Rate this Novel
Episode 15
گھٹنوں تک آتی ریڈ ٹی شرٹ اور ٹراؤزر میں سر پر کیپ لیے ،کمر سے نیچے تک آتے بالوں کو پونی میں باندھے ، وہ اکیلی فٹ بال کھیل رہی تھی ۔ سانیہ سے کہا تو اسنے منع کر دیا کہ مجھے نہیں کھیلنا آتا تو وہ اکیلی ہی کھیلنے لگی۔ اچانک اسکی نظر امان پر پڑی جو موبائل میں کچھ دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔۔وہ سر جھٹک کر دوبارہ کھیلنے لگی۔۔ کافی دیر بعد جب اس نے دوبارہ نظر اٹھائی تو امان ابھی تک وہیں بیٹھا تھا اسے حیرانی ہوئی وہ زیادہ دیر تک ایسے بیٹھنے والا بندہ تو نہیں تھا ہر وقت کسی نہ کسی کام میں مصروف رہتا تھا کچھ سوچتے ہوئے وہ الٹا چکر کاٹتے ہوئے اسکے پیچھے جا کھڑی ہوئی موبائل میں جھانکا تو شامین کی تصویر دیکھ کر اچھلی تھی تصویر شائد اسکی بے خبری میں لی گئی تھی کیونکہ تصویر میں وہ ریموٹ ہاتھ میں پکڑے ٹی وی کی طرف متوجہ تھی
اوہ۔۔۔۔۔ تو یہ چل رہا ہے میں بھی کہوں امان شاہ اکیلا بیٹھا مسکرا رہا خیر ہو ۔۔۔۔۔امثال نے آنکھیں گھماتے ہوئے کہا اور وہیں اسکے پاس گرنے کے انداز میں بیٹھ گئی ۔اسکے اچانک حملے پر امان کے ہاتھ سے موبائل چھوٹ کر گرا تھا امثال کو دیکھ کر اس نے گہری سانس لی
ویسے ایک بات تو بتائیں جب وہ ہر وقت آپکے سامنے زندہ موجود ہوتی ہے تو پھر چھپ چھپ کر تصویر لینے اور دیکھنے کا کیا فائدہ آپ سیدھا سیدھا جا کہ اس کے پاس بیٹھ جائیں اور دل بھر کہ دیکھیں۔ لیکن پھر بھی وہ کیا کہتے ہیں دو آنکھوں سے کتنا دیکھا جا سکتا ہے امثال نے مشورہ دیا
نہیں گڑیا ایسی کوئی بات نہیں ہے جیسا تم سمجھ رہی ہو امان نے بات بنانے کی کوشش کی کہ ان آفتوں کو پتہ چلنا مطلب پوری حویلی کیا پورے گاؤں کو پتہ چلنا
اوہ ہ ہ ۔۔۔۔اچھا تو پھر آپ تصویر کو ایک بہت ہی لونگ اور کیئرنگ بھائی کی نظر سے دیکھ رہے ہوں گے کوئی نہیں میری بھی بہت ساری پکچرز شہری بھائی اور عدی کے موبائل میں ہیں امثال نے مسکراتے ہوئے کہا تو اس نے بے ساختہ استغفراللہ کہا
نہیں اب ایسی بھی بات نہیں ہے امان نے سر کھجایا
ایسی بات نہیں ہے ،ویسی بھی نہیں ہے، تو پھر بتائیں نہ کیسی بات ہے۔ امثال نے کہا
پلیز کسی سے کچھ مت کہنا میں نہیں چاہتا کہ اس پے کوئی حرف آئے
کم آن اب اتنی بھی بے وقوف نہیں ہوں کہ کسی کی عزت خراب کروں گی امثال نے ناراضگی سے کہا تو امان مسکرایا
مطلب تھوڑی بہت ہو ۔
ہی ہی۔۔ امثال نے دانت دکھائے تھے
اچھا میں چلتی ہوں ہمارے لائق کوئی خدمت ہو تو ضرور بتائیے گا۔ یقین کریں مایوس نہیں ہوں گے ۔۔ اتنے میں شہریار اورعدید حویلی میں داخل ہوئے تو امثال کو فٹ بال کھیلتا دیکھ کر اسکی طرف بڑھے
کیا کر رہا ہے میرا بچہ۔۔ شہریار نے نرمی سے اسکو ساتھ لگایا
کچھ نہیں بھائی کھیل رہی تھی۔
اکیلی۔۔ شہریار نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا
ہاں وہ بازی ماما کے ساتھ گیا ہوا ہے نہ اور سانی کو کھیلنا نہیں آتا امثال نے منہ بنایا
ارے ہمارے ہوتے ہوئے ہمارا بچہ اکیلا کھیل رہا ہے آؤ میں کھیلتا ہوں تمہارے ساتھ عدید نے نرمی سے کہا
نہیں نہ آپ لوگ تھکے ہوئے ہوں گے نہ اور شہری بھائی بھی ابھی کراچی سے واپس آئے ہیں تو تھک گئے ہوں گے نہ ۔آپ جا کہ ریسٹ کریں ۔میں ٹھیک ہوں
ہاں بھائی تو واقع ہی تھکے ہوئے ہیں شہری بھائی آپ جا کہ ریسٹ کریں میں گڑیا کو کمپنی دیتا ہوں عدید نے آستین کے کف موڑتے ہوئے کہا تو وہ سر ہلاتا ہوا اندر چلا گیا تو وہ دونوں کھیلنے میں مصروف ہو گئے تھے ان دونوں کو اکھٹا کھیلتا دیکھ کراپنے کمرے کی کھڑکی میں کھڑے عادل نے زور سے کھڑکی کا پٹ بند کیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بازل میں نے کچھ چیزیں منگوانی ہے۔ لسٹ بنا دی ہے جا کہ لا دو۔ امثال نے بازل کے سامنے لسٹ لہرائی
میں تمہارا نوکر لگا ہوا ہوں جب دیکھو آرڈر لگاتی رہتی ہو۔ چھوٹی ہو چھوٹی بن کر رہو زیادہ بڑا بننے کی ضرورت نہیں ہے اور آئیندہ تمیز سے بات کرنا میرے ساتھ۔ بڑا ہوں تم سے ۔۔۔ بازل نے سرد لہجے میں کہا اس بات سے بے خبر کہ وہ ہال میں داخل ہوتے عدید اور شہریار کی سخت نظروں کے حصار میں ہے سب نے اسے حیرانی سے دیکھا کہاں اس پر جان دینے والا بازل اتنی بری طرح سے ڈانٹ رہا ہے
بازی کیا ہو گیا کیوں ڈانٹ رہے۔۔۔ دماغ ٹھیک ہے ۔۔ ساریہ بیگم نے اسے گھورا
ماما آپ بیچ میں مت بولیں ۔۔۔بہت بگڑ چکی ہے یہ ۔بازل نے اسی ٹون میں کہا اس سے پہلے عدید آگے بڑھتا شہریار نے اسے روک دیا
بازی تم۔۔۔ تم ناراض ہو مجھ سے۔ امثال نے روہانسی ہوئی ۔۔لوگوں کی ذرا نہ پروا کرنے والی امثال کی اپنے بھائیوں کی تھوڑی سی ناراضگی پر جان پر بن آتی تھی
کہا نہ تمیز سے بات کرو یہ تم کیا ہوتا ہے آپ بولو۔۔۔کچھ زیادہ ہی سر پر چڑھ گئی ہے ۔۔بازل نے ناگواری سے کہا تو وہ خاموشی سے اسکے سامنے کھڑی لب کاٹنے لگی جب کاٖفی دیر تک اسکی طرف سے جواب نہ آیا تو اس نے سر اٹھایا ،امثال کی آنکھوں سے آنسو بہہ کر گالوں تک آ گئے تھے ۔اسکو یوں روتا دیکھ کر وہ بوکھلا کر رہ گیا
تم۔۔۔ تم رو کیوں رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔یار ژلے میں مزاق کر رہا تھا سچی میں ۔۔۔۔۔۔ آئم سوری ۔ میں بس ایویں ای رعب جھاڑ رہا تھا ۔سیریسلی میں مزاق کر رہا تھا تم تو رونے ہی لگی بازل نے اسکو اپنے ساتھ لگایا
یار اب بس بھی کرو سیلاب لانا ہے کیا ۔۔۔ پلیز تم شہری بھائی اور عدید کو مت بتانا پلیز اچھی بہن نہیں ۔۔۔ اس سے پہلے وہ بات مکمل کرتا پیچھے سے کسی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا وہ پیچھے مڑا توعدید اور شہریار اسے جن نظروں سے گھور رہے اسے اپنی روح فنا ہوتی محسوس ہوئی چل بازی اب تیری خیر نہیں اسے نے بے اختیار سوچا شہریار نے امثال کو اس سے الگ کر کہ اپنے ساتھ لگایا تو وہ زور و شور سے رونے لگی
