32.9K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

بازل کہاں ہے ؟عادل نے اسے اکیلے آتے دیکھا تو پوچھا
اس کو ایک این جی او جانا تھا تو وہ ایک گھنٹہ پہلے ہی چلا گیا
یہ تمہارا موبائل ۔۔عادل نے اسکی طرف موبائل بڑھایا امثال نے پکڑ کر بیگ میں رکھا
میں نے اس میں ٹریسر فٹ کیا ہے
کیوں۔۔ امثال نے حیرانی سے پوچھا
جس طرح کی تم لوگوں کی حرکتیں ہیں اس کے لیے یہ ضروری تھا
کیا ہے یار پہلے عدی اور شہری بھائی نے پتہ نہیں کیا کچھ فٹ کیا ہوا ہے ہمارے سیل فونز میں اور اب تم ۔کوئی پرائیویسی بھی رہنے دو
دیکھو ژلے بہرام کے ساتھ جو کچھ تم لوگوں نے کیا ہے اگر اسے پتہ چل گیا تو سکون سے نہیں بیٹھے گا ۔اس لیے میں کوئی رسک نہیں لینا چاہتا
اچھا صحیح ہے ۔امثال نے منہ بگاڑا
عادی ایک بات بتاؤں
ہاں بولو اسنے ڈرئیونگ کرتے ہوئے مصروف انداز میں کہا
اسے بتاؤں یا نہیں ۔اگر اس نے غصے میں کچھ الٹا سیدھا کر دیا تو خومخواہ کی دشمنی پیدا ہو جائے گی ۔ رہی بات بہرام کی تو اسے میں خود ہی دیکھ لوں گی
کہاں کھو گئی ۔۔۔ امثال کو سوچ میں دیکھ کر عادل نے اسکے آگے چٹکی بجائی
کہیں نہیں امثال نے گڑبڑاتے ہوئے کہا
اچھا تم کچھ کہہ رہی تھی
رہنے دو تم برا منا جاؤ گے
تم بتاؤ تو سہی
مجھے نہ اس دن والے کیفے سے برگر کھانا ہے
تم کچھ اور بات کرنا چاہتی ہو ۔۔۔ ہے نہ؟ عادل نے اسے جانچتی نظروں سے دیکھا
توبہ ہے بھئی جس طرح سے تم شک کرتے ہو نہ پکا اپنا پولیس والا ہونے کا ثبوت دیتے ہو ۔کوئی بات نہیں ہے بس مجھے برگر کھانا ہے تم لے کہ چلو
جیسے تمہاری مرضی عادل نے کندھے اچکائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سدرہ آپی نانو کہاں ہیں ؟؟
وہ بڑے کمرے میں عورتوں کے پاس بیٹھی ہیں ۔سدرہ نے قمیض کو ٹانکا لگاتے ہوئے کہا
اچھا تو آستانے پر بیٹھی ہیں
پاگل لڑکی آستانہ نہیں ہے اور نہ وہ دم دورد کرتی ہیں ۔گاؤں کی عورتیں اپنے گھریلو اور معاشی مسائل لے کر آتیں ہیں اور وہ اپنی سمجھ کے مطابق انکا حل نکالتی ہیں یا پھر انکی مالی مدد کرتی ہیں
اوہ ہ صحیح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اچھا میں انکے پاس جا رہی ہوں امثال بڑے کمرے کی طرف مڑی
آپی اسے روکیں آپ کو پتہ ہے نہ بی جان کو پسند نہیں یوں ان کے کام میں مداخلت کرنا صوفیہ نے پریشانی سے کہا
کچھ نہیں ہوتا جانے دو ۔۔۔۔
آپی اسے ڈانٹ پڑ جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صوفی کچھ نہیں ہوگا اس نے پہلے کونسا کبھی شاہ خاندان کے اصولوں اور روایات کی پاسداری کی ھے جو اب کرے گی ۔نہ کبھی کسی نے پہلے اسے کچھ کہا ھے نہ کوئی اب کہے گا تم پریشان مت ہو۔ سدرہ کی تسلی بھی صوفیہ کو مطمئن نہ کر سکی تو وہ اسکے پیچھے چل دی
