Rate this Novel
Episode 2
وہ دونوں کینٹین میں بیٹھے برگر کھا رہے تھے کہ چار لڑکے ان کی ٹیبل پر آ کر کھڑے ہوئے ۔ان میں سے دو ان کے سنئیر اور دو آوٹ آف یونی تھے۔
“کیا ہم یہاں بیٹھ سکتے ہیں ؟”ان میں سے ایک نے شائستگی سے پوچھا
“نہیں۔ یہ اتنی ساری ٹیبلز خالی پڑی ہیں۔ آپ لوگ کہیں اور جا کہ بیٹھ جاؤ۔” بازل کے لٹھ مار انداز پر ہمدان نے وصی کو دیکھا
“دیکھیں ہمیں آپ سے کچھ بات کرنی ہے ۔” ہمدان دوبارہ گویا ہوا تو امثال نے بازل کی طرف دیکھا۔ اس نے اثبات میں سر ہلا دیا
اوکے بیٹھیں۔۔۔۔
“یہ میرا بھائی ہے ” کچھ دیر کی خاموشی کے بعد ہمدان نے انس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔اس کا انداز کچھ ایسا تھا کہ امثال نے اسکا سر سے پیر تک جائزہ لیا اور پھر سر ہلا دیا ۔اسکو یوں جائزہ لیتے دیکھ کر انس سٹپٹا گیا۔
“اچھا ! میں تو اسے تمہاری بہن سمجھ رہی تھی ۔ تھینکس کہ تم نے بتا دیا ۔” امثال نےبلا کی سنجیدگی سے کہا۔
“نہیں میرا مطلب ہے کہ یہ میرا بھائی ہے نہ ۔” ہمدان گڑبڑایا اس سے پہلے وہ مزید کچھ بولتا امثال نے اسکی بات اچکی
“لو بھلا مجھے کیا پتا کہ یہ تمہارا بھائی ہے یا نہیں۔ یہ تو جا کہ تم اپنے اماں ابا سے پوچھو، یا پھر سیدھا سیدھا ڈی این اے کروا لو ۔” امثال نے برگر کا آخری ٹکڑا منہ میں رکھتے ہوئے کہا تو ہمدان بےبسی سے وصی کو دیکھ کر رہ گیا۔ جبکہ انس کے دوست نے اپنی ہنسی چھپانے کے لیے بےاختیار رخ موڑا ۔
“پلیز ۔ ” وصی نے التجا کی ۔
“اوکے بتائیں۔” بازل نے سنجیدگی سے کہا
“یہ انس بھائی ہیں ہمدان کے بڑے بھائی ۔یہ ان کے دوست بلال اور ہم دونوں کو تو آپ جانتے ہی ہوں گے۔ آپ کے سنئیرز ہیں ۔ دراصل ان کے گھر والے جہاں انس بھائی کی شادی کروانا چاہتے ہیں، یہ وہاں کرنا نہیں چاہتے۔ لڑکی انکے سٹیٹس اور جائیداد کی وجہ سے انکے پیچھے پڑی ہے۔ اس لڑکی اور اسکی ماں نے آنٹی کو اپنی مٹھی میں کر رکھا ہے اس لیے ان کی ماما ان کی کوئی بھی بات نہیں سن رہیں ہیں ۔ ” اس بار وصی نے خود ہی تعارف کروانے کے ساتھ مدعا بھی بیان کیا
“تو؟” بازل نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔
“تو یہ کہ آپ لوگوں کے شیطانی دماغ ۔ مم ۔ میرا مطلب ہے کہ آپ لوگوں کے دماغ میں کوئی آئیڈیا ہو تو ،آپ ان کی کچھ ہیلپ کر دیں۔” وصی نے امثال کے ابرو اچکانے پر بات بدلی
“لگتا ہے آپ کے بھائی نے آپکو اصل بات نہیں بتائی۔” امثال ہمدان کی طرف دیکھتے اطمینان سے کہا۔
“کیا مطلب؟”ہمدان حیران ہوا.
