Rate this Novel
Episode 19
آپی میں بور ہو رہی ہوں۔۔ زروا نے امثال کے پاس لان میں گھاس پر بیٹھی
ٹی وی دیکھ لو۔۔۔ امثال نے بک سے نظر اٹھا کر کہا اور دوبارہ مصروف ہو گئی
اوہو آپو چھوڑیں نہ ۔۔۔پھر پڑھ لیجیے گا ۔ زروا نے بکس اسکے ہاتھ سے پکڑ کر سائیڈ پر رکھی
اچھا بتاؤ کیا ہوا ہے۔ امثال نے کہا تو وہ سوچ میں پڑ گئی
بولو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آپو اوپر دیکھیں مجھے نہ وہ والے امرود لینے ہیں ۔زروا نے امرود کے درخت کی طرف اشارہ کیا تو اس نے سر ہلا دیا
چلو میں نیچے پھینکوں گی تم کیچ کرتی جانا۔۔ امثال کہتے ہوئے درخت پر چڑھی۔ابھی اسنے چار امرود ہی اتارے تھے کہ گیٹ سے عادل کی پولیس جیپ آتی دکھائی دی تو زرو تو عادل کو جیپ سے اترتا دیکھ کر ہی گدھے کے سر سےسینگ کی طرح غائب ہو گئی تھی
زروا میں پھینکنے لگی ہوں۔
یار کیچ کرو نہ نیچے گر کر خراب ہو رہے ہیں۔ امثال نے امرود نیچے زمین پر گرتے دیکھ کر کہا
یار جواب تو دو۔۔۔ ہوں ہاں ہی کر دو۔۔۔۔ کھانے بیٹھ گئی ہو کیا ۔۔۔امثال اسے مسلسل آوازیں دے رہی تھی مگر وہ وہاں ہوتی تو جواب دیتی البتہ عادل اسکی آواز سن کر وہاں پہنچ چکا تھا
پھینکو ،میں کیچ کرتا ہوں۔ نیچے سے عادل کی آواز سنائی دی وہ جو ڈھیلے انداز میں نیچے جھکی زروا کو تلاش کر رہی تھی عادل کی اواز پر اچھلی ۔توازن برقرار نہ رہنے کی وجہ سے نیچے کھڑے عادل کے قدموں میں آ گری اسکو اس طرح گرتا دیکھ کر عادل کا قہقہ بے ساختہ تھا
حد ہے بندہ بتا ہی دیتا ہے ۔ یہ پولیس والوں کی طرح چھاپہ مارنے کی کیا تک بنتی ہے۔ امثال نے کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے گھورا
تم اوپر کیا کر رہی تھی ۔عادل نے پوچھا
کشمیر آزاد کروانے کے لیے مختلف ممالک کے سربراہان سے رابطے کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ہائے۔۔۔ امثال نے کمر مسلتے ہوئے کراہ کر کہا تو عادل مسکرایا
ویسے ایک بات بتاؤ کہیں تم اس بنگالی بابا سے مل کر تو نہیں آ رہے جو محبوب آپکے قدموں میں والا تعویذ دیتا ہے لیکن اس صورت میں آپکو اپنے محبوب کے پاس جانا چائیے تھا نہ ۔ امثال نے ایک قدم آگے بڑھایا
میرا محبوب تھوڑا بدتمیز اورخاصا سر پھرا ہے ۔۔۔اس پر کوئی تعویز اثر نہیں کرے گا ۔۔۔۔ اگر کرے گا بھی تو وہ قدموں میں نہیں الٹا گلے پڑے گا۔۔ عادل اسکے پیچھے چل پڑا
اوہ ہ ہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو محبوب کا روگ بھی پالا ہوا ہے ایس پی صاحب نے۔۔۔۔۔۔ میں تو ایویں ای آپکو کھڑوس اور خشک مزاج بندہ سمجھتی رہی ۔۔۔۔۔امثال نے حیران ہوئی
ویسے کیا کرتا ہے ۔۔اس سے ایک قدم آگے چلتی امثال نے رک کر رازداری سے پوچھا
کون ۔۔عادل نے نا سمجھی سے پوچھا