نانو میں آجاؤں؟ امثال نے دروازے سے جھانک کر اجازت مانگی
ہاں ہاں پتر آ پوچھنے کی کیا بات ہے۔ ثریا شاہ کا جواب سن کر پیچھے کھڑی صوفیہ کی آنکھیں کھلیں تھی
کیا ہوا ؟
یار آپی کو پتہ ہے اسکے اجازت مانگنے پر بی جان نے کہا کہ آجاو اجازت مانگنے کی کیا ضرورت ہے صوفیہ کے انداز پر سدرہ کی ہنسی چھوٹی
کہا تھا نہ کہ کچھ نہیں ہوگا
لیکن آپی ایسے کیسے ہمیں تو وہ پاس بھی نہیں پھٹکنے دیتیں
صوفی کچھ لوگ ہوتے ہیں جن کی کوئی بات بری نہیں لگتی اور یہ دونوں بہن بھائی اُنہی میں سے ہیں۔ سدرہ نے مسکراتے ہوئے کہا
السلام علیکم ایوری ون کیسی ہیں آپ سب ۔ امثال نے اندر بیٹھی آٹھ دس خواتین کو مشترکہ سلام کیا۔ وہاں بیٹھی عورتیں تو اسے دیکھ کر ہی شاک ہو گئیں تھیں ۔سرخ کلر کی کرتی ٹراؤزر میں سرخ دوپٹہ ہی گلے میں ڈالے ،بالوں میں پونی لگائے ننگے پاؤں لیے دھپ سے ثریا شاہ کے پاس تخت پر گری تھی ۔انہوں نے کب شاہ خاندان کی لڑکیوں کو اپنے حلیے سے بے نیاز یوں دندناتا دیکھا تھا ۔
یہ میری نواسی ہے امثال، ساریہ کی بیٹی ۔کچھ مہینے پہلے ہی شہر سے آئے ہیں یہ لوگ ثریا شاہ کے تعارف کروانے کی دیر تھی کہ سبھی خواتین اٹھ کھڑی ہوئیں باری باری اسکا ہاتھ پکڑ کر انکھوں کو لگا کر سلام کرنے لگی ۔اس اچانک افتاد پر امثال بوکھلا کر رہ گئی
ہے۔۔ہے۔۔۔ لسن کیا کر رہی ہیں آپ۔ امثال نے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی جو ناکام بنا دی گئی
یار نانو کیا تھا یہ ۔ وہ سب واپس جا کر بیٹھی تو امثال نے ثریا شاہ کے کان میں سرگوشی کی۔ انہوں نے اپنی نواسی کو یوں ہونق بنے دیکھ کر اپنی ہنسی دبائی
بی بی آپ شاہ خاندان کی بیٹی ہیں اس لیے ہمارے لیے قابلِ احترام ہیں اس لیے یہ سب آپکو اس انداز میں سلام کر رہی ہیں ۔پاس کھڑی ملازمہ نے اسکو یوں حیران دیکھ کر وضاحت کی
اچھا اچھا ۔امثال نے گہری سانس لی اگر ماما مجھے اتنی عزت ملتا دیکھ لیں تو غش کھا جاتیں یہ سوچ آتے ہی وہ بے اختیار ہنسی تھی
ہاں سکینہ بول کیا کہہ رہی تھی تیرے خاوند نے نشہ کرناچھوڑا یا نہیں ؟ ثریا شاہ دوبارہ ان عورتوں کی طرف متوجہ ہوئیں
کہاں بی بی وہی روز کا رونا کمبخت روز نشہ کرکےآ جاتا ہے اورمار پیٹ شروع کر دیتا ہے میں تو تنگ آ گئی ہوں
تو آنٹی جب اگلی دفعہ مار پیٹ کرنےلگے تو پلٹ کر الٹے ہاتھ کا کھینچ کہ لگائیے گا سارا نشہ ہرن ہو جائے گا امثال ثریا شاہ کی گود میں گھستی ہوئی بولی تو سب نے منہ کھول کر اسے دیکھا
مجھےایسے مت دیکھیں سچ کہہ رہی ہوں
پر بی بی شوہر کی عزت کرنی چائیے بے شک جیسا بھی ہو
