے ہوئے کہا تو اسکی آنکھوں میں نمی ابھری
میں کسی کو بھی کھونا نہیں چاہتی عادی ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ اپنے بھائیوں کو نہ تمہیں نہ ہی کسی اور کو۔۔۔۔۔۔
ایسا کچھ نہیں ہو گا۔ تم بتاؤ کون تھا ؟؟؟
عادل نے اسکی آنکھیں صاف کیں
آؤ میرے ساتھ ۔امثال نے گہری سانس لیتے ہوئے اسکا ہاتھ پکڑا اور عدید کے کمرے کے باہر جا کر رکی اجازت ملنے پر اندر داخل ہوئی
تمہیں جاننا ہے نہ کہ اس سب کے پیچھے کون ہے؟؟؟ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے عدید کے سامنے رکی
ہاں بتاؤ کون ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
ایسے نہیں بتاؤں گی ۔۔۔۔۔۔۔
پھر۔۔ عدید کے پوچھنے پر امثال نے اسکا ہاتھ اٹھا کر اپنے سر پر رکھا
کھاؤ میری قسم کہ تم دونوں کچھ نہیں کرو گے اسے ہاتھ تک نہیں لگاؤ گے؟؟؟ امثال کی بات سن کر عدید نے اسکے سر سے ہاتھ ہٹایا
ایسا ممکن ہی نہیں
عدید ۔۔۔۔۔۔ تم مجھے منع کر رہے ہو امثال نے اپنا سب سے بڑا ہتھیار، آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو بھرے تھے ۔جہاں وہ بےبس ہوا تھا
اچھا ٹھیک ہے تمہاری قسم کچھ نہیں کہوں گا
یہی قسم تم پربھی لاگو ہوتی ہے ایس پی صاحب ۔اس نے بھی سر ہلا کر ہامی بھری
بہرام شاہ ۔۔۔۔۔
تواسے پتہ چل گیا کہ اس دن تم نے اسے اغواہ کیا تھا ۔عدید نے پوچھا
نہیں یہ اور بات ہے۔۔۔
اور کیا بات ۔۔۔ عادل نے پوچھا
ابھی نہیں بتا سکتی اور تم دونوں نے مجھ سے پرومس کیا ہے کہ اسے کچھ نہیں کہو گے ، اگر وعدہ خلافی کی نہ تو عدی میں بتا رہی ہوں میں خود کو شوٹ کر لوں گی ۔ اسکی بات سن بے یقینی سے دونوں کی آنکھیں پھیلی تھیں
ژلے کیا کہہ رہی ہو عدید نے حیرت سے اسے دیکھا تو اس نے دونوں کو پکڑ کر کاوچ پر بٹھایا اور خود انکے سامنے نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھی
میں نہیں چاہتی کہ دو خاندانوں میں دشمنی پیدا ہو ۔میں جانتی ہوں اگر وہ آپ کے ہاتھ لگا تو آپ اسے مار دیں گے ،بدلے میں انکے گھر والے آپکو نقصان پہنچائیں گے اور یہ سلسلہ لمبا چل نکلے گا ۔ میں آپ میں سے کسی کو بھی نہیں کھونا چاہتی عدی ، اگر تم میں سے کسی کو بھی کچھ ہوا نہ تو میں مر جاؤں گی ۔۔ نہیں رہ پاؤں گی ۔۔ پلیز تم سمجھو نہ مجھے امثال نے روتے ہوئے اس کے گھٹنوں پر سر رکھا
اچھا ٹھیک ہے میں کچھ نہیں کروں گا تم رو نہیں۔۔۔اٹھو یہاں سے ،کتنی بار کہا ہے کہ میرے سامنے یوں نیچے مت بیٹھا کرو ۔عدید نے اسکے آنسو صاف کرتے ہوئے اٹھا کر اپنے ساتھ بٹھایا تو اس نے عدید نے کندھے پر سر رکھا
اور اگر وہ دوبارہ آیا تو۔۔ عادل نے اپنا خدشہ ظاہر کیا
تو آئی پرومس اس بار خالی ہاتھ نہیں جائے گا ایسا سبق سکھاؤں گی نہ کہ ساری زندگی نہیں بھول پائے گا کہ کسی امثال شاہ سے پالا پڑا تھا امثال نے دانت پیسے جیسے دانتوں کے نیچے بہرام شاہ ہو
رئیلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عدی تم مجھے اچھے سے جانتے ہو پھر بھی کہہ رہے ہو۔ اس جیسے کئی سیدھے کر چکی ہوں وہ تو پھر ابھی بچہ ہے ۔ امثال نے اسکے کندھے سے سر اٹھا کر کہا تو وہ ہنس دیا
اچھا میں نے تمہاری بات مانی ہے اب تمہیں میری ایک بات ماننی ہو گی ۔۔عدید اٹھ کر الماری کے پاس آیا
میں نے صحیح کہا تھا جہاں مجھے ہونا چاہئیے، وہاں تمہارے بھائی ہوتے ہیں ۔عادل کا اشارہ اسکے عدید کے کندھے پر سر رکھ کر بیٹھنے کی طرف تھا۔ عادل کی بات سن کر اس نے جلدی سے عدید کی طرف دیکھا جو الماری سے کچھ ڈھونڈ رہا تھا
سمجھ گئی ہو یا کھل کر بتاؤں ؟؟
عادل نے معنی خیزی سے کہا تو وہ چھینپ گئی۔عدید نے ایک گھڑی لا کر امثال کے ہاتھ پر باندھی
کچھ بھی ہو جائے تم اسے اپنے ہاتھ سے نہیں اتارو گی ۔۔کبھی بھی نہیں اتارو گی۔۔ ٹھیک ہے نہ ۔اسکی تاکید پر اس نے سر ہلا دیا
