32.9K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

تم ریڈی ہو!! بازل امثال کے روم میں داخل ہوا
ھاں بس ایک منٹ۔۔امثال نے بازل کو دیکھا جو بلیک ٹی شرٹ اور بلیک ہی جینز پہنے ریڈی کھڑا تھا۔اس نے بھی بازل کے جیسی ڈریسنگ کر رکھی تھی
اوکے ایم ریڈی ۔امثال نےاپنا نقاب لگایا اور ایک نقاب بازل کو پکڑایا دونوں نے اپنی اپنی پسٹل کمر کی بیک سائیڈ پر اڑسی، ٹی شرٹس کو سیٹ کیا اور باہر کی طرف بڑھے۔ پچھلی دیوار پھلانگتے ہوئے باہر کود گئے اس بات سے بے خبر کھڑکی میں کھڑے راسم صاحب انہیں دیکھ چکے تھے
ٹھیک دو گھنٹے بعد وہ اسی راستے سے اندر داخل ہوئے محتاط انداز میں آگے پیچھےدیکھ کر چلتے ہوئے وہ سیڑھیوں پہنچے تو وہاں پر راسم صاحب کو دیکھ کر ٹھٹھک کر رک گئے
سٹڈی میں آؤ۔۔ سپاٹ انداز میں کہتے وہ آگے بڑھ گئے
انکے پیچھے پیچھے وہ سٹڈی میں داخل ہوئے تو راسم صاحب صوٖفے پر ٹیک لگا کر ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھے تھے دونوں ان کے سامنے جا کر کھڑے ہو گئے۔
اتنی رات کو کہاں گئے تھے تم اور کیا کر کہ آ رہے ہو ۔ ان دونوں کو خشمگیں نظروں سے گھورتےہوئے راسم صاحب نے پوچھا۔
وہ بابا۔۔امثال نے گلا کھنکھارتے ہوئے بات شرع کرنا چاہی تھی لیکن راسم صاحب نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا
اس سے پہلے کے تم بات شروع کرو میں ایک بات صاف صاف بتانا چاہوں گا کہ مجھے صرف سچ سننا ہے ۔۔۔راسم صاحب نے رعب دار لہجے میں کہا۔ تو امثال نے بازل کو سب سچ بتانے کا اشارہ کیا۔ چھپانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا وہ کونسا کچھ غلط کر کہ آئے تھے
وہ بابا جی آج یونی میں ایک لڑکی رو رہی تھی ۔جب ہم نے پوچھا تو کہنے لگی کہ یونی آتے ہوئے راستے میں تین لڑکوں کا ایک گروپ کھڑا ہوتا ہے جو آتی جاتی لڑکیوں سے بدتمیزی کرتا ہے ۔لڑکے چونکہ پیسے والے ہیں۔ تو پولیس کمپلین کا بھی فائدہ نہیں ۔الٹا پولیس والوں نے ان لوگون کو زلیل کر تھانے سے نکال دیا۔ سو انکی وجہ سے لوگ اپنی لڑکیوں کا سکول کالج چھڑوا رہے ہیں۔ کہہ رہی تھی کہ ایک دن میری یونی بھی چھوٹ جائے گی ۔ھم نے باتوں باتوں میں انکی تفصیل پوچھ لی تھی۔ سو ابھی ھم انہی کی ہی طبعت صاف کر کہ آ رہے ہیں۔ بازل نے کندھے اچکاتے ہوئے لاپرواہی سے کہا جیسے ڈنر کر کہ آ رہے ہوں ۔
ہوں ! کس حال میں اور کہاں چھوڑا ہے انہیں ۔انکو کچھ دیر تک گھورنے کے بعد راسم صاحب نے نرمی سے کہا تو دونوں کی رکی ہوئی سانسیں بحال ہوئیں۔
کچھ زیادہ نہیں بس پندرہ بیس دن ہوسپیٹل اور ایک دو مہینے گھر میں بستر پر گزار ہی دیں گے۔ آتے ہوئے پبلک بوتھ سے ایمبولینس کو فون کر دیا تھا۔امثال کا انداز ایسا تھا جیسے موسم کاحال سنا رہی ہو۔
اگر تمہاری ماں کو پتا چل گیا تو جانتے ہو نہ کیا ہو گا۔ خاص طور ژلے کے حق میں تو بلکل بھی اچھا نہیں ہو گا، اس لیے دھیان رکھا کرو ۔۔۔ راسم صاحب نےکہا اور اُٹھ کھڑے ہوئے تو دونوں بھی انکے پیچھے چل دیے
