Rate this Novel
Episode 36
اسکا دھیان کیونکہ عائشہ کی طرف تھا اس لیے وہ راستے میں پڑا پتھر نہ دیکھ سکی اور نیچے جا گری۔ ان چاروں نے اسے جا لیا اب امثال کی چیخیں تھیں اور اور ان کے قہقے۔ اچانک امثال نے زوردار چیخ ماری تو وہ جلدی سے سے پیچھے ہٹی
تمہیں شرم تو نہیں آتی ہمیں یوں ڈراتے ہوئے ۔۔ شامین نے اس کے بال کھینچے
مجھے کیا پتا تھا تم لوگ لوگ اتنے چھوٹے دل کی ہو امثال نے منہ بگاڑا ۔ ان کی حالت دیکھتے ہوئے اس نے قہقہ لگایا۔ وہ سب کھڑی ہو کر اسے گھورنے لگیں تو امثال کی ہنسی تھمی
کیا ہے بھئی یوں آنکھیں نکال کر کیوں ڈرا رہی ہو مجھے غریب کو ۔امثال نے بیچارہ سا منہ بنایا
تم ۔تم کہاں سے غریب ہو ۔۔ پوری پوری چڑیل ہو۔ رامین نے اسے گھورا
چڑیل نہیں فتنہ کہو فتنہ ۔۔۔عادل لالہ بھی یہی کہتے ہیں۔ زروا کے کہنے پر اسکا منہ کھلا
شرم کرو بھابھی ہوں تمہاری۔۔۔۔ کہیں ایسا نہ ہو میں روائیتی بھابھی بن کر تمارا جینا حرام کر دوں
وہ تو تم نہ بھی بنو تب بھی کرو گی۔۔۔ بلکہ کیا ہوا ہے ۔۔ سانیہ نے دانت کچکچائے
نہیں تو نہ سہی ایک تو میں نے تم لوگوں کو انٹرٹین کرنے کی کوشش کی اوپر سے باتیں سنائی جا رہی ہو۔ امثال نے وہاں سے کھسکنا چاہا
روکو۔۔۔شامین کی سنجیدہ آواز پر وہ رک کر پلٹی تو ان سب کو سنجیدگی سے کھڑے خود کو دیکھتے پایا۔
سوری یار بس مزاق کیا تھا ۔ اسے لگا کہ شائد وہ مائنڈ کر گئیں ہیں مگر ان کی پوزیشن کوئی فرق نہیں آیا تھا
سوری نہ ۔۔امثال نے کان پکڑے ۔۔اچانک ان سب کا قہقہ بلند ہوا تھا
کیا ہے بھئی ڈرا ہی دیا تھا مجھے ۔امثال دھپ سے نیچے بیٹھی
اور وہ جو ہمیں ڈرایا تھا وہ ۔ سانیہ کی بات پر اسے پھر سے انکی حالت یاد آئی تھی اور اسکی ہنسی چھوٹی ۔ابکی بار ان سب کی ہنسی بھی شامل ہو گئی تھی
کیا ہوا عائشہ یہ آوازیں کیسی ہیں ۔رمل نے باہر آتے پوچھا
کچھ نہیں پہلے ایک جھلی تھی اب چار اور شامل ہوگئی ہیں۔۔ عائشہ نے ان پانچوں کی طرف اشارہ کیا تو وہ مسکراتے ہوئے واپس پلٹ گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ دونوں کو ایچ او ڈی صاحب بلا رہے ہیں ۔وہ دونوں یونی کی روش پر دھرنا دیے بیٹھے آتے جاتے سٹوڈنٹس کو تنگ کر رھے تھے جب کلاس کے سی آر نے آکر پیغام دیا
کیوں خیریت ۔۔۔۔۔بازل ہاتھ جھاڑتے ہوئے اٹھ کر کھڑا ہوا
پتہ نہیں ۔۔۔۔۔
اچھا کوئی انکے پاس آیا ہوا ہے کیا ۔۔۔
ہاں انکے پاس دو لوگ بیٹھے تو ہیں ۔ ایک بزرگ آدمی ہے اور ایک ینگ ہے۔۔۔ سی آر کی بات پر دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا وہ لوگ ایچ او ڈی کے آفس پہنچے تو وہاں مصطفی شاہ اور عادل کو بیٹھے باتیں کرتے دیکھ کر انکی آنکھیں اور منہ بیک وقت کھلے تھے انکی نظر پاس بیٹھے راشد شاہ پر پڑی تو انہوں نے مسکراہٹ پاس کی جس پر وہ دونوں پیچ و تاب کھا کر رہ گئے