بھائی ۔۔۔ بھائی اسنے مجھے اتنی زور سے ڈانٹا تھا کہتا ہے تمیز سے بات کرو اور ۔۔۔اور کہتا یہ بڑا ہے مجھ سے ۔۔میں بگڑ گئی ہوں۔ امثال نے روتے ہوئے کہا
چل آ میں تجھ سے تمیز سے بات کرتا ہوں عدید نے اسکو گردن سے پکڑا
بھائی یار سوری میں مزاق کر رہا تھا . بازل منمنایا اور مدد طلب نظروں سے شہریار کو دیکھا
اور مزاق مزاق میں تو نے اسے رلا دیا ۔۔۔عدید آج تجھے چھٹی ہے جو کرنا ہے کر اسکے ساتھ میں نہیں روکوں گا ۔شہریار نے امثال کو اپنے ساتھ صوفے پر بٹھاتے ہوئے کہا
کیا کہہ رہا تھا کہ سر پر چڑھا رکھا ہے ۔۔ہوں عدید نے اسکی کمر میں مکہ مارا تو وہ بلبلا اٹھا
بڑا ہوں میں تم سے.. یہی کہہ رہا تھا نہ۔ عدید نے گردن پر دباؤ ڈالا تھا
چول انسان تیری وجہ سے وہ رو رہی ہے۔۔ ہال بازل کی ہائے ہائے اور امثال کی ہنسی سے گونج اٹھا تھا
موٹو یہ دیکھ میں نے تمہارے لیے شاپنگ کی ہے۔ وہ کل والے مذاق پر ابھی تک اس سے ناراض تھی بازل کئی جتن کر چکا تھا اسکو منانے کے ، کبھی کچھ کھانے کو لا رہا ہے تو کبھی اپنی کوئی چیز اسے دے رہا ہے جو امثال لے کر رکھ لیتی مگر منہ ہنوز پھولا ہوا تھا
یہ دیکھو میں اپنے اور تمہارے سیم سیم ڈریسز لایا ہوں ۔ بازل نے کچھ ٹی شرٹس اور جینز نکال کر اسکے سامنے رکھیں
یہ شوز اور واچز بھی سیم سیم ہیں۔ کافی دن ہوگئے تھے نہ ہمیں شاپنگ کیے ہوئے۔ بازل نے کہا تو امثال نے ترچھی نظروں سے صوفے پر پڑے شاپنگ بیگز کی طرف دیکھا اور اسکے نظر اٹھانے سے پہلے ہی رخ موڑ گئی اتنی ساری شاپنگ دیکھ کر اسکا دل مچلا تھا مگر خود پر قابو کیے بیٹھی رہی ناراض تو وہ پہلے بھی نہیں تھی لیکن بازل کے جتن دیکھ کر پھیل رہی تھی
یہ دیکھو میں نے تمہارے لیے ساتھ میں میچینگ حجاب بھی لیے ہیں اور نیو ہیر آئل بھی لایا ہوں۔ تمہیں پتہ ہے یہ انڈیا میں بہت مشہور ہے۔ لاؤ میں تمہارے بالوں میں لگاؤں۔۔بازل نے چیزیں سمیٹتے ہوئے ملازمہ کو دیں کہ وہ امثال کے روم میں رکھ آئے اور خود آئل لے کر امثال کے بالوں میں لگانے لگا
اب تو معاف کر دو یار۔ میں نے بس مذاق کیا تھا۔
میں تم سے ناراض ہی کب تھی۔ ۔امثال ٓہنسی
اور وہ جو کل سے بات نہیں کر رہی تھی ،وہ کیا تھا ۔ بازل نے اسکے بال کھینچے
وہ۔۔۔۔۔۔ وہ تو تم جب تم آگے پیچھے پھر رہے تھے، تو میں نے سوچا چلو تھوڑے سے نخرے اٹھوا ہی لیتی ہوں امثال نے کہا تو وہ ہنس دیا ریلینگ پر کھڑا شہریار مسکراتے ہوئے اپنے کمرے کی جانب بڑھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہ بی بی کل تو میں بال بال بچی ہوں۔ ملازمہ نے کہا
کیوں کیا ہوا۔ ثریا بیگم پوچھا
وہ کل نہ مجھے چھوٹی شاہ بی بی نے پکڑ لیا تھا۔وہ میں نہ فریدہ سے بات کر رہی تھی تو انہوں نے سن لیا تھا وہ تو امثال بی بی نے بچا لیا تھا ورنہ مجھے تو لگا تھا کہ آج تو میں گئی ۔