“بھئی ان کی شکل پر صاف صاف لکھا ہے کہ آپ کے بھائی صاحب کسی کے عشق میں گردن تک ڈوب چکے ہیں ۔لڑکی مڈل کلاس گھرانے سے تعلق رکھتی ہے،ان کی کوئی کلاس فیلو یا پھر انکے آفس میں کام کرنے والی ۔لڑکی کے لو سٹیٹس کی وجہ سے یہ گھر میں نہیں بتا پا رہے ہیں ۔ اس لیے اس شادی سے بچنے کے لیے بہانے بنا رہے ہیں ۔ کیوں میں صحیح کہہ رہی ہوں نا انس صاحب۔ ” امثال انس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مسکرائی تو وہ نظریں چراہ کر رہ گیا ۔اسکے یوں نظریں چرانے پر ہمدان اچھل پڑا
“بھائی ۔ ” مارے صدمے کے وہ صرف اتنا ہی کہہ سکا۔
“خیر آپکا کام تو ہو جائے گا لیکن ہماری فیس کون دے گا؟ ہم فیس کے بغیر کچھ نہیں کرتے۔ ” امثال اپنے مطلب پر آئی ۔بازل خاموش بیٹھا تھا۔ویسے بھی ان معاملات میں امثال کا دماغ خوب چلتا تھا۔
“آپ بتائیں۔ آپ کو کیا چایئے؟” ہمدان نے پوچھا
“زیادہ کچھ نہیں۔ بس سر راشد کے پاس ہماری اسائمنٹ اٹکی ہوئی ہے اس کے نمبر لگوانے ہیں۔ ” امثال نے لاپرواہی سے کہا تو ہمدان ایک بار پھر اچھلا۔سر راشد کے پاس جانا مطلب خود جا کر کلہاڑی پر اپنا پاؤں مارنا۔ پوری یونی میں ہٹلر کے نام سے مشہور تھے۔
“ویسے سر راشد نے اسائمنٹ روکی کیوں تھی؟ “وصی نے پوچھا.
“ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے لیکن یہ بات سر کو کون سمجھائے؟آخر کون ؟دیکھو بھئی انہوں نے ہمیں کلاس سے نکالا تو بدلے میں کچھ دن پہلے جب ان کے گیسٹ آئے ہوئے تھے تو ہم نے ان کے روم کے باہر پٹاخے رکھ دیے۔کسی سٹوڈنٹ نے دیکھ لیا تھا ھمیں ،تواس الو کے پٹھے نے جا کہ سر کو بتا دیا ۔سر نے اچھا خاصا بےعزت کرنے کے بعد سزا کے طور پر اسائنمٹ روک لی ہے ۔ کہتے ہیں کہ اپنے گھر سے کسی کو لاؤ۔ اور وہ کمبخت گول گپے والا! وہ بھی اس بار پانچ ہزار میں بھائی بننے کے لیے نہیں مان رہا ہے ، کہتا ہے کہ پچھلی بار بھی بہت بےعزتی ہوئی تھی۔ میں تین دن تک ڈھنگ سے نہیں سو سکا تھا ۔ تمہارے استادوں کے تم لوگوں کی شان میں پڑھے گئے قصیدے کئی دن تک میرے کانوں میں گونجتے رہے ہیں۔ اس بار بیس ہزار لوں گا۔ پتا نہیں تم لوگوں کے کون کون سے کارناموں پر باتیں سننے کو ملیں گی۔ کم پیسوں میں اتنی زیادہ بے عزتی نہیں کراوں گا ۔ ” امثال نے آخر میں منہ بسورتے ہوئے کہا وہ چاروں منہ کھولے اسکی گل افشانیاں سن رہے تھے ۔
“خیر یہ بازل کا نمبر ہے۔ ہمارا کام ہو جائے تو بتا دیجیے گا۔ ہم لوگ اس لڑکی سے مل لیں گے ، جس سے آپ کی شادی ہو رہی ہے۔ ایم شیور اسکے بعد وہ مرنا پسند کرے گی، لیکن تمہارے بھائی سے شادی قطعی نہیں کرے گی۔ ” امثال کہہ کر بازل کو آنے کا اشارہ کرتی اُٹھ گئی ۔