اسلام و علیکم سر۔۔ دونوں نے نہایت ہی معصومیت سے سلام کیا
وعلیکم اسلام۔ آؤ بیٹا بیٹھو۔۔۔ ایچ او ڈی نے نرمی سے کہا تو وہ دیوار کے ساتھ رکھی خالی کرسیوں پر بیٹھ گئے
دیکھیں انکل ایک ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ ہونے کے ناطے میری کچھ زمہ داریاں ہیں۔ جن میں سر فہرست ڈیپارٹمنٹ کا نظم و ضبط قائم رکھنا ہے مگر مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ پچھلے تین ساڑھے تین سال سے سارا نظام درہم برہم ہوچکا ہے صرف اور صرف آپکے بچوں کی وجہ سے ۔۔ کوئی ٹیچر کوئی سٹوڈینٹ ان سے محفوظ نہیں .چلو چھوٹی موٹی شرارتیں تو کوئی بات نہیں مگر انکی شرارتیں کافی اونچی اور خطرناک ہوتی ہیں ۔سٹاف کی چائے کافی میں نمک مرچ ملانا ،پاس سے گزرتے بچوں کے ہاتھ سے چاکلیٹ ،چپس اور کھانے پینے کی دوسری چیزیں چھین کر بھاگ جانا تو ان کے لیے معمولی اور نارمل بات ہے ۔یہ تو سیدھا سیدھا بلیک میل کرتے ہیں کبھی کسی ٹیچر کو انکے افئیر کو لے کر تو کبھی انکی کسی اور کمزوری کو لے کر ،اور حد تو یہ ہے کہ الٹی سیدھی باتیں کر کہ یہ خود ہی ایک کے دل میں وہم ڈالتے ہیں کہ فلاں ٹیچر آپکو پسند کرتا ہے اور یہی بات جا کہ دوسرے سے کریں گے اور جب بات آگے نکل جائے گی تو انہی کو ہی بلیک میل کریں گے کہ ہماری اٹکی ہوئی اسانمنٹس اور کوئزز کور کروائیں ابھی حال ہی میں ایک پروفیسر نے انکو اپنے ایگزام میں بٹھانے سے منع کر دیا تو یہ انکے گھر پہنچ گے ۔انکی وائف کے سامنے جا کر وہ دکھڑا رویا اور معصومیت کی انتہا کی کہ وہ بے چاری سیدھی سادھی خاتون انکی باتوں میں آ کہ ان سے ناراض ہو گئی کہ جب تک انکو پرمیشن نہیں دیں گے میں آپ سے بات نہیں کروں گی۔بیچارے کی نئی نئی شادی ہوئی تھی اور وہ بھی پسند کی تو وائف کا روٹھنا افورڈ نہیں کر سکتے تھے یہ بات ان دونوں کو کہیں سے پتہ چل گئی تھی۔ اس لیے انکو مانتے ہی بنی ۔۔ آخری بات پر ایچ او ڈی کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی تھی مصطفی شاہ بائیں ہاتھ کی مٹھی بنا کر ہونٹوں پر رکھے گویا اپنی مسکراہٹ چھپانے کی کوشش کر رھے تھے
