32.9K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

بی جان سب کی شادیاں ہو رہی ہیں مجھے بھی کرنی ہے ۔عادل نے ہاجرہ بیگم کی گود میں سر رکھا
ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کہتی ہوں تمہاری ماں سے کوئی لڑکی دیکھے تمہارے لیے۔ بی جان نے ہنکارہ بھرتے ہوئے کہا
بی جان دیکھنے کی کیا ضرورت ہے رشتے تو گھر میں ہی موجود ہیں ۔عادل نے سر اٹھا کر انکی طرف دیکھا
ٹھیک ہے۔ میں قاسم سے بات کرتی ہوں۔ بی جان نے کہا
آپ نے قاسم تایا سے کیوں بات کرنی ہے۔؟ عادل کو حیرت ہوئی
شامین کی بات تو طے ہوچکی ہے اور رامین کے لیے قاسم سے ہی بات کرنی پڑے گی نہ۔؟ بی جان نے مسکراہٹ دبائی
یار بی جان آپکو رامین نظر آ گئی ہے امثال نظر نہیں آئی؟ آپ راسم چاچو سےبات کریں نہ؟ عادل نے جھنجھلاتے ہوئے کہا تو بی جان کھل کر مسکرائیں
ہوں تو یہ بات ہے ۔۔کب سے چل رہا ہے۔؟بی جان نے اسکا کان مروڑا
آپ تو ایسے کہہ رہی ہیں، جیسے آپکو پتہ ہی نہ ہو۔ عادل نے منہ بنایا
جانتی ہوں میں بس انتظار میں تھی کہ کب تم آ کہ بات کرتے ہو۔ بی جان نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ بھی مسکرایا
ویسے میں اس سے بات کر چکی ہوں
پھر کیا کہا اس نے ۔عادل نے بے چینی سے پوچھا
کہہ رہی تھی کہ اسکا کسی کے ساتھ کونسا آنکھ مٹکا چل رہا ہے جو وہ شور مچائے گی اس لیے جو آپکی مرضی ۔۔ مزید تمہارے سامنے بلا کرپوچھ لیتی ہوں
رہنے دے بی جان آپکو پتہ ہے نہ آپکی پوتی الٹی کھوپڑی کی ہے ۔ اسکا کچھ پتہ نہیں کب اسکا دماغ گھوم جائے۔ آپ خالہ اور چاچو سے بات کریں ،سیدھا فیصلہ کریں اور منگنی کی انگوٹھی پہنا دیں جتنا اسے کم ٹائم دیں گی اتنا ہی اچھا ہو گا
کہہ تو تم ٹھیک رہے ہو میں کرتی ہوں بات سب سے۔ بی جان نے کہا
ہوں نہیں۔ آپ ابھی بلائیں سبکو ۔عادل کی بے صبری دیکھ کر وہ ہنسی تھیں
اتنی جلدی بھی کیا ہے
یار بی جان آپکو نہیں پتہ آپکی پوتی آج کل صدام شاہ کے ساتھ پائی جاتی ہے میں اسے کھونا نہیں چاہتا۔ پلیز آپ سمجھیں تو ۔عادل کے سنجیدگی سے کہنے پر بی جان نے سر ہلایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ اندر کیا چل رہا ہے؟ بے چینی سے لاونج کے چکر کاٹتی امثال نے کوئی دسویں بار یہ بات کی تھی۔ پہلے بی جان نے سب بڑوں کو اپنے کمرے میں جمع کیا تھا پھر شہریار اورعدید کو بھی بلوا لیا گیا تھا ۔تب سے امثال متجسجس تھی کہ آخر چل کیا رہا ہے
تم جا کہ پتہ کیوں نہیں کر لیتی؟ ۔یہاں چکر کاٹنے سے کیا ہوگا ۔اسکی ایک ہی بات کو بار بار دہرانے سے سانیہ بیزار ہو چکی تھی
کتنی بدتمیز ہو تم بندہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بات کرتے کرتے اسکی نظر ہال سے گزر کر سیڑھیاں چڑتے عادل پر پڑی تو جلدی سے لاونج سے نکلی
عادل بھائی بات سنیں.؟
اس لڑکی کے تین بھائی ہیں.. پھر بھی اسکو مجھے ہی بھائی بنانے کاشوق چڑھا رہتا ہے اور اس صدام کوکیسےنام سے بلاتی ہے۔۔۔۔۔ کوئی نہیں میں نے بھی پکا بندوبست کیا ہے بڑبڑاتے ہوئے وہ پلٹا
.