ان کے کینٹین سے نکلتے ہی بلال کا فلک شگاف قہقہ بلند ہوا تو وہ تینوں بھی ہوش میں آئے۔
“خیر کہہ تو ٹھیک ہی رہی تھی کہ ان سے ملنے کے بعد نتاشہ واقعی مرنا پسند کرے گی، لیکن بھائی سے شادی نہیں کرے گی ۔ “ہمدان جھرجھری لے کر سیدھا ہوا۔ وہ شائد ابھی تک اسکی باتوں کے زیر اثر تھا۔
“ان کے گھر والے کیسے برداشت کرتے ہوں گے ؟” انس کے پوچھنے پر سب ایک بار پھر ہنس دیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
‘بابا سائیں میرا رزلٹ آگیا ہے میں آگے ایڈمیشن لینا چاہتی ہوں “۔سانیہ نے لاونج میں بیٹھے عاصم شاہ سے کہا۔
“ٹھیک میں کل دریاب سے کہوں گا وہ ساتھ والے گاؤں کے کالج میں داخلہ کروادے گا “۔
“لیکن بابا سائیں میں ایم بی بی ایس کرنا چاہتی ہوں اس کالج میں نہیں پڑھاتے آپ مجھے شہر کے کسی کالج یا یونیورسٹی میں داخل کروا دیں ۔” سانیہ نے سر جھکاتے ہوئے کہا.
“کوئی ضرورت نہیں ہے یونیورسٹی جانے کی ۔اگر پڑھنا ہے تو کالج میں ہی پڑھو ورنہ کوئی ضرورت نہیں ہے گھر میں بیٹھو۔” لاونج میں داخل ہوتے عادل شاہ نے سخت لہجےمیں کہا تو وہ لب کاٹ کہ رہ گی۔
“اب جاؤ مجھے بات کرنی ھے بابا سائیں سے۔” عادل شاہ نے اس کو وہیں کھڑا دیکھ کر گھورا تو وہ آنسو پیتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف بڑھی۔
“بات ہوگئی چچا سائیں سے؟” شامین نے کمرے میں داخل ہوتے کہا لیکن اسے روتا دیکھ کر ٹھٹھک گئی ۔
“کیا ہوا سانیہ؟ رو کیوں رہی ہو؟ تایا سائیں نے منع کر دیا کیا؟۔” شامین بے اختیار آگے بڑھی۔
“مجھے سمجھ نہیں آتا آخر مسئلہ کیا ہے یونیورسٹی میں داخلہ لینے میں۔ ہر بات میں روک ٹوک ۔ اس حویلی کے مردوں کے تو جو جی میں آتا ہے وہ کرتے ہیں، لیکن ہمیں ہر بات پہ سختی ۔ان کا بس چلے تو سانس بھی انکی مرضی سے لیں۔پتا نہیں وہ کونسے بھائی ہوتے ہیں جو اپنی بہنوں کو سپورٹ کرتے ہیں ۔ ” سانیہ نے روتے ہوئے کہا تو وہ ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گی۔
“میری جان ہم حویلی میں رہنے والی لڑکیاں ہیں جن کی کوئی مرضی نہیں ہوتی ۔ تم نے لالی پھپو کی حالت بھی دیکھی ہے اور مداخلت کرنے پر چاچو کا انجام بھی دیکھا ہے ۔” شامین نے کہا
“اب جاؤ ۔منہ دھو کر آو ۔فضول میں دل جلا رہی ہو۔” شامین نے اسے واش روم کی طرف دھکیلا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“سنو! وہ نکڑ والے شیخ صاحب گھر پے نہیں ہیں ۔چوکیدار بتا رہا تھا کہ ایک ہفتے کے لیے شہر سے باہر گئے ہیں۔پھر کیا خیال ہے؟” بازل نے امثال کے ہاتھ سے چپس کا پیکٹ چھینا