عزت انکی کی جاتی ہے جو قابل عزت ہوں ۔یہ تو کوئی بات نہ ہوئی شوہر جوتوں سے مار رہا ہو اور بیوی اس کے پاؤں دھو کر پی رہی ہو امثال نے منہ بنایا
اچھا بس کر تو ماں نہ بن اور تم لوگ بھی جاو اب پھر آنا اور فریدہ تم اپنے بیٹے کو منشی کے پاس بھیج دینا میں کہہ دوں گی اسے کام پر رکھ لے گا۔ تھوڑی دیر میں کمرہ خالی ہوچکا تھا
پتر یوں نہیں کہتے گاؤں کی عورتیں ہیں گھر جا کر باتیں بنائیں گی اور پھر شاہ خاندان کی لڑکیاں یوں سب کے سامنے پٹر پٹر نہیں کرتی
اچھا چھوڑیں نہ یہ بتائیں کہ آپ اس دن کہہ رہی تھیں نہ کہ آپ نے ایک دعوت رکھنی ہے جس میں سارا خاندان مدعو ہوگا تو کب کررہی ہیں میں اور بازی بہت ایکسائٹیڈ ہیں، کتنا مزہ آئے گا نہ سب لوگ اکھٹے ہوں گے۔ امثال نے چہکتے ہوئے کہا
جھلی نہ ہو تو ،بھلا تو نے اور بازل نے کیا کرنا ہے دعوت میں۔ بی جان نے اسکے سر پر چیت لگائی ۔۔۔۔اگر جو وہ جان جاتیں کہ وہ کیا کریں گئے تو دعوت رکھنے کا کبھی مر کر بھی نہ سوچتیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عاشی آپو جوس دے دیں یار۔ امثال نے کاؤچ پر بیٹھے بیٹھے ہانک لگائی
لا رہی ہو۔ عائشہ کی آواز سن کر وہ دوبارہ ٹی وی کی طرف متوجہ ہوئی
تم خود نہیں لے سکتی وہ نوکر لگی ہے تمہاری ۔ساریہ بیگم اسکو یوں شاہانہ انداز میں حکم دیتےدیکھ کر سلگ کر رہ گئی
اوہ میرے بابا کی ڈئیر وائفی کچھ نہیں ہوتا ویسے بھی وہ میری آپو ہیں اور بھابھی بھی۔۔۔۔ چل کریں۔ امثال نے ماں کی طرف دیکھتے ہوئے آنکھ دبائی
تم سے کتنی بار کہا ہے یہ لوفرانہ انداز سے میرے ساتھ بات مت کیا کرو۔ امثال کو ماں سے جھڑک کھاتے دیکھ کر بازل نے اسے چڑایا تو امثال نے پاس پڑا کشن اٹھا کر اسکی طرف پھینکا جو عائشہ کے اچانک جوس کا گلاس آگے کرنے کی وجہ سے گلاس سے جا ٹکرایا کچھ جوس چھلک کر امثال کے کپڑوں پر گرا تھا
واٹ دا ہیل آپکو نظر نہیں آ رہا تھا ۔سارے کپڑوں کا ستیا ناس کر دیا امثال نے ناگواری سے عائشہ کو دیکھا ۔اسکا انداز دیکھ کر سبھی ششدر رہ گئے
ژلے کونسا طریقہ ہے بات کرنے کا ؟ساریہ بیگم کی حیرانی بجا تھی ۔وہ دونوں جتنے بھی شرارتی سہی مگر بدتمیز نہیں تھے
ماما میرا یہی طریقہ ہے بات کرنے کا اور آپ نے دیکھا نہیں کیسے جوس گرا کر میرے سارے کپڑے خراب کر دیے ہیں ۔ بات کرتے کرتے اس نے عائشہ کی طرف دیکھا تو اسکو روتا دیکھ کر بوکھلا کر اٹھی
سوری آپو میں مذاق کر رہی تھی ۔ پلیز آپ روئیں نہیں میں سچ کہہ رہی ہوں مذاق کر رہی تھی ۔۔میں تو بس وہ نندوں والی فیلینگ لے رہی تھی۔ امثال نے عائشہ کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا تو وہ ہاتھ چھڑوا کر اپنے کمرے کی جانب بھاگی
ژلے کیا کروں میں تمہارا۔ساریہ بیگم نے سر پکڑا
