Rate this Novel
Episode 1
وہ شرابی کیا شرابی
دل میں جس کے غم نہ ہو
لٹ گیا سمجھو شرابی
پاس جس کے ھم نہ ہوں
اوہ ساقی ساقی رے ۔۔۔ساقی ساقی
ساریہ بیگم اور راسم صاحب شہریار کے ساتھ اسکے کسی دوست کے ہاں فنکشن پر گئے ہوئے تھے۔ رات گیارہ بجے وہ واپس لوٹے تو گھر میں ایک طوفان مچا ہوا تھا ۔ نیہا ککر کا گانا فل سپیکر پر چل رہا تھا، جس پر وہ دونوں جھوم رہے تھے ۔ بازل تو باقاعدہ اُٹھ کر ٹھمکے لگا کر اپنے شرابی ہونے کا ثبوت دے رہا تھا۔ سارے لاونج میں چپس کے پیکٹ اور پاپ کارن کے ڈبے بکھرے پڑے تھے۔ پانی کی بوتلیں بغیر ڈھکن کے پڑی ادھر اُدھر دھکے کھا رہی تھی ،جن سے پانی بہہ کر لاونج میں پھیل چکا تھا ۔ٹیبل اوندھا پڑا تھا۔کشنز سارے لاونج بکھرے پڑے تھے۔ ون سیٹرصوفہ الٹا پڑا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے زلزلہ آیا ہو اور سب کچھ تلپٹ کر کہ رکھ دیا ہو۔ ساریہ بیگم اتنا پھیلاوہ دیکھ کے چکراہ کر رہ گئیں۔ آگے بڑھ کر گانا بند کیا تو دونوں کو ہوش آیا۔لاونج کی ابتر حالت دیکھ کر ان دونوں کی آنکھیں بھی پھیلیں۔ راسم صاحب تو کمرے میں چلے گئے ، جانتے تھے اب لمبی بحث ہو گی اور ہمیشہ کی طرح جیت انکی اولاد کی ہی ہو گی ۔
“تو اس لیے تم دونوں ہمارے ساتھ نہیں گئے تھے ۔” ساریہ بیگم نے بازل کو کان سے پکڑا
“آہ ۔۔۔۔ ماما چھوڑیں نہ ۔یہ سب ہم نے نہیں کیا ۔۔ہم لوگ تو پارٹی کر رہے تھے۔پتا نہیں یہ اتنا سب کچھ کیسے پھیل گیا۔ سچی بھئی” بازل نے معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑے۔
“ہاں میں جانتی ہوں تم لوگوں کی کہاں غلطی ہوتی ہے۔ غلطی تو ہم سے ہوئی جو تم جیسی اولاد پیدا کی ہے اور تم زرا ادھر آو۔ کتنی معصوم بن کر کھڑی ہو ۔”ساریہ بیگم نے پہلے بازل اور پھر امثال کو گھورا ، جو جلدی سے شہریار کے پیچھے جا چُھپی تھی۔۔
“یہاں آؤ۔ یہ سب صاف کون کرے گا ۔چلو شاباش شروع ہو جاؤ دونوں۔ دس منٹ میں مجھے پورا لاونج پہلے والی حالت میں چایئے۔”ساریہ بیگم نے سختی سے کہا۔
“بھائی ۔ ” اس نے رونی صورت بنائی اور شہریار تڑپ ہی تو اُٹھا تھا۔
“ماما چھوڑیں نہ ۔رہنے دیں ۔” شہریار نے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا
“کیا مطلب رہنے دوں ؟یہ سب کون سمیٹے گا ؟” ابکی بار انہوں نے شہریار کو گھرکا ۔اسکے یوں تڑپ اُٹھنے پر ساریہ بیگم کا بے اختیار جی چاہا کہ اسے بھی ایک رکھ کے لگائیں۔
“میں کر دیتا ہوں۔چلو بچے ،تم لوگ کمرے میں جاؤ ۔رات بہت ہو گئی ہے۔ صبح یونی بھی جانا ہے ۔سو جاؤ جا کے۔ چلو شاباش” شہریار اُنہیں کمرے میں بھیجتا آگے بڑھ کر خود چیزیں سمیٹنے لگا ۔وہ دونوں تو فورا کھسک گئے تھے۔ ساریہ بیگم بے بسی سے اسے دیکھ کر رہ گئیں۔
“چھوڑ دو تم بھی۔ صبح میں دیکھ لوں گی ۔ ” وہ جانتی تھی سارا دن کا تھکا ہوا ہونے کے باوجود وہ سب سمیٹ کر ہی سونے کے لیے جائے گا
“پکا نہ ؟”شہریار نے پوچھا تو انہوں نے سر ہلا دیا.