آپکا محبوب ۔۔ اور کون ۔۔۔امثال نے کہا تو وہ مسکرا دیا
تنگ کرتا ہے لوگوں کو ۔۔۔۔۔ ناک میں دم کر رکھا ہے اور مجھے تو تنگ کرنے کے ساتھ ساتھ ڈسٹرب بھی کرتا ہے ۔ اس نے مسکراتی ہوئی امثال کے گال پر پڑتے ڈمپل کو گہری نظروں سے دیکھا تھا
چھوڑ دیں ۔۔
پاگل لڑکی محبوب چھوڑے تھوڑی نہ جاتے ہیں ۔۔انکے ساتھ تو آخری سانس تک نبھائی جاتی ہے ۔ اور بگڑے ہوئے تو کچھ زیادہ ہی خاص اور دل کے نزدیک ہوتے ہیں ۔
تو سدھار لیں ۔۔۔امثال نے اپنے تئیں مشورہ دیا تھا
اسکے سدھرنے کے چانسز نہیں ہیں اب۔۔۔۔ اور ویسے بھی مجھے وہ بگڑا ہوا ہی اچھا لگتا ہے ۔۔۔اسکی شرارتوں اور ہنسی کی عادت ہو گئی ہے ۔اب تو اگر وہ خاموش بیٹھا ہو تو تشویش سی ہونے لگتی ہے ۔عادل نے مسکاتے لہجے میں کہا تو امثال رک کر پوری کی پوری اسکی طرف گھومی
آپ کہیں نشہ وشہ کر کہ تو نہیں آئے نہ جو ایسی باتیں کر رہے ہیں ۔امثال نے اسکا جائزہ لیا
استغفراللہ ۔۔۔ عادل کے کہنے پر امثال ہنسی تھی
اچھا مجھے ملوائیں گے نہیں اس سے۔۔۔ امثال نے اشتیاق سے کہا
ہاں بلکل ۔۔۔۔۔ تمہیں نہیں ملواوں گا تو اور کسے ملواؤں گا ۔۔پہلےمجھے دادو سے تو بات کر لینے دو ۔۔۔ بالکونی میں کھڑی خدیجہ بیگم انکویوں باتیں کرتا دیکھ کر دل ہی دل میں دونوں کی نظر اتارتی نیچے چلی گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ژلے آجاؤ نہ میں کب سے ویٹ کر رہا ہوں۔ پورچ میں گاڑی کے پاس کھڑے بازل نے بیزاری سے کہا اسکا سرخ ہوتا چہرہ دیکھ کر وہ چونکی
کیا ہوا بازل تمہاری طبعیت ٹھیک ہے نہ امثال نے فکر مندی سے پوچھا
پتہ نہیں سر میں درد ہو رہا ہے شائد بخار ہو گیا ہے ۔۔ امثال نے اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھا
اچھا تم ایسا کرو تم رہنے دو میں اکیلی چلی جاتی ہوں بس اسائنمنٹ سبمٹ کروا کر واپس آ جاؤں گی ۔امثال نے اس سے چابی لی
پکی بات ہے نہ ۔بازل نے کہا تو ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتی امثال نے اثبات میں سر ہلا دیا ابھی وہ گاؤں کی حدود سے نکلی ہی تھی کہ اسے ایک گاڑی کھڑی دکھائی دی جس کے پاس ایک نوجوان اور ایک بزرگ کھڑے تھے انکو کراس کرنے کے بعد اسے خیال آیا کہ شائد انہیں ہیلپ کی ضرورت ہو یہی سوچتے ہوئے اس نےگاڑی ریورس کی اور انکےپاس جا کر روکی
کیا ہوا خیریت کوئی مسئلہ ہے کیا۔ امثال نےشیشہ نیچے کیا
نہیں کچھ خاص نہیں بس گاڑی خراب ہو گئی ہے۔ ۔نوجوان نے کہا
کیا میں کوئی ہیلپ کر سکتی ہوں۔ امثال نے گلاسز حجاب پر اٹکائیں
نہیں شکریہ ڈرائیور کو فون کردیا ہے وہ آتا ہوگا۔ نوجون نے کہا
پتر یہ ہمیں زرا شہر تک تو چھوڑ دو۔ اس سے پہلے وہ گاڑی آگے بڑھاتی ایک بزرگ خاتون نے گاڑی سے نکلیں تو دونوں مردوں نے انہیں دیکھا