ماما میں سچ کہہ رہی ہوں مذاق کر رہی تھی ۔امثال منمنائی
کچھ نہیں ہوتا بیٹا تم یہاں آؤ میرے پاس خدیجہ بیگم نے اسکی رونی صورت دیکھی تو اسے پاس بلایا
خالہ میں سچی کہہ رہی ہوں میں نے بس ایویں کہا تھا میرا وہ مطلب نہیں تھا
جانتی ہوں میری بیٹی بدتمیز نہیں ہے۔ خدیجہ بیگم نے اسے تسلی دی
آپی چائے لائی ہوں آپ کے لیے اور ساتھ پکوڑے بھی ہیں آپکو پتہ ہے چائے میں نے بنائی ہے
کیسی بنی ہے۔ اسکی طرف سے کوئی جواب نہ پا کر امثال نے پوچھا
اچھی ہے۔ عائشہ نے مختصرً کہا
آپکا سٹور کیسا جا رہا ہے
اچھا
کوئی نیا آرڈر ملا کیا
ہاں اسکے مختصرً ہوں ہاں کرنے پر امثال بے دلی سے اٹھ گئی
کیا ہوا ہے میری پرنسزیہاں کیوں بیٹھی ہے شہریار نے اسکو سیڑھیوں پر اکیلے بیٹھے دیکھا تو اسکے پاس بیٹھتے ہوئے کہا
بھائی آپی ناراض ہیں مجھ سے ۔۔۔زیادہ بات بھی نہیں کر رہی ہیں ۔۔میں نے بس مذاق کیا تھا
میں جانتا ہوں میرا بچہ مذاق کر رہا تھا اور تم فکر مت کرو میں بات کروں گا اس سے ۔اٹھو اور اپنےکمرے میں جاؤ ۔میرا بیٹا افسردہ بیٹھا اچھا نہیں لگ رہا شہریار نے اسے اٹھا کر کمرے میں بھیجا اور خود کچن کی طرف آیا تو اسے چولہے کے پاس کھڑے پایا
عائشہ ایک کپ کافی ملے گی
جی میں بنا دیتی ہوں
میں لان میں ہوں وہیں لے آئیے گا کہتا ہوا وہ چلا گیا
بیٹھیں ۔۔۔۔۔۔عائشہ کافی رکھ کر جانے لگی تو شہریار نے اسے روکا
ژلے بہت پریشان ہے کہ آپ اس سے بات نہیں کر رہیں ہیں۔اس نے جو کہا وہ اسکا مطلب نہیں تھا۔ وہ بس آپ سے مذاق کر رہی تھی
آپکو وضاحت دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔شائد وہ اپنی جگہ ٹھیک ہے آپ اسکے بھائی ہیں اپ کو لے کر اس نے بہت کچھ سوچا ہو گا اور اپکو مجھ سے نکاح کرنا پڑ گیا اور اسکو یہ بات اچھی نہ لگی ہو عائشہ نے آہستگی سے کہا تو شہریار ہولے سے مسکرایا
آپ کو پتہ ہے آپکا نکاح مجھ سے کیوں ہوا ہے
ہاں کیونکہ اس دن بہرام شاہ نہیں آیا تھا ۔ اگر بابا لوگ تھوڑا ویٹ کر لیتے تو آپکے ساتھ زیادتی نہیں ہوتی اور نہ ہی امثال کو مجھے برداشت کرنا پڑتا ویسے بھی وہ بیس منٹ بعد آ تو گیا تھا نہ ۔اسکی بات سن کر شہریار ہنسا تھا
نہیں چاہے جتنا بھی ویٹ کر لیتے بہرام نہیں آتا وہ آ ہی نہیں سکتا تھا جانتی ہیں کیوں۔ شہریار اسکی طرف جھکا
کیوں۔ اس نے بے ساختہ پوچھا
کیوں وہ امثال اور بازل کے پاس تھا۔ اسے ان دونوں نے صدام کے ساتھ مل کر اغواہ کیا تھا، تاکہ آپکا نکاح اسکی بجائے مجھ سے کروا سکیں ۔اور نکاح کے بیس منٹ بعد اسے چھوڑ دیا تھا آپ تو یہ بھی نہیں جانتی ہوں گی امثال نے بی جان ،خالہ اور عادل سے کہا تھا کہ وہ بہرام سے رشتہ ختم کر کہ اپکو اسکی بھابھی بنا دیں لیکن انکےمنع کرنے پر اس نے عین ٹائم پر بہرام کو اٹھوا لیا ۔شہریار کے انکشاف نے اسے ساکت کر دیا تھا