بات یہی ختم نہیں ہوتی ایک بار تنگ آ کر میں نے انہیں یونی سے نکالنا چاہا تو یہ پوری یونی کو اکھٹا کر کہ لے اور میں حیران تھا جب سارے سٹوڈنٹس انکی طرفداری کر رہے تھے یہاں تک کہ وہ بھی جو انکے ستائے ہوئے تھے ۔ جب کہا جاتا ہے کہ گھر سے کسی کو لے کر آؤ تو باہر سے کسی کو بھی پکڑ کر لے آتے ہیں اور ہم لوگ ان کو وہ باتیں سناتے ہیں کہ پوچھیں نہیں اور حیران بھی ہوتے ہیں کہ ہماری اتنی باتوں کے باوجود بھی ان پر اثر کیوں نہیں ہوتا وہ تو آج ایک ٹیچرز کی شکائیت پر ہمیں سر راشد نے بتایا کہ وہ انہیں جانتے ہیں ، جو کبھی انکی ماما آتی تھیں ۔کبھی بھائی اور بابا تو کبھی دادا دادی وہ سب کرائے پر ہوتے تھے ۔اور انہون نے آپکا رابطہ نمبر دیا کہ آپ سے رابطہ کر کہ بلائیں ۔۔۔۔ انکی باتوں پر عادل کو اپنے کانوں سے دھواں نکلتا محسوس ہواتھا
آپکو بلانے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ آپ انکو سمجھائیں تھوڑا تو ہم پر رحم کھا لیں سچ بتاؤں تو جب جب پروفیسرز اور سٹوڈنٹس شکایات لے کر آتے ہیں تو میرا ایچ او ڈی کے عہدے سے دستبردار ہونے کا شدت سے دل چاہتا ہے ۔اب تو مجھے شکل دیکھ کر ہی پتہ چل جاتا ہے کہ کوئی شکایت آئی ہے اور وہ بھی ٹوئنز کی ہے ۔اگر ڈانٹ دو تو اتنی معصوم اور بیچاری شکل بناتے ہیں کہ خود اپنا آپ ظالم لگنے لگتا ہے اور یہ مظلوم ۔۔ پلیز انکل تھوڑا رحم کھائیں ہم پر اورانہیں کنٹرول میں کریں
سر بات ہمارے بھی بس سے باہر ہے ۔۔۔ گھر میں ہمارا بھی کچھ ایسا ہی حال ہوتا ہے ۔اس معاملے میں ہم مکمل طور پر بے بس ہیں اس کے علاوہ کوئی اور حکم ہے تو کریں ہم حاضر ہیں ۔۔ عادل نے انکو دیکھتے ہوئے کہا جو ان سب سے بے نیاز ایک دوسرے سے کھسر پھسر میں مصروف تھے
سائیں آپ چھوڑیں اس بات کو یہ بتائیں کہ پڑھنے میں کیسے ہیں مصطفی شاہ نے پوچھا
نو ڈاؤٹ کہ دونوں بریلئنٹ سٹوڈنیٹ ہیں پچھلے تین سالوں سے کلاس ٹاپر ہیں اور اب تک ریکارڈ قائم رکھا ہوا ہے ۔امثال فرسٹ پہ اور بازل سکینڈ پر۔۔۔ انکی بات پر مصطفی شاہ کے چہرے پر فخریہ مسکراہٹ چھائی تھی
تو سائیں پھر باقی باتوں کو بھول جاؤ بس چھ مہینے ہیں جیسے تیسے نکال لو ہم اپنے لاڈلوں کو کچھ نہیں کہہ سکتے مصطفی شاہ اٹھ کھڑے ہوئے
چلو عادل ۔انکے پیچھے وہ دونوں بھی نکلے
دادا جانی پلیز ماما کو مت بتایئے گا وہ بہت بے عزتی کریں گی
اس سے کیا فرق پڑتا ہے تم نے کونسا سدھر جانا ہے ۔عادل نے اسے گھوری دکھائی
اچھا اچھا پتر تو پریشان نہ ہو نہیں بتائیں گے مصطفی شاہ نے اسکے سر پر چیت لگائی
تم بھی نہ بتانا ۔اچھے والے دوست نہیں ہو امثال عادل کا ہاتھ پکرتے ہوئے ملتجیانہ انداز میں گویا ہوئی
سر ٹھیک کہہ رہے تھے واقعی تمہاری معصوم صورت دیکھ کر بندہ خود کو ظالم فیل کرنے لگتا ہے ۔اس نے افسوس سے سر جھٹکا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماموں آپ نے اچھا نہیں کیا ۔۔امثال نے راشد شاہ کے ہاتھ سے اخبار کھینچا
