62.1K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

امان عادل کے کمرے میں داخل ہوا تو وہ کھڑکی کے پاس کھڑا تھا۔۔۔۔۔
یار عادل میں نے تمہیں کچھ دن پہلے ایک کام کہا تھا ۔۔۔۔۔ امان نے موبائل پر انگلیاں چلاتے ہوئے عادل سے کہا کافی دیر تک اس کی طرف سے کوئی جواب نہ پا کر اس نے سر اٹھایا تو اسکو اسی پوزیشن میں کھڑے پایا تو اسے اچنبھا ہوا اٹھ کر اسکےپاس جا کھڑا ہوا اسکے نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی۔
رانجھے کا نیو ورژن دیکھنا ہے تو عادل کے روم میں آ جا ۔امان نے دریاب کو میسج کیا۔ تھوڑی ہی دیر میں دریاب بھی آ گیا لیکن اسکی پوزیشن میں ہنوز کوئی فرق نہیں آیا تھا۔ دریاب نے کچھ بولنے کے لیے لب وا کیے ہی تھے کہ امان نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموشی سے عادل کی طرف اشارہ کیا تو دریاب حیرانی آگے بڑھا۔ تھوڑا سا سر آگے کر کہ دیکھا تو اسکی آنکھیں پھیلیں ۔ سامنے امثال آم کے درخت کے نیچے بیٹھی نوٹس بنانے میں مگن تھی اس نے پلٹ کر عادل کی جانب دیکھا جو ارد گرد سے بے خبر ہونٹوں پہ گہری مسکراہٹ لیئے اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ دونوں وہیں بیٹھ گئے۔ امثال چیزیں سمیٹتے ہوئے وہاں سے اٹھی تو عادل بھی واپس پلٹا اور ان دونوں کو بیڈ پر بیٹھے اپنی طرف معنی خیزی انداز میں تکتا پا کر ٹھٹھک گیا ان دونوں کے انداز اسے بتا رہے تھے کہ وہ نہ صرف کافی دیر سے بیٹھے ہیں بلکہ سب دیکھ اور سمجھ بھی چکے ہیں
بے خودی بے سبب نہیں غالب
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
دریاب نے مسکراتے ہوئے کہا
مجھے بھی یاد آیا ہے ایک شعر سناؤں ۔۔
ارشاد ۔۔۔ ارشاد۔۔۔۔۔۔۔ دریاب نے کہا
عرض کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جسے سوچ کر لبوں کو ہنسی چھو جائے
واہ ۔۔۔۔واہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔واہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دریاب نے سر دھنا عادل منہ کھولے دونوں کو دیکھ رہا تھا
جسے سوچ کر لبوں کو ہنسی چھو جائے
ایک ایسا خوبصورت خیال ہو تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔امان نے اسکی گہری مسکراہٹ پر چوٹ کی تو وہ سر پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا
تم لوگ کب آئے۔۔ عادل نے بات بدلتے ہوئے پوچھا۔ اسکے پوچھنے کی دیر تھی کہ وہ دونوں شروع ہو گئے
جب تم ارد گرد سے بیگانہ ہو کر دیدارِ یار میں مصروف تھے۔۔۔ دریاب نے کہا