آپکو کچھ پتہ ہے کہ کیاکھچڑی پک رہی ہے دادو کے کمرے میں؟ ۔امثال نے اسکے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے کہا تووہ دلکشی سےمسکرایا
بالکل میں جانتا ہوں ۔۔انفیکٹ یہ کھیچڑی میری ہی رکھی ہوئی ہے
اچھا مجھے بھی بتائیں نہ؟ ۔ امثال کااشتیاق دیدنی تھا
جسٹ ویٹ اینڈ واچ ڈئیرسٹ کزن ۔۔۔۔۔۔۔ کچھ دیر بعد ایک بہت بڑا سرپرائز ملے گا تمہیں۔ تب تک میں ایک کام نمٹا کر آتا ہوں۔عادل کہتا ہوا اوپر چلا گیا
بی جان کے کمرے کا دروازہ کھلا اور سب ایک ایک کر کہ باہر نکلے ۔جیسے ہی شہریار باہر آیا امثال بھاگ کر اسکے پاس گئی
بھائی کیا ہوا ہے ۔۔؟
پاگل لڑکی۔ شہریار نے ہنستےہوئے اسکے سر پر چیت لگائی اور جا کر صوفے پر بیٹھا وہ بھی اسی کے ساتھ بیٹھ گئی
بھائی بتائیں نہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امثال نے اسکا بازو پکڑا ۔اتنے میں خدیجہ بیگم نے اپنے ہاتھ سے انگوٹھی اتار کر اسکے ہاتھ میں پہنائی
بیٹا ابھی بس انگوٹھی پہنائی ہے ۔ رسم ہم دھوم دھام سے کریں گے ۔خدیجہ بیگم نے اسکا ماتھا چوما انکی بات سن کر ہونق بنی امثال کو ہوش آیا
یہ کیا ہے خالہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیٹا تمہاری بات پکی ہوئی ہے نہ ۔۔۔۔ ایمرجنسی میں یہی رنگ موجود تھی ۔ جب رسم کریں گے تو تم اپنی مرضی کی بنوا لینا۔ خدیجہ بیگم کی بات سن کر اس نے شرماتے ہوئے شہریار کے کندھے میں منہ چھپایا اسکو اس طرح شرماتا دیکھ کر سب نے قہقہ لگایا ساریہ بیگم تو اسکودیکھ کر نہال ہی ہو گئیں تھیں اچانک وہ چونکی
ایک منٹ ایک منٹ تو آپ کیوں پہنا رہیں ہیں؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری بہو بن رہی ہو تو میں ہی پہناؤں گی نہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انکی بات سن کر اسکی پوری آںکھیں کھلیں
کیا مطلب ۔۔۔۔؟
بیٹا عادل کے ساتھ تمہاری بات پکی کی ہے نہ۔ خدیجہ بیگم نے کہا
مجھے نہیں کرنی اس کھڑوس ہٹلر سے شادی۔ امثال نے منہ بنایا
پتر میں نے تجھ سے پوچھ کر ہی بات پکی کی ہے ۔ بی جان نے کہا
ہاں تو آپ نے یہ تو نہیں بتایا تھا کہ آپ اپنا یہ سڑیل پوتا میرے پلے باندھیں گی ۔مجھے نہیں کرنی اسکے ساتھ شادی۔ آپ اسکی کسی اور سے کروا دیں ۔ اس نے منہ بگاڑا تو سامنے بیٹھے عادل نے دانت پیسے
چل اب تو جو ہونا تھا ہو گیا ہم نے باقی سب کے ساتھ تمہارا نکاح بھی رکھا ہے ۔بی جان کی بات سن کر وہ اچھلی
ہرگز نہیں دادو میں نے کوئی نہیں کرنا سب کے ساتھ ۔ آپ یا پہلے رکھ لیں یا بعد میں ۔ مجھے شہری بھائی ۔۔۔میرا مطلب ہے کہ امان بھائی اور دریاب بھائی کا فنکشن انجوائے کرنا ہے ۔بابا آپ ایسا نہیں کر سکتے ۔ میں بتا رہی ہوں میں نے عین ٹائم پر انکار کر دینا ہے ۔۔۔ہاں نہیں تو۔۔ امثال رشتے کی بات بھول کر نئی فکر میں مبتلا ہوئی