اچھا میں اب چلتی ہوں ۔ابھی تک ناشتہ بھی نہیں کیا
تم ۔۔ ؟امثال نے عادل کو اپنے کمرے میں داخل ہوتے دیکھا
ایک اور بات پوچھنی ہے ؟
پوچھو
بہرام شاہ کے اتنا سب کچھ کرنے کی وجہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
دماغ خراب ہو گیا ہے اسکا ۔ ہٹو مجھے نیچے جانا ہے دادو بلا رہی ہیں
جب تک تم مجھے بتاؤ گی نہیں ، میں تمہیں یہاں سے ہلنے بھی نہیں دوں گا
کہتا ہے تمہیں چھوڑ دوں، رشتہ بھیجنا چاہ رہا ہے اپنا ۔ تم سے ڈائیورس لینے کا بول رہا تھا ۔۔۔۔اب خوش ۔اسکی بات سن کر عادل نے تیوریاں چڑھائیں
تو تم نے کیا کہا ۔۔؟؟
منع کر دیا ، اب جیسے بھی ہو، نکاح تو ہو چکا ہے ۔امثال نے اسے چڑایا
تو بات اتنی کیسے بڑھی؟؟
دھمکی دے رہا تھا کہ یا تواسکی بات مان جاؤں یا پھر ۔۔۔
یا پھر۔۔۔ ؟؟
وہ تمہاری جان لے لے گا
تو تم نے کیا کہا ؟جانے وہ کیا سننا چاہ رہا تھا
کہنا کیا تھا اسکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی اسکا گریبان میرے ہاتھ میں تھا کہ اگر ایسا کچھ سوچا بھی تو عبرتناک موت دوں گی امثال کی بات سن کر عادل کے ہونٹ گہری مسکراہٹ میں ڈھلے تھے
اتنی محبت ہو گئی ہے اس دو نمبر ایس پی سے کہ اس کے خلاف بات بھی نہیں سن پائی ؟عادل نے ایک قدم اسکی طرف بڑھایا
تم پھر سے فلرٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہو ۔۔۔ امثال دو قدم پیچھے ہوئی۔۔۔
تو کیا نہیں کرتی ہو ؟عادل نے ایک قدم مزید آگے بڑھایا
بلکل بھی نہیں ۔ امثال ایک قدم مزید پیچھے ہٹی
مگر رات کو تو کوئی بڑی بے چینی اور بے صبری سے انتظار کر رہا تھا ۔مجھےدیکھتے ہی اسکی آنکھوں میں جو چمک آئی تھی وہ قابلِ دید تھی اسکی مسکراہٹ دیکھ کر نثار ہونے کو جی چاہ رہا تھا عادل نے اسکو پکڑ کر اپنے پاس کیا
تم واقعی ہی مشن پر گئے تھے نہ ۔۔ تمہاری حرکتیں دیکھ کر مجھے شک ہو رہا ہے ،جب سے آئے ہو اسی طرح کی الٹی سیدھی باتیں کر رہے ہو ۔۔ امثال نے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی
پتہ نہیں یار مگر دن بدن عزیز ہوتی جا رہی ہو ۔اگر یہی حال رہا تو کسی کام کا نہیں رہوں گا
ایک بات کہوں ؟امثال نے اسکے قریب ہوتے ہوئے اسکے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لیا
کہو۔۔۔اسکو خود کے اتنا قریب دیکھ کر وہ تو کہیں اور ہی پہنچ چکا تھا
تم جانتے ہو کہ تم ۔۔۔۔۔۔۔
میں کیا۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟وہ اسکے سحر میں جکڑا جا رہا تھا
تم مجھ پر لائن مار رہے ہو ۔امثال کی بات سن کر اسکا فسوں ٹوٹا تھا
لاحولاولا قوۃ ۔۔ اس نے سر جھٹکا
شہری بھائی آپ ۔امثال نے اسکے پیچھے دیکھتے ہوئےکہا تو اس نے جلدی سے اسکا ہاتھ چھوڑا تو وہ دروازے کی طرف بھاگی ۔
یہ چیٹینگ ہے یار۔۔۔ عادل نے دور کھڑی امثال کو دیکھتے ہوئے کہا تو زبان چڑاتی چلی گئی پیچھے وہ سر پرہاتھ پھیر کر رہ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لو بیٹا تمہاری بریانی آ گئی ساریہ بیگم نے بریانی کی ٹرے اسکے سامنے رکھی ۔وہ جانتی تھیں کہ ایک پلیٹ سے انکی بیٹی کا کچھ نہیں بننے والا تھا
ماما یہ بیمار بن کر فالتو میں سب سے خدمتیں کروا رہی ہے۔ صبح نانو نے اس کے لیے کڑی اور نہاری بھجوائی تھی اور اب آپ اس کے لیے بریانی بنا کر لائی ہیں ۔ ہمیں تو کوئی پوچھتا بھی نہیں ہے ۔ بازل نے جل کر کہا ۔
ہاں واقعی میرے بیٹے کو تو کوئی پوچھتا ہی نہیں ہے وہ الگ بات ہے کہ ہر چیز میں تم آدھا حصہ بڑے دھیان سے بانٹتے ہو
ہاں تو جب مجھے میرا حق نہیں ملے گا تو مجھے آواز اٹھانی پڑے گی۔
اگر تم باز نہیں آئے نہ تو تمہاری آواز کے ساتھ ساتھ میں تمہارا گلہ بھی دبا دوں گی ایک ہاتھ ابھی میرا سلامت ہے ۔ امثال کا اشارہ اسکی پلیٹ کی طرف تھا جہاں وہ بڑے انہماک سے بریانی اور بوٹیوں کا پہاڑ بنانے میں مصروف تھا