اچھا وہ کیسے۔ شاہ بی بی نے دلچسپی سے پوچھا تو ملازمہ نے اسے تفصیل بتانے لگی
تو ہاجرہ نے کچھ نہیں کہا اسے۔۔ حیرت ہے وہ تو اپنی بات میں کسی کی مداخلت برادشت نہیں کرتی ہے ۔
ارے بی بی جی آج کل تو چھوٹی شاہ بی بی کی کایا ہی پلٹی ہوئی ہے کہاں وہ حویلی لڑکیوں کو اونچی آواز میں بات کرنے پر ڈانٹ دیتی تھی اور کہاں سارا دن حویلی میں امثال بی بی کے قہقے گونجتے ہیں اور بی جان مسکرا دیتی ہیں اور آپکو پتہ ہے اب تو شاہ صاحب بھی انکی باتوں پر قہقےلگاتے ہیں۔ تھوڑے ہی عرصے میں وہ سب کی لاڈلی بن چکی ہیں چاہے وہ کچھ بھی کریں کچھ بھی پہنیں کوئی روک ٹوک نہیں کرتا
اچھا ایک بات بتاؤ کیسی ہے امثال ۔۔۔۔ کس پہ گئی ہے۔ شاہ بی بی نے اشتیاق سے پوچھا
بہت پیاری ہیں جس طرح ٹی وی میں نہیں آتی ہیں لڑکیاں، بلکل ان کے جیسی ہیں ۔ شکل و صورت سے ساریہ بی بی پہ گئی ہیں ۔ ملازمہ نے کہا تو انہوں نے سر ہلا دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خالہ کیا کر رہی ہیں ۔عادل کچن میں داخل ہوا تو ساریہ بیگم کو چولہے کے پاس کھڑے دیکھا تو پوچھا
کچھ نہیں بیٹا عدید آیا ہوا ہے، تو امثال نے اسے زبردستی کھانے کے لیے روک لیا ہے۔ دونوں کے لیے کھانے کو کچھ بنا رہی ہوں ۔ ساریہ بیگم نے مصروف انداز میں جواب دیا تو عادل کا پارہ ہائی ہوا
ویسے خالہ یہ عدید زیادہ تر یہاں ہی پایا جاتا ہے ۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ آفس ٹائمنگ کے بعد بندہ خاصا تھک جاتا ہے کچھ بھی کرنے کی ہمت نہیں ہوتی اور یہ گھر جانے کی بجائے اتنا سفر کر کہ یہاں آ جاتا ہے ، پھر یہاں سے واپس جاتا ہے مینج کرنا تو خاصا مشکل ہوتا ہو گا نہ ۔عادل نے بڑی مشکل سے خود کو کنٹرول کرتے ہوئے نارمل اندازمیں کہا تو ساریہ بیگم ہنس دیں
بیٹا تم نے بچپن وہ کہانیاں تو پڑھی ہوں گی ،جس میں جادو گر اپنی جان کسی طوطے میں قید کر کے رکھ دیتے تھے ۔۔۔یہی صورت حال عدید کے ساتھ بھی ہے۔ اسکی جان بھی امثال نامی طوطے میں قید ہے اسی لیے وہ اپنی تھکن کی پراوہ کیے بغیر اس سے ملنے آ جاتا ہے۔ ساریہ بیگم کی بات پر اس نے مٹھیاں بھینچیں
اچھا۔۔۔۔ ایسا کیوں ۔ عادل نے سرسری انداز میں پوچھا
دارصل عدید فاریہ اور آصف کے ساتھ اکیلا ہوتا تھا جرمنی میں۔ کوئی اور بہن بھائی تو تھا نہیں تو اس چیز کو بہت فیل کرتا تھا ۔۔ دس سال کی عمر میں پاکستان آیا تو اسکی بازل اور امثال کے ساتھ دوستی ہوگئی ۔امثال میں تو جان بسنے لگی تھی اسکی ۔۔ کچھ دن رہنے کے بعد جب وہ واپس جانے لگا تو بہت اداس تھا ، یہاں تک کہ اس نے جانے سے منع کر دیا کہ وہ واپس ہی نہیں جانا چاہتا ۔ وہاں جا کر بھی وہ کافی ڈسٹرب رہا ۔پھر جب وہ پانچ سال بعد دوبارپاکستان آیا تو اسے پتاچلا کہ امثال نہ صرف اسکی کزن ہے بلکہ اسکی ۔۔۔۔۔۔۔۔