اچھا ٹھیک ہے بیٹا ہم نہیں کریں گے ۔ جیسے میرا بیٹا کہے گا ویسے ہی کریں گے۔ راسم شاہ نے بی جان کو اشارہ کرتے ہوئے اسکو اپنے ساتھ لگایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امثال کو اورفینج سے فون آیا تھا کہ ایک بچے کی طبعیت خراب ہے۔وہ بازل کو بتائے بغیر اکیلی ہی چلی گئی تھی بچے کو میڈیسن وغیرہ دلوا کر وہ چار گھنٹے بعد واپس حویلی پہنچی ۔گاڑی سے اتر کر وہ موبائل میں سر دئیے جا رہی تھی کہ بیٹھک سے نکلتے لڑکے سے جا ٹکرائی امثال نے معذرت کرنے کے لیے سر اٹھایا تو سامنے والے کو خود کا جائزہ لیتا پا کر اسے تپ چڑھی
اندھے ہو کیا نظر نہیں آتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلے تو آتا تھا اب نظر آنا بند ہو گیا ہے۔ سامنے والے نے ڈھٹائی دکھائی
کیوں اب آنکھوں میں کالا موتیا اتر آیا ہے کیا۔؟ امثال نے تڑخ کر کہا
نہیں جی اب آنکھوں کے سامنے حور پری آ گئی ہے ۔۔ سامنے والے نے بھی شائد ڈھٹائی میں پی ایچ ڈی کر رکھی تھی امثال سر جھٹک کر قدم بڑھائے تو وہ جلدی سے اسکے سامنے آیا
اپنا تعارف تو دیتی جاؤ ظالم حسینہ
میرے تعارف کروانے کا انداز ذرا مختلف ہے تم سہہ نہیں پاؤ گے اس لیے رہنے دو ۔امثال نے نے سنجیدگی سے کہا
تم بتاؤ تو سہی ۔۔۔ویسے نا چیز کو بہرام شاہ کہتے ہیں اس نے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے سر کو خم دیا
کون بہرام شاہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس گھر کا ہونے والا داماد ۔۔۔۔۔۔۔ اسکی بات سن کر امثال چونکی تھی شکل تو اسے پہلے بھی دیکھی دیکھی لگ رہی تھی اسے اب یاد آیا کہ اس نے عادل کے موبائل میں تصویر دیکھی تھی
اوہ ہ ہ۔۔۔۔۔ آئی سی۔۔۔۔ امثال نے ہونٹوں کو زیرو شیپ دی
میں امثال شاہ ۔۔مصطفی شاہ کی پوتی
مگر پہلے تو کبھی نہیں دیکھا تمہیں ۔۔ بہرام شاہ نے حیرت سے کہا
آئندہ بھی نہیں دیکھو گے ۔۔ ویسے میں کچھ ماہ پہلے ہی شہر سے آئی ہوں۔ امثال باتوں ہی باتوں میں اسکا جائزہ لے چکی تھی
تبھی تو میں بھی کہوں یہ گدڑی میں لعل کیسے پیدا ہو گیا۔ بہرام شاہ نے بلیک ٹی شرٹ اور بلیک جینز پر بلیوجیکٹ پہنے بلیک کلر ہی کے حجاب میں اسکےدمکتے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا
بالکل میرا بھی کچھ ایسا ہی خیال ہے تمہارے بارے میں کہ اتنے شریف گھر میں تم جیسا کمینہ کیسے پیدا ہو گیا۔ امثال نے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے کہا
نوازش ہے جی ۔سامنے والے نے بھی برا منائے بغیر کہا ۔ امثال اسکی سائیڈ سے گزر کر جانے لگی تو اسے پیچھے سے اسکی آواز سنائی دی