ویسے کب سے چل رہا ہے۔۔امان نے نے بھی حصہ ڈالا
ہاں کتنے میسنے ہو بھنک تک نہیں پڑنے دی ۔۔ دریاب نے لقمہ دیا
ایک بات تو بتاؤ تمہیں تو میچور اور خاموش طبعیت لڑکیاں پسند تھیں نہ تو یہ اچانک کیسے کایا پلٹی۔اب بولو بھی منہ میں گھگھنیاں کیوں ڈال کر کھڑے ہو ۔ امان نے پھر سوال داغا وہ ہونقوں کی طرح کھڑا انکا منہ دیکھ رہا تھا
سالوں کچھ بولنے دو گے تو بولوں گا نہ ۔۔۔عادل نے تپ کر کہا
سالوں سے یاد آیا دھیان رکھنا کہیں اپنے ہونے والے سالوں سے مار نہ کھا لینا ۔۔
جانتے ہو نہ سب کے سب جان دیتے ہیں اس پر۔۔۔امان نے ہنستے ہوئے کہا
ہاں یار واقعی اظہارِ محبت کرنے جاؤ تو حفاظتی اقدامات کر کہ جانا۔ اسکے بھائی تو ایک طرف بخدا امثال خود بھی بڑی اچھی پھینٹی لگاتی ہے میں اسکو روڈ پر دو لڑکوں کو مارتا دیکھ چکا ہوں۔۔۔۔۔ دریاب نے کہا
اب تم لوگ مجھے ڈرا رہے ہو ۔۔ عادل انکے پاس بیڈ پر گرا تھا
ہا ہا ہا برو ڈرا نہیں رہے حقیقت بتا رہے ہیں ۔ اس دن میں تو اسکو ان لڑکوں کی دھلائی کرتا دیکھ کر حیران تھا دریاب نے ہنستے ہوئے کہا اور انکو بتانے لگا کیسے لڑکوں کے اس سے بدتمیزی کرنے پر اس نے انہیں مارا تھا
امثال یار تم میں کوئی لڑکیوں والی بات بھی ہے یا نہیں ۔۔۔اس بے اختیار سوچا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھو بازی میں نے اپنے پودے لگا لیے ہیں امثال نے ہاتھ جھاڑتے ہوئے کہا ۔وہ دونوں اس وقت لان میں پودے لگا رہے تھے چونکہ اتوار تھا اس لیے یونی سے چُھٹی ہونے کی وجہ سے دونوں لان کی صفائی کر رہے تھے ۔صفائی کے بعد بازل نرسری جا کہ پودے لے آیا تھا جو کہ وہ دونوں مل کر لگا رہے تھے ۔راسم صاحب اور شہریار لاونج میں بیٹھے سب کے ساتھ چائے پی رہے تھے۔جبکہ ساریہ بیگم باقی خواتین کے ساتھ کچن میں تھیں۔ لاونج کی کھڑکی شیشے کی ہونے کی وجہ سے وہ سب ان دونوں کو کام کرتا دیکھ رہے تھے ۔صبح سے ان دونوں کو سکون سے کام کرتا دیکھ کر ساریہ بیگم نے سکھ کا سانس لیا تھا۔ باوجود اسکے کہ جانتی تھیں کہ یہ سکون عارضی ہے اور کسی بھی وقت ختم ہو سکتا ہے ۔
ہا ۔۔۔۔ دیکھو میں نے بھی لگا لیے۔۔
امثال ہاتھ جھاڑتے ہوئے جانے کے لیے مڑی تھی اسکے پیچھے مٹی بکھری ہوئی تھی اور پودوں کو پانی دینے کی وجہ سے کیچڑ سا بن گیا تھا بازل نے اچانک اپنا پاؤں اسکے آگے کر دیا تو دھڑام سے کیچڑ میں جا گری بازل نے وہی کھڑے ہو کر قہقہے لگانے شروع کر دئیے اس کو یوں قہقے لگاتا دیکھ کر امثال بھڑک ہی اُٹھی تھی اس سے پہلے بازل پیچھے ہٹتا امثال نے وہیں بیٹھے اسکی ٹانگ سے پکڑ کر کھینچا تو وہ منہ کے بل کیچڑ میں جا گرا اب امثال اونچی آواز میں ہنس رہی تھی ۔چائے پیتے راسم شاہ کی نظر پڑی تو وہ مسکرا دیے
