32.9K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

بہو یہ بازل کہاں ہے ۔۔۔۔۔ اور امثال بھی کب سے نظر نہیں آ ئی۔ بی جان نے ساریہ بیگم سے پوچھا
پتہ نہیں بی جان یہیں کہیں ہو گا ۔۔ اور امثال بھی اسی کے ساتھ ہوگی۔ ۔یہ جہاں بھی جاتے ہیں اکھٹے ہی جاتے ہیں۔ ساریہ بیگم نے جواب دیا
سنو تم نے بازل اور امثال کو کہیں دیکھا ہے ۔۔ساریہ بیگم نے سامنے سے آتی ملازمہ سے پوچھا
جی بی بی وہ دونوں گیٹ کے پاس کھڑے تھے۔ شائد کہیں باہر جا رہے تھے ۔ملازمہ کے بتانے پر ساریہ بیگم نے سر ہلایا
تقریبا آدھے گھنٹے بعد وہ دونوں باتیں کرتے ہوئے ہال میں داخل ہوئے
یہ تم دونوں کی سواری کہاں سے آ رہی ہے۔۔ساریہ بیگم نے پوچھا
وہ ہم نہ گاؤں دیکھنے گئے تھے۔۔کافی دن ہو گئے ہیں ہمیں آئے تو سوچا گاؤں دیکھ آئیں ۔ سارا گاؤں گھوم کہ آئے ہیں بہت مزہ آیا۔۔ لوگ ہم سے پوچھ رہے تھے کہ گاؤں میں نئے آئے ہو ۔۔پہلے کبھی نہیں دیکھا ۔۔اور آپکو پتا ہے جب ہم نے بتایا نہ کہ ہم مصطفی شاہ کے پوتےہیں تو سب لوگ ہمارے گرد جمع ہو گئے۔۔ کیا پروٹوکول ملا ہے۔۔۔۔۔۔۔ قسم سے اشتہاریوں والی فیلینگ آ رہی تھی ۔۔امثال کے نان سٹاپ شروع ہونے پر ساریہ بیگم اسے گھور کر رہ گئیں
آپی لوگوں کو سپر سٹاروں والی فیلینگ آتی ہے آپکو اشتہاریوں والی آرہی تھی ۔۔پاس بیٹھی کالج کا کام کرتی زروا نے کہا
وہ نارمل لوگ ہوتے ہیں زروا ۔۔اور ویسے بھی کھسکے ہوئے لوگوں کی باتوں کو دھیان سے نہیں سنتے۔۔اندر آتے عادل نے امثال کی بات سن کر جواب دیا
زروا جانی جب تمہارا بھائی کہہ رہا ہے کہ کھسکے ہوئے لوگوں کی باتوں پر دھیان نہیں دیتے تو کیوں اپنے بھائی کی بات سن رہی ہو۔امثال کہاں ادھار رکھنے والی تھی
ژلے بد تمیزی نہیں کرو عادل عمرمیں کتنا بڑا ہے تم سے ۔ ۔ساریہ بیگم نے اسے ٹوکا
ماما شروع اس نے کیا تھا ۔۔امثال نے منہ بناتے ہوئے کہا
ژلے میں نے شائد ابھی تم سے ہی کہا ہے کہ تمیز سے بات کرو۔۔ساریہ بیگم نے اسے گھورا
ارے چھوڑیں نہ خالہ جانی کونسا پہلی بار ہے پہلے بھی بہت بار بدتمیزی کر چکی ہے ۔اب تو مجھے عادت ہو چکی ہے ۔۔امثال تم خالہ کو بتایا نہیں کہ یہاں آنے سے پہلے بھی ہماری ملاقات ہو چکی ہے ۔۔عادل نے اسکی طرف مسکراہٹ اچھالتے ہوئے کہا تو امثال کی آنکھیں کھلی تھیں اگر جو ساریہ بیگم کو انکے پولیس سٹیشن جانے کا پتہ چلتا تو انہوں نے اتنے سارے لوگوں کی موجودگی کی پرواہ کیے بغیر جو زلیل کرنا تھا اسکی حد نہیں تھی۔اور ابھی تو انکی محفوظ پناہ گا شہریار اور راسم صاحب بھی گھر پر نہیں تھے