اتنا کچھ ہو گیا اور مجھے پتہ ہی نہیں چلا ۔عائشہ نے کھوئے کھوئے انداز میں کہا اچانک وہ کچھ یاد آنے پر چونکی
اوہ مائی گاڈ اس نے مجھے کہا تھا کہ مجھے کونسا رخصت ہو کرکہیں جانا ہے ۔اسی گھر میں ہی تو رہنا ہے اور اس نے یہ بھی کہا تھا کہ اس کے ہوتے ہوئے مجھے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔لیکن میں ان دنوں ٹینس تھی اس لیے اسکی باتوں کو سمجھی نہیں تھی اوہ گاڈ میں کتنی بڑی بےوقوف ہوں عائشہ نے ماتھے پر ہاتھ مارا۔شہریار اسکا انداز دیکھ کر ہنسا
ویسے آپ ٹینس کیوں تھیں ۔شہریار اسکی طرف مزید جھکا تو وہ سٹپٹا گئی
ہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔۔۔ بس ایسے ہی میں جاؤں۔ اسکویوں بوکھلاتا دیکھ کر شہریار نے مسکراہٹ دبائی امثال اسکی ٹینشن کی وجہ بتا چکی تھی لیکن وہ اسے بتا کر کہ وہ اپنے لیے اسکی پسندیدگی کے بارے میں جانتا ہے شرمندہ نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے خود کو انجان ظاہر کیا
بس آخری بات۔۔۔۔۔۔۔ دیکھیں عائشہ بازل میں میری جان بستی ہے تو امثال میں میری روح ۔ انکو دیکھ کر میرا دن گزرتا ہے۔ میری انکے ساتھ ایک عجیب سی اٹیچمنٹ ہے ۔میرے لیے وہ دونوں ہی بہت ضروری ہیں۔ میں آپ سے یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ ان سے پیار کریں یا انکا خیال رکھیں اگر آپکو اچھا نہیں لگتا تو میں دونوں کو ہی منع کر دوں گا کہ وہ آپکو اپنا کوئی کام نہ کہا کریں نہ ہی کوئی مذاق کریں لیکن مجھ سے رشتہ ہونے کے ناطے آپ انکی بھابھی ہیں ۔ پیار نہ سہی تھوڑی عزت کی گنجائش اپنے دل میں ضرور رکھیے گا۔ اور رہی بات آج کی تو اس نے واقعی ہی مذاق کیا تھا میں اسکی آنکھوں میں شرارت دیکھ چکا تھا اس لیے اسے اس وقت نہیں ٹوکا ۔پھر بھی اسے منع کروں گا کہ آئندہ آپ سے کوئی بھی شرارت نہ کرے ۔پلیز آپ اس کے لیے اپنے دل میں میل مت رکھیے گا
اسک ضرورت نہیں ہے مجھے وہ ویسے ہی عزیز ہے جیسےسانیہ اورزروا ہیں یا پھر شائد ان سے بڑھ کر ،آپ نہیں جانتے اس نے میرا کتنا بڑا خواب پورا کیا ہے اور میں اس سے ناراض نہیں تھی بس اپ سیٹ تھی کہ شائد وہ ہمارا رشتہ نہیں چاہتی تھی اس لیے ایسا بیہیو کیا اور جہاں تک رہی دونوں سے پیار کی بات تو شائد ہی کوئی ایسا ہو جو ان سے ملے اور اسے ان سے انسیت نہ ہو۔ عائشہ نے ہلکی سی مسکراہٹ سے بولی
اچھا اور انکے بڑے بھائی کے بارے میں کیا خیال ہے؟ شہریار نے رازداری سے پوچھا
ہاں عدید بھائی بھی اچھے انسان ہیں بس تھوڑے سے غصے کے تیز ہیں لیکن اچھے ہیں