” ماما غصہ مت کیا کریں۔بچے ہیں ۔ آہستہ آہستہ ٹھیک ہو جائیں گے۔ ابھی تو انکے انجوائے کرنے کے دن ہیں۔”
“میں جانتی ہوں شہری۔ بازی کی تو چلو خیر ہے لیکن امثال لڑکی زات ہے کل کو اگلے گھر بھی جائے گی۔مجھے اس کی فکر رہتی ہے۔” ساریہ بیگم نے سنجیدگی سے کہا۔
“ارے ماما ٹینشن نہ لیں۔ انشاءاللہ سب ٹھیک ہوگا ۔ اب آپ جا کے سو جائیں ۔گڈ نائٹ ” انکی پیشانی چومتے ہوئے وہ کمرے میں چلا گیا، وہ بھی لاؤنج پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف کی طرف بڑھیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“امثال ،بازل اُٹھ جاو۔ لیٹ ہو رھے ہو۔ ناشتہ نہیں کرنا ہے کیا ؟۔پھر شورمچا دو گے ۔” ساریہ بیگم نے میز پر ناشتہ لگاتے ہوئے دونوں کو آواز دی
“توبہ ہے ان دونوں کی نیند ۔ مُردوں سے شرط لگا کر سوتے ہیں۔حرام ہے جو یہ دونوں ایک آواز پر اٹھ جائیں۔” انہوں نے بڑبڑاتے ہوئے برتن ٹیبل پر پٹخے۔
“کیا ہوگیا آپ کو؟ اُٹھ جائیں گے۔ غصہ کیوں کر رہی ہیں؟ آپ بیٹھیں میں لے کر آتا ہوں۔” راسم صاحب نےاُٹھتے ہوئے کہا۔ تو وہ سر جھٹک کہ رہ گئیں۔
“بازل بیٹا اٹھ جاو۔ یونی نہیں جانا کیا؟ ” بازل کے روم میں داخل ہوکر زمین پے پڑے ہوئے کشن اٹھاکر صوفے پے رکھتے ہوئے اس کو آواز دی۔
“چلو۔ شاباش اُٹھو، دس منٹ میں ناشتےپہ ملو۔ “کہتے ہوئے وہ امثال کی جانب بڑھے۔
“جی بابا اُٹھ گیا ۔” بازل نے کمبل پھینکتے ہوئے بیڈ سے چھلانگ لگائی۔ وہ وہاں سے نکل کر امثال کے کمرے میں آئے
“امثال گڑیا۔اٹھو دیر ہو رہی ہے۔”
“بابا سونے دیں نہ” اس نے کروٹ بدلی۔
“گڑیا اٹھ جاو۔ اگر آپ کی ماما آ گئی نہ تو آپ کے ساتھ ساتھ میری بھی کلاس لگے گی۔”
“کیا ہے یار بابا ۔ ایک تو آپکی بیوی نہ۔زرا بھی سکون نہیں لینے دیتی۔” اس نے اٹھ کر بال سمیٹتے ہوئے کہا۔
“ژلے ۔”راسم صاحب نے مصنوعی غصے سے کہا.
“اوکے اوکے” ہاتھ اُٹھا کر کہتی واشروم کی طرف بڑھی.
“جلدی آؤ ہم ناشتے پرانتظار کر رھے ہیں۔ ” وہ کہتے ہوئے باہرنکل گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“بی بی جان اب آپ کی طبعیت کیسی ہے۔؟” عاصم شاہ نے ناشتہ کرتے ہوئے بی بی جان سے پو چھا۔
“الحمدللہ اب ٹھیک ہوں ۔ بس تھوڑا سا بلڈ پریشر لو ہو گیا تھا تم فکر مت کیا کرو.”
“جب فضول اور الٹا سیدھا سوچیں گی تو ایسا ہی ھوگا۔ کتنی بار کہا ہے لیکن آپ کو کچھ سمجھ آئے بھی تو نہ۔” مصطفی شاہ نے سرد لہجے میں کہا۔
“کیوں نہ سوچوں اس کے بارے میں۔ میرے وجود کا حصہ ہے، بیٹا ہے وہ میرا ۔ پتانہیں کیسا ہے۔ کس حال میں ہے ۔” انہوں اپنے شوہر، مصطفی شاہ کی طرف دیکھتے ہوئے دکھ بھرے لہجے میں کہا اور اپنی چھڑی اُٹھا کر کرسی سے اُٹھ گئیں۔پیچھے سب ایک دوسرے سے نظریں چرا کر رہ گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“آرام سے کھاؤ ۔کبھی کوئی انسانوں والا کام بھی کر لیا کرو۔” ساریہ بیگم نے جلدی جلدی کھاتی امثال کو ٹوکا۔
“کیا ہے ماما ؟آپکو میری کوئی بات اچھی لگتی بھی ہے یا نہیں؟” امثال روہانسی ہوئی.