ٹھیک ہے آجائیں ۔ امثال نے ڈور ان لاک کرتے ہوئے کہا انکے ساتھ ایک تیئس چوبیس سالہ لڑکی بھی تھی وہ دونوں اور نوجوان پیچھے بیٹھ گئے
انکل آپ لوگ کہاں سے آ رہے ہیں ۔امثال کہاں زیادہ دیر تک چپ رہ سکتی تھی
بیٹا ہم لوگ اسی گاؤں میں رہتے ہیں جمال شاہ نام ہے ہمارا ۔۔۔۔ یہ میرا پوتا صدام شاہ ہے ساتھ میری پوتی سدرہ اور میری بیوی ثریا شاہ ہیں ۔۔بزرگ آدمی نے اپنا تعارف کروایا تو امثال کا پاؤں بے اختیار بریک پر گیا جمال شاہ کا سر ڈیش بورڈ پر لگتے لگتے بچا۔ جبکہ پیچھے بیٹھے ان تینوں کے سر بھی اگلی سیٹوں سے ٹکرائے تھے۔امثال نے چونکہ سیٹ بیلٹ لگایا تھا اس لیے وہ سکون سے بیٹھی رہی۔ گہری سانس بھر کر اس نے دوبارہ گاڑی سٹارٹ کی
میں امثال شاہ راسم شاہ کی بیٹی امثال کا تعارف کروانے کا انداز ہمیشہ شاہانہ ہوتا تھا
ہم جانتے ہیں بیٹا آپکو۔ جمال شاہ نے کہا
اوہ۔۔ تو ہم سے پہلے ہمارا تعارف پہنچ چکا ہے اسکا مطلب خاصے مشہور ہیں ۔
ہاں بہت کچھ سن چکے ہیں بہت سے لوگوں کی زبانی۔ جمال شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ کھلکھلا کر ہنس دی
بس انکل کبھی غرور نہیں کیا امثال نے ہنستے ہوئے کہا
ہاجرہ کیسی ہے ثریا شاہ نے پوچھا
ٹھیک ہیں وہ ۔۔ ویسے آنٹی آپکے لہجے میں فکر بتا رہی ہے انکا اور آپکا رشتہ محض دیورانی جیٹھانی کا نہیں ہے۔
ٹھیک کہا پتر ہم دونوں صرف دیورانی جیٹھانی نہیں بلکہ سگی بہنیں بھی ہیں ۔ ثریا شاہ کی بات پر امثال کا منہ کھلا ۔شاک پہ شاک مل رہے تھے
اوہ مائی گاڈ آنٹی آپ ہاجرہ ڈارلنگ کی بہن ہیں۔
ہاں پتر اور بھی بہت سے گہرے رشتے ہیں ھمارے آپس میں ۔۔۔۔۔اتنا کچا تعلق نہیں تھا ہمارا ۔ بس ماضی کی کچھ غلطیوں نے ہمیں کوسوں دور کر دیا ۔ دیواریں صرف گھروں میں ہی نہیں بنی، دلوں اور رشتوں میں بھی کھڑی ہو گئیں ۔ثریا شاہ نے کھوئے کھوئے انداز میں کہا
تو آپ لوگ منا لیتے۔۔ امثال نے سنجیدگی سے کہا
مصطفی اس وقت بات سننے کو بھی تیار نہیں تھا انہوں صاف الفاظ میں منع کر دیا تھا کہ وہ ہم لوگوں کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتے
آپ لوگ بار بار جاتے ،غلطی تھی تو مانتے ہوئے ازالہ بھی کرتے۔
ازالہ تو تبھی کرتے جب وہ ہماری بات سنتے ۔۔ہم ہر قسم کی سزا بھگتنے کو تیار تھے لیکن انہون نے دھتکار دیا تھا۔ جمال شاہ نے مایوس کن لہجے میں کہا