کیوں بھئی میں نے کیا کر دیا ۔ ان کا اطمینان ان قابل دید تھا
فرہاد جو آنکھیں پھاڑے امثال کا انداز دیکھ رہا تھا تھا راشد شاہ کا نارمل بیہیور دیکھ کر اسکا منہ کھلا اسے تو لگا تھا کہ امثال کے یوں اخبار کھینچھے پر اسکو ڈانٹ تو ضرور پڑے گی
اتنے بچے نہ بنیں آپ ۔۔اچھے سے پتہ ہے آپکو میں کس بارے میں بات کر رہی ہوں ۔امثال نے دانت کچکچائے
نہیں بھئی مجھے نہیں پتہ تم بتا دو۔۔
ایچ او ڈی کا دادا جانی سے رابطہ آپ نے کروایا ہے نہ
ہاں تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے کندھے اچکائے
کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم لوگ جو کرتے ہو میں نے کبھی پوچھا ہے کیوں۔۔ تو اب تمہارا بھی پوچھنا نہیں بنتا اور ویسے بھی پچھلے تین سالوں میں جتنا تنگ تم دونوں نے کیا ہے تو اتنا تو میرا حق بھی تھا۔ انہوں نے لاپرواہی سے کہا
بہت مہنگا پڑے گا ۔۔چھوڑو گی نہیں دیکھ لوں گی آپکو
شوق سے ۔انہوں نے گویا ناک سے مکھی اڑائی ۔ وہ پیر پٹختی باہر نکل گئی پیچھےراشد شاہ نے قہقہ لگایا۔فرہاد حیرانی سے اپنے باپ کو دیکھ رہا تھا جو امثال کے ساتھ بچہ بنے بیٹھے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پانچ دن رہ گئے ہیں تو میں سوچ رہی ہوں کہ لڑکیوں کو مایوں بٹھا دیا جائے
ہرگز نہیں دادو میں کوئی نہیں بیٹھنے والی۔۔ایک جگہ ٹک کر بیٹھنا پڑتا ہے اور ویسے بھی میرا ابھی ایک پیپر رہتا ہے۔ امثال نے صاف انکار کیا
پتر یہ رسم ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوتی ہو گی مجھے نہیں کرنی۔۔۔۔۔ آپ کو شوق ہو رہا ھے تو خود بیٹھ جائیں ۔ امثال نے منہ کے زاویے بگاڑے تو فوزیہ بیگم نے مسکراہٹ دبائی
نہ اب میں اس عمر میں مایوں بیٹھتی اچھی لگوں گی ۔۔۔۔۔۔ بی جان نے اسے چھڑی سے ٹہوکا دیا
ویسے آئیڈیا برا تو نہیں ہے کیوں نہ آپ اوردادا جانی کی دوبارہ شادی کرائی جائے۔۔اس وقت تو ہم آپکی اٹینڈ نہیں کر سکے تھے ۔ کتنا مزہ آئے گا نہ ۔۔ امثال نے پرجوش ہوتے ہوئے کہا
چل ہٹ دادی ہوں تمہاری کچھ تو شرم لحاظ کر لیا کرو
اسکو بکواس کرنے دیں ۔۔باقیوں کی آج رسم کر لیں یہ کل پیپر دے کر آجائے تو اسکو بھی بٹھا دیں گے ۔ساریہ بیگم نے اسے گھورا چھوٹی سی رسم کے بعد ان پانچوں کو مایوں بٹھا دیا گیا تھا بی جان نے سختی سے تاکید کی کہ رخصتی سے پہلے لڑکوں میں سے کوئی بھی انکا چہرہ نہیں دیکھے گا ورنہ روپ نہیں آئے گا ۔باقیوں کو تو کچھ خاص فرق نہیں پڑا تھا مگر جہاں عادل اس حکم نامے پر جھنجھلایا تھا وہیں بی جان نے خاص زروا کی امثال پر ڈیوٹی لگائی تھی کہ وہ کہیں باہر نہ نکلے ۔ تین دن بعد ہی امثال کی بس ہو گئی تھی اس لیے وہ آج صبح سے زروا پر چڑچڑی ہو رہی تھی کہ اسے حویلی سے باہر جانے دے۔ مگر اس نےصاف منع کر دیا کہ اسے بی جان سے بےعزتی کروانے کا کوئی شوق نہیں ہے ۔وہ کچن میں کھڑی چائے بنا رہی تھی جب عادل اسکے پاس آیا