ماما کیا کر رہی ہیں کب سے کچن میں ہیں ابھی تک کھانا نہیں بنا کیا۔۔۔میں اور عدی کب سے ویٹ کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے ساریہ بات مکمل کرتی امثال نے کچن میں داخل ہوئی
ہاں بس بن گیا۔۔۔۔ میں لا ہی رہی تھی ساریہ بیگم نے کھانا پلیٹوں میں ڈالتے ہوئے کہا اور ٹرے میں رکھ کہ اسے پکڑائی اور باہر نکل گئی
ارے ایس پی صاحب آپ بھی آئیں نہ مل کہ کھاتے ہیں۔ امثال نے خاموش کھڑے عادل سے کہا
نہیں مجھے بھوک نہیں ہے ۔عادل نے لٹھ مار انداز میں کہا
اوہو کچھ نہیں ہوتا نہ تمہیں پتا عدید بھی کہہ رہا تھا اسے بھی بھوک نہیں مگر میں نے اسے کہا کہ میرے ساتھ کھا لے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوہ پلیز مجھے تمہارا یہ عدید نامہ سننے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔۔عادل نے اسکی بات کاٹتے ہوئے کہا اور بڑبڑاتا ہوا باہر نکل گیا
ہیں اسے کیا ہوا ۔۔۔ اچھا خاصا کھڑا تھا۔۔۔ خیر سانوں کی ۔۔اس نے کندھے اچکاتے ہوئے سوچا اور باہر نکل گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ باہر سپورٹس کار کس کی کھڑی ہے سانیہ نےامثال کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا
میری ہے ۔۔امثال نے ٹی وی کا والیم کم کیا
اچھا۔۔ شہری لالہ نے لے کے دی ہے۔
نہیں عدی نے۔
ایک بات پوچھوں تم سے ۔۔سانیہ نے کہا
ہاں پوچھو ۔۔اجازت لینے کی کیا ضرورت ہے۔
یہ تم عدید کے کچھ زیادہ ہی کلوز نہیں ہو۔ سانیہ نے محتاط انداز میں کہا مبادا وہ مائنڈ ہی نہ کر جائے
وہ تو میں شہری بھائی اور بازی سے بھی ہوں اس میں اتنا حیران ہونے والی کیا بات ہے۔
ہاں مگر وہ تو تمہارے بھائی ہیں نہ۔
ہاں تو وہ بھی تو میرا بھائی ہی ہے۔ امثال نے چینل چینج کیا
سگا تو نہیں ہے نہ ۔۔۔۔کزن ہے اور نا محرم بھی ہے پر تم اس سے اتنا کلوز ہو سانیہ نے کہا تو امثال نے چونکی تھی
اوہ ہ ہ۔۔۔ بی بی بریک پہ پاؤں رکھو ۔۔کیا بولے جا رہی ہو ۔۔۔عدی میرا بھائی ہے ۔۔۔سگا بھائی ۔۔۔ ہماری ماما کا بیٹا ہے بدھو ۔۔۔مطلب کچھ بھی ۔امثال نے اسے گھورا تو اس نے نا سمجھی سے اسے دیکھا
کیا مطلب پر وہ تو فاریہ خالہ کا بیٹا ہے نہ۔۔
تمہیں نہیں پتہ نہ ۔۔۔۔رکو میں بتاتی ہوں۔۔ امثال نے ٹی وی آف کیا اور اسے بتانے لگی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سانیہ چائے لاؤ ۔عادل نےسیڑھیاں اترتے ہوئے کہا اور ہال میں بیٹھے امان اور دریاب کے پاس جا بیٹھا جو زریاب کے ساتھ باتوں میں مصروف تھے۔ سامنے صوفے پر بازل بیٹھا عدید سے کال پر بات کر رہا تھا وہ دو دن سے بزنس کے سلسے میں دبئی گیا ہوا تھا دونوں بہن بھائیوں نے اسےشاپنگ کی ایک لمبی لسٹ دی ہوئی تھی اور خاص ہدایت کی تھی کہ چیزیں سیم ہونی چایئں جو لسٹ پر منیشن ہیں، جس میں سے کچھ چیزیں اسے مل نہیں رہیں تھیں تو وہ بازل کو کال کر کہ پوچھ رہا تھا کہ اب کیا کروں