تو ڈھیٹ بن جاتے یقین جانیں کبھی کبھی ڈھیٹ بن جانے سے بہت سے مسائل حل ہو جاتے ہیں۔ انتہائی کوئی اعلی قسم کی ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بار بار جاتے کبھی نہ کبھی تو انکے دل نرم پڑ ہی جاتے ۔ ہاں اس سے ہو سکتا ہے آپ لوگوں کو شرمندگی ہوتی یا بے عزت ہوتے لیکن تھوڑی سی بے عزتی سے اگر رشتے بچ جاتے تو کوئی مہنگا سودا نہیں تھا۔ ویسے بھی میرے نزدیک بندہ ڈھیٹ ہونا چائیے عزت تو آنی جانی شے ہے ۔اتنے دنوں میں مجھے اتنا تو اندازہ ہو گیا ہے کہ آپکے بیٹے سے زیادہ دکھ آپ لوگوں نے پہنچایا ہے انہیں ۔۔بیٹی تو برباد ہوئی تھی ساتھ میں انکا بیٹا بھی بھی بیس سال تک دور رہا نواسا نواسی ساری زندگی ددھیال کے پیار سے محروم رہے۔خاندان کی باتیں الگ سننے کو ملیں ۔ اور اوپر سے آپ لوگوں کی بے رخی اور بے پرواہی ۔۔چلیں آپ لوگ پہلے کچھ نہیں کر پائے اب تو کر سکتے ہیں نہ ایٹ لیسٹ اپنے پوتا پوتی کو لے کر ہی کچھ مدعاوا کر دیں تاکہ انکا کچھ گلا تو کم ہو۔۔ انکے لیے نہ سہی اپنے پوتے پوتی کے لیے ہی کچھ سوچ لیں مکمل نہ سہی انکی کچھ محرومی ہی کم ہوجائے۔۔ امثال نے سنجیدہ لہجے میں کہا وہ چاروں حیران تھے کہاں انہوں نے لاابالی اور لاپروہ امثال کے بارے میں سنا تھا۔ اتنی حساس اور سمجھداری کا مظاہرہ کرتی وہ انہیں کوئی اور ہی امثال لگی تھی
شائد تم ٹھیک کہہ رہی ہو ثریا شاہ نے دھیمی آواز میں کہا
شائد نہیں میں یقینا ٹھیک ہی کہتی ہوں آنٹی ۔امثال نے دوبارا اپنے ٹون میں آتے ہوئے کہا
آنٹی نہیں دادی یا نانی کہو تمہاری نانی دادی کی عمر کی ہوں
داراصل میری لائف تھوڑی فلمی سی ہے۔ بچپن سے ماما بابا سے پوچھتے تھے ننھیال ددھیال کے بارے لیکن وہ کچھ نہیں بتاتے تھے ۔پھر اچانک ایک دن میرے ددھیال دریافت ہوا مجھے لگتا ہے ایسے ہی کسی دن میرا ننھیال بھی کہیں سے نمودار ہو گا اس لیے دادی تو میری آلریڈی ہیں تو نانی آپکو کہہ نہیں سکتی ہو سکتا کل کو میری نانی دریافت ہو اور اسے برا لگے کہ میں نے ان سے پہلے ہی کسی کو نانی بنایا ہوا ہے۔ اس لیے آپ آنٹی پر ہی گزارہ کر لیں ۔۔امثال نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ بھی ہنس دیں
اچھا ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی ۔۔۔تمہاری ماں اور خالہ کیسی ہیں ثریا شاہ کے لہجے میں حسرت تھی جسے بھانپ کر امثال چونکی تھی
کیا اور بھی کچھ ایسا ہے جسکا مجھے علم ہونا چائیے لیکن میں نہیں جانتی امثال نے بیک ویو مرر سے ثریا شاہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
نہ ۔۔۔۔۔۔۔ نہیں انہوں نے گڑبڑاتے ہوئے رخ پھیر کر کہا تو امثال نے جانچتی نظروں سے انہیں دیکھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماما ۔۔میری جیکٹ کہاں ہے۔ مل نہیں رہی ہے۔
پتا نہیں وہیں ہو گی الماری میں دیکھو ساریہ بیگم نے جواب دیا
دیکھ چکا ہوں سب جگہ کہیں نہیں ہے۔ بازل نےبیزاری سے کہا
کیا نہیں مل رہا ؟ پاس بیٹھی امثال نے لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹاتے ہوئے پوچھا
جیکٹ۔۔۔۔۔۔۔ بازل نے یک لفظی جواب دیا
