32.9K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

“اوئے چڑیل ۔ چل آجا واک پہ چلتے ہیں۔” بازل امثال کے کمرے میں آتے ہوے بولا جو لیپ ٹاپ پر ڈرامہ دیکھ رہی تھی
“ہیں! اس وقت؟ اس وقت کونسی واک ہوتی ہے؟”امثال نے گھڑی پے ٹائم دیکھا جہاں دن کےگیارہ بج رہے تھے۔یونی سے چھُٹی کی وجہ سے وہ دونوں گھر پر ہی تھے
“واک کا کونسا ٹائم ہوتا ہے۔ آجاؤ نہ تھوڑا گھوم لیں گے۔ میں بور ہو رہا ہوں ۔” بازل نے بیزارگی سے کہا ۔
“اوکے تم چلو میں حجاب لے کر آتی ہوں۔”کچھ ہی دیر میں وہ دونوں اسلام آباد کی سڑکیں ناپ رہے تھے۔
“بازی دیکھو وہ کتا کتنے سکون کی نیند سو رہا ہے۔ لگتا ہے بےچارہ ساری رات نہیں سوسکا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ اتنے سکون سے کیوں سو رہا ہے جبکہ ہم لوگ اس کے آس پاس موجود ہیں ۔” امثال نے بازل کی توجہ سامنے سوئے کتے کی طرف دلوائی۔ عدید ہمدانی جو اپنی گاڑی کا بونٹ اٹھا کر چیک کر رہا تھا۔ اپنے پیچھے سے آتی لڑکی کی آواز اور اسکی انوکھی بات سن کر بے اختیار مڑا۔ وایئٹ ٹی شرٹ اور ڈارک بلیو جینز پر بلیک کلر کا حجاب پہنے ارد گرد سے بے نیاز کتے کو چھیڑنے کے موڈ میں تھی۔ان دونوں کو دیکھ کراسکے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ آئی ۔
“آج تو لوگوں کی خیر نہیں۔” یہ سوچتے ہوئے وہ ہولے سے ہنسا
“ہاں یار۔ واقعی بات تو سوچنے کی ہے۔ ” بازل نے بھی ہاں میں ہاں ملائی
“اوئے کتے اٹھ جا ۔ اُٹھ نہ۔ کیا بھنگ پی کہ سو رہا ہے ؟لگتا ہے اسکی کتی نے اسکو گھر سے نکال دیا ہے۔اس لیے تو سڑک پہ سو رہا ہے بیچارہ ۔۔چچ چچ۔ دیکھ لو بازی بیویاں یہ حال کرتی ہیں شوہروں کا۔” وہ اس کو مخاطب کرتے ہوئے پیچھے مڑی تو اسکا اوپر کا سانس اوپر نیچے کا نیچے رہ گیا۔ کیونکہ وہ ہاتھ میں پتھر اُٹھائے کتے کا نشانہ لے رہا تھا۔وہ خود تو فاصلے پر کھڑا تھا اور امثال باتوں ہی باتوں میں عین کتے کے اوپر پہنچ گی تھی اس لیے لازمی بات تھی کہ اس کا شکار امثال نے بننا تھا ۔
” نو۔۔۔۔ پلیز نہیں ۔۔۔۔۔ بھائی نہیں ہو ۔۔۔۔۔۔دیکھو میں چھوٹی بہن ہوں نہ تمہاری وہ بھی پورے سات منٹ تم میرے اچھے والے بھائی ہو ۔ ۔پلیز نو۔” مسلسل نفی میں سر ہلاتی وہ آہستہ آہستہ پیچھے ہٹ رہی تھی
“اب آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے ۔ میرے بہت سے حساب نکلتے ہیں تمہاری طرف۔”بازل نے کتے کو پتھرمارتے ہوئے کہا۔ اور کچھ ہی دیر بعد امثال آگے آگے اور کتا پیچھے پیچھے تھا ۔