زروا مجھے امثال سے ملنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں مل سکتے بی جان نے منع کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہے بھئی بس پانچ منٹ کے لے ملوا دو
نہ دس منٹ کے لیے نہ ایک گھنٹے کے لیے۔۔ زروا نے نفی میں سر ہلایا
کچھ لے دے کر بھی نہیں ۔۔۔عادل نے لالچ دینا چاہا
اس طرح کی بات کر کہ آپ اپنے پولیس والا ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ مجھے خرید لیں گے تو آپ بلکل ٹھیک سمجھتے ہیں ۔۔۔ زروا کے انکھیں گھومانے پر عادل ہنسا
کیا چایئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کل ایک جیولری سیٹ دیکھا تھا بس وہی چایئے ۔۔۔۔
ٹھیک ہے مل جائے گا
دس لاکھ کا تھا ۔۔۔۔۔
مل جائے گا یار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے آئیں میرے ساتھ زروا اسے لے کر امثال کے کمرے میں آئی ۔ جہاں وہ گھٹنوں میں سر دیے بیڈ پر بیٹھی تھی
آپی ۔۔۔۔۔۔۔۔
تم پھر آ گئ ہو۔۔۔ جاؤ مجھے نہیں بات کرنی تم سے ۔۔چیٹر ہو تم ۔۔۔ امثال نے سر اٹھائے بغیر کہا تو زروا نے عادل کی طرف دیکھا اور باہر نکل گئی
مجھ سے بھی نہیں کرو گی ۔۔ عادل کی آواز پر اس نے ایک جھٹکے سے سر اُٹھایا اس کو اپنے سامنے پا کر بے اختیار اٹھ کھڑی ہوئی
تم آ گئے ۔۔۔۔۔۔کہاں تھے ۔۔۔اتنے دن ہو گئے۔۔ تم مجھ سے ملنے ہی نہیں آئے ۔۔۔اگلے ہی لمحے وہ دوبارہ بیٹھی
مجھے نہیں بات کرنی۔۔۔ کسی سے بھی نہیں کرنی ۔۔تم بھی جاؤ ۔۔۔سب جاؤ۔۔۔ امثال نے انکھیں صاف کرتے ہوئے کہا
ارے ارے میری کیوٹ سی ڈول کیوں رو رہی ہے ۔ اسکے مقابل بیٹھتے ہوئے اس نے امثال کے آنسو صاف کیے
مجھے یہاں قید کر دیا ہے ۔۔باہر نہیں جانے دیتے ۔۔میں تھک گئی ہوں اور اور تم بھی نہیں ملنے آئے مجھ سے
باہر جانا ہے ؟۔۔۔ میرے ساتھ چلو گئ۔۔۔۔ اسکے پوچھنے پر اس نے منہ بسورتے ہوئے سر ہلایا
اوکے چلو ۔۔ ڈرئیور کو فون کر کہ گاڑی حویلی کے پچھلے دروازے پر بلوائی اور اسے لے کر پچھلے دروازے سے نکلا
اب خوش۔۔ عادل نے اسکو شیشے سے باہر جھانکتے دیکھ کر پوچھا
ہاں بہت تھینک یو سو مچ تم نہ بہت اچھے ہو امثال اسکے کندھے پر سر رکھتے ہوئے چہکی تو وہ مسکرایا
کہاں جانا ہے ۔۔۔۔۔
کہیں بھی چلو مگر مجھے دو گھنٹے تک گھر نہیں جانا ۔۔۔اس نے گاؤں سے نکل کر گاڑی ایک سائیڈ پر روکی