ایم پراؤڈ آف یو ۔۔دروازے تک جا کروہ پلٹے اور ان دونوں کو گلے لگایا
اب سو جاؤ، گڈ نائٹ ۔۔۔۔۔کہتے ہوئے وہ باہر نکل گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جی ناظرین ہم آپکو بتاتے چلیں کہ کل رات کو اندرون شہر تین لڑکوں کو کسی نے بے دردی سے پیٹا ہے۔لڑکوں کی حالت کافی تشویش ناک بتائی جا رہی ہے ۔ مزید تفصیل کے مطابق ان تینوں کو دو لوگوں نے مارا ہے لیکن انکی حالت دیکھ کر لگتا ہے کہ جیسے بہت سارے لوگوں نے مل کر مارا ہو، آیئے ہم زخمیوں سے بات کرکہ وجہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں جی تو کچھ کہنا چاہیں گے آپ ۔۔۔۔ بہت درد ہو رہا ہے ۔جوڑ جوڑ دکھ رہا ہے ۔نہ بیٹھا جا رہا ہے اور نہ ہی لیٹ سکتے ہیں۔۔۔ ان میں سے ایک نے کراہتے ہوئے کہا۔
کیا آپ ان لوگوں کو جانتے ہیں ؟؟۔۔ کون لوگ تھے اور انکا مقصد کیا تھا ۔
ہائے۔۔۔۔۔ نہیں ہم نہیں جانتے۔ دو لوگ نقاب لگائے ہوئے تھے رات کو ہم گھر جا رہے تھے ہائے۔۔۔۔۔۔۔ کہ اچانک سے سامنے آئے اور روک کر مارنا شروع کر دیا ۔۔۔ دوسرے نے ہائے ہائے کرتے بات مکمل کی تھی
ساریہ بیگم کے بدلتے تاثرات دیکھ کر راسم صاحب نے چینل چینج کر دیا
اس ملک میں قانون نام کی کوئی چیز ہے بھی یہ نہیں۔ اللہ غارت کرے ان لوگوں جنہوں نے بچارے بچوں کی یہ حالت کی ہے۔ ساریہ بیگم کی بات سنتے ہی جوس پیتی امثال کو اچھو لگا تھا جبکہ راسم صاحب نے مسکراتے ہوئے اپنا سر جھکایا تھا
آرام سے گڑیا کیا ہو گیا ہے لیپ ٹاپ پے کام کرتا شہریار بے اختیار اٹھ کر اسکے پاس آیا
کیا ہو گیا ہے ماما ۔۔ایسے تو نہ کہیں۔۔۔۔۔ کیا پتا ان لوگوں نے کیا کیا ھے جو کسی نے اسطرح مارا ہے۔
کیا مطلب ایسے نہ کہوں کتنے ظالم لوگ تھے کتنی بے دردی سے پیٹا ہے خدا کا قہر نازل ہو ایسے لوگوں پر ساریہ بیگم کی بات پر امثال چیخ پڑی
ماماااا۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہو گیا ہے آپکو نہ جان نہ پہچان اور اپ انکی ہمدردی میں اپنی اولاد کو بدعائیں دے رہی ہیں بے اختیار اسکے منہ سے نکلا تھا۔راسم صاحب اپنا قہقہ چھُپانے کے لیے جلدی سے اخبار اُٹھا کہ اپنے چہرے کے آگے کیا تھا۔
میں کب بددعائیں دے رہی ہوں میں تو ان لوگوں کی بات کر رہی ہوں جنہوں نے یہ سب کیا ہے ۔۔پتا نہیں کیا اول فول بکتی رہتی ہے یہ لڑکی ۔۔ ساریہ بیگم بڑبڑاتی ہوئی کچن میں چلی گئیں ۔جبکہ امثال کی حالت دیکھکر اچانک شہریار چونکا
ژلے ۔۔۔کہیں تم لوگوں نے تو نہیں۔۔۔۔۔ شہریار کے خدشہ ظاہر کرنے پر امثال نے ہولے سے سر ہلایا
کیوں۔۔۔۔۔۔۔اسکے پوچھنے پر وہ اسے سب بتاتی چلی گئی ۔جسے سن کر شہریار کے چہرے پر فخر سے چمک آئی تھی
ویلڈن میرا بچہ ۔۔۔۔۔ ایسے لوگوں کے ساتھ ایسا ہی ہونا چائیے۔۔اچھے سے سبق سکھا کر آنا تھا تا کہ دوبارہ ایسی حرکت نہ کر سکیں۔۔ شہریار نے اسکا گال چومتے ہوئے کہا تو وہ اسکے کان میں گھسی