ویسے بتاتی تو جائیں یہ بندہ ِ ناچیز آپکو کیسا لگا ہے؟
سرٹیفائیڈ بےغیرت ۔۔۔امثال نے مڑ کر چبا چبا کر کہا اورحویلی کے اندر چلی گئی
کمال کی چیز ہے۔۔ شکل کے ساتھ ساتھ زبان کی بھی تیز ہے مزہ آئے گا ۔۔۔۔۔۔۔حیرت ہے میری پہلے کیوں نہیں نظر پڑی ۔۔۔ چلو خیر اب تو پڑ گئی نہ ۔۔۔سوچتے ہوئے وہ خباثت سے مسکرایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہری بھائی ایک بات پوچھوں آپ سے؟ امثال نے ٹیرس پر کھڑے شہریار کے پاس کھڑے ہوتے ہوئے کہا
ہاں پوچھو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھائی آپ کب شادی کریں گے؟
ہیں یہ بیچ میں میری شادی کہاں سے آ گئی۔۔ شہریار کو حیرانی ہوئی
اوہو آپ بتائیں نہ۔ آپکو کوئی لڑکی پسند ہے کیا۔؟ امثال نے اسکے سوال کو نظر انداز کیا
گڑیا میرے پاس اتنا وقت کہاں؟ ان سب چکروں میں پڑنے کے لیے۔
اسکا مطلب آپ کسی کو بھی پسند نہیں کرتے۔ جہاں ماما بابا کہیں گے آپ وہیں شادی کر لیں گے ۔امثال نے چہکتے ہوئے کہا
ہاں بلکل ۔۔چلو اب بتاؤ میرے بگڑے شہزادے کو یہ خیال کیوں آیا کہ میں کسی کو پسند کرتا ہوں؟ ۔ شہریار نے ہولے سے اسکا گال کھینچھا
ویسے ہی۔۔۔۔۔ آپکو پتہ ہے، میں نے نہ آپ کے لیے ایک لڑکی پسند کی ہے اور اب بس اس سے آپکی شادی کروانی ہے آپ مانیں گے نہ میری بات ۔امثال کی بات سن کر وہ ہنسا تھا
بلکل جب اور جیسے میرا بچہ کہے گا ویسے ہی ہوگا۔ شہریار نے کہا
لویو سو مچچچ بھائی کہتے ہوئے اسکے گلے لگی
عاشی آپو میرا ڈریس ریڈی ہوا یا نہیں ۔۔ امثال نے خاموش بیٹھی عائشہ سے کہا
ہاں گڑیا بس تھوڑا سا رہ گیا ہے بس فائنل ٹچ دینے والا ہے۔ عائشہ نے دھیمے لہجے میں جواب دیا
یار آپو آپ دلہن ہیں خوش رہیں۔ ابھی کون سا ابھی رخصتی ہونی ہے جو آپ افسردہ بیٹھی ہیں۔ ویسے بھی آپ نے کونسا رخصت ہو کر کہیں جانا ہے اسی گھر میں ہی تو رہنا ہے۔ بات ختم کرنے کے بعد وہ چونکی اسنے ترچھی ںظروں سے عائشہ کی طرف دیکھا مگر وہ اپنے حواس میں ہوتی تو اسکی بات پر دھیان دیتی امثال نے بے اختیار شکر ادا کیا
آپی میں کافی دنوں سے دیکھ رہی ہوں آپ چپ چپ سی ہیں۔ کوئی پرابلم ہے کیا۔؟۔
نہیں ایسی کوئی بات نہیں بس ایسے ہی عجیب سا محسوس ہو رہا ہے
اگر کوئی بات ہے تو آپ مجھ سے شئیر کر سکتی ہیں ہو سکتا ہے میں کوئی حل نکال دوں۔ امثال نے نارمل انداز میں کہا
نہیں ایسا کچھ نہیں ہے تم پریشان مت ہو۔ عائشہ اٹھ کر خوامخواہ الماری سیٹ کرنے لگی