“تو تم میں کوئی اچھی بات ہو تو مجھے اچھی لگے نہ۔” انہوں نے سر جھٹکا
“بابا! آپ دیکھ رہے ہیں نہ؟”
“آپ کی یہ والی بیوی نہ مجھے بلکل بھی پسند نہیں۔ آپ میرے لیے نئی ماں کا بندوبست کریں۔۔” اس نے شرارت سے راسم صاحب کو دیکھا جو چائے پیتے ہوئے مسکرا رہے تھے۔
“ٹوئنی بلکل صیح کہہ رہی ہے۔ کیوں بھائی؟”بازل نے جوس پیتے شہریار کو بھی گھسیٹا۔
“نہ بھئی مجھے تو تم لوگ معاف ہی رکھو۔” شہریار نے ہاتھ کھڑے کیے
“شرم تو نہیں آتی باپ کی دوسری شادی کی بات کرتے ہوئے اور آپ بھی کتنے مزے سے بیٹھے ان کی بکواس سن رہے ہیں۔” ساریہ بیگم نے ان دونوں کے ساتھ ساتھ راسم صاحب کو بھی گھرکا۔کیونکہ وہ جانتی ان کی اولاد ان کے ہاتھ آنے والی شے نہیں ہے.
“چلو بھئی بہت باتیں ہوگئیں۔اب چپ چاپ ناشتہ کرو۔” راسم صاحب نے مصنوعی غصہ دکھایا۔
“تم دونوں نے آج جاگنگ مس کی ہے ۔صبح ٹائم سے اُٹھ جانا ورنہ سزا جانتے ہو نہ ۔ “شہریار نے سنجیدگی سے کہا ۔
“جی بھائی۔”دونوں نے شرافت سے یک زبان ہو کر کہا۔کیونکہ پچھلی بار بھی جاگنگ مس کرنے کی وجہ سے سزا کے طور پر ایک ہفتہ تک لوکل بسوں میں جو دھکے کھائے تھے ان کو وہ اچھے سے یاد تھے۔دونوں کی ہر شرارت ، ہر فرمائش شہریار سر آنکھوں پہ رکھتا تھا لیکن کچھ معاملات میں بقول امثال کے وہ ہٹلر کا نیو ورژن بن جاتا تھا۔ جس کا اظہار وقتا فوقتاً وہ اس کے منہ پر بھی کرتی رہتی تھی۔
“ٹھیک ہے ۔ پھر شام میں ملتے ہیں۔ اللہ حافظ ۔”کہتے ہوئے راسم صاحب کالج اور شہریار آفس کے لیے نکل گئے۔
“اوکے ماما۔ اللہ حافظ۔” ماں کے گال چومتےہوئے وہ دونوں بھی نکل گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“یونی ورسٹی دنیا کی واحد جگہ ہے جہاں آ کر میں خود آزاد فیل کرتا ہوں۔” امثال گاڑی پارک کر کہ آئی تو بازل نے کہا ۔ امثال نے بھی سر ہلا دیا ۔ انداز ایسا تھا جیسے طویل نظربندی کاٹ کر آ رہے ہوں ۔
یونی ورسٹی میں داخل ہوتے ہی کئی ستائشی نظریں ان کی طرف اُٹھی تھیں ۔ریڈ ٹی شرٹ اور بلیک جینز پہنے ہمیشہ کی طرح سیم ڈریسنگ کیے ہوئے تھے ۔چاہے کوئی فنکشن ہوتا یا عام روٹین ،وہ دونوں ہمیشہ ایک جیسے ہی کپڑے پہنتے تھے ، امثال ساتھ میں حجاب لیتی تھی ۔ارد گرد سے بے نیاز وہ آنکھوں میں شرارتی چمک لیے ادھر اُدھر نگاہیں گھماتے کلاس روم کی طرف جا رہے تھے یا پھر شائد کوئی شکار ڈھونڈ رہے تھے۔
” آج لیکچر لینے کا موڈ نہیں ہے۔ ” امثال نے بیزاری سے کہا۔
“تمہارا کبھی موڈ ہوتا بھی ہے ۔ چپ کر کہ چلو ۔ پہلے ہی اس سبجیکٹ کی اسائمنٹ میں میرے بہت کم مارکس ہیں ۔” بازل کی بات پر وہ منہ بنا کے رہ گئی۔البتہ دل میں کلاس نہ لینے کا پکا ارادہ کر چکی تھی ۔ وہ کلاس میں بیٹھی بوریت سے سٹوڈنٹس کا جائزہ لے رہی تھی جبکہ بازل زور و شور سے لیکچر سن رہا تھا اور نوٹ بھی کر رہا تھا ۔اچانک اسکی نظر بازل کے موبائل پر پڑی جو ڈیسک کے اندر اسکی بک پر رکھا تھا ۔اس نے چپکے سے اس کا سیل اُٹھایا، سائلنٹ موڈ سے ہٹا کر رنگ ٹیون سیٹ کی اور والیوم فل کر کہ رکھ دیا ۔بازل چونکہ لیکچر میں مگن تھا اس لیے اس کا دھیان نہیں گیا تھا۔ اس نے اپنا موبائل اُٹھایا اور بازل کا نمبر ملایا
سہی جاوے نہ جدائی سجنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیرے بنا دل نہیوں لگنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موبائل پورے زور و شور سے بجنے لگا تھا جس پر پروفیسر سمیت پوری کلاس نے نگاہیں موڑ کر انہیں دیکھا
“واٹ دا ہیل از دس۔ کس کا فون بج رہا ہے؟” پروفیسر صاحب دھاڑے
“سر فون ۔مم ۔میرا مطلب رنگ ٹیون ۔ مطلب میری کال آرہی ہے۔ ” بازل نے بوکھلاتے ہوئے کہا۔
“شٹ اپ یو فول۔۔” پروفیسر صاحب گرجے
“سر وہ ۔ یہ میں نے نہیں کیا۔” بازل منمنایا
“جسٹ شٹ اپ ۔گیٹ اؤٹ فرام مائی کلاس ۔” بازل کے کلاس سے نکلنے کے بعد پروفیسر صاحب غصے سے بڑبڑاتے ہوئے ڈائس کی طرف بڑھے.