میں نے عدید کا نہیں پوچھا اپنی بات کی ہے، شہریار نے جل کر کہا
تو مجھے کیا پتہ آپ نے بڑے بھائی کا پوچھا تو میں نے بتا دیا عدید بھائی انکا بڑا بھائی ہی ہے عائشہ نے شرارت سے کہا
اچھا تو پھر میرے بارے میں کیا خیال ہے۔ شہریار نے کرسی پر ٹیک لگائی
پھر کبھی بتاؤں گی ابھی تو مجھے اپنی نند کے پاس جانا ہے ایسا نہ ہو کہ فیلینگ لینے کے چکر میں بے چاری ساریہ خالہ سے مار کھا لے عائشہ ہنستی ہوئی اٹھ گئی
آپی ۔۔جیسے ہی وہ ہال میں پہنچی امثال نے اسے پکارا جواب میں عائشہ ایک زبردست قسم کی گھوری سے نوازتے ہوئے اوپر چلی گئی
آپی یہ دیکھیں میں آپ کے لیے چاکلیٹ دودھ لائی ہوں امثال کو بچوں جیسا لالچ دیتے دیکھ کر عائشہ نے اپنی ہنسی دبائی
رکھ دو۔ سپاٹ انداز میں کہتی وہ دوبارہ سکیچ کی جانب متوجہ ہوئی
واو آپی کتنا اچھا ڈیزائن ہے ۔ آپ مجھے بھی ایک ایسا ہی ڈریس بنا کر دینا
آپی سوری ۔ اسکی طرف سے کوئی جواب نہ پا کر امثال نے اسکا لیپ ٹاپ کھینچا
سنیں نہ ۔۔۔۔۔۔۔
تمہیں شرم تو نہیں آئی ۔عائشہ نے کھردرے لہجے میں کہا
آپی وہ ۔۔میں نے سچی مذاق کیا تھا
اتنا سب کچھ کر کہ کہہ رہی ہو کہ سوری مذاق کیا تھا ۔عائشہ نے اسے گھورا
کچھ نہیں کیا ہے میں نے۔ بس آپ کے ساتھ تھوڑی سی نند بننے کی کوشش کی تھی۔ جواب میں
آپ نے اتنی لمبی پنشمنٹ دے دی، میرے باپ دادا کی بھی توبہ جو دوبارہ ایسی کوئی کوشش کروں امثال کے منہ بنا کر کہنے پر عائشہ کی ہنسی چھوٹی تھی
امثال نے اسکو ہنستا دیکھ کر سکھ کا سانس لیا اور اپنا دودھ کا گلاس اٹھا کر پینے لگی
میں وہ بات نہیں کر رہی ہوں اسکی بات کر رہی ہوں جو تم نے بہرام شاہ کے ساتھ کیا ہے ۔عائشہ کی بات سن کر اسے اچھو لگا تھا
آہستہ بولیں مروائیں گی کیا ۔۔۔اور یہ آپکو کس نے بتایا ہے ۔امثال نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھا
شہریار نے ۔۔۔۔۔
اوہ گاڈ تو شہری بھائی کو بھی پتہ ہے ۔یہ عدید کا بچہ ایک بار میرے ہاتھ لگے سہی۔ امثال نے دانت پیسے
اچھا یہ سب کرنے کا تمہں کیسے خیال آیا ۔آئی مین کہ بہرام شاہ کو لے کر پہلے تو تم نے کبھی ایسی کوئی بات نہیں کی تھی
ڈئیر بھابھی صاحبہ رمل آپی کے علاوہ میں بھی آپکی محبت کی داستان سن چکی ہوں اسکا انکشاف سن کر عائشہ کا منہ کھلا تھا
آج تو مجھے شاک پر شاک مل رہے ہیں اور یہ تم کیسے جانتی ہو؟
اس دن جب آپ رمل آپی کو کہہ رہیں تھیں کہ وہ جا کر منع کر دیں اس دن میں نے سنا تھا اور پکے والا فیصلہ کیا کہ کچھ بھی ہو جائے آپکی شادی بہرام شاہ سے نہیں ہونے دوں گی اور دیکھیں اللہ کے کرم سے سب کچھ ٹھیک ہو گیا
تھینک یو سو مچ عائشہ نے اسے گلے لگایا