یار عدی اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ آپ خود ژلے سے بات کر لیں۔ بازل نے کہا ۔عادل بظاہر تو دریاب لوگوں میں مصروف تھا لیکن اسکی ساری حسیات بازل کی طرف تھیں۔ اتنے میں سانیہ نے اسے چائے لا کر پکڑائی تو وہ پینے لگا۔
اچھا اسے بلاؤ میں خود بات کرتا ہوں۔ عدید نے کہا تو بازل نے ملازمہ کو اسے بلانے بھیجا۔ملازمہ نے جیسے ہی اسے بتایا کہ عدید کا فون ہے تو وہ بھاگتی ہوئی کمرے سے نکلی ۔امثال کو ننگے پاؤں عجلت میں تقریبا بھاگنے کے سے انداز میں آتا دیکھ کر عادل کو آگ ہی لگ گئی تھی مطلب ایسی بھی کیا ایکسئاٹمنٹ کہ بندہ جوتا پہننا بھی بھول جائے ۔یہی سوچتے ہوئے اسکا ازلی غصہ آسمان کو چھونے لگا
یہ چائے بنائی ہے تم نے۔۔۔ ایسے بناتے ہیں ۔۔ اتنی کڑوی ۔عادل نے دھاڑتے ہوئے کہا اورکچھ بھی سوچے سمجھے بغیر اس نے چائے کا کپ زمین پر پٹخا تھا۔ وہ سب جو عادل کو کئی دن بعد اپنے پرانے روپ میں دیکھ کر حیران تھے امثال کی چیخ سے ہوش میں آئے ۔گرم چائے کے چھینٹے تیزی سے آتی ہوئی امثال کے پاؤں پر گرے تھے اور کپ کی ایک بڑی کرچی اسکے پاؤں میں چُبھی تھیں
پاگل ہو گئے ہیں کیا ۔۔۔۔۔ آپکو نظر نہیں آ رہا تھا کہ وہ سامنے سے آ رہی ہے۔۔۔۔ ژلے تم ٹھیک ہو ۔۔۔۔ بازل فون وہیں پھینکتا بے اختیار اسکی طرف بڑھا تھا دوسری طرف فون پر اسکی چیخ سن کر عدید بے چین ہوا تھا۔امثال پیر پکڑے وہیں بیٹھ گئی
خخ ۔۔خون ۔۔۔۔ماما ۔۔۔۔۔۔۔ ژلے کے پاؤں سے خون نکل رہا ہے۔ بازل امثال کے پاؤں کی تلوے سے فرش پر بہتا خون دییکھ کر بدحواس ہوا تھا ۔عادل ہونقوں کی طرح کبھی روتی ہوئی امثال کو دیکھ رہا تھا تو کبھی اسکے پاؤں کو جس سے نہ صرف تیزی سے خون بہہ رہا تھا بلکہ جلنے کی وجہ سے سرخ بھی ہو رہا تھا
فرسٹ ایڈ باکس لاؤ۔۔ سب سے پہلے امان ہوش میں آیا
اس میں پٹی نہیں ہے ۔۔۔ بازل تمہاری گاڑی میں فرسٹ ایڈ باکس ہے ۔
اں ں۔۔۔۔ہاں۔ اسنے سر ہلا دیا
تو جاؤ لے کر آؤ نہ نہ ۔
کک۔۔۔کیا لے کر آؤں۔۔ بازل نے چہرے پر ہاتھ پھیرا
دریاب جاؤ تم لے کر آؤ ۔۔زریاب نے اسکی حالت دیکھتے ہوئے دریاب سے کہا
ریلکیس وہ ٹھیک ہے تھوڑی سی چوٹ لگی ہے۔ زریاب نے اسے صوفے پر بٹھاتےہوئے کہا تو بازل نے غائب دماغی سے ہلا دیا
ہیلو ۔۔۔۔ بازی ۔۔۔سن رہے ہو کیا ہوا ہے۔ امثال کو کیا ہوا کیوں چیخی تھی۔ فون پر عدید کی مسلسل آواز آ رہی تھی بازل کی طرف س کوئی جواب نہ پا کر اسنے کال کاٹی اور دوبارہ نمبرملایا۔ زمین پر پڑے موبائل کی بیل بجی ۔زروا نے اٹھا کر بازل کو دیا تو اس نے اٹینڈ کرتے ہوئے کان سے لگایا
ہیلو بازل کیا ہوا ہے امثال کو۔۔ وہ ٹھیک ہے نہ دوسری طرف سے عدید کے بے چین آواز سنائی دی