بھائی آپکو پتا ہے رات کو ہم پکڑے گئے تھے بابا نے دیکھ لیا تھا جاتے ہوئے اور واپسی پر ھم سے تفتیش بھی کی تھی اور آپکو پتا ہے رات جب ھم پھنسے تھے نہ میں نے آپکو بہت مس کیا ۔۔دل میں بہت آوازیں بھی دیں۔۔ لیکن آپ آئے ہی نہیں۔
اوہ ہ ہ میر سوہنا شہزادہ ۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے کیا پتا تھا کہ تم لوگ کہیں باہر جا رہےہو ۔۔۔۔۔۔ آئندہ بتا کہ جانا ٹھیک ہے۔ شہریار نے اسکے بال کانوں کے پیچھے کیے ان دونوں کو یوں رازو نیاز کرتے دیکھ کر کچن سے نکلتی ساریہ بیگم نفی میں سر ہلا کر رہ گئی ۔جبکہ راسم صاحب مسکراتے ہوئے بھائی بہن کی محبت دیکھ رہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس وقت میٹینگ روم میں شہر کے جانے مانے بزنس مین جمع تھے ۔شہریار میٹینگ روم میں چہرے پر بلا کی سنجیدگی لیے پرزینٹیشن دینے میں مصروف تھا۔کہ اچانک باہر سے شور کی آوازیں سنائی دیں اس نے چونک کہ سر اُٹھایا ۔اتنے میں اس کی سیکرٹری روم میں داخل ہوئی۔
مس تانیہ، یہ کیا ہو رہا ہے باہر۔ شہریار سیکرٹری کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا
سر ۔۔۔وہ ۔۔ تانیہ تو اسکا غصہ دیکھ کر ہی گڑبڑا گئی تھی
جو کوئی بھی ہے اسکو جلدی سے فارغ کرو ۔۔۔۔۔ نظر نہیں آ رہا ہے میٹینگ چل رہی ہے اندر۔۔۔۔۔اب جاو یہاں سے۔شہریار نے اسے کہا تو فورا باہر نکل گئی کہ باس کا کیا بھروسہ اسکی ہی انسلٹ نہ ہو جائے اور باہر جا کہ من و عن شہریار کی بات دہرا دی ۔
ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اچانک دھڑام سے دروازہ کھلا ۔شہریار نے ناگواری سے نظریں اُٹھائی لیکن آنے والی ہستی کو دیکھ کر اسکے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ آگئی
ارے میرا بچہ آیا ہے ۔ خیریت میرا سوہنا اس وقت یہاں ۔۔۔ شہریار نے آگے بڑھ کر اسکو اپنے حصار میں لیا
بلکل بھی خیریت نہیں ہے ۔۔۔میں بور ہو رہی تھی ۔۔اس لیے میں نے سوچا آپکے آفس چلتی ہوں۔۔۔۔امثال کا انداز ایسا تھا جیسے شہریار آفس میں نہیں بلکہ کسی سینما ہال میں بیٹھا ہو
بازل کہاں ہے ۔۔۔ شہریار نے اسے چیئر پر بٹھایا
وہ گھر پہ نہیں ہے ۔۔اچانک کچھ یاد آنے پر اچھل پڑی
ایک منٹ۔۔۔۔ایک منٹ۔۔۔ ابھی آپکی سیکرٹری کہہ رہی تھی کہ آپ مجھ پر۔۔۔۔۔ یعنی کہ مجھ پر غصہ ہو رہے ہیں ۔۔۔۔۔کہہ رہی تھی باس کہہ رہے اسکو باہر سے ہی فارغ کر دو۔۔۔۔۔ جیسے ۔۔۔۔۔ جیسے میں کوئی مانگنے والی ہوں اور مجھے دو روپے کا سکہ دے کر یا پھر اپنے پھٹے پرانے کپڑے دے کر فارغ کرے گی ۔۔۔۔ امثال نے شہریار کو گھورتے ہوئے کہا اسکا انداز دیکھ کر شہریار نے بےساختہ قہقہ لگایا۔
آپ میرا مزاق اڑا رہے ہیں ۔۔۔۔۔ امثال نے آنکھیں پھیلائیں
نہیں بلکل بھی نہیں ۔۔۔۔ شہریار نے جھٹ نفی میں سر ہلایا ،البتہ اسکے ہونٹوں پر ابھی بھی دبی دبی ہنسی تھی