“بازی بچاؤ ۔۔۔۔پلیز روکو اسے۔۔۔۔۔۔۔۔ بھائی نہیں ہو۔” امثال نے چیختے ہوئے جمپ لگائی اور دیوار پر چڑھ گئی۔ وہ دیوار پر بیٹھی آنکھیں بند کیے لمبے لمبے سانس لینے لگی ۔اسکی حالت دیکھ کر عدید نے اس کی طرف قدم بڑھائے لیکن یہ سوچ کر رک گیا کہ بازل کی خبر تو بعد میں بھی لے سکتا ہے لیکن اگر اس طرح امثال کے سامنے گیا تو بغیر بتائے آنے پر وہ اسکو گنجا ضرور کر دے گی
“اوئے کتے! بات سن میں نے تجھے نہیں چھیڑا تھا۔ وہ جو تمہارا بھائی کھڑا ہے نہ اس نے تمھیں پتھر مارا تھا، تو تم کتوں کی طرح میرے پیچھے کیوں پڑ گئے ہو۔” امثال کا جب سانس بحال ہوا تو وہ کتے کو مخاطب کرتے ہوئے بولی۔۔
“دیکھو۔ تم اب گھر جاؤ۔ تمہاری کتی تمھارا انتظار کر رہی ہوگی۔ ایسا نہ ہو تمہاری غیر موجودگی میں وہ کسی اور کے ساتھ بھاگ جائے۔ چلو شاباش اب بھونکنا بند کرو اور جاؤ۔” وہ کتے کو بھگانے کے لیے الٹی سیدھی ہانک رہی تھی لیکن اس کو شاید اپنی ادھوری نیند کا کچھ زیادہ ہی قلق تھا اس لیے وہ اپنی جگہ سے ہلے بغیر مسلسل بھونکے جا رہا تھا۔۔ عدید ہمدانی اسکی باتیں سن کر اپنا قہقہ مشکل سے ضبط کیے کھڑا تھا ۔۔۔
“اے جا نہ۔ بازی کتے ،کمینے۔۔ ہٹاؤ اسے یہاں سے ورنہ میں شہری بھائی اور عدی کو بتاؤں گی ۔”اس نے پہلے کتے اور پھر بازل سے کہا ۔۔ وہ جو اسکی حالت کو انجوائے کر رہا تھا دونوں کے نام کی دھمکی سن کر ڈھیلا پڑ گیا۔ جانتا تھا کہ شہریار سے تو پھر بھی بچ جائے گا مگر عدید سے اسے کوئی نہیں بچا سکتا ۔جلدی سے کتے کو بھگا کر اسے دیوار سے اترنے میں مدد دی۔ دوسری طرف عدید اپنے نام کی دھمکی سن کر دلکشی سے مسکرا دیا
“یہ دونوں نہیں سدھریں گے۔” وہ زیر لب بڑبڑایا اور دوبارہ گاڑی کی طرف متوجہ ہو گیا
“چلو آؤ کچھ کھاتے ہیں۔”بازل اسکا ہاتھ پکڑ کر چل دیا۔ تھوڑا سا چلنے کے بعد وہ ایک چھوٹے سے کیفٹیریا میں داخل ہوئے۔
“یس سر۔ کیا لیں گے آپ ؟” ویٹر نے پاس آ کر پوچھا ۔
“ہمم۔۔۔ ایسا کرو ۔۔ دو سینڈوچ، دو برگر، ایک پلیٹ بریانی، ،دو رول اور ایک میڈیم سائز پیزا کے ساتھ ایک لیٹر پیپسی لے آؤ اور بازل تم اپنا دیکھ لو ۔” امثال آرڈر لکھواتے ہوئے بھول گئی کہ وہ اپنا پرس گھر چھوڑ آئی ہے اور ہمیشہ کی طرح بازل کے والٹ سے پھوٹی کوڑی نہیں ملنے والی ۔ ویٹر آنکھیں اور منہ کھولے آرڈر نوٹ کر رہا تھا۔۔
“میرے لیے بھی یہی سب لے آؤ۔”بازل نے کہا
“بس!” ویٹر کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
“ہاں بس اتنا ہی مزید کچھ چایئے ہو گا تو پھر لے لیں گے۔” بازل کے لاپرواہی سے کہنے پر ویٹر سر ہلاتا ہوا چلا گیا۔
“واہ مزا آگیا ۔اس سے اچھا کھانا میں نے آج تک نہیں کھایا۔” بازل نے باقاعدہ نعرہ لگایا۔۔۔۔