بھائی وہ ۔۔۔۔۔۔۔ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔اسکا پاؤں ۔۔۔۔چوٹ لگی ہے ۔۔۔۔۔۔۔خون ۔۔۔۔۔۔۔ خون بہہ رہا ہے ۔۔۔ بازل نے اٹکتے ہوئے بات مکمل کی
میری بات کرواؤ۔
بھائی۔۔۔۔ وہ ۔۔۔ رو رہی ہے ۔۔۔کیسے بات ۔۔۔۔۔ بات کرے گی ۔۔امثال سے زیادہ بازل کی حالت خراب ہو رہی تھی
چوٹ لگی کیسے۔ عدید نےپوچھا
بھائی وہ عادل بھائی نے کپ ۔۔۔ کپ پھینکا تھا تو چائے اورکپ کی کرچیاں اسکے پاؤں پر لگی ہیں ۔۔بازل نے اپنی آنکھیں رگڑیں
ماما ۔۔۔۔ درد ہو رہا ہے. امثال کی روتی ہوئی آواز سنائی دی تو عدید نے فون کاٹ دیا
ارے میری بیٹی ابھی پٹی کریں گی نہ تو ٹھیک ہو جائے گا ساریہ بیگم نے اسکا گال چوما
امثال میں کانچ نکالنے لگا ہوں تو تھوڑا درد ہو گا بس آنکیں بند کر لو اپنی ۔۔ ٹھیک ہے امان نے کہا اور کانچ احتیاط سے کھینچ کر نکالا تو اسکی چیخ بلند ہوئی تھی
یہ مرہم لگتے ہی تھوڑا سا جلے گا تم پلیز زیادہ مت چیخنا ابھی توتمہاری پہلے والی چیخ میرے کانوں میں گونج رہی ہے ایسا نہ ہو کہ میں بہرا ہو جاؤں اورسوائے تمہاری چیخوں کے اور کچھ سنائی ہی نہ دے۔۔۔۔ یار ابھی تو میری شادی بھی نہیں ہوئی ہے ۔۔۔ مجھے کوئی اپنی بیٹی بھی نہیں دے گا کہ لڑکا بہرا ہے اور چیخوں کے سوا کچھ نہیں سن سکتا۔۔ امان نے اسکا دھیان بٹانے کے لیے مزاق کیا جس پر وہ نم آنکھوں سمیت ہنس دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دبئی کے ہوٹل میں بیٹھا عدید مسلسل اپنی پیشانی رگڑ رہا تھا ۔امثال کی چوٹ اور اسکو روتا سن کر اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اڑ کر پاکستان پہنچ جائے۔بازل کا ہونا نہ ہونا ایک برابر تھا ایسی صورت حال میں اسکو کچھ سجھائی ہی نہیں دیتا تھا اور اس وقت بھی اسکا حال امثال سے زیادہ خراب تھا جو کہ فون پرصاف سنائی دے رہا تھا ۔ کچھ سوچ کر اس نے شہریار کو کال ملائی
یار بھائی امثال کو چوٹ لگی ہے تو وہ بہت رو رہی تھی۔ آپ گھر چلے جائیں۔اسکو دیکھ کر بازی کا حال بھی خراب ہو رہا ھے ۔ میں بھی نکلتا ہوں مجھے کم از کم تین چار گھنٹے تو لگ جائیں گے وہاں پہنچنے میں۔
کیسے لگی۔۔۔ شہریار نے چابی اُٹھائی اور آفس سے نکل گیا
اس خیبث ایس پی نے چائے پھینکی ہے جس سے اسکا پاؤں جل گیا ہے اور کانچ بھی لگا ہے عدید نے دانت پیسے
اچھا ٹھیک ہے میں گھر جا رہا ہوں اور تم عادل کو کچھ مت کہنا میں دیکھ لوں گا ۔ ویسے بھی اس نے جان بوجھ کر تھوڑی نہ پھینکی ہو گی غلطی سے ہو گیا ہو گا شہریار نے اسکا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی اسکی نیچر کو اچھے سے جانتا تھا،امثال کو کوئی چوٹ پہنچائے اور عدید اسے سلامت رہنے دے ایسا ممکن ہی نہیں تھا