اچھا واقعی کب۔۔۔۔۔۔ژلے تم نے مجھے بتایا نہیں ۔۔ ساریہ بیگم نے پوچھا
وہ ایکچولی خالہ جانی کچھ دن پہلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ ڈیوٹی سے آئے ہیں تو تھک گئے ہوں گے نہ۔۔۔ جا کہ ریسٹ کر لیں۔ اس سے پہلے وہ بات کرتا امثال نے جلدی سے اسے ٹوکا عادل تو لفظ آپ پر ہی اٹکا تھا اتنی عزت۔۔۔۔
نہیں میں تو نہیں تھکا ہوا ۔۔۔۔ بلکل فریش ہوں ۔۔ عادل مسکراتے ہوئے صوفے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔۔ اتنے دنوں میں اسے اتنا تو اندازہ ہو گیا تھا ساریہ بیگم بھی ان کی حرکتوں سے عاجز ہیں۔
ہاں تو خالہ میں کہہ رہا تھا کہ۔۔۔ اس نے ایک نظر امثال کی بے چین شکل دیکھی اور دوبارہ بات شروع کی
میں چائے ۔۔۔ آپ کے لیے چائے لاؤں ۔ امثال نے معصوم سی صورت بنائی تو اس نے ابرو اچکائے
تم اور چائے بنا کر لاؤ گی ۔۔۔۔ژلے کیا بات ہے۔۔۔۔ تمہاری طبعیت تو ٹھیک ہے نہ ۔۔ ساریہ بیگم نے حیرانی سے کہا
اچھا خالہ میں چینج کر کہ آتا عادل اس پر ترس کھا کر اٹھا تو امثال نے سکون کا سانس لیا
آئیندہ مجھ سے سوچ سمجھ کر الجھنا ۔۔ورنہ ایک کی چار لگا کر خالہ کو بتاؤں گا۔۔سارے گھر والوں کے سامنے جو بے عزتی ہو گی نہ۔۔ قسم سے دیکھتے ہوئے مزہ آ جائے گا اور اگر جو میں نے انہیں بتا دیا کہ تم تھانے بھی چکر لگا چکی ہو ۔۔شاہ خاندان کی بیٹی اور پولیس سٹیشن ۔۔۔۔ ویسے کیا خیال ہے ابھی نہ بتا دوں … شہری اور راسم چاچو بھی گھر پر نہیں ہے تو بغیر کسی روک ٹوک کہ لایئو بےعزتی دیکھنے کی بات ہی کچھ اور ہو گی ۔۔۔۔۔۔ چائے دے جانا آخر کو اتنے پیار سے آفر کی ہے عادل نے اسکے پاس سے گزرتے ہوئے رک کر سرگوشی کی تو وہ دانت پیس کر رہ گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ژلے ،بازی تم لوگ تیار رہنا میں دو گھنٹے تک آ جاؤں گا پھر ساتھ میں چلیں گے ۔ شہریار نے دونوں کو کہا
کیوں بھائی کہاں جانا ہے ۔امثال نے کہا
واٹ۔۔۔۔ حیرت ہے تم دونوں بھول گئے
ہاں بھائی ہمیں نہیں یاد کہیں جانا تھا کیا ابکی بار بازل نے پوچھا
بھئی انس کے ولیمے پہ نہیں جانا کیا۔ویسے مجھے بھی بھول گیا تھا کل ریسٹورینٹ میں نظر آیا تھا انس تو مجھے یاد آیا