شہری آج ان دونوں کو تمہاری ماں کے ہاتھوں پٹنے سے کوئی نہیں بچا سکتا ، تم بھی نہیں۔۔۔ راسم شاہ نےشہریار سے کہا تو سب نے کھڑکی کی طرف دیکھا جہاں امثال اب مٹھیاں بھر بھر کے اس پر کچیڑ پھینک رہی تھی جس سے بازل کا سارا منہ اور بال مٹی سے بھر گیا تھا اچانک بازل نے اسکو گردن سے پکڑ کر اسکا منہ کیچڑ میں ڈال دیا تو شہریار بے اختیار کھڑا ہوا
یہ پاگل ہو گیا ہے اسکو چوٹ لگ جائے گی سٹوپڈ۔۔ وہ باہر جانے کے لیے بڑھا ہی تھا کہ راسم شاہ نے اسے روک دیا
بیٹھ جاؤ بیٹا انکے پاس جانا اس وقت کسی بھی خطرے سے خالی نہیں ہو گا ۔ یہ تو آج جوتیاں کھائیں گے ہی۔۔ کہیں ماں کے ہاتھوں تم بھی نہ پٹ جانا ۔
باہر سے آتی چیخوں اور قہقوں کی آواز سن کر ساریہ بیگم نے بے اختیار گہری سانس لی تھی ۔گویا انکا عارضی سکون بھی ختم ہوا تھا آوازوں سے اتنا تو سمجھ چکی تھی کہ دونوں کچھ نہ کچھ کر چکے ہیں ۔سنک پر ہاتھ دھو کر وہ باہر بڑھیں تو انکے پیچھے باقی خواتین بھی نکلیں اور سامنے کا منظر دیکھ کر ساریہ بیگم کا دل چاہا کہ وہ خود کو شوٹ کر لیں ۔ شور کی آواز سن کر شاہ بی بی بھی اپنے کمرے سے نکل آئیں تھیں اور حیران سی کھڑی سامنے کی صورت حال دیکھ رہیں تھیں پہلے کہاں دیکھا تھا ایسا کچھ اس حویلی میں اور جب سے یہ دونوں آئے تھے کچھ نہ کچھ نیا ہی دیکھنے کو ملتا تھا ۔ اور وہ دنیا جہاں سے بے نیاز ایک دوسرے پر مٹی اور کیچڑ پھینکنے میں مصروف تھے ۔دونوں کے سفید کپڑے اب مٹی رنگت میں بدل چکے تھے
ساریہ بیگم کچھ دیر تک وہیں کھڑی رہیں وہ غصہ پینے کی کوشش کر رہی تھیں یا پھر شائد یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھیں کہ اس صورت حال میں کیا کرنا چاہیے ۔اچانک وہ جھکی اپنے پاؤں سے جوتی اتاری اور دونوں کی طرف بڑھی انکو اس طرح جاتا دیکھ کر شہریار جلدی سے انکے پیچھے لپکا ۔ امثال ساریہ بیگم کو اپنی طرف آتا دیکھ چکی تھی بازل کی چونکہ انکی طرف پیٹھ تھی اس لیے وہ دیکھ نہیں پایا تھا ۔اتنے میں زریاب اور عادل حویلی میں داخل ہوئے تو سب کو باہر جمع دیکھ کر انکی طرف بڑھے۔
کیا ہوا ہے یہاں ۔ عادل نے امان سے پوچھا