وہ تو جب میں وہاں آؤں گا تو دیکھی جائے گی۔۔ عدید نے اسی ٹون میں کہا اور کال کاٹ دی شہریار نے گہری سانس لے کر گاڑی کی رفتار بڑھائی ۔دس منٹ بعد ہی وہ حویلی پہنچ چکا تھا جیسے ہی وہ ہال میں داخل ہوا سامنے امثال پاؤں پر پٹی باندھے ساریہ بیگم کے ساتھ لگی بیٹھی تھی ۔
ژلے بھائی کی جان کیا ہوا ہے۔ شہریار جلدی سے امثال کی طرف بڑھا
کچھ نہیں بھائی تھوڑی سی چوٹ لگی ہے۔ آپ پریشان مت ہوں ۔
درد ہو رہا ہو گا نہ۔ شہریار نے اسکے ساتھ بیٹھ کر اسے بازو کے حصار میں لیا
تھوڑا تھوڑا ہو رہا ھے۔
ارے میرا بچہ ۔۔۔۔ سوری گڑیا تمہیں چوٹ لگی مجھے خیال رکھنا چایئے تھا تمہارا ۔ شہریار نے اسکا ہاتھ پکڑ کر لبوں سے لگاتے ہوئے کہا۔۔وہ غلطی نہ ہونے کےباوجود معافی مانگ رہا تھا اور جسکی غلطی تھی وہ اپنی جگہ چور بنا بیٹھا تھا۔
بازی یہاں آؤ۔ شہریار نے گم صم بیٹھے بازل کو کہا تو اسکے پاس آ بیٹھا
ریلیکس ۔۔۔۔۔۔ ژلے ٹھیک ہے اب ۔۔۔۔ پریشان مت ہو میں ہوں نہ۔۔۔ شہریار نے اسے دوسرے بازو کے حصار میں لیا تھا
ایسی سچویشن میں اپنے حواس بحال رکھا کرو۔۔۔۔ بد حواس ہونے کی بجائے ہوش میں رہ کر سچویشن ہینڈل کرتے ہیں بچے۔۔ شہریار نے بازل کو سمجھایا
مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں ۔۔دماغ ماوف ہو کر رہ گیا تھا ۔بازل نے بے بسی سے بالوں میں ہاتھ پھیراا
اچھا ٹھیک ہے پریشان مت ہو ژلے ٹھیک ہے، کیوں ژلے ۔۔۔ویسے بھی ہمارا ژلے شاہ بہت بہادر ہے یہ چھوٹی موٹی چوٹیں اسکا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں ۔۔ہے نہ۔۔۔ شہریار مسکراتے ہوئے امثال کو کہا تو اس نے زور سےسر ہلا دیا اتنے میں شہریار کا فون بجا دیکھا تو عدید کا نمبر تھا ۔
ہاں بولو عدید ۔۔شہریار نے فون کان سے لگایا
کیسی ہے ژلے ۔۔ عدید کی آواز سنائی دی
یار وہ ٹھیک ہے پریشان مت ہو۔۔
میں دو گھنٹے میں پہنچ جاؤں گا آپ ڈرائیور کو ایئرپورٹ بھجوا دیجیئے گا عدید نے کہا
ارے نہیں تمہیں آنے کی ضرورت نہیں ہے میں ہوں نہ یہاں ۔تمہاری آج میٹینگ ہے نہ تو وہ اٹینڈ کرو اور ارام سے آجانا ۔ شہریار نے اسے منع کرتے ہوئے کہا
نہیں بھائی مجھے چین نہیں آئے گا اور ویسے بھی میں اس وقت ائیرپورٹ پر ہوں ۔ ٹیم کے لوگ دیکھ لیں گے میٹینگ ۔۔عدید نے کہا
کیا مطلب یہ تو تمہارا ڈریم پروجیکٹ تھا نہ تو تم ٹیم پر کیسے چھوڑ کر آ سکتے ہو تمہاری اتنے دنوں کی محنت ضائع ہو جائے گی۔شہریار نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔وہ جانتا تھا کہ عدید نے اس پروجیکٹ کو لے کر بہت محنت کی تھی اور اسے ھنڈرڈ پرسنٹ یقین تھا کہ یہ پرجیکٹ اسے ہی ملے گا ۔مگر اب وہ یوں آخر میں سب چھوڑ کر آ رہا تھا
بھائی چاہے جتنا بھی اہم ہو، میری بہن سے زیادہ نہیں ہوگا ۔ میں آ رہا ہوں تو بس آ رہا ہوں آپ مجھے نہیں روکیں گے۔ عدید نے دوٹوک لفظوں میں کہا تو وہ خاموش ہو گیا
اچھا ٹھیک ہے خیال رکھنا اپنا شہریار نے کہا تو دوسری طرف سے عدید نے کال کاٹ دی
جاری ہے