خبردار جو تم دونوں نے کوئی پھیلاوا ڈالا اور بازی تم بہن کو بھی کھلاؤ میں زرا تمہارے بابا کو چائے دے دوں۔ ساریہ بیگم کہتی باہر نکل گئیں
ہاں یاد آیا یہ تمہارے اور زروا کے بیچ کیا چل رہا ہے؟؟؟
کچھ نہیں یار وہ کچھ دن پہلے میرے پاس آئی تھی کہ اسے بھی یونی میں ایڈمیشن لینا ہے تو عادل بھائی سے پرمیشن دلوانے میں اسکی ہیلپ کریں
اچھا اور یہ موبائل کا کیا چکر ہے اور تم اس سے رابطے میں کیوں تھے؟؟؟
وہ ۔۔۔ وہ کہہ رہی تھی کہ اسے بھی موبائل رکھنے کا شوق ہےمگر عادل بھائی رکھنے نہیں دیتے تو میں نے اسے لا دیا۔ لے تو نہیں رہی تھی مگر میں نے کہا کہ یہ میں نے نہیں ژلے نے دیا ہے ۔کوئی پوچھے تو تمہارا نام لے دے ۔اور جہاں تک رہی رابطے کی بات تو اس دن میں نے تمہیں کال کی تھی لیکن تمہارا نمبر آف جا رہا تھا تو میں نے اس سے کہا کہ تم سے بات کروا دے
اچھا بس اور تو کوئی بات نہیں؟؟ امثال نے اسے پرکھتی نظروں سے دیکھا
نہیں اور کیا بات ہو گی بھلا
صحیح ۔۔۔مجھے نہ تمہیں کچھ بتانا تھا وہ کچھ دن پہلے بابا کی پھپھو آئی تھیں زروا کا ہاتھ مانگنے اپنے پوتے کے لیے۔ امثال نے سرسری سا انداز اپنایا
اچھا ۔۔۔۔۔۔
ہوں امثال نے سر ہلایا
ویسے ژلے میں کہہ رہا تھا کہ کیوٹ اور معصوم سی ہے ۔آگے تم دیکھ لو ۔بازل نے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے کہا تو وہ کھلکھلا کر ہنسی ۔اندر آتے شہریار نے محبت سے اسے دیکھا تھا
کیا بات ہے بھئی میرے شہزادے کیوں ہنس رہے ہیں ؟
بھائی آپکا یہ والا شہزادہ کہتا ہے کہ وہ اب جوان ہو گیا ہے اس لیے اس کا کچھ سوچا جائے اور میرا بھی یہی خیال ہے کہ کچھ سوچ ہی لینا چایئے
ہاں اسکے لیے سوچو اور میرا کسی کو بھی خیال نہیں ہے ۔اگر تم لوگوں کو یاد ہو تو میں پانچ سال بڑا ہوں ۔مگر یہاں کسی کو فکر ہی نہیں ہے ۔ دو کروا کر بیٹھے ہیں اور تیسرا تیاری میں ہے عدید نے کافی کے مگ انکے سامنے رکھتے ہوئے جلے دل کے پھپھولے پھوڑے
میں نے تو اس دن کہا تھا کہ سدرہ آپی کے بارے میں سوچ لیں خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ سمجھدار بھی ہیں اور آپکے غصے کو بھی جھیل لیا کریں گی
ژلے میں نے کب غصہ کیا ہے بھلا۔؟؟ عدید نے اسے آنکھیں پھاڑ کر دیکھا
کیوں اس دن ڈاکٹر پر چیخے نہیں تھے ؟سچی بتاؤں تو میں بھی بہت ڈر گئی تھی
ہو کہ امثال اور ڈر گئی تھی میں مان ہی نہیں سکتا۔بازل نے نفی میں سر ہلایا
تمہیں نہیں پتہ اس دن یہ سرخ آنکھیں اور سخت چہرہ لیے کوئی ویمپائر ہی لگ رہے تھے مجھے لگا میں نہیں بچتی ۔۔ہارٹ اٹیک سے ہی مر جانا ہے میں نے
اللہ نہ کرے ۔تینوں کے منہ سے بیک وقت نکلا تھا امثال کھلکھلا کر ہنسی
واہ بھئی کیا ٹائمنگ ہے
اچھا بھائی ایک بات بتاؤں اس دن وہاں ایک نرس اسے کافی دیر سے تاڑ رہی تھی جیسے ہی انکا غصہ دیکھا بےچاری دبے پاؤں کھسک گئی
سچویشن کوئی بھی ہو تمہاری نظریں ہر طرف گھوم رہی ہوتی ہیں ۔شہریار نے اسے چیت لگائی
اچھا چلیں دس بج گئے ہیں جا کہ سو جائیں۔ امثال نے عدید اور شہریار کے چہرے پر تھکاوٹ دیکھتے ہوئے کہا
نہیں ہم لوگ یہی سوئیں گئے ۔۔۔۔
ہر گز نہیں آپ تینوں میں سے کوئی بھی میرے کمرے میں نہیں سوئے گا ۔۔۔ مجھے یہ میرا کمرہ کم اور فٹ پاتھ زیادہ لگتا ہے جہاں جگہ جگہ فقیر سو رہے ہوتے ہیں ۔ اپنے اپنے کمرے میں جائیں اور سکون سے لمبی تان کر سو جائیں
نہیں بچے تمہیں رات میں کسی چیز کی ضرورت نہ ہو اس لیے ہمارا یہاں ہونا ضروری ہے
بلکل بھی ضروری نہیں ہے مجھے کچھ نہیں چایئے۔ آپ اٹھیں چلیں سارے دن کے تھکے آپ رات کو بھی سکون نہیں کریں گے۔ امثال اسکو بازو سے پکڑ کر کھینچتے ہوئے باہر لے گئ۔ پیچھے وہ دونوں منہ کھولے انہیں دیکھ رہے تھے
کتنی طوطا چشم لڑکی ہے یہ کیسے ایک دوسرے سے لاڈ کرتے ہوئے ہمیں ایسے نظر انداز کرگئے ہیں جیسے ہم یہاں ہوں ہی نہ ۔ عدید نے منہ بنایا