کیا ہوا ہے یہاں وہ تو تم دونوں دیکھ نہیں پائے ، ہاں البتہ آگے کیا ہو گا اسے دیکھو اور انجوائے کرو۔۔ ۔ساریہ ممانی کے تاثرات بتا رہے ہیں کہ آج انکی خیر نہیں۔۔ امان نے مسکراتے ہوئے کہا
بازی، ماما ۔۔۔۔۔۔۔۔امثال نے بازل سے کہا اور آہستہ آہستہ قدم پیچھے لینے لگی
چل جھوٹی اب ماما کا نام لے کہ ڈرا رہی ہو، ابھی تو مجھے تمہیں دو چار ڈبکیاں اور دینی ہیں اس کیچڑ میں اور تم بزدلوں کی طرح پہلے ہی بھاگ رہی ہو ۔۔ بازل نے بڑھک مارتے ہوئے کہا
امثال نے بازل کو بھاگنے کا اشارہ دیا جب تک وہ سمجھتا ساریہ بیگم اسکے سر پر پہنچ چکی تھی امثال تو بھاگ کر سامنے سے آتے شہریار تک پہنچ گئی دوسرے لفظوں میں سیف ہو گئی تھی، جب کہ بازل انکے ہتھے چڑھ گیا تھا ۔
شرم تو نہیں آتی ہے تم دونوں کو۔۔ بچے ہو کیا ۔۔۔۔مزید کتنا بڑا ہونا ہے تم دونوں نے اور بازل تم تمہارا کیا کروں میں کوئی ایک بھی حرکت ہے سمجھدار اور میچور لڑکوں والی ۔ شرم و حیا ہے یا نہیں ۔۔ساریہ بیگم نے اسے جوتا مارتا
جی ماما حیا تو ہماری کلاس فیلو تھی لیکن کچھ دن پہلے ہی اسکی شادی ہو گئی ہے منگنی تو بچپن سے ہی ہو گئی تھی اب اسکے سسرال والوں نے کہا ہے کہ انہیں جلدی شادی کرنی ہے تو وہ تو اپنے شوہر کو پیاری ہو چکی ہے ۔امثال نے معصومیت سے کہا جو انکا خون کھولانے کو کافی تھا ۔انکو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کریں تو کریں کیا
بس بہت ہوا ۔ میں کہہ رہی ہوں شہری اس کے لیے کوئی لڑکا دیکھو اور رخصت کرو۔ میں نہیں سنبھال سکتی مزید اس گندی اولاد کو۔ سسرال جائے گی تو خود ہی عقل ٹھکانے آ جائے گی۔
ہائے اللہ ماما آپ سے کتنی بار کہا ہے کہ میرے سامنے شادی اور سسرال کا نام مت لیا کریں، مجھے نہ شمیاں آتی ہیں۔۔ امثال نے شہریار کی جیکٹ کا کونا پکڑ کر دانتوں تلے دباتے ہوئے آنکھیں پٹپٹا کر کہا اس کی بات سن کر اور شہریار کی جیکٹ پکڑ کر دانتوں تلے دباتے دیکھ کر سب نے بے ساختہ قہقہ لگایا تھا
شرم ۔۔۔۔۔ شرم آتی ہے۔۔۔۔۔۔ پتا بھی ہے شرم کس چڑیا کا نام ہے ۔۔ساریہ بیگم نے پوری قوت سے اسکی طرف جوتا پھینکا جو شہریار کے سائیڈ پر ہونے کی وجہ سے اسکے بازو کے ساتھ لگی امثال کو تو نہیں البتہ شہریار کندھے پر لگا تھا وہ بے اختیار کراہ اُتھا
اللہ ماما اتنی زور سے۔ شہریار نے کندھا مسلا تو ساریہ اپنا سر پکڑ کر وہیں بیٹھ گیئں
تم دونوں ایک ہی بار بتا دو اور کتنا تنگ کرنا ہے مجھے ۔۔ساریہ بیگم نے تھکے تھکے انداز میں کہا۔
بازی تمیں شرم نہیں آتی کیوں ماما کو تنگ کرتے ہو کتنا منع کرتی ہوں انسان بن جاؤ تم۔ کہتے ہوئے امثال نے پاس پڑا ساریہ بیگم کا جوتا اٹھا کر بازل کی کمر میں دے مارا تو بلبلا اُٹھا