وہ جو لیدر کی تھی۔۔۔۔۔۔ امثال نے پوچھا
ہاں۔۔۔۔۔ بازل جواب دیا
بلیک کلر والی نہ۔۔۔ امثال نے دوبارہ پوچھا
ہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جس پر وائیٹ پٹی لگی ہوئی ہے امثال نے مسکراہٹ دبائی
ہاں یار وہی ۔۔کہیں دیکھی ہے تم نے۔۔۔۔ بازل نے جھنجھلایا
اچھا وہ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ تو میرے پاس ہے کل میں نے لی تھی۔ میری ڈریس کے ساتھ میچ کر رہی تھی۔۔۔ امثال کے لاپرواہی سے کہنے پر وہ کڑھ کے رہ گیا
حد ہے۔۔ یار بندہ بتا کہ لیتا ہے میں کب سے خوار ہو رہا ہوں۔ بازل نے صوفے پر گرتے ہوئے کہا
تو کیا ضرورت تھی خوار ہونے کی مجھ سے آکہ پوچھ لیتے۔ امثال نے کہا جیسے غلطی اسی کی ہو
ماما میں تو کہتا ہوں اس کے لیے کوئی احمق، کوئی الو کا پٹھا ، کوئی گھونچو ڈھونڈ کر اسکے ہاتھ پاوں پیلے کر دیں گو کہ یہ اس بچارے کے ساتھ زیادتی ہو گی لیکن میری تو جان چھوٹے گی نہ ہر۔ وقت میری چیزوں میں گھسی رہتی ہے ۔بازل نے امثال کو چھیڑتے ہوئے کہا ۔
تم ۔۔۔تم میری شادی کراؤ گے ۔امثال نے اسکو آنکھیں دکھائی
اوئے۔ اس موضوع پر شرما کر گفتگو کی جاتی ہے ۔شرمانا آتا ہے تمہیں ۔
سر پھاڑنا آتا ہے مجھے ہڈیاں اور ٹانگیں بھی توڑ لیتی ہوں۔ سمجھے۔۔۔۔
ہاں ٹھیک ہے، لیکن یہ توڑ پھوڑ صرف شوہر کی ہی کرنا۔۔۔ ۔مجھے تو معاف ہی رکھو۔
ماما اسکو سمجھا لیں آپ ۔۔۔
بازی نہ تنگ کرو اسے۔۔ ساریہ بیگم نے بازل کو گھورا
تنگ کرنے والی کیا بات ہے بھئی جوان جہان لڑکی کو گھر میں بٹھا کہ رکھیں گی ۔۔۔۔
لوگ کیا کہیں گے کہ بیٹی بیاہنی نہیں ہے ۔بازل خالص بوڑھیوں والے انداز میں بولا۔
مامااااااا۔۔۔۔ امثال چیخی تھی
بس بس مجھے پتا اندر سے تم خوش ہو رہی ہو اوپر اوپر سے غصہ دکھا رہی ہو۔۔۔۔۔۔ویسے ژلے تمھیں کس قسم کا لڑکا پسند ہے ۔بھئی میرا مطلب ہے کہ کاروباری ہو ، جاب کرتا ہو یا فورسز میں ہو ۔۔۔۔ چلو شاباش بھائی کو بتاؤ ہو سکتا ہے میں کوئی ڈھونڈ لاوں ۔۔بازل گال پہ ہاتھ رکھتے ہوئے مصنوعی سنجیدگی سے بولا۔ گھر کی خواتین اس وقت ہال میں بیٹھی تھی ۔
سچ بتاؤں تو مجھے نہ ایسے لڑکے پسند ہیں جنکا باپ مجھے اپنے آفس بلوائے اور ایک بلینک چیک میرے ہاتھ پہ رکھے اور کہے ،دیکھو لڑکی یہ بلینک چیک ہے۔۔۔۔۔۔ یہ لو اور میرے بیٹے کی زندگی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نکل جاؤ۔ امثال نے لیپ ٹاپ سائیڈ پہ رکھ کر بلکل بازل کے سٹائل میں گال پر ہتھیلی ٹکاتے ہوئے کہا ۔اسکی بات سن کر سبھی نے مسکراہٹ دبائی ساریہ بیگم سر پیٹ کہ رہ گئیں ۔ اندر آتا عادل جس نے بازل کی آخری بات سنی تھی امثال کا جواب سننے کے لیے وہی رک گیا تھا نفی میں سر ہلا کر رہ گیا مجال ہے جو یہ لڑکی کسی بات کا سیدھا جواب دے
جاری ہے