ہماری بےعزتی نہیں ہوگئی؟ عدید نے بازل کے کندھے پر سر رکھا
کوئی نہیں تم فیل مت کرو ۔بازل نے اسے حوصلہ دیا ۔
چلیں بھائی گڈ نائٹ ۔۔۔ سو جائیں میں زرا انہیں بھی گڈ نائٹ کہہ لوں۔ امثال مسکراتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف پلٹی
تم لوگ ابھی تک گئے نہیں۔۔ چلو نکلو یہاں سے، میرا سونے کا ٹائم ہو گیا ہے۔ امثال نے چٹکی بجاتے ہوئے انہیں دروازے کا راستہ دکھایا
ژلے ۔۔۔۔۔۔عدید نے صدمے سے دیکھا
کیا ژلے ۔۔۔۔ چلو ۔ چلو شاباش وہ دونوں منہ لٹکائے باہر کی طرف بڑھے تو امثال انہیں روک کرباری باری دونوں کے گلے لگی اور گال چومے ۔ابھی پوری طرح سے خوش بھی نہیں ہوئے تھے کہ امثال نے انہیں پوری قوت سے دھکا دیا اور وہ کمرے سے باہر کوریڈور میں جا گرے
شب بخیر ۔امثال نے دروازے کے بیچوں بیچ کھڑے ہو کر ہاتھ ہلایا۔ کوریڈور ایک دم قہقوں سے گونج اٹھا تھا ۔سامنے مصطفی شاہ عادل عائشہ اور شہریار کھڑے تھے
پتر ایسی شب بخیر میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھی اور سنی ہے مصطفی شاہ نے ہنستے ہوئے کہا
کیا یار دادا جان آپ بجائے ہمیں اٹھانے کے ہنس رہے ہیں اور آپ لوگ یہاں کر کیا رہے ہیں ۔ عدید کراہتے ہوئے اٹھا اور ہاتھ دے کر بازل کو بھی اٹھایا
پتر ہم تو ہال میں بیٹھے تھے ،شہری نے ہمیں بلایا کہ آئیں آپ لوگوں کو گڈ نائٹ کہنے کا انوکھا انداز دکھاتا ہوں
چلو اب جا سو جاؤ ۔۔ میری طرف سے بھی گڈ نائٹ ۔کہتے ہوئے وہ نیچے اتر گئے
یہ آپ طوطا مینا کی جوڑی کیوں کھڑی ہے یہاں۔ ؟؟امثال شہریار کی طرف گھومی جہاں عائشہ شہریار سے ایک قدم کے فاصلے پر کھڑی تھی
بیوی ہے میری، کسی کو کوئی پرابلم ہے ۔۔ ؟؟شہریارنے عائشہ کے کندھے پر اپنا بازو لپیٹا تو وہ سٹپٹا کر رہ گئی
اوہ ہ ہ ۔۔۔خیال سے اسکا بھائی کھڑا ہے یہاں۔ امثال نے آنکھیں گھوماتے ہوئے عادل کی طرف اشارہ کیا
کہا نہ بیوی ہے۔ میری شہریار نے جتایا
اچھا اچھا ٹھیک ہے مگر تھوڑا سنبھال کہ عنقریب آپکی یہ زوجہ محترمہ بے ہوش ہونے والی ہیں۔ امثال نے عائشہ کی غیر ہوتی حالت پر چوٹ کی ۔ عائشہ نے ہاتھ ہٹانا چاہا مگر شہریار نے گرفت مضبوط کر دی
بھائی مجھے نہیں پتہ مجھے بھی بیوی چایئے ۔بازل نے نیچے بیٹھتے ہوئے ایڑیاں رگڑی
کس دکان سے اور کون سا برانڈ چایئے ،ہم ابھی لا دیتے ہیں اپنے بھائی کو ۔ امثال نے دروازے سے ٹیک لگاتے ہوئے اسے پچکارا
کہیں سے بھی لا دو۔۔۔۔ کوئی سا بھی لا دو۔۔۔ بس لادو ۔ بازل نے بچوں کی سی معصومیت سے کہا
رکو میں تمہیں لا دیتا ہوں شہریار اسکی طرف بڑھا تو اس نے اٹھ کر بھاگنے میں ہی عافیت جانی
چلو اب سو جاؤ تم لوگوں کا آج کا کوٹہ پورا ہوگیا ہے شہریار نے کہا تو سب ہی سر ہلاتے ہوئے اپنے اپنے کمرے کی طرف بڑھے
ویسے کیا خیال ہے آج میں نہ رک جاؤں تمہارے پاس ۔عادل نے جھک کر امثال کے کان میں سرگوشی کی تو اس نے اسے گھورا
ایس پی صاحب گڈ نائٹ ۔عدید اور بازل پھر ٹپکے تھے ۔وہ جلدی سے پیچھے ہٹا
ہاں ہاں گڈ نائٹ۔ عادل نے ہاتھ جھلاتے ہوئے گویا جان چھڑوانی چاہی
تو چلو چلتے ہیں پھر۔۔ یہاں کیوں کھڑے ہو۔۔۔؟؟سونا نہیں ہے؟ ۔عدید نے شرارت سے اسکا ہاتھ پکڑا اور کھینچتے ہوئے اسے اسکے کمرے میں لے جا کر چھوڑا
گڈ نائٹ ۔دونوں نے یک زبان ہو کر کہا اور چھپاک سے باہر نکل گئے پیچھے وہ دانت پیس کر رہ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایکسیڈینٹ کو تقریباً پندر روز گزرچکے تھے اسکے لاکھ واویلا مچانے پر بھی شہریارنے دس گارڈزاسکے ساتھ ہر وقت کےلیے تعینات کر دیے تھے یونی میں بھی راشد شاہ کی مدد سے اس نے سارے گارڈز کو یونی میں یہاں تک کے کلاس روم کے اندر تک کی پرمیشن لے لی تھی وہ جب بھی باہر نکلتی ایک گاڑی اکثر اسکے تعاقب میں رہتی وہ جانتی تھی کہ بہرام شاہ کی گاڑی ہے مگر گارڈز کی وجہ سے وہ کچھ کر نہیں پا رہا تھا ۔صبح کے دس بج رہے تھے اتوار کی چھٹی ہونے کی وجہ سے سبھی گھر پر تھے، جمال فیملی کا لنچ آج انکی طرف تھا اس لیے صبح سے ہی سب خواتین مل کر کھانے کی تیاریاں کر رہی تھیں بشیر شاہ انکا بیٹا اور بہو بھی آئے ہوئے تھے بہرام کے لیے رامین کا رشتہ لے کر ۔کہ وہ ٹوٹا ہوا رشتہ پھر سے جوڑنا چاہتے ہیں ، وہ حویلی کی چھت پر کھڑی اس وقت بھی بہرام کی گاڑی حویلی سے کچھ فاصلے پر کھڑی دیکھ رہی تھی