“سر یہ بل۔” ویٹر نے چٹ ٹیبل پر رکھی ۔ بل دیکھا تو بازل کے چودہ طبق روشن ہو گئے۔ اس نے والٹ نکالا تو پانچ سو کا نوٹ اسکا منہ چڑا رہا تھا۔
“ژلے پیسے نکالو میرے پاس تھوڑے ہیں ۔”
“میں کہاں سے نکالوں۔ نظر نہیں آ رہا ہے کہ میرے پاس پرس نہیں ہے۔۔ تم نے کہا تھا ھم لوگ واک پہ جا رہے ہیں۔ فار گاڈ سیک کبھی تو پیسے رکھ لیا کرو والٹ میں۔” امثال دھیمی آواز میں غرائی ۔
“سر میم پلیز جلدی کریں۔” ویٹر کو شاید اندازہ ہو گیا تھا کے ان کے پاس پیسے نہیں ہیں اس لیے تھوڑا سخت لہجے میں بولا
“اوکےاوکے ھم دے دیتے ہیں۔ آپ جائیں ہم آپکو بلا لیں گے۔” امثال نے ویٹر سے کہا تو وہ بڑبڑاتا ہو چلا گیا۔
“میں بتا رہی ہو تمھیں میں برتن نہیں دُھوؤں گی۔” امثال نے اسے وارن کیا ۔۔
“دیکھو تم بھائی کو کال کرو۔ وہ سنبھال لیں گے۔” بازل نے کچھ سوچتے ہوئےامثال کو فون پکڑایا
“نہ ۔ میں نہیں کر رہی تم خود کر لو۔” اس نے صفا چٹ انکار کیا
“پلیز بہن نہیں ہو۔ ” بازل نے لجاجت سے کہا
“نہیں ہوں۔ ” اس نے فوراً نفی میں سر ہلایا
“دیکھو بھائی مجھے بہت ڈانٹیں گے۔ تمھیں تو کچھ نہیں کہیں گے نہ پلیز۔” اس نے معصومیت سے کہا تو امثال نے گہری سانس لیتے ہو ئے فون پکڑا اور شہریار کا نمبر ملایا۔
“ہیلو بھائی آپ کہاں ہیں؟ پلیز جلدی سے آ جائیں۔ ہم لوگ کھانا کھانے آئے تھے لیکن میرے اور بازی کے پاس پیسے نہیں بل دینے کے لیے ۔۔ میں کیفے کے برتن نہیں دھوؤں گی ۔آپ پلیز سب کچھ چھوڑ کے جلدی آئیں ۔ویٹر ہمیں بڑے غصے سے گھور رہا ہے ۔” امثال نے ایک ہی سانس میں بات ختم کی ۔
” ایڈریس بتاؤ ۔ شہریار نے کوئی دوسری بات کیے بغیر پوچھا ۔ اس کے ایڈریس بتانے پر وہ سر جھٹک کے رہ گیا
“یہ دونوں کبھی نہیں سدھر سکتے۔” شہریار چیئر سے اٹھتے ہوئے بڑبڑایا
“کیا ہوا؟” امان شاہ نے جو شہریار کے آفس میں بیٹھا تھا اسکی بڑبڑایٹ سن کے پوچھا۔
“یار ہونا کیا ہے ۔ میری دو آفتوں نے آج کیفے میں دھاوا بولا ہے ،اور ان کو کھانا کھانے کے بعد یاد آیا ہے کہ انکے پاس پیسے نہیں ہیں۔ اب کال کر کہ بلا رہے ہیں۔”
“یو مین تمہارے ٹوئنز ؟” امان نے پوچھا
“ہاں ۔۔سوری یار۔ تو اتنے دن بعد آیا ہے لیکن مجھے جانا پڑے گا۔” شہریار نے اس سے معذرت کرتے ہوئے کہا ۔
“چل کوئی نہیں ہو جاتا ہے ۔ ہم پھر کبھی مل لیں گے ابھی تو میں تین دن تک شہر میں ہی ہوں ۔”
“ایسا کرتے ہیں۔ کل لنچ پہ ملتے ہیں۔۔وہیں اپنے فیورٹ ریسٹورنٹ میں۔” شہریار نے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا اور دونوں باہر نکل گئے۔
………………………………………………………………………………….