کیا تکلیف ہے تمہیں موٹی عورت۔ بازل نے چیخا
تم نے مجھے عورت کہا ۔امثال نے خونخوار نظروں سے گھورا
نہیں میں نے ساتھ میں موٹی بھی کہا ۔۔ لگتا ہے تم نے وہ نہیں سنا۔ بازل نے اسکو چڑایا
میں تمہارا منہ توڑ دوں گی امثال اسکو مارنے کے لیے آگے بڑھی لیکن شہریار کے حصار میں ہونے کی وجہ سے کسمسا کر رہ گئی
ماما۔۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔۔ ابھی آپ شہری بھائی سے کہہ رہی تھیں نہ کہ یہ بگڑ گئی اسکی شادی وغیرہ کر دو ،تو وہ مجھے کہنا تھا کہ میں بھی اسکے ساتھ ہی بگڑا ہوا ہوں ،تو میرا بھی۔۔ ساتھ ہی کچھ سوچ لیجیے گا۔ بازل نے آنکھیں گھمائیں
رکو تمہارا تو میں ابھی کچھ سوچتی ہوں اور تم ہٹاؤ اسے ، اپنے کپڑوں کا بھی ناس مار لیا ہے۔ ساریہ بیگم نے پہلے بازل اور پھر شہریار کو گھرکا جو امثال کو کیچڑ میں لت پت ہونے کے باوجود بازوکے حصار میں لیے کھڑا تھا اور اندر جانے کے لیے بڑھیں اور انکے پیچھے باقی لوگوں نے بھی اندر کی جانب قدم بڑھا دیے۔ ان دونوں کو اپنے پیچھے اندر آتا دیکھ کر وہ پلٹیں ۔
خبردار جو اس حالت میں تم دونوں نے اندر قدم بھی رکھا ٹانگیں توڑ کر رکھ دوں گی اور تم چلو میرے ساتھ ہر وقت کی بے جا حمایت نے بگاڑ کر رکھ دیا ۔ان دونوں کو وارن کیا اور شہریار کو کھینچتے ہوئے اندر لے گئیں تو دونوں نے مدد طلب نظروں سے راسم صاحب کی طرف دیکھا تو انہوں نے کندھے اچکا دیے جیسے کہہ رہے ہوں یہ میرا مسئلہ نہیں ہے
باباااااا ۔۔۔۔۔۔۔ آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں وہ بھی اپنی اولاد کے ساتھ ۔۔۔ ہاؤ مین ۔۔ ۔امثال نے صدمے سے کہا
بیٹا جی اس وقت آپکی حمایت مجھے بہت مہنگی پڑ سکتی ہے اس لیے میری میری طرف سے معذرت قبول کی جائے۔وہ کہتے ہوئے اندر چل دیے
ہق ہا ۔۔باپ باپ نہ رہا امثال کہتے ہوئے لان کی طرف مڑی
یار بازی یہ ہم لوگوں کی کھڑکیاں پھلانگنے کے صلاحیت کب کام آئے گی تم ایسا کرو کھڑکی کی طرف سے جاؤ اپنے کمرے میں اور میں دروازے کی طرف سے جاتی ہوں۔۔۔۔۔ماما لوگ شائد کچن میں جا چکی ہیں ،ویسے بھی میں ماما سے کہہ دوں گی کہ اتنے سارے ملازموں کے سامنے کیچڑ میں لت پت گھومتی اچھی لگوں گی بھلا۔امثال نے کہا تو بازل نے سر ہلا دیا اور کھڑکی کی طرف چل دیا۔اسکو کھڑکی طرف بھیج کر وہ خود دروازے کی طرف بڑھی اور فون کان سے لگائے عجلت سے پولیس سٹیشن کے لیے نکلتے عادل سے جا ٹکرائی