اچھا اچھا زیادہ ایموشنل مت ہوں میں امثال ہوں شہریار بھائی نہیں ،جو یوں گلے لگ رہی ہیں اسکی بات سن کر وہ پیچھے ہٹی
بکواس نہیں کرو ۔عزت راس ہی نہیں ہے تمہیں ۔عائشہ نے اسے پیچھے دھکیلا
اچھا آپو اب تو مان گئی ہیں نہ تو کیا کبھی کبھی میں نند بن کر آپ پر رعب جھاڑ سکتی ہوں۔ امثال نے خاصی سنجیدگی سے پوچھا تھا
ہاں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ بس یہی اجازت مجھے بھی دے دو بلکہ مجھے کیا سانیہ اور زروا کو بھی دے دو کہ ہم بھی نندیں بن کر تم پر رعب جھاڑ لیا کریں عائشہ نے بھی اسی کے انداز میں کہاتو وہ چند پل تو اسے نا سمجھی سے دیکھتی رہی بات سمجھ آنے پر وہ بے اختیار جھینپی
کیا ہے آپو میں نہیں بات کر رہی آپ سے۔ اسکو یوں شرماتا دیکھ کر عائشہ نے قہقہ لگایا
اللہ اللہ یہ میری گنہگار آنکھیں کیا دیکھ رہی ہیں امثال شاہ شرما رہی ہے۔کاش اس وقت عادل بھائی یہاں ہوتے
ہٹیں آپ مجھے نہیں بیٹھنا آپکے پاس۔ امثال اٹھ کر باہر کی طرف بھاگی ۔پیچھے کافی دیر تک وہ ہنستی رہی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم کہیں جا رہے ہو ۔امثال عادل کے کمرے میں داخل ہوئی تو اسے بیگ پیک کرتے دیکھا
ہاں ایک کیس کے سلسلے میں کچھ دنوں کے لیے جا رہا ہوں
اچھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہٹو میں کر دیتی ہوں۔امثال نے کہا تو وہ سائیڈ پر ہو کر وہیں بیڈ پر بیٹھ گیا
کب تک واپس آؤ گے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ کہہ نہیں سکتا۔ آ ٹھ دس دن تو لگ ہی جائیں گے یایہ بھی ہو سکتا ہے آ ہی نہیں سکوں۔
اچھا آتے ہوئے میرے لیے چاکلیٹ اور ڈھیر ساری شاپنگ کر کہ لانا ۔امثال نے اسکی بات نظر انداز کی
تم نے شائد ٹھیک سے سنا نہیں میں کام کے لیے جا رہا ہوں گھومنے پھرنے نہیں جو تمہارے لیے شاپنگ کر کہ لاؤں
چاہے جہاں بھی جا رہے ہو آتے ہوئے میری بتائی ہوئی چیزیں لے کر آنا امثال کی بے نیازی عروج پر تھی
اور اگر میں نہ آیا تو ۔
کیوں وہیں شادی کر کہ گھر بسانے کا ارادہ ہے ۔اگر تو ایسی ویسی کوئی بات ہے تو یاد رکھنا بہت ماروں گی تمہیں بھی اور اسے بھی
جہاں میں جا رہا ہوں وہاں بہت خطرہ ہے ڈرگز کا کافی لمبا سلسلہ ہے ہوسکتا ہے ثبوت اکھٹے کرتے ہوئے پکڑا جاؤں یا پھر ریڈ کے دوران گولی لگ جائےاور مر جاؤں تو کیا کرو گی ۔اسکی بات سن کر اسکے ہاتھ سے شرٹ چھوٹی تھی
تو میں نے کیا کرنا ہے بھلا ۔۔ رو دھو کر چپ ہو جاؤں گی ،اس کے علاوہ کر بھی کیا سکتی ہوں اور ویسے بھی گھر والوں نے ایموشنل بلیک میل کر میری تم سے شادی کی ہے میں کونسا تمہارے عشق میں گوڈے گوڈے ڈوبی ہوئی ہوں جو جوگ لے لوں گی ۔ کہتے ہوئے اسکی آنکھوں میں نمی ابھری تھی جو عادل کی نظروں سے چھپی نہ رہ سکی ۔عادل نے اسے پکڑ کر اپنے ساتھ بٹھایا