“خیال تو بہت نیک ہے۔ تمھیں نہیں پتا کتنے دنوں سے نظر ہے میری۔ ان کے گھر لگے انار کے دانے دانے پہ ہمارا نام لکھا ہوا صاف نظر آتا ہے مجھے ۔ ہوا چلتی ہے تو لہرا لہرا کراپنی طرف متوجہ کرتے ہیں ۔ ہائے یہ انکا سرخ رنگ ،موٹے موٹے رس بھرے دانے۔ واللہ کیا کہوں ۔ بس آج ہی حملہ کرتے ہیں اس بار درخت پرتم چڑھو گے۔ نیچے پھینکتے جانا میں اکھٹے کرتی جاوں گی ۔”امثال نے باقاعدہ نقشہ کھینچتے ہوئے پلان بنایا ۔
“اوکے ڈن “۔بازل نے ہاتھ آگے کیا تو اس نے بھی اس کے ہاتھ پرہاتھ رکھ دیا۔
کچھ ہی دیر بعد انار کا درخت کسی لُٹے ہوئے مسافر کی مانند دکھائی دے رہا تھا اور وہ پچھلے لان میں بیٹھے مزے سے انار کھا رہے تھے، ساتھ ہی دونوں کی زبان بھی متواتر چل رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ژلے، بازی آج تم لوگوں کی شوٹنگ کلاس ہے نہ ؟جلدی سے بیسمنٹ میں پہنچو۔ ” وہ دونوں لاونج میں بیٹھے ٹی وی پر باکسنگ میچ دیکھ رہے تھے جب شہریار نے ریموٹ اٹھا کر ٹی وی آف کیا اور باہر نکل گیا
“جی بھائی ۔” دونوں نے اپنے سے دس سال بڑے بھائی کو دیکھتے ہوئے فرمانبرداری سے جواب دیا ۔ویسے تو وہ ایسی فرمانبرداری کا مظاہرہ بہت کم ہی کرتے تھے لیکن اس وقت کچھ بھی الٹی سیدھی ہانکنے کا مطلب اپنی شامت بلوانا کیونکہ کچھ ہی دیر بعد انکی پریکٹس تھی اور پورے دو گھنٹے کے لیے وہ شہریار کے انڈر تھے ۔ان دونوں کو سیلف ڈیفنس تو وہ دس سال کی عمر سے ہی سکھا رہا تھا ۔ ویسے تو خود ایک بزنس مین تھا لیکن چونکہ وہ اپنے کالج ٹائم میں سلیف ڈیفنس کی تربیت لے چکا تھا۔اس کے علاوہ اپنے کالج میں کراٹے چمپئین تھا ۔ اس لیے ان دونوں کو تربیت وہ خود ہی دیتا تھا۔ مارشل آرٹ کے علاوہ بائیک اور ہر قسم کی گاڑی ڈرائیو کر لیتے تھے۔ اٹھارہ برس کی عمر میں ہی اچھے خاصے ماہر ہو چکے تھے ۔ یہ ہنر تھے تو دونوں کی سیفٹی کے لیے لیکن ان کی ماں کے لیے یہ کسی عذاب سے کم نہیں تھے کیونکہ دونوں آئے روز الٹی سیدھی حرکتیں کر کے خود تو ادھر اُدھر ہو جاتے تھے لیکن پیچھے ہمسائے شکایتیں لے کےان کے گھر پہنچے ہوتے جن کو ساریہ بیگم نے نمٹانا ہوتا تھا۔
“پرفیکٹ۔” امثال کا نشانہ دیکھتے ہوئے شہریار نے کہا تو وہ بے اختیار کھلکھلائی
“بس بس زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ بائے چانس ہی لگا ہو گا ۔”بازل نے منہ بگاڑا
“جیلس پیپل۔ ” امثال نے اسکو چڑایا۔