“سر !” امثال نے کہا
” جی .اب آپ کا کیا مسئلہ ہے؟” انہوں نے اسے کڑے تیوروں سے گھورا
“سر۔۔۔ وہ ۔۔۔۔میں بھی جاؤں ۔بازل باہر اکیلا بور ہو رہا ہو گا نہ ۔” امثال نے معصومیت سے کہا تو ساری کلاس ہنسنے لگی۔
“آؤٹ۔ایڈیٹ۔ نان سینس۔” پروفیسر کا غصہ ساتویں آسمان تک پہنچ چکا تھا ۔وہ کلاس سے نکل کر سیدھی کینٹین میں آئی جہاں وہ بڑے مطمئن انداز میں چائے پی رہا تھا
“مجھے پتا تھا تم یہں ملو گے ۔”
“تمہیں شرم تو نہیں آئی میری بے عزتی کرواتے ہوئے”۔بازل نے خفگی سے کہا
“اے لو !عزت کی بات کر کون رہا ہے ۔اور ویسے بھی میں تو تمہیں پہلے ہی کہا تھا کہ میرا موڈ نہیں ہو رہا ہے کلاس لینے کا ۔ لیکن تمہیں ہی نیوٹن کی قبر پر لات مار کر اپنی زہانت کے جھنڈے گاڑنے کا شوق ہو رہا تھا۔خیر اب موڈ ٹھیک کرو اور کچھ کھانے کو لے کر آؤ ۔تانیہ اور عاشر سے نوٹس لے لیں گے ۔” امثال نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا ۔ تو وہ دانت کچکچا کر رہ گیا۔تانیہ اور عاشر دونوں کزنز تھے اور ان کے گھر کے پاس رہتے تھے۔ ایک ہی کلاس اور یونی ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ تھوڑی بہت دوستی تھی ۔ ان دونوں نے پہلے سکول پھر کالج اور یہاں تک اب یونی میں بھی کوئی لڑکی یا لڑکا دوست نہیں بنایا تھا ۔ان کا کہنا تھا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے کافی ہیں کسی تیسرے کی گنجائش نکلتی ہی نہیں ۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ شہریار نے ہمیشہ ان کا داخلہ ایک ہی سکول ،کالج میں کروایا تھا ۔ہمیشہ ہر جگہ اکھٹے رہنے کی وجہ سے انہیں کبھی کسی دوست کی کمی محسوس نہیں ہوئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” یار وہ دیکھ انس بھائی کی پریشانی کا حل۔” ہمدان کے دوست وصی نے برگر کھاتے امثال اور بازل کی طرف اشارہ کیا ۔ہمدان نے اسے ایسے دیکھا جیسے وہ پاگل ہو
“کیا مطلب وصی؟ تمہارا دماغ ٹھیک ہے؟میں بھائی کو کھڈے سے بچانے کے لیے کھائی میں دھکا دے دوں ۔ اس لڑکی کے ساتھ بھائی نے ایک ہی دن میں پاگل ہو جانا ہے ۔”
“ابے گدھے میرا مطلب ہے کہ جس رفتار سے انکا شیطانی دماغ چلتا ہے نہ انکے پاس ضرور کوئی حل ہو گا ۔ تم بات کر کہ تو دیکھو ۔ چلو چلتے ہیں ۔” وصی نے اسے گھورتے ہوئے اسکا ہاتھ پکڑ کر اُٹھایا۔۔
جاری ہے
See translation