اچھا آپ سیڈ نہ ہوں میرے ہوتے ہوئے آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔اللہ سب بہتر کرے گا۔عائشہ کو گلے لگاتے ہوئے امثال نے کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نکاح کا دن آن پہنچا تھا ۔سب لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے تین تین نکاح تھے ایسے میں کسی کو کان کھجانے کی فرصت نہیں تھی عادل بھی امثال کو اتنے دنوں سے نارمل دیکھ کر اسکی دی گئی دھمکی بھول چکا تھا۔ وہ صبح سے بے چین پھر رہی تھی ۔بازل اور صدام کو گئے دو گھنٹے ہو گئے تھے اور ابھی تک نہ تو انکی واپسی ہوئی تھی اور نہ ہی انکا فون آیا تھا ، جس نے امثال کو تشویش میں ڈالا ہوا تھا ۔ وہ موبائل لے کر ادھر ادھر چکر کاٹ رہی تھی ۔عادل نے اسکو یوں چکر کاٹتا دیکھا تو اسکی طرف آیا
خیریت میں کافی دیر سے دیکھ رہا ہوں تم کچھ بے چین دکھائی دے رہی ہو
ہاں ۔۔۔۔۔۔نہیں بس ایسے ہی۔ اسنے عادل کو ٹالنا چاہا
اچھا اگر کوئی پرابلم ہے تو مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی امثال کا فون بج اٹھا جسے اسنے فوراً اٹھایا
ہاں صدام بولو۔ امثال نے بے چینی سے کہا ۔۔دوسری طرف سے اسکا جواب سن کر اس نے گہری سانس خارج کی ۔صدام کا نام سن کر عادل نے مٹھیاں بھینچیں
تھینک گاڈ ۔۔میری سانس اٹکی ہوئی تھی۔ ٹھیک ہے کام ختم کر کے آ جاؤ۔ بائے ۔ امثال نے مسکراتے ہوئے کہا اور فون بند کر دیا
اچھا عادل میں ریڈی ہو کر آتی ہوں سب لڑکیاں ہو چکیں ہیں۔۔ بس میں ہی رہتی ہوں پھر ملتے ہیں بائے ۔عادل کو کہتی وہ اندر کی طرف بھاگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پنک اور سکن کلر کی فراک میں ہلکا پھلکا میک اپ کیے ہاتھوں میں بھر بھرکر چوڑیاں پہنے وہ ادھر سے ادھر اڑتی پھر رہی تھی اسے حویلی کے گیٹ کے پاس بازل اور صدام آتےدکھائی دئیے تو وہ بھاگ کر انکے پاس آئی
ہاں کیا بنا؟
سب کچھ پلان کے مطابق ہوا ہے کہیں بھی کوئی گڑ بڑ نہیں ہوگی۔ اب یہاں پر سب تمہیں ہی سنبھالنا ہے ۔ اگر ہم آگے آئیں گے تو ہو سکتا ہے کسی کو شک ہو جائے ۔ صدام نے کہا تو اس نے سر ہلایا
ٹھیک ہے تم دونوں جا کر تیار ہو جاؤ پھر ملتے ہیں ۔اسکی بات سن کر وہ ہنستے ہوئے اندر کی طرف بڑھے
نکاح کی تیاریاں ہو چکیں تھی ۔ بہرام شاہ کی فیملی پہنچ چکی تھی امثال نے کسی طرح مصطفی شاہ سے کہہ کر دریاب اور امان کا نکاح پہلے رکھوایا تھا ان دونوں کے نکاح سے فارغ ہو کر جب عائشہ کے نکاح کی باری آئی تو دلہے کو غائب پایا۔
بہرام کو بلواؤ بشیر نکاح شروع کرتے ہیں۔ مصطفی شاہ نے بہرام شاہ کے دادا بشیر شاہ سے کہا تو وہ گڑبڑایا
دور کھڑی امثال کے چہرے پر خوبصورت مگر پراسرار سی مسکراہٹ تھی
ہاں میں بلاتا ہوں۔ کہتے ہوئے وہ اپنے بیٹے کی طرف بڑھے
بشیر انکل اور کتنا ٹائم ہے بہرام کو بلوائیں دیر ہو رہی ہے مہمان ویٹ کر رہے ہیں ۔بیس منٹ گزرنے کے باجود بھی جب وہ سٹیج پر نہیں آئے تو قاسم شاہ نے انکے پاس آتے ہوئے کہا