اوہ مائی گاڈ۔۔۔۔۔۔مجھے تو یاد ہی نہیں تھا جبکہ مینیو بھی پسند کا ڈلوایا تھا امثال نے سر پر ہاتھ مارا شہریار اسکا انداز دیکھ کر ہنس دیا
مگر بھائی میں نے تو شاپنگ بھی نہیں کی اور میرے پاس ڈریس بھی نہیں ہے جو ہیں وہ تو گھر پڑے ہیں میں کیا پہنوں گی ۔۔امثال نے فکرمندی لاحق ہوئی
لو اس میں فکر کی کیا بات ہے مال جا کے لے آؤ ..بازل نے کہا
اوہو اب تو ٹائم ہی بہت کم ہے ڈریس میچینگ جوتا جیولری وغیرہ آدھا گھنٹہ تو جاتے جاتے لگ جائے گا نہ۔
اچھا ٹینشن نہ لو تم آؤ میرے ساتھ شہریار نے اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا اور باہر لان کی طرف بڑھا
ایکسکیوزمی عائشہ آپکی تھوڑی سے ہیلپ چاہئیے تھی باہر لان میں بیٹھی عائشہ کے پاس جا کر شہریار نے نرمی سے کہا
جی بتائیں۔ا
آپکے پاس کوئی اچھا سا ڈریس ہے تو آپ ژلے کو دے دیں گی ۔اسکو ولیمے کی تقریب اٹینڈ کرنی ہے ۔۔وہ دراصل اسے بھی یاد نہں تھا اور میرے بھی زہن سے نکل گیا تھا کہ تقریب کا تو یہ شاپنگ نہیں کر سکی سو پلیز اگر ہو سکے تو۔۔
جی ضرور میرے پاس ڈریسیز پڑے ہیں جو بلکل نیو ہیں اور غیراستعمال شدہ ہیں ۔۔ امثال آؤ میرے ساتھ تم خود دیکھ لو جو تمہیں اچھا لگے لے لینا۔عائشہ نے پہلے شہریار اور پھر امثال کو کہا تو شہریار تھینکس کرتا ہوا چلا گیا جبکہ امثال اسکے ساتھ چل دی
واؤ۔۔۔۔ آپی اتنے سارے ڈریسیز اور وہ بھی سارے کے سارے ڈیزائنر ۔۔۔۔ کس ڈیزائنر کے ہیں ۔امثال کی آنکھیں پھیلیں تھیں
میں نے بنائے ہیں۔۔ عائشہ کی بات پر امثال کا منہ کھل گیا
ہا۔۔۔۔۔ سچی آپو یہ آپ نے بنائے ہیں ۔۔۔اللہ اللہ سبھی کتنے پیارے ہیں میں نے تو کبھی ایسے ڈیزائنز نہیں دیکھے ۔۔۔ اوہ گاڈ آپو بہت پیارے ہیں۔۔
تمہیں اچھے لگے عائشہ کے پوچھنے پر اس نے زور زور سے سر ہلا دیا
ہاں نہ آپو آپ اپنی بوتیک کیوں نہیں کھول لیتی۔۔ سچی میں بڑے بڑے ڈیزائنرز کی چھٹی ہو جائے گی
مجھے شوق ہے ڈریس ڈیزائینگ کا اور جہاں تک رہی بوتیک کی بات تو عادل لالہ نے اجازت نہیں دی مجھے ۔۔
ایک تو یہ آپکے عادل لالہ نے ہر کام میں گھسنا ضروری ہوتا ہے کیا ۔امثال اسکی بات سن کہ چڑی تو ہنس دی
اچھا بتاؤ کونسا والا پسند ہے۔ عائشہ نے اسے کہا تو ڈریس دیکھنے لگی
یار آپو آپ خود ہی سلیکٹ کر دو نہ میں کنفیوز ہو رہی ہوں اتنے سارے دیکھ کر امثال نے بیچارگی سے کہا تو مسکراتے ہوئے آگے بڑھی اور ایک وائیٹ کلر کی فراک کو اسکے ساتھ لگایا