ایسی بات ہے تو پھر رو کیوں رہی ہو
نہیں میں کہاں رو رہی ہوں اچھا ہے نہ کچھ دن تمہاری گھوریاں نہیں دیکھنی پڑے گیں فضول میں رعب جھاڑتے رہتے ہو ۔ ۔امثال نے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے کہا
یہی بات میری طرف دیکھ کر کرو
کیا ہے بھئی میں نہیں دیکھ رہی ہوں ۔ ہٹو پیچھے مجھے پیکنگ کرنے دو ۔ خواہ مخواہ میں فری ہو رہے ہو ۔ امثال نے شرٹ اٹھا کر تہہ کرتے ہوئے منہ بگاڑا
محترمہ خوامخواہ فری نہیں ہو رہا۔ کچھ دن پہلے باقاعدہ سرٹیفکیٹ ملا ہے ۔۔۔۔ عادل نے اسے بازو سے کھینچ کر دوبارہ اپنے ساتھ بٹھایا
اچھا سنو ایک ہفتے کے لیے جا رہا ہوں اس دوران میں رابطہ نہیں رکھ پاؤں گا سیل فون یہیں چھوڑے جا رہا ہوں جلد واپس آنے کی کوشش کروں گا کیونکہ مجھے ابھی تمہارے ساتھ بہت سارا جینا ہے تمہاری بہت ساری شرارتیں دیکھنی ہیں۔ پلیز تم اپنا خیال رکھنا۔۔ رکھو گی نہ؟ ۔ اسکو اپنے بازو کے حصار میں لیتے ہوئے عادل نے دھیمی آواز میں کہا
میں انتظار کروں گی جلدی آنا
تم دعا کرنا۔ دعا میں بڑی طاقت ہوتی ہے اللہ سے کہنا کہ تم اپنے شوہر سے بہت محبت کرتی ہو اس لیے اللہ پاک اسے کچھ نہ ہو
ہاہاہاہا خوش فہمیاں دیکھو۔ امثال ہنسی تھی
تو کیا نہیں ہونی چاہیں ۔۔۔۔۔
نہیں پالے رکھو۔ میرا کیا جاتا ہے۔ اس کے حصار سے نکلتے ہوئے امثال نے اسے چڑایا
چلو کوئی ایک دن وہ بھی ہو جائے گی ۔عادل نے ٹھنڈی سانس بھری
توبہ ہے۔ اب نہیں ہے تو نہیں ہے۔ آہیں کیوں بھر رہے ہو
اللہ کے ہاں دیر ہے، اندھیر نہیں عادل نے بیگ اٹھاتے ہوئے کہا تو وہ ایک بار پھر ہنسی تھی
گڈ بائے نہیں کہو گی عادل جاتے جاتے پلٹا
گڈ بائے۔۔۔۔۔۔۔
پردیس جاتے شوہر کو ایسے گڈ بائے نہیں کہتے
تو پھر کیسے کہتے ہیں؟
ایسے …… عادل نے اسے اپنے ساتھ لگایا اور پیشانی پر لب رکھے
تمہیں بڑا پتہ ہے۔۔خیر تو ہے نہ۔ امثال کے کمر پہ ہاتھ رکھ کر گھورنے پر عادل نے بےساختہ قہقہ لگایا
ایسے لڑتی ہوئی پوری بیوی لگ رہی ہو عادل نے ہنستے ہوئے اسکا گال کھینچا
اچھا اب جاؤ لیٹ ہو رہے ہو ۔ امثال نے اسے باہر کی جانب دھکیلا
جا رہا ہوں لڑکی یوں دھکے تو مت دو۔ عادل نے منہ بنایا امثال اسکا ہاتھ پکڑ کر باہر پورچ میں لائی
اللہ حافظ خیال رکھنا اور جلدی واپس آنا میں انتظار کروں گی امثال نے گاڑی کے شیشے سے جھانکتے ہوئے کہا تو اس نے سر ہلاتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کی اسکے گیٹ سے نکلنے پر امثال بھی حویلی کے گیٹ پر آئی اور تب تک کھڑی رہی جب تک اسکی گاڑی نظروں سے اوجھل نہ ہوگئی
جاری ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