وہ پتر تمہارا باپ کہاں ہے؟ مجھے اس سے بات کرنی ہے۔ بشیر شاہ کی بات سن کر قاسم شاہ چونکے
خیریت ہے نہ انکل کوئی مسئلہ تو نہیں
ہاں پتر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا بات ہے بشیر بہرام کو لے آؤ کس بات کی دیر ہے ۔مصطفی شاہ نے انکے پاس آتے ہوئے کہا انکے پیچھے عادل بھی آیا تھا
وہ۔۔۔۔۔۔۔ یار مصطفی بہرام نہیں پہنچا
کیا مطلب نہیں پہنچا ؟۔۔۔۔۔مصطفی شاہ نے حیرانی سے اسے دیکھا
وہ ہمارے ساتھ نہیں آیا تھا اسکا میسیج ملا تھا کہ وہ دو گھنٹے میں آ جائے گا اب نہ تو خود آیا ہے اور نہ ہی اسکا فون لگ رہا ہے پتہ نہیں کہاں گیا ہے؟۔ بشیر شاہ نے نظریں چراتے ہوئے کہا تو مصطفی شاہ کی رنگت پھیکی پڑی تھی
تم لوگ بھری محفل میں ہماری عزت داؤ پر مت لگاؤ بشیر ۔اگر وہ نہیں راضی تھا تو تم لوگوں کو اسکے ساتھ زبردستی نہیں کرنی چاہئیے تھی
جانتا ہوں یار جہاں جہاں ہو سکتا تھا اسکا پتہ کروایا ہے ،مگر اسکا کچھ اتہ پتہ نہیں لگ رہا ۔بشیر شاہ نے سر جھکاتے ہوئے کہا
اسکا پتہ کرو بشیر ۔۔ ڈھونڈو اسے ۔کہیں سے بھی لاؤ کچھ بھی کرو مگر یہ نکاح آج ہی ہونا چائیے مصطفی شاہ دھیمی آواز میں دھاڑے تھے انکے ساتھ کھڑے عادل کی اچانک امثال پر نظر پڑی جو صدام کے ساتھ کھڑی مسکرا رہی تھی عادل کے زہن میں اسکی دھمکی کلک ہوئی تھی اسکا صبح یوں بے چین ہونا۔پھر صدام کا فون آنا امثال کا ریلکیس ہوجانا، بازل اور صدام کا اکھٹے حویلی آنا ۔ایک ایک کر کہ اسنے ساری کڑیاں ملانی شروع کی تھیں
اوہ گاڈ میں اس آفت کو کیسے نظر انداز کر گیا۔ بڑبڑاتے ہوئے وہ اسکی طرف بڑھا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر سٹیج سے اتارا اور کھینچتے ہوئے حویلی میں اپنے کمرے میں لے جا کر صوفے پر پٹخا
بہرام کہاں ہے؟
باہر مردوں میں ہو گا مجھ سے ایسے پوچھ رہے ہو جیسے میں اسکی سیکرٹری لگی ہوئی ہوں ۔امثال کی بے نیازی عروج پر تھی
جو پوچھا ہے اسکا جواب دو کہاں ہے وہ۔؟
تمہارا دماغ ٹھیک ہے۔ مجھے کیا پتہ کہاں دفع ہوا ہے؟۔ امثال نے منہ بنا کر کہا
ژلے مجھے مجبور مت کرو کہ میں سختی کروں تم پر
جب میں کہہ رہی ہوں کہ مجھے نہیں پتہ تو تم کیوں بار بار ایک ہی سوال پوچھ رہے ہو
شٹ اپ بکواس بند کرو۔ اچھے سے جانتا ہوں کہ اسے تم نے ہی غائب کروایا ہے اس صدام کے ساتھ مل کر۔ عادل دبی دبی آواز میں غرایا تھا ۔مصطفی شاہ جو عادل سے کہنے آ رہے تھے کہ وہ اپنے سورسز استعمال کرکہ بہرام کو ڈھونڈے اندر سے آتی آوازیں سن کر انکے قدم تھمے تھے
تم کس طرح سے مجھ سے بات کر رہے ہو وہ بھی اس گھٹیا انسان بہرام کے لیے۔ امثال نے حیرانی سے کہا