اوہ تیری ۔۔۔۔۔
تم نے کیا میری یونیفارم خراب کرنے کی قسم کھا رکھی ہے
اللہ جی یہ کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ماما سے بچی تو ایس پی میں اٹکی ۔۔۔ امثال آنکھیں میچتے ہوئے بڑبڑائی اسکو یوں آنکھیں میچ کر بڑبڑاتے دیکھ کر عادل نے گہرا سانس لیا ۔ جب تھوڑی دیر تک کوئی آواز نہ آئی تو ایک آنکھ کھول کر دیکھا تو اسے خود کو گھورتا پایا
وہ مجھے ماما بلا رہی ہیں آپ یہیں رکیں میں انکی بات سن کر آتی ہوں۔ کہتے ہوئے وہ اندر کی جانب بھاگی تو وہ سر جھٹک کر واپس مڑا کیونکہ یونیفارم پولیس سٹیشن جانے کے قابل نہیں رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امثال اپنے کمرے بیٹھی پڑھ رہی تھی جب باہر سے بی جان کی اونچی آواز سن کر چونکی کیونکہ عام طور وہ اونچی آواز میں بات نہیں کرتی تھیں ۔کتاب کو وہیں رکھے وہ باہر نکلی۔ بی جان نیچے کھڑی ملازمہ پر برس رہیں تھیں
یہ دادو میں سلطان راہی کی روح آ گئی ہے کیا ۔۔امثال نے سیڑھیوں کے پاس کھڑی رمل سے کہا
پاگل ہو تم بھی۔ امل نے اسکے سر پر چیت لگائی
دادو کیا ہوا ہے کیوں غصہ کر رہی ہیں
کچھ نہیں پتر دماغ خراب کر رکھا ہے ان ملازموں نے بی جان نے ناگواری سے کہا۔
امثال نے ملازمہ کو اشارہ کیا تو وہ سر پر پاؤں رکھ کر بھاگی
اچھا چھوڑیں نہ خواہ مخواہ میں اپنا بی پی ہائی کر لیں گیں ۔۔۔۔ ویسے سچی بتاوں یہ ہاتھ میں اپنی لاٹھی پکڑے اونچی اونچی بڑھکیں مارتے ہوئے آپ مولا جٹ کا زنانہ ورژن لگ رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔ اوئے ہٹ جا اوئے ۔۔۔۔۔ اج ایتھے لاشاں ویچھن گیاں لاشاں ۔۔۔۔جٹ نے اج خون دیاں ندیاں بہا دینیاں نی اوئے۔۔امثال نے ہنستے ہوئے سلطان راہی کی نقل کی
چل ہٹ ۔۔۔ دادی سے مسخری کرتی ہے ۔۔ فوزیہ بیگم نے بے اختیار خدیجہ بیگم کی طرف دیکھا ۔۔ کہاں کسی کو انکی بات میں مداخلت کرنے کی اجازت تھی کہاں وہ مسکرا رہیں تھیں
ان ملازموں پر سختی کرنی پڑتی ہے ۔۔۔۔۔ تمہیں نہیں پتا یہ جمال شاہ کی حویلی جا کر اس گھر کی ایک ایک بات بتاتی ہے ۔شک تو مجھے پہلے ہی تھا لیکن آج میں نے اسکے منہ سے سنا ہے فریدہ کو بتا رہی تھی بی جان نے سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا
چھوڑیں نہ بی جان مٹی ڈالیں ویسے بھی ہم کونسا کچھ غلط کرتے ہیں جو انکو پتہ لگنے کا خدشہ ہو گا آپ پرواہ ہی نہ کیا کریں۔۔ امثال نے بی جان کو زور سے ہگ کرتے ہوئے کہا