پرفیکٹ۔۔۔۔ یہ اچھا لگ رہا ہے ٹرائی کرو۔ وہ فراک لے کر چینجینگ روم میں چلی گئی
گڈ ۔۔۔بہت اچھا لگ رہا ہے چلو میں تمیں اسکے ساتھ میچنگ سینڈل اور جیولری وغیرہ دیتی ہوں
تقریبا دو گھنٹے بعد شہریار آ چکا تھا اور تیار ہوکر وہ اور بازل امثال کا انتظار کر رہے تھے جو کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی شہریار تو سکون سے بیٹھا تھا جبکہ بازل خاصا جھنجھلا چکا تھا اور اب آوازوں پہ آوازیں لگائے جا رہا تھا ادھے گھنٹے بعد وہ سیڑھیوں پر سے اترتی دیکھائی دی تو بازل نے سکون کا سانس لیا جبکہ شہریار مسکراتا ہو اٹھا ۔وائیٹ کلر کی فراک کے ساتھ ریڈ دوپٹے کا حجاب لیے ہاتھوں میں ریڈ کلر کی چوڑیاں پہنے ،ہلکے سے میک اپ کے ساتھ بہت پیاری لگ رہی تھی
کیسی لگ رہی ہوں بھائی۔۔۔ امثال نےشہریار کے سامنے کھڑے ہو کر گول گول گھومی
بہت پیاری لگ رہی ہے میری پرنسز ۔
بھائی آپکا پرنس بھی کھڑا ہے بازل نے دانت دکھائے
ہاں ہاں تم بھی ھینڈسم لگ رہے ہو شہریار نے دونوں کے سر سے پیسے وارتے ہوئے ملازمہ کو دیئے
ہنڈسم نہیں بھائی بیوٹیفل کہیں ۔ امثال نے ہنستے ہوئے کہا تو شہریار نے ہلکا سا قہقہ لگایا تو بازل نے منہ بناتے ہوئے اسکے گال کھینچے
وہ لوگ گیراج تک پہنچے تو پولیس جیپ سے عادل اترتا دکھائی دیا
تم لوگ کہیں جا رہے ہو ۔عادل نے انکی تیاری دیکھتے ہوئے پوچھا
ہاں وہ ایک دوست کا ولیمہ ہے تو وہیں جا رہے ہیں شہریار نے جواب دیا
ہمم۔۔۔ صحیح عادل ایک نظر امثال کو دیکھتا ہوا آگے بڑھ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سانیہ آپی آپکو پتا امثال آپی ابھی شہریار لالہ اور بازل لالہ کے ساتھ شہر کسی شادی میں گئی ہیں زروا نے سانیہ سے کہا
اچھا تمہیں کس نے بتایا سانیہ نے کتاب سے سر اٹھایا
میں نے ابھی خود دیکھا ہے اور آپکو پتا ہے وہ شہریار لالہ سے پوچھ رہیں تھیں کہ وہ کیسی لگ رہیں ہیں تو انہوں نہ صرف انکی تعریف کی بلکہ انکے سر پر سے پیسے بھی وار کر ملازمہ کو دئیے ۔کتنے اچھے ہیں نہ امثال آپی کے تینوں بھائی ۔۔۔۔۔کتنی لکی ہیں وہ سب بہت خیال رکھتے ہیں انکا ۔۔۔۔۔۔اور ایک ہمارے بھائی ہیں عادل لالہ ۔۔۔۔۔انہوں نے کبھی ہم سے اچھے سے بات تک نہیں کی۔۔ زروا نے کہا تو سانیہ خاموش ہو گی اسے بھی ہمیشہ سے یہی شکوہ رہا ہے اور اب امثال کے لیے اسکے بھائیوں کی محبت دیکھ کر مزید احساس ہوتا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لوگ میرج ہال پہنچے تو اسقبالیے پر کھڑے ہمدان نے انکا پرتپاک استقبال کیا اور اپنی فیملی سے ملوانے کے بعد انہیں لے کر سٹیج کی طرف گیا