میری ممی نوں پسند نہیوں تو
وے تیرا گورا منہ
میں دساں تینوں
میں تاں وی تینوں پیار کر دی چن وے
“کیا کر رہی ہو۔۔ لڑکیو کچھ ہوش سے کام لو۔ شاہ خاندان کی بیٹیاں ہو اور حرکتیں مراثیوں والی۔” شاہ بی بی نے سانیہ اور رامین کو جھڑکتے ہوئے کہا جو ایل ای ڈی پر چلتے گانے کے ساتھ ساتھ خود بھی جھوم رہی تھیں
“شاہ بی بی ہم لوگ اتنی کم آواز میں سن رہے ہیں اور پھر کمرے میں ہی تو ہیں۔” رامین نے منہ بنایاا تو انہوں نے اپنی چھڑی سے اسے ٹہوکا دیا
“کمبختو کوئی شرم حیا ہے یا نہیں ۔ لڑکیاں ہو۔ کچھ خیال کیا کرو اور یہ دوپٹے تم لوگوں نے پٹے کی طرح گلے میں لٹکائے ہوئے ہیں ۔کتنی بار کہا ہے کہ ڈھنگ سے سر پر رکھا کرو ۔اور نہیں تو اپنے خاندان کی ہی لاج رکھ لو۔” وہ گرجیں تو دونوں کو سانپ سونگھ گیا
“اب بولو بولتی کیوں نہیں ہو ۔”
“معافی چاہتی ہیں بی جان ۔”رامین منمنائی
“ہنہ معافی۔ معافی کا مطلب ہوتا ہے کہ میں آئندہ یہ غلطی نہیں دہراؤں گی جبکہ تم لوگوں نے تو آئے روز کچھ نہ کچھ کیا ہوتا ہے اب اُٹھو اور جا کہ کچن میں ماؤں اور بھابھی کا ہاتھ بٹاؤ۔ یہاں نکمیوں کی طرح بیٹھی ہوئی ہو ۔۔پتا نہیں کب عقل آئے گی۔” وہ بڑ بڑاتی ہوئی باہر نکل گئیں
………………………………………………………………………………
“سیمی آپا کیا کر رہی ہیں؟آج کھانے میں کیا بنے گا؟ پلیز میرے لیے دال چاول بنا دیجیے گا ۔ “امثال نے کچن میں داخل ہوتے ہوئے ملازمہ سے کہا اور فریج سے پانی نکال کر گلاس میں ڈالا اسکی طرف سے کوئی جواب نہ پا کر اس نے نے مڑ کر اسے دیکھا تو اسکو روتا دیکھ کرٹھٹک گئی۔
“آپا کیا ہوا ؟ کیوں رو رہی ہیں؟ آپکی طبیعت تو ٹھیک ہے ؟” امثال کے پوچھنے پر اس نےمزید زورشور سے رونا شروع کر دیا جسکو دیکھ کروہ بوکھلا گئی
ہواکیا ہے؟کچھ بتائیں گیں؟ کسی نےکچھ کہا ہے ؟ماما نےکچھ کہا ہے ؟”
“وہ چھوٹی بی بی میرے بیٹے کی طبعیت بہت خراب ہے۔ پچھلے کئی دنوں سے بخار ہے اسے اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے ۔”اس نے روتے ہوئے کہا تو امثال نے گہری سانس لی
“اوریقیناَآپ نے اپنے محلے کے عطائی ڈاکٹر سے دوائی لی ہو گی جسکی وجہ سے اسکا بخار اترنے کی بجائے مزید بگڑ گیا ہوگا۔”امثال کے طنز پر اس نے سر جھکایا
“کیا کروں بی بی جی مہینے کا آخر چل رہا ہے ۔بڑے ڈاکٹر کے پاس جانے کے لیے پاس نہیں ہیں ۔ اسی ڈاکٹر سے ادھار دوائی لی ہے ۔”سیمی آپا کی بات سن کر امثال نے پوری آنکھیں کھول کر اسے دیکھا تھا
“اُدھار دوائی ۔ سیریسلی آپا.آج کل تو کریانے والے ادھار نہیں دیتے۔ کیسا عظیم ڈاکٹر ہے دوائی ادھار دے رہا ہے ۔”
“کیا کروں بی بی بچوں کی فیس اور گھر کے خرچے میں ہی پیسے نکل جاتے ہیں۔” اس نے جھکے سر کے ساتھ جواب دیا
“تو آپ کو بتانا تو چایئے تھا ۔ ۔ ماما سے کہتی مجھے یا گھر میں کسی اور کو کہہ دیتیں۔ آپ کو پہلے کبھی کسی چیز سے منع کیا ہے ۔اب جب تک آپ ہمیں بتائیں گی نہیں کیسے پتا چلے گا ۔”امثال نے اسکے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھیتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا
“جانتی ہوں لیکن آپ پہلے ہی میرے لیے اتنا کچھ کرتی ہیں اور۔” اس سے پہلے وہ بات پوری کرتی امثال نے اسے ٹوک دیا
“اچھا بس ۔۔۔۔ چھوڑیں یہ سب اور چلیں میرے ساتھ ۔ہم ابھی ڈاکٹر کے پاس جا رہے ہیں۔ میں ماما سے کہہ دوں گی وہ دیکھ لیں گی کچن کا کام یا کھانا باہر سے آرڈر کر لیں گے ۔آپ تب تک ہاتھ منہ دھوئیں۔ میں ماما کو بتا کر اور بازی کو لے کر آتی ہوں۔” اسے سنک کے پاس چھوڑ کر باہر نکل گئی۔
“آپ کا بچے سے کیا رشتہ ہے؟” داکٹر نے امثال اور بازل سے پوچھا
“چھوٹا بھائی ہے ۔”بازل نے کہا
“شکل سے آپ لوگ پڑھے لگتے ہیں لیکن بچے کی حالت دیکھی ہے ۔ لاپرواہی کی حد ہوتی ہے ۔بچے کا بخار بگڑ کر ٹائیفڈ بن چکا ہے اور آپ لوگ اب اسے لے کر آ رہے ہیں پھرالزام دیتے ہیں کہ ڈاکٹرز اپنے فرض میں کوتاہی برتتے ہیں۔” ڈاکٹر نے خشمگین نگاہوں سے گھورتے ہوئے کہا
“یہ میڈیسن لکھ دی ہے آپ لوگ باقاعدگی سے بچے کو کھلائیں ۔تین دن بعد دوبارہ چیک اپ کے لیے لے آیئے گا۔” ڈاکٹر نے نسخہ بازل کو دیتے ہوئے کہا تو وہ تینوں میڈیسن لے کر کلینک سے باہر نکل آئے اس وقت وہ دونوں سیمی آپا کے گھر بیٹھے تھے دو گھنٹے بعد جب بچے کا بخار ٹوٹا تو سب نے شکر کا سانس لیا
“اچھا آپا یہ زرا اس ڈاکٹر کا پتا تو بتائیں جو ادھار دوائی دیتا ہے۔ جانے سے پہلے ہم ملنا چاہیں گے۔” امثال نے کہا
“رہنے دیں بی بی۔ بیچارے کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں کسی پرایئویٹ ہسپتال میں کمپاؤڈر ہے ۔پارٹ ٹائم اپنی دوکان کھولتا ہے۔ آپ لوگوں سے ملنے کے بعد وہ کسی قابل نہیں رہے گا۔” سیمی آپا کے کہنے پر امثال نے اسے گھورا۔
“ٹھیک ہے ھم چلتے ہیں۔ کسی بھی وقت ضرورت پڑی تو کال کر دینا اور ہاں صبح نہ آئیے گا بلکہ آپ ایسا کرنا کہ آپ سفیان کو ساتھ لے آئیے گا۔ کل چھٹی ہے تو ہم لوگ گھر پر ہی ہوں گے۔۔ یہ کچھ پیسے رکھ لیں ۔ ” امثال نے کہا تو سیمی اپا نے سر ہلا دیا
“ٹھیک ہے ۔اللہ حافظ۔۔” سفیان کے گال پر پیار کرتی بازل کے پیچھے چل دی ۔سیمی انہیں دروازے تک چھوڑنے آئی اور جب تک انکی گاڑی مڑ نہ گئی وہ کھڑی دیکھتی رہی۔
“اللہ آپ لوگوں کو ہمیشہ خوش رکھے۔” اس نے دروازہ بند کرتے ہوئے کہا۔
………………………………………………………………………………
وہ یونیورسٹی سے واپس آ رہی تھی۔ بازل کی آج طبیت خراب تھی تو وہ چھٹی پر تھا ۔آنا تو امثال بھی نہیں چاہ رہی تھی لیکن چونکہ اسائمنٹ جمع کروانے کی ٓ آخری تاریخ تھی اس لیےچارو ناچار اسے آنا پڑا۔ ابھی بھی وہ خراب موڈ کے ساتھ جیپ ڈرایئو کر رہی تھی کہ اچانک اسے محسوس ہوا کہ ایک بائیک اس کے پیچھے آ رہی ہے۔ پہلے تو اس نے نظرانداز کر دیا لیکن جب اس نے دیکھا وہ لوگ مسلسل اس کے پیچھے آ رہے ہیں تو اس نے سپیڈ آہستہ کر دی۔ اتنے میں وہ بائیک اس کے برابر چلنے لگی اور اس پر سوار دو لڑکے جو شکل سے ہی لفنگے لگ رہے تھے اس پر جملے کسنے لگے ۔
جاری ہے