اچھا اچھا زیادہ سیانی نہ بن۔۔۔ پیچھے ہو میرا دم گھٹ رہا ہے۔ بی جان نے اسے پیچھے کرتے ہوئے کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بی جان آپ نے کبھی بندر دیکھا ہے عادل نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا تو بی جان نے حیرانی سے اسے دیکھا
کیا مطلب پتر۔۔۔۔۔۔ بندر بھلا کس نے نہیں دیکھا ہو گا۔ بی جان نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا گویا بات کرنے کا مقصد جاننا چاہا
اوپر دیکھیں۔۔۔ بی جان نے نا سمجھی سے اوپر دیکھا تو دھک رہ گئیں ۔۔امثال دوسرے پورشن کے چھجے پر پاؤں لٹکائے کانوں میں ہینڈ فری لگا کر بیٹھی تھی اور ساتھ ساتھ عدید سے بات بھی کر رہی تھی
امثال اوپر کیا کر رہی ہو بچے۔۔۔ گر جاؤ گی۔ بی جان نے اسے آواز دی جو کہ ہینڈ فری ہونے کی وجہ سے اس تک نہ پہنچ سکی
امثال۔۔۔۔۔ ابکی بار انہوں نے اونچی آواز میں پکارا
میسج ٹائپ کرتے کرتے اس نے سر اُٹھایا تو بی جان کو اپنی طرف متوجہ پایا
دادو مجھ سے کچھ کہا آپ نے۔۔ امثال نے ہینڈ فری کانوں سے نکالیں
ہاں بچے اوپر کیا کر رہی ہو۔۔۔۔۔ گر جاؤ گی۔۔۔۔ نیچے آؤ۔ وہ جو ویسے ہی سب سے الگ ہو کر بیٹھی عدید سے بات کر رہی تھی ۔ اسکو شرارت سوجھی
دادو میں خودکشی کرنے لگی ہوں۔۔۔ امثال نے زمانے بھر کا دکھ چہرے پر سجایا
ہائے کیوں میری بچی ۔۔ بی جان نے سینے پر ہاتھ رکھا
کوئی مجھ سے پیار نہیں کرتا ۔۔۔۔ سب کہتے ہیں میں انہیں تنگ کرتی ہوں ۔۔ماما بھی مجھ سے پیار نہیں کرتی ۔۔۔وہ بھی ڈانٹتی ہیں۔۔۔ کہتی ہیں میں اچھی بیٹی نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔ عادی بھائی بھی ڈانٹتے ہیں ۔۔سب غصہ کرتے ہیں مجھ پر۔۔۔۔ بس بی جان اپنا اس جہاں میں گزارہ نہیں۔۔۔۔ میں نے فیصلہ کر لیا ہے میں جان دے دوں گی، مگر مزید آپ لوگوں کو کوئی تکلیف نہیں دوں گی ۔۔۔امثال نے اپنے نادیدہ آنسو صاف کیے۔عادل نے اسکے بھائی کہنے پر دل میں استغفار پڑھا تھا
یہ دنیا یہ محفل میرے کام کی نہیں
میرے کام کی نہیں
الودع اے دنیا والو میں جا رہی ہوں ۔۔امثال نے ہانک لگائی
نہ میری بچی سب تم سے پیار کرتے ہیں۔۔ تو نیچے آ جا۔ ساریہ بہو کہاں ہو تم ۔۔ بی جان نے اسے پچکارتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی ساریہ بیگم کو آواز دی
کیا ہوا اماں جان۔۔۔
کیا کہا ہے تو نے بچی سے جو وہ خودکشی کرنے پر تل گئی ہے۔۔ بی جان نے ساریہ بیگم کو گھرکتے ہوئے امثال کی طرف اشارہ کیا تو انہوں نے اوپر دیکھا تو گہری سانس لے کر رہ گئیں