لیں انس بھائی آپکے سپیشل مہمان آ گئے ہیں۔ ہمدان نے انس کے پاس جا کر کہا تو وہ مسکرا دیا
ویسے مجھے امید نہیں تھی کہ تم لوگ آؤ گے۔ انس نے کہا
ہی ہی ہی۔۔۔۔۔۔۔ کیسے نہیں آتے شادی کا کھانا کھانے کے لیے ہم لوگ بغیر دعوت کے پہنچ جاتے ہیں یہاں تو پھر آپنے دعوت دی تھی بازل نے ہنستے ہوئے کہا
ویسے ہمارا مینیو شامل ہے نہ ۔۔۔امثال نے رازداری سے پوچھا
تو انس ہنس دیا ۔شہریار انکو چھوڑ کر اپنے کچھ جاننے والوں کے ساتھ باتوں میں مصروف ہو گیا تھا
ہاں شامل ہے ۔بس تھوڑی دیر میں کھانا سرو ہونا شروع ہو جائے گا۔۔آؤ تمہاری بھابھی سے ملواؤں تم لوگوں کو۔۔۔ کہتے ہوئے وہ مڑا
مدیحہ ان سے ملو یہ امثال اور بازل ہیں میں نے بتایا تھا انکے بارے میں تمہیں ۔انس نے کہا تو اس نے سر ہلایا
کیسی ہیں بھابھی آپ۔۔ لُکنگ بیوٹیفل۔۔۔ امثال نے اس سے ملتے ہوئے کہا
تھینک یو تم بھی بہت پیاری لگ رہی ہو مدیحہ نے اسے کہا وہ لوگ وہیں بیٹھ کر ادھر ُادھر کی باتیں کرنے لگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان لوگوں کو یہاں آئے دو مہینے ہو چکے تھے بازل اور امثال نے یونی جانا شروع کیا تو ساریہ بیگم نے سکھ کا سانس لیا تھا کیونکہ سٹڈی کی وجہ سے وہ مصروف رہتے تھے تو انکی شرارتیں کچھ کم ہو جاتی تھیں۔۔ان دو مہینوں میں وہ حویلی کی ساری لڑکیوں سے دوستی بنا چکی تھی ۔ سانیہ تو اسکی بیسٹ فرینڈ بن چکی تھی ہاں البتہ جب بھی وہ کوئی شرارت سوچتے تو وہ آرام سے سائیڈ پر ہو جاتی کہ اسے بی جان سے ڈانٹ نہیں کھانی کیونکہ وہ بہت بری طرح سے ڈانٹتی تھیں ۔۔وہ دونوں تقریباً سب کے لاڈلے بن چکے تھے خاص طور پر بی جان اور مصطفی شاہ کے ،شائد اتنے سال دور رہنے کی وجہ سے وہ انہیں اور بھی پیارے لگتے تھے۔ اس لیے انہیں کسی بھی بات سے نہیں روکتے تھے ۔۔ جب سے شہریار نے انہیں ڈانٹا تھا تب سے ان لوگوں نے عادل کو زیادہ تنگ نہیں کیا تھا البتہ اسکی غیر موجودگی میں وہ اپنا حساب پورا کر لیتے۔ عدید بھی کئی چکر لگا چکا تھا حویلی کے ۔وہ جب بھی حویلی آتا امثال کی خوشی اور ایکسئاٹمنٹ دیکھ کر عادل جل کر رہ جاتا ۔اسے ابھی تک علم نہیں تھا عدید امثال کا سگا بھائی ہے۔