چلو آج اس تماشے کو ختم کرتے ہیں بڑبڑاتی ہوئی وہ نیچے آئی۔عدید کو بتا کر ایک ملازمہ کو ساتھ لیا اور دبے پاؤں پچھلے دروازے سے نکلی ایک لمبا چکرکاٹ کر وہ اسکے پاس سے ایسے گزر گئی جیسے اس نے اسے دیکھا ہی نہ ہو ۔وہ دونوں باتیں کرتی جا رہی تھیں کہ اسے اپنے پیچھے آتا دیکھ کر امثال مسکرائی ۔قدرے خالی جگہ پر اسنے گاڑی روکی دروازہ کھول کر ایک جھٹکے سے امثال کو اندر کھینچا اوریہ جا وہ جا پیچھے ہونق بنی ملازمہ کو ہوش آیا اور وہ حویلی کی طرف سر پٹ دوڑی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جی۔۔۔۔ بی بی جی وہ ۔۔۔ امثال بی بی ۔۔۔ جب ملازمہ نے ہال میں داخل ہوتے ہوئے اٹک اٹک کر کہا
کیا ہوا امثال کو۔۔؟؟؟
مصطفی شاہ بے اختیار اٹھے تھے
وہ ۔۔۔۔۔ صاحب جی ۔۔۔۔۔ امثال بی بی کو نہ بہرام شاہ اغواء کر کہ لے گئے ہیں ۔۔۔
ملازمہ نے ہاپنتے کاپنتے بات مکمل کی
یا اللہ خیر ۔بی جان نے سینے پر ہاتھ رکھا۔ باقی سب بھی بے اختیار کھڑے ہوگئے تھے ان سب میں اگر نارمل تھے تو وہ شہریار،عدید ،بازل اور راسم شاہ تھے سب کو انہیں اتنا پرسکون دیکھ کر حیرانی ہوئی۔عدید شہریاراور راسم شاہ کو بتا چکا تھا
اوہ اچھا میں تو ڈر ہی گیا تھا ۔شہریار نے گہری سانس لی
عاصم پتا کرو کہاں لے کر گیا وہ خبیث ۔۔۔۔اب اوچھی حرکتوں پر اتر آیا ہے وہ کمینہ ۔۔۔۔۔دیکھ رہے ہو تم اپنے پوتے کے کرتوت۔؟؟اگر ہماری پوتی کو خراش بھی آئی نہ تو بہت برا ہوگا تمہارے لیے ۔ مصطفی شاہ بشیر شاہ پر گرجے
لگتا ہے واقعی ہی زندگی سے تنگ آگیا ہے جو یوں اسکے پیچھے پڑ گیا ہے ۔ عدید نے شہریار کی طرف جھکتے ہوئے موبائل نکالا تو وہ مسکرا دیا جسے دیکھ کر بی جان کو اچنبھا ہوا
آئے ہائے تمہاری بہن کو وہ اغواہ کر کے لے گیا ہے اور تم مسکرا رہے ہو ۔۔؟
بی جان نے انہیں ٹوکا
آپ امثال کی فکر مت کریں ۔جو اس نے کرنا تھا پہلےبے خبری میں کر گیا ۔۔ وہ ٹھیک ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔جو لے کر گیا ہے بس اسکی زندگی کی دعا کریں ۔۔عدید نے ہنستے ہوئے کہا ۔۔تو سب نے اسے عجیب انداز میں دیکھا ۔۔ بشیر شاہ مجرموں کی طرح سر جھکائے کھڑے مصطفی شاہ کی گھن گرج سن رہی تھے
عدید نے اپنے موبائل میں کچھ دیکھتے ہوئے بازل کو پکڑایا اور اسے دیوار پر لگی ایل ای ڈی کے ساتھ اٹیچ کرنے کو کہا اگلے ہی لمحے سکرین روشن ہوئی اور اس پر ایک کمرے کا منظر دکھائی دینے لگا جس میں امثال ایک کمرے میں ٹہل رہی تھی ۔اسنے شائد اسے عام سی لڑکی سمجھ کر باندھنے کا تکلف نہیں کیا تھا سب حیرانگی سے ایل ای ڈی کو دیکھ رہے تھے
تم مجھے یہاں کیوں لائے ہو۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
بہرام شاہ کو اندر آتے دیکھ کر امثال نے انجان بننے کی حد کر دی تھی ۔
ظاہری سی بات ہے تمہیں اغوا کر کہ لایا ہوں تو تمہاری شکل دیکھنے کے لیے تو نہیں لایا ۔۔۔۔۔۔ وہ کیا ہے نہ مجھے تم جیسی حیسن لڑکیاں بہت اچھی لگتی ہیں اور میں وقتاً فوقتاً انہیں خراجِ تحسین پیش کرتا رہتا ہوں ۔بہرام شاہ خباثت سے مسکرایا
اور تمہاری تو پھر بات ہی الگ ہے۔۔۔ کہا بھی تھا کہ اس ایس پی کو چھوڑ دو ۔عزت سے اپنانا چاہا تھا ۔اب جب کہ تم کچھ دن یہاں رہو گی تو میں بھی دیکھتا ہوں ایک اغواشدہ لڑکی کو وہ اپنے نکاح میں کیسے رکھتا ہے۔اسکی بات سن کر عادل نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچیں
ہائے اللہ تم مجھے اغواء کر کہ لائے ہو ۔۔ امثال نے تالی ماری تو اس کی آنکھیں پوری کھلیں
اوہ گاڈ۔۔۔۔ تمیں پتا ہے مجھے اغواء ہونے کا کتنا شوق تھا ۔۔۔ میں اکثر سوچتی تھی کہ جیسے فلموں ڈراموں میں ہوتا ہے، ویسے کوئی مجھے بھی اغوا کرے۔۔۔۔۔۔میرے سر پر بندوق رکھے اور کہے دیکھو لڑکی اگر زندگی پیاری ہے تو چپ چاپ نکاح نامے پر سائن کرو اور میں روتے دھوتے سائن کر دیتی ۔۔۔۔۔۔۔ پھر وہ مجھے لے کر میرے گھر آتا اور آ کر ڈنکے کی چوٹ پر میرے بابا سے کہتا ۔۔۔۔۔۔۔۔سسر جی میں نے آپکی بیٹی سے نکاح کر لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب یہ میری امانت ہے۔۔۔۔۔۔ماما تو سنتے ہی جھٹ سے گرتیں اور پٹ سے بے ہوش ہو جاتیں ۔۔بابا مجھے دلاسہ دیتے کچھ نہیں ہوتا بیٹا میں ہوں نہ تم فکر مت کرو۔۔۔۔۔۔ہائے اللہ کتنا مزہ آتا نہ ۔۔۔۔آنکھیں اور ہاتھ پھیلاتی وہ پرجوش ہو کر اپنے اغوا کا نقشہ کھینچ رہی تھی وہ آنکھیں پھاڑے اسکی چلتی زبان اور ایکسئاٹمنٹ دیکھ رہا تھا۔ حویلی والے بھی سکرین پر اس خواہش سن کر شاکڈ تھے ۔ اسکی آخری بات سن کر راسم شاہ نے ہلکا سا قہقہہ لگایا
لو جی جو اغواء ہوئی ہے جب اسے کوئی اعتراض نہیں ہے تو ہم یا آپ کون ہوتے ہیں ۔۔؟؟ بہرام شاہ کی ماں زینت بیگم نے بڑبڑاتے ہوئے کہا
تمہارا ذہنی توازن تو ٹھیک ہے نہ۔ لگتا ہے ایکسیڈینٹ سے تمہارے سر میں چوٹ کچھ زیادہ ہی گہری لگی ہے ۔۔ بہرام شاہ نے بے ساختہ اس سے پوچھا
میرا تو ٹھیک ہے البتہ تمہارا خراب لگتا ہے جو مجھے اٹھا لائے ہو امثال نے بڑبڑائی
کچھ کہا کیا ۔۔۔۔؟؟
نہیں تم بتاؤ ۔۔تم کچھ کہہ رہے تھے شائد ۔۔
پہلے تو واقعی ہی میں تم سے شادی کرنا چاہتا تھا مگر اب ارادہ بدل دیا ہے ویسے بھی میرے گھر والے تمہاری کزن کے رشتے کے لیے گئے ہوئے ہیں تو مجھے تمہارے ساتھ کچھ ٹائم گزارنا ہے تعاون کرو گی تو تمہارے لیے ہی بہتر ہوگا ورنہ مجھے زبردستی بھی کرنی آتی ہے ۔۔اسکی بات سن کر لاونج میں بشیر شاہ نے کھا جانے والی نظروں سے اپنے بیٹے کو دیکھا تھا ۔ مصطفی شاہ نے بڑی مشکل سے اپنا غصہ ضبط کیا ہوا تھا انکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کچھ کر بیٹھتے ۔
ریلیکس دادا جانی بھروسہ رکھیں کچھ نہیں ہوگا اسے ۔میں آلریڈی وہاں پر سیکورٹی بھجوا چکا ہوں بس ایک کال کی دیر ہے ۔عدید نے پانی کا گلاس انکی طرف بڑھاتے ہوئے آگاہ کیا
اوہ کوئی بات نہیں۔۔۔۔ دھمکی کیوں دے رہے ہو ۔۔ویسے بھی کافی دن ہو گئے ہیں میں نے بھی ایڈوینچر نہیں کیا۔۔۔۔ تعاون تو ایسا کروں گی کہ آج تک نہ ہی کسی نے کیا ہو گا نہ ہی دیکھا ہوگا ۔ امثال نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں پھنسا کر سیدھی کی اور بازو اوپر کیے ۔شہریارنے صوفے پر پیچھے کی جانب ٹیک لگاتے ہوئے ٹانگ پر ٹانگ چڑھائی ۔ وہ اسکے ہر انداز کو اچھے سے پہچانتا تھا ۔آخر کو اسکا استاد رہ چکا تھا اور اپنے شاگرد پر پورا بھروسہ تھا۔جب کہ باقی سب اسکی بات سن کر شاک ہوئے تھے
جیسے ہی وہ سرشار سا آگے بڑھا وہ بھوکی شیرنی کی طرح اس پر جھپٹ پڑی اور اس سےپہلے کہ وہ سنبھلتا وہ اسکے چہرے کا نقشہ بدل چکی تھی۔ لاونج میں سبھی افراد ہکا بکا بیٹھے سکرین کو دیکھ رہے تھے جہاں وہ بہرام شاہ کواپنا پنچینگ بیگ سمجھ کر مار رہی تھی
تمہیں تعاون چائیے تھا نہ ۔۔؟ اب کیا ہوا؟ میں تو کر رہی ہوں ، تم بھی تو تھوڑی ہمت کرو نہ۔۔ امثال نے اسے کک مارتے ہوئے کہا ۔ بہرام شاہ کی ماں نے بے ساختہ اپنے سینے پر ہاتھ رکھا تھا
حرامزادے تو جانتا نہیں اُٹھا کر کسے لایا ہے۔ تمہیں کیا لگا تھا کہ تمہاری ماری گئی گولی اور کروایا گیا ایکیسیڈینٹ بھول جاؤں گی ۔کہا تھا نہ کہ ایک بار میں سارے حساب چکاؤں گی ۔۔تمہارا وہ حال کروں گی کہ ساری زندگی اپنے مرد ہونے پر شک کرتے رہو گے۔ اس نے ایک اور کک لگائی تھی ۔۔