میں نہیں بولتی آپ سے۔۔۔۔۔ امثال نے خفگی سے رخ موڑا ۔
اوکے سوری ۔۔۔شہریار نے اسکے سامنے نیچے بیٹھتے ہوئے کہا
اچھا دیکھو وہ جو جیپ تم نے مجھے دیکھائی تھی نہ وہ کل تک آجائے گی ۔
اب تو سوری ایکسپٹ کر لو ۔۔ شہریار نے ایک ہاتھ سے اپنا کان پکڑا تھا
اوکے اوکے اب آپ چلیں مجھے باہر جانا ہے آپکے ساتھ ۔۔۔۔امثال نے چیئر سے اٹھتے ہوئے کہا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے بھی اُٹھایا ۔
میں میٹینگ اٹینڈ کر لوں؟؟ پندرہ منٹ دے دو بس۔۔ سب کچھ وائینڈ اپ کر کے آتا ہوں تم تب تک میرے آفس میں بیٹھو۔۔ شہریار نے اسکے ماتھے پر لب رکھتے ہوئے کہا
اوکے۔۔ جلدی آئیے گا۔ میٹینگ روم میں بیٹھےسب افراد تو شہریار کے چہرے پر نہ ختم ہونے والی ہنسی دیکھ کر ہی حیران تھے ۔اپنے حلقے میں وہ اپنے سنجیدہ مزاج سے پہچانا جاتا تھا ۔ انکی حیرانی بجا تھی کہ اپنی ریزروڈ نیچر کے باعث جانا جانے والا بندہ نہ صرف مزاق کر رہا تھا بلکہ قہہقے بھی لگا رہا تھا۔
ایک اور بات ۔۔۔۔ آپ نہ اپنی مس تانیہ مانیہ سے کہ دیں کہ یہ مجھے آیندہ باہر نہ روکیں ۔۔۔ وہ جاتے جاتے پلٹی
اوکے مس تانیہ مانیہ آپ آئیندہ میری پرنسز کو باہر نہیں روکیں گی ۔۔۔شہریار نےمسکراتے ہوئے امثال کے ہی انداز میں کہا تو وہ باہر نکل گئی۔
مس تانیہ مانیہ (لاحولا ول قوت) اس نے سر جھٹکا ۔
مس تانیہ آپ امثال کے لیے کچھ کھانے کو منگوائیں میں آتا ہوں دس منٹ تک شہر یار تانیہ سے کہتا دوبارہ میٹینگ روم میں بیٹھے اشخاص کی طرف متوجہ ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوئے چڑیل ۔ چل آجا واک پہ چلتے ہیں۔۔۔۔ بازل امثال کے کمرے میں آیا تو وہ لیپ ٹاپ پر ڈرامہ دیکھ رہی تھی
ہیں، اس وقت۔۔ اس وقت کونسی واک ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔امثال نے گھڑی پے ٹائم دیکھا جہاں دن کےگیارہ بج رہے تھے۔یونی سے چھُٹی کی وجہ سے وہ دونوں گھر پر ہی تھے
واک کا کونسا ٹائم ہوتا ہے۔۔۔۔ آجاؤ نہ تھوڑا گھوم لیں گے۔ میں بور ہو رہا ہوں ۔۔۔ بازل نے بیزارگی سے کہا ۔
اوکے تم چلو میں حجاب لے کر آتی ہوں۔۔۔۔۔
۔کچھ ہی دیر میں وہ دونوں اسلام آباد کی سڑکیں ناپ رہے تھے۔
بازی دیکھو وہ کتا کتنے سکون کی نیند سو رہا ہے۔۔ لگتا ہے بےچارہ ساری رات نہیں سوسکا۔۔۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ اتنے سکون سے کیوں سو رہا ہے جبکہ ہم لوگ اس کے آس پاس موجود ہیں ۔۔۔ امثال نے بازل کی توجہ سامنے سوئے کتے کی طرف دلوائی عدید ہمدانی جو اپنی گاڑی کا بونٹ اٹھا کر چیک کر رہا تھا۔ اپنے پیچھے سے آتی لڑکی کی آواز اور اسکی انوکھی بات سن کر بے اختیار مڑا۔ وایئٹ ٹی شرٹ اور ڈارک بلیو جینز پر بلیک کلر کا حجاب پہنے ارد گرد سے بے نیاز کتے کو چھیڑنے کے موڈ میں تھی۔
جاری ہے
آپکی تنقید یا تعریف میرے لیے اچھی ثابت ہو گی