کچھ نہیں ہوتا بی جان۔۔۔۔۔۔ کونسا پہلی بار ہوا ہے۔۔۔۔ یہ اکثر ایسی جگہوں پر ہی پائی جاتی ہے ۔۔۔۔۔آپ فکر مت کریں ۔ ساریہ بیگم نے بی جان کو تسلی دی۔اپنی بیٹی کو اچھے سے جانتیں تھیں ۔بی جان کا ڈر دیکھ کر وہ پھیل رہی تھی
نہ بہو کیا مطلب ہے تمہارا۔۔ ہیں۔۔۔۔۔اسکا مطلب وہ سچ کہہ رہی ہے تم نے ضرور اسے کچھ کہا جو نوبت یہاں تک آ گئی ہے۔۔ بی جان نے اسے گھورا
ژلے نیچے آ جاؤ تمہاری دادو پریشان ہو رہی ہیں ۔۔ساریہ بیگم نے بےزاری سے سے کہا
دیکھا ۔۔۔دیکھا آپ نے دادو۔۔۔۔۔ یہ نہیں کہا کہ میں پریشان ہو رہی ہوں۔۔۔یہ تو خوش ہوں گی نہ کہ اچھا جان چھوٹ جائے گی ۔۔بس اب تو پکا جب تک میں خود کشی نہ کر لوں نیچے نہیں آؤں گی۔۔۔ امثال نے اپنے تئیں دھمکی لگائی۔وہ بھی اسی کی ماں تھیں پاس کھڑے عادل کو دیکھتے ہوئے گویا ہوئیں
اچھا ٹھیک ہے۔۔۔۔ جیسے تمہاری مرضی ۔۔ عادل بیٹا، جب یہ خودکشی کر لے تو کنفرم کرنے کے بعد، مجھے بتا دینا میں آ کہ رو پیٹ لوں گی ۔۔ساریہ بیگم کہتی دوبارہ اپنے کمرے میں جا چکیں تھیں پیچھے وہ منہ بنا کر رہ گئی ۔
اچھا دادو آپ پریشان مت ہوں آتی ہوں۔ کہتے ہوئے وہ اٹھ کھڑی ہوئی
آرام سے ۔۔ گر نہ جانا۔۔۔ جب تک وہ نیچے نہ آئی بی جان کی آنکھیں اوپر ہی ٹنگی رہیں۔۔۔۔
کیا کرتی ہو پتر۔۔۔۔ گر جاتی تو۔۔۔۔ بی جان نے اسے اپنے ساتھ لگایا
میں مزاق کر رہی تھی آپ سے دادو ۔۔۔۔ وہ عدید سے بات کر رہی تھی نہ تو نیچے ڈسٹرب ہو رہی تھی تو میں نے سوچا کہ سب سے الگ بیٹھ کر بات کر لیتی ہوں ۔۔امثال کی بات سن کر عادل سلگ کر رہ گیا
امثال تم یہاں بیٹھ کر بھی تو “عدید ” سے بات کر سکتی تھی نہ ۔۔۔۔ایسی بھی کیا پرائیویسی ۔۔۔ بی جان کو پریشان کر کہ رکھ دیا ۔۔۔ عدید کے نام پر زور دیتے ہوئے عادل نے چبا چبا کر کہا تھا۔اس وقت وہ بلکل بھول گیا تھا کہ بی جان کی توجہ اسکی طرف اسی نے ہی دلوائی تھی ۔
تمہیں شائد پتہ نہیں عدید سے میری سیکرٹ گفتگو ہی چل رہی تھی ۔۔ اور واقعی اسکی سیکرٹ ہی بات تھی ۔۔در اصل اس نے آج ہی یونی سے آتے ہوئے گرین کلر کی سپورٹس کار دیکھی تھی روڈ پر ۔۔ گاڑیوں کا تو اسے شروع سے ہی خاصا شوق رہا تھا جس سے ساریہ بیگم چڑتی تھیں کہ اسکی ایک بھی حرکت لڑکیوں والی نہیں ہے اس وقت بھی وہ ساریہ بیگم سے چُھپ کر عدید کو گاڑی کی تفصیل بتا رہی تھی کہ مجھے بھی ویسی گاڑی چائیے ۔جس پر اس نے کہا کہ دو یا تین دنوں میں آجائے گی۔ اسکی بات سن کر عادل جلتا بھنتا وہاں سے اٹھ گیا پیچھے وہ کندھے اچکا کر رہ گئی
جاری ہے