دنیا میں ابھی تک کوئی ایسا ماں کا لال پیدا ہی نہیں ہوا جو امثال راسم شاہ کو اغواء کر سکے ۔۔تجھے کیا لگتا ہے تو نے مجھے اغواء کیا ہے ۔۔ آج اگر میں بغیر گارڈز کے نکلی ہوں تو صرف تمہارا دماغ سیٹ کرنے کے لیے ،مجھے پتہ تھا کہ کہ تم ایسی ہی کوئی نیچ حرکت کرو گے ۔ ۔سچی کہوں تو جب جب سامنے آتے تھے نہ تو پتا نہیں کیوں خواہ مخواہ تمہاری درگت بنانے کو دل کرتا تھا ۔۔۔تو میں نے سوچا کہ چلو تم پر ہاتھ صاف کرنے کا اس سے اچھا موقع نہیں ملے گا۔۔۔۔۔۔ وہ کیا کہتے ہیں کہ رسمِ دنیا بھی ہے۔۔۔۔۔۔۔ موقع بھی ہے اور دستور بھی ۔۔۔۔۔ تجھ جیسے کتوں کو سیدھا کرنا امثال شاہ کے بائیں ہاتھ کا کام ہے ۔۔امثال نے غراتے ہوئے اسکے منہ پر تھپڑ لگایا
ویسے ایسی پھینٹی تو تم نے تھانے میں بھی نہیں لگائی ہو گی آج تک ۔۔۔سچ میں بہت مزہ آ رہا ہے ۔۔ جبھی تمہارے سالے اتنے سکون سے بیٹھے تھے ۔۔۔امان نے عادل کے کان میں کہا تو وہ مسکرا دیا
گھٹیا انسان اب تک تو جتنی لڑکیوں کی زندگی خراب کر چکا سو کر چکا اب آئندہ کے لیے تمہیں اس قابل نہیں رہنے دوں گی اسکی مار کھا کہ وہ نیم بے ہوش ہو چکا تھا ۔اسکو بےہوش ہوتے دیکھ کر اسنے پاس پڑا پانی کا جگ اسے کے اوپر الٹا تو اس نے کراہتے ہوئے آنکھیں کھولی
چل اب بول کہاں جانا ہے؟؟؟ ہسپتال یا حویلی لیکن کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے ایک بات یاد رکھنا اگر تو ہسپتال جانا ہے نہ اتنی مار اور کھانی پڑے گی کیونکہ ابھی میرا دس فیصد غصہ بھی نہیں اترا اور اگر حویلی جانا ہے تو یاد رکھنا میرے تین بھائی شوہر اور دو کزنز ہیں تایا، دادا جانی اور بابا جانی ۔ کل ملا کہ یہ دس گیارہ لوگ بنتے ہیں اور اتنے ہی جمال شاہ فیملی کے ہیں اگر ان سب کا ایک ایک تھپڑ بھی پڑا نہ تو گندھا ہوا آٹا بن جاؤ گے چاہے کوئی چپاتی بنا لے چاہے کوئی پراٹھا۔۔۔امثال نے اسکے بال مٹھی میں جکڑکر کھینچے ۔
حویلی ۔۔۔۔حویلی جانا ہے ۔بہرام شاہ نے اٹکتے ہوئے کہا ۔ اس نے سوچا حویلی جا کر کسی نہ کسی طرح جان بخشی کروا لے گا ۔۔مگر اسکے ہاتھوں مزید درگت سہنے کی ہمت نہیں تھی ۔اس وقت وہ اسے کسی ڈائن سے کم نہیں لگ رہی تھی ، رہ رہ کر اس لمحے کو کوس رہا تھا، جب اس سے الجھنے کا سوچا تھا ۔ابھی تک باہر سے بھی اسکی مدد کو کوئی نہیں آیا تھا جس جگہ وہ موجود تھا وہاں پر ڈرائیور اور اسکے چند گارڈز کے علاوہ کوئی نہیں تھا ۔۔کمرہ چونکہ ساؤنڈ پروف تھا تو باہر آواز نہ جا سکی
آآآآآآآ۔ میلے بے بی کو حویلی جانا ہے ۔۔۔۔ماں شدقے ۔۔ماں واری ۔۔ ابھی چلتے ہیں ۔ اسکی بات پر لاونج میں سب کی ہلکی سی ہنسی گونجی تھی ادھر ادھر دیکھنے کے بعد جب کچھ نہ ملا تو کھڑکی کا پردہ کھینچا اسکو دو حصوں میں درمیان میں سے پھاڑا آدھے سے اسکے دونوں ہاتھ پکڑ کر پیچھے کی جانب کر کہ باندھے اور باقی کا آدھا اس نے اسکے منہ پر باندھا
اسکو وہیں چھوڑ کر وہ بیڈ کے دراز کی تلاشی لینے لگی۔ اس میں کچھ نہ پا کر وہ الماری کی طرف بڑھی اسکو کھولا تو اس میں اسے پسٹل پڑی نظر آئی ۔اسکو اٹھا کر چیک کیا تو اس میں چھ گولیاں تھیں پسٹل کو لوڈ کر کہ ایک ہاتھ میں پکڑا اور دوسرے سے بہرام شاہ کو گریبان سے پکڑا اور کھینچتی باہر لے گئ۔۔سکرین پر دیکھتے سبھی افراد جو ابھی تک منہ کھولے اسکو پیٹتا دیکھ رہے تھے۔ یوں بے خوفی سے پسٹل کو چیک اور لوڈ کرتے دیکھ کر انکی آنکھیں پھیلی تھیں
جیسے ہی وہ باہر نکلی بہرام شاہ کے گارڈز حیرت سے مرنے والے ہو گئے جو حالت وہ اسکی توقع کر رہے تھے وہ بہرام شاہ کی تھی اور وہ لڑکی انکے باس کو گریبان سے پکڑ کر کھینچتے ہوئے لا رہی تھی ہوش میں آتے ہی وہ اسکی طرف دوڑے
اے لڑکی رکو کہاں جا رہی ہو اور یہ باس کو کیا ہوا ہے؟؟؟ ان میں سے ایک نے کہا