راسم صا حب اور ساریہ بیگم نے بی جان سے کہا تھا عدید فاریہ کا بیٹا ہے تو اسی کے نام سے جانا جائے گا تو وہ کسی سے اس بات کا زکر نہ کریں اس لیے سب بڑوں کے علاوہ دریاب اور زریاب جانتے تھے اور انکی زبانی امان بھی سن چکا تھا کہ عدید فاریہ کا نہیں ساریہ بیگم کا بیٹا ہے ۔عادل البتہ ابھی تک بے خبر تھااسی وجہ سے وہ جب بھی اسے اور امثال کو اکھٹے دیکھتا وہاں سے واک آؤٹ کر جاتا اسےخود پر بھی حیرانی ہوتی کہ اسے کیوں برا لگتا ہے لیکن پھر یہ سوچ کر خود کو مطمئن کر لیتا کہ امثال اسکی کزن ہے شائد اسی وجہ سے اسکا اتنا فرینک ہونا اچھا نہیں لگتا۔ پچھلے دو دن سے بازل اور امثال فاریہ کے پاس شہر ہی تھے۔جسکی وجہ سے حویلی میں خاصا سکون تھا۔
یہ آج گھر میں اتنی خاموشی کیوں ہے۔۔بی جان نے لالہ رخ سے پوچھا۔
یہ خاموشی تو شروع سے ہی ہے اماں جان ۔ پہلے کونسی چہل پہل ہوتی تھی ۔۔ہر کوئی اپنے کام میں مگن رہتا تھا ۔یہ تو ان بچوں کے آنے سے رونق ہو گئی ہے ۔حویلی کے لوگ خوش رہنے لگے ہیں۔۔ہر وقت قہقوں اور ہنسی کی آوازیں آتی ہیں ،اور وہ دونوں اس وقت گھر پہ نہیں ہیں شہر میں فاریہ آپا کے پاس رہ رہے ہیں۔ لالہ رخ نے کہا
ہاں صیح کہہ رہی ہو واقعی ہی دونوں بچوں کی وجہ سے رونق لگی رہتی ہے ۔۔دل لگا رہتا ہے میرا تو پہلے تو بیٹھے بیٹھے اکتا جاتی تھی ۔بی جان نے کہا
ویسے ایک بات تو بتائیں بی جان آپ نے کبھی بھی حویلی کی لڑکیوں کو اتنی چھوٹ نہیں دی ۔۔۔۔ کہاں آپ سر سے دوپٹہ اترنے پر سختی سے ڈانٹ دیا کرتی تھی کہاں امثال کی الٹی سیدھی حرکتوں پر نہ صرف مسکرا دیتی ہیں ،بلکہ آپ نے اسے کبھی ہلکا سا بھی نہیں ٹوکا جبکہ مجھے شروع میں لگا تھا کہ آپ اس پر بھی سختی کریں گیں۔۔ لالہ رخ نے کئی دنوں سے اپنے زہن میں گھومتا سوال پوچھ ہی لیا تھا
سچ پوچھو تو بیٹا میں بھی کبھی کبھی حیران ہوتی ہوں کہ میں اسے کچھ کہہ کیوں نہیں پاتی اور پھر تم نے دیکھا نہیں جب ساریہ اسکو ڈانٹتی ہے تو کیسے معصوم سی صورت بنا لیتی ہے ۔۔۔ چاہے جتنی بھی بڑی شرارت کر لے یقین کرو میرا اسے ڈانٹنے کو دل نہیں کرتا ۔۔ بی جان نے مسکراتے ہوئے کہا تو لالہ رخ مسکرا دیں
صحیح کہہ رہیں آپ ۔۔۔۔اسے ڈانٹنے کا تو واقعی دل نہیں کرتا ۔۔۔ ہے بھی تو کتنی پیاری ۔۔۔اگلے بندے کو خواہ مخواہ پیار آ جاتا ہے اس پر ۔۔پاس بیٹھی خدیجہ بیگم نے عادل کے بالوں میں تیل لگاتے ہوئے کہا