آ جاؤ تھوڑی دیر باہر بیٹھتے ہیں ۔عادل نے اسکی سائیڈ سے دروازہ کھولا تو وہ اتری اسکو اٹھا کر بونٹ پر بٹھایا اور خود بھی اس کے ساتھ بیٹھ گیا
مجھے اندازہ نہیں تھا تم مجھے اتنا مس کر رہی تھی۔ عادل نے اسے چھیڑا
کوئی نہیں میں تو نہیں کر رہی تھی
رئیلی ۔۔۔۔ عادل نے ابرو اچکائے
ہاں کر رہی تھی ۔ اپنے شوہر کو کر رہی تھی تمہیں کوئی مسئلہ ہے ۔۔۔امثال نے بھی اسی کے انداز میں ابرو اچکائے
اوہ آئی سی ۔۔۔۔۔ اسے بتانا تھا کہ تم اسے مس کر رہی ہو وہ فورا آجاتا ۔
تو اسے نہیں پتا کہ میں ویٹ کر رہی ہوں گی ۔۔۔مجھے اپنی عادت ڈال کر خود غائب ہو گیا ۔۔امثال نے منہ بنایا
اوکے آئی پرومس آئندہ نہیں کروں گا ۔ بس ایک کام میں بزی ہو گیا تھا ۔اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے اسکے گال پر اپنا گال رکھا
کہیں محبت تو نہیں ہوگئ اپنے معصوم شوہر سے ۔۔۔۔۔ بیچارہ کب سے انتظار کر رہا ہے کہ کب اسکی بیوی کہے کہ سنو جی مجھے بھی تم سے محبت ہو گئی ہے ۔
کوئی نہیں میں نہیں بتا رہی ۔۔۔ اسے خود پتہ ہونا چایئے
ہوسکتا ہے وہ تمہارے منہ سے سننا چاہتا ہو
ہاں تو اس خود کونسا کبھی مجھے کہا ہے امثال کی بات پر وہ ہلکا سا مسکرایا
تو میری بیوی کو اظہار محبت سننا ہے۔ عادل نے اسکی ناک دبائی اتنے میں اس کا موبائل بجا
ہاں زروا بولو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لالہ جلدی واپس آئیں دادو امثال آپی کو بلا رہی ہیں اگر انہیں پتہ چل گیا نہ تو میری شامت پکی ہے
گڑیا دس لاکھ لیا ہے تم نے ملاقات کروانے کا تو اب جب ہمارا دل کرے گا ہم آئیں گے ۔۔۔۔ خود ہی سنبھالو اور دوبارہ فون مت کرنا ورنہ ایک دھیلا بھی نہیں ملے گا۔۔۔۔ عادل نے دھمکاتے ہوئے فون بند کر دیا دس منٹ بعد امثال کو موبائل بجا تھا
جی بھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امثال نے کال اٹینڈ کرتے ہوئے کان سے لگایا
کہاں ہو ۔۔۔۔۔۔
کمرے میں ہوں بھائی ۔ خیریت کوئی کام تھا۔۔۔
اچھا یہ سڑک کے کنارے بھی کمرے بننے لگے ہیں حیرت ہے شہریار کی بات پر وہ اچھلی
کیا کہہ رہے ہیں مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی
زرا پیچھے مڑ کر دیکھو ۔امثال نے پیچھے دیکھا تو شہریار انکے پیچھے اپنی گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا تھا
آپ یہاں کیا کر رہے ہیں
میں تو آفس سے آ رہا ہوں تم لوگ یہاں کیوں کھڑے ہو اور تمہیں اجازت مل گئی باہر نکلنے کی اس نے انکے پاس آتے ہوئے پوچھا
کہاں بھائی ،چھپ کر آئی ہوں
صیح جلدی آ جانا اس سے پہلے کہ کسی کو پتہ چلے ۔شہریار اس کے بال بگاڑتا واپس پلٹ گیا تقریبا تین گھنٹے بعد عادل اسکو پچھلے دروازے سے ہی واپس چھوڑ کر چلا گیا
جاری ہے