میں اس سے بھی زیادہ سختی سے پیش آ سکتا ہوں، اگر تم مجھے نہیں بتاؤ گی کہ وہ کہاں ہے ؟
ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔ ہے وہ میرے پاس ۔۔۔ کہاں ہے کس حال میں ہے نہیں بتاؤں گی ۔تم سے جو ہوتا ہے کر لو ۔ امثال نے ڈٹ کر کھڑے ہوتے ہوئے کہا باہر کھڑے مصطفی شاہ حیرت سے گنگ تھے
منع کیا تھا نہ تم ایسا ویسا کچھ نہیں کرو گی پھر میری بات سمجھ نہیں آئی تھی
اور میں نے بھی کہا تھا کہ میں کروں گی اور کوئی مجھے روک نہیں سکتا ۔ بہرام شاہ کی ہرقسم کی کمینگی اور بے غیرتی دیکھنے سننے کے باوجود بھی تم لوگ عائشہ آپی کو اس جہنم میں دھیکیلنا چاہتے ہو ۔اس گھر میں ایک اور لالی بنانا چاہتے ہو ایک اور رمل ایک اور امان شاہ ، جو ساری زندگی اپنے ننھیال کے در پر پڑا رہے گا ۔ بابا نے منع کیا تھا لالہ پھپو کے رشتے سے ۔کیا ہوا پھر؟ ۔۔برباد ہو گئی نہ ؟۔۔ایک چیز جب آنکھ سے اوجھل ہواور وہ نقصان دے تو اس پر افسوس نہیں ہوتا اور تم لوگ سب جانتے بوجھتے ہوئے بھی آنکھیں بند کر رہے ہو۔ فار گاڈ سیک عادل تم کیوں نہیں سمجھ رہے ہو؟ اس بے غیرت بہرام سے بہتر انسان کا نام تمہارے سامنے رکھا ہے میں نے ۔۔۔ ۔شہری بھائی ہر لحاظ سے بہتر ہیں اس سے۔۔۔ خیر میں بھی کہاں سر کھپا رہی ہوں ۔۔اب میری ایک بات کان کھول کر سن لو میرے ہوتے ہوئے میں ایسا کچھ نہیں ہونے دوں گی۔ وہ راسم شاہ تھے جن کی بات نہ مانی گئی تو وہ گھر چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ میں امثال شاہ ہوں۔ ارے میں تو سب کو نکال کر بھی نہ نکلوں ۔ وہ الو کا پٹھا بہرام شاہ ہمارے پاس ہی ہے ابھی تک بخیر و عافیت ہے۔ جیسے ہی عاشی آپو کا نکاح ہوگا ہم اسے چھوڑ دیں گے ۔ لیکن ایک بات کہنا چاہوں گی تم جیسا بے حس اور خود غرض بھائی اللہ کسی کو نہ دے یا پھر تم جیسے بھائی کو اللہ بہن نہ دے ۔اور میری قسمت دیکھو کہ یہ بے حس بندہ میرے حصے میں آرہا ہے ۔۔ اب آخری بات مجھ سے بات کرتے ہوئے اپنا لہجہ اور انداز درست رکھا کرو امثال شاہ ایسے لہجوں کی عادی نہیں ہے۔ تمہارا رویہ مجھے کوئی فیصلہ لینے پر اکسا رہا ہے۔ یہ لہجہ ،اندازاور الفاظ کی سختی میں کبھی بھولوں گی نہیں عادل عمر شاہ۔۔۔۔۔ ۔ بات کرتے کرتے آخر میں امثال کی آواز کسی بھی قسم کے جزبات سے عاری ہو گئی تھی مصطفی شاہ چپ چاپ واپس مڑ گئے تھے
آئم سوری امثال میں بس غصےمیں تھا۔عادل کو بہرام کو چھوڑ کر اپنی فکر لاحق ہو گئی تھی
ارے جہنم میں جاؤ تم اور بھاڑ میں جائے تمہارا غصہ ۔مجھے ٹکے کی پروا نہیں ہے ۔امثال کا دماغ گھوم چکا تھا
یار سوری میں ۔۔۔۔ اسکی بات ختم ہونے سے پہلے ہی وہ جا چکی تھی
جاری ہے