“کتنی بار کہا ھے کہ اسے ان سب میں نہ گھسیٹا کرو۔ لڑکی ہے لڑکی بن کر رہے۔ کوئی ایک کام بھی ہے اسکا لڑکیوں والا؟کل کو اس نے اگلے گھر بھی جانا ہے۔ کچھ گھر داری پے توجہ دے ،کچن کا کام سیکھے پر میری کوئی سنے بھی تو نہ ۔” جوس کا ٹرے لے کر بیسمنٹ میں داخل ہوتی ساریہ شاہ نے جب امثال کہ ہاتھ میں پسٹل دیکھی تو سلگ کہ رہ گئیں۔
“اوہو ماں چھوڑیں نہ ۔ آج کا یہ سب کون سوچتا ہے ۔یہ کوئی فضول چیز نہیں ہے۔ سب اس کی حفاظت کے لیے بہت ضروری ہے۔ کل کو اگر ہم اس کے ساتھ نہیں ہوتے تو اسے کم از کم اتنا تو مضبوط ہونا چاہیئے کہ وہ کسی بھی قسم کے حالات کو فیس کر سکے اور الحمدللہ میری بہن ہر قسم کے حالات سے اچھے سے نبٹ سکتی ہے اور آپ اندازہ نہیں کر سکتیں کہ جب یہ میرے ساتھ چلتی ہے تو مجھے کتنا فخر محسوس ہوتا ہے۔ “ماں کے کندھے پے ہاتھ رکھتے ہوئے بازل نے کہا۔ بہن کے لیے فخر اور مان اسکے چہرےاور باتوں سے سے صاف چھلک رہا تھا ۔۔اس وقت وہ کہیں سے بھی لاابالی اور شرارتی بازل نہیں لگ رہا تھا۔ شہریار بے اختیار مسکرا دیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“بھائی مجھے آپ سے بات کرنی ہے ۔” سانیہ نے عادل کے روم میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔
” کتنی بار کہا ہے کہ دستک دے کہ آیا کرو،تمیز بھولتی جا رہی ہو تم ۔”عادل نے اسے ناگواری سے جھڑکا۔
وہ جو اپنی ساری ہمت جمع کر کہ آئی تھی اس وقت اس کو اپنی ہمت ٹوٹتی محسوس ہوئی۔” وہ یک ٹک اپنے بھائی کو دیکھنے لگی جو شکل سے جتنا خوبرو تھا مزاج کا اتنا ہی سخت تھا ۔
“ہاں بولو!! اب کھڑی میرا منہ دیکھتی رہو گی کیا۔”اس کے سرد لہجے سے ہوش آئی ۔
“وہ بھائی مجھے ایڈمیشن کی بات کرنی تھی ۔۔”
“اس بارے میں بات ہو چکی ہے۔ مزید کوئی بات نہیں ہوگی۔”
“پر بھائی۔”
“بس! بہت ہو گیا ایک بار کی گئی بات تمھیں سمجھ نہیں آتی ہے ۔اگر پڑھنا ہے تو کالج میں پڑھو ورنہ نہیں۔” عادل بات ختم کرتے ہوئے باہر کی طرف بڑھا۔سانیہ نے آنکھوں میں آئی نمی صاف کی۔
“ٹھیک ہے بھائی۔۔۔۔آپ۔۔۔آپ میر ایڈمیشن کالج میں ہی کروا دیں ۔۔”
“ہمم۔۔ ٹھیک ہے۔ میں دریاب سے کہہ دوں گا وہ کروا دے گا ۔لیکن میری ایک بات یاد رکھنا اگر مجھے تمہاری کوئی شکایت ملی یا کچھ بھی الٹا سیدھا سننے کو ملا تو تمہارا حشر بگاڑ دوں گا سمجھی۔” عادل نے انگلی آُٹھا کر سختی وارن کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔
“کیا تھا بھائی جوآپ تھوڑا سا بھروسہ کر کہ مجھے یونی جانے دیتے۔ ” سوچتے ہوئے وہ بے اختیار رو دی۔
جاری ہے