ہاں یہ تو ہے ۔عادل کے منہ سے بے ساختہ نکلا تھا جس پر بی جان اور لالہ رخ نے حیرانگی سے اسے دیکھا تھا تیل لگاتی خدیجہ بیگم کا ہاتھ بھی اسکے بالوں میں تھما تھا۔ سب کو اپنی طرف یوں دیکھتا پا کر وہ خجل ہو کر رہ گیا
نہیں وہ میرا مطلب تھا کہ بی جان آپکو باقی لڑکیوں کی طرح اس پر بھی سختی کرنی چایئے نہ ۔کتنا تنگ کرتی ہے ساریہ خالہ کو بھی۔۔ عادل نے بات بنانے کی کوشش کی
اچھا تم چھوڑو اسے۔۔۔ ساریہ کو بلا کر لاؤ بچوں کو واپس بلائے بہت رہ لیا ہے بی جان نے کہا تو لالہ رخ نے ملازمہ کو ساریہ کو بلانے کا کہا
ویسے بیٹا جی تمہارا وہی مطلب تھا نہ جو تم نے بتایا ہے ۔۔ لالہ رخ نے معنی خیزی مسکراہٹ سے عادل سے پوچھا تو وہ مسکرا دیا
جی بی جان آپ نے بلایا ۔
ہاں یہ زرا بچوں کو فون تو کرو انہیں کہو واپس آجائیں دو دن بہت ہیں بی جان نے ساریہ بیگم سے کہا
چھوڑیں بی جان لگتا ہے آپکو گھر میں سکون اچھا نہیں لگ رہا ہے کچھ دن رہنے دیں انکو وہاں ۔۔ ہم بھی تھوڑا ریلیکس کر لیں گے ۔
نہ بہو کیا مطلب ہے تمہارا ۔۔ ہیں ۔۔۔۔ سکون اچھا نہیں لگ رہا ۔۔ دماغ ٹھیک ہے ان بچوں کی وجہ سے گھر میں رونق لگی رہتی ہے ۔۔ان سے پوچھو جنکی اولاد نہیں ہے اور تم تنگ آئی ہوئی ہو۔۔۔توبہ کرو بی بی ۔۔۔۔ بی جان نے کڑکتے لہجے میں کہا
تم ایسا کرو امثال کا نمبر ملا کر مجھے دو میں خود بات کرتی ہوں بی جان نے کہا تو ساریہ بیگم نے خاموشی سے امثال کا نمبر ملا کر فون بی جان کو دے دیا
السلام علیکم ماما کیسی ہیں دوسری طرف سے امثال کی چہکتی آواز سنائی دی تو بی جان مسکرا دیں
ماما نہیں تمہاری دادی بات کر رہی ہوں ۔۔۔۔۔کیسی ہو۔۔۔۔۔۔ شہر جا کر تو تم دونوں بھول ہی گئے ہو ہمیں نہ کوئی خیر نہ خبر ۔۔۔۔ بی جان نے شکوہ کیا
اوہ ہاجرہ ڈارلنگ آپ کو کیسے بھول سکتے ہیں آپ بھی بھلا کوئی بھولنے والی چیز ہیں ۔۔۔۔ امثال کی شرارت سے بھرپور آواز سنائی دی تو بی جان ہنس دی
اچھا یہ بتاؤ واپس کب آنا ہے ۔بی جان نے پوچھا
کیوں آپکو ہماری یاد آ رہی ہے کیا ۔
ہاں بہت زیادہ ۔۔۔دو دن ہو گئے ہیں تم دونوں کی شکل دیکھے ہوئے ۔۔ ۔۔۔۔ اچھا بتاؤ کب آ رہی ہو۔۔
آپ حکم کریں ہم ابھی آ جاتے ہیں ۔
چلو آجاؤ پھر ۔۔۔۔ میں انتظار کر رہی ہوں
ٹھیک ہے ہم تھوڑی دیر تک آپکے پاس ہوں گے
دھیان سے آنا اور گاڑی آہستہ چلانا۔۔۔۔۔ اللہ تم لوگوں کو اپنی امان میں رکھے۔۔۔۔ بی جان نے کہا
اوکے اللہ حافظ ۔۔۔۔ امثال نے کہتے ہوئے کال کاٹ دی
جاری ہے