کچھ نہیں تھوڑا سا رومینس کیا تھا ، تمہارے باس کے ساتھ۔۔۔ لیکن یہ بیچارہ سہہ نہیں پایا ،اس لیے ایسی حالت ہو گئی ہے اور ابھی اسے اسکے نہ ہونے والے سسرال لے کہ جا رہی ہوں ، امثال نے مسکراتے ہوئے اسکی بگڑی حالت کی طرف اشارہ کیا تو ان میں سے ایک نے مسکراہٹ چھپانے کے لیے رخ موڑا
لڑکی باس کو چھوڑو ورنہ ۔۔اسکو شائد وفاداری کا جوش چڑھا تھا اس سے پہلے وہ آگے مزید بولتا امثال نے اسکی ٹانگ کا نشانہ لیتے ہوئے گولی چلا دی ۔ بی جان نے دہل کر اپنے سینے پر ہاتھ رکھا
اب اگر اور کسی کو وفاداری کے کتے نے کاٹا ہے تو آؤ پہلے تم سے تو نبٹ لوں امثال غرائی تو سب پیچھے ہٹ گئے۔ گاڑی کی ڈگی کھول کر اس میں بہرام شاہ کو پٹخا تو اسکی کراہ بلند ہوئی تھی
چابی دو ۔۔ امثال نے ایک طرف کھڑے ڈرائیور سے کہا تو اس نے خاموشی سے چابی اسے پکڑا دی ۔ ڈرئیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہی اس نے گاڑی فل سپیڈ سے دوڑائی
دس منٹ بعد دھاڑ سے ہال کا دروازہ کھلا اور امثال ایک ہاتھ میں پسٹل پکڑے دوسرے ہاتھ سے بہرام کو گھسیٹتے ہوئے اندر لائی اور لا کر مصطفی شاہ کے قدموں میں پھینکا
یہ لیں دادا جان آپکا ہوتے ہوتے رہ جانے والا داماد ۔۔۔۔۔۔ امثال نے ہاتھ جھاڑے ۔ سبھی آنکھیں پھاڑے کبھی امثال کو دیکھتے تو کبھی مصطفی شاہ کے قدموں میں پڑے بہرام شاہ کو جسکی حالت بدتر تھی سارا منہ نیل و نیل اور سوجھا ہوا اور منہ سے خون نکل رہا تھا ۔وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں پڑا کراہ رہا تھا
یار عاشی آپو کچھ کھانے کو دے دیں ۔۔۔ بہت بھوک لگی ہے اس کمینے کو بھی صرف اغواہ کرنے کا پتا تھا یہ نہیں ہوا کہ کچھ کھانے کا ہی بندوبست کر لیتا کب کی نکلی ہوئی ہوں ۔۔ امثال نے واپس اپنی ٹون میں آتے ہوئے عائشہ سے کہا اور پسٹل عادل کی طرف پھینکا جسے اس نے کیچ کر لیا تھا
حد ہوگئی اس لڑکی کو اس سچویشن میں بھی کھانے کی پڑی ہے ۔۔عادل دانت پیس کر رہ گیا
یار آپ لوگ کھڑے کیوں ہیں لے جائیں اسکو۔۔۔۔۔ پٹی وٹی کروائیں اس سے پہلے میرا ارادہ بدل جائے۔۔۔ قسم سے انکل میرے ہاتھوں میں ابھی بھی بہت کُھجلی ہو رہی ہے ۔امثال نے بشیر شاہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا توانکے بیٹے نے سہارا دے کر اسے اٹھایا اور باہر لے گیا۔۔
میں بہت شرمندہ ہوں مصطفی پلیز معاف کر دو۔ بشیر شاہ نے ندامت سے سر جھکاتے ہوئے کہا
تمہارے پوتے کی وجہ سے ہماری لاڈلی مشکل میں پڑ گئی تھی دو بار اس نے اسکی جان لینے کی کوشش کی ہے۔اس سے پہلے میں دوستی اور رشتہ داری کو بھول جاوں تم لوگ جا سکتے ہو۔ ہماری پوتی نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ورنہ وہ کمینہ یہاں سے زندہ نہ جاتا
چھوڑیں نہ دادا جانی ان سب میں انکا کیا قصور جو آپ انہیں ڈانٹ رہے ہیں۔امثال انکی شرمندہ صورت دیکھی تو مصطفی شاہ کوٹالنا چاہا
نہیں پتر غلطی ہماری ہے ہم اپنے پوتے کے قول و فعل کے زمہ دار ہیں تم بھی ہمیں معاف کر دینا اور لڑکیوں کو تم جیسا ہی ہونا چاہئیے ،باہمت اور پراعتماد ۔تم نے ٹھیک کہا تھا لڑکیوں کو ہر بات اپنے باپ بھائیوں کی طرف لے کر نہیں بھاگنا چاہئیے ۔جیسی بھی صورتِحال ہو خود ہی سنبھالنا چاہئیے ۔مجھے فخر ہے تم پر۔ اللہ سلامت رکھے۔بشیرشاہ اسکے سر پر ہاتھ رکھتے باہر نکل گئے ۔وہ اچھلتی ہوئی جا کر عدید کے پاس جا بیٹھی
کہا تھا نہ کہ اس بار خالی ہاتھ نہیں جائے گا۔اسکی بات سن کر عدید نے قہقہہ لگایا
آئی ایم پراوڈ آف یو ۔عدید نے ہنستے ہوئے اسکو اپنے ساتھ لگایا
بہو آج تو مجھے تو بتا ہی دے تو نے اسے کیا کھا کہ پیدا کیا ہے ۔۔۔ بی جان نے مسکراتے ہوئے کہا
واقعی ساریہ آج تو مجھے بھی جاننا ہے۔ ثریا شاہ بھی اسکی طرف متوجہ ہوئیں تو وہ بے ساختہ ہنس دیں
